ایک خوبصورت جنگل کے کنارے ایک فارم ہاؤس تھا، جہاں ایک گھوڑا اور ایک گدھا ساتھ رہتے تھے۔ گھوڑا اپنی رفتار اور خوبصورتی پر بہت مغرور تھا، جبکہ گدھا خاموشی سے اپنا کام کرنے والا محنتی جانور تھا۔ ان دونوں کا ایک ننھا سا دوست بھی تھا: ایک خرگوش، جو اپنی پھرتی اور شرارتوں کے لیے مشہور تھا۔
گھوڑے کا غرور
ایک دن گھوڑا گدھے کا مذاق اڑاتے ہوئے بولا:
“تم کتنے سست اور بدصورت ہو! دیکھو مجھے، میں ہوا سے باتیں کرتا ہوں اور لوگ میری سواری کر کے فخر محسوس کرتے ہیں۔ تم تو بس بوجھ ڈھونے کے لیے بنے ہو۔”
گدھا خاموش رہا، لیکن خرگوش سے اپنے دوست کی یہ بے عزتی برداشت نہ ہوئی۔ خرگوش اچھل کر سامنے آیا اور بولا:
“گھوڑے بھائی! رفتار ہی سب کچھ نہیں ہوتی، کبھی کبھی عقل اور ہمت بھی کام آتی ہے۔ کیا تم ہم دونوں کے ساتھ ایک مقابلے کے لیے تیار ہو؟”
انوکھا مقابلہ
گھوڑا ہنسا اور بولا، “تم دونوں میرا مقابلہ کرو گے؟ ٹھیک ہے! سامنے والی پہاڑی پر جو سب سے پہلے پہنچے گا، وہی سب سے بہتر مانا جائے گا۔”
مقابلہ شروع ہوا۔ گھوڑا تیزی سے دوڑا اور دیکھتے ہی دیکھتے بہت آگے نکل گیا۔ گدھا اپنی ہمت کے مطابق چلتا رہا اور خرگوش جھاڑیوں سے ہوتا ہوا آگے بڑھنے لگا۔
راستے کی رکاوٹ
پہاڑی کے قریب پہنچ کر ایک گہرا اور کیچڑ سے بھرا نالہ آگیا۔ گھوڑے نے چھلانگ لگانے کی کوشش کی، لیکن وہ پھسل گیا اور اس کے پاؤں کیچڑ میں دھنس گئے۔ وہ جتنا زور لگاتا، اتنا ہی نیچے دھنستا جاتا۔
تھوڑی دیر میں گدھا وہاں پہنچا تو گھوڑے کو مشکل میں دیکھ کر رک گیا۔ گھوڑا شرمندگی سے بولا، “مجھے بچاؤ! میں یہاں پھنس گیا ہوں۔”
خرگوش کی عقل: خرگوش نے ادھر ادھر سے خشک ٹہنیاں اور پتے جمع کیے تاکہ گدھے کے پاؤں نہ پھسلیں۔
گدھے کی ہمت: گدھے نے اپنی پوری طاقت لگائی اور اپنی مضبوط پیٹھ کا سہارا دے کر گھوڑے کو کیچڑ سے باہر نکالنے میں مدد کی۔
سبق
جب تینوں پہاڑی کی چوٹی پر پہنچے، تو گھوڑے کا سر شرم سے جھکا ہوا تھا۔ اس نے گدھے اور خرگوش سے معذرت کی اور کہا:
“مجھے سمجھ آگئی ہے کہ گھوڑا تیز دوڑ سکتا ہے، لیکن گدھا مشکل وقت میں بوجھ اٹھا کر ساتھ نبھا سکتا ہے، اور خرگوش اپنی عقل سے راستہ دکھا سکتا ہے۔”
نتیجہ: کوئی بھی چھوٹا یا بڑا نہیں ہوتا، اصل طاقت ایک دوسرے کے کام آنے میں ہے۔
اصلاحی اور اخلاقی ناول اور کہانیوں کے لیے پروفائل پر وزٹ کریں اور عمل پسند ائے تو اس پیج کو فالو بھی کریں۔
