Category Archives: Urdu Stories

دریائے سویان کے کنارے ایک بہت بڑا جنگل تھا۔ اس جنگل میں قسم قسم کے درخت بیلیں اور بے شمار پودے اور جھاڑیاں تھیں ۔ جنگل میں ہر قسم کے جانور بھی رہتے تھے۔ ان میں چرندے بھی تھے اور درندے بھی ۔ اڑنے والے یعنی پرندے بھی تھے اور رینگنے والے بھی چرندوں میں نیل گائے، جنگلی بھینسے ، سانبھر، ہرن ، چیتے ، چکارے ، جنگلی بکریاں وغیرہ شامل تھے۔ ، ، ان کے علاوہ یہاں پانچ بیل بھی رہتے تھے۔ پانچوں کے رنگ الگ تھے، لیکن تھے پانچوں آپس میں بھائی بھائی۔ یہ سب مل جل کر رہتے تھے۔ یہ ان کے لیے ضروری بھی تھا، کیوں کہ جنگل کے تمام درندوں کی ان پر نظر تھی۔ یہ جب بھی ان پر حملے کی نیت کرتے پانچوں ڈٹ کر مقابلہ کرتے اور اپنے تیز نکیلے سینگوں سے انھیں مار بھگاتے۔ جنگل میں قسم قسم کے پودے ،…

Read more

ایک آدمی پہاڑوں کی طرف جا رہا تھا کہ ایک غریب اس کے پیچھے آ گیا۔ 🚶‍♂️🤔 غریب نے کہا:“حضور! کچھ عنایت فرمائیں۔” 😄🙏 آدمی نے پہاڑ کی طرف انگلی اٹھائی 👆✨ پہاڑ سونے کا ھو گیا! 😲 غریب خوش ھوا، مگر چند قدم بعد پھر پیچھے آ گیا۔ 😕 آدمی نے غصے سے پوچھا:“اب کیا چاہیے؟” 😡 کہنے لگا:“تھوڑا اور…” 😅🙏 دوسرا پہاڑ بھی سونے کا،پھر تیسراپھر چوتھاچاروں طرف سونے ھی سونے کے پہاڑ! 😳💰 چند قدم بعد دیکھا 👁️وھی آدمی پھر پیچھے! 😱 غصے سے پوچھا:“اب کیا چاہیے؟!” 😠🤬 غریب نے مُسکرا کر کہا: “حضور، اب وہ انگلی بھی دے دیں!” 😂🤣 سبق:دُنیا میں اِتنی دولت یا طاقت ھے ھی نہیں جو کسی اِنسان کی لالچ کو پورا کر سکے۔ 🙄💯

ایک، بادشاہ، کو، اپنی، طاقت، اور، دولت، پر، بہت، ناز، تھا۔ ایک، دن، اس، نے، اپنے، دربار، میں، ایک، بوڑھے، درویش، کو، بلایا، اور، غرور، سے، پوچھا: “بتاؤ، دنیا، میں، مجھ، سے، زیادہ، طاقتور، کون، ہے؟” درویش، نے، مسکرا، کر، کہا: “وہ، شخص، جو، تمہیں، تمہاری، حقیقت، یاد، دلا، سکے۔” بادشاہ، ہنس، پڑا، اور، بولا: “میری، سلطنت، میں، ایسا، کون، ہے، جو، میرے، سامنے، یہ، جرات، کرے؟” درویش، نے، آسمان، کی، طرف، دیکھا، اور، کہا: “وقت۔” بادشاہ، نے، حیران، ہو، کر، پوچھا: “وقت؟” درویش، بولا: “ہاں، وقت۔ یہ، نہ، تمہاری، اجازت، لیتا، ہے، نہ، تمہاری، دولت، سے، ڈرتا، ہے۔ آج، تم، تخت، پر، بیٹھے، ہو، کل، کوئی، اور، بیٹھا، ہوگا۔ آج، لوگ، تمہارے، سامنے، سر، جھکاتے، ہیں، کل، شاید، تمہارا، نام، بھی، کسی، کو، یاد، نہ، رہے۔” بادشاہ، کچھ، دیر، خاموش، رہا، مگر، پھر، غرور، سے، بولا: “لیکن، میں، اپنی، یاد، ہمیشہ، زندہ، رکھ، سکتا، ہوں۔” درویش، نے، جواب، دیا:…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک حافظ صاحب نے بڑے بھاؤ تاؤ کے بعد ایک بکرا خریدا۔ راستے میں تین ٹھگوں کی ان پر نظر پڑ گئی۔ تینوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ یہ بکرا کسی طریقے سے ہتھیا لیا جائے۔ یہ طے پایا کہ اگر کسی طرح حافظ جی کو یقین دلا دیا جائے کہ یہ بکرا نہیں بلکہ کتا ہے، تو وہ خود ہی اسے لات مار کر بھگا دیں گے۔چنانچہ منصوبے کے مطابق، راستے میں پہلا ٹھگ بڑی مطمئن شکل بنا کر ان سے ملتا ہے اور نہایت ادب سے سلام و دعا کے بعد پوچھتا ہے: “محترم حافظ جی! خیر تو ہے، یہ کتا کہاں اٹھا کر لے جا رہے ہیں؟”حافظ جی چونک اٹھے اور گرج کر بولے: “ناہنجار کہیں کے! کیا یہ تمہیں کتا دکھائی دیتا ہے؟ یہ بکرا ہے، جسے میں نے ابھی بکرا منڈی سے خریدا ہے۔”ٹھگ نے حیران ہونے کی…

Read more

لڑکا:میں آپ کی بیٹی سے شادی کرنا چاہتا ھوں۔ 😍🥀 لڑکی کا والد:اچھا! پہلے یہ بتاؤ، تم مہینے میں کتنا کماتے ھو؟ 🤔💵 لڑکا:جی، تقریباً 30 ہزار روپے۔ 😎💁‍♂️ لڑکی کے والد:واہ! یعنی گزارا ھو جاتا ھے؟ 😕😒 لڑکا:جی بالکل، بس کبھی مہینہ لمبا ھو جاتا ھے اور تنخواہ چھوٹی پڑ جاتی ھے۔ 😂🤏 لڑکی کے والد:کیا تُمہیں پتہ ھے میں اپنی بیٹی کو 25 ہزار ماہانہ جیب خرچ دیتا ھوں؟ 😏🤔 لڑکا:جی، وہ ملا کر ھی 30 ہزار بتایا ھے۔ 😁🤣

ایک کسان گدھا گاڑی پر سلطان صلاح الدین ایوبی کی عدالت آیا۔  اس نے کہا: “سلطانِ وقت! کل شام میں گدھا گاڑی پر اناج لاد کر غلہ منڈی گیا۔ رات ہو چکی تھی، دکانیں بند تھیں لیکن ایک بیوپاری بیٹھا تھا۔ میں نے اناج اسے دے دیا تو اس نے کہا ‘کل رقم لے جانا’۔  آج میں رقم لینے گیا تو یہ صاف مکر گیا۔” سلطان نے بیوپاری کو بلوایا۔  بیوپاری بولا: “یہ کسان جھوٹ بول رہا ہے۔ نہ میں نے اناج لیا، نہ کوئی گواہ ہے۔” دونوں کے پاس کوئی گواہ نہیں تھا۔ سلطان نے تھوڑی دیر سوچا۔  پھر حقیقت جاننے کے لیے سلطان نے *گدھے کی آنکھیں بند کر دیں* اور کسان سے کہا: “اس گدھے کو چلاؤ اور اسی جگہ لے جاؤ جہاں تم نے اناج اتارا تھا۔” کسان گدھے کو لے کر چلا۔ گدھا سیدھا اسی بیوپاری کی دکان کے سامنے جا کر رک گیا۔ سلطان…

Read more

کہتے ہیں خراسان کے ایک مضافاتی علاقے میں صابر نام کا ایک نہایت غریب، مگر انتہائی نیک اور پرہیزگار کسان رہتا تھا۔ صابر سارا دن دوسروں کے کھیتوں میں محنت مزدوری کرتا اور شام کو جو تھوڑی بہت اجرت ملتی، اسی سے اپنے گھر والوں کے لیے حلال رزق کا انتظام کرتا۔ اس کا اصول بہت واضح تھا: “جتنی محنت کی ہے، اتنی ہی اجرت لوں گا۔” اگر کبھی کوئی مالک خوش ہو کر طے شدہ اجرت سے ایک پیسہ بھی زیادہ دینے کی کوشش کرتا تو صابر وہ اضافی رقم لینے سے انکار کر دیتا اور کہتا: “میں نے جتنی محنت کی ہے، میں صرف اتنی ہی اجرت کا حق دار ہوں۔” پھر ایک رات بادشاہ نے ایک عجیب خواب دیکھا… اس نے دیکھا کہ اس کے محل کے تمام خزانے مٹی میں تبدیل ہو گئے ہیں، لیکن شہر کے ایک کونے سے ایک نورانی لکیر آسمان کی طرف…

Read more

پُرانے زمانے کی بات ہے، ایک سچے اور ایماندار تاجر کا نام زاہد تھا۔وہ اپنے اونٹ پر اکیلا سفر کر رہا تھا۔ اس سفر میں اس کے ساتھ ایک عجیب بات ہو رہی تھی۔ وہ جہاں بھی جاتا، ایک خوبصورت نیلے رنگ کا پرندہ اس کے سر پر اڑتا ہوا دکھائی دیتا۔ زاہد نے پہلے تو اسے عام بات سمجھا، لیکن اصلی کہانی تب شروع ہوئی جب وہ ایک ویران اور گرم صحرا میں پہنچا۔شدید گرمی کی وجہ سے زاہد کا پانی ختم ہو گیا۔ پیاس سے اس کا برا حال تھا اور چکر آ رہے تھے۔ اتنے میں اس نے دیکھا کہ وہی نیلا پرندہ ایک پُرانے کنویں کے اوپر چکر کاٹ رہا ہے۔ زاہد خوش ہو کر کنویں کے پاس پہنچا اور پانی نکالنے کے لیے رسی سے ڈول نیچے لٹکایا۔ لیکن جب ڈول باہر آیا تو اس میں پانی کی جگہ چمکتے ہوئے سونے کے سکے بھرے…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک شخص کی شادی ساتھ والے گاؤں میں طے پائی کہ فلاں دن دولہا بارات لے کر آئے اور اپنی دلہن لے جائے، لیکن ساتھ میں لڑکی والوں نے ایک شرط بھی رکھ دی کہ دولہا اپنے ساتھ جو بارات لائے گا اس میں ایک سو نوجوان ہونے چاہیں اور کوئی بھی بوڑھا شامل نہیں ہونا چاہیے … میرے پیارو! یہ عجیب شرط سن کر دولہے والے بڑے حیران ہوئے، پر پھر بھی شرط منظور کر لی۔ لیکن دل ہی دل میں وہ پریشان بھی تھے کہ آخر ایسا کیا ماجرا ہے اور کیوں بوڑھوں کو ساتھ لانے سے منع کیا گیا ہے۔ دولہےکے گاؤں کے نوجوان خوش تھے کہ اس بارات میں کوئی بڑا بوڑھا نہیں جائے گا اور وہ مزے لوٹتے اور ہنستے کھیلتے بارات لے کر جائیں گئے۔ دوسری جانب گاؤں کے بڑے دانا بوڑھے پریشان ہو رہے تھے کہ آیا…

Read more

ایک میاں بیوی کی شادی کو 30 سال ہو چکے تھے۔ ان کی سالگرہ کی صبح، بیوی نے حسبِ معمول ایک تازہ ناشتے کا رول (bread roll) بیک کیا، بالکل ویسے ہی جیسے وہ اس سے پہلے اننت بار کر چکی تھی۔ یہ ان چھوٹی چھوٹی روایتوں میں سے ایک بن گیا تھا جو سالوں کے دوران چپکے سے کسی رشتے کا حصہ بن جاتی ہیں۔ناشتے کے وقت، اس نے رول کو درمیان سے کاٹا اور دونوں ٹکڑوں پر مکھن لگایا۔ ہمیشہ کی طرح، اس نے اپنے شوہر کو گرم، سنہری اوپر والا حصہ (top half) دینا چاہا۔پھر اس کا ہاتھ رک گیا۔اس نے سوچا، “یہ ہماری 30ویں سالگرہ ہے، اور بس ایک بار میں اوپر والا حصہ اپنے لیے چاہتی ہوں۔ میں سالوں سے یہی چاہتی رہی ہوں۔ میں نے اس خاندان کی دیکھ بھال، اپنے بیٹوں کی پرورش، گھر چلانے اور اپنی مشترکہ زندگی میں خود کو جھونکنے…

Read more

ستر سال کا بابا مچھلی پکڑ رہا تھا کہ اچانک پانی سے آواز آئی… 😳🐸 “مجھے باہر نکالو!” بابا نے چونک کر اِدھر اُدھر دیکھا کوئی نظر نہ آیا۔ چند لمحوں بعد پھر وہی آواز آئی: “ارے بابا! مجھے باہر نکالو!” 😄 اس بار بابا نے پانی میں جھانکا تو ایک مینڈک اسے گھور رہا تھا۔ بابا نے حیرت سے پوچھا: “اوئے! کیا واقعی تم بول رہے ہو؟” 🤔 مینڈک بولا: “ہاں! بس مجھے باہر نکالو، پھر ایک بوسہ دو، میں فوراً دنیا کی حسین ترین لڑکی بن جاؤں گی، اور تمہاری بیوی بن جاؤں گی!” 😍✨ بابا نے آرام سے مینڈک کو اٹھایا… اور سیدھا اپنی جیب میں ڈال لیا۔ 😅 مینڈک نے غصے سے کہا: “ارے! تم نے میری بات سنی نہیں؟ میں حسین لڑکی بن جاؤں گی!” 😳 بابا نے عینک سیدھی کی، مسکرایا اور ایسا جواب دیا کہ مینڈک بھی خاموش ہو گیا… 😂👇 “بیٹا… میری…

Read more

بیان کیا جاتا ہے کہ خلیفہ مامون الرشید نے ایک نصرانی شخص کو پانچ سو درہم کے مطالبے میں قید کرنے کا حکم دیا اور اس کے ساتھ ایک سوار کو روانہ کیا۔ راستے میں سوار کی نظر ایک شخص پر پڑی جس کے سر پر گھاس کا ایک بڑا گٹھا تھا اور وہ ایک طرف جھکا ہوا تھا۔ سوار نے آگے بڑھ کر اس گٹھے کو سیدھا کیا، لیکن وہ دوسری طرف جھک گیا۔ اس پر سوار کی زبان سے بے اختیار نکلا: «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ» یعنی: “اللہ بلند و عظیم کے سوا نہ کسی میں طاقت ہے اور نہ قوت۔” نصرانی نے یہ کلمہ سنا تو اس کی عظمت کا اظہار کرنے لگا۔ سوار نے حیرت سے پوچھا: “جب تم اس کلمے کی عظمت کو تسلیم کرتے ہو اور اسے اتنا بزرگ سمجھتے ہو، تو پھر اللہ تعالیٰ پر ایمان کیوں نہیں لاتے؟”…

Read more

Read more

ایک مرتبہ ایک حاملہ ہرن کو اپنے بچے کی پیدائش کا وقت قریب محسوس ہوا تو وہ دریا کے کنارے موجود جنگل کی طرف چلی گئی، تاکہ کسی محفوظ جگہ اپنے بچے کو جنم دے سکے۔ مگر اچانک حالات نے ایسا رخ اختیار کیا کہ ہر طرف خطرات ہی خطرات دکھائی دینے لگے۔ آسمان پر بجلی کڑکی اور جنگل میں آگ بھڑک اٹھی۔ آگ تیزی سے پھیلنے لگی تو ہرن گھبرا کر ادھر اُدھر دیکھنے لگی۔ ایک طرف شکاری بندوق لیے نشانہ باندھے کھڑا تھا، دوسری طرف ایک خوفناک شیر موجود تھا، جبکہ پیچھے جنگل کی آگ پھیل رہی تھی اور سامنے دریا تھا۔ ہرن کے لیے کوئی راستہ باقی نہیں تھا۔ اگر آگ کی طرف جاتی تو جل جاتی…دریا کی طرف جاتی تو ڈوبنے کا خطرہ تھا…شکاری اسے مار سکتا تھا…اور شیر اسے اپنا نوالہ بنا سکتا تھا۔ وہ سوچنے لگی: “میں کس طرف جاؤں؟ ہر طرف موت کھڑی…

Read more

پرانے زمانے کی بات ہے، فارس میں شاہ عباس اول کی حکومت تھی۔ اسے شکار کا بہت شوق تھا۔ ایک دن شکار کے دوران وہ اپنے ساتھیوں سے بچھڑ کر جنگل میں بہت دور نکل گیا۔ اچانک اسے بانسری کی آواز سنائی دی۔ آواز کا پیچھا کرتے ہوئے وہ ایک درخت کے نیچے پہنچا، جہاں ایک گڈریا لڑکا بڑے سکون سے بانسری بجا رہا تھا۔ بادشاہ نے اس سے باتیں کیں۔ لڑکے نے ہر سوال کا جواب نہایت ادب اور سمجھ داری سے دیا۔ بادشاہ اس کی عقل و تمیز سے بہت متاثر ہوا۔ جب لڑکے کو معلوم ہوا کہ جس شخص سے وہ بات کر رہا تھا وہ خود بادشاہ ہے تو وہ گھبرا گیا۔ بادشاہ نے اسے تسلی دی اور اپنے ساتھ محل لے آیا۔ اس نے لڑکے کے لیے بہترین استاد مقرر کیے۔ لڑکا پڑھ لکھ کر محمد علی بے کہلایا اور اپنی ایمانداری اور قابلیت کی…

Read more

کہتے ہیں، ایک دفعہ ایک سمندر کا مینڈک کنویں میں گر گیا تھا۔ وہاں اسکی ملاقات کنویں کے مینڈکوں سے ہوئی اور وہ ان سے کافی گھل مل گئی اور محض کچھ لمحوں میں انکی دوستی ہو گئی۔۔۔ کنویں کا مینڈک اس سے پوچھتا ہے کہ یار یہ “سمندر” آخر کتنا بڑا ہوتا ہے؟ سمندر کا مینڈک جواب دیتا ہے کہ سمندر بہت زیادہ بڑا ہوتا ہے….. یہ سن کر وہ کنویں کا مینڈک کنویں کا ایک لمبا چکر لگاتا ہے کہ کیا اتنا بڑا ہوتا ہے؟ سمندر کا مینڈک جواب دیتا ہے کہ نہیں اس سے بھی بڑا اور بہت زیادہ بڑا ہوتا ہے۔ اس پر وہ کنویں کا مینڈک کنویں میں پہلے سے “بہت بڑا” چکر لگا دیتا ہے اور پوچھتا ہے کہ کیا اتنا بڑا ہوتا ہے؟ سمندر کا مینڈک جواب دیتا ہے کہ نہیں اس سے بھی زیادہ بڑا ہوتا ہے…. یہ سن کر وہ کنویں…

Read more

کہتے ہیں کہ ایک نوجوان حضرت موسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: “اے اللہ کے نبی! میں نے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جانوروں اور پرندوں کی بولیاں سمجھنے کا علم عطا فرمایا ہے۔ مجھے بھی یہ علم سکھا دیجیے، تاکہ میں جانوروں کی باتیں سن کر اللہ کی معرفت حاصل کرسکوں۔” حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کی بات سنی اور فرمایا: “! ہر علم انسان کے لیے فائدہ مند نہیں ہوتا۔ اللہ کی معرفت جانوروں کی بولیاں سمجھنے سے نہیں، بلکہ اپنے رب کی طرف رجوع کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔ اس خواہش سے باز آ جاؤ۔” مگر نوجوان اپنی ضد پر قائم رہا۔ آخرکار اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجازت ملنے پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اسے فرمایا: “اچھا، تمہارے اصرار پر میں تمہیں یہ علم عطا کرتا ہوں، لیکن یاد رکھو، اس میں تمہارے لیے آزمائش بھی…

Read more

میں نے ایک بار اپنے دادا سے پوچھا، جن کی شادی کو 60 سال سے زیادہ ہو چکے تھے:“پوری زندگی ایک ہی عورت سے محبت کرتے رہنے کا راز کیا ہے؟”مجھے امید تھی کہ وہ بات چیت، بھروسے یا معاف کرنے جیسی کوئی بات کہیں گے۔اس کے بجائے، انہوں نے کمرے میں دوسری طرف بیٹھی میری دادی کی طرف دیکھا اور کہا:“تم پوری زندگی ایک ہی عورت سے محبت نہیں کرتے۔”اس جواب نے مجھے دنگ کر دیا۔پھر انہوں نے بات جاری رکھی:“وہ ہر چند سال بعد بدل جاتی ہے۔ اور اگر تم یہ نہیں سیکھتے کہ جو انسان وہ بن رہی ہے اس سے محبت کیسے کی جائے، تو تم بالآخر اسے کھو دو گے۔”“جس عورت سے میں نے اپنے بیس کی دہائی کے شروع میں شادی کی تھی، وہ بالکل ویسی نہیں تھی جیسی وہ تیس کی عمر میں بنی۔ ماں بننے نے اسے بدل دیا۔ مشکل ادوار نے…

Read more

ایک دیہاتی اپنی لاٹھی میں ایک گٹھری باندھے ہوئے گانے گاتا سنسان سڑک پر چلا جارہا تھا۔ سڑک کے کنارے دور دور تک جنگل پھیلا ہوا تھا اور کئی جانوروں کے بولنے کی آوازیں سڑک تک آ رہی تھیں۔تھوڑی دور چل کر دیہاتی نے دیکھا کہ ایک بڑا سا لوہے کا پنجرہ سڑک کے کنارے رکھا ہے اور اس پنجرے میں ایک شیر بند ہے۔ یہ دیکھ کر وہ بہت حیران ہوا اور پنجرے کے پاس آ گیا۔ اندر بند شیر نے جب اس کو دیکھا تو رونی صورت بنا کر بولا۔’’بھیا تم بہت اچھّے آدمی معلوم ہوتے ہو۔ دیکھو مجھے کسی نے اس پنجرے میں بند کر دیا ہے اگر تم کھول دوگے تو بہت مہربانی ہوگی۔‘‘ دیہاتی آدمی ڈر رہا تھا مگر اپنی تعریف سن کر اور قریب آ گیا۔ تب شیر نے اس کی اور تعریف کر نا شروع کر دی۔’’بھیّا تم تو بہت ہی اچھے اور…

Read more

نوکر کی جیب سے نکلا ایک خط، اور امیر نے ایسا فیصلہ کیا کہ سب حیران رہ گئے گرمی کی ایک دوپہر تھی۔ ایک امیر شخص اپنے کمرے میں آرام کر رہا تھا اور اس کا کم عمر نوکر باہر بیٹھا پنکھا جھل رہا تھا۔ گرمی اور تھکن کے باعث نہ جانے کب دونوں کی آنکھ لگ گئی۔ کچھ دیر بعد امیر کی آنکھ کھلی تو اسے پیاس لگی۔ اس نے نوکر کو آواز دی، مگر کوئی جواب نہ آیا۔ وہ خود باہر نکلا تو دیکھا کہ لڑکا بے خبر سو رہا ہے۔ امیر اسے جگانے ہی والا تھا کہ اچانک اس کی نظر لڑکے کی جیب سے باہر نکلے ہوئے ایک خط پر پڑی۔ اس نے سوچا، شاید کوئی ضروری خط ہے۔ اس نے خط نکال کر پڑھنا شروع کیا۔ خط میں لکھا تھا: “میرے پیارے بیٹے! تمہارا دو روپے کا منی آرڈر مل گیا۔ یہ جان کر بہت…

Read more

ایک بادشاہ کا ایک لائق، تجربہ کار اور جنگ میں بہادری کے لیے مشہور فوجی کمانڈر تھا۔ اپنی ایک شاندار فتح کے بعد، بادشاہ نے محل میں ایک بڑی ضیافت کا اہتمام کیا، جس میں کھانے پینے کی فراوانی تھی اور جشن دیر رات تک جاری رہا.جشن ختم ہونے کے کافی دیر بعد، کمانڈر اپنے گھر کی طرف روانہ ہوا۔ راستہ اندھیرا تھا اور تقریباً سنسان تھا۔ جب وہ ایک موڑ کے قریب پہنچا تو اس نے اچانک دیکھا کہ جھاڑیوں میں ایک چیتا گھات لگائے بیٹھا ہے۔ایسا لگ رہا تھا کہ جانور ابھی چھلانگ لگانے ہی والا ہے۔شراب کے نشے میں دھت ہونے کے باوجود، اس کی برسوں کی تربیت کام آئی۔ بغیر کسی ہچکچاہٹ کے، کمانڈر نے اپنا کمان نکالا، ترکش سے ایک تیر نکالا، پوری طاقت سے ڈور کھینچی اور تیر چلا دیا۔تیر اپنے نشانے پر جا لگا۔یہ یقین کرتے ہوئے کہ اس نے چیتے کو مار…

Read more

20/1654
NZ's Corner