تاریخِ خوارج: آغاز، فکر اور تاریخ اسلام میں ان کا مقام
تعارف
خوارج اسلامی تاریخ کا وہ پہلا گروہ تھا جو سیاسی اختلاف سے نکل کر ایک انتہا پسند مذہبی تحریک میں تبدیل ہوا۔ ان کی بنیاد ظاہری دینداری، شدید جذباتیت اور سخت تکفیری فکر پر رکھی گئی۔ لفظ خوارج خروج سے نکلا ہے، یعنی وہ لوگ جو امام المسلمین کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے جماعتِ مسلمین سے الگ ہو گئے۔ خود کو وہ اہلِ حق سمجھتے تھے مگر عملی طور پر امت کے اتحاد اور اسلامی نظم کی جڑیں کاٹنے کا سبب بنے۔
ابتدا اور تاریخی پس منظر
خوارج کی فکری جڑیں دورِ نبوی کی اس روایت تک پہنچتی ہیں جس میں ذو الخویصرہ تمیمی نامی شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے گستاخی سے اعتراض کیا۔ آپ نے جواباً فرمایا کہ ایک قوم پیدا ہوگی جو دین سے ایسے نکل جائے گی جیسے تیر شکار کے جسم کو چیرتا ہوا پار نکل جاتا ہے۔ اس نشانی کا ظہور خلافتِ راشدہ کے آخری حصّے میں ہوا، جب صفین کی جنگ کے بعد علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے سیاسی تنازع کے حل کے لئے ثالثی قبول کی۔ اسی فیصلے کے خلاف ان کی فوج کے بعض افراد نکل کھڑے ہوئے اور اپنے آپ کو المنکر پر قائم سمجھتے ہوئے بغاوت پر آمادہ ہو گئے۔ اسی خروج کی بنا پر یہ گروہ خوارج کہلایا۔
نہروان اور عملی سرگرمیاں
خوارج نے کوفہ کے باہر خیمہ زن ہو کر اپنی الگ جماعت بنائی۔ ان کا نعرہ تھا کہ حکم صرف اللہ کا ہے، اگرچہ اس نعرے کی تعبیر میں وہ افراط کا شکار تھے۔ ان کی سرگرمیوں میں مذہبی شعائر کی شدت، تکفیر میں جلد بازی اور ریاستی نظم کے مقابل مسلح بغاوت شامل تھی۔ نہروان کے مقام پر علی رضی اللہ عنہ نے انہیں سمجھایا مگر انہوں نے جنگ کا راستہ چنا اور نتیجتاً سخت شکست کا سامنا کیا۔ اس کے باوجود خوارج کا فتنہ ختم نہ ہوا اور ایک خارجی نے علی رضی اللہ عنہ کو شہید بھی کیا۔
فکری خصوصیات اور عقائد
خوارج کے نزدیک کبیرہ گناہ کرنے والا مسلمان ایمان سے خارج ہو جاتا تھا۔ وہ کہتے تھے کہ گناہ ایمان کے منافی ہے اور گناہ گار کے لیے توبہ کا دروازہ بند سمجھتے تھے۔ عبادت اور زہد میں وہ مشہور تھے، مگر ان کی عبادت میں نرمی، تدبر اور امت کے حق کا احترام نہ تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ وہ قرآن پڑھیں گے مگر قرآن ان کے حلق سے نیچے نہ اترے گا۔ یعنی وہ متن پڑھتے تھے مگر اس روح اور فہم سے محروم تھے جو اخلاق، عدل، صبر اور امت کے احترام کا درس دیتا ہے۔
جنگی طریقہ اور معاشرتی اثرات
خوارج نے اسلام کی پہلی گوریلا جنگی تحریک کی شکل اختیار کی۔ وہ چھاپہ مار کارروائیاں کرتے، شہروں پر اچانک حملے کرتے اور پھر واپس لوٹ جاتے۔ ان کے افکار نے خوف، بے چینی اور انتشار پیدا کیا۔ خلافتِ علی کے بعد اموی دور میں بھی یہ فتنہ سر اٹھاتا رہا، حتیٰ کہ عباسی دور میں زیادہ تر گروہ شکست کھا گئے۔ تاہم ان کی فکر مکمل طور پر ختم نہ ہوئی۔ بعد کے ادوار میں بھی ایسے لوگ سامنے آتے رہے جو ظاہری مذہبیت کے سہارے امت کے خلاف ہتھیار اٹھاتے رہے۔
احادیث کی روشنی میں خارجی فکر
احادیث میں خوارج کی واضح نشانیاں بیان کی گئیں:
وہ نوجوان، جذباتی اور سطحی فہم کے حامل ہوں گے۔
وہ دین کی نصوص کو تلوار کے اصولوں میں بدل دیں گے۔
وہ مسلمانوں کے خلاف لڑیں گے اور مشرکین کو چھوڑ دیں گے۔
وہ عبادت میں سخت اور اخلاق میں تنگ دل ہوں گے۔
ان علامات سے واضح ہوتا ہے کہ اصل خرابی ان کی سمجھ اور طرزِ فکر میں تھی۔ وہ نصوص کو خوراک تو دیتے تھے مگر روح کو نہیں۔ عبادت کو سختی اور شریعت کو انتقام بنا دیتے تھے۔
اسلامی فکر میں خوارج کا مقام اور رد
اکابر امت نے بذریعہ علم اور طاقت دونوں طریقوں سے خارجی فکر کا رد کیا۔ فقہا، محدثین اور مفسرین نے واضح کیا کہ تکفیر کے اصول شریعت نے طے کیے ہیں اور کسی فرد یا گروہ کو بغیر شرعی حجت کے دائرہ اسلام سے باہر نہیں نکالا جا سکتا۔ مسلمانوں کے خون کو مباح قرار دینا دین نہیں، فتنہ ہے۔ اجتماعی نظم کی خلاف ورزی امت کے شیرازے کو بکھیر دیتی ہے۔
عہد حاضر میں خارجی فکر کے اثرات
تاریخ کی لکیر سیدھی نہیں؛ فتنہ وقت کے ساتھ لباس بدلتا ہے۔ دورِ جدید میں بعض شدت پسند گروہ انہی اصولوں پر کاربند دکھائی دیتے ہیں۔ وہ لوگوں کو کافر کہتے ہیں، مساجد، بازاروں اور تعلیمی مراکز کو نشانہ بناتے ہیں اور اپنی رائے کو دین کا معیار بنا لیتے ہیں۔ یہ رویہ ثابت کرتا ہے کہ خوارج تاریخ کا باب ہی نہیں، ایک ذہنی بیماری بھی ہے جو شدت، جذبات اور کم علمی کے ماحول میں جنم لیتی ہے۔
