Author Archives: NZ's Collection

کہتے ہیں ایک بدو شہری بابو کا مہمان بنا۔ میزبان نے اس کی خاطر مدارت کے لیے مرغی ذبح کی۔ جب کھانا تیار ہوا تو گھر کے تمام افراد دسترخوان پر آ گئے۔ میزبان کے گھر میں چھ افراد تھے: دو میاں بیوی، ان کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں۔ میزبان نے سوچا کیوں نہ بدو کا مذاق اڑایا جائے۔ اس نے کہا:“آپ ہمارے مہمان ہیں، اس لیے مرغی کی تقسیم آپ ہی کریں۔” بدو نے عاجزی سے کہا، “مجھے تقسیم کا زیادہ تجربہ تو نہیں، البتہ اگر آپ کا اصرار ہے تو میں کر دیتا ہوں۔” اس نے مرغی کا سر کاٹا اور میزبان کو دیتے ہوئے کہا،“آپ گھر کے سربراہ ہیں، تو سربراہی کا تاج، یعنی مرغی کا سر، آپ کو مبارک ہو!” پھر اس نے پچھلا حصہ کاٹا اور میزبان کی بیوی کی طرف بڑھاتے ہوئے بولا،“یہ خاتونِ خانہ کے لیے۔” پھر مرغی کے دونوں بازو کاٹ…

Read more

قدیم زمانے کی بات ہے کہ ہندوستان کے ایک گھنے اور پُرفضائو جنگل میں ایک نہایت طاقتور، درندہ صفت اور ظالم شیر رہتا تھا، جس کا نام “چترنگ” تھا۔ چترنگ اتنا وحشی اور خونخوار تھا کہ وہ دن بھر بے دریغ شکار کرتا اور جنگل کے دوسرے جانوروں کو اپنے رعب سے خوفزدہ رکھتا تھا۔ جنگل کے تمام جانور، ہرن سے لے کر خرگوش تک، شیر کے ظلم سے تنگ آ کر پریشان ہو گئے۔ ان کی بستیوں میں کوئی امن و سکون باقی نہ رہا تھا۔ آخر کار انہوں نے ایک بڑی اور خطرناک مجلس منعقد کی۔ ہاتھی، گینڈا، بھیڑیا، لومڑی، سانبھر اور یہاں تک کہ چھوٹا سا بے بس خرگوش بھی اس اجلاس میں شریک ہوا۔ مجلس میں فیصلہ ہوا کہ جنگل کے تمام جانور مل کر شیر چترنگ کے پاس جائیں گے اور اسے امن کی درخواست پیش کریں گے۔ ان کا منصوبہ یہ تھا کہ ہر…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک جنگل میں بندروں کی حکومت قائم ہو گئی۔ بندروں کا سردار نہایت خوش اخلاق اور زبردست مقرر تھا۔ اس نے تمام جانوروں سے وعدہ کیا کہ وہ جنگل کو “پیرس” جیسا خوبصورت بنا دے گا اور ہر طرف پھلوں کے باغات لگا دے گا۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ بندر سردار محنت کے بجائے آسان راستہ اختیار کرنے کا عادی تھا۔ اس نے خود پھل اگانے کے بجائے ایک دوسرے طاقتور جنگل کے گدھوں سے دوستی کر لی۔ گدھوں نے اسے پیشکش کی:“تمہیں محنت کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ ہم تمہیں تیار پھل دیتے رہیں گے، بس بدلے میں اس جنگل کی لکڑی اور زمین ہمارے نام کر دو اور ہم سے قرض لے لو۔” بندر نے یہ سوچے بغیر کہ قرض واپس کیسے ہوگا، بہت زیادہ قرض لے لیا۔ اس میں سے کچھ رقم جنگل کی سجاوٹ اور دکھاوے کے منصوبوں پر…

Read more

‏یہ سن 1996 کی بات ہےجب لاہور کے اک تھیٹر میں کام کرنے والے میاں بیوی والدین بننے والے تھےاک دن روٹین کے چیک اپ کیلئے ہسپتال گئےتو ان کی خوشی کی انتہاء نہ رہی جب انہیں بتایا گیا کہ ان کے ہاں جڑواں بیٹوں کی ولادت ہوگیخیر سے بچے ہوگئےدلچسپ بات یہ کہ بچے ہمشکل بھی تھےوہ دونوں وقت کے ساتھ بڑے ہوئےتو انہیں یہ جان کر بہت صدمہ ہوا کہ ان کا اک بچہ گونگا ہے علاج کیلئے بہت گھومےمگر اتنا جان پائے کہ بچہ قابل علاج تو ہے مگر اس کیلئے امریکہ جانا پڑے گادونوں نے دن رات محنت کیمگراتنے پیسے جمع کر پائے کہ والدین میں سے صرف اک ہی بچے کے ساتھ ہی جایا جا سکتا تھاماں تھی، بیمار بچے کو کیسےخود سے جدا کر کے علاج کروا سکتی تھیآخر ماں اور بچے کا ویزہ لگوایا گیااک دن وہ امریکہ روانہ ہوگئےخاتون ائیرپورٹ سے بچے…

Read more

کرکٹ میچ چل رھا تھا😅😅😅شوہر انہماک سے ٹیلی وژن دیکھ رھا تھا۔۔۔۔ بیگم:¶ یہ کون ہے؟”شوہر:” ڈیرن سیمی “بیگم:¶ اتنا کوجا کیوں لیا, کوئی ڈھنگ کی شکل والا بندہ نہیں ملا انہیں؟”شوہر:” کرکٹ کھلانی تھی رشتہ نہیں دینا تھا “بیگم:¶ ارے واہ، ایک منٹ میں دوسری وکٹ بھی لے لی، وہ بھی اسی انداز میں”شوہر:” ایکشن ریپلے ہے”بیگم:¶ لگتا ہے آج پاکستان جیت جائے گا، جیتا تو کھیر کھلاؤں گی آپ کو”شوہر:” میچ کراچی کنگز اور پشاور زلمی کے درمیان ہے “بیگم:¶ یہ اب ایمپائر نے ہیلی کاپٹر کیوں منگوا لیا ہے، کیا کسی کھلاڑی کو ہسپتال لے جانا ہے؟”شوہر:” فری ہٹ کا اشارہ ہے”بیگم:¶ اوہ اچھا فری ہٹ، مطلب تماشائیوں نے ٹکٹ نہیں خریدے، مفتے میں؟اور یہ اب ایمپائر Hi کسے بول رہا ہے؟”شوہر:” یہ Bye کا اشارہ ہے”بیگم:¶ میچ ختم ہو گیا؟”شوہر:“نہیں”بیگم:¶ کتنے رنز چاہیئے میچ جیتنے کے لیے؟”شوہر:” ہممم۔۔۔ 25 گیندوں پر 50″بیگم:¶ ارے یہ تو بہت…

Read more

ریاضى میں کمزور دو دوست انٹرویو کیلئے تیار بیٹھے تھے،پہلے کا نمبر آیا تو وه اندر داخل ہُوا…. آفیسر: آپ ٹرین سے سفر کر رہے ہوں اور اچانک آپ کو گرمى لگے تو کیا کرو گے؟ امیدوار: میں کھڑکى کھول دُوں گا۔ آفیسر : بہت خُوب، اَب بتاؤ کہ اگر وه کھڑکى 1.5 اسکوئر میٹر ہے اور ڈبے کا رقبہ 12×90 فٹ ہے اور ٹرین 80 کلومیٹر فى گھنٹہ کى رفتار سے جنوب کى طرف جا رہى ہو اور ہوا جنوب سے 5 میل فى سیکنڈ کی رفتار سے ڈبے میں داخل ہو رہى ہو تو پُورا ڈبه ٹھنڈا ہونے میں کتنا وقت درکار ہو گا؟ امیدوار نے کوشش کى مگر جواب نہ دے سکا اور وه فیل ہو گیا۔ باہر آ کر اُس نے وہ سوال اپنے دوست کو بتایااب اس کى بارى آئی۔۔۔ آفیسر : آپ ٹرین میں سفرکر رہے ہوں، اچانک آپ کو گرمى لگے تو کیا…

Read more

چوہدری کے بیٹے کی شادی تھی چوہدری صاحب نے ایک انوکھا فیصلہ کیا کہ پورے گاؤں کو اس خوشی میں شامل کیا جائے اس کے لیے انہوں نے اعلان کروا دیا کہ بیٹے کی شادی کی خوشی میں پنڈ کے ہر گھر کو ایک جانور تحفے میں دیا جائے گا۔ جس گھر میں مرد کا راج ہو گا وہاں ایک گھوڑا دیا جائے گا اور جس گھر میں عورت کا راج ہوگا وہاں ایک مرغی دی جائیگی۔ گامے کو جانوروں کی ترسیل کا کام سونپ دیا گیا۔ پہلے ہی گھر میں گاما دونوں میاں بیوی کو سامنے بٹھا کر پوچھتا ہے کہ گھر کے فیصلے کون کرتا ہے؟ مرد اپنی مونچھ کو تاؤ دیتے ہوئے بولا، “میں اور کون۔” گامے نے جواب دیا کہ جناب سارے گھوڑے کسی نا کسی کے ہو گئے ہیں اب صرف تین باقی ہیں؛ ایک کالا، ایک سرخ اور ایک چینا۔ جو تمھیں پسند ہے…

Read more

عرب کے ایک گاؤں میں ایک بوڑھے کسان کے پاس ایک بہت ہی خوبصورت مرغ تھا۔ اس کی چونچ سنہری، پر شوخ رنگوں سے بھرپور اور بانگ اتنی سریلی تھی کہ سننے والے دنگ رہ جاتے تھے۔ لیکن حقیقت میں اس مرغ میں سب سے بڑی خوبی اس کی غیر معمولی عقل اور ہوشیاری تھی۔ یہ مرغ اپنے مالک سے بے حد وفادار تھا اور اسے کسی بھی قسم کی مصیبت سے بچانے کے لیے ہر وقت چوکس رہتا تھا۔ دوسری طرف اسی گاؤں کے قریب واقع جنگل میں ایک بڑی ہی چالاک اور مکار لومڑی رہتی تھی۔ وہ بہت دنوں سے اس مرغ کو پکڑ کر کھانے کا منصوبہ بنا رہی تھی۔ لیکن مرغ کی عقل مندی کی وجہ سے وہ بار بار ناکام ہو جاتی تھی۔ ایک دن لومڑی نے اپنے دوست گیدڑ سے مشورہ کیا، “دوست! اس مرغ کو پکڑنے کا کوئی ایسا طریقہ بتاؤ جس سے…

Read more

حضرت سلیمان علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے وہ سلطنت عطا کی تھی جیسی کسی اور کو نہیں دی گئی۔ ہوا ان کے تابع تھی، وہ صبح کا سفر ایک مہینے کی مسافت کا کرتے اور شام کا سفر بھی ایک مہینے کا۔ ان کے لیے تانبے کا چشمہ بہایا گیا۔ جنات ان کے لیے اونچے اونچے محل اور بڑے بڑے لگن بناتے تھے۔ پرندوں کی بولیاں انہیں سکھائی گئی تھیں اور ان کی فوجوں میں جنات، انسان، پرندے اور تمام جانور شامل تھے۔ ایک مرتبہ حضرت سلیمان علیہ السلام اپنے پورے لشکر کے ساتھ ایک وادی سے گزر رہے تھے۔ لشکر اتنا بڑا تھا کہ اس کا کوئی شمار نہ تھا، ہوا میں پرندے اڑ رہے تھے، زمین پر انسان اور جنات چل رہے تھے، اور سب کچھ اللہ کے حکم سے ان کے تابع تھا۔ جب وہ وادی نمل (چیونٹیوں کی وادی) کے قریب پہنچے تو اچانک حضرت…

Read more

ایک پرانا اور طوفانی سمندر تھا، جہاں ایک جہاز بے سمت لہروں کے درمیان سفر کر رہا تھا۔ اس جہاز پر ایک شخص تھا جسے دنیا پانورژ (Panurge) کے نام سے جانتی تھی۔ وہ ایک ذہین مگر طنز پسند مزاج کا آدمی تھا، جو ہر چیز کو سوال کی نظر سے دیکھتا تھا۔ اسی جہاز پر ایک مالدار تاجر بھی سوار تھا، جس کا نام ڈنڈینو (Dindenault) تھا۔ اس کے ساتھ بھیڑوں کا ایک بڑا ریوڑ تھا، جنہیں وہ اگلی بندرگاہ پر منافع کے لیے بیچنے جا رہا تھا۔ ڈنڈینو کے چہرے پر وہی سکون تھا جو صرف اس شخص کو ہوتا ہے جس کے دل میں انسان نہیں، صرف منافع رہ جائے۔ پانورژ اور ڈنڈینو کے درمیان کسی بات پر تلخ کلامی ہو گئی۔ بات لفظوں سے بڑھ کر انا تک جا پہنچی۔ ڈنڈینو نے اسے حقارت سے دیکھا، جیسے وہ کوئی بے وقعت چیز ہو۔ یہی لمحہ تھا…

Read more

جاپان کے ایک چھوٹے سے پہاڑی گاؤں میں ایک کسان اپنی بوڑھی ماں کے ساتھ رہتا تھا۔ وہ کسان بڑا ہی نیک اور فرمانبردار بیٹا تھا۔ اس کی ماں بہت بوڑھی ہو چکی تھی، اس کے بال سفید ہو گئے تھے اور اس کی کمر جھک گئی تھی، لیکن اس کی آنکھوں میں وہ چمک باقی تھی جو صدیوں کی حکمت دیتی ہے۔ ایک دن گاؤں میں ہنگامہ مچ گیا۔ شہزادے شینوبو نے ایک نیا حکم جاری کیا تھا: “تمام بوڑھوں کو شہر سے باہر اونچے پہاڑ پر چھوڑ آؤ۔ وہ معاشرے پر بوجھ ہیں۔” یہ سن کر پورے گاؤں میں چیخ و پکار مچ گئی۔ بوڑھے رونے لگے، جوان پریشان ہو گئے، لیکن شہزادے کے حکم کی مخالفت کرنے کی جرات کسی میں نہ تھی۔ کسان کا دل ٹوٹ رہا تھا۔ وہ اپنی ماں سے بے انتہا محبت کرتا تھا۔ اس کی ماں نے ہی اسے پالا تھا جب…

Read more

صدیوں پہلے جاپان کے ایک گھنے جنگل میں تین بہت گہرے دوست رہتے تھے۔ ایک لومڑ، ایک بندر اور ایک خرگوش۔ یہ تینوں بہت مختلف تھے، لیکن ان کی دوستی بے مثال تھی۔ لومڑ بہت چالاک تھا۔ وہ جنگل کے ہر راستے کو جانتا تھا اور شکار کرنے میں ماہر تھا۔ بندر بہت پھرتیلا تھا۔ وہ درختوں پر چڑھ کر میٹھے میٹھے پھل لاتا تھا۔ اور خرگوش۔ خرگوش بہت کمزور تھا، لیکن اس کا دل سب سے بڑا تھا۔ وہ ہمیشہ اپنے دوستوں کے کام آتا، چاہے اسے کتنی ہی مشکل کیوں نہ ہو۔ ان کی دوستی کا اصول تھا — جب کسی کو کھانے کی ضرورت ہوتی، باقی دو اس کی مدد کرتے۔ جب کسی کو پناہ کی ضرورت ہوتی، باقی دو اس کے لیے جگہ بناتے۔ وہ ہنسی خوشی زندگی بسر کر رہے تھے۔ ایک دن چاند پر رہنے والے بوڑھے نے زمین کی طرف دیکھا۔ اس کی…

Read more

ایک بادشاہ تھا جس کا بچپن کا ایک دوست تھا۔ وہ دوست ہمیشہ یہ کہتا تھا: “جو ہوتا ہے، اچھے کے لیے ہوتا ہے۔” بادشاہ کو یہ بات کبھی اچھی نہ لگتی، لیکن دوست اپنی بات پر ڈٹا رہتا۔ ایک دن دونوں شکار کو گئے۔ دوست نے بادشاہ کے لیے بندوق میں گولی بھری۔ لیکن غلطی سے بندوق میں کوئی خرابی ہو گئی۔ جب بادشاہ نے گولی چلائی تو اس کا انگوٹھا اُڑ گیا۔ بادشاہ درد سے چِلایا۔ دوست نے فوراً کہا: “جو ہوتا ہے، اچھے کے لیے ہوتا ہے۔” یہ سن کر بادشاہ کو شدید غصہ آیا۔ اس نے حکم دے دیا کہ اس دوست کو قید خانے میں ڈال دیا جائے۔ ایک سال گزر گیا۔ بادشاہ پھر شکار کو نکلا۔ اس بار وہ بہت دور نکل گیا اور ایک ایسے جنگل میں جا پہنچا جہاں آدم خور جنگلی قبیلہ رہتا تھا۔ انہوں نے بادشاہ کو پکڑ لیا اور…

Read more

فارس کے شہنشاہ نوشیرواں عادل کے پاس ایک بہترین باز تھا، جسے اس نے اپنے اکلوتی شہزادے کو دیا تھا۔ شہزادہ جوان تھا اور اسے شکار کا بڑا شوق تھا۔ ایک دن وہ باز لے کر شکار کو نکلا۔ راستے میں اس نے ایک ہرن دیکھا۔ اس نے باز کو اڑایا، لیکن باز واپس آ گیا۔ اس نے دوبارہ کوشش کی، لیکن باز پھر واپس آ گیا۔ شہزادے کو بہت غصہ آیا اور اس نے باز کو زمین پر پٹخ دیا۔ باز مر گیا۔ شہزادہ شکار بھول کر واپس محل لوٹ آیا۔ شام کو جب شہنشاہ کو پتا چلا تو وہ بہت غمگین ہوا۔ اس نے شہزادے کو بلایا اور کہا، “بیٹا! باز تو چلا گیا، لیکن تم نے اسے بغیر وجہ مار ڈالا۔” شہزادے نے کہا، “والد جان! وہ میرا کہنا نہیں مان رہا تھا۔” شہنشاہ نے کہا، “بیٹا! باز کو مارنا آسان تھا، لیکن اس کی حکمت کو…

Read more

بغداد کے ایک گھنے بازار میں ایک غریب آدمی رہتا تھا۔ اس کا نام حاجی تھا۔ وہ اتنا غریب تھا کہ کبھی کبھی اسے دو وقت کی روٹی بھی میسر نہیں ہوتی تھی۔ وہ ایک چھوٹے سے کمرے میں رہتا تھا جس کی دیواریں گرنے کو تھیں اور چھت سے بارش ٹپکتی تھی۔ ایک رات حاجی نے اللہ سے دعا کی، “اے میرے رب! میں نے اپنی پوری زندگی محنت کی ہے، لیکن میرے پاس آج بھی ایک پیسہ نہیں ہے۔ مجھے کوئی راستہ دکھا دے۔” اس رات اس نے خواب دیکھا۔ خواب میں ایک نورانی شخصیت نے اس سے کہا، “حاجی! تمہارا خزانہ مصر کے شہر قاہرہ میں ایک خاص جگہ دفن ہے۔ وہاں جاؤ اور اپنی قسمت آزماؤ۔” صبح جب حاجی بیدار ہوا تو اس نے سوچا کہ یہ محض ایک خواب تھا، لیکن اس کے دل میں ایک عجیب سی کشش پیدا ہوئی۔ وہ بار بار اس…

Read more

جاپان میں کسی جگہ ایک میاں بیوی بڑی خوش حال زندگی بسر کر رہے تھے، لیکن بدقسمتی سے ان کی کوئی اولاد نہ تھی۔ ایک روز وہ عبادت گاہ میں گئے اور گڑگڑا کر دعا کی۔ “اے اللہ، اپنی رحمتوں سے ہمیں ایک بچہ عطا فرما، چاہے انگلی کے ایک پور کے برابر ہو۔” کچھ عرصے بعد ان کے ہاں ایک خوب صورت لڑکا پیدا ہوا۔ لیکن اس کا قد بالغ انسان کی انگلی سے بھی کم تھا، اس کے باوجود اس کے والدین نے اسے ناز و نعم سے پالا جیسے وہ ان کی آنکھ کا تارا ہو۔ لڑکا انتہائی ذہین اور اچھے اخلاق کا تھا، مگر اس کے قد میں اضافہ نہ ہوا۔ اڑوس پڑوس کے لوگ بھی اس سے محبت پیار سے پیش آتے اور اسے سن بوشی کے نام سے پکارتے۔ “سن” ایک پیمانہ ہے تقریباً تین سینٹی میٹر کے برابر اور “بوشی” کے معنی پروہت…

Read more

وقت کی گرد میں لپٹا ہوا وہ دور،جب مصر کی سرزمین پر ایک ایسا بادشاہ حکمران تھا جس کے غرور کی بلندیوں کو دیکھ کر آسمان بھی حیران رہ جاتا تھا۔وہ خود کو رب کہتا تھااور لوگ، خوف کے سائے میں، اس کے سامنے سجدہ ریز ہو جاتے تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب زمین پر طاقت ہی سچ تھی، اور کمزوری جرم۔ لیکن قدرت کا ایک عجیب اصول ہےوہ ہمیشہ سب سے بڑی طاقت کو سب سے کمزور ہاتھوں سے شکست دیتی ہے۔ فرعون کے محلاتسنگِ مرمر کے ستون، سونے سے مزین دیواریں، چمکتے ہوئے فانوس، اور غلاموں کی قطاریںظاہر میں سب کچھ شان و شوکت کا مظہر تھا، مگر باطن میں خوف، ظلم اور بے یقینی کا راج تھا۔ ایک پیشگوئی نے اس کی نیندیں چھین لی تھیں: “بنی اسرائیل میں ایک بچہ پیدا ہوگا، جو تیری سلطنت کو ختم کر دے گا۔” یہ جملہ اس کے لیے…

Read more

وہ زمانہجب زمین پر اندھیروں کا راج تھا،اور آسمان کی طرف اٹھنے والی نگاہیں کم ہو چکی تھیں مگر انہی اندھیروں میں ایک چراغ تھاحضرت ابراہیم علیہ السلام۔ وہ صرف ایک نبی نہیں تھے،وہ تلاش تھےوہ سوال تھےوہ یقین تک پہنچنے کا سفر تھے۔ شام کا وقت تھاسورج سمندر کے کنارے ڈوب رہا تھالہریں آہستہ آہستہ ساحل کو چھو رہی تھیں حضرت ابراہیمؑ تنہا کھڑے تھےخاموشسوچ میں ڈوبے ہوئے ان کی نظر ایک عجیب منظر پر پڑی ایک مردہ جسمجسے مچھلیاں کھا رہی تھیںپھر پرندے آئےپھر درندے ایک ہی جسم کے ٹکڑےمختلف مخلوقات کے پیٹ میں جا رہے تھے یہ منظر عام انسان کو شاید نظرانداز کر دیتالیکن ایک نبی کی نگاہ میں یہ سوال بن گیا۔ ایک سوال، جو ایمان کے اندر سے اٹھا حضرت ابراہیمؑ کے دل میں ایک کیفیت پیدا ہوئی یہ شک نہیں تھایہ انکار نہیں تھایہ صرف ایک خواہش تھی “میں دیکھنا چاہتا ہوں” انہوں…

Read more

وہ زمانہجب زمین پر ایک ایسی سلطنت قائم تھیجس کی مثال نہ پہلے کبھی دیکھی گئی، نہ بعد میں ہوا غلام تھیجنات تابع تھےپرندے لشکر کا حصہ تھےاور انسان، ایک عظیم بادشاہ کے حکم کے پابندیہ سلطنت تھیحضرت سلیمان علیہ السلام کی حضرت سلیمانؑ صرف بادشاہ نہیں تھےوہ نبی بھی تھے ان کے حکم پر:ہوا تیز رفتاری سے چلتیجنات محلات بناتےسمندر سے موتی نکالے جاتےپرندے پیغام رسانی کرتے یہ وہ طاقت تھیجس پر انسان تو کیاجنات بھی حیران تھے جنات، جو انسانوں سے زیادہ طاقتور سمجھے جاتے تھےاپنی قوت پر نازاں تھے وہ سمجھتے تھے کہ: ہم سب کچھ جانتے ہیں ہم ہر راز تک پہنچ سکتے ہیں مگر ایک چیز تھیجو ان کے علم سے باہر تھی“غیب” حضرت سلیمانؑ نے جنات کو ایک عظیم کام پر لگا رکھا تھا۔ بیت المقدس کی تعمیر یہ کام آسان نہ تھامحنت طلب بھی تھا، اور مسلسل بھیجنات یہ کام کر رہے تھےلیکن…

Read more

دور دور کے زمانے کی بات ہے کہ ایک بادشاہ تھا جو اپنی ظلم و جور کی وجہ سے مشہور تھا۔ اس کی رعایا اس سے بے حد خوفزدہ تھی۔ لوگ اس کی موت کی دعائیں مانگتے تھے اور اس کے تخت کے الٹ جانے کی آرزو رکھتے تھے۔ مظلوموں کی آہیں آسمان تک پہنچ رہی تھیں، لیکن بادشاہ اپنی روش پر ڈٹا ہوا تھا۔ پھر ایک دن ایسا ہوا کہ پوری دنیہ حیران رہ گئی۔ اس ظالم بادشاہ نے اعلان کر دیا کہ وہ اپنی سابقہ عادات کو ترک کر رہا ہے اور اب وہ کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔ اس نے وعدہ کیا کہ اس کی حکومت اب انصاف اور مساوات پر قائم ہوگی۔ لوگوں کو یقین نہ آیا، لیکن جب کئی مہینے گزر گئے اور بادشاہ اپنے وعدے پر قائم رہا تو رعایا نے اسے داد دینا شروع کر دی۔ لوگ اب اسے برکتوں سے یاد…

Read more

20/2130
NZ's Corner