بلاعنوان 😂
بٹ صاحب اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھے گپ شپ لگا رہے تھے کہ اچانک میز پر رکھا موبائل بج اٹھا۔ بٹ صاحب نے فوراً فون اٹھایا اور بولے: “ہیلو!” دوسری طرف سے ایک خاتون کی آواز آئی: “سنیے! میں مارکیٹ میں ہوں۔ یاد ہے، کل ہم نے سونے کا ایک خوبصورت ہار دیکھا تھا؟ آپ کو بھی بہت پسند آیا تھا، لیکن قیمت زیادہ ہونے کی وجہ سے ہم نے نہیں خریدا تھا۔ کیا آج لے لوں؟” بٹ صاحب نے بڑے اطمینان سے کہا: “ہاں ہاں، لے لو!” خاتون نے خوش ہو کر کہا: “اور روزی کے بوتیک میں دو نئے ڈیزائن کے سوٹ آئے ہیں۔ دونوں مجھے بہت پسند ہیں، لیکن دونوں کی قیمت چالیس ہزار روپے ہے۔” بٹ صاحب بولے: “کوئی بات نہیں، دونوں لے لو!” خاتون نے مزید کہا: “اچھا، آئی فون کا نیا ماڈل بھی آیا ہے۔ وہ بھی لے لوں؟” بٹ صاحب نے بے فکری…
پانی کے قطروں کا ہار
ایک زمانے کی بات ہے، چین پر ایک عظیم اور بہت امیر بادشاہ حکومت کرتا تھا، جسے سب سلطان کہتے تھے۔ یہ کہانی دراصل اس کی بیٹی، ایک لاڈلی شہزادی کی ہے۔ سلطان اپنے خاندان کے ساتھ ایک خوب صورت محل میں رہتا تھا۔ محل میں شہزادی کے بہت سے کمرے تھے۔ اسے اتنے زیادہ کمروں کی ضرورت اس لیے تھی کہ اس کے پاس بے شمار چیزیں تھیں۔ تمام کمرے چھت تک اس کی قیمتی اشیا اور تحائف سے بھرے ہوئے تھے۔ شہزادی کو قیمتی تحائف وصول کرنا بہت پسند تھا۔ ہر دفعہ جب اس کے بابا کہیں جاتے تو واپسی پر اپنی بیٹی کے لیے کوئی نہ کوئی قیمتی تحفہ ضرور لاتے۔ اگر کوئی سیاح یا مہمان سلطان سے ملنے محل میں آتا تو وہ بھی ہمیشہ شہزادی کے لیے کوئی تحفہ ضرور لاتا۔ ملک کے تمام لوگوں نے سن رکھا تھا کہ شہزادی کے پاس ہر وہ…
بلاعنوان
جنگل کے بادشاہ شیر کو ایک مرتبہ اپنے چند قریبی ساتھیوں کے ساتھ ایک انتہائی ترقی یافتہ جنگل کے سرکاری دورے پر جانا پڑا۔ یہ کوئی معمولی سفر نہ تھا۔ انہیں پہاڑوں کی دشوار گزار گھاٹیوں، پتھریلے راستوں، تپتے میدانوں، گہری ندیوں اور گھنے جنگلات سے گزرنا تھا۔ کہیں زمین اتنی ناہموار تھی کہ قدم رکھنا مشکل ہو جاتا، کہیں کیچڑ میں پاؤں دھنس جاتے اور کہیں تنگ پہاڑی راستے پر ذرا سی لغزش جان کے لیے خطرہ بن سکتی تھی۔ اس پورے سفر میں شیر کے ساتھیوں میں ایک گدھا ایسا تھا جس نے بادشاہ کی خدمت میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ جب راستہ دشوار ہوتا تو وہ شیر کو اپنی پیٹھ پر بٹھا لیتا، جب دوسرے جانور تھک کر رک جاتے تو وہ اپنی رفتار برقرار رکھتا، اور جب سب کے حوصلے جواب دینے لگتے تو وہ خاموشی سے آگے بڑھتا رہتا۔ یوں کئی دنوں کی مسافت طے…
دنیا داری کا جال
ایک زاہد دنیا سے بے نیاز ہو کر ایک صحرا کے کسی گوشے میں زندگی گزارتا تھا. اسے نہ قیمتی لباس کا شوق تھا اور نہ عمدہ کھانوں کا، بلکہ وہ معمولی لباس اور معمولی سی غذا پر قناعت کرتا تھا. اس شخص کے تقویٰ اور عبادت کا چرچا دور دور تک پھیل چکا تھا، یہاں تک کہ لوگ اس کی زیارت کو آتے اور اس کے مرید ہوجاتے تھے.اس ملک کا بادشاہ جو بہت عادل اور درویش دوست تھا اور ہمیشہ انبیاء اور اولیاء کے اخلاق کی پیروی اپنا فرض سمجھتا تھا، اسے بھی زاہد سے ملنے کا اشتیاق پیدا ہوا. ایک دن وہ زاہد کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس سے پند و نصیحت کا تقاضا کیا. زاہد نے کہا کہ اے بادشاہ! اس جہان کی دو قسمیں ہیں: ایک فانی کہ جسے دنیا کہتے ہیں اور دوسری باقی کہ جسے عقبٰی کہتے ہیں. عالی ہمت وہ…
ہمت کا پھل اور عظمت کا سفر
پرانے زمانے کی بات ہے۔ دو دوست تھے۔ ایک کا نام دانش تھا اور دوسرے کا شیرجنگ۔ ایک بار وہ دونوں ایک ساتھ سفر پر روانہ ہوئے اور ایک دوسرے کی ہمراہی میں کئی منزلیں اور مرحلے طے کرتے چلے گئے۔ اتفاقاً ان کا گذر ایک پہاڑی کے قریب سے ہوا، جس کی چوٹی نیلگوں آسمان سے باتیں کر رہی تھی اور اس کے خوبصورت دامن میں ایک چشمہ بہ رہا تھا، جس کا پانی بے حد صاف و شفاف، ٹھنڈا اور میٹھا تھا۔اس چشمے سے لگا ہوا ایک بہت بڑا حوض تھا، جس کے اطراف سایہ دار درختوں کی قطاریں دور تک پھیلی ہوئی تھیں۔ دونوں دوست خوفناک جنگل سے نکل کر اس خوبصورت مقام پر پہنچے اور جگہ کی دلکشی کو دیکھتے ہوئے وہاں آرام کرنے کی غرض سے رک گئے۔ کچھ دیر آرام کرنے کے بعد جب حوض کے آس پاس نظر ڈالی، تو اچانک حوض کے…
ڈرم کو دھکا کس نے دیا 😂
ایک کسان نے اپنے دس کے دس بچوں کو ایک قطار میں کھڑا کیا ہوا تھا۔ اور ان سے تفتیش ہورہی تھی کہ ” بتاؤ چھت پر رکھے ڈرم کو کس نے دھکا دے کر سیڑھیوں سے نیچے گرایا ؟ “ کسی بچے نے کوئی جواب نہ دیا۔ کسان نے پھر زور دے کے پوچھا۔ ڈرم کو کس نے دھکا دے کر سیڑھیوں سے نیچے گرایا تھا؟ ایک بار پھر کسی نے جواب نہ دیا۔ کسان نے کہا۔ ” ٹھیک ہے ۔ میں ایک کہانی سناتا ہوں ۔ ایک تھا بادشاہ اور ایک تھا اس کا بیٹا شہزادہ۔ ایک دن شہزادے نے کلہاڑے سے بادشاہ کا پسندیدہ انار کا درخت کاٹ دیا۔ بادشاه کو پتہ چلا تو اس نے سب سے پوچھا کہ درخت کس نے کاٹا ؟ شہزادے نے سچ بولا کہ اس نے درخت کاٹا۔ بادشاہ اس کے سچ بولنے پر خوش ہوا اور اس کو کوئی سزا…
بلاعنوان 😂
ایک صاحب بتاتے ہیں کہ راستے میں ایک بار ویسپا سکوٹر پر جاتے ہوئے سامنے ایک کتا آ گیا۔ اس کتے کو بچانے کے چکر میں کنٹرول میری گرفت سے نکل گیا، اور میں اسکوٹر سمیت سڑک کی بغل والے نالے میں گر گیا۔ بڑی مشکل کے بعد جیسے تیسے میں نالے سے باہر نکلا تو دیکھا، ایک خوبصورت خاتون اپنی کار روکے میری طرف دیکھ رہی تھیں۔ انہوں نے پوچھا: “کہیں لگی تو نہیں؟” “نہیں… نہیں…” میں نے جواب دیا۔ “میرا گھر نزدیک ہی ہے،” انہوں نے کہا، “چلو، کپڑے صاف کر لو اور تھوڑا آرام بھی کر لو۔ آپ کو زیادہ زخم آئے ہیں یا نہیں، یہ بھی چیک کر لیتے ہیں۔” میں نے جواب دیا: “آپ کا بہت بہت شکریہ… میں ضرور آپ کے ساتھ چلتا، لیکن میری بیوی ناراض ہو جائے گی۔” “آپ بالکل ٹینشن نہ لیں، میں ایک ڈاکٹر ہوں… چلیے،” انہوں نے زور دے…
بلاعنوان
مینڈکوں کا ایک گروہ کہیں جا رہا تھا کہ اچانک ان میں سے دو بے دھیانی میں ایک گہرے گڑھے میں جا گرے۔باہر کھڑے مینڈکوں نے جب نیچے جھانک کر دیکھا تو اندازہ ہوا کہ یہ گڑھا ان دونوں کی طاقت سے کہیں زیادہ گہرا ہے۔انہوں نے اوپر سے آوازیں دینا شروع کر دیں:“افسوس! تم اس سے باہر نہیں نکل سکو گے۔فضول کوشش مت کرو، ہار مان لو…یہیں اپنی موت کا انتظار کرو۔”ایک مینڈک نے یہ سب سنا تو اس کا حوصلہ ٹوٹ گیا۔چند کمزور سی کوششوں کے بعد وہ دل شکستہ ہو کر وہیں دم توڑ گیا۔مگر دوسرا مینڈک مسلسل جدوجہد کرتا رہا۔وہ جگہ بدل بدل کر، بار بار چھلانگیں لگاتا رہا۔اوپر کھڑے مینڈک زور زور سے آوازیں کستے رہے، سیٹیاں بجاتے رہے،اور کہتے رہے:“مت ہلکان ہو!موت اب تیرا مقدر بن چکی ہے!”لیکن وہ مینڈک اور زیادہ طاقت سے کوشش کرتا رہا…اور آخرکار حیرت انگیز طور پر گڑھے سے…
بلاعنوان 😂
ایک طالب علم کو استاد نے امتحان میں فیل کردیا . وہ شکایت لے کر پرنسپل کے پاس چلا گیا کہ مجھے غلط فیل کیا گیا ہے. پرنسپل نے استاد اور طالب علم دونوں کو بلا لیا اور استاد سے فیل کرنے کی وجہ پوچھی استاد صاحب نے بتایا کہ اس لڑکے کو فیل کرنے کی وجہ یہ تھی کہ وہ ہمیشہ موضوع سے باہر نکل جاتا ہے جس موضوع پر اسے مضمون لکھنے کو دیا جائے اسے چھوڑ کر اپنی پسند کے مضمون پر چلا جاتا ہے .پرنسپل نے کوئی مثال پوچھی تو استاد صاحب نے بتایا کہ ایک دفعہ میں نے اسے بہار پر مضمون لکھنے کو کہا تو وہ اس نے کچھ اس طرح لکھا’’موسم بہار ایک بہت ہی بہترین موسم ہوتا ہے اور اس کے مناظر بہت ہی دلنشین ہوتے ہیں۔ اس موسم میں ہر طرف ہریالی ہی ہریالی ہوتی ہے اور سبزے کی بہتات ہو…
*بادشاہ اور درویش*
ایک دفعہ کا ذکر ہے، خلیفہ ہارون رشید اپنے محل کے جھروکے میں بیٹھے تھے، جہاں سے دریا کا خوبصورت منظر نظر آ رہا تھا۔ دور افق پر جہاز چل رہے تھے اور ریاست کی خوشحالی کا منظر تھا۔ اسی دوران، ان کی نظر نیچے صحن میں کھڑے بہلول دانا پر پڑی، جو اپنی درویشانہ حالت میں موجود تھے۔ ہارون رشید، جو بہلول کی دانشمندی اور بے باکی کے قائل تھے، اکثر ان سے پیچیدہ مسائل پر رائے لیا کرتے تھے۔خلیفہ نے بہلول کو اوپر بلایا اور ان سے ایک سوال پوچھا۔ یہ سوال ظاہری طور پر سادہ تھا، لیکن اس کے اندر ریاست کے عدالتی نظام اور حکمران کی ذمہ داریوں کا گہرا امتحان چھپا ہوا تھا۔ہارون رشید نے پوچھا: “بہلول! چور کے بارے میں کیا حکم ہے؟”خلیفہ کا سوال اسلامی شریعت کی حد کی طرف اشارہ کر رہا تھا، جس میں چوری کی سزا ہاتھ کاٹنا ہے۔ وہ…
وفادار کتا
کسی گاؤں میں ایک بوڑھا شخص اپنی بیوی کے ساتھ رہتا تھا۔ دونوں بہت سادہ اور نیک دل تھے۔ ان کے پاس موتی نام کا ایک وفادار کتا تھا، جس سے وہ دونوں بہت محبت کرتے تھے۔ موتی بھی اپنے مالکوں کا بے حد وفادار تھا۔ ایک دن بوڑھا شخص اپنے کھیت میں کام کر رہا تھا کہ اچانک موتی اسے کھینچ کر ایک جگہ لے گیا۔ وہ زور زور سے بھونکنے لگا اور اپنے پنجوں سے زمین کریدنے لگا۔ بوڑھے نے اسے کئی بار وہاں سے ہٹانے کی کوشش کی، لیکن موتی بار بار اسی جگہ واپس آ جاتا اور زمین کریدنے لگتا۔ آخرکار بوڑھے نے سوچا کہ شاید اس جگہ کوئی خاص چیز موجود ہے۔ اس نے پھاوڑا اٹھایا اور زمین کھودنا شروع کر دی۔ کچھ ہی دیر بعد پھاوڑا کسی سخت چیز سے ٹکرایا۔ بوڑھے نے مٹی ہٹائی تو وہاں سے ایک پرانا گھڑا نکلا، جس میں…
جامن والا بابا اور تنہائی کا خاتمہ
کسی محلے میں ایک بڑا سا مکان تھا۔ اتنا بڑا کہ اس میں کئی خاندان آرام سے رہ سکتے تھے۔ اس مکان میں بڑے میاں اکیلے رہتے تھے۔ بڑے میاں کا گھر بھائیوں بھائیوں کا کرتا تھا، کوئی نہیں تھا جس سے باتیں کرکے بڑے میاں اپنا دل بہلاتے۔ بڑے میاں کی بیوی اللہ میاں کو پیاری ہو چکی تھیں، کوئی اولاد بھی نہیں تھی۔ دو بھائی تھے، دونوں خوب تعلیم حاصل کرکے پرائے دیسوں میں بس گئے، وہیں شادیاں کر لیں اور وہیں کے ہو کر رہ گئے۔محلے میں بڑے میاں کے قرابت دار تھے مگر ان کے پاس اتنا وقت نہیں تھا کہ وہ بڑے میاں کے گھر آکر ان کی خیریت معلوم کرتے اور ان سے باتیں کرتے۔ نوجوان اپنے کام دھندوں میں مصروف رہتے اور بزرگ اپنے ناتی پوتے میں مگن رہتے۔ کبھی کبھار کوئی رشتہ دار گھڑی دو گھڑی کے لیے آ بھی جاتا تو…
نادانوں کو نصیحت
کچھ بندروں کی ایک ٹولی کسی پہاڑ پر رہتی تھی اور وہاں کے پھل پھول اور گھاس پھوس پر گزارا کرتی تھی۔ اچانک ایک اندھیری رات میں برف باری ہونے لگی اور سردی کی شدت سے انھیں اپنا خون رگوں میں جمتا محسوس ہوا۔ وہ پریشان ہو کر ادھر ادھر دوڑنے لگے اچانک انہوں نے راستے میں ایک جگنو پڑا ہوا پایا اور اس خیال سے کہ یہ چنگاری ہے اس کے ارد گرد لکڑیاں جمع کرنے لگے اور پھونک مارنے لگے۔ ان کے قریب ہی ایک درخت پر ایک پرندہ بیٹھا ہوا تھا اس نے آواز لگائی۔ یہ آگ نہیں ہے اس کی طرف راغب مت ہونا لیکن اس لاحاصل کام سے وہ باز نہ آئے ۔ اتفاقاً اس جگہ ایک دوسرا پرندہ آگیا اور پہلے پرندے سے کہنے لگا۔ غم مت کرو۔ تمہاری بات سن کر وہ باز نہ رہیں۔ بلکہ الٹا تمہیں ہی غم ہو گا۔ ایسے…
کتوں کا کھانا
سرکاری افسر کو تین چار ماتحتوں کے ساتھ اپنی دکان کی طرف آتا دیکھ کر دکاندار نے اپنی حالت ٹھیک کی اور جلدی سے گدی سے اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔ ہاتھ جوڑ کر انہیں سلام کیا اور بٹھانے کے لیے اپنی دھوتی کے پلو سے کرسیاں صاف کرنے لگا۔ وہ لوگ کرسیوں پر بیٹھ گئے۔ ان کے کھانے کے لیے خشک میوہ اور پینے کے لیے پھلوں کا رس آ گیا۔ افسر نے کھانے پینے کے بعد اپنی مونچھوں پر انگلیاں پھیریں اور دکاندار سے حساب کتاب کا رجسٹر لے کر جانچ پڑتال کرنے لگا۔ ایک صفحے پر اس کی نظر ٹھہر گئی۔ وہ حیران بھی ہوا اور مسکرایا بھی۔ اس نے وہ صفحہ اپنے ماتحتوں کو دکھایا۔ وہ بھی پڑھ کر مسکرانے لگے۔ “کیسے لوگ ہیں…؟ انکم ٹیکس بچانے کے لیے کتے کو ڈالی گئی روٹی کے ٹکڑے کا خرچ بھی درج کر دیتے ہیں۔” کھلے ہوئے صفحے…
دوستی
کہتے ہیں کہ کسی زمانے میں بشیر اور نذیر نامی دو گہرے دوست ہوا کرتے تھے۔ تھے تو وہ دوست، لیکن دونوں میں اتنی گہری دوستی تھی کہ کسی کو اندازہ ہی نہ ہو پاتا کہ دوست ہیں یا سگے بھائی۔ بلکہ کوئی اجنبی جب پہلی بار ان سے ملتا تو اسے یہی گماں ہوتا کہ دونوں بھائی ہیں اور ان کے درمیان بہت ہی گہرا تعلق ہے۔ ہوا کچھ یوں کہ دونوں کی شادیاں بھی اکٹھی ہوئیں۔ گاؤں کی روایت کے مطابق دونوں نے اپنی بیویوں کے لیے سونے کا جو زیور بنوایا وہ بالکل ایک جیسا بنوایا۔ خیر وقت گذرتا رہا۔ شادی کے کچھ عرصہ بعد نذیر نے بشیر کو اپنے گھر دعوت پر بلایا۔ طرح طرح کے لذیذ کھانے بنائے گئے۔ خوب محفل جمی اور برخواست ہوئی۔ دعوت کو ایک ہی روز گذرا تھا کہ نذیر کھیتوں سے کام کاج کر کے گھر لوٹا تو دیکھا صحن…
بلاعنوان
ایک بادشاہ راستہ بھٹک کر کسی ویرانے میں پہنچ گیا،وہاں جھونپڑی تھی اس جھونپڑی میں رہنے والے شخص نے بادشاہ کی بڑی خدمت کی، وہ غریب جانتا بھی نہیں تھا کہ یہ بادشاہ ہے، مسافر سمجھ کر خدمت کی، بادشاہ بہت خوش ہوا، جب جانے لگا تو اس نے اپنی انگلی سے انگوٹھی اتاری اور کہا:تم مجھے نہیں جانتے ہو کہ میں بادشاہ ہوں۔یہ انگوٹھی اپنے پاس رکھو، جب کبھی کوئی ضروت ہوگی ہمارے محل میں آجانا، دروازے پر جو دربان ہوگا اسے یہ انگوٹھی دکھا دینا، ہم کسی بھی حالت میں ہوں گے وہ ہم سے ملاقات کرادے گا۔بادشاہ چلا گیا، کچھ دن کے بعد اس کو کوئی ضرورت پیش آئی ، تو وہ دیہاتی بڑے میاں محل کے دروازے پر پہنچے، کہا بادشاہ سے ملنا ہے، دربان نے اوپر سے نیچے تک دیکھا کہ اس کی کیا اوقات ہے بادشاہ سے ملنے کی، کہنے لگا نہیں مل سکتے،…
کسی کو راز دار نہ بناؤ
ایک زمانے کا ذکر ہے کہ ایک بادشاہ اپنی فیاضی اور انصاف پسندی کی وجہ سے دور دور تک مشہور تھا۔ ایک روز وہ شاہی لشکر کے ساتھ شکار کی غرض سے ایک سرسبز و شاداب جنگل کی طرف روانہ ہوا۔ جب وہ جنگل کے قریب پہنچے تو ہر شخص اپنے اپنے شکار میں مشغول ہو گیا۔اس دوران بادشاہ نے اپنے خاص وزیر کو اپنے پاس بلایا اور کہا:“تم میرے ساتھ اپنا گھوڑا دوڑاؤ، کیونکہ مدت سے میری یہ آرزو رہی ہے کہ میں یہ جانوں کہ تمہارا گھوڑا زیادہ تیز دوڑتا ہے یا میرا؟”بادشاه کے حکم کے مطابق دونوں نے اپنے گھوڑوں کو ایڑ لگائی۔ وہ دوڑتے دوڑتے لشکر اور باقی لوگوں سے بہت دور نکل گئے۔ جب وہ کافی فاصلے پر چلے گئے تو بادشاہ نے اپنے گھوڑے کی لگام کھینچی اور وزیر سے مخاطب ہو کر کہا:“اب اس سفر کو یہیں ختم کرو۔ میرے دل میں…
ڈاکوؤں کی توبہ
ایک شہر میں چند خطرناک ڈاکو آئے۔ وہ چوری اور لوٹ مار کے ذریعے لوگوں کو نقصان پہنچاتے تھے۔ جب انہیں گرفتار ہونے کا خوف لاحق ہوا تو ان کے سردار نے ایک چال سوچی۔ اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا: ”ہم سب درویشوں کا روپ دھار لیتے ہیں۔ زاہدانہ لباس پہنیں گے، ہاتھوں میں تسبیح رکھیں گے اور ہر وقت اللہ کا ذکر کرتے رہیں گے۔ اس طرح کسی کو ہم پر شک نہیں ہوگا۔“ چنانچہ سب نے درویشوں کا لباس پہن لیا اور شہر کی ایک مہمان سرائے میں جا ٹھہرے۔ وہ دن رات تسبیح پڑھنے کا دکھاوا کرتے۔ کچھ ہی دنوں میں ان کی شہرت پھیل گئی کہ شہر میں چند نیک اور پرہیزگار درویش آئے ہیں۔ یہ خبر بادشاہ تک پہنچی تو وہ بھی ان کی زیارت کے لیے آیا اور انہیں اپنے محل میں دعوت دی۔ بادشاہ کا اکلوتا بیٹا عرصے سے فالج کے مرض…
مرغے میاں کو اپنی آواز سے عشق تھا۔ صبح کی پہلی کرن ابھی افق پر نمودار بھی نہ ہوتی کہ وہ چھت پر چڑھ کر گردن اکڑاتا، سینہ پھلاتا، آنکھیں بند کرتا اور اپنی پوری قوت سے بانگ دینا شروع کر دیتا۔ اس کے نزدیک یہ محض اذان نہیں تھی، ایک فن تھا، ایک عبادت تھی، ایک ایسا اعلان تھا جسے وہ چاہتا تھا کہ دنیا کے آخری کنارے تک سنا جائے۔ مگر افسوس کہ اس کے فن کے سب سے بڑے ناقد اس کے اپنے گھر والے تھے۔ ابھی پہلی بانگ مکمل نہ ہوتی کہ کبھی مالک کی چپل فضا میں اڑتی، کبھی مالکن کی ڈانٹ آسمان سر پر اٹھا لیتی، اور کبھی مالک غصے میں باہر نکل کر اسے یوں بھگاتا جیسے اس نے کوئی ناقابلِ معافی جرم کر دیا ہو۔ مرغے میاں دل ہی دل میں کڑھتے، “آخر میری آواز میں خرابی کیا ہے؟ دنیا میں گلوکاروں…
محنت اور اخلاص
شہر کے ایک مصروف بازار میں ایک شخص کی چھوٹی سی دکان تھی۔ دکان بہت بڑی نہیں تھی، نہ اس پر کوئی شاندار بورڈ لگا تھا اور نہ ہی اندر کوئی غیر معمولی سجاوٹ۔ مگر عجیب بات یہ تھی کہ صبح دکان کھلتے ہی گاہک آنا شروع ہوجاتے اور شام تک رش کم ہونے کا نام نہ لیتا۔ کوئی اس کے ہاتھ کی بنی ہوئی چیز لینے آتا، کوئی پرانا گاہک کسی نئے شخص کو ساتھ لے آتا اور کوئی صرف اس لیے آتا کہ اسے معلوم تھا یہاں چیز اچھی ملے گی اور دکاندار سے بات کرتے ہوئے عزت بھی ملے گی۔ اس دکاندار نے یہ مقام ایک دن میں حاصل نہیں کیا تھا۔ برسوں سے وہ اپنے کام میں لگا ہوا تھا۔ چیز کا معیار اچھا رکھتا، گاہک سے خوش اخلاقی سے پیش آتا، کسی کو دھوکا نہ دیتا، معمولی نفع پر بھی خوش ہوجاتا اور اگر کسی…















