Category Archives: Urdu Stories

ایک دفعہ کا ذکر ھے کہ ایک گاؤں میں بشیر نام کا ایک لڑکا رہتا تھا۔ بُہت نالائق اور نکھٹو طبیعت کا تھا۔ 😕😴 اس کے اسکول میں استاد اور استانی سب اس سے نالاں رہتے تھے اور ساتھی بھی اس کا مذاق اڑاتے تھے۔ ایک دن بشیر کی ماں اسکول آئیں اور استانی جی سے اپنے بیٹے کی پڑھائی کے بارے میں بات کرنا چاہیں۔ 😶🫣 استانی جی تو پہلے سے ھی بھری بیٹھی تھیں۔ بشیر کی بے وقوفی اور نا لائقی کی داستانیں بغیر کسی لگی لپٹی کے ماں کو سنا دیں اور کہا کہ یہ لڑکا اتنا نالائق ھے کہ اگر اس کا باپ زندہ ھوتا اور بینک کا مالک بھی ھوتا، تب بھی اسے نوکری پر نہیں رکھوا پاتا۔ 😡🙍 بیوہ ماں پر سکتہ طاری ھو گیا۔ وہ بغیر کچھ کہے اپنے بیٹے کا ہاتھ پکڑ کر اسکول سے چلی گئیں۔ نہ صرف اسکول بلکہ پورا…

Read more

انسانی نفسیات کا ایک دلچسپ مگر حساس پہلو یہ ہے کہ بعض اوقات انسان اپنی کمزوریوں، عدمِ اعتماد یا اندرونی خوف پر قابو پانے کی بجائے کسی طاقتور، کامیاب یا بااثر شخصیت کے ساتھ وابستگی کو اپنی طاقت سمجھنے لگتا ہے. علمِ نفسیات میں اس رجحان کو Parasocial Attachment اور Basking in Reflected Glory (BIRG) کہا جاتا ہے، جس میں انسان یہ محسوس کرتا ہے کہ دوسروں کی کامیابی اور شہرت سے جڑ کر اس کی اپنی اہمیت بھی بڑھ جائے گی. یہ احساس وقتی طور پر اطمینان تو دے سکتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ خود اعتمادی اور ذاتی صلاحیتوں کی نشوونما میں رکاوٹ بن جاتا ہے. اسی حقیقت کو ایک تمثیلی کہانی کے ذریعے بہتر انداز میں سمجھا جا سکتا ہے. ایک لومڑی کو ایک لمبی رسی ملی. اس نے رسی کا ایک سرا اپنی کمر سے باندھا اور دوسرا سرا خاموشی سے ایک سوئے ہوئے چیتے کی…

Read more

جنگل کی تاریخ میں اگر کسی ایک جانور کا نام سنہری حروف سے لکھا گیا تھا تو وہ لومڑی تھی۔ کہا جاتا تھا کہ اس نے اپنی پوری سرکاری زندگی میں ایک دن کی بھی چھٹی نہیں کی۔ نہ عید آئی تو رخصت لی، نہ آندھی نے اسے روکا، نہ موسلا دھار بارش، نہ بیماری، نہ میلے، نہ تہوار، نہ کسی عزیز کی خوشی، نہ کسی اپنے کا غم۔ سورج نکلنے سے پہلے وہ دربار میں موجود ہوتی اور رات گئے تک ریاست کے معاملات نمٹاتی رہتی۔ اس کی خدمت صرف ایک بادشاہ تک محدود نہ رہی۔ پہلے دادا شیر کے دور میں وہ وزیر رہی، پھر اس کے بیٹے کے ساتھ، اور اب پوتا بھی تخت پر بیٹھا تھا، مگر وزارتِ عظمیٰ کی کرسی پر آج بھی وہی لومڑی بیٹھی تھی۔ جنگل کے کئی نوجوان پیدا ہوئے، جوان ہوئے، بوڑھے ہوئے، مگر دربار میں ایک چیز کبھی نہ بدلی…

Read more

ایک لڑکا ایک لڑکی سے بے حد مُحبت کرتا تھا لیکن سوچ رہا تھا کہ مُحبت کا اظہار کیسے کیا جائے تو اُس نے یہ طریقہ اپنایا 😄👇 لڑکا:لبنہ! میں چاہتا ھوں ہمارا بجلی کا بل ایک ھی ایڈریس پر آئے 😍🥀 لڑکی:اوہووو… تم میرا میٹر اپنے گھر لگانا چاہتے ھو؟ 🤔🙄 لڑکا:ارے نہیں یار! 😩 میں چاہتا ھوں میں تمہارے اردگرد بنیان پہن کر گھوما کروں 🤭😄 لڑکی:ہائے اللہ! بے حیائی پھیلاؤ گے؟ گندے 🤕🙅‍♀️ لڑکا:اووو ہوووو! 😑 میں چاہتا ھوں ھماری ہر چیز ایک ھو جائے 😌❤️ لڑکی:نہیں! تم زنانہ کپڑوں پہن کر بُہت پیرے لگو گو 🤧 لڑکا:یار! 😭میں کہنا چاہتا ھوں کہ میں تمہیں اپنا نام دوں 💍 لڑکی:اچھااا؟ پھر لوگ مجھے “مختار” کہیں گے؟ 😕 لڑکا:یا اللہ صبر 😵اچھا سنو… میں چاہتا ھوں میرا موبائل تمہارے فنگر پرنٹ سے کھلا کرے… 🥰📱 لڑکی چند سیکنڈ سوچنے کے بعد بولی: 👇 👇 👇 “کیوں… تو ٹونڈا…

Read more

ایک فقیر بادشاہ 👑 کے دربار میں حاضر ھوا اور بولا: “حضور! آپ کی سخاوت کے قصے دور دور تک مشہور ھیں۔” 😊👏 بادشاہ مُسکرایا: “بالکل درست سنا ھے، مانگو، کیا مانگتے ھو؟” فقیر نے اپنا کاسہ آگے بڑھایا اور کہا: “بس حضور! یہ کاسہ بھر دیجیے۔” بادشاہ نے گلے سے قیمتی ہار اتار کر کاسے میں ڈال دیا، مگر کاسہ خالی کا خالی! 😳 اس نے اشرفیوں کی بوریاں منگوا کر انڈیل دیں… مگر کاسہ پھر بھی نہ بھرا! 😲 بادشاہ نے پورا خزانہ کھول دیا… سونا، چاندی، ہیرے، جواہرات… سب کچھ کاسے میں ڈال دیا… لیکن کاسہ پھر بھی خالی ہی نظر آیا! 😱 فقیر مُسکرا رہا تھا اور بادشاہ کا پسینہ نکل رہا تھا۔ 😅 آخرکار بادشاہ نے تاج اتار کر فقیر کے قدموں میں رکھ دیا اور بے بسی سے بولا: “اے درویش! خدا کے لیے بتاؤ یہ کیسا کاسہ ھے؟” فقیر زور سے ہنسا اور…

Read more

ایک جہاز بغیر اجازت اچانک ایئرپورٹ پر لینڈ کر گیا۔ 😲💁‍♂️سکیورٹی والے 🧑‍✈️ دوڑتے ھوئے آئے 🏃 اور بولے: “او بھائی! آپ کون ھیں اور کہاں سے ٹپک پڑے؟” 🧐🤔 پائلٹ معصوم سا منہ بنا کر بولا: “حضور! میں پڑوسی ملک سے آیا ھوں، فیول ختم ھو گیا تھا، مجبوری میں ایمرجنسی لینڈنگ کی ھے۔” ✈️😅 حکام نے رات بھر پوچھ گچھ کی، چائے پلائی، سخت وارننگ دی کہ دوبارہ آئے تو سیدھا اندر کر دیں گے، پھر فیول بھروا کر رخصت کر دیا۔ سب نے سُکھ کا سانس لیا چلو قصہ ختم ھوا۔ 😌 لیکن اگلے دن ٹھیک اسی وقت وھی جہاز پھر آ دھمکا! 😕 اس بار جہاز خالی تھا، صرف ایک خاتون بیٹھی تھیں۔ افسر دھاڑ کر بولا: “کل منع کیا تھا نا! پھر کیوں آئے ھو؟” 😡 پائلٹ ہاتھ جوڑ کر بولا: “سر جی، جو کرنا ھے بعد میں کر لیجئے گا پہلے اس خاتون کو…

Read more

شیر جنگل میں آرام کر رہا تھا کہ اس نے بلی کو دیکھا تو اسے آواز دے کر بلایا۔شیر نے بلی سے پوچھا ”تم دیکھنے میں تو مجھ جیسی ہو لیکن تمہارا قد اتنا چھوٹا کیوں ہے؟“بلی نے اداسی سے کہا، ”ظالم انسان نے میرا قد چھوٹا کر دیا ہے، ویسے میں رشتے میں تمہاری خالہ ہوں“۔ شیر نے یہ سنا تو غصے سے کہا، ”کس کی مجال کہ میری خالہ پر ظلم کرے میں اسے سخت سزا دوں گا“۔بلی نے کہا، ”بھانجے ایسی غلطی مت کرنا تم انسان کا مقابلہ نہیں کر سکتے وہ بہت چالاک ہے“۔شیر نے گرج کر کہا، ”میں جنگل کا بادشاہ ہوں، میرا سامنا کون کر سکتا ہے؟ تم مجھے انسان کے پاس لے چلو پھر دیکھنا میں کیا کرتا ہوں“۔”ٹھیک ہے میں تمہیں لے جاتی ہوں لیکن اس کے قریب نہیں جاؤں گی“۔ بلی نے خوفزدہ لہجے میں کہا۔”تم دور رہ کر اس کی…

Read more

نظیر بھائی کا ریاضی یعنی میتھس کا ٹیسٹ تھا، جس کی اس نے ایک لفظ بھی تیاری نہیں کی تھی۔ 😬💁‍♂️ صبح اٹھتے ھی اسے بخار کا بہانہ سوجھا، پھر پیٹ درد کا، لیکن جب امی نے عرقِ گلاب اور کڑوی دوا نکال لی تو نظیر بھائی نے پینترا بدلا۔ 🤮🙅‍♂️ اس نے سوچا کہ کوئی ایسا بڑا بہانہ ھونا چاہیے کہ ٹیچر اسے اگلے ایک ہفتے تک فون بھی نہ کریں۔ 🤓🤔 اس نے بڑی سنجیدگی سے ایک خط لکھا: محترمہ ٹیچر صاحبہ! بڑے افسوس کے ساتھ اطلاع دی جاتی ھے کہ آپ کا پیارا اور ذہین طالب علم نظیر احمد آج صبح اس دنیا سے رخصت ھو گیا ھے، لہٰذا وہ آج ٹیسٹ دینے نہیں آ سکے گا۔ نیچے اس نے اپنے ابو کے جلی حروف میں دستخط بھی کر دیے۔ اس نے یہ خط اسکول کے چوکیدار کے ہاتھ پرنسپل کے آفس بھجوا دیا اور خود سکون…

Read more

فیس بک نے کچھ خواتین کو ایسا شاعر بنا دیا ھے کہ غالب اور میر بھی قبر میں کروٹیں بدلنے لگیں۔ 😅😆 ایک مُحترمہ نے شعر پوسٹ کیا: “کاش میں آسمان بن جاؤں…اور تم پرندے بن کر میری طرف اڑتے ھوئے فوراً چلے آؤ…” نیچے کمنٹس میں واہ واہ کا سیلاب آ گیا۔ 🌊 ایک عاشق مزاج فین نے لکھا: “بانو قدسیہ کے بعد اگر کسی نے دل کو چھوا ھے تو وہ آپ ھیں!” 😍🙅‍♀️ دوسرے نے حد ھی کر دی: “سویٹ آپی! آپ کے اشعار میں کہیں کہیں میر تقی میر کا رنگ جھلکتا ھے…” 🤭❤️ آپی جذباتی ھو گئیں اور اعلان کر دیا: “اب ہر ہفتے ایک نئی غزل پیش کیا کروں گی!” 🥰✍️ چند دن بعد آپی نے سوال کیا: “شاعری کی کتاب چھپوانے کے لیے کون سا پبلشر بہتر رھے گا؟” 🙂📚 ڈیڑھ سو لوگوں نے فوراً مشورے دینا شروع کر دیے۔ لیکن اصل دھماکا…

Read more

وہ ایک ایسا بادشاہ تھا، جس کے پاس نہ سلطنت، نہ وزیر، نہ وزیرِ اعظم۔صرف ایک پرانی سی جھونپڑی، ایک بوسیدہ بستر اور ایک پلیٹ میں کل کے چاول۔اس کا نام بادشاہ خان تھا۔اس کے برابر میں ایک فقیر رہتا تھا، اس کا نام فقیر محمد تھا، لیکن ایسا فقیر جس کا اپنا محل تھا! ہاں جی، چھت بھی پکی، دروازے بھی شیشے والے اور فریج میں ہمیشہ تازہ پھل موجود رہتے تھے۔فقیر کو بادشاہ کی جھونپڑی سے بڑی تکلیف تھی:”میرے محل کے ساتھ یہ جھونپڑی؟ یہ تو میری شخصیت خراب کر رہی ہے!“ وہ روز سوچتا۔فقیر نے کئی حربے آزمائے۔ایک دن جھونپڑی کے سامنے بدبو والا اسپرے مارا کہ شاید بادشاہ بھاگ جائے۔دوسرے دن اس کے دروازے پر ”برائے فروخت“ کا بورڈ لگا دیا، لیکن اس سے بھی کوئی کام نہ چلا۔ تیسرے دن نیٹ پر ”جھونپڑی کیسے ہٹائیں“ لکھا، لیکن سنگل ہی نہیں آیا۔ پھر ایک دن، فقیر…

Read more

بھیڑیے کے کھیت سے شکر قندی چرانا کوئی آسان کام نہ تھا،کیونکہ بھیڑیا بہت دبے پاؤں چلتا ہوا آتا اور چور کو پیچھے سے پکڑ لیتا تھا،لیکن خرگوش پھر بھی ہر روز بھیڑیے کے کھیت سے شکر قندی چرا لاتا ۔وہ پہلے ایک بڑی سی ہڈی کھیت میں دبا دیتا،پھر شکر قندیاں اکھاڑ کر اپنے تھیلے میں بھرتا اور ٹہلتا ہوا کھیت سے باہر چلا جاتا۔بھیڑیے کو بھی شکر قندیوں کی چوری کا پتہ چل گیا۔ایک دن وہ چور کو پکڑنے کے لئے بھوسے کے ڈھیر کے پیچھے چھپ کر بیٹھ گیا اور انتظار کرنے لگا۔کچھ دیر میں خرگوش بھی آپہنچا۔اس نے زمین کھود کے ہڈی دفن کی اور شکر قندی اکھاڑ کر تھیلے میں بھری اور سیٹی بجاتا ہوا چل دیا۔جو نہی وہ بھوسے کے ڈھیر کے پاس پہنچا،بھیڑیا جھٹ سے باہر نکلا اور اس نے خرگوش کو پکڑلیا۔ ”تم میرے کھیت میں کیوں آئے؟“ بھیڑیے نے پوچھا۔ خرگوش…

Read more

گاؤں میں بشیر اپنی ماں کے ساتھ رہتا تھا۔اس کے ابو کا انتقال ہو چکا تھا۔بشیر کی ماں گھروں میں کام کرتی تھی۔بشیر بہت نالائق اور نکھٹو طبیعت کا تھا۔اس کے اسکول کے استاد اس سے نالاں رہتے تھے۔ایک دن بشیر کی والدہ اسکول آئیں اور استاد جی سے اپنے بیٹے کی پڑھائی پر بات کرنا چاہی۔استاد جی تو بھرے بیٹھے تھے۔بشیر کی ماں کو بشیر کی بے وقوفی اور پڑھائی سے غیر دلچسپی کی داستانیں سنانے لگے،کیونکہ وہ ہر کام ہی غلط کرتا ہے۔بیوہ ماں پر سکتہ طاری ہو گیا۔ماں گاؤں چھوڑ کر بیٹے کو لے کر شہر چلی گئی۔وقت گزرتا گیا گاؤں ترقی کر کے قصبہ بن گیا۔25 سال گزر گئے۔اسکول میں استاد جی ہیڈ ماسٹر ہو گئے۔ہیڈ ماسٹر صاحب کو اچانک ایک دن دل میں شدید درد محسوس ہوا۔اسپتال میں داخل کرایا،مگر درد بڑھتا گیا۔مقامی ڈاکٹر نے شہر کے بڑے اسپتال جانے کا مشورہ دیا۔انھوں نے ڈاکٹر…

Read more

ایک آدمی کا ایک ہاتھ نہیں تھا، جس کی وجہ سے وہ کوئی بھی کام ٹھیک طرح سے نہیں کر پاتا تھا۔ ایک دن وہ اپنی اس کمی سے اتنا تنگ آ گیا کہ اس نے خودکشی کرنے کا فیصلہ کر لیا اور پہاڑ سے کودنے کے لیے پہاڑ پر چڑھ گیا۔ پہاڑ کی چوٹی پر پہنچ کر اس نے ایک شخص کو دیکھا جس کے دونوں بازو نہیں تھے، لیکن وہ خوشی سے ناچ رہا تھا۔ یہ دیکھ کر اس نے خود کو ملامت کی۔ “اس شخص کے تو دونوں بازو نہیں ہیں، پھر بھی یہ کتنا خوش ہے، اور میرے پاس ایک ہاتھ تو ہے، پھر بھی میں ناشکری کر رہا ہوں اور اپنی جان لینے جا رہا ہوں۔” اس نے خودکشی کا ارادہ ترک کر دیا اور اس شخص کے پاس جا کر بولا: “بھائی! آپ کے دونوں بازو نہیں ہیں، پھر بھی آپ اتنی خوشی سے…

Read more

ایک شخص سڑک سے گزر رہا تھا۔اچانک اس کی نظر پانچ ہزار کے نوٹ پر پڑی جو سڑک کی ایک طرف کھڑی گاڑی کے ٹائر کے نیچے دبا تھا۔ اس نے گاڑی کے آس پاس دیکھا کہ کوئی ہے تو نہیں،پھر گاڑی کے ٹائر کے پاس بیٹھ کر نوٹ نکالنے کی بہت کوشش کی ،مگر نوٹ نہیں نکلا۔ اس نے گاڑی کا دروازہ کھولنے کی کوشش کی،مگر وہ لاک تھا۔گاڑی کو دھکا لگانے کی کوشش کی،لیکن گاڑی ٹس سے مس نہ ہوئی۔تھک ہار کر وہ سڑک پار کرکے سامنے ایک اوپن ایئر کیفے میں بیٹھ گیا،جو کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔اس نے کرسی اس زاویہ پر رکھی کہ گاڑی پر نظر رہے۔اچانک ایک فٹ بال اُچھلتی ہوئی ٹائر کے پاس آکر رک گئی۔وہ دھک دھک کرتے دل کے ساتھ کرسی پر پہلو بدلنے لگا۔ایک لڑکا جس کی وہ فٹ بال تھی،آیا اس نے کک لگائی اور وہ جا وہ جا۔اس…

Read more

یک چوہا تھا۔اس کا نام جینو تھا۔ وہ بہت ہی لالچی ، کاہل اورسست تھا۔ کاہل چوہا بہت زیادہ پیٹو بھی تھا۔ اس کا پیٹ کبھی نہیں بھرتا تھا۔ایک دن کی بات ہے جینو کی ماں نے کہا کہ :”بیٹا! تم بہت زیادہ کھاتے ہو لیکن کام کاج سے جی چراتے ہو ۔تم اپنے حصے کے علاوہ میرے اور تمہارے پاپا کا کھانا بھی چٹ کر جاتے ہو۔یہ اچھی بات نہیں ہے آج سے تم اپنا کھانا خود تلاش کروگے۔ہاں! ایک بات یاد رکھنا لالچ مت کرنا۔ زیادہ کھانے کے چکر میں کبھی کسی مصیبت میں مت پڑ جانا اپنا دھیان رکھنا۔“جینو بہت اداس ہوگیا۔ مگر اسے جانا ہی پڑا۔ وہ کھانے کی تلاش میں نکل گیا ۔ ابھی وہ کچھ ہی دور گیاتھا کہ اسے راستے میں ایک گیہوں کا دانا ملا۔ وہ خوش ہو گیا۔ اس نے گیہوں کا دانا اٹھا لیا۔ تب ہی اس کی نظر خرگوش…

Read more

Read more

بہت عرصہ گزرا۔ایک خرگوش ایک جزیرے پر رہتا تھا۔اُس کی دلی خواہش تھی کہ وہ کسی طرح سے سمندر کا پانی عبور کر کے جائے اور وہاں بنی ہوئی تاریخی عمارتیں دیکھے۔وہ سوچتا رہتا تھا کہ اُسے کیا کرنا چاہیے؟ایک دن وہ سمندر کے کنارے بیٹھا ہوا اسی بارے میں سوچ رہا تھا اور اُس کی لمبی اور گھنی دُم اِدھر اُدھر ہل رہی تھی۔یہ تب کی بات ہے جب خرگوشوں کی دُمیں بہت لمبی ہوا کرتی تھیں۔مگرمچھوں کا بادشاہ وہاں نزدیک ہی تیر رہا تھا۔اس کی نظر خرگوش پر پڑی تو اُس کے منہ سے بے ساختہ نکلا:”اوں! کس قدر مزے کی شے اتنی نزدیک بیٹھی ہوئی ہے۔“ پھر وہ تیرتا ہوا ساحل کے پاس پہنچا اور خرگوش سے بولا:”صبح بخیر ننھے خرگوش!“خرگوش نے اُسے دیکھا اور اہمیت نہ دیتے ہوئے بولا:”میں صرف ننھا خرگوش نہیں ہوں اور مجھے مخاطب کرنا ہے تو بادشاہ سلامت کہو۔“ مگرمچھ کی ہنسی…

Read more

عدالت میں ایک عجیب مقدمہ زیرِ سماعت تھا۔ ایک دیہاتی نے توپ کے لائسنس کے لیے درخواست دے رکھی تھی۔ خبر پھیلی تو عدالت میں میڈیا اور تماشائیوں کا رش لگ گیا۔ 😳👀 جج نے حیران ھو کر پوچھا: “تم نے واقعی توپ کے لائسنس کی درخواست دی ھے؟” 😕😯 دیہاتی بولا: “جی ہاں، پورے ھوش و حواس میں!” 😤💯 جج نے پوچھا: “آخر توپ کا کیا کرو گے؟ کسی جنگ کی تیاری ھے؟” 🤔🙄 دیہاتی مُسکرایا اور بولا: “جج صاحب! پچھلے سال میں نے 1 لاکھ روپے کے قرض کی درخواست دی تھی، منظور ھوئے صرف 10 ہزار۔” “بہن کی شادی کے لیے 100 کلو چینی مانگی، ملی صرف 10 کلو۔” “سیلاب میں فصل تباہ ھوئی تو 50 ہزار معاوضے کا وعدہ ھوا، اکاؤنٹ میں آئے صرف 5 ہزار۔” پھر دیہاتی نے ہاتھ جوڑ کر کہا: “اب سرکاری نظام اچھی طرح سمجھ چکا ھوں!” 😕😒 “اصل میں مُجھے تو…

Read more

ایک دیہاتی ابا پہلی بار اپنے بیٹے کے ساتھ شہر کے ایک بڑے شاپنگ مال گئے۔ گھومتے گھومتے دونوں ایک عجیب سی چیز کے سامنے جا کھڑے ھوئے۔ 😳 بیٹا بولا: “ابا جی! یہ کیا ھے؟” 🤔 ابا نے غور سے دیکھا، پھر کھنکار کر بولے: “پُتر! میں نے اپنی ساری زندگی میں یہ چیز پہلی بار دیکھی ھے مجھے بھی نہیں پتا!” 😅 دونوں کھڑے ھو کر تماشا دیکھنے لگے۔ 👀 اتنے میں ایک کمزور سی بڑھیا ویل چیئر پر آئی۔ 👩‍🦼 اس نے ایک بٹن دبایا… سامنے چمکتی ھوئی دیواریں کھل گئیں اور ایک چھوٹا سا کمرہ نظر آیا۔ بڑھیا اندر چلی گئی اور دروازہ بند ھو گیا۔ 😳 ابا اور بیٹا حیرت سے دیکھتے رھے۔ 😮 اوپر نمبر چلنے لگے: 1️⃣…2️⃣…3️⃣…4️⃣…5️⃣…6️⃣ چند لمحوں بعد نمبر واپس الٹے چلنے لگے: 6️⃣…5️⃣…4️⃣…3️⃣…2️⃣…1️⃣ پھر دروازہ کھلا… اور باہر ایک خوبصورت نوجوان لڑکی اسٹائل سے چلتی ھوئی نکلی۔ 😍✨ ابا جی…

Read more

ایک زمانے میں ایک بوڑھی عورت تھی اس کے گھر کے مچان کو صفائی کی ضرورت تھی۔ لہٰذا وہ اوپر گئی اور فرش پر جھاڑو دینے لگی۔ اس کو وہاں دس سونے کے سکے ملے!وہ بہت حیران اور خوش ہوئی۔ مجھے جاکر اپنے تمام پڑوسیوں کو بتانا چاہیے۔ اس نے کہا۔ لہٰذا اس نے سونے کے سکے باورچی خانے میں رکھے اور اپنی سہیلیوں کو بتانے کے لئے باہر بھاگی۔وہ کنوئیں کے پاس گئی جہاں گاؤں کی خواتین پانی بھر رہی تھیں اور باتیں کر رہی تھیں۔ میری بات سنو!وہ چلائی مجھے اپنے مچان میں سے خزانہ ملا ہے!تمہارا اس بارے میں کیا خیال ہے؟۔ اچھا اچھا ہر لڑکی نے کہا یہ تمہاری خوش قسمتی ہے۔ تمہیں ان کو حفاظت سے رکھنا چاہیے۔ کیونکہ اس خزانے کی چوری ہو جانے کا خدشہ ہے۔ ویسے تم نے ان کو کہاں رکھا ہے؟اوہ ان کو تو میں باورچی خانے میں چھوڑ آئی…

Read more

ایک گاؤں میں ایک غریب گدھا رہتا تھا۔ صبح سے شام تک بوجھ اٹھاتا، ڈانٹ کھاتا، کبھی سوکھی گھاس ملتی تو کبھی وہ بھی نصیب نہ ہوتی۔ ایک دن اس نے دل ہی دل میں فیصلہ کر لیا۔“بس! اب نہیں، ایسی زندگی سے تو جنگل اچھا ہے۔”رات کے اندھیرے میں وہ رسی تڑوا کر بھاگا اور کئی میل چلنے کے بعد ایک بڑے جنگل میں پہنچ گیا۔ بھوک سے اس کا برا حال تھا۔چلتے چلتے اسے ایک خوبصورت دکان جنگل میں نظر آئی۔دکان پر ایک بندر بیٹھا تھا۔ گدھا ڈرتے ڈرتے آگے بڑھا۔بندر نے سر اٹھائے بغیر پوچھا، “فرمائیے، کیا چاہیے؟”گدھا تو کئی دن کا بھوکا تھا۔وہ ایک ایک کر کے بولنے لگا،“گاجریں دے دو، کچھ گھاس بھی، تھوڑے سیب، وہ سامنے والی مولیاں بھی اور اگر ممکن ہو تو وہ گنے بھی رکھ دو” دکاندار بندر خاموشی سے سب چیزیں تھیلے میں بھرتا گیا۔جب تھیلا بھر گیا تو اس…

Read more

20/1545
NZ's Corner