Author Archives: NZ's Collection

کہتے ہیں کہ ایک نوجوان حضرت موسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: “اے اللہ کے نبی! میں نے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جانوروں اور پرندوں کی بولیاں سمجھنے کا علم عطا فرمایا ہے۔ مجھے بھی یہ علم سکھا دیجیے، تاکہ میں جانوروں کی باتیں سن کر اللہ کی معرفت حاصل کرسکوں۔” حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کی بات سنی اور فرمایا: “! ہر علم انسان کے لیے فائدہ مند نہیں ہوتا۔ اللہ کی معرفت جانوروں کی بولیاں سمجھنے سے نہیں، بلکہ اپنے رب کی طرف رجوع کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔ اس خواہش سے باز آ جاؤ۔” مگر نوجوان اپنی ضد پر قائم رہا۔ آخرکار اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجازت ملنے پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اسے فرمایا: “اچھا، تمہارے اصرار پر میں تمہیں یہ علم عطا کرتا ہوں، لیکن یاد رکھو، اس میں تمہارے لیے آزمائش بھی…

Read more

میں نے ایک بار اپنے دادا سے پوچھا، جن کی شادی کو 60 سال سے زیادہ ہو چکے تھے:“پوری زندگی ایک ہی عورت سے محبت کرتے رہنے کا راز کیا ہے؟”مجھے امید تھی کہ وہ بات چیت، بھروسے یا معاف کرنے جیسی کوئی بات کہیں گے۔اس کے بجائے، انہوں نے کمرے میں دوسری طرف بیٹھی میری دادی کی طرف دیکھا اور کہا:“تم پوری زندگی ایک ہی عورت سے محبت نہیں کرتے۔”اس جواب نے مجھے دنگ کر دیا۔پھر انہوں نے بات جاری رکھی:“وہ ہر چند سال بعد بدل جاتی ہے۔ اور اگر تم یہ نہیں سیکھتے کہ جو انسان وہ بن رہی ہے اس سے محبت کیسے کی جائے، تو تم بالآخر اسے کھو دو گے۔”“جس عورت سے میں نے اپنے بیس کی دہائی کے شروع میں شادی کی تھی، وہ بالکل ویسی نہیں تھی جیسی وہ تیس کی عمر میں بنی۔ ماں بننے نے اسے بدل دیا۔ مشکل ادوار نے…

Read more

ایک دیہاتی اپنی لاٹھی میں ایک گٹھری باندھے ہوئے گانے گاتا سنسان سڑک پر چلا جارہا تھا۔ سڑک کے کنارے دور دور تک جنگل پھیلا ہوا تھا اور کئی جانوروں کے بولنے کی آوازیں سڑک تک آ رہی تھیں۔تھوڑی دور چل کر دیہاتی نے دیکھا کہ ایک بڑا سا لوہے کا پنجرہ سڑک کے کنارے رکھا ہے اور اس پنجرے میں ایک شیر بند ہے۔ یہ دیکھ کر وہ بہت حیران ہوا اور پنجرے کے پاس آ گیا۔ اندر بند شیر نے جب اس کو دیکھا تو رونی صورت بنا کر بولا۔’’بھیا تم بہت اچھّے آدمی معلوم ہوتے ہو۔ دیکھو مجھے کسی نے اس پنجرے میں بند کر دیا ہے اگر تم کھول دوگے تو بہت مہربانی ہوگی۔‘‘ دیہاتی آدمی ڈر رہا تھا مگر اپنی تعریف سن کر اور قریب آ گیا۔ تب شیر نے اس کی اور تعریف کر نا شروع کر دی۔’’بھیّا تم تو بہت ہی اچھے اور…

Read more

نوکر کی جیب سے نکلا ایک خط، اور امیر نے ایسا فیصلہ کیا کہ سب حیران رہ گئے گرمی کی ایک دوپہر تھی۔ ایک امیر شخص اپنے کمرے میں آرام کر رہا تھا اور اس کا کم عمر نوکر باہر بیٹھا پنکھا جھل رہا تھا۔ گرمی اور تھکن کے باعث نہ جانے کب دونوں کی آنکھ لگ گئی۔ کچھ دیر بعد امیر کی آنکھ کھلی تو اسے پیاس لگی۔ اس نے نوکر کو آواز دی، مگر کوئی جواب نہ آیا۔ وہ خود باہر نکلا تو دیکھا کہ لڑکا بے خبر سو رہا ہے۔ امیر اسے جگانے ہی والا تھا کہ اچانک اس کی نظر لڑکے کی جیب سے باہر نکلے ہوئے ایک خط پر پڑی۔ اس نے سوچا، شاید کوئی ضروری خط ہے۔ اس نے خط نکال کر پڑھنا شروع کیا۔ خط میں لکھا تھا: “میرے پیارے بیٹے! تمہارا دو روپے کا منی آرڈر مل گیا۔ یہ جان کر بہت…

Read more

ایک بادشاہ کا ایک لائق، تجربہ کار اور جنگ میں بہادری کے لیے مشہور فوجی کمانڈر تھا۔ اپنی ایک شاندار فتح کے بعد، بادشاہ نے محل میں ایک بڑی ضیافت کا اہتمام کیا، جس میں کھانے پینے کی فراوانی تھی اور جشن دیر رات تک جاری رہا.جشن ختم ہونے کے کافی دیر بعد، کمانڈر اپنے گھر کی طرف روانہ ہوا۔ راستہ اندھیرا تھا اور تقریباً سنسان تھا۔ جب وہ ایک موڑ کے قریب پہنچا تو اس نے اچانک دیکھا کہ جھاڑیوں میں ایک چیتا گھات لگائے بیٹھا ہے۔ایسا لگ رہا تھا کہ جانور ابھی چھلانگ لگانے ہی والا ہے۔شراب کے نشے میں دھت ہونے کے باوجود، اس کی برسوں کی تربیت کام آئی۔ بغیر کسی ہچکچاہٹ کے، کمانڈر نے اپنا کمان نکالا، ترکش سے ایک تیر نکالا، پوری طاقت سے ڈور کھینچی اور تیر چلا دیا۔تیر اپنے نشانے پر جا لگا۔یہ یقین کرتے ہوئے کہ اس نے چیتے کو مار…

Read more

ایک بادشاہ اپنے عقل مند وزیر کے ساتھ اکثر سفر پر جایا کرتا تھا۔ وزیر ہر معاملے میں دانائی سے مشورہ دیتا اور آخر میں ایک جملہ ضرور کہتا: “جو ہوتا ہے، اللہ بہتر کرتا ہے۔” بادشاہ کو کبھی کبھی یہ بات بہت ناگوار گزرتی۔ ایک دن دونوں شکار کے لیے جنگل گئے۔ اچانک جنگلی جانوروں نے حملہ کر دیا۔ کئی محافظ مارے گئے اور بادشاہ بھی شدید زخمی ہوگیا۔ اس کی ایک انگلی کٹ گئی۔ وزیر نے بادشاہ کو دیکھا اور حسبِ معمول کہا: “بادشاہ سلامت، جو ہوتا ہے، اللہ بہتر کرتا ہے۔” بادشاہ غصے سے آگ بگولا ہوگیا۔ “میری انگلی کٹ گئی، میں درد سے تڑپ رہا ہوں، اور تم کہتے ہو یہ بہتر ہے؟!” غصے میں بادشاہ نے وزیر کو ایک گہرے کنویں میں دھکا دے دیا اور اکیلا آگے بڑھ گیا۔ وزیر کنویں سے بھی یہی کہتا رہا: “جو ہوتا ہے، اللہ بہتر کرتا ہے۔” کچھ…

Read more

ایک لڑکے کو ڈاکٹر پسند آ گئی… اب جناب کیا کرتے…؟ وہ اپنے بزرگ والد کو روز کسی نہ کسی بہانے ہسپتال لے جانے لگا۔والد بیچارے سمجھتے رہے کہ بیٹا کتنا خیال رکھتا ہے… اصل میں معاملہ کچھ اور ہی تھا! جس ڈاکٹر کے پاس جاتے تھے وہ نہ صرف خوبصورت تھی بلکہ انتہائی خوش اخلاق بھی تھی۔ہر مریض سے پیار سے بات کرتی، خاص طور پر اس لڑکے کے والد کا بڑا خیال رکھتی تھی۔ ایک دن ڈاکٹر نے والد صاحب کو تھوڑا ڈانٹتے ہوئے کہا:“آپ دوائیاں وقت پر نہیں لیتے، اپنا خیال نہیں رکھتے!” یہ سن کر لڑکے کے دل میں لڈو پھوٹے…اس نے آہستہ سے اپنے والد کے کان میں کہا: “ابا… اگر یہ ڈاکٹر ہمارے گھر آ جائے نا… تو آپ کا کتنا خیال رکھے گی!” والد صاحب نے ایک لمحہ سوچا… پھر بولے: “بیٹا بات تو تمہاری بالکل ٹھیک ہے…ابھی میری عمر ہی کیا ہے،…

Read more

ایک چینی بزنس مین کی کمپنی ایک عرصے تک سعودی عرب میں کام کرتی رہی تھی۔ بعد ازاں اس نے کمپنی کا انتظام اپنے بیٹے کے سپرد کیا اور خود چین واپس آ گیا۔اس کی خواہش تھی کہ زندگی کے آخری حصے میں اپنے وطن کے پسماندہ علاقوں میں جا کر لوگوں کی خدمت کرے اور اپنی استطاعت کے مطابق ضرورت مندوں کا سہارا بنے۔ایک روز وہ چین کے ایک انتہائی پسماندہ علاقے سے گزر رہا تھا کہ اس کی نظر ایک نوجوان لڑکی پر پڑی۔ وہ ایک معذور بزرگ خاتون کو ویل چیئر پر بٹھا کر لے جا رہی تھی۔ شدید گرمی اور تیز دھوپ کے باوجود دونوں نے اپنے سروں اور جسم کو پلاسٹک کی بوریوں سے ڈھانپ رکھا تھا۔یہ منظر دیکھ کر بزنس مین رک گیا۔اس نے قریب جا کر ان کا حال پوچھا اور حیرت سے پوچھا:“اتنی شدید گرمی میں آپ دونوں نے پلاسٹک کی بوریاں…

Read more

ایک سلطنت کا بادشاہ بہت عقل مند مشہور تھا۔وہ اکثر اپنے وزیروں اور درباریوں سے ایسے سوال پوچھتا جن کا جواب صرف کتابوں میں نہیں، عقل میں چھپا ہوتا تھا۔ایک دن بادشاہ نے دربار میں اعلان کیا:“جو شخص مجھے یہ بتا دے کہ انسان کی سب سے بڑی کمزوری کیا ہے، اسے منہ مانگا انعام دیا جائے گا۔”دربار میں خاموشی چھا گئی۔کسی نے کہا، “لالچ۔”کسی نے کہا، “غصہ۔”کسی نے کہا، “غرور۔”بادشاہ کسی جواب سے مطمئن نہ ہوا۔اگلے دن ایک بوڑھا شخص دربار میں حاضر ہوا۔اس نے کہا:“بادشاہ سلامت! انسان کی سب سے بڑی کمزوری یہ سمجھنا ہے کہ وہ ہمیشہ درست ہے۔”بادشاہ نے پوچھا،“تم ایسا کیوں کہتے ہو؟”بوڑھے نے جواب دیا:“کیونکہ جو شخص اپنی غلطی ماننے سے انکار کر دے، وہ اپنی غلطی کو درست ثابت کرنے کے لیے ہزاروں غلط فیصلے کر سکتا ہے۔”بادشاہ کچھ دیر خاموش رہا۔پھر اس نے اپنے وزیروں کی طرف دیکھا اور کہا:“آج سے میرے…

Read more

ایک مالدار تاجر کا اکلوتا بیٹا تھا۔ جب وہ پندرہ سال کا ہوا تو اسے چند ایسے لڑکوں کی صحبت مل گئی جو سارا دن آوارہ گردی، عیش و عشرت اور دوسروں کے پیسوں پر موج اڑانے میں مصروف رہتے تھے۔ وہ روز اسے اپنے ساتھ لے جاتے اور اس کی جیب سے اچھی خاصی رقم خرچ کروا دیتے۔ تاجر کئی دن خاموشی سے سب کچھ دیکھتا رہا۔ آخر ایک دن اس نے بیٹے کو اپنے پاس بلایا اور نرمی سے کہا: “بیٹا! انسان کی پہچان اس کے دوستوں سے ہوتی ہے۔ اچھی صحبت انسان کو سنوار دیتی ہے اور بری صحبت اسے برباد کر دیتی ہے۔” بیٹا مسکرا کر بولا: “ابا جان! آپ میرے دوستوں کو نہیں جانتے۔ وہ میرے سچے دوست ہیں۔ اگر کبھی مجھ پر مشکل وقت آیا تو وہ سب سے پہلے میرے ساتھ کھڑے ہوں گے۔” تاجر نے کچھ دیر بیٹے کو دیکھا، پھر کہا:…

Read more

بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ ایک وسیع اور خوشحال سلطنت پر ایک نیک دل، بہادر اور انصاف پسند راجا حکومت کرتا تھا۔ اس کی رعایا اپنے راجا سے بہت خوش تھی، کیونکہ اس کے دور میں ہر طرف امن، خوشحالی اور انصاف کا بول بالا تھا۔ راجا کے چار بیٹے تھے۔ وہ عمر رسیدہ ہو چکا تھا اور چاہتا تھا کہ اس کے بعد تخت پر وہی بیٹا بیٹھے جو واقعی ایک اچھا حکمران بننے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ ایک دن راجا نے چاروں راجکماروں کو دربار میں بلایا اور کہا: “میرے بچو! میں اب بوڑھا ہو چکا ہوں۔ وقت آ گیا ہے کہ میں اپنے جانشین کا انتخاب کروں۔ لیکن میں یہ فیصلہ عمر یا پیدائش کی بنیاد پر نہیں کروں گا۔ تم میں سے جو سب سے زیادہ سمجھدار، سچا اور قابل ثابت ہوگا، وہی اس سلطنت کا اگلا راجا بنے گا۔” چاروں راجکمار حیرت سے اپنے…

Read more

ایک بادشاہ کے دو خاص مصاحب تھے، مگر دونوں ایک دوسرے کے سخت دشمن تھے۔ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے۔ ایک دن موقع پا کر ایک مصاحب نے بادشاہ کے کان بھرنے شروع کیے: “حضور! آپ کا دوسرا مصاحب بہت منحوس ہے۔ اگر کوئی شخص صبح اٹھ کر اس کا چہرہ دیکھ لے تو اسے پورا دن کھانا نصیب نہیں ہوتا۔ میں نے خود کئی بار یہ بات آزمائی ہے۔ ایسا شخص آپ کی قربت کے قابل نہیں۔” بادشاہ نے مسکرا کر کہا: “اگر تم نے اس کا چہرہ دیکھنے کے بعد کسی دن کھانا نہیں کھایا تو اس میں اس بے چارے کا کیا قصور؟ ممکن ہے اس دن تم کام میں ایسے مصروف رہے ہو کہ کھانے کا وقت ہی نہ ملا ہو۔” چغل خور نے فوراً کہا: “حضور! میں جھوٹ نہیں بول رہا۔ اگر آپ کو یقین نہیں…

Read more

Un millonario empresario llamado Watson se disponía a salir una mañana. Los sirvientes lo esperaban con la mesa del desayuno puesta, cuando un anciano hambriento se acercó y preguntó: —¡Empresario! Llevo tres días con hambre. Si tiene algo de comida, por favor, que Dios me la dé para que pueda saciar mi hambre. Watson, muy enfadado, le dijo: —¡Viejo estúpido! Esto no es una panadería. El anciano insistió: —Solo deme algo de dinero para comprar pan en el mercado. Watson le dijo: —Ahora termine de hablar y váyase de inmediato. De lo contrario, el perro empezará a preguntarte cómo estás ahora mismo. El pobre hombre guardó silencio y se marchó muy a regañadientes. Pero en cuanto Watson se sentó a la mesa, se dio cuenta de que, por un descuido, el té, la mantequilla y los frutos secos se habían manchado de queroseno, y todo olía a aceite. Se levantó…

Read more

Cuando murió el burro de Bashar bin Bard, él dijo: «Mi burro era más inteligente que los jueces; jamás cometía un error ni un desliz. De repente, cuando nadie sospechaba que estuviera enfermo, enfermó y murió. Entonces lo vi en un sueño y le dije: ¿Acaso no te limpié? ¿Acaso no enfrié el agua para ti? ¿Qué causó entonces tu muerte?». Él dijo: «¿Recuerdas cuando me llevaste a la botica?». Yo dije: «Sí». Él dijo: «En aquel entonces, pasó un burro, y me enamoré de él y morí enamorado de él». Bashar dijo: «Le pregunté: ¿También escribiste algún poema sobre él?». Él dijo: «Sí». Entonces recitó estos poemas: Mi corazón se enamoró del burro que estaba en la puerta de la botica. El día que pasamos,me volvió loco con sus hermosos dientes. Era una mujer grácil,cuyo amor derretía mi cuerpo. Su mejilla era suave y tersa,igual que la de Shifran.…

Read more

Si vives en una casa alquilada, otra familia vive en el piso de arriba. Resulta que se mudan a otra colonia y dejarán esta casa. Son gente bastante buena y razonable. Pero desde hace unos días noté que el hombre tenía una actitud bastante seria. Como era domingo, estaba lavando ropa y tendiéndola en el tendedero cuando lo vi bajar las escaleras desde arriba… Cuando lo saludé, se detuvo y respondió secamente. Cuando le pregunté por la mudanza, dijo: “Sí, nos vamos en un día y medio”. Al notar su tono seco, le pregunté si parecía un poco enojado, si había algún problema. Dijo: “Sí, hay un problema”. Dije… “Me gustaría contarte…” Él dijo: “Sí, me gustaría. ¿Lavas la ropa todos los domingos?” Le dije: “Sí, lo hago”. Él dijo: “También instalamos limpiaparabrisas y cocinamos”. Le dije sonriendo: “Sí, también hago eso”. Empezó a decir: “Por eso nos mudamos de…

Read more

Érase una vez, en un país, un rey muy cruel y arrogante. Se llamaba Shah Bahram y estaba tan orgulloso de su poder que no estaba dispuesto a escuchar a nadie. Si alguien decía algo en contra de su voluntad, las consecuencias serían graves para él. En la corte de Shah Bahram había un barbero llamado Jalal. Jalal era muy hábil en su trabajo; sus manos eran limpias y afiladas. El rey confiaba en su destreza, así que Jalal era quien le cortaba el pelo todos los días. Como Jalal estaba tan cerca del rey a diario, desarrolló algo especial: empezó a reconocer su estado de ánimo. Sabía cuándo el rey estaba contento y cuándo estaba enfadado. Una mañana, Jalal estaba cortando el pelo del rey. El rey estaba sentado tranquilamente, como de costumbre. Mientras cortaba, Jalal notó de repente que una pequeña sección de cabello en el centro de…

Read more

Un hombre pobre tuvo que viajar a otra ciudad por un asunto urgente durante varios meses. Antes de partir, depositó sus ahorros, mil rupias, con un prestamista famoso. El hombre pobre confiaba en el prestamista, así que no pidió recibo ni testigos. Cuando regresó después de seis meses, fue directamente a la tienda del prestamista. Le dijo:—¡Sethji! Devuélvame mi depósito. El prestamista fingió sorpresa y dijo:—¿Qué depósito? ¡No he recibido dinero de usted! El hombre pobre se quedó sin aliento. Siguió suplicando:—¡Sethji! Por el amor de Dios, devuélvame mis mil rupias. Se las deposité a usted. Pero el prestamista no le hizo caso. El hombre pobre estuvo dando vueltas por la tienda durante varios días, pero siempre recibía la misma respuesta:—¡No tengo nada de su dinero! Finalmente, el pobre hombre, desesperado, llegó a la corte del rey y le contó toda la historia. El rey lo escuchó atentamente y dijo:…

Read more

واٹسن نامی ایک لکھ پتی سوداگر ایک دن صبح کے وقت کہیں جانے کو تیار تھا۔ نوکر ناشتے کی میز لگائے منتظر کھڑے تھے کہ اتنے میں ایک بھوکے بوڑھے نے آکر سوال کیا۔ سوداگر صاحب! میں تین دن سے بھوکا ہوں۔ کچھ کھانا ہو تو خُدا کی راہ میں دلوا دو تاکہ میں بھی پیٹ کے دوزخ کو بھر لوں۔ “ واٹسن نے نہایت کراہت سے کہا۔ ”احمق بوڑھے ! یہ نانبائی کی دکان نہیں۔“ بوڑھے نے کہا۔ ”کچھ پیسے ہی دے دیجیے کہ بازار سے روٹی خرید لوں۔“ واٹسن بولا۔ بس اب تقریر بازی ختم کر کے فوراً دفع ہو جاؤ۔ ورنہ ابھی کتا مزاج پرسی کرے گا۔“ غریب خاموش ہو کر نہایت بے دلی کے ساتھ چلا گیا۔ لیکن واٹسن جوں ہی میز پر بیٹھا اُسے معلوم ہوا کہ کسی بے احتیاطی سے چائے مکھن اور میوے کو مٹی کا تیل لگ گیا ہے اور سب چیزوں…

Read more

Un luchador subió al tren, pero lamentablemente no encontró asiento. Tras buscar un buen rato, encontró un asiento donde estaba sentada una anciana inglesa con su perro. El luchador dijo cortésmente: “¡Señora! Si baja a su perro, yo también me sentaré”. La anciana respondió enfadada: “¡No toque a mi perro!”. El luchador avanzó en silencio. Recorrió todo el tren, pero no encontró asiento. Después de un rato, volvió al mismo asiento y dijo: “¡Señora! Por favor, baje a su perro, necesito un asiento”. La anciana respondió aún más enfadada: “¡Ya le dije que no toque a mi perro!”. El luchador no dijo nada. Con calma, se acercó a la ventana, la abrió, cogió al perro y lo tiró por la ventana. 😳 La anciana se puso roja de rabia y se quedó mirando fijamente al luchador. En ese momento, se oyó la voz del marido de la anciana desde el…

Read more

Fue hace mucho tiempo. Un hombre pobre que vivía en una zona calurosa y arenosa solía oír historias sobre la generosidad de su rey. Un pensamiento cruzó por su mente: “Si también le llevo un regalo al rey, tal vez me lo agradezca”. Pero la pregunta era: ¿qué regalo debería llevar? El agua era muy valiosa en esa región. No había ríos ni pozos en muchos kilómetros a la redonda. El agua que se acumulaba en los estanques después de la lluvia era la única fuente de sustento para la gente. El hombre pobre pensó: “Le llevaré una jarra de agua al rey. ¿Qué regalo podría ser más valioso en mi tierra?”. Llenó una jarra con agua limpia y viajó durante varios días hasta llegar a la ciudad del rey. Al llegar, vio una escena extraña. El rey estaba de pie a la orilla del río y estaba a punto…

Read more

40/3620
NZ's Corner