ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک حافظ صاحب نے بڑے بھاؤ تاؤ کے بعد ایک بکرا خریدا۔ راستے میں تین ٹھگوں کی ان پر نظر پڑ گئی۔ تینوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ یہ بکرا کسی طریقے سے ہتھیا لیا جائے۔ یہ طے پایا کہ اگر کسی طرح حافظ جی کو یقین دلا دیا جائے کہ یہ بکرا نہیں بلکہ کتا ہے، تو وہ خود ہی اسے لات مار کر بھگا دیں گے۔
چنانچہ منصوبے کے مطابق، راستے میں پہلا ٹھگ بڑی مطمئن شکل بنا کر ان سے ملتا ہے اور نہایت ادب سے سلام و دعا کے بعد پوچھتا ہے: “محترم حافظ جی! خیر تو ہے، یہ کتا کہاں اٹھا کر لے جا رہے ہیں؟”
حافظ جی چونک اٹھے اور گرج کر بولے: “ناہنجار کہیں کے! کیا یہ تمہیں کتا دکھائی دیتا ہے؟ یہ بکرا ہے، جسے میں نے ابھی بکرا منڈی سے خریدا ہے۔”
ٹھگ نے حیران ہونے کی اداکاری کرتے ہوئے کہا: “حافظ جی! قسم سے آپ کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے۔ یہ یقیناً کتا ہے۔ خیر، جیسی آپ کی مرضی!”
دوسری گلی میں انھیں دوسرا ٹھگ ملتا ہے، جس نے بڑی وجیہہ شکل و صورت بنا رکھی تھی۔ وہ حافظ صاحب کو دیکھتے ہی آواز لگاتا ہے: “استغفراللہ حافظ صاحب! یہ کیا، آپ کتے کو اٹھائے پھر رہے ہیں؟ آپ کو پتہ بھی ہے کہ یہ کتنا نجس جانور ہے؟”
اب کی بار حافظ جی کو اچھا بھلا جھٹکا لگا۔ وہ اس کی تردید تو کرتے ہیں، مگر تھوڑے تذبذب کا شکار ہو جاتے ہیں۔ وہ مسلسل یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ اب دوسرے بندے نے بھی اسے کتا ہی کہا ہے، تو ضرور کچھ گڑبڑ ہے۔
وہ پریشان قدموں کے ساتھ کچھ ہی دور چل کر جاتے ہیں تو منصوبے کے مطابق ان کی ملاقات تیسرے ٹھگ سے ہو جاتی ہے۔ وہ باقاعدہ جبے قبے میں ملبوس اور ہاتھ میں عصا لیے کھڑا ہوتا ہے۔ وہ انتہائی کراہت آمیز لہجے میں حافظ جی سے کہتا ہے: “یہ کیا حرکت ہے؟ ایک ملعون جانور کو گود میں اٹھائے پھرتے ہو! شرم نہیں آتی؟ حافظ ہو کر یہ حرکت… چھی چھی چھی!”
یہ سن کر حافظ صاحب نے بے ساختہ بکرے کو دور پھینک دیا اور اس بزرگ نما ٹھگ سے کہنے لگے: “نہیں حضرت! اصل میں کسی ٹھگ نے مجھے لوٹ لیا ہے اور کتے کو بکرا بنا کر بیچ دیا ہے۔” پھر وہ خالی ہاتھ بڑبڑاتے ہوئے وہاں سے چل دیے۔
یوں ان ٹھگوں نے ایک سیدھے سادے حافظ صاحب کو باآسانی لوٹ لیا۔ سچ تو یہ ہے کہ دنیا سے ٹھگ کبھی ختم نہیں ہوتے، بس ان کے ٹھگنے کے طریقے بدل جاتے ہیں۔
