🔥🏔️ ¡La codicia no conoce límites! 😂💁
Un hombre caminaba hacia las montañas cuando un pobre hombre lo siguió. 🚶♂️🤔 El pobre hombre dijo:“¡Majestad! Por favor, deme algo.” 😄🙏 El hombre señaló la montaña 👆✨ ¡La montaña se convirtió en oro! 😲 El pobre hombre estaba feliz, pero después de unos pasos volvió a caer. 😕 El hombre preguntó enojado:“¿Qué quieres ahora?” 😡 El pobre hombre respondió:“Un poco más…” 😅🙏 La segunda montaña también era de oro,luego una tercera,y luego una cuarta.¡Montañas de oro por todas partes! 😳💰 Unos pasos más adelante vio 👁️ ¡Al mismo hombre detrás! 😱 Preguntó enojado: “¿Qué quieres ahora?” 😠🤬 El pobre hombre sonrió y dijo: «¡Majestad, ahora dale también ese dedo!» 😂🤣 Lección:No hay riqueza ni poder en el mundo que puedan satisfacer la avaricia de nadie. 🙄💯
El astuto zorro y los cinco bueyes
A orillas del río Suyan se extendía un inmenso bosque. En él crecían diversos tipos de árboles, lianas e innumerables plantas y arbustos. Todo tipo de animales habitaban el bosque, desde animales hasta bestias. Había aves y reptiles. Entre los animales se encontraban vacas azules, búfalos salvajes, sambares, ciervos, leopardos, chakas, cabras montesas, etc. Además, vivían allí cinco toros. Los cinco eran de colores diferentes, pero eran hermanos. Vivían juntos, lo cual era necesario para ellos, ya que todas las bestias del bosque los vigilaban. Cuando alguna intentaba atacarlos, los cinco se defendían y los ahuyentaban con sus afilados cuernos. Al alimentarse de diversas plantas, hojas y hierbas del bosque, estos cinco toros gozaban de excelente salud. Todos los admiraban por su piel brillante, sus nueve cuernos y sus hermosos cuerpos. Todos creían en su fuerza y poder. Cuando sus enemigos los veían, se les hacía agua la boca. Finalmente,…
مکار لومڑی اور پانچ بیل
دریائے سویان کے کنارے ایک بہت بڑا جنگل تھا۔ اس جنگل میں قسم قسم کے درخت بیلیں اور بے شمار پودے اور جھاڑیاں تھیں ۔ جنگل میں ہر قسم کے جانور بھی رہتے تھے۔ ان میں چرندے بھی تھے اور درندے بھی ۔ اڑنے والے یعنی پرندے بھی تھے اور رینگنے والے بھی چرندوں میں نیل گائے، جنگلی بھینسے ، سانبھر، ہرن ، چیتے ، چکارے ، جنگلی بکریاں وغیرہ شامل تھے۔ ، ، ان کے علاوہ یہاں پانچ بیل بھی رہتے تھے۔ پانچوں کے رنگ الگ تھے، لیکن تھے پانچوں آپس میں بھائی بھائی۔ یہ سب مل جل کر رہتے تھے۔ یہ ان کے لیے ضروری بھی تھا، کیوں کہ جنگل کے تمام درندوں کی ان پر نظر تھی۔ یہ جب بھی ان پر حملے کی نیت کرتے پانچوں ڈٹ کر مقابلہ کرتے اور اپنے تیز نکیلے سینگوں سے انھیں مار بھگاتے۔ جنگل میں قسم قسم کے پودے ،…
🔥🏔️ لالچ کی کوئی حد نہیں! 😂💁
ایک آدمی پہاڑوں کی طرف جا رہا تھا کہ ایک غریب اس کے پیچھے آ گیا۔ 🚶♂️🤔 غریب نے کہا:“حضور! کچھ عنایت فرمائیں۔” 😄🙏 آدمی نے پہاڑ کی طرف انگلی اٹھائی 👆✨ پہاڑ سونے کا ھو گیا! 😲 غریب خوش ھوا، مگر چند قدم بعد پھر پیچھے آ گیا۔ 😕 آدمی نے غصے سے پوچھا:“اب کیا چاہیے؟” 😡 کہنے لگا:“تھوڑا اور…” 😅🙏 دوسرا پہاڑ بھی سونے کا،پھر تیسراپھر چوتھاچاروں طرف سونے ھی سونے کے پہاڑ! 😳💰 چند قدم بعد دیکھا 👁️وھی آدمی پھر پیچھے! 😱 غصے سے پوچھا:“اب کیا چاہیے؟!” 😠🤬 غریب نے مُسکرا کر کہا: “حضور، اب وہ انگلی بھی دے دیں!” 😂🤣 سبق:دُنیا میں اِتنی دولت یا طاقت ھے ھی نہیں جو کسی اِنسان کی لالچ کو پورا کر سکے۔ 🙄💯
بادشاہ اور درویش
ایک، بادشاہ، کو، اپنی، طاقت، اور، دولت، پر، بہت، ناز، تھا۔ ایک، دن، اس، نے، اپنے، دربار، میں، ایک، بوڑھے، درویش، کو، بلایا، اور، غرور، سے، پوچھا: “بتاؤ، دنیا، میں، مجھ، سے، زیادہ، طاقتور، کون، ہے؟” درویش، نے، مسکرا، کر، کہا: “وہ، شخص، جو، تمہیں، تمہاری، حقیقت، یاد، دلا، سکے۔” بادشاہ، ہنس، پڑا، اور، بولا: “میری، سلطنت، میں، ایسا، کون، ہے، جو، میرے، سامنے، یہ، جرات، کرے؟” درویش، نے، آسمان، کی، طرف، دیکھا، اور، کہا: “وقت۔” بادشاہ، نے، حیران، ہو، کر، پوچھا: “وقت؟” درویش، بولا: “ہاں، وقت۔ یہ، نہ، تمہاری، اجازت، لیتا، ہے، نہ، تمہاری، دولت، سے، ڈرتا، ہے۔ آج، تم، تخت، پر، بیٹھے، ہو، کل، کوئی، اور، بیٹھا، ہوگا۔ آج، لوگ، تمہارے، سامنے، سر، جھکاتے، ہیں، کل، شاید، تمہارا، نام، بھی، کسی، کو، یاد، نہ، رہے۔” بادشاہ، کچھ، دیر، خاموش، رہا، مگر، پھر، غرور، سے، بولا: “لیکن، میں، اپنی، یاد، ہمیشہ، زندہ، رکھ، سکتا، ہوں۔” درویش، نے، جواب، دیا:…
تین ٹھگ
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک حافظ صاحب نے بڑے بھاؤ تاؤ کے بعد ایک بکرا خریدا۔ راستے میں تین ٹھگوں کی ان پر نظر پڑ گئی۔ تینوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ یہ بکرا کسی طریقے سے ہتھیا لیا جائے۔ یہ طے پایا کہ اگر کسی طرح حافظ جی کو یقین دلا دیا جائے کہ یہ بکرا نہیں بلکہ کتا ہے، تو وہ خود ہی اسے لات مار کر بھگا دیں گے۔چنانچہ منصوبے کے مطابق، راستے میں پہلا ٹھگ بڑی مطمئن شکل بنا کر ان سے ملتا ہے اور نہایت ادب سے سلام و دعا کے بعد پوچھتا ہے: “محترم حافظ جی! خیر تو ہے، یہ کتا کہاں اٹھا کر لے جا رہے ہیں؟”حافظ جی چونک اٹھے اور گرج کر بولے: “ناہنجار کہیں کے! کیا یہ تمہیں کتا دکھائی دیتا ہے؟ یہ بکرا ہے، جسے میں نے ابھی بکرا منڈی سے خریدا ہے۔”ٹھگ نے حیران ہونے کی…
بلاعنوان 😂
لڑکا:میں آپ کی بیٹی سے شادی کرنا چاہتا ھوں۔ 😍🥀 لڑکی کا والد:اچھا! پہلے یہ بتاؤ، تم مہینے میں کتنا کماتے ھو؟ 🤔💵 لڑکا:جی، تقریباً 30 ہزار روپے۔ 😎💁♂️ لڑکی کے والد:واہ! یعنی گزارا ھو جاتا ھے؟ 😕😒 لڑکا:جی بالکل، بس کبھی مہینہ لمبا ھو جاتا ھے اور تنخواہ چھوٹی پڑ جاتی ھے۔ 😂🤏 لڑکی کے والد:کیا تُمہیں پتہ ھے میں اپنی بیٹی کو 25 ہزار ماہانہ جیب خرچ دیتا ھوں؟ 😏🤔 لڑکا:جی، وہ ملا کر ھی 30 ہزار بتایا ھے۔ 😁🤣
La bondad nunca se desperdicia.
Érase una vez un comerciante honesto y honrado llamado Zahid. Viajaba solo en su camello. Durante el viaje, algo extraño le sucedía. Adondequiera que iba, veía un hermoso pájaro azul volando sobre su cabeza.Al principio, Zahid pensó que era normal, pero la verdadera historia comenzó cuando llegó a un desierto desolado y abrasador. Debido al intenso calor, Zahid se quedó sin agua.Tenía mucha sed y se sentía mareado. De repente, vio que el mismo pájaro azul sobrevolaba un viejo pozo. Zahid, feliz, llegó al pozo y colgó un cubo con una cuerda para sacar agua. Pero cuando sacó el cubo, en lugar de agua, estaba lleno de brillantes monedas de oro. Zahid pensó que las monedas de oro no podrían calmar su sed en aquel desierto abrasador. Volvió a echar todo ese oro al pozo y oró: «¡Oh, Alá! No necesito riquezas, solo necesito agua para salvar mi vida». Volvió…
La bendición del sustento halal y el sueño del rey
Se cuenta que en una zona suburbana de Khorasan vivía un campesino muy pobre, pero muy bueno y piadoso, llamado Sabir. Sabir trabajaba arduamente en los campos ajenos durante todo el día y con el pequeño salario que recibía al anochecer, proveía de alimento lícito para su familia. Su principio era muy claro: “Recibiré el salario correspondiente a mi trabajo”. Si algún amo intentaba darle incluso un centavo más de lo acordado, Sabir se negaba a aceptar el dinero extra y decía: “Solo tengo derecho al salario correspondiente a mi trabajo”. Una noche, el rey tuvo un sueño extraño… Vio que todos los tesoros de su palacio se habían convertido en polvo, pero desde un rincón de la ciudad una línea luminosa se elevaba hacia el cielo. Al amanecer, el rey ordenó a sus ministros que buscaran ese lugar luminoso. Los sirvientes reales buscaron y dieron con la cabaña de…
La esencia de la justicia
Un campesino llegó a la corte del sultán Saladino Ayubi en una carreta tirada por un burro. Dijo: «¡Sultán del Tiempo! Anoche cargué grano en una carreta y fui al mercado. Era de noche, las tiendas estaban cerradas, pero un comerciante estaba allí sentado. Le di el grano y me dijo: “Toma el dinero mañana”. Hoy, cuando fui a cobrar, me di cuenta de que me había engañado». El sultán llamó al comerciante. El comerciante dijo: «Este campesino miente. Ni yo tomé el grano ni hay testigos». Ninguno de los dos tenía testigos. El sultán reflexionó un momento. Entonces, para saber la verdad, el sultán cerró los ojos del burro y le dijo al campesino: «Conduce este burro y llévalo al mismo lugar donde descargaste el grano». El campesino tomó el burro. El burro se dirigió directamente frente a la tienda del comerciante y se detuvo. El sultán miró al…
اصل عدل
ایک کسان گدھا گاڑی پر سلطان صلاح الدین ایوبی کی عدالت آیا۔ اس نے کہا: “سلطانِ وقت! کل شام میں گدھا گاڑی پر اناج لاد کر غلہ منڈی گیا۔ رات ہو چکی تھی، دکانیں بند تھیں لیکن ایک بیوپاری بیٹھا تھا۔ میں نے اناج اسے دے دیا تو اس نے کہا ‘کل رقم لے جانا’۔ آج میں رقم لینے گیا تو یہ صاف مکر گیا۔” سلطان نے بیوپاری کو بلوایا۔ بیوپاری بولا: “یہ کسان جھوٹ بول رہا ہے۔ نہ میں نے اناج لیا، نہ کوئی گواہ ہے۔” دونوں کے پاس کوئی گواہ نہیں تھا۔ سلطان نے تھوڑی دیر سوچا۔ پھر حقیقت جاننے کے لیے سلطان نے *گدھے کی آنکھیں بند کر دیں* اور کسان سے کہا: “اس گدھے کو چلاؤ اور اسی جگہ لے جاؤ جہاں تم نے اناج اتارا تھا۔” کسان گدھے کو لے کر چلا۔ گدھا سیدھا اسی بیوپاری کی دکان کے سامنے جا کر رک گیا۔ سلطان…
حلال روزی کی برکت اور بادشاہ کا خواب
کہتے ہیں خراسان کے ایک مضافاتی علاقے میں صابر نام کا ایک نہایت غریب، مگر انتہائی نیک اور پرہیزگار کسان رہتا تھا۔ صابر سارا دن دوسروں کے کھیتوں میں محنت مزدوری کرتا اور شام کو جو تھوڑی بہت اجرت ملتی، اسی سے اپنے گھر والوں کے لیے حلال رزق کا انتظام کرتا۔ اس کا اصول بہت واضح تھا: “جتنی محنت کی ہے، اتنی ہی اجرت لوں گا۔” اگر کبھی کوئی مالک خوش ہو کر طے شدہ اجرت سے ایک پیسہ بھی زیادہ دینے کی کوشش کرتا تو صابر وہ اضافی رقم لینے سے انکار کر دیتا اور کہتا: “میں نے جتنی محنت کی ہے، میں صرف اتنی ہی اجرت کا حق دار ہوں۔” پھر ایک رات بادشاہ نے ایک عجیب خواب دیکھا… اس نے دیکھا کہ اس کے محل کے تمام خزانے مٹی میں تبدیل ہو گئے ہیں، لیکن شہر کے ایک کونے سے ایک نورانی لکیر آسمان کی طرف…
نیکی کبھی ضائع نہیں جاتی
پُرانے زمانے کی بات ہے، ایک سچے اور ایماندار تاجر کا نام زاہد تھا۔وہ اپنے اونٹ پر اکیلا سفر کر رہا تھا۔ اس سفر میں اس کے ساتھ ایک عجیب بات ہو رہی تھی۔ وہ جہاں بھی جاتا، ایک خوبصورت نیلے رنگ کا پرندہ اس کے سر پر اڑتا ہوا دکھائی دیتا۔ زاہد نے پہلے تو اسے عام بات سمجھا، لیکن اصلی کہانی تب شروع ہوئی جب وہ ایک ویران اور گرم صحرا میں پہنچا۔شدید گرمی کی وجہ سے زاہد کا پانی ختم ہو گیا۔ پیاس سے اس کا برا حال تھا اور چکر آ رہے تھے۔ اتنے میں اس نے دیکھا کہ وہی نیلا پرندہ ایک پُرانے کنویں کے اوپر چکر کاٹ رہا ہے۔ زاہد خوش ہو کر کنویں کے پاس پہنچا اور پانی نکالنے کے لیے رسی سے ڈول نیچے لٹکایا۔ لیکن جب ڈول باہر آیا تو اس میں پانی کی جگہ چمکتے ہوئے سونے کے سکے بھرے…
بارات کی عجیب شرط
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک شخص کی شادی ساتھ والے گاؤں میں طے پائی کہ فلاں دن دولہا بارات لے کر آئے اور اپنی دلہن لے جائے، لیکن ساتھ میں لڑکی والوں نے ایک شرط بھی رکھ دی کہ دولہا اپنے ساتھ جو بارات لائے گا اس میں ایک سو نوجوان ہونے چاہیں اور کوئی بھی بوڑھا شامل نہیں ہونا چاہیے … میرے پیارو! یہ عجیب شرط سن کر دولہے والے بڑے حیران ہوئے، پر پھر بھی شرط منظور کر لی۔ لیکن دل ہی دل میں وہ پریشان بھی تھے کہ آخر ایسا کیا ماجرا ہے اور کیوں بوڑھوں کو ساتھ لانے سے منع کیا گیا ہے۔ دولہےکے گاؤں کے نوجوان خوش تھے کہ اس بارات میں کوئی بڑا بوڑھا نہیں جائے گا اور وہ مزے لوٹتے اور ہنستے کھیلتے بارات لے کر جائیں گئے۔ دوسری جانب گاؤں کے بڑے دانا بوڑھے پریشان ہو رہے تھے کہ آیا…
30 سالگرہ
ایک میاں بیوی کی شادی کو 30 سال ہو چکے تھے۔ ان کی سالگرہ کی صبح، بیوی نے حسبِ معمول ایک تازہ ناشتے کا رول (bread roll) بیک کیا، بالکل ویسے ہی جیسے وہ اس سے پہلے اننت بار کر چکی تھی۔ یہ ان چھوٹی چھوٹی روایتوں میں سے ایک بن گیا تھا جو سالوں کے دوران چپکے سے کسی رشتے کا حصہ بن جاتی ہیں۔ناشتے کے وقت، اس نے رول کو درمیان سے کاٹا اور دونوں ٹکڑوں پر مکھن لگایا۔ ہمیشہ کی طرح، اس نے اپنے شوہر کو گرم، سنہری اوپر والا حصہ (top half) دینا چاہا۔پھر اس کا ہاتھ رک گیا۔اس نے سوچا، “یہ ہماری 30ویں سالگرہ ہے، اور بس ایک بار میں اوپر والا حصہ اپنے لیے چاہتی ہوں۔ میں سالوں سے یہی چاہتی رہی ہوں۔ میں نے اس خاندان کی دیکھ بھال، اپنے بیٹوں کی پرورش، گھر چلانے اور اپنی مشترکہ زندگی میں خود کو جھونکنے…
بولنے والا مینڈک 😂
ستر سال کا بابا مچھلی پکڑ رہا تھا کہ اچانک پانی سے آواز آئی… 😳🐸 “مجھے باہر نکالو!” بابا نے چونک کر اِدھر اُدھر دیکھا کوئی نظر نہ آیا۔ چند لمحوں بعد پھر وہی آواز آئی: “ارے بابا! مجھے باہر نکالو!” 😄 اس بار بابا نے پانی میں جھانکا تو ایک مینڈک اسے گھور رہا تھا۔ بابا نے حیرت سے پوچھا: “اوئے! کیا واقعی تم بول رہے ہو؟” 🤔 مینڈک بولا: “ہاں! بس مجھے باہر نکالو، پھر ایک بوسہ دو، میں فوراً دنیا کی حسین ترین لڑکی بن جاؤں گی، اور تمہاری بیوی بن جاؤں گی!” 😍✨ بابا نے آرام سے مینڈک کو اٹھایا… اور سیدھا اپنی جیب میں ڈال لیا۔ 😅 مینڈک نے غصے سے کہا: “ارے! تم نے میری بات سنی نہیں؟ میں حسین لڑکی بن جاؤں گی!” 😳 بابا نے عینک سیدھی کی، مسکرایا اور ایسا جواب دیا کہ مینڈک بھی خاموش ہو گیا… 😂👇 “بیٹا… میری…
ایک عجیب و سبق آموز واقعہ
بیان کیا جاتا ہے کہ خلیفہ مامون الرشید نے ایک نصرانی شخص کو پانچ سو درہم کے مطالبے میں قید کرنے کا حکم دیا اور اس کے ساتھ ایک سوار کو روانہ کیا۔ راستے میں سوار کی نظر ایک شخص پر پڑی جس کے سر پر گھاس کا ایک بڑا گٹھا تھا اور وہ ایک طرف جھکا ہوا تھا۔ سوار نے آگے بڑھ کر اس گٹھے کو سیدھا کیا، لیکن وہ دوسری طرف جھک گیا۔ اس پر سوار کی زبان سے بے اختیار نکلا: «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ» یعنی: “اللہ بلند و عظیم کے سوا نہ کسی میں طاقت ہے اور نہ قوت۔” نصرانی نے یہ کلمہ سنا تو اس کی عظمت کا اظہار کرنے لگا۔ سوار نے حیرت سے پوچھا: “جب تم اس کلمے کی عظمت کو تسلیم کرتے ہو اور اسے اتنا بزرگ سمجھتے ہو، تو پھر اللہ تعالیٰ پر ایمان کیوں نہیں لاتے؟”…
جب چاروں طرف راستے بند ہو جائیں… تو اللہ پر بھروسہ رکھیں
ایک مرتبہ ایک حاملہ ہرن کو اپنے بچے کی پیدائش کا وقت قریب محسوس ہوا تو وہ دریا کے کنارے موجود جنگل کی طرف چلی گئی، تاکہ کسی محفوظ جگہ اپنے بچے کو جنم دے سکے۔ مگر اچانک حالات نے ایسا رخ اختیار کیا کہ ہر طرف خطرات ہی خطرات دکھائی دینے لگے۔ آسمان پر بجلی کڑکی اور جنگل میں آگ بھڑک اٹھی۔ آگ تیزی سے پھیلنے لگی تو ہرن گھبرا کر ادھر اُدھر دیکھنے لگی۔ ایک طرف شکاری بندوق لیے نشانہ باندھے کھڑا تھا، دوسری طرف ایک خوفناک شیر موجود تھا، جبکہ پیچھے جنگل کی آگ پھیل رہی تھی اور سامنے دریا تھا۔ ہرن کے لیے کوئی راستہ باقی نہیں تھا۔ اگر آگ کی طرف جاتی تو جل جاتی…دریا کی طرف جاتی تو ڈوبنے کا خطرہ تھا…شکاری اسے مار سکتا تھا…اور شیر اسے اپنا نوالہ بنا سکتا تھا۔ وہ سوچنے لگی: “میں کس طرف جاؤں؟ ہر طرف موت کھڑی…
گڈریے کی بانسری اور بادشاہ کا راز.. ایک دلچسپ کہانی
پرانے زمانے کی بات ہے، فارس میں شاہ عباس اول کی حکومت تھی۔ اسے شکار کا بہت شوق تھا۔ ایک دن شکار کے دوران وہ اپنے ساتھیوں سے بچھڑ کر جنگل میں بہت دور نکل گیا۔ اچانک اسے بانسری کی آواز سنائی دی۔ آواز کا پیچھا کرتے ہوئے وہ ایک درخت کے نیچے پہنچا، جہاں ایک گڈریا لڑکا بڑے سکون سے بانسری بجا رہا تھا۔ بادشاہ نے اس سے باتیں کیں۔ لڑکے نے ہر سوال کا جواب نہایت ادب اور سمجھ داری سے دیا۔ بادشاہ اس کی عقل و تمیز سے بہت متاثر ہوا۔ جب لڑکے کو معلوم ہوا کہ جس شخص سے وہ بات کر رہا تھا وہ خود بادشاہ ہے تو وہ گھبرا گیا۔ بادشاہ نے اسے تسلی دی اور اپنے ساتھ محل لے آیا۔ اس نے لڑکے کے لیے بہترین استاد مقرر کیے۔ لڑکا پڑھ لکھ کر محمد علی بے کہلایا اور اپنی ایمانداری اور قابلیت کی…
کنویں کا مینڈک
کہتے ہیں، ایک دفعہ ایک سمندر کا مینڈک کنویں میں گر گیا تھا۔ وہاں اسکی ملاقات کنویں کے مینڈکوں سے ہوئی اور وہ ان سے کافی گھل مل گئی اور محض کچھ لمحوں میں انکی دوستی ہو گئی۔۔۔ کنویں کا مینڈک اس سے پوچھتا ہے کہ یار یہ “سمندر” آخر کتنا بڑا ہوتا ہے؟ سمندر کا مینڈک جواب دیتا ہے کہ سمندر بہت زیادہ بڑا ہوتا ہے….. یہ سن کر وہ کنویں کا مینڈک کنویں کا ایک لمبا چکر لگاتا ہے کہ کیا اتنا بڑا ہوتا ہے؟ سمندر کا مینڈک جواب دیتا ہے کہ نہیں اس سے بھی بڑا اور بہت زیادہ بڑا ہوتا ہے۔ اس پر وہ کنویں کا مینڈک کنویں میں پہلے سے “بہت بڑا” چکر لگا دیتا ہے اور پوچھتا ہے کہ کیا اتنا بڑا ہوتا ہے؟ سمندر کا مینڈک جواب دیتا ہے کہ نہیں اس سے بھی زیادہ بڑا ہوتا ہے…. یہ سن کر وہ کنویں…