بلاعنوان
ایک شخص طبیب کے پاس گیا اور کہا کہ ذرا میری نبض دیکھ دیجئے۔ طبیب نے نبض ہاتھ میں لی اور جان گیا کہ اس مریض کی صحت کی امید نہیں۔ اس سے کہا کہ جو تیرے جی میں آئے وہ کر، تاکہ جسم سے یہ بیماری جاتی رہے۔ اس مرض کے لئے صبر و پرہیز کو نقصان سمجھ اور جس کام کو تیرا دل چاہے وہ ضرور کر۔بیمار نے کہا کہ خدا تجھے اچھا رکھے۔ اے بھائی اب تو میں نہر کے کنارے جاتاہوں۔ نہر کے کنارے ایک صوفی بیٹھا ہاتھ منہ دھو رہاتھا۔ یکایک جو اس مریض کے جی میں آیا اور صوفی کی گدی پر ایک چانٹے کا ہاتھ صاف کیا۔ کیونکہ اس نے سوچا کہ چانٹا لگانے کی رغبت ہے۔ اب اس رغبت کو پورا نہ کروں گا تو طبیب کہہ چکا ہے کہ بیماری بڑھ جائے گی۔ جو نہی اس نے تڑاق سے اسے چانٹا…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday bloganuary bloganuary dailyprompt blogs
بلاعنوان۔۔۔!
بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ جرمنی کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک غریب کسان رہتا تھا جس کا نام ہنس تھا۔ ہنس کے پاس صرف ایک بیل تھا اور ایک مرغی۔ بیل سے وہ اپنے کھیت میں ہل چلاتا تھا اور مرغی سے اسے انڈے ملتے تھے جنہیں وہ بازار میں بیچ کر روٹی خریدتا تھا۔ لیکن ایک سال قحط پڑا۔ کھیتوں میں گھاس نہیں اگی، دریا سوکھ گئے اور ہوا اتنی گرم چلنے لگی کہ درختوں کے پتے جھلس گئے۔ ہنس کی مرغی مر گئی اور بیل کمزوری سے چلنے کے قابل نہیں رہا۔ ہنس بہت پریشان تھا۔ اس نے اپنی بیوی سے کہا، “میاں بیوی! اب ہمارے پاس کچھ نہیں بچا۔ کھانے کو ایک روکڑی بھی نہیں ہے۔ مجھے کہیں جا کر کام تلاش کرنا ہوگا۔” اس کی بیوی نے کہا، “جاؤ میاں، لیکن خالی ہاتھ مت آنا۔ چاہے ایک روٹی ہی لے آنا، لیکن خالی…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday bloganuary dailyprompt urdustory urdupoetry urdu blog
بلاعنوان
ایک سنسان اور ویران راستے پر ایک آدمی اپنے گدھے کے ساتھ سفر کر رہا تھا۔ ہر طرف خاموشی تھی، جیسے پوری وادی سانس روکے کھڑی ہو۔ اچانک گدھے کا پاؤں پھسلا اور وہ ایک گہرے گڑھے میں جا گرا۔ گڑھا اتنا گہرا تھا کہ نکلنا ممکن دکھائی نہیں دیتا تھا۔ خوش قسمتی سے گدھا زخمی نہیں ہوا، مگر خوف اور بے بسی کے باعث زور زور سے رینگنے لگا۔ اس کی درد بھری آوازیں سن کر مالک فوراً دوڑا اور اسے نکالنے کی کوشش شروع کر دی۔ وہ کبھی رسی پھینکتا، کبھی ہاتھ بڑھاتا، کبھی پتھر رکھ کر سہارا بنانے کی کوشش کرتا، مگر ہر کوشش ناکام رہی۔ وقت گزرتا گیا، سورج ڈھلنے لگا، اور امید کمزور پڑنے لگی۔ آخرکار، تھکن اور مایوسی کے عالم میں اس آدمی نے ایک سخت فیصلہ کیا۔ اس نے سوچا:“یہ گدھا اب اس گڑھے میں بھوک اور خوف سے مر جائے گا، بہتر…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday bloganuary dailyprompt urdustory urdupoetry urdu blog
بلاعنوان
بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ ایک عظیم الشان شہنشاہ تھا جس نے حکم دیا کہ ایک ایسا محل تعمیر کیا جائے جس کی مثال پوری دنیا میں نہ ملے۔ اس محل میں بے شمار عجائبات تھے، مگر سب سے حیرت انگیز ایک خاص کمرہ تھا۔ اس کمرے کی دیواریں، چھت، دروازے اور یہاں تک کہ فرش بھی مکمل طور پر شفاف آئینوں سے بنایا گیا تھا۔ یہ آئینے اس قدر صاف اور بے داغ تھے کہ اندر آنے والا شخص فوراً دھوکہ کھا جاتا۔ قدم رکھتے ہی یوں لگتا جیسے وہ کسی اور ہی دنیا میں آ گیا ہو۔ اس کمرے کی ایک اور عجیب بات یہ تھی کہ یہاں معمولی سی سرگوشی بھی گونج بن کر واپس پلٹتی تھی، اور ہر آواز دیواروں سے ٹکرا کر کئی گنا بڑھ کر لوٹ آتی تھی۔ ایک رات ایک آوارہ کتا بھٹکتا ہوا محل میں داخل ہوا اور بھاگتا ہوا اسی…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday bloganuary dailyprompt urdustory urdu blog bloganuary
بلاعنوان
ایک گاؤں میں ایک آدمی رہتا تھا جو انتہائی کاہل اور چالاک طبیعت کا مالک تھا۔ محنت کرنا اس کے مزاج کے خلاف تھا، مگر دوسروں کو نقصان پہنچا کر فائدہ اٹھانا اس کی عادت بن چکی تھی۔ اس کے پاس ایک گدھا تھا، جس کی دیکھ بھال بھی وہ خود نہیں کرتا تھا۔ وہ گدھے کو رات کے وقت چپکے سے لوگوں کے کھیتوں میں چھوڑ دیتا تاکہ وہ وہاں چر کر اپنا پیٹ بھر لے، اور اس طرح اس کی سستی بھی قائم رہے اور خرچ بھی نہ آئے۔ مگر جب لوگوں کو اس کی حرکتوں کا علم ہوا تو انہوں نے سختی سے منع کر دیا کہ اگر تمہارا گدھا دوبارہ ہمارے کھیت میں آیا تو اسے مار دیا جائے گا۔ اب آدمی پریشان ہو گیا کہ بغیر خرچ کے کام کیسے چلے؟ بہت سوچنے کے بعد اس کے ذہن میں ایک مکاری آئی۔ اس نے کہیں…
#urduquotes #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday bloganuary dailyprompt urdu blog urdustory
ایک زمانے کی بات ہے۔ ایک آدمی کے پاس ایک خوبصورت کتا تھا، جسے وہ بے حد چاہتا تھا۔ وہ کتے کو اپنے پاس بٹھا کر کھلاتا، سہلاتا اور اس سے باتیں کرتا۔ کتا بھی اپنے مالک کا نہایت فرمانبردار تھا۔ جہاں وہ جاتا، کتا دم ہلاتا اس کے پیچھے پیچھے چلتا اور اس کی توجہ حاصل کرنے کے لیے اچھل کود کرتا۔ اسی آدمی کے پاس ایک گدھا بھی تھا۔ وہ دن بھر بوجھ ڈھو کر تھک جاتا اور رات کو اکیلا ایک کونے میں بندھا رہتا۔ مالک کبھی اس کی طرف توجہ نہ دیتا۔ ایک دن گدھے نے کھڑکی میں منہ ڈال کر اندر جھانکا۔ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ مالک اپنے کتے کو نہ صرف مزے دار کھانا کھلا رہا ہے بلکہ اسے گود میں بٹھا کر پیار بھی کر رہا ہے۔ یہ منظر دیکھ کر گدھے کے دل میں حسد کی آگ بھڑک اٹھی۔…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday bloganuary urdu blog urduquotes urdupoetry urdustory
بلاعنوان۔۔۔!
اطالیہ کے ایک خوبصورت شہر میں ایک بادشاہ رہتا تھا جو اپنی شان و شوکت اور انصاف پسندی کے لیے مشہور تھا۔ اس کے پاس بہت سے خزانے تھے، لیکن اسے اپنے وزراء پر بھروسہ نہیں تھا۔ وہ جاننا چاہتا تھا کہ اس کے درمیان سب سے زیادہ ایماندار کون ہے۔ ایک دن شاہی محل میں ایک عجیب و غریب واقعہ پیش آیا۔ بادشاہ نے بازار سے ایک بہت بڑا ہیرا خریدا تھا۔ وہ بہت قیمتی تھا اور اس کی چمک دنیا میں کہیں نہیں تھی۔ شام کو جب بادشاہ نے ہیرے کو اپنے صندوق میں رکھا اور اگلی صبح جب اس نے دیکھا تو وہ صندوق خالی تھا۔ بادشاہ نے اپنے وزراء کو جمع کیا اور کہا، “میرا ہیرا کسی نے چرا لیا ہے۔ میں جاننا چاہتا ہوں کہ تم میں سے کون مجھے اس کا پتہ بتا سکتا ہے؟” وزراء نے بہت کوشش کی، لیکن کسی کو کچھ…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday bloganuary dailyprompt urdustory urdupoetry urdu blog
بلاعنوان۔۔۔!
پرانے زمانے کی بات ہے، جب سفر صرف فاصلے طے کرنے کا نام نہیں تھا بلکہ انسانوں کے باطن کو بھی آشکار کر دیتا تھا۔ چند دوست ایک طویل اور تھکا دینے والے سفر پر نکلے ہوئے تھے۔ دن بھر کی گرد، دھوپ کی تپش اور مسلسل چلتے رہنے کی تھکن ان کے چہروں سے صاف جھلک رہی تھی، مگر دلوں میں منزل تک پہنچنے کی امید ابھی زندہ تھی۔ شام کے سائے گہرے ہونے لگے تو وہ ایک چھوٹی سی بستی کے قریب پہنچے، جہاں مٹی کے گھروں کے درمیان ایک گھر ایسا تھا جس کے دروازے پر ٹھہرنے والے کو عجیب سا سکون محسوس ہوتا تھا۔ اسی گھر کا مالک ایک نیک دل، سادہ مزاج اور بے مثال مہمان نواز شخص تھا۔ اس نے مسافروں کو دیکھا تو بغیر کسی سوال کے مسکرا کر بولا، “آئیے، مسافر کبھی اجنبی نہیں ہوتے”، اور انہیں اپنے گھر لے آیا۔ اس…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday bloganuary dailyprompt urdustory urdupoetry urdu blog
بلاعنوان
ایک بادشاہ اپنے غلام کے ساتھ کشتی میں سوار تھا۔ غلام نے نہ کبھی دریا دیکھا تھا، نہ ہی کشتی کا سفر کیا تھا۔ جیسے ہی کشتی پانی میں ہچکولے لینے لگی، غلام کے چہرے کا رنگ اُڑ گیا۔ اُس کے ہاتھ پاؤں کانپنے لگے، اور وہ خوف سے چیخنے اور رونے لگا۔کشتی میں بیٹھے لوگ پریشان ہو گئے، اور بادشاہ کو اس کی آواز ناگوار گزرنے لگی۔ ہر کوشش ناکام ہو گئی، غلام کسی صورت خاموش ہونے کو تیار نہ تھا۔اسی دوران کشتی میں موجود ایک دانا شخص آگے بڑھا اور ادب سے بولا: “حضور! اگر اجازت ہو تو میں اسے خاموش کر سکتا ہوں۔”بادشاہ نے فوراً اجازت دے دی۔دانا نے اشارہ کیا… اور سپاہیوں نے غلام کو اچانک دریا میں دھکا دے دیا!غلام پانی میں گرا… ایک، دو، تین غوطے کھائے… زندگی آنکھوں کے سامنے گھومنے لگی… وہ ہاتھ پاؤں مارتا رہا…پھر سپاہیوں نے اس کے بال پکڑ…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday bloganuary dailyprompt urdustory urdupoetry urdu blog
تین مشورے۔۔۔!
مصر کے ایک پرانے شہر قاہرہ میں ایک غریب مگر ذہین نوجوان رہتا تھا جس کا نام جمیل تھا۔ جمیل کے پاس دنیا کی کوئی دولت نہیں تھی، نہ گھر تھا، نہ زمین تھی، نہ اونٹ تھے۔ اس کے پاس صرف ایک چیز تھی، اس کی ماں جو بہت بوڑھی ہو چکی تھی اور جس کی آنکھیں دھندلی ہو گئی تھیں۔ وہ اپنی ماں کے لیے روزانہ شہر کی گلیوں میں بھیک مانگتا تھا اور جو کچھ ملتا، اس سے وہ دونوں اپنا پیٹ پالتے تھے۔ ایک دن جمیل نے سنا کہ شہر کے ایک بہت بڑے عالم دین نے لوگوں کے لیے اپنا دروازہ کھول رکھا ہے۔ وہ ہر آنے والے کو ایک اچھا مشورہ دیتے ہیں۔ جمیل نے سوچا کہ کیوں نہ وہ بھی اس عالم کے پاس جائے اور کوئی ایسا مشورہ لے آئے جو اس کی زندگی بدل دے۔ وہ عالم کے گھر پہنچا تو وہاں…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday bloganuary dailyprompt urdustory urdupoetry urdu blog
بلاعنوان۔۔۔!
ایک دور دراز گاؤں تھا جہاں ہر طرف سبز کھیت، پھلدار درخت اور خوشگوار ہوائیں چلتی تھیں۔ سورج اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا، لیکن اس کی تپش میں بھی ایک عجیب سی نرمی تھی۔ پرندے چہچہا رہے تھے، کھیتوں میں کسان محنت کر رہے تھے اور فضا میں زندگی کی ایک خاص رونق تھی۔ اسی گاؤں کے ایک کنارے پر ایک بڑا سا درخت تھا، جس کے نیچے ایک ٹڈا رہتا تھا۔ یہ ٹڈا اپنی زندگی سے بے حد خوش تھا۔ اس کے پاس نہ کوئی فکر تھی، نہ کوئی ذمہ داری۔ وہ صبح اٹھتا، درخت پر چڑھتا، دھوپ میں بیٹھ کر گانا گاتا، اور پھر سارا دن چھلانگیں لگاتا اور مزے کرتا۔ ٹڈے کو سب سے زیادہ پسند یہ تھا کہ وہ دوسروں کو کام کرتے دیکھ کر بھی ہنسے اور خود کو “آزاد روح” سمجھے۔ وہ اکثر کہتا: “زندگی کا اصل مقصد مزہ…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday bloganuary dailyprompt urdustory urdupoetry urdu blog
بلاعنوان
ایک دفعہ شیطان سڑک کنارے اداس بیٹھا تھا، پاس سے ایک گدھا گزرا۔ گدھے نے پوچھا، “استاد! خیر تو ہے؟ آج اتنے پریشان کیوں ہو؟” شیطان نے ٹھنڈی آہ بھری اور سامنے والے گھر کی طرف اشارہ کر کے بولا، “یار، اس گھر میں میاں بیوی رہتے ہیں۔ پچھلے دس سال سے میں ان میں جھگڑا کرانے کی کوشش کر رہا ہوں، پر ناکام رہا۔ بیوی اتنی سیانی ہے کہ میرا ہر وار خالی جاتا ہے۔” گدھا ہنسا اور بولا، “بس اتنی سی بات؟ یہ کام تو میں بھی کر سکتا ہوں۔”شیطان نے چیلنج قبول کر لیا۔ گدھا گیا اور اس گھر کے باہر زور زور سے “ہیں ہاوں… ہیں ہاوں” کرنا شروع کر دیا۔شوہر باہر نکلا، گدھے کو دیکھا اور بیوی سے بولا: “بیگم! دیکھو تمہارا رشتہ دار ملنے آیا ہے۔” بیوی کچن سے نکلی، ایک نظر گدھے کو دیکھا اور مسکرا کر شوہر سے بولی: “جی بالکل! سسرالی…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday bloganuary dailyprompt urdustory urdupoetry urdu blog
بلاعنوان
بہت سالوں کی بات ہے، ایران کے ایک شہر میں دو بھائی رہتے تھے۔ ایک کا نام قاسم تھا اور دوسرے کا، علی بابا۔ قاسم کی شادی ایک بہت امیر عورت سے ہوئی تھی، جس کی مدد سے اس نے ایک بڑا کاروبار سنبھال لیا اور شہر کے امیر آدمیوں میں شامل ہو گیا۔ دوسری طرف علی بابا بالکل سادہ زندگی گزار رہا تھا۔ وہ اپنی بیوی اور گدھے کے ساتھ روزانہ صبح سویرے جنگل میں جاتا، درختوں سے لکڑیاں کاٹتا اور شہر میں جا کر بیچ آیا کرتا تھا۔ ایک دن علی بابا جنگل میں اپنے معمول کے مطابق لکڑیاں کٹ رہا تھا کہ اچانک اس نے دور سے گھوڑوں کی ٹاپیں سنیں۔ اس نے جلدی سے ایک اونچے درخت پر چڑھ کر اپنے آپ کو پتوں میں چھپا لیا۔ تھوڑی دیر بعد وہاں چالیس مسلح ڈاکو گھوڑوں پر سوار ہو کر پہنچے۔ ان سب کے کندھوں پر تلواریں…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday bloganuary dailyprompt urdustory urdupoetry urdu blog
بلاعنوان۔۔۔🙂!
گاؤں کا ایک سادہ سا بندہ بڑے مزے سے مکئی کے گرم گرم، خوشبودار بھٹے کھا رہا تھا۔ہر دانہ ایسے چبا رہا تھا جیسے کوئی خزانہ مل گیا ہواچانک کیا ہوا… ایک سنہری سا دانہ اس کے ہاتھ سے پھسل کر زمین پر گر گیا۔پاس ہی ایک مرغا کھڑا تھا، جو پہلے ہی اس بندے کو حسرت بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا 🐔جیسے ہی دانہ گرا… مرغا بجلی کی طرح اس پر جھپٹا!لیکن… 😏مرغے سے پہلے ہی اس بندے نے “اسپیڈ” دکھائی، جھٹ سے دانہ اٹھایا اور منہ میں ڈال لیا۔ابھی وہ فاتحانہ مسکراہٹ ہی دے رہا تھا کہ…⚡ اچانک دانہ اس کی سانس کی نالی میں جا پھنسا!اب حالت یہ… 😨سانس بند… آنکھیں باہر… چہرہ لال!گاؤں والے سمجھے شاید کوئی روحانی کیفیت ہو گئی ہےوہ بیچارہ شہر کے ایک نہیں، دو نہیں بلکہ کئی ہسپتالوں کے چکر لگاتا رہا…ہر جگہ ایک ہی جواب:“بھائی! یہ تو بڑا خطرناک کیس…
#MessageOfTheDay #میسیج_آف_دی_ڈے #DailyMotivation #UrduQuotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollection #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday bloganuary dailyprompt bloganuary dailyprompt urdustory urdupoetry urdu blog
بلاعنوان۔۔۔!
بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ شام کے علاقے میں واقع ایک شہر، جو اپنی سرسبز وادیوں اور بلند و بالا پہاڑوں کے لیے مشہور تھا، پر ایک بادشاہ “قسیصر” حکومت کرتا تھا۔ اس بادشاہ کا ایک بیٹا تھا جس کا نام “براق بن روحان” تھا۔ شہزادہ براق اپنی غیر معمولی خوب صورتی، بہادری اور سخاوت کے لیے پورے علاقے میں مشہور تھا۔ اس کے سنہری بال اس کے کندھوں تک لٹک رہے تھے، اس کی آنکھیں شہد جیسی مٹھاس رکھتی تھیں، اور اس کی شکل و صورت دیکھ کر ہر کوئی اپنی نظریں جھکا لیتا تھا۔ لیکن اس کی سب سے بڑی خوبی اس کی وفاداری اور اپنی قوم سے محبت تھی۔ اسی شہر میں ایک نجومی رہتا تھا جس کا نام “سابا” تھا، جو براق کا روحانی پیشوا اور معتمد خاص تھا۔ ایک دن نجومی سابا نے براق کو یہ پیشین گوئی سنائی کہ اسے اپنے شہر کے…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday bloganuary dailyprompt urdustory،urdu blog
بلاعنوان
ایران کے ایک بادشاہ نے اپنے بیٹے کی تعلیم و تربیت کے لیے ایک نہایت نیک اور درویش صفت استاد کا انتخاب کیا۔ بادشاہ نے اسے بلا کر کہا “میں چاہتا ہوں کہ میرا بیٹا دین، اخلاق اور حکمت سیکھے، کیونکہ کل کو یہی شہزادہ میری سلطنت کا وارث ہوگا۔” استاد نے اس ذمہ داری کو پوری دیانت اور اخلاص کے ساتھ قبول کیا۔ اس نے شہزادے کو قرآنِ مجید کی تعلیم دی، احادیثِ مبارکہ پڑھائیں، اور اسے عدل، انصاف اور حکمت کے اصولوں سے روشناس کروایا۔ وقت گزرتا گیا اور شہزادہ علم و ادب میں پختہ ہوتا چلا گیا۔ جب اس کی تعلیم مکمل ہوئی تو دستار بندی کی تقریب ہوئی اور وہ رسمی طور پر تعلیم سے فارغ ہوگیا۔ چند دن بعد استاد نے شہزادے سے کہا “بیٹے! کل میرے پاس ضرور آنا، مجھے تم سے ایک اہم بات کرنی ہے۔ شہزادہ وقت مقررہ پر آیا۔ استاد نے…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday bloganuary dailyprompt urdustory urdupoetry urdu blog
بلاعنوان
رات صرف گہری نہیں تھی بھاری تھی۔ آسمان پر بادل اس طرح گرج رہے تھے جیسے کسی نے صدیوں کا دکھ ایک ہی رات میں زمین پر اتارنے کا فیصلہ کر لیا ہو۔ بارش کی ہر بوند چھت پر نہیں، جیسے دل پر گر رہی تھی، مسلسل، بے رحم، اور بے آواز چیخوں کے ساتھ۔ ایک کچی سی جھونپڑی کے اندر، ایک مدھم سا چراغ جل رہا تھا۔اور اس چراغ کی لو بھی جیسے تھک چکی تھی۔ وہاں ایک بیوہ عورت بیٹھی تھی، حلیمہ۔ اس کے چہرے پر وقت کے نشان تھے، آنکھوں میں وہ خالی پن، جو صرف مسلسل صبر سے پیدا ہوتا ہے، اور دل میں ایک ایسی خاموش جنگ، جس کا کوئی گواہ نہیں ہوتا۔ اس کے شوہر، اکرم، کو گزرے تین سال ہو چکے تھے، مگر اس کے جانے کے بعد جو خلا پیدا ہوا تھا، وہ وقت بھی پُر نہ کر سکا۔ کونے میں اس…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday bloganuary dailyprompt urdustory urdupoetry urdu blog
بلعام کا واقعہ
حضرت موسیٰ علیہ السلام جب سرزمینِ شام کی طرف پیش قدمی کر رہے تھے تو بلقاء کے علاقے میں ایک شخص رہتا تھا جس کا نام بلعام بن باعوراء تھا۔ وہ اپنی قوم میں اس وجہ سے مشہور تھا کہ اس کی دعائیں قبول ہوتی تھیں اور اسے خاص روحانی علم عطا کیا گیا تھا، یہاں تک کہ بعض روایات کے مطابق وہ اسمِ اعظم سے واقف تھا۔ اس کی قوم نے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کی آمد کی خبر سنی تو وہ خوف زدہ ہو گئے۔ وہ بلعام کے پاس آئے اور کہنے لگے۔ “موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کے ساتھ آ رہے ہیں، وہ ہمیں ہمارے گھروں سے نکال دیں گے، ہماری زمینوں پر قبضہ کر لیں گے۔ تم ہمارے لیے دعا کرو کہ وہ یہاں نہ آ سکیں۔ بلعام نے حقیقت جانتے ہوئے جواب دیا: “افسوس ہے تم پر! وہ اللہ کے نبی…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday bloganuary bloganuary dailyprompt bloganuary dailyprompt dailyprompt urdustory urdu blog bloganuary
بلاعنوان
ایک گاؤں کا سکھ، چین اور آرام سے بھرا ماحول، جہاں ایک چوہدری صاحب رہتے تھے۔ چوہدری صاحب خود کو بہت سیانا سمجھتے تھے، لیکن درحقیقت وہ کافی بھولے تھے۔ ان کے گھر کے پاس ایک حجام کی دکان تھی، جس کا مالک جیدا نامی ایک مکار شخص تھا۔چوہدری: (جیدے کی دکان پر حجامت کراتے ہوئے، فخر سے) “جیدے! میرے جیسا کوئی سیانا آدمی اس گاؤں میں ہے؟”جیدا: (مکار مسکراہٹ کے ساتھ) “بالکل نہیں چوہدری صاحب! آپ تو عقل کے سمندر ہیں۔ لیکن… آپ کو معلوم ہے، شہر کے لوگ ایک ایسی ترکیب جانتے ہیں جس سے عقل اور بھی بڑھ جاتی ہے۔”چوہدری: (شوق سے) “کیا؟ وہ کون سی ترکیب ہے؟”جیدا: “شہر کے لوگ کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص ہفتے میں ایک بار اپنے بال ‘الٹے’ کٹوائے، تو اس کی عقل دگنی ہو جاتی ہے۔ میں تو یہ کام صرف خاص لوگوں کے لیے کرتا ہوں۔”چوہدری: (خوشی سے) “جیدے!…
#UrduQuotes #MoralStory #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday bloganuary dailyprompt urdustory urdupoetry urdu blog
بلاعنوان۔۔۔!
کہتے ہیں ایک زمانے میں ایک چرواہا لڑکا تھا۔ وہ ہر روز اپنی بکریاں لے کر گاؤں سے دور جنگل میں چرایا کرتا تھا۔ لوگ اسے سمجھاتے کہ کہیں بھیڑیا نہ آ جائے، لیکن وہ کسی کی سنتا نہ تھا۔ اس نے ایک دن سوچا، کیوں نہ گاؤں والوں کے ساتھ تھوڑا مذاق کیا جائے۔ چنانچہ اس نے اونچی آواز میں چلانا شروع کر دیا، “بھائیو! بھیڑیا آ گیا، بھیڑیا آ گیا، میری مدد کرو!” یہ سن کر سارے گاؤں والے ہتھیار لے کر جنگل کی طرف دوڑ پڑے۔ جب وہ وہاں پہنچے تو دیکھا کہ نہ تو کوئی بھیڑیا ہے اور نہ ہی کوئی خطرہ۔ چرواہا ان کو دیکھ کر خوب ہنسا۔ لوگ بہت غصے ہوئے اور اسے سمجھا کر واپس چلے گئے۔ چند روز بعد اس نے پھر وہی شرارت کی۔ لوگ پھر دوڑے آئے، اور پھر وہاں کچھ نہ تھا۔ اس بار لوگوں نے پکّا فیصلہ کر…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday messageoftheday bloganuary dailyprompt bloganuary