Author Archives: NZ's Collection

En una aldea, Babu Kisan vivía con sus dos hijos. La diferencia entre sus temperamentos era tan grande como el cielo y la tierra. Asad era muy perezoso y maleducado, mientras que Amjad era muy trabajador, alegre y decidido. Desafortunadamente, la forma de levantarse y sentarse de Asad no era la de la gente adecuada. Un día, Babu Kisan envió a Amjad a recoger hierbas al bosque. En el camino, Amjad se encontró con una anciana sentada junto a un pozo, que tenía sed. Le pidió ayuda a Amjad. Amjad sacó agua del pozo y le dio de beber. Ella, agradecida, le entregó una semilla. Al llegar a casa, Amjad sembró la semilla en un jardín cerca de su casa. Al día siguiente, el campesino envió a su otro hijo, Asad, a recoger hierbas al bosque. La misma anciana estaba sentada junto al pozo pidiendo agua, pero cuando le pidió…

Read more

Un señor tenía un principio: “¡Usar el wifi del vecino es un derecho fundamental de todo ciudadano!” 😎 Una noche, aprendió a “hackear” en YouTube y se puso a robar la contraseña de su vecino. Se abrió un enlace: “¡Consigue la contraseña del wifi con un solo clic!” 😲 Hizo clic inmediatamente. 😈 Al instante siguiente… ¡Todo desapareció de su portátil! Entonces empezaron a aparecer vídeos uno a uno en el grupo de WhatsApp del vecindario: Bailando delante del lavabo, señor. 🕺 Llorando por una “calabaza”. 😭 Y un poema escrito para Begum: > “Tus ojos son como el wifi, ¡tu corazón se conecta automáticamente!” 😂 Por la mañana, el vecino abrió la puerta y dijo: “¡Hermano! Si pides la contraseña…” “¡Ahora todo el vecindario está conectado contigo!” 🤣🤣 Lección:¡A veces, con la prisa por conectarte al wifi gratis, se te acaban los datos de tu plan! 😄😁 Si te…

Read more

Un rey italiano, orgulloso de su poder y riqueza, sabía que era incorrecto hablar con los pobres, por lo que la mayoría de la gente lo despreciaba. Un día, mientras cazaba, siguió tan de cerca a un animal que todos los sirvientes se dispersaron y el rey se quedó solo. Mientras tanto, un campesino se aferró al estribo del caballo del rey. Su aspecto era similar al del rey. La diferencia radicaba en que su ropa y condición eran las de un hombre pobre. Le dijo al rey que llevaba tres días caminando hambriento y sediento a las puertas del Santo Profeta, pero nadie escuchaba sus lamentos. El rey, al ver al pobre hombre con ropas sucias, siguió adelante diciendo que no hablaba con gente humilde. El pobre campesino lo siguió. Hasta que el rey llegó a un estanque y desmontó. Colgó las riendas de un árbol. Se quitó la…

Read more

Ahmed vivía en un pequeño pueblo. Era travieso, divertido y amigo de todos, pero sus condiciones de vida no eran buenas. Solo tenía un par de zapatos para ir a la escuela, y ya tenían varios años. Una mañana, mientras caminaba hacia la escuela por un sendero embarrado, la punta de uno de sus zapatos se rompió de repente.Ahmed suspiró al ver el zapato. “¡Oh, qué pasó! Ahora todos se reirán de mí”. Intentó arreglarlo rápidamente con las manos, pero el zapato quedó aún más raro. Sin embargo, llegó a la escuela con un poco de vergüenza.En cuanto entró al aula, sus amigos se reunieron. Uno de ellos dijo: “¡Guau, Ahmed! Este es un nuevo diseño de Kamal.¿De dónde lo sacaste?”.Ahmed respondió sorprendido: “¿Esto? ¡Oh, lo hice yo mismo!”.Todos los niños se echaron a reír, pero en lugar de burlarse, les gustó el diseño.Al día siguiente, dos chicos de la…

Read more

احمد ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہتا تھا۔وہ شرارتی، ہنس مکھ اور سب کا دوست تھا، لیکن اس کے گھر کے حالات کچھ اچھے نہیں تھے۔اس کے پاس اسکول جانے کے لئے صرف ایک ہی جوڑا جوتے کا تھا، اور وہ بھی کئی سال پرانا۔ایک دن صبح اسکول جاتے ہوئے وہ کیچڑ والے راستے سے گزر رہا تھا کہ اچانک جوتے کا اگلا حصہ پھٹ گیا۔احمد نے جوتے کو دیکھ کر آہ بھری۔”ارے یہ کیا ہوا! اب سب میرا مذاق اُڑائیں گے۔“ اس نے جلدی سے جوتے کو ہاتھ سے ٹھیک کرنے کی کوشش کی، مگر وہ اور زیادہ عجیب لگنے لگا۔بہرحال، وہ دل میں تھوڑی شرمندگی لئے اسکول پہنچ گیا۔جیسے ہی وہ کلاس میں داخل ہوا، اس کے دوست اکٹھے ہو گئے۔ایک دوست بولا:”واہ احمد! یہ تو کمال کا نیا ڈیزائن ہے۔ کہاں سے لیا؟“احمد نے حیرانی سے کہا:”یہ؟ اوہ، یہ میں نے خود بنایا ہے!“سب بچے ہنسنے لگے،…

Read more

اٹلی کا ایک بادشاہ حکومت اور دولت کے گھمنڈ میں غریبوں سے بات کرنا بھی بْرا جانتا تھا اس لئے اکثر لوگ اسے ناپسند کرتے تھے۔ ایک دن یہ شکار میں کسی جانور کے پیچھے گھوڑا ڈالے اتنی دور نکل گیا کہ نوکر چاکر سب بچھڑ گئے اور بادشاہ اکیلا رہ گیا۔ اتنے میں ایک کسان نے بادشاہ کے گھوڑے کی رکاب پکڑ لی۔ اس کی شکل ہو بہو بادشاہ سے ملتی تھی۔فرق یہ تھا کہ اس کی پوشاک اور حالت غریب جیسی تھی۔ اس نے بادشاہ سے کہا کہ میں تین دن سے حضور کی ڈیوڑھی پر بھوکا پیاسا چلا آ رہا ہوں مگر کوئی میری فریاد نہیں سنتا۔ بادشاہ نے غریب کو میلے کچیلے کپڑوں میں دیکھ کر یہ کہتے ہوئے آگے بڑھ گیا کہ میں ذلیل آدمیوں سے بات نہیں کرتا۔ غریب کسان پھر بھی اس کے پیچھے پیچھے چلتا رہا۔ یہاں تک کہ بادشاہ ایک تالاب…

Read more

ایک صاحب کا اصول تھا: “پڑوسی کا وائی فائی استعمال کرنا ہر شہری کا بنیادی حق ھے!” 😎 ایک رات انہوں نے یوٹیوب سے “ہیکنگ” سیکھی اور پڑوسی کا پاسورڈ چرانے بیٹھ گئے۔ ایک لنک کھلا: “صرف ایک کلک میں وائی فائی پاسورڈ حاصل کریں!” 😲 ان صاحب نے فوراً کلک کر دیا۔ 😈 اگلےھی لمحے… ان کے لیپ ٹاپ سے سب کچھ غائب! پھر محلے کے واٹس ایپ گروپ میں ایک ایک کر کے ویڈیوز آنے لگیں: واش بیسن کے سامنے ڈانس کرتے ہوئے  صاحب۔ 🕺 “کدو کی سبزی” پر روتے ہوئے صاحب۔ 😭 اور بیگم کے لیے لکھی گئی شاعری: > “تیری آنکھیں وائی فائی جیسی ھیں، دل خود بخود کنیکٹ ھو جاتا ھے!” 😂 صبح دروازے پر پڑوسی آیا اور بولا: “بھائی! پاسورڈ مانگ لیتے…” “اب پورا محلہ آپ کے ساتھ کنیکٹ ھو چکا ھے!” 🤣🤣 سبق:فری وائی فائی کے چکر میں کبھی کبھی اپنی عزت کا…

Read more

ایک بلوچ اور سرائیکی کی بڑی گہری دوستی تھی۔ ایک رات بلوچ کے والد ان کے گھر مہمان تھے۔ آدھی رات کو اچانک ان کی طبیعت خراب ھو گئی اور وہ بار بار کہنے لگے: “آفے دائے… آفے دائے…!” 😥 سرائیکی دوست نے سوچا: “ماشاءاللہ! آخری وقت میں بھی ذکر کر رھے ھیں!” 🥹 وہ خاموش بیٹھا رہا۔ صبح بلوچ آیا تو دیکھا کہ والد صاحب انتقال کر چکے ھیں۔ سرائیکی نے افسوس کرتے ھوئے کہا: “بھائی! آپ کے ابو بہت نیک تھے، آخری وقت تک کچھ پڑھتے رھے…” 🥺 بلوچ نے پوچھا: “کیا پڑھ رھے تھے؟” سرائیکی بولا: “بار بار پڑھ رھے تھے: آفے دائے… آفے دائے…” 😇 یہ سن کر بلوچ چیخ پڑا: “اوئے لعنتی اِنسان ! وہ دعا نہیں، پانی مانگ رھے تھے!” 😨 سرائیکی گھبرا کر بولا: “اچھا! اور میں سمجھا بزرگ بندہ ھے، اپنے رب سے ڈائریکٹ رابطے میں ھے!” 😅🏃🤣 سبق:کبھی کبھی ایک لفظ…

Read more

ایک گاؤں میں بابو کسان اپنے دو بیٹوں کے ساتھ رہتا تھا۔دونوں کے مزاج میں زمین اور آسمان کا فرق تھا۔اسد نہایت سست اور بد اخلاق تھا، جبکہ امجد نہایت محنتی، خوش مزاج اور سلجھا ہوا تھا۔بدقسمتی سے اسد کا اُٹھنا بیٹھنا کچھ ٹھیک لوگوں میں نہ تھا۔ایک دن بابو کسان نے امجد کو جنگل میں جڑی بوٹیاں اکٹھا کرنے کے لئے بھیجا۔راستے میں امجد کا سامنا کنویں کے قریب بیٹھی ایک بوڑھی عورت سے ہوا، جو پیاسی تھی۔اس نے امجد سے مدد طلب کی۔امجد نے کنویں سے پانی نکال کر اسے پلایا۔اس نے شکریہ کے ساتھ امجد کو ایک بیج تھما دیا۔گھر پہنچ کر امجد نے وہ بیج اپنے گھر کے قریب ایک باغ میں بو دیا۔اگلے ہی روز کسان نے اپنے دوسرے بیٹے اسد کو جنگل میں جڑی بوٹیاں اکٹھا کرنے کے لئے بھیجا۔(جاری ہے) وہی بڑھیا پانی کی طلب میں کنویں کے قریب بیٹھی تھی، مگر جب…

Read more

ایک چھوٹی سی پہاڑی میں چوہوں کے کئی بل تھے، اس پر پودے بھی لگے ہوئے تھے۔پودوں کے درمیان میں چوہوں کے بل دکھائی نہیں دیتے تھے۔ان بلوں میں ایک بل ایک چوہیا کا بھی تھا۔وہ اکیلی رہتی تھی۔وہ کافی عقلمند تھی، اکثر چوہے اپنے مسائل لے کر اس کے پاس آتے اور وہ اپنی عقل و فہم کے مطابق حل بتاتی۔اس کے مشورے اکثر چوہوں کی مشکل کو دور کر دیتے تھے۔اسی لئے سب چوہے اس کی بڑی عزت کرتے تھے۔ایک بار یوں ہوا کہ برسات کے موسم میں بارشیں خوب برسیں، جس کے باعث کئی کیڑے مکوڑے اور دوسرے جانور گھبرا کر ان بلوں کی طرف آ گئے۔چھوٹے موٹے کیڑے مکوڑے تو چوہوں کی غذا بن گئے، جبکہ بڑے کیڑوں کو انہوں نے وہاں سے مار بھگایا۔انہی میں ایک چھوٹا کچھوا بھی شامل تھا جو جسامت میں چوہوں سے تھوڑا سا بڑا تھا۔(جاری ہے) وہ ہر کسی کے…

Read more

علی اکبر بادشاہ کے نورتنوں میں سے ایک راجہ بیربل کی ذہانت ، حاضر جوابی ، کی کہانیاں اور لطیفے بہت مشہور ہیں۔ بیربل کی دانشمندی نے بیربل کے کردار کو افسانوی بنا دیا۔ اکبر اور بیربل سے متعلق ایک واقعہ بہت مشہور ہے۔ روایت کے مطابق ایک رات کو جب بادشاہ اور بیربل بھیس بدل کر شہر کا گشت کر رہے تھے۔ دونوں کا گزر ایک حجام کی جھونپڑی کے پاس سے ہوا۔حجام جھونپڑی کے باہر چار پائی پر بیٹھا حقہ پی رہا تھا۔ اکبر نے اس سے پوچھا۔ بھائی یہ بتاوٴ کہ آج کل اکبر بادشاہ کے راج میں لوگوں کا کیا حال ہے۔ حجام نے فوراً جواب دیا۔ اجی کیا بات ہے۔ ہمارے اکبر بادشاہ کی اس کے راج میں ہر طرف امن چین اور خوشحالی ہے۔ لوگ عیش کر رہے ہیں۔ ہر دن عید ہے ہر رات دیوالی ہے۔ اکبر اور بیربل حجام کی باتیں سن…

Read more

گئے وقتوں کی بات ہے۔گرمی شروع ہو چکی تھی اور شدت سے بڑھ رہی تھی۔ہر انسان گرمی میں پسینے سے شرابور ہو رہا تھا اور یہی حال سبزیوں کا بھی تھا۔گاؤں میں بہت سے کھیت تھے۔ان کھیتوں میں کچھ سبزیاں اُگی ہوئی تھیں۔اچانک کسی کے چیخنے کی آواز آئی۔ڈر کے مارے آلو میاں،لیمو،ٹماٹر،بینگن،کدو اور مرچیں اکٹھے ہو کر ایک ساتھ آواز کی طرف دیکھنے لگے۔انھیں پتا تھا کہ یہ آواز مغرور بھنڈی کی ہے۔اسی وقت کھیت سے ایک لمبی اور اسمارٹ سی بھنڈی آ نکلی:”ہائے ہائے!کتنی گرمی ہے اور کتنی تیز دھوپ چمک رہی ہے،ارے ہٹو ہٹو یہاں سے آلو!ہر وقت آ کے کھڑے ہو جاتے ہو سر پر،اوپر سے اتنے موٹے موٹے ہو کہ بس۔ارے میری طرح اسمارٹ رہا کرو، خوبصورت رہا کرو۔ ارے ہاں،میں تو بھول ہی گئی خوبصورتی تو تم لوگوں کو چھو کے بھی نہیں گزری۔ خاص طور پر آلو میاں!تم کتنے گندے رہتے ہو اور…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بادشاہ تھا ۔ ایک دن بادشاہ کا بہترین گھوڑا اصطبل سے بھاگ گیا ۔بادشاہ نے سپاہیوں کو گھوڑا تلاشنے کا حکم دیا ۔ سپاہی گھوڑے کو تلاش کرتے کرتے جنگل میں پہنچ گئے ۔وہاں ایک شخص نماز پڑھ رہا تھا لیکن سپاہیوں کو معلوم نہ ہوسکا کہ وہ نماز پڑھ رہا ہے انہوں نے اس سے پوچھا کہ تم نے یہاں جنگل میں کوئی گھوڑا دیکھا ہے ؟جواب ندارد ۔انہوں نے کچھ دیر رک پھر سوال کیا ۔دوسری جانب سے مکمل خاموشی ۔سپاہیوں نے جھنجھلا کر تیسری مرتبہ پھر پوچھنے کا ارادہ کیا ہی تھا کہ اس شخص نے  دائیں جانب سلام پھیرا ۔سپاہی یہ سمجھے ہمیں اشارے سے بتارہا ہے کہ اس جانب دیکھ لو ۔ وہ دائیں جانب گئے تو گھوڑا مل گیا ۔سپاہی خوش ہوگئے اور انہوں نے اپنی طرف سے اندازہ لگایا کہ یہ شخص کوئی پہنچا ہوا بزرگ…

Read more

کسی جنگل میں ایک مغرور اونٹ رہتا تھا۔اُسے اپنے لمبے قد اور چال ڈھال پر بڑا ناز تھا۔اس کا دعویٰ تھا کہ میں سب سے اعلیٰ ہوں۔اُس کا جہاں جی چاہتا منہ اُٹھا کر چلا جاتا اور سب جانوروں سے بدتمیزی کرتا رہتا۔کوئی جانور اگر اُسے چھیڑتا تو وہ اس کے پیچھے پڑ جاتا۔اُس کے گھر کے قریب چوہے کا بل تھا اور اونٹ کو اُس چوہے سے سب سے زیادہ نفرت تھی۔وہ اُس چوہے کو نہ جانے کیا کیا القابات دیتا رہتا لیکن چوہا ہنس کے ٹال دیتا تھا۔جنگل کے سب جانور ہی اونٹ سے اُس کے کبر کی وجہ سے تنگ تھے اور چاہتے تھے کہ اُسے اُس کے کئے کی سزا ملے مگر ابھی تک اونٹ کو کھلی چھٹی ملی ہوئی تھی۔وہ بہار کا خوشگوار موسم تھا،ہر طرف پھول کھلے ہوئے تھے اور جنگل میں بھینی بھینی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔اونٹ سو کر اُٹھا تو اُسے بڑی…

Read more

Read more

بہت دور کسی شہر میں ایک بڑھئی کی دکان تھی۔ وہ سارا دن اپنی دکان میں لکڑی کاٹتا یا کیلیں ٹھوکتا نظر آتا تھا۔ اس کا ایک بیٹا بھی تھا، جس کا نام حسن تھا۔ حسن بہت فرماں بردار لڑکا تھا۔ جلد ہی کام سیکھ کر وہ کام میں باپ کی مدد کرنے لگا، مگر کچھ دن ہی گزرے تھے کہ وہ اپنے کام سے بے زار ہو گیا۔ باپ اسے کوئی چیز بنانے کو دیتا تو وہ بے دلی سے اسے شروع کرتا ، ابھی کام پورا بھی نہ ہوتا کہ وہ ہاتھ روک لیتا اور اٹھ کر باہر نکل جا تا۔باپ پریشان تھا کہ وہ ایسا کیوں کرتا ہے۔ آخر ایک دن اس نے حسن سے اس رویے کا سبب پوچھا تو حسن بولا : بابا! میں یہ دروازے کھڑکیاں اور میز کرسیاں نہیں بنانا چاہتا، میں کوئی ایسی چیز بناوٴں گا ، جو آج تک کسی نے…

Read more

بہت پہلے کی بات ہے۔ ایک سرسبز و شاداب جنگل تھا، جہاں سینکڑوں درخت اپنی اپنی جگہ خاموشی سے کھڑے تھے۔ مگر ان سب میں ایک درخت سب سے نمایاں تھا۔ وہ جنگل کے عین دہانے پر، سب سے آگے کھڑا تھا۔ تنا اس کا چوڑا، شاخیں آسمان سے باتیں کرتیں، اور جڑیں زمین میں اس طرح پیوست تھیں جیسے صدیوں سے اس مٹی کی محافظ ہوں۔ جنگل کے ہر درخت کی نگاہ میں اس کا بڑا احترام تھا۔ عمر میں بھی سب سے بزرگ تھا اور ہر آندھی، ہر طوفان، ہر دھوپ اور ہر ژالہ باری سب سے پہلے اسی کے حصے میں آتی تھی۔ وہ خاموشی سے سب کچھ سہہ لیتا، مگر اپنے پیچھے کھڑے درختوں تک مصیبت کی شدت نہ پہنچنے دیتا۔ایک سال اسی درخت کا ایک بیج زمین میں گرا، اور کچھ ہی عرصے میں ایک ننھا سا پودا اُگ آیا۔ وقت گزرتا گیا، پودا جوان…

Read more

صدیوں پہلے ایک ایسی سلطنت تھی جس کے بادشاہ کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ اس وقت تک اپنے آرام گاہ میں قدم نہیں رکھتا تھا جب تک دربار میں آنے والے ہر مظلوم کی فریاد نہ سن لیتا۔لوگ کہتے تھے کہ اس کے تخت کے چار پائے انصاف پر کھڑے ہیں۔اگر کسی دن کسی مظلوم کی داد رسی رہ جاتی تو اس رات بادشاہ کی آنکھوں سے نیند روٹھ جاتی۔وہ کروٹیں بدلتا رہتا، مگر سکون نصیب نہ ہوتا۔ایک، دو، پھر تین راتیں گزر گئیں۔نیند مسلسل اس کی آنکھوں سے غائب رہی۔بادشاہ حیران تھا۔“آخر کس کا حق مجھ سے رہ گیا؟”چوتھی صبح اس نے پورا دربار طلب کیا۔دروغہ، کوتوال، قاضی، وزیر، سب حاضر تھے۔ بادشاہ نے پوچھا:“کیا میری سلطنت میں کوئی ایسا شخص آیا جو انصاف لیے بغیر واپس چلا گیا ہو؟”سب نے ایک زبان ہو کر جواب دیا:“حضور! آپ کے عہد میں ایسا کبھی نہیں ہوا۔”بادشاہ خاموش ہو…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک گھنے جنگل پر ایک شیر کی حکمرانی تھی۔ جنگل کے تمام جانور پرسکون اور خوشحال زندگی بسر کر رہے تھے۔ شیر جب دھاڑتا تو اس کی ہیبت ناک گونج پورے جنگل پر چھا جاتی اور سب کو فوراً معلوم ہو جاتا کہ بادشاہ سلامت دربار بلا رہے ہیں۔ تمام جانور اسی وقت اکٹھے ہو کر شیر کے حضور پیش ہوتے اور وہ ہر کسی کو اس کے حصے کا کام سونپ دیتا۔اسی جنگل میں ایک مکار گیدڑ بھی رہتا تھا جسے شیر کا یہ جاہ و جلال ایک آنکھ نہ بھاتا تھا۔ وہ ہر وقت اسی ادھیڑ بن میں رہتا کہ کس طرح اس شیر سے جان چھڑائی جائے۔ آخرکار اس کے شیطانی ذہن میں ایک ترکیب آئی۔ جنگل کے مضافات میں شکاریوں کا ایک ڈیرہ تھا جو جال اور بندوقوں سے لیس تھے۔ گیدڑ نے ان کے پاس جا کر پیشکش کی،…

Read more

بیگم نے اچانک شوہر سے موبائل📱مانگ لیا۔ شوہر نے کانپتے ہاتھوں سے موبائل پکڑایا اور دل ھی دل میں درود شریف پڑھنے لگا۔ 😅 کال لاگ میں ایک نمبر نظر آیا: “اختر” بیگم نے پوچھا: “یہ اختر کون ھے؟” 🤔 شوہر بولا: “ماموں اختر ھیں!” 😶 بیگم کو شک ھوا، فوراً نمبر ملا دیا۔ دوسری طرف سے آواز آئی: “ہیلو…” (عورت کی آواز) بس پھر کیا تھا… پانچ منٹ بعد شوہر ہسپتال میں پٹیاں بندھوائے بیٹھا تھا۔ 🤕 وہاں اس نے دیکھا کہ سامنے والے بیڈ پر ماموں اختر بھی لیٹے ھیں! 😳 شوہر نے حیران ھو کر پوچھا: “ماموں جان! آپ یہاں؟” ماموں اختر آہ بھرتے ھوئے بولے: “بیٹا! تمہاری کال آئی تھی، میری بیگم نے عورت کی آواز سن لی…” 🤕🤣🤣

گاؤں میں رحیم نامی کمہار کی بہت شہرت تھی۔گاؤں کے ارد گرد دوسری آبادیوں کے لوگ رحیم کے بنائے گھڑے،تسلے،کونڈے،پیالے اور ہانڈیاں استعمال کرتے۔رحیم کے ہاتھ سے بنے برتن خوبصورت ہونے کے ساتھ پائیدار بھی ہوتے ہیں۔چکنے گھڑے میں رکھا پانی شدید گرمی میں بھی کئی دن تک ٹھنڈا اور ذائقے دار رہتا۔اسی طرح ہانڈیاں بھی سال ہا سال چلتیں اور ان میں پکنے والے سالن بھی ذائقے میں لاجواب ہوتے۔مٹی کی ہانڈی میں پکے ہوئے کھانے کا ذائقہ کسی دوسرے برتن میں پکنے والے کھانے سے یکسر مختلف ہوتا۔رفتہ رفتہ رحیم کے برتنوں کی دھوم اور مانگ بڑھتی گئی۔گاؤں میں بیدو نامی ایک اور کمہار بھی رہتا تھا۔سرخ پہاڑیوں کے اس پار رہنے والا بیدو کمہار رحیم سے بغض رکھتا تھا اور کھلے عام اس سے ناپسندیدگی کا اظہار کرتا رہتا تھا۔ اس کے ہاتھ کے بنے ہوئے برتن دیدہ زیب تو ہوتے،مگر انتہائی ناپائیدار،جن کے کنارے جلد جھڑ…

Read more

20/3149
NZ's Corner