کسی کو راز دار نہ بناؤ
ایک زمانے کا ذکر ہے کہ ایک بادشاہ اپنی فیاضی اور انصاف پسندی کی وجہ سے دور دور تک مشہور تھا۔ ایک روز وہ شاہی لشکر کے ساتھ شکار کی غرض سے ایک سرسبز و شاداب جنگل کی طرف روانہ ہوا۔ جب وہ جنگل کے قریب پہنچے تو ہر شخص اپنے اپنے شکار میں مشغول ہو گیا۔اس دوران بادشاہ نے اپنے خاص وزیر کو اپنے پاس بلایا اور کہا:“تم میرے ساتھ اپنا گھوڑا دوڑاؤ، کیونکہ مدت سے میری یہ آرزو رہی ہے کہ میں یہ جانوں کہ تمہارا گھوڑا زیادہ تیز دوڑتا ہے یا میرا؟”بادشاه کے حکم کے مطابق دونوں نے اپنے گھوڑوں کو ایڑ لگائی۔ وہ دوڑتے دوڑتے لشکر اور باقی لوگوں سے بہت دور نکل گئے۔ جب وہ کافی فاصلے پر چلے گئے تو بادشاہ نے اپنے گھوڑے کی لگام کھینچی اور وزیر سے مخاطب ہو کر کہا:“اب اس سفر کو یہیں ختم کرو۔ میرے دل میں…
ڈاکوؤں کی توبہ
ایک شہر میں چند خطرناک ڈاکو آئے۔ وہ چوری اور لوٹ مار کے ذریعے لوگوں کو نقصان پہنچاتے تھے۔ جب انہیں گرفتار ہونے کا خوف لاحق ہوا تو ان کے سردار نے ایک چال سوچی۔ اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا: ”ہم سب درویشوں کا روپ دھار لیتے ہیں۔ زاہدانہ لباس پہنیں گے، ہاتھوں میں تسبیح رکھیں گے اور ہر وقت اللہ کا ذکر کرتے رہیں گے۔ اس طرح کسی کو ہم پر شک نہیں ہوگا۔“ چنانچہ سب نے درویشوں کا لباس پہن لیا اور شہر کی ایک مہمان سرائے میں جا ٹھہرے۔ وہ دن رات تسبیح پڑھنے کا دکھاوا کرتے۔ کچھ ہی دنوں میں ان کی شہرت پھیل گئی کہ شہر میں چند نیک اور پرہیزگار درویش آئے ہیں۔ یہ خبر بادشاہ تک پہنچی تو وہ بھی ان کی زیارت کے لیے آیا اور انہیں اپنے محل میں دعوت دی۔ بادشاہ کا اکلوتا بیٹا عرصے سے فالج کے مرض…
مرغے میاں کو اپنی آواز سے عشق تھا۔ صبح کی پہلی کرن ابھی افق پر نمودار بھی نہ ہوتی کہ وہ چھت پر چڑھ کر گردن اکڑاتا، سینہ پھلاتا، آنکھیں بند کرتا اور اپنی پوری قوت سے بانگ دینا شروع کر دیتا۔ اس کے نزدیک یہ محض اذان نہیں تھی، ایک فن تھا، ایک عبادت تھی، ایک ایسا اعلان تھا جسے وہ چاہتا تھا کہ دنیا کے آخری کنارے تک سنا جائے۔ مگر افسوس کہ اس کے فن کے سب سے بڑے ناقد اس کے اپنے گھر والے تھے۔ ابھی پہلی بانگ مکمل نہ ہوتی کہ کبھی مالک کی چپل فضا میں اڑتی، کبھی مالکن کی ڈانٹ آسمان سر پر اٹھا لیتی، اور کبھی مالک غصے میں باہر نکل کر اسے یوں بھگاتا جیسے اس نے کوئی ناقابلِ معافی جرم کر دیا ہو۔ مرغے میاں دل ہی دل میں کڑھتے، “آخر میری آواز میں خرابی کیا ہے؟ دنیا میں گلوکاروں…
محنت اور اخلاص
شہر کے ایک مصروف بازار میں ایک شخص کی چھوٹی سی دکان تھی۔ دکان بہت بڑی نہیں تھی، نہ اس پر کوئی شاندار بورڈ لگا تھا اور نہ ہی اندر کوئی غیر معمولی سجاوٹ۔ مگر عجیب بات یہ تھی کہ صبح دکان کھلتے ہی گاہک آنا شروع ہوجاتے اور شام تک رش کم ہونے کا نام نہ لیتا۔ کوئی اس کے ہاتھ کی بنی ہوئی چیز لینے آتا، کوئی پرانا گاہک کسی نئے شخص کو ساتھ لے آتا اور کوئی صرف اس لیے آتا کہ اسے معلوم تھا یہاں چیز اچھی ملے گی اور دکاندار سے بات کرتے ہوئے عزت بھی ملے گی۔ اس دکاندار نے یہ مقام ایک دن میں حاصل نہیں کیا تھا۔ برسوں سے وہ اپنے کام میں لگا ہوا تھا۔ چیز کا معیار اچھا رکھتا، گاہک سے خوش اخلاقی سے پیش آتا، کسی کو دھوکا نہ دیتا، معمولی نفع پر بھی خوش ہوجاتا اور اگر کسی…
ولی کامل اور لالچی آدمی
ایک مرتبہ ایک بزرگ پہاڑوں کی طرف سفر کر رہے تھے۔کچھ دور جانے کے بعد انہوں نے محسوس کیا کہ ایک آدمی مسلسل ان کے پیچھے چلا آ رہا ہے۔ بزرگ نے رک کر پوچھا: “بھائی! میرے پیچھے کیوں آ رہے ہو؟ تمہیں کیا چاہیے؟” آدمی نے بڑی عاجزی سے کہا: “حضور! بہت غریب ہوں، اگر کچھ عنایت ہو جائے تو زندگی سنور جائے۔” بزرگ نے پہاڑ کی طرف اشارہ کیا… ☝️اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ پہاڑ سونے کا پہاڑ بن گیا! 😮 بزرگ آگے چل پڑے۔ کچھ دیر بعد مڑ کر دیکھا تو وہ آدمی پھر پیچھے موجود تھا۔ پوچھا: “اب کیا چاہیے؟” وہ بولا: “حضور! یہ تو بہت تھوڑا ہے…” 😐 بزرگ نے دوسری طرف موجود پہاڑ کی طرف انگلی اٹھائی۔ ☝️وہ پہاڑ بھی سونے میں تبدیل ہو گیا۔ پھر تیسرا پہاڑ…پھر چوتھا پہاڑ… دیکھتے ہی دیکھتے چاروں طرف سونے کے پہاڑ کھڑے تھے۔ ✨ بزرگ نے سوچا…
بارہ شہزادیوں کا پراسرار راز
ایک تھا بادشاہ، جس کی بارہ لڑکیاں تھیں، اور سب کی سب بے حد خوبصورت تھیں۔ سب ایک ہی ساتھ رہتیں اور ایک ہی کمرے میں سوتیں، جہاں ان کی چارپائیاں برابر برابر لگی ہوئی تھیں۔ جب لڑکیاں سو جاتیں تو بادشاہ خود آ کر باہر سے کمرے کا دروازہ بند کر دیتا۔ بادشاہ کو ڈر رہتا تھا کہ کہیں لڑکیوں کو کوئی تکلیف نہ پہنچ جائے، اس لیے وہ ہر رات دروازہ بند کر دیتا اور صبح سویرے ہی کھولتا تھا۔ایک دن صبح جب بادشاہ دروازہ کھولنے آیا، تو یہ دیکھ کر اسے بڑا تعجب ہوا کہ بارہوں لڑکیوں کے جوتے ایک قطار میں رکھے ہوئے ہیں، ہر جوتے کی ایڑی گھسی ہوئی ہے اور جوتے گرد سے اٹے ہوئے ہیں۔ بادشاہ سمجھ گیا کہ لڑکیاں ضرور رات کو کہیں گئی تھیں، مگر وہ باہر کیسے گئیں، یہ اس کی سمجھ میں نہ آیا۔ اس نے لڑکیوں سے پوچھنا…
باپ کا آخری سبق…..
ایک صاحب نے اپنی وفات سے کچھ عرصہ پہلے اپنے بیٹے کو پاس بلایا اور کہا: “بیٹا! جب میرا انتقال ہو جائے تو میری ایک آخری خواہش ضرور پوری کرنا۔ مجھے میرے پرانے موزے پہنا کر دفن کرنا۔” بیٹے نے حیرت سے پوچھا:“ابا جان! آپ یہ کیسی خواہش کر رہے ہیں؟” والد نے صرف اتنا کہا:“وقت آنے پر تم خود سمجھ جاؤ گے۔” کچھ عرصے بعد وہ صاحب انتقال کر گئے۔ بیٹے نے غسل اور کفن کا انتظام شروع کیا تو اسے اپنے والد کی آخری خواہش یاد آئی۔ اس نے عالمِ دین سے کہا: “حضرت! میرے والد کی خواہش تھی کہ انہیں ان کے پرانے موزے پہنا کر دفن کیا جائے۔” عالمِ دین نے نرمی سے جواب دیا: “بیٹا! میت کو شریعت کے مطابق کفن دیا جاتا ہے، اس لیے موزے پہنانے کی اجازت نہیں۔” بیٹے نے بہت اصرار کیا، مگر عالمِ دین اپنے مؤقف پر قائم رہے۔ بیٹا…
عقل مند کسان اور چالاک نائی
پرانے زمانے کا ذکر ہے کہ ایک چھوٹے سے سرسبز قصبے میں “رحیم بخش” نامی ایک غریب لیکن بہت سمجھدار کسان رہتا تھا۔ اس کے پاس زمین کا ایک چھوٹਾ سا ٹکڑا تھا جس پر وہ دن رات محنت کرتا اور اپنے اہل خانہ کا پیٹ پالتا تھا۔ قصبے کے لوگ اس کی دیانت داری اور حاضر دماغی کی وجہ سے اس کی بڑی عزت کرتے تھے۔اسی قصبے میں ایک نائی رہتا تھا جس کا نام “فتح علی” تھا۔ فتح علی کو اپنی چالاکی اور زبان درازی پر بڑا ناز تھا۔ وہ سارا دن دکان پر بیٹھ کر لوگوں کے بال کاٹنے کے بہانے قصبے کی جھوٹی سچی خبریں اکٹھی کرتا اور لوگوں کو باتوں میں الجھا کر ان کی جیبیں ہلکی کرنے کے نت نئے طریقے سوچتا رہتا تھا۔ ایک دن فتح علی نے سوچا کہ کیوں نہ اس عقل مند کسان رحیم بخش کو کسی طرح بیوقوف بنایا…
آخری انتظار
اصغر صاحب ریٹائرڈ سرکاری ملازم تھے۔ ساری زندگی انہوں نے اپنے بچوں کی ضروریات پوری کرنے میں گزار دی تھی۔ اب پنشن معمولی تھی، مگر دل مطمئن تھا۔ ان کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں۔ سب کی شادیاں ہو چکی تھیں اور اپنی اپنی زندگیوں میں مصروف تھے۔ اصغر صاحب اکثر اپنے بڑے بیٹے افضل کو فون کرتے۔ “بیٹا، فرصت ملے تو گھر آ جایا کرو… تمہیں دیکھے بہت دن ہو گئے ہیں۔” افضل ہر بار یہی کہتا: “ابا، ضرور آؤں گا… بس کام ذرا کم ہو جائے۔” اصغر مسکرا کر کہتے: “کام تو چلتا ہی رہتا ہے بیٹا۔” پھر خاموش ہو جاتے۔ ایک جمعرات کو اصغر نے دوبارہ افضل کو فون کیا۔ “بیٹا، اس اتوار آ سکو تو ضرور آنا۔ تم سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔” افضل نے پوچھا: “ابا، خیریت تو ہے؟” اصغر ہنسے: “ہاں بیٹا، بالکل خیریت ہے۔ یہ بات فون پر نہیں بتاؤں گا……
چار دوست
صدیوں پہلے کی بات ہے کہ ایک شہر میں چار دوست رہتے تھے۔ ان کے نام فہد، دانش، اسلم اور شجاع تھے۔ وہ چاروں اکیلے تھے، اس دنیا میں ان کا کوئی اپنا باقی نہ رہا تھا، لہذا انہوں نے اکٹھے رہنے کا فیصلہ کیا اور آپس میں تہیہ کیا کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ مخلص رہیں گے اور کبھی ایک دوسرے کو دھوکا نہیں دیں گے۔ان چاروں میں سے شجاع بہت خوب صورت تھا، صورت کے ساتھ ساتھ اس کی سیرت بھی بہت اچھی تھی۔ وہ نیک سوچ رکھنے والا لڑکا تھا جبکہ باقی تینوں شر کی طرف مائل تھے۔ وہ اکثر الٹے سیدھے کام کرتے رہتے۔ ایک دن ان تینوں نے سوچا کہ انہیں ایک گروہ بنا کر ڈاکہ زنی شروع کرنی چاہیے تاکہ وہ جلد از جلد مال دار بن جائیں، مگر شجاع نے یہ تجویز سختی سے رد کر دی اور کہا:“دوستو، کیا تم یہ…
ماں کے زخمی پاؤں , بیٹے کے آنسو اور رب کی رحمت
شہر کے ایک بازار میں زاہد نام کا ایک غریب لڑکا کپڑے بیچ کر اپنی بوڑھی اور نابینا ماں کا سہارا بنا ہوا تھا۔ ایک دن ماں نے کہا: “بیٹا! میری چپل ٹوٹ گئی ہے۔ گھر سے باہر نکلتے ہوئے پاؤں میں کنکریاں چبھتی ہیں۔ اگر ممکن ہو تو میرے لیے ایک نئی چپل لے آنا۔” زاہد نے فوراً وعدہ کر لیا، مگر اگلے تین دن بازار میں اتنا مندا رہا کہ جو تھوڑے بہت پیسے ملتے، وہ صرف گھر کے کھانے کے لیے کافی ہوتے۔ ہر شام زاہد شرمندگی سے خالی ہاتھ گھر لوٹتا۔ ایک رات اس نے اندھیرے میں ماں کے پاؤں دیکھے تو اس کے دل کو دھچکا لگا۔ پاؤں پر کنکریوں کے چھوٹے چھوٹے زخم تھے۔ زاہد نے ماں کے پاؤں اپنے ہاتھوں میں لیے، آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور وہ اللہ سے فریاد کرنے لگا: “یا اللہ! میں کتنا مجبور ہوں کہ اپنی ماں…
نادان کی دوستی جی کا جنجال
ایک مالی تھا جس نے اپنی ساری عمر باغ لگانے میں صرف کی تھی ۔ اس کا باغ جنت کے کسی باغ سے کم نہ تھا۔ وہاں طرح طرح کے پھل پھول موجود تھے۔ جن کی خوشبوؤں سے دماغ معطر رہتا تھا۔ بوڑھا مالی بڑے آرام سے اس باغ میں تنہا زندگی بسر کر رہا تھا۔ آخر ایک دن وہ اپنی اس تنہائی سے گھبرا گیا اور بے حد اداس ہوا۔ گھبرا کر ایک جنگل کی طرف چل پڑا ۔ ایک مدت تک جنگلوں میں بھٹکتا رہا۔ اچانک ایک بدصورت ، ڈراؤ نا ریچھ جو اسی کی طرح تنہائی سے بے زرار ہو چکا تھا اور اکیلا رہتا تھا اس پہاڑ سے نیچے اترا۔ دونوں ایک دوسرے سے دو چار ہوئے اور چونکہ دونوں کی فطرت میں خباثت موجود تھی لہذا دونوں ایک دوسرے سے بہت جلد مانوس ہو گئے ۔ مالی ریچھ کو ساتھ لے کر اپنے باغ میں…
ظلم کا انجام
کسی زمانے میں ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ اقتدار کے نشے میں وہ اتنا سخت دل ہو چکا تھا کہ غریب اور کمزور لوگ اس کے نام سے بھی خوف کھاتے تھے۔ ایک درویش نے اس کے ظلم سے تنگ آ کر دعا کی: “اے اللہ! اسے اس کے اعمال کا انجام دکھا دے۔” کچھ عرصے بعد بادشاہ کے دل میں اچانک تبدیلی آ گئی۔ اس نے رعایا کو جمع کیا اور کہا: “میں نے بہت ظلم کیا، مگر اب مجھے اپنی غلطیوں کا احساس ہو گیا ہے۔ آج سے میں ظلم چھوڑ کر انصاف کروں گا۔” لوگوں کو اس کی بات پر یقین نہ آیا، مگر وقت نے ثابت کر دیا کہ بادشاہ واقعی بدل چکا تھا۔ اب کمزور کو حق ملتا اور ظالم کو سزا دی جاتی۔ سلطنت میں ایسا امن قائم ہوا کہ دشمن جانور بھی ایک ہی جگہ پانی پیتے دکھائی دیتے۔ ایک دن ایک قریبی…
سیلز مین شپ۔
ایک سیدھا سادا لڑکا نوکری کی تلاش میں فلوریڈا آیا اور ایک بہت بڑے ڈیپارٹمنٹل اسٹور میں پہنچا، جہاں ایک ہی چھت کے نیچے ہر قسم کا سامان ملتا تھا۔اسٹور کے مینجرنے اس سے پوچھا، “کیا تمہارے پاس سیلز کا کوئی تجربہ ہے؟”لڑکے نے مسکرا کر جواب دیا، “جی بالکل، میں اپنے علاقے میں ویکیوم کلینر بیچا کرتا تھا۔”اگرچہ مینجرکو پورا یقین تو نہیں تھا، لیکن اسے لڑکا شریف اور محنتی لگا، سو اس نے موقع دیتے ہوئے کہا، “ٹھیک ہے، تم کل سے کام پر آ جاؤ۔ شام کو دکان بند ہونے کے بعد میں تمہاری کارکردگی دیکھنے نیچے آؤں گا۔”لڑکے کا پہلا دن کافی کٹھن گزرا، مگر وہ ڈٹا رہا۔ شام کو جب اسٹور بند ہوا تو مینجرسیلز فلور پر آیا اور سختی سے پوچھا، “ہاں بھائی، آج دن بھر میں تم سے کتنے گاہکوں نے سامان خریدا؟”لڑکے نے شرمندگی سے سر جھکا لیا اور آہستہ سے بولا،…
عبادت کا راز
ایک عابد نے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے چالیس دن کا چلہ کیا۔ دن کو روزہ رکھتا، رات بھر عبادت میں مشغول رہتا۔ اعتکاف کی وجہ سے وہ دنیا کے لوگوں سے بالکل الگ تھلگ ہو گیا تھا۔ اس کا ہر لمحہ دعا، تلاوت اور گریہ و زاری میں گزرتا تھا۔ چھتیسویں رات اسے ایک غیبی آواز سنائی دی: “کل شام چھ بجے تانبے کے بازار میں فلاں تانبہ ساز کی دکان پر جانا، وہاں تمہیں اللہ کی رضا کا ایک عظیم راز معلوم ہوگا۔” اگلے دن وہ مقررہ وقت سے پہلے ہی بازار پہنچ گیا اور اس دکان کے قریب کھڑا ہو کر دیکھنے لگا۔ کچھ ہی دیر بعد ایک بوڑھی عورت ہاتھ میں تانبے کی ایک پرانی دیگچی لیے ایک ایک دکان پر جا رہی تھی۔ ہر تانبہ ساز اسے تول کر کہتا: “چار ریال۔” بڑھیا جواب دیتی: “میں اسے چھ ریال سے کم میں…
نیک بیوی کا ایسا سبق جو زندگی بدل گیا
ایک عرب شخص اپنی انتہائی بوڑھی ماں کے ساتھ سفر کرتا تھا۔ بڑھاپے کی وجہ سے ماں کی یادداشت کمزور ہو گئی تھی، اس لیے وہ اکثر خیمے سے باہر نکل جاتی۔ بیٹے کو یہ بات بوجھ لگنے لگی۔ ایک دن قبیلے نے دوسری جگہ منتقل ہونے کا فیصلہ کیا۔ اس شخص نے اپنی بیوی سے کہا: “کل روانگی کے وقت میری ماں کو یہیں چھوڑ دینا۔ اس کے پاس پانی اور کھانا رکھ دینا، شاید کوئی اسے سنبھال لے۔” بیوی نے شوہر کی بات مان لی، مگر ایک ایسا کام کیا جس نے اس کی زندگی بدل دی۔ وہ اپنی بوڑھی ساس کو وہیں چھوڑنے کے ساتھ اپنے اکلوتے بچے کو بھی اس کے پاس چھوڑ آئی۔ دوپہر کو شوہر نے بچے کو بلانے کے لیے کہا تو بیوی نے جواب دیا: “میں اسے آپ کی ماں کے پاس چھوڑ آئی ہوں۔” وہ حیران ہو کر بولا، “کیوں؟” بیوی…
😂 پینسل نے سارا راز کھول دیا!
ایک صاحب دفتر سے فارغ ہوئے تو اپنی سیکریٹری کو ساتھ لے کر ہوٹل میں کھانا کھانے چلے گئے۔ کھانے کے بعد دونوں نے فلم دیکھنے کا پروگرام بنایا، اور فلم ختم ہونے پر صاحب سیکریٹری کے گھر بھی چلے گئے۔رات کافی گزرنے کے بعد جب صاحب رخصت ہونے لگے تو انہوں نے سیکریٹری سے کہا:“ایک پینسل مل سکتی ہے؟”سیکریٹری نے پینسل دے دی، صاحب نے وہ پینسل کان پر پھنسائی اور گھر روانہ ہو گئے۔گھر پہنچے تو بیوی نے فوراً پوچھا:“آج اتنی دیر کہاں لگا دی؟”صاحب نے سارا ماجرا سچ سچ بتا دیا۔بیوی نے فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ کہا:“جھوٹ! بکواس! مجھے معلوم ہے تمہیں شو مارنے کی عادت ہے۔ تم تو یقیناً دفتر میں دیر تک کام کر کے آئے ہو!”صاحب خوش ہو کر بولے:“دیکھا! میں کہتا تھا نا، تم مجھے سمجھتی ہو۔”بیوی نے کہا:“ہاں، بہت اچھی طرح سمجھتی ہوں… پینسل ابھی تک تمہارے کان پر لگی ہوئی ہے!”…
بادشاہ اور حکیم
ایک بادشاہ اپنے مُنہ زور گھوڑے پر سوار تھا.گھوڑا کسی وجہ سے بدکا تو بادشاہ سر کے بل زمین پر گر گیا،اور!اس کی گردن کی ھڈی کے مُہرے ہل گئے،اب وہ گردن کو حرکت دینے پر بھی قادر نہ رہا.شاہی طبیبوں نے اپنی طرف سے سر توڑ کوششیں کیں،مگر!وہ بادشاہ کا علاج نہ کر سکے،ایک دن یونان کا ایک حکیم بادشاہ کے پاس آیااور اس قدر جانفشانی سے علاج کیا کہ بادشاہ ٹھیک ھو گیا۔۔!!علاج کے بعد وہ حکیم اپنے وطن لوٹ گیا۔۔!!کچھ عرصے بعد وہ دوبارہ بادشاہ کے وطن میں آیا تو سلام کے ارادے سے شاھی دربار میں حاضر ھوااب لازم تھا کہ بادشاہ از روئے قدر دانی اس حکیم سے مروت اور مہربانی کا برتاؤ کرتالیکن!بادشاہ ایسے بن گیا جیسے اس حکیم کو جانتا ہی نہ ہوبادشاہ کے اس رویے سے حکیم بہت سخت رنجیدہ ہوا۔۔!!یونانی حکیم بادشاہ کے دربار سے باہر آیا تو اس نے ایک…
ولی کامل اور لالچی آدمی …. ایک دلچسپ کہانی
ایک ولی کامل پہاڑوں میں نکل گیا۔ پیچھے دیکھا ایک آدمی آ رہا تھا۔ آپ نے پوچھا:کیا چاہیے؟؟ آدمی نے کہا: غریب ہوں، کچھ عنایت فرمائیں۔ آپ نے پہاڑ کی طرف انگلی اٹھائی، پہاڑ سونے کا ہو گیا۔ آپ چل پڑے۔ دیکھا وہ آدمی پھر پیچھے آ رہا ہے۔ آپ نے پوچھا:اب کیا چاہیے؟ عرض کیا: تھوڑا ہے۔ آپ نے دوسرے پہاڑ کی طرف انگلی اٹھائی، وہ بھی سونے کا ہو گیا۔ اور اسی طرح تیسری اور پھر چوتھی طرف انگلی اٹھائی۔ چاروں طرف کے پہاڑ سونے کے ہو گئے۔ آپ چل پڑے۔ پیچھے دیکھا وہ آدمی پھر آ رہا تھا۔ آپ نے پوچھا: اب کیا چاہیے؟ 😜☝️اُس آدمی نے عرض کیا ۔۔۔۔۔ “انگلی”
حاضر جوابی کا کمال
ایک روز ہارون الرشید عام لوگوں کا لباس پہن کر نکلے۔ ان کے ساتھ یحییٰ بن خالد، خالد کاتب، اسحاق موصلی اور ابو نواس بھی تھے۔ وہ عام لوگوں میں گھل مل جانے کی غرض سے ایک ملاح کے ساتھ ایک کشتی میں سوار ہوئے۔ کشتی میں ایک اور شخص بھی آ بیٹھا۔ وہ ہارون الرشید کو ناگوار گزرا، یہاں تک کہ آپ نے ارادہ کیا کہ اسے کشتی سے اتار دیں اور سزا بھی دیں۔ ابو نواس نے کہا: ’’اسے میرے ذمے چھوڑ دیجیے، میں اسے بغیر کسی اذیت یا بدسلوکی کے یہاں سے نکال دوں گا۔‘‘ پھر ابو نواس نے اپنے ساتھیوں سے کہا: ’’آج سے کل اسی وقت تک تم سب کے کھانے کا ذمہ میرے ذمے ہے۔‘‘ ہارون الرشید نے کہا: ’’اور تمہارے مشروبات میرے ذمے۔‘‘ یحییٰ بن خالد نے کہا: ’’اور خوشبوؤں کا انتظام میرے ذمے۔‘‘ خالد کاتب نے کہا: ’’اور سبزیوں کا انتظام میرے…











