دوسروں سے اپنا موازنہ کرنے اور ناپائیدار چیزوں کا غم منانے کی بجائے، اپنے حصے کی خوشی اور خوبصورتی کو محسوس کرنا ہی حقیقی مسرت ہے۔
ایک خوبصورت وادی میں ایک ننھی تتلی رہتی تھی جس کے پروں میں دنیا کے تمام خوبصورت رنگ سمائے ہوئے تھے۔ وہ دن بھر پھولوں کا رس پیتی اور ہوائیں گنگناتیں تو ان کے ساتھ ناچتی۔ لیکن اس کی ایک عجیب عادت تھی—وہ ہر وقت اس بات پر غمگین رہتی کہ رات ہوتے ہی اندھیرا پھیل جاتا ہے اور اس کا خوبصورت روپ کسی کو نظر نہیں آتا۔ایک شام، جب سورج پہاڑوں کے پیچھے ڈھل رہا تھا، تتلی ایک بڑے لال گلاب کی پتی پر بیٹھ کر رو رہی تھی۔ پاس ہی ایک بوڑھا جگنو، جو رات کے لیے اپنا چراغ روشن کر رہا تھا، اس کے پاس آیا اور بولا:“پیاری تتلی! اتنی حسیں شام میں تمہاری آنکھوں میں یہ آنسو کیسے؟”تتلی نے سرد آہ بھر کر کہا:“دیکھو نا جگنو! دن کے وقت تو سب میرے رنگوں کی تعریف کرتے ہیں، لیکن جیسے ہی رات آتی ہے، میری ساری خوبصورتی…
سب سے میٹھی اور کڑوی چیز
ایک مرتبہ ایک بادشاہ نے اپنے سب سے عقلمند وزیر سے ایک سوال پوچھا:“مجھے یہ بتاؤ کہ دنیا میں سب سے میٹھی چیز کیا ہے اور سب سے کڑوی چیز کیا ہے؟”وزیر نے مسکرا کر جواب دیا: “عالم پناہ! ان دونوں سوالوں کا جواب ایک ہی ہے — انسان کی زبان۔”بادشاہ حیران ہوا اور بولا: “ایک ہی چیز میٹھی اور کڑوی کیسے ہو سکتی ہے؟”وزیر نے وضاحت کی: * جب زبان سے میٹھے بول نکلتے ہیں، نرمی اور عزت سے بات کی جاتی ہے، تو یہ دنیا کا سب سے گہرا زخم بھی بھر دیتی ہے اور بیگانوں کو بھی اپنا بنا لیتی ہے۔ * لیکن جب یہی زبان کڑوے الفاظ بولتی ہے، غصے اور نفرت کا اظہار کرتی ہے، تو یہ بنے بنائے رشتوں کو توڑ دیتی ہے اور دل پر ایسا زخم لگاتی ہے جو کبھی نہیں بھرتا۔سبق:ہماری بول چال ہی ہماری شخصیت کی پہچان ہوتی ہے۔ کمان…
بوڑھا شاہین اور لومڑی
ایک وادی میں ایک بوڑھا شاہین رہتا تھا، جس کی نظریں کبھی چیل کی طرح تیز اور پرواز ایسی تھی کہ آسمان کو چھو لیتی۔ لیکن عمر بڑھنے کے ساتھ اس کے پر بھاری ہو گئے، ناخن کمزور پڑ گئے اور شکار کرنا مشکل ہو گیا۔ اب وہ اکثر ایک اونچی چٹان پر بیٹھا اپنی پرانی عظمت کے دن یاد کرتا۔اسی پہاڑ کے نیچے ایک چالاک لومڑی رہتی تھی۔ جب اس نے بوڑھے شاہین کو کمزور اور لاچار دیکھا تو اس کے دل میں لالچ آ گیا۔ اس نے سوچا کہ کیوں نہ اس بوڑھے شاہین کو باتوں میں الجھا کر اس کا کام تمام کیا جائے اور آسانی سے ایک نوالہ حاصل کر لیا جائے۔لومڑی مسکراتی ہوئی چٹان کے قریب آئی اور بولیں:“اے شاہین کے راجہ! تم تو کبھی آسمانوں کے بادشاہ ہوا کرتے تھے، لیکن آج اس چٹان پر یوں الگ تھلگ اور اکیلے کیوں بیٹھے ہو؟ اب…
چودھری صاحب کا جھوٹا خزانہ
گاؤں میں چودھری برکت کا بڑا رعب تھا۔ مونچھیں ایسی تنی رہتیں جیسے ہر وقت کسی سے جنگ کرنے کو تیار ہوں، حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ گھر میں ان کی سب سے بڑی دشمن ان کی بیوی تھیں۔ ایک دن چودھری صاحب نے اعلان کیا: “مجھے اپنے دادا کے پرانے صندوق سے ایک نقشہ ملا ہے۔ ہمارے کھیت کے نیچے خزانہ دفن ہے!” گاؤں کے لوگ فوراً جمع ہوگئے۔ حاجی صاحب نے پوچھا:“پکا معلوم ہے؟” چودھری صاحب نے سینہ پھلا کر کہا:“میرے دادا کبھی جھوٹ نہیں بولتے تھے۔” پیچھے سے ان کی بیوی کی آواز آئی:“آپ کے دادا نہیں، آپ جھوٹ بولتے ہیں!” چودھری صاحب نے کھانستے ہوئے کہا:“عورتوں کو تاریخی معاملات کی سمجھ نہیں ہوتی۔” اگلی صبح پورا گاؤں بیلچے لے کر کھیت میں پہنچ گیا۔ چودھری صاحب ہاتھ میں نقشہ لیے حکم دینے لگے: “یہاں کھودو!” لوگوں نے کھودا۔ “تھوڑا دائیں!” پھر کھودا۔ “اب بائیں!” پھر کھودا۔…
مستقبل کی فکر –
کسی جنگل میں ایک ٹڈا رہتا تھا۔وہ دن بھر گھومتا اور ہرے پتے کھاتا،ایک دن وہ پتا کھا رہا تھا اور گنگنا رہا تھا کہ اسے ایک پھل اپنی طرف آتا دکھائی دیا۔وہ قریب پہنچ گیا۔بہت سی چیونٹیاں مل کر اس کو اُٹھائے ہوئے تھیں۔ٹڈا بولا:”تم اتنی ساری چیونٹیاں یہ کہاں لے جا رہی ہو؟“وہ ایک جڑ کی طرف اشارہ کرکے بولیں:”خزاں کا موسم آنے والا ہے،اس لئے ہم اناج اور کھانا جمع کر رہے ہیں،تاکہ سردی کے موسم میں آرام سے رہ سکیں۔“ٹڈے نے دیکھا کہ درخت کی جڑ میں ایک سوراخ ہے اور چیونٹیاں اس میں اناج وغیرہ لے جا رہی ہیں۔اس نے یہ دیکھا تو بولا:”اے بے وقوف چیونٹیو!مستقبل کی فکر ابھی سے کیوں کر رہی ہو؟ابھی خوب مزے اُڑاؤ میری طرح مستقبل کا بعد میں دیکھا جائے گا۔ “چیونٹیوں نے کہا:”اے ٹڈے!تم بھی اناج جمع کر لو ورنہ بعد میں پچھتاؤ گے۔“وہ بولا:”مجھے تو ابھی موسم…
چٹکی لال
ایک زمانے کا ذکر ہے، “قہقہہ نگر” کے نامی گرامی درزی، استاد چٹکی لال، اپنی تیز رفتار قینچی اور عجیب و غریب خیالات کے لیے پورے علاقے میں مشہور تھے۔ استاد کا دعویٰ تھا کہ وہ بندے کا سائز دیکھے بغیر صرف اس کی آواز سن کر ایسا سوٹ سی سکتے ہیں جو سیدھا پیرس کے فیشن شو میں جا سکے۔ایک دن، گاؤں کے سب سے کنجوس اور ڈرپوک سیٹھ کلو مل استاد کی دکان پر آئے۔ سیٹھ صاحب کو اپنے بھتیجے کی شادی میں جانا تھا اور وہ چاہتے تھے کہ کپڑا بھی کم لگے، سلائی بھی کم ہو، لیکن رعب ایسا پڑے جیسے بادشاہ کا ہو۔استاد چٹکی لال نے اپنی مونچھ پر ہاتھ پھیرا اور بولے، “سیٹھ جی! آپ بے فکر ہو جائیں۔ میں آپ کے لیے ایسا ‘جادوئی شیروانی سوٹ’ سیوں گا کہ شادی میں سب دولہا کو چھوڑ کر آپ کو دیکھتے رہ جائیں گے!”استاد نے…
استاد نادان کی حکمت
ایک زمانے کا ذکر ہے، ایک چھوٹے سے خوبصورت گاؤں “مسکراہٹ آباد” میں استاد نادان رہتے تھے۔ استاد نادان کا نام تو خیر نادان تھا، لیکن ان کی حرکات دیکھ کر پورے گاؤں کا متفقہ فیصلہ تھا کہ ان کا نام “مہا نادان” ہونا چاہیے تھا۔ استاد صاحب کا ماننا تھا کہ دنیا کا ہر مسئلہ صرف تین چیزوں سے حل ہو سکتا ہے: ایک کڑک چائے کا کپ، تھوڑی سی حکمت، اور اگر یہ دونوں کام نہ کریں تو ایک لمبا بانس!ایک مرغن شام، استاد نادان اپنی بیٹھک میں بیٹھے مکھیاں مارنے کی حکمتِ عملی پر غور کر رہے تھے کہ اچانک گاؤں کے چوہدری شجاعت ہانپتے کانپتے داخل ہوئے۔“استاد جی! غضب ہو گیا! میری سب سے پیاری بھینس ‘چمیلی’ کو ناگن نے ڈس لیا ہے یا شاید اس پر کسی جن کا سایہ ہو گیا ہے! وہ مسلسل ایک ٹانگ پر کھڑی ہے اور عجیب و غریب آوازیں…
دھوکے کی سزا –
کسی گاؤں میں ایک دھوبی رہتا تھا، جو شہر سے لوگوں کے کپڑے گدھے پر لاد کے گاؤں لاتا اور دھونے کے بعد اسی پر لاد کے واپس شہر پہنچاتا تھا۔دھوبی کی کمائی کا یہی ذریعہ تھا اور وہ اس قدر کما لیتا کہ باآسانی گزر بسر کر سکے۔اس کے باوجود وہ حد درجہ کنجوس واقع ہوا تھا۔شہر جا کر وہ خود تو مزے مزے کے پکوان اڑاتا لیکن دن بھر محنت کرنے والے گدھے کو بھوکا رکھتا۔اس کیلئے چارے پانی پر کوئی پیسہ خرچ نہ کرتا۔دن یونہی گزرتے جا رہے تھے اور گدھا بیچارہ بھوکا رہ رہ کر اب بیمار رہنے لگا تھا۔وہ اس قدر لاغر ہو چکا تھا کہ اُس کے جسم کی ہڈیا ں تک واضح نظر آنے لگی تھیں، لیکن ظالم دھوبی کو اس معصوم جانور پر ذرا ترس نہ آیا۔ایک دن دھوبی شہر والوں کے کپڑے گدھے پر لاد کے لے جا رہا تھا کہ…
خوف
🦅 خوف کبھی کبھی حقیقت سے زیادہ خطرناک ثابت ہوتا ہے😶 یہ کہانی پرانے زمانے کے ایک تجربہ کار شکاری کے منہ سے سنی ہوئی ہے، اور اس کے مطابق یہ ایک حقیقی واقعہ ہے😮 شکاری بتاتا ہے کہ جب چکور اپنے بچوں کے ساتھ خوراک کی تلاش میں کھیتوں کی طرف آئے ہوئے تھے، تو ایک باز آسمان میں چکر لگا رہا تھا😶 اچانک اس کی نظر نیچے موجود چکوروں پر پڑی۔ وہ شکار کی نیت سے پوری رفتار کے ساتھ نیچے جھپٹا، لیکن قسمت نے ساتھ نہ دیا۔ راستے میں ایک درخت کی نوکیلی شاخ اس کے جسم میں پیوست ہوگئی، اور وہ وہیں ہلاک ہوگیا۔ شکاری کہتا ہے: “پتہ نہیں یہ منظر کتنے دن پرانا تھا، مگر جب میں وہاں پہنچا تو دیکھا کہ باز تو اسی نوکیلی شاخ پر مرا ہوا لٹکا ہوا تھا۔ لیکن نیچے موجود تمام چکور بھی مر چکے تھے۔” وجہ یہ تھی…
محلے کا سب سے بڑا جاسوس 😂
محلے میں ایک آدمی رہتا تھا جس کا نام قاسم تھا۔ قاسم کو ایک عجیب بیماری تھی۔ اسے ہر کام میں شک ہوتا تھا۔ اگر گھر میں چائے کم میٹھی ہو تو کہتا: “ضرور کسی نے چینی چوری کی ہے!” اگر پنکھا آہستہ چلے تو کہتا: “اس میں بھی کوئی سازش ہے!” اور اگر بیوی خاموش بیٹھی ہو تو فوراً پوچھتا: “کیا ہوا؟ کس سے بات ہوئی؟ میرے خلاف کیا منصوبہ بن رہا ہے؟” ایک دن محلے میں خبر پھیلی کہ چودھری صاحب کے گھر سے قیمتی گھڑی غائب ہوگئی ہے۔ قاسم نے خبر سنی تو فوراً سینہ پھلا کر بولا: “یہ کیس میں حل کروں گا!” محلے والوں نے پوچھا: “تمہیں جاسوسی آتی ہے؟” قاسم نے فخر سے کہا: “نہیں، لیکن مجھے شک بہت اچھا کرنا آتا ہے!” سب نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ “چلو، یہی سہی!” 😂 قاسم نے سب سے پہلے چودھری صاحب سے پوچھا: “گھڑی…
ایک بکری اور کوے کی کہانی
کسی جنگل میں ایک بکری بہت بے فکری سے اِدھر اُدھر گھوم رہی تھی۔اُسے دیکھ کر ایک کوے کو بہت حیرت ہوئی، اس نے بکری سے پوچھا، ”تم اتنی بے خوف ہو کر کیسے جنگل میں گھوم رہی ہو کیا تمہیں شیر کا خوف نہیں؟“بکری نے کہا، ”بھائی کوے، میری بے فکری کا سبب یہ ہے کہ کچھ عرصے پہلے ایک شیرنی اپنے دو بچے چھوڑ کر مر گئی تھی، میں نے ان پر ترس کھا کر دودھ پلا کر پروان چڑھایا اور اب وہ جوان ہیں اور انہوں نے جنگل میں اعلان کر رکھا ہے کہ ہماری بکری ماں کی طرف کوئی میلی آنکھ سے نہ دیکھے اسی لئے اب کسی جانور میں ہمت نہیں کہ مجھے نقصان پہنچائے۔“کوے نے سوچا کاش مجھے بھی ایسی نیکی کرنے کا موقع ملے اور پرندوں کی دنیا میں مجھے بھی ایسا احترام حاصل ہو جائے۔ اب اس کے شب و روز ایسی…
بہادر اور لاڈلا –
امانت نے ڈگڈگی بجائی تو گلی کے بچے اپنے گھر سے باہر آ گئے۔امانت نے بچوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:”آج لاڈلا اور بہادر آپ کے سامنے موجود ہیں،دونوں آپ کو سلام کرتے ہیں۔“یہ کہہ کر امانت نے دونوں کی رسی کھینچی تو دونوں نے اپنی پیشانی پر ہاتھ رکھ کر بچوں کو سلام کیا۔”یہ بہادر ہے۔“امانت نے سبز رنگ کی عینک پہنے ایک بندر کی رسی کھینچی۔بہادر نے قلا بازی کھائی تو بچوں نے تالیاں بجائیں۔”اور یہ ہے لاڈلا،میرا لاڈلا۔“امانت نے سرخ رنگ کی عینک پہنے دوسرے بندر کی رسی کھینچی تو لاڈلا نے بھی قلا بازی لگا کر بچوں سے داد لی۔پھر امانت نے ڈگڈگی بجائی تو بہادر اور لاڈلا ناچنے لگے۔دونوں کبھی بابو بن جاتے اور کبھی لیٹ کر سائیکل چلانے لگتے۔ یہ تماشا ایک گھنٹے تک جاری رہا۔ بچوں نے زمین پر پیسے پھینکے تو بندروں نے جھک جھک کر سلام کرتے ہوئے پیسے اُٹھائے۔امانت کی…
بادشاہ کا جانشین –
بہت عرصے کا ذکر ہے کہ ایک بادشاہ تھا جسکے سات بیٹھے تھے ایک دن اس نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ وہ اپنے لیے بیویاں تلاش کرلیں۔ اس نے ان سے کہا کہ وہ اپنے تیر کمان ساتھ لیجائیں اور ہوا میں تیر چلائیں وہ تیر جہاں گریں انہیں ان جگہوں پر رہنے والی عورتوں سے شادی کرنی ہو گئی۔چھ شہزادوں کے تیر دوسری بادشاہتوں میں جا کر گرے اور انہوں نے شہزادیوں سے شادی کر لی۔سب سے چھوٹا شہزادہ اتنا خوش قسمت نہیں تھا ۔ اسکا تیر ایک جنگل میں ایک ٹوٹی پھوٹی جھونپڑی کے سامنے گرا۔ اس جھونپڑی میں ایک بوڑھی رہتی تھی شہزادے نے بوڑھی عورت سے پوچھا کہ آپ کی کوئی بیٹی ہے ۔ اس نے کہا کہ اسکی کوئی بیٹی نہیں ہے اسنے کہا اس کے پاس ایک بندریا ہے جو اسکے ساتھ رہتی ہے۔شہزادے کو بڑی مایوسی ہوئی…
خرگوش کی چالاکی
کسی جگہ شرارتی خرگوش رہتا تھا جس کی ذہانت سے لومڑ جیسا چالاک جانور بھی اکثر مات کھاتا تھا۔اسے خرگوش پر بہت غصہ آتا تھا،اسی لیے وہ اسے اور اس کے دوستوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا رہتا تھا۔ایک دفعہ لومڑ بڑا سا بیگ کندھے پر ڈالے تیزی سے چلا جا رہا تھا۔ بیگ سے کسی کے چیخنے چلانے کی آواز آرہی تھی جس سے خرگوش کو اندازہ ہوا کہ اس میں اس کا دوست کچھوا قید ہے۔اب اسے اپنے دوست کو بچانے کی فکر لاحق ہوئی۔خرگوش جنگل کے درمیان سے تیزی سے بھاگتا لومڑ سے پہلے اس کے گھر پہنچا اور اس کے باغ کے سارے پھول توڑ کر زمین پر پھینک دیے اور خود گھر کے دروازے کے قریب ایک جگہ چھپ کر بیٹھ گیا۔جونہی لومڑ کندھے پر بیگ لیے گھر پہنچا تو خرگوش نے آواز بدل کر سرگوشی کی ”اے لومڑ تمہیں بیگ یہاں رکھ کر…
پھنس گیا کنجوس
پُرانے زمانے کی بات ہے ایک گاؤں میں ایک آدمی رہتا تھا۔وہ بہت ہی کنجوس تھا۔ایک بار وہ ایک جنگل سے گزررہا تھا تو اس نے کھجور کا ایک درخت دیکھا،جس میں بہت سارے میٹھے میٹھے کھجور لگے ہوئے تھے۔پھر کیا تھا؟۔۔۔کنجوس آدمی کو مفت میں کھجوریں مل گئی،اس کے منہ میں پانی بھر آیا۔مال مفت دل بے رحم۔اس نے جلدی جلدی درخت پر چڑھنا شروع کر دیا۔وہ جب کافی اونچائی تک چڑھ گیا تو اچانک ایک شہد کی مکھی نے اسے ڈنک مار دیا۔اس نے دیکھا کہ درخت پر شہد کی مکھیوں کا ایک بڑا سا چھٹا لگا ہوا ہے ،وہ گھبرا اُٹھا،اس نے نیچے چھلانگ لگانے کے بارے میں سوچا،۔۔۔لیکن یہ کیا؟نیچے ایک کنواں تھا۔وہ بہت زیادہ ڈر گیا اور وہ خدا سے دعا مانگنے لگا کہ:”اے خدا!مجھے بچالے میں سو فقیروں کو کھانا کھلاؤں گا۔ “پھر اس نے دھیرے دھیرے نیچے اترنے کی کوشش کی،تھوڑا نیچے آنے…
وفادار باز
پرانے زمانے کی بات ہے کہ کسی ملک میں ایک شکاری رہتا تھا۔شکاری ایک نوجوان اور بہادر شخص تھا۔وہ شکار کی تلاش میں اکثر گھنے اور خطرناک جنگلوں میں جاتا رہتا تھا۔شکاری کے پاس ایک باز تھا جو اس کا بڑا وفادار تھا۔وہ جب بھی شکار پر جاتا تو باز کو بھی ساتھ لے جاتا۔باز بھی کئی قسم کے چھوٹے پرندے شکار کرتا تھا۔اسے باز سے بڑی محبت تھی،کیونکہ باز نے کئی مرتبہ اس کی جان بچائی تھی۔مثلاً ایک دن ایک سانپ اس پر حملہ آور ہونے لگا تو باز نے اس سانپ کو اپنے پنجوں سے ادھیڑ کر رکھ دیا تھا۔ایک دن شکاری نے شکار پر جانے کا ارادہ کیا اور حسب معمول باز کو بھی اپنے ساتھ لے لیا۔وہ ایک گھنے جنگل میں پہنچ گیا جہاں جنگلی جانوروں کی کثرت تھی۔اسے شکار کرتے ہوئے دو دن گزر گئے۔ تیسرے دن اچانک وہ راستہ بھٹک کر ایک صحرا میں…
تحفے –
یہ ایک خوب صورت وادی کی کہانی ہے جو ایک پہاڑی کے دامن میں آباد تھی وہاں کے رنگین پھول بچوں سے باتیں کیا کرتے تھے۔ تمام بچے علم حاصل کرنے کے بہت شوقین تھے وہ آپ کو ہمیشہ صاف ستھرا رکھتے لیکن ان میں ایک نجمہ بڑی گندی تھی اسے کئی بار سمجھایا گیا لیکن اس نے کسی کی نصیحت پر بھی کان نہ دھرا۔ کبھی تم سے چلتی پھرتی اور باتیں کرتی ہوئی گندگی دیکھی ہے؟ ایک دن نجمہ کو چڑانے کے لیے جب اس کی سہیلیوں نے آپس میں یہ مشورہ کیا۔ تو ہو فورا غصہ میں آگئی اس نے اپنے میلے کچیلے بالوں کو اپنے گندے چہرے سے ہٹایا اور اپنی سہیلیوں کو کوسنا شروع کیا اس کی بہتی ناک اور پیلے رنگ کے بدنما دانت دیکھ کر اس کی ایک سہیلی کہنے لگی۔چلوبھاگو یہاں سے بو آرہی ہے سامنے یہ گندی لڑکی جو کھڑی ہے…
گدھے کے سر پر سینگ –
پرانے زمانے میں کچھ جانوروں نے ایک جلسہ کیا اور طے کیا کہ وہ دوسرے جانوروں سے الگ ہو کر اپنی سرکار بنائیں گے۔اس جلسے میں گدھا،شیر،ہاتھی اور خرگوش پیش پیش تھے۔انہوں نے اپنی ایک چھوٹی سی فوج بنا لی۔اس فوج کا کمانڈر ایک گدھے کو بنایا گیا۔وہ بہت عقل مند سمجھا جاتا تھا،اس لئے ہاتھی یا گینڈے کی بجائے اسے سرداری دی گئی۔اس گدھے کی ایک خاص بات یہ تھی کہ اس کے سر پر کان سے اوپر نوکیلے سینگ لگے ہوئے تھے۔جنگل کے تمام جانور گدھے کے نوکیلے سینگوں سے ڈرتے تھے۔گدھا،شیر کے بہت سارے کام کرتا تھا ۔اس کے شکار کیے ہوئے جانوروں کا بھاری بوجھ اُٹھا کر اس کے گھر پہنچایا کرتا تھا۔شیر اس سے بہت خوش رہتا تھا جس کی وجہ سے سارے جانوروں پر اس کا رعب تھا۔لیکن ان جانوروں میں زرافہ ایسا تھا جو گدھے کو خاطر میں نہیں لاتا تھا۔اسے اپنی طویل…
کسان اور پری –
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی گاؤں میں ایک کسان رہتا تھا، وہ بہت مہربان تھا۔ ایک دن وہ اپنے کھیتوں میں کام کرنے جا رہا تھا۔ کھیتوں کے راستے میں ایک کنواں پڑتا تھا، وہ بہت پرانا کنواں تھا۔ ایک دن اس نے کنویں سے کسی کی آواز سنی، کوئی مدد کے لئے پکار رہا تھا۔ یہ آواز کسی عورت کی تھی یہ کنواں ایک جادوگر کے قبضے میں تھا۔ کسان نے سوچا کہ شاید جادوگر عورت کا روپ بدل کر مجھے پھنسانے کی کو شش کر رہا ہے ۔ جب یہ آواز مسلسل تین دن تک آتی رہی تو کسان نے ایک دن کنویں میں جھانک کر دیکھا تو یہ ایک خوبصورت پری تھی جو زنجیروں میں جکڑی ہوئی تھی۔ اس پری نے کسان سے کہا کہ تم میری مدد کرو اور جب تک میں ان زنجیروں میں جکڑی رہوں گی تب تک میرا کوئی جادو نہیں…
بلاعنوان 😂
پرانے زمانے کے لوگ واقعی بڑے سادہ ھوتے تھے۔ نہ موبائل، نہ کیلنڈر، نہ گوگل! 😄🥀 ھمارے گاؤں کے میاں جی تاریخ معلوم کرنے کا بڑا انوکھا طریقہ رکھتے تھے۔ ہر رات چاند دیکھتے اور اپنے حجرے میں رکھے ایک لوٹے میں بکری کی ایک مینگنی ڈال دیتے۔ 🐐 جب کوئی تاریخ پوچھنے آتا تو میاں جی لوٹا الٹتے، مینگنیاں گنتے اور پورے اعتماد سے تاریخ بتا دیتے۔ 😎 ایک رات میاں جی کی بکری نہ جانے کیسے حجرے میں گھس گئی اور لوٹے کے اوپر ھی “خدمت” انجام دے گئی۔ 😂 اگلے دن ایک آدمی تاریخ پوچھنے آ گیا۔ میاں جی حجرے میں گئے، لوٹا الٹا تو آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں! 😳 لوٹا تو اوپر تک بھرا ھوا تھا! اب کیا کرتے؟بیٹھ گئے مینگنیاں گننے… 😅 آدھا گھنٹہ گزر گیا…پھر ایک گھنٹہ…😕 آخرکار پسینے میں شرابور باہر نکلے۔ 😓 آدمی نے بے صبری سے پوچھا: “میاں جی!…