بشیرا مراثی
کہتے ہیں بشیرا نام کا ایک مراثی اپنا گاؤں اور برادری چھوڑ کر شہر آ گیا۔ کام پیدائش سے ایک ہی آتا تھا، تو شہر میں بھی گلے میں ڈھول ڈالے، رنگین کپڑے پہنے، لمبے بال ہلاتے ڈھول بجاتا پھرتا تھا۔ قسمت کا دن آیا، کسی میوزک ڈائریکٹر نے اسے اسٹوڈیو میں رکھ لیا۔ وہاں سے ترقی کرتے کرتے پہلے اسسٹنٹ ڈائریکٹر بنا، پھر اپنا اسٹوڈیو بنا کر *”استاد بشیر خاں”* کے نام سے مشہور ہو گیا۔ وقت گزرتا گیا۔ استاد کی دھنیں عالمی سطح پر مقبول ہوئیں۔ فلم میں نام آ جانا کامیابی کی ضمانت تھا۔ نگار ایوارڈ سے تمغہ حسن کارکردگی تک، لالی سے بالی وڈ اور پھر ہالی وڈ تک کا سفر۔ آسکر کے لیے نامزدگی، امریکہ منتقلی، گوری میم سے شادی، آکسفورڈ سے اعزازی ڈاکٹریٹ، میلوں کے فیتے، فائیو اسٹار ہوٹلوں میں ڈبکیاں، کیسینو، برانڈز، “چوہدری بشیر اینڈ سنز” کے نام سے سپر اسٹورز کی چین۔…
اصل عظمت
ایک سلطنت کے بادشاہ کا دستور تھا کہ ہفتے میں ایک دن دربارِ عام منعقد کیا جاتا، جہاں امیر و غریب، تاجر و کسان، گورنر و سپاہی، ہر شخص کو اپنی فریاد بادشاہ کے سامنے پیش کرنے کی اجازت ہوتی۔ دربار میں کسی کی حیثیت اس کے لباس، دولت یا عہدے سے نہیں، بلکہ اس کی شکایت کی نوعیت سے پہچانی جاتی تھی۔ کم از کم بادشاہ کا دعویٰ یہی تھا کہ اس کے ہاں انصاف کے دروازے سب کے لیے یکساں کھلے ہیں۔ایک روز دربار لگا تو شکایت کرنے والوں کی ایک لمبی قطار بادشاہ کے سامنے موجود تھی۔ ایک طرف شہر کے بڑے تاجر کھڑے تھے، جن کے قافلے دور دراز ملکوں تک جاتے تھے۔ دوسری طرف ایک صوبے کا گورنر اپنے عہدے اور وقار کے ساتھ حاضر تھا۔ چند بڑے زمیندار بھی اپنی شکایات لے کر آئے تھے، اور ان سب کے درمیان ایک بوسیدہ لباس پہنے،…
فیصلہ 😂
کسی زمانے میں ایک بادشاہ تھا جس نے دس جنگلی کتے پالے ہوئے تھے, اس کے وزیروں میں سے جب بھی کوئی وزیر غلطی کرتا بادشاہ اسے ان کتوں کے آگے پھنکوا دیتا کتے اس کی بوٹیاں نوچ نوچ کر مار دیتے-ایک بار بادشاہ کے ایک خاص وزیر نے بادشاہ کو غلط مشورہ دے دیا جو بادشاہ کو بلکل پسند نہیں آیا اس نے فیصلہ سنایا کہ وزیر کو کتوں کے آگے پھینک دیا جائے-وزیر نے بادشاہ سے التجا کی کہ حضور میں نے دس سال آپ کی خدمت میں دن رات ایک کئے ہیں اور آپ ایک غلطی پر مجھے اتنی بڑی سزا دے رہے ہیں, آپ کا حکم سر آنکھوں پر لیکن میری بےلوث خدمت کے عوض مجھے آپ صرف دس دنوں کی مہلت دیں پھر بلاشبہ مجھے کتوں میں پھنکوا دیں-بادشاہ یہ سن کر دس دن کی مہلت دینے پر راضی ہو گیا-وزیر وہاں سے سیدھا رکھوالے…
بولنے والا مینڈک
ستر برس کا بوڑھا مچھلی کا شکار کر رہا تھا کہ اسے آواز سنائی دی:“مجھے نکالو” آس پاس کوئی نہ تھا۔ بوڑھا سمجھا کہ اس کے کان بجے ہیں، مگر پھر “مجھے نکالو” کی آواز آئی تو اس نے دیکھا کہ پانی میں ایک مینڈک سر نکالے بول رہا تھا۔ اُس نے پوچھا: “کیا تم ہی انسانی آواز میں بولے ہو؟” مینڈک نے جواب دیا: “ہاں! مجھے نکالو، پھر مجھے بوسہ دو، میں دنیا کی حسین ترین لڑکی بن جاؤں گی۔ لوگ تم پر رشک کیا کریں گے کہ تمہاری بیگم کس قدر خوبصورت ہے۔” بوڑھے نے مینڈک کو پانی سے نکالا اور اسے جیب میں ڈال کے نگاہیں بنسی کی ڈوری پر لگا دیں۔ مینڈک نے کہا: “کیا تم نے سنا نہیں کہ مجھے بوسہ دو تو میں دنیا کی حسین ترین لڑکی بن کر تمہاری بیوی کہلاؤں گی؟” بوڑھے نے تاریخ ساز الفاظ کہے!! “”نہیں بیٹا! اس عمر…
100 روپے
جب مجھے 23 سال کی عمر میں پہلی تنخواہ ملی تو میرے والد نے مجھ سے کہا:”ہر مہینے مجھے 100 بھیج دیا کرنا۔“ میں نے پوچھا: ”ابو، کیوں؟“ انہوں نے جواب دیا: ”تمہاری پرورش کے بدلے۔“ میں ہنس پڑا، لیکن وہ نہیں ہنسے۔ اس دن سے ہر مہینے کی 27 تاریخ کو، جب میری تنخواہ آتی، میں انہیں 100 بھیج دیتا۔ اور رقم بھیجتے وقت ٹرانزیکشن کے ریفرنس میں لکھتا: ”آپ کی پرورش کے بدلے۔“ اور ہر بار ان کا جواب ہوتا: ”وصول ہوگئے۔ اللہ تمہیں رزق عطا فرمائے۔“ وہ کبھی اس کے علاوہ ایک لفظ بھی نہیں کہتے تھے۔ میں نے غیر شادی شدہ ہونے کے زمانے میں بھی پیسے بھیجنا جاری رکھا۔ شادی کے مہینے میں بھی بھیجے، حالانکہ میرے سر پر قرضوں کا بوجھ تھا۔ میرے بیٹے کی پیدائش کے مہینے میں بھی بھیجے، جب میرے اکاؤنٹ میں صرف 140 باقی بچے تھے۔ میری بیوی پوچھتی: ”آپ…
ایک نیک دل انسان کی استغفار کی حکایت
ایک دفعہ ایک بہت بڑے بزرگ کو عراق کے ایک گاؤں میں رات ہو گئی۔ وہ ایک مسجد میں گیا، لیکن چوکیدار نے اسے وہاں سے نکال دیا۔ وہ مسجد کے باہر فرش پر سو گیا۔ چوکیدار نے اسے پاؤں سے پکڑا اور گھسیٹ کر مسجد سے دور کر دیا۔ ایک خدا ترس آدمی بزرگ کو اپنے گھر لے گیا۔ وہ شخص چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے ہر وقت استغفار کرتا رہتا تھا۔ صبح ہوئی تو بزرگ نے اس سے پوچھا: ’’کیا آپ کو استغفار پڑھنے کا کوئی فائدہ بھی ہوا ہے؟‘‘ اس نے جواب دیا: ’’جی ہاں! میری ہر دعا قبول ہوئی، سوائے اس دعا کے کہ میری ملاقات فلاح بزرگ سے ہو جائے۔‘‘ بزرگ نے مسکرا کر کہا: ’’میں ہی وہ بزرگ ہوں، اور دیکھو، اللہ تعالیٰ نے کس طرح مجھے گھسیٹ کر تمہارے پاس پہنچا دیا۔‘‘ سبق: استغفار کو اپنی زندگی کا معمول بنائیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ سے…
پل
دوسگے بھائیوں کے بڑے بڑے زرعی فارم ساتھ ساتھ واقع تھے دونوں چالیس سال سے ایک دوسرے سے اتفاق سے رہ رہے تھے اگر کسی کو اپنے کھیتوں کیلئے کسی مشینری یا کام کی زیادتی کی وجہ سے زرعی مزدوروں کی ضرورت پڑتی تو وہ بغیر پوچھے بلا ججھک ایک دوسرے کے وسائل استعمال کرتے تھے .لیکن ایک دن کرنا خدا کا یہ ہوا کہ ان میں کسی بات پر اختلاف ہو گیا اور کسی معمولی سی بات سے پیدا ہونے والا یہ اختلاف ایسا بڑھا کہ ان میں بول چال تک بند ہو گئی اور چند ہفتوں بعد ایک صبح ایسی بھی آ گئی کہ وہ ایک دوسرے کے سامنے کھڑے گالی گلوچ پر اتر آ ئے اور پھر چھوٹے بھائی نے غصے میں اپنا بلڈوزر نکالا اور شام تک اس نے دونوں گھروں کے درمیان ایک گہری اور لمبی کھاڑی کھود کر اس میں دریا کا پانی چھوڑ…
سنگِ ھیلیبو (منگولیا کی لوک کہانی)
کسی زمانے میں ایک شکاری رہا کرتا تھا، جس کا نام ھیلیبو تھا۔ وہ ہر وقت دوسروں کی مدد کرنے کے لئے تیار رہتا تھا۔ اپنے لئے کام کرنے کے بجائے وہ زیادہ تر پڑوسیوں کے کام میں مصروف رہتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ تمام لوگوں میں بہت زیادہ مقبول تھا۔ ایک دن ھیلیبو ایک پہاڑ میں شکار کرنے گیا۔ ایک گھنے جنگل کے کنارے اس نے ایک چھوٹا سا سفید سانپ دیکھا، جو ایک درخت کے نیچے کنڈلی مارے سو رہا تھا۔ وہ اس کی نیند میں خلل نہ ڈالنا چاہتا تھا، اس لئے پنجوں کے بل آہستہ آہستہ ادھر سے گزر گیا۔ ٹھیک اسی وقت ایک بھورے رنگ کا راج ہنس غوطہ لگا کر نیند میں مست سانپ کی طرف جھپٹا اور آناً فاناً اسے اپنے پنجوں میں دبا کر آسمان کی طرف اڑ گیا۔ چھوٹا سانپ جاگ گیا، اور دہشت زدہ ہو کر چلّانے لگا،…
ملک الموت
پرانے زمانے کی بات ہے، جب مسافروں کے قافلے کئی کئی ہفتوں کا سفر طے کرکے ایک شہر سے دوسرے شہر پہنچتے تھے، جب شاہراہوں پر گھوڑوں کی ٹاپیں سنائی دیتی تھیں، بیل گاڑیوں کے پہیے گرد اڑاتے تھے اور دور دراز علاقوں سے آنے والے تاجر اپنی تجارت کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کی خبریں بھی اپنے ہمراہ لاتے تھے۔ انہی دنوں ایک قدیم شاہراہ پر ایک مشہور سرائے ہوا کرتی تھی۔ اس کی بلند دیواروں کے اندر مسافروں کے لیے کمرے، گھوڑوں کے لیے اصطبل، ایک کشادہ صحن اور درمیان میں پتھر کا بنا ہوا حوض تھا۔ شام ڈھلتے ہی سرائے میں زندگی جاگ اٹھتی۔ کہیں چولہے پر دیگچی چڑھی ہوتی، کہیں تاجر اپنے مال کا حساب کر رہے ہوتے، کہیں مسافر اپنے سفر کی داستانیں سناتے اور کہیں اجنبی لوگ چند گھنٹوں کی شناسائی میں ایک دوسرے سے یوں گھل مل جاتے جیسے برسوں کے واقف ہوں۔…
ولی کامل
ایک ولی کامل پہاڑوں میں نکل گیا۔ پیچھے دیکھا ایک آدمی آ رہا تھا۔ آپ نے پوچھا:کیا چاہیے؟؟ آدمی نے کہا: غریب ہوں، کچھ عنایت فرمائیں۔ آپ نے پہاڑ کی طرف انگلی اٹھائی، پہاڑ سونے کا ہو گیا۔ آپ چل پڑے۔ دیکھا وہ آدمی پھر پیچھے آ رہا ہے۔ آپ نے پوچھا:اب کیا چاہیے؟ عرض کیا: تھوڑا ہے۔ آپ نے دوسرے پہاڑ کی طرف انگلی اٹھائی، وہ بھی سونے کا ہو گیا۔ اور اسی طرح تیسری اور پھر چوتھی طرف انگلی اٹھائی۔ چاروں طرف کے پہاڑ سونے کے ہو گئے۔ آپ چل پڑے۔ پیچھے دیکھا وہ آدمی پھر آ رہا تھا۔ آپ نے پوچھا: اب کیا چاہیے؟ 😜☝️اُس آدمی نے عرض کیا ۔۔۔۔۔ “انگلی”
سو روپے
💔 ’’ابا، یہ سو روپے رکھ لیں۔ پنشن مل جائے تو رکشہ کر کے گھر آ جائیے گا۔ مجھے دفتر سے دیر ہو رہی ہے۔‘‘ بیٹے نے باپ کو گاڑی سے اتارا، نوٹ اس کے ہاتھ میں تھمایا اور گاڑی آگے بڑھا دی۔ افضل سڑک کنارے کھڑا اسے جاتا دیکھتا رہا۔ گاڑی موڑ مڑ کر نظروں سے اوجھل ہو گئی تو اس نے مٹھی کھولی، سو روپے کا نوٹ سیدھا کیا اور پنشن کے کاغذات بغل میں دبا کر قطار کے آخری سرے پر جا کھڑا ہوا۔ قطار لمبی تھی، دھوپ تیز تھی۔ وہاں کھڑے تقریباً سبھی بوڑھے کسی نہ کسی کے باپ تھے۔ کسی کی کمر جھکی ہوئی تھی، کسی کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ ایک بوڑھا بار بار اپنی جیب سے عینک نکالتا اور کاغذات پر لکھی تحریریں پڑھنے کی کوشش کرتا، جبکہ دوسرا چھڑی پر ٹھوڑی رکھے زمین کو دیکھ رہا تھا۔ افضل نے بھی گھڑی دیکھی۔…
غلطی کا احساس
کسی زمانے میں ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ اقتدار کے نشے میں وہ اتنا سخت دل ہو چکا تھا کہ غریب اور کمزور لوگ اس کے نام سے بھی خوف کھاتے تھے۔ ایک درویش نے اس کے ظلم سے تنگ آ کر دعا کی: “اے اللہ! اسے اس کے اعمال کا انجام دکھا دے۔” کچھ عرصے بعد بادشاہ کے دل میں اچانک تبدیلی آ گئی۔ اس نے رعایا کو جمع کیا اور کہا: “میں نے بہت ظلم کیا، مگر اب مجھے اپنی غلطیوں کا احساس ہو گیا ہے۔ آج سے میں ظلم چھوڑ کر انصاف کروں گا۔” لوگوں کو اس کی بات پر یقین نہ آیا، مگر وقت نے ثابت کر دیا کہ بادشاہ واقعی بدل چکا تھا۔ اب کمزور کو حق ملتا اور ظالم کو سزا دی جاتی۔ سلطنت میں ایسا امن قائم ہوا کہ دشمن جانور بھی ایک ہی جگہ پانی پیتے دکھائی دیتے۔ ایک دن ایک قریبی…
عورت کی مکاری۔
ایک پیاسا مسافر سفر کرتے کرتے ایک کنویں کے پاس پہنچا، جہاں ایک عورت پانی بھر رہی تھی۔ مسافر نے اس سے پانی مانگا۔ عورت نے اسے پانی پلایا تو اس نے شکریے کے بعد پوچھا: ”اے نیک عورت! تم عورتوں کی مکاری کے بارے میں کیا جانتی ہو؟“ یہ سوال سنتے ہی عورت نے اچانک چیخنا چلانا شروع کر دیا۔ مسافر گھبرا گیا اور بولا: ”تم ایسا کیوں کر رہی ہو؟ میں نے تو صرف ایک سوال پوچھا ہے!“ عورت نے جواب دیا: ”میں شور مچا رہی ہوں تاکہ گاؤں والے یہاں جمع ہو جائیں اور تمہیں سزا دیں، کیونکہ تم نے مجھے تکلیف پہنچائی ہے۔“ یہ سن کر مسافر کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ وہ ہاتھ جوڑ کر بولا: ”مجھے معاف کر دو! تم تو بہت نیک، شریف اور رحم دل خاتون معلوم ہوتی ہو۔ خدا کے لیے مجھے مصیبت میں نہ ڈالو!“ عورت نے اس کی بات…
دانا مینڈک
جنگل کے ایک پرانے کنویں میں ایک مینڈک رہتا تھا۔ کنواں گہرا تھا، اس کی دیواروں پر کائی جمی رہتی، اور دن کے بیشتر حصے میں اس کے اندر نیم تاریکی چھائی رہتی۔ مینڈک نے اپنی زندگی اسی کنویں میں گزاری تھی۔ باہر کی دنیا اس کے لیے چند آوازوں، پانی پر پڑتے سایوں اور کبھی کبھار جھک کر پانی پینے والے جانوروں تک محدود تھی، مگر اس کی گفتگو سننے والا یوں سمجھتا جیسے اس نے زمانے کے نشیب و فراز اپنی آنکھوں سے دیکھ رکھے ہوں۔ اسے ہر معاملے میں بولنے کا شوق تھا، اور اتفاق یہ تھا کہ سننے والے بھی اسے کوئی نہ کوئی مسئلہ سنا ہی دیتے تھے۔ ایک روز ایک لومڑی کنویں پر پانی پینے آئی۔ اس کے چہرے پر پریشانی تھی۔ جنگل میں اس کا کاروبار پہلے جیسا نہیں چل رہا تھا؛ شکار ڈھونڈنے میں محنت زیادہ اور فائدہ کم ہونے لگا تھا۔…
عقل مند نوجوان
کسی زمانے میں ایک بڑے شہر میں بہرام نام کا ایک سوداگر رہتا تھا۔ اس کی دکان پر سونے چاندی کے زیورات، قیمتی کپڑے اور نایاب اشیا فروخت ہوتی تھیں۔ شہر کے لوگ اسے ایک کامیاب تاجر سمجھتے تھے، لیکن حقیقت یہ تھی کہ بہرام جتنا امیر تھا، اس سے کہیں زیادہ مکار تھا۔ وہ لوگوں کو دھوکا دینے کے لیے کبھی میٹھی زبان استعمال کرتا، کبھی جھوٹی قسمیں کھاتا اور کبھی اپنی دولت کا رعب جھاڑتا۔ اس کا اصول تھا کہ اگر کسی کی سادگی سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہو تو موقع ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہیے۔ اسی شہر میں سلیم نام کا ایک نوجوان رہتا تھا۔ وہ غریب ضرور تھا، لیکن ذہین اور حاضر جواب تھا۔ اس کے والد ایک معمولی بڑھئی تھے، جنہوں نے مرتے وقت اسے ایک نصیحت کی تھی: ’’بیٹا! دنیا میں دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو اپنی محنت سے…
بلاعنوان
جنگل کی حکومت کا خزانہ مدت سے خالی پڑا تھا۔ شاہی محل کی مرمت، درباریوں کے وظیفے اور حاکموں کے اللّے تللّے بدستور جاری تھے، مگر جب خزانے میں کمی کا سوال اٹھتا تو وزیرِ مالیات کی نگاہ ہمیشہ رعایا کی جیب پر جا ٹھہرتی۔ جنگل کے ٹریفک محکمے میں بھی تین چار اہلکار تعینات تھے جن کی تنخواہیں اتنی قلیل تھیں کہ مہینے کے آخری دنوں میں ان کے گھروں کے چولہے بھی سرکاری خزانے کی طرح ٹھنڈے پڑ جاتے۔ چنانچہ وہ کبھی کسی خرگوش سے راستہ کھولنے کے نام پر، کبھی کسی گدھے سے گاڑی کھڑی کرنے کے بہانے اور کبھی کسی ہرن سے کاغذات کی کمی نکال کر چند سکے وصول کر لیتے۔ یہ سب کچھ عرصے سے چل رہا تھا، یہاں تک کہ ایک روز محکمۂ ٹریفک میں ایک نئی لومڑی بطور افسر مقرر ہوئی۔ لومڑی اپنی نسل کی طرح چالاک تھی؛ آنکھوں میں ایسی چمک…
موت بانٹنے والا مسیحا
یہ کہانی ہے انگلینڈ کے چھوٹے سے قصبے ہائیڈ کی، جہاں تقریباً 30 ہزار لوگ رہتے تھے۔ وہاں ایک ڈاکٹر تھا، ڈاکٹر ہیرالڈ شپ مین۔ ڈاکٹر شپ مین زیادہ تر بوڑھی، اکیلی رہنے والی عورتوں کو نشانہ بناتا تھا۔ وہ ان کے گھروں میں خود جاتا، گھنٹوں ان کی باتیں سنتا، ان کا دل ہلکا کرتا۔ لوگوں کو لگتا تھا یہ تو فرشتہ ہے! یہاں تک کہ کچھ مریضوں نے اپنے گھر کی چابیاں بھی اسے دے رکھی تھیں۔ لیکن اس ہمدردی کے پیچھے ایک خوفناک منصوبہ تھا۔ وہ معلومات لیتا تھا — کون کب اکیلا ہوتا ہے، کس کے پاس کتنی جائیداد ہے، رشتہ دار کہاں رہتے ہیں۔ اور جب اسے تسلی ہو جاتی، تو وہ دوا کی نہیں، موت کی خوراک دیتا تھا — Diamorphine کا جان لیوا ٹیکہ! چونکہ مرنے والی 80 سال سے اوپر کی ہوتی تھیں، کسی کو شک نہیں ہوتا تھا۔ اور سب سے…
ٹوٹی ہوئی بیساکھی
جون کی تپتی ہوئی گرمی میں ایک لنگڑا شخص اپنی بیساکھی کے سہارے سڑک کے کنارے چلا جارہا تھا چلتے چلتے اچانک اس کی بیساکھی ٹوٹ گئی۔ وہ شخص ایک طرف بیٹھ گیا اور کسی گاڑی کا انتظار کرنے لگا تاکہ اس میں بیٹھ کر اپنی منزل تک پہنچ سکے۔ کافی دیر کے بعد ایک بگھی وہاں سے گزری۔ اس نے ہاتھ ہلا کر اُسے رکھنے کا اشارہ کیا، مگر وہ نہ رکی اور آگے بڑھتی گئی ۔ تھکن سے اس کو نیند آ گئی اور وہ وہیں زمین پر سو گیا۔ اسی اثنا میں ہلکی ہلکی بوندا باندی ہونے لگی مگر وہ اس سے بے خبر سوتا ہی رہا۔ جب اس کی آنکھ کھلی تو اس نے دیکھا کہ ایک کوٹ اس کے جسم پر پڑا ہوا ہے ۔ قریب ہی ایک لڑکا ستلیوں اور لکڑی کے ٹکڑوں کی مدد سے اس کی بیساکھی کی مرمت کرنے کی کوشش…
جادو
ایک پاکستانی اور ایک بھارتی دو دوست تھے۔ ایک دن دونوں گھومتے ہوئے ایک دکان کے پاس جا پہنچے تو بھارتی نے پاکستانی سے کہا کہ تمہیں اپنا کمال دکھاتا ہوں۔ یہ کہہ کر وہ دکاندار کی نظروں میں آئے بغیر دکان سے تین چاکلیٹ چُھپا لے گیا اور باہر آ گیا۔ دونوں دوست آگے چل پڑے تو بھارتی نے فخر سے کہا کہ دیکھا میرا کمال؟ اس مہارت سے چاکلیٹ چُرائے کہ دکاندار نے دیکھا تک نہیں۔ یہ سن کر پاکستانی بولا کہ یہ تو کچھ بھی نہیں، کیا تم اس سے بہتر میرا کمال دیکھنا چاہو گے؟ بھارتی راضی ہو گیا تو پاکستانی نے اسے واپس دکان پر چلنے کو کہا۔جب دونوں دکان پر پہنچے تو پاکستانی نے دکاندار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کیا تم میرا جادو دیکھنا پسند کرو گے؟ دکاندار مان گیا تو پاکستانی نے اس سے کہا کہ مجھے ایک چاکلیٹ دو۔ جب…
پراسرار صندوق
کسی زمانے میں ایک خوبصورت گاؤں میں حامد نامی ایک تاجر رہتا تھا۔ وہ بہت امیر تھا، لیکن اس کی لالچ کی کوئی حد نہیں تھی۔ اس کے پاس دولت کے ڈھیر تھے، پھر بھی وہ ہر وقت مزید دولت حاصل کرنے کے خواب دیکھتا رہتا تھا۔ گاؤں کے غریب لوگ اس سے مدد مانگتے تو وہ انہیں خالی ہاتھ واپس بھیج دیتا۔ اسی گاؤں میں کریم نامی ایک غریب لکڑہارا بھی رہتا تھا۔ وہ محنت مزدوری کرکے اپنے بچوں کا پیٹ پالتا اور ہمیشہ اللہ کا شکر ادا کرتا تھا۔ ایک دن حامد اپنے پرانے گودام کی صفائی کروا رہا تھا کہ اسے لکڑی کے ڈھیر کے نیچے ایک عجیب و غریب صندوق ملا۔ صندوق پر زنگ آلود تالا لگا تھا اور اس پر لکھا تھا: ”اس صندوق میں موجود دولت صرف اسی شخص کو ملے گی جو اپنی لالچ پر قابو پا سکے گا۔“ حامد یہ عبارت پڑھ…



















