ایک کسان نے ایک مرا ہوا سور ایک سوکھے کنویں میں پھینک دیا۔
چند ہی لمحوں بعد 70 سے 80 چوہے اس بدبو کی طرف کھنچے چلے آئے اور ایک ایک کر کے کنویں میں کود گئے۔
ان کے لیے یہ ایک “آسان دعوت” تھی…
انہوں نے مل کر اس سور کو ختم کر دیا، لیکن اصل کہانی یہاں سے شروع ہوئی۔
جب پیٹ بھر گیا تو حقیقت سامنے آئی…
کنواں اونچا تھا، باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔
دن گزرتے گئے…
بھوک واپس آگئی، اور ساتھ ہی خوف بھی۔
پھر وہی کنواں ایک زندہ جہنم بن گیا۔
کچھ چوہے کمزور پڑے، کچھ نے طاقت کے لیے دوسرے کو مارنا شروع کر دیا…
اور پھر نوبت یہاں تک آ گئی کہ وہ ایک دوسرے کو کھانے لگے۔
وقت گزرتا گیا…
اور آخرکار سب ختم ہو گئے…
صرف ایک چوہا بچا، جس کی آنکھیں خون کی طرح سرخ ہو چکی تھیں، اور ذہن میں صرف ایک چیز تھی… “بقا”۔
کچھ دن بعد کسان واپس آیا۔
اس نے کنویں میں رسی ڈالی اور اس آخری چوہے کو باہر نکال لیا۔
ظاہر میں یہ رحمت لگتی تھی…
لیکن حقیقت کچھ اور تھی۔
وہ چوہا اب وہ نہیں رہا تھا جو پہلے تھا…
وہ اب اپنی ہی نسل کا دشمن بن چکا تھا۔
وہ کھیت میں گیا تو اناج نہیں دیکھا…
اس کی نظر صرف شکار پر تھی۔
وہ پاگلوں کی طرح دوسرے چوہوں پر حملہ کرنے لگا۔
یہی اصل کھیل تھا…
اسے کہتے ہیں “Divide Trap”
ایسا جال جہاں اوپر بیٹھے لوگ خود نہیں لڑتے…
بس نیچے والوں کے درمیان نفرت، بھوک اور خوف ڈال دیتے ہیں…
اور وہ آپس میں ہی ایک دوسرے کو ختم کر دیتے ہیں۔
اصل سچ یہ ہے کہ
کئی لوگ ساری زندگی یہ سمجھ ہی نہیں پاتے کہ وہ کسی اور کے بنائے ہوئے کھیل کا حصہ ہیں…
اس لیے کسی کے بنائے ہوئے جال میں مت پھنسو…
اور اگر کبھی پھنس جاؤ تو دشمنی آپس میں نہیں، راستہ باہر نکلنے کا ہونا چاہیے۔
