El rey y el mendigo –
Era un rey sin reino, sin ministros, sin primer ministro. Solo una vieja choza, una cama desgastada y el arroz del día anterior en un plato. Se llamaba Badshah Khan. Junto a él vivía un mendigo, llamado Fakir Muhammad, ¡pero un mendigo que tenía su propio palacio! Sí, el techo era de tejas, las puertas de cristal y siempre había fruta fresca en la nevera. El mendigo estaba muy molesto con la choza del rey: “¿Esta choza al lado de mi palacio? ¡Esto arruina mi reputación!”, pensaba a diario. El mendigo intentó muchas artimañas. Un día, roció un spray maloliente frente a la choza para que el rey huyera. Al día siguiente, puso un cartel de “Se vende” en la puerta, pero tampoco funcionó. Al tercer día, escribió en internet “Cómo desalojar una choza”, pero nadie respondió. Entonces, un día, el mendigo ideó un plan maestro. Prendió fuego a la…
بادشاہ اور فقیر –
وہ ایک ایسا بادشاہ تھا، جس کے پاس نہ سلطنت، نہ وزیر، نہ وزیرِ اعظم۔صرف ایک پرانی سی جھونپڑی، ایک بوسیدہ بستر اور ایک پلیٹ میں کل کے چاول۔اس کا نام بادشاہ خان تھا۔اس کے برابر میں ایک فقیر رہتا تھا، اس کا نام فقیر محمد تھا، لیکن ایسا فقیر جس کا اپنا محل تھا! ہاں جی، چھت بھی پکی، دروازے بھی شیشے والے اور فریج میں ہمیشہ تازہ پھل موجود رہتے تھے۔فقیر کو بادشاہ کی جھونپڑی سے بڑی تکلیف تھی:”میرے محل کے ساتھ یہ جھونپڑی؟ یہ تو میری شخصیت خراب کر رہی ہے!“ وہ روز سوچتا۔فقیر نے کئی حربے آزمائے۔ایک دن جھونپڑی کے سامنے بدبو والا اسپرے مارا کہ شاید بادشاہ بھاگ جائے۔دوسرے دن اس کے دروازے پر ”برائے فروخت“ کا بورڈ لگا دیا، لیکن اس سے بھی کوئی کام نہ چلا۔ تیسرے دن نیٹ پر ”جھونپڑی کیسے ہٹائیں“ لکھا، لیکن سنگل ہی نہیں آیا۔ پھر ایک دن، فقیر…
بھیڑیا اور خرگوش –
بھیڑیے کے کھیت سے شکر قندی چرانا کوئی آسان کام نہ تھا،کیونکہ بھیڑیا بہت دبے پاؤں چلتا ہوا آتا اور چور کو پیچھے سے پکڑ لیتا تھا،لیکن خرگوش پھر بھی ہر روز بھیڑیے کے کھیت سے شکر قندی چرا لاتا ۔وہ پہلے ایک بڑی سی ہڈی کھیت میں دبا دیتا،پھر شکر قندیاں اکھاڑ کر اپنے تھیلے میں بھرتا اور ٹہلتا ہوا کھیت سے باہر چلا جاتا۔بھیڑیے کو بھی شکر قندیوں کی چوری کا پتہ چل گیا۔ایک دن وہ چور کو پکڑنے کے لئے بھوسے کے ڈھیر کے پیچھے چھپ کر بیٹھ گیا اور انتظار کرنے لگا۔کچھ دیر میں خرگوش بھی آپہنچا۔اس نے زمین کھود کے ہڈی دفن کی اور شکر قندی اکھاڑ کر تھیلے میں بھری اور سیٹی بجاتا ہوا چل دیا۔جو نہی وہ بھوسے کے ڈھیر کے پاس پہنچا،بھیڑیا جھٹ سے باہر نکلا اور اس نے خرگوش کو پکڑلیا۔ ”تم میرے کھیت میں کیوں آئے؟“ بھیڑیے نے پوچھا۔ خرگوش…
کہانی اور حقیقت –
گاؤں میں بشیر اپنی ماں کے ساتھ رہتا تھا۔اس کے ابو کا انتقال ہو چکا تھا۔بشیر کی ماں گھروں میں کام کرتی تھی۔بشیر بہت نالائق اور نکھٹو طبیعت کا تھا۔اس کے اسکول کے استاد اس سے نالاں رہتے تھے۔ایک دن بشیر کی والدہ اسکول آئیں اور استاد جی سے اپنے بیٹے کی پڑھائی پر بات کرنا چاہی۔استاد جی تو بھرے بیٹھے تھے۔بشیر کی ماں کو بشیر کی بے وقوفی اور پڑھائی سے غیر دلچسپی کی داستانیں سنانے لگے،کیونکہ وہ ہر کام ہی غلط کرتا ہے۔بیوہ ماں پر سکتہ طاری ہو گیا۔ماں گاؤں چھوڑ کر بیٹے کو لے کر شہر چلی گئی۔وقت گزرتا گیا گاؤں ترقی کر کے قصبہ بن گیا۔25 سال گزر گئے۔اسکول میں استاد جی ہیڈ ماسٹر ہو گئے۔ہیڈ ماسٹر صاحب کو اچانک ایک دن دل میں شدید درد محسوس ہوا۔اسپتال میں داخل کرایا،مگر درد بڑھتا گیا۔مقامی ڈاکٹر نے شہر کے بڑے اسپتال جانے کا مشورہ دیا۔انھوں نے ڈاکٹر…
بلاعنوان 😂
ایک آدمی کا ایک ہاتھ نہیں تھا، جس کی وجہ سے وہ کوئی بھی کام ٹھیک طرح سے نہیں کر پاتا تھا۔ ایک دن وہ اپنی اس کمی سے اتنا تنگ آ گیا کہ اس نے خودکشی کرنے کا فیصلہ کر لیا اور پہاڑ سے کودنے کے لیے پہاڑ پر چڑھ گیا۔ پہاڑ کی چوٹی پر پہنچ کر اس نے ایک شخص کو دیکھا جس کے دونوں بازو نہیں تھے، لیکن وہ خوشی سے ناچ رہا تھا۔ یہ دیکھ کر اس نے خود کو ملامت کی۔ “اس شخص کے تو دونوں بازو نہیں ہیں، پھر بھی یہ کتنا خوش ہے، اور میرے پاس ایک ہاتھ تو ہے، پھر بھی میں ناشکری کر رہا ہوں اور اپنی جان لینے جا رہا ہوں۔” اس نے خودکشی کا ارادہ ترک کر دیا اور اس شخص کے پاس جا کر بولا: “بھائی! آپ کے دونوں بازو نہیں ہیں، پھر بھی آپ اتنی خوشی سے…
پانچ ہزار کا نوٹ
ایک شخص سڑک سے گزر رہا تھا۔اچانک اس کی نظر پانچ ہزار کے نوٹ پر پڑی جو سڑک کی ایک طرف کھڑی گاڑی کے ٹائر کے نیچے دبا تھا۔ اس نے گاڑی کے آس پاس دیکھا کہ کوئی ہے تو نہیں،پھر گاڑی کے ٹائر کے پاس بیٹھ کر نوٹ نکالنے کی بہت کوشش کی ،مگر نوٹ نہیں نکلا۔ اس نے گاڑی کا دروازہ کھولنے کی کوشش کی،مگر وہ لاک تھا۔گاڑی کو دھکا لگانے کی کوشش کی،لیکن گاڑی ٹس سے مس نہ ہوئی۔تھک ہار کر وہ سڑک پار کرکے سامنے ایک اوپن ایئر کیفے میں بیٹھ گیا،جو کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔اس نے کرسی اس زاویہ پر رکھی کہ گاڑی پر نظر رہے۔اچانک ایک فٹ بال اُچھلتی ہوئی ٹائر کے پاس آکر رک گئی۔وہ دھک دھک کرتے دل کے ساتھ کرسی پر پہلو بدلنے لگا۔ایک لڑکا جس کی وہ فٹ بال تھی،آیا اس نے کک لگائی اور وہ جا وہ جا۔اس…
جینو چوہا
یک چوہا تھا۔اس کا نام جینو تھا۔ وہ بہت ہی لالچی ، کاہل اورسست تھا۔ کاہل چوہا بہت زیادہ پیٹو بھی تھا۔ اس کا پیٹ کبھی نہیں بھرتا تھا۔ایک دن کی بات ہے جینو کی ماں نے کہا کہ :”بیٹا! تم بہت زیادہ کھاتے ہو لیکن کام کاج سے جی چراتے ہو ۔تم اپنے حصے کے علاوہ میرے اور تمہارے پاپا کا کھانا بھی چٹ کر جاتے ہو۔یہ اچھی بات نہیں ہے آج سے تم اپنا کھانا خود تلاش کروگے۔ہاں! ایک بات یاد رکھنا لالچ مت کرنا۔ زیادہ کھانے کے چکر میں کبھی کسی مصیبت میں مت پڑ جانا اپنا دھیان رکھنا۔“جینو بہت اداس ہوگیا۔ مگر اسے جانا ہی پڑا۔ وہ کھانے کی تلاش میں نکل گیا ۔ ابھی وہ کچھ ہی دور گیاتھا کہ اسے راستے میں ایک گیہوں کا دانا ملا۔ وہ خوش ہو گیا۔ اس نے گیہوں کا دانا اٹھا لیا۔ تب ہی اس کی نظر خرگوش…
خرگوش اور مگرمچھ
بہت عرصہ گزرا۔ایک خرگوش ایک جزیرے پر رہتا تھا۔اُس کی دلی خواہش تھی کہ وہ کسی طرح سے سمندر کا پانی عبور کر کے جائے اور وہاں بنی ہوئی تاریخی عمارتیں دیکھے۔وہ سوچتا رہتا تھا کہ اُسے کیا کرنا چاہیے؟ایک دن وہ سمندر کے کنارے بیٹھا ہوا اسی بارے میں سوچ رہا تھا اور اُس کی لمبی اور گھنی دُم اِدھر اُدھر ہل رہی تھی۔یہ تب کی بات ہے جب خرگوشوں کی دُمیں بہت لمبی ہوا کرتی تھیں۔مگرمچھوں کا بادشاہ وہاں نزدیک ہی تیر رہا تھا۔اس کی نظر خرگوش پر پڑی تو اُس کے منہ سے بے ساختہ نکلا:”اوں! کس قدر مزے کی شے اتنی نزدیک بیٹھی ہوئی ہے۔“ پھر وہ تیرتا ہوا ساحل کے پاس پہنچا اور خرگوش سے بولا:”صبح بخیر ننھے خرگوش!“خرگوش نے اُسے دیکھا اور اہمیت نہ دیتے ہوئے بولا:”میں صرف ننھا خرگوش نہیں ہوں اور مجھے مخاطب کرنا ہے تو بادشاہ سلامت کہو۔“ مگرمچھ کی ہنسی…
😂 توپ کا لائسنس 😂💁♂️
عدالت میں ایک عجیب مقدمہ زیرِ سماعت تھا۔ ایک دیہاتی نے توپ کے لائسنس کے لیے درخواست دے رکھی تھی۔ خبر پھیلی تو عدالت میں میڈیا اور تماشائیوں کا رش لگ گیا۔ 😳👀 جج نے حیران ھو کر پوچھا: “تم نے واقعی توپ کے لائسنس کی درخواست دی ھے؟” 😕😯 دیہاتی بولا: “جی ہاں، پورے ھوش و حواس میں!” 😤💯 جج نے پوچھا: “آخر توپ کا کیا کرو گے؟ کسی جنگ کی تیاری ھے؟” 🤔🙄 دیہاتی مُسکرایا اور بولا: “جج صاحب! پچھلے سال میں نے 1 لاکھ روپے کے قرض کی درخواست دی تھی، منظور ھوئے صرف 10 ہزار۔” “بہن کی شادی کے لیے 100 کلو چینی مانگی، ملی صرف 10 کلو۔” “سیلاب میں فصل تباہ ھوئی تو 50 ہزار معاوضے کا وعدہ ھوا، اکاؤنٹ میں آئے صرف 5 ہزار۔” پھر دیہاتی نے ہاتھ جوڑ کر کہا: “اب سرکاری نظام اچھی طرح سمجھ چکا ھوں!” 😕😒 “اصل میں مُجھے تو…
😂 جادوئی مشین 😂🙆♂️
ایک دیہاتی ابا پہلی بار اپنے بیٹے کے ساتھ شہر کے ایک بڑے شاپنگ مال گئے۔ گھومتے گھومتے دونوں ایک عجیب سی چیز کے سامنے جا کھڑے ھوئے۔ 😳 بیٹا بولا: “ابا جی! یہ کیا ھے؟” 🤔 ابا نے غور سے دیکھا، پھر کھنکار کر بولے: “پُتر! میں نے اپنی ساری زندگی میں یہ چیز پہلی بار دیکھی ھے مجھے بھی نہیں پتا!” 😅 دونوں کھڑے ھو کر تماشا دیکھنے لگے۔ 👀 اتنے میں ایک کمزور سی بڑھیا ویل چیئر پر آئی۔ 👩🦼 اس نے ایک بٹن دبایا… سامنے چمکتی ھوئی دیواریں کھل گئیں اور ایک چھوٹا سا کمرہ نظر آیا۔ بڑھیا اندر چلی گئی اور دروازہ بند ھو گیا۔ 😳 ابا اور بیٹا حیرت سے دیکھتے رھے۔ 😮 اوپر نمبر چلنے لگے: 1️⃣…2️⃣…3️⃣…4️⃣…5️⃣…6️⃣ چند لمحوں بعد نمبر واپس الٹے چلنے لگے: 6️⃣…5️⃣…4️⃣…3️⃣…2️⃣…1️⃣ پھر دروازہ کھلا… اور باہر ایک خوبصورت نوجوان لڑکی اسٹائل سے چلتی ھوئی نکلی۔ 😍✨ ابا جی…
خزانہ کہاں گیا –
ایک زمانے میں ایک بوڑھی عورت تھی اس کے گھر کے مچان کو صفائی کی ضرورت تھی۔ لہٰذا وہ اوپر گئی اور فرش پر جھاڑو دینے لگی۔ اس کو وہاں دس سونے کے سکے ملے!وہ بہت حیران اور خوش ہوئی۔ مجھے جاکر اپنے تمام پڑوسیوں کو بتانا چاہیے۔ اس نے کہا۔ لہٰذا اس نے سونے کے سکے باورچی خانے میں رکھے اور اپنی سہیلیوں کو بتانے کے لئے باہر بھاگی۔وہ کنوئیں کے پاس گئی جہاں گاؤں کی خواتین پانی بھر رہی تھیں اور باتیں کر رہی تھیں۔ میری بات سنو!وہ چلائی مجھے اپنے مچان میں سے خزانہ ملا ہے!تمہارا اس بارے میں کیا خیال ہے؟۔ اچھا اچھا ہر لڑکی نے کہا یہ تمہاری خوش قسمتی ہے۔ تمہیں ان کو حفاظت سے رکھنا چاہیے۔ کیونکہ اس خزانے کی چوری ہو جانے کا خدشہ ہے۔ ویسے تم نے ان کو کہاں رکھا ہے؟اوہ ان کو تو میں باورچی خانے میں چھوڑ آئی…
مفت کی نعمت
ایک گاؤں میں ایک غریب گدھا رہتا تھا۔ صبح سے شام تک بوجھ اٹھاتا، ڈانٹ کھاتا، کبھی سوکھی گھاس ملتی تو کبھی وہ بھی نصیب نہ ہوتی۔ ایک دن اس نے دل ہی دل میں فیصلہ کر لیا۔“بس! اب نہیں، ایسی زندگی سے تو جنگل اچھا ہے۔”رات کے اندھیرے میں وہ رسی تڑوا کر بھاگا اور کئی میل چلنے کے بعد ایک بڑے جنگل میں پہنچ گیا۔ بھوک سے اس کا برا حال تھا۔چلتے چلتے اسے ایک خوبصورت دکان جنگل میں نظر آئی۔دکان پر ایک بندر بیٹھا تھا۔ گدھا ڈرتے ڈرتے آگے بڑھا۔بندر نے سر اٹھائے بغیر پوچھا، “فرمائیے، کیا چاہیے؟”گدھا تو کئی دن کا بھوکا تھا۔وہ ایک ایک کر کے بولنے لگا،“گاجریں دے دو، کچھ گھاس بھی، تھوڑے سیب، وہ سامنے والی مولیاں بھی اور اگر ممکن ہو تو وہ گنے بھی رکھ دو” دکاندار بندر خاموشی سے سب چیزیں تھیلے میں بھرتا گیا۔جب تھیلا بھر گیا تو اس…
صبر و شکر اور لالچ –
کسی گاؤں میں ایک مچھیرا رہتا تھا۔اس کے تین بچے، ایک بیوی اور دو بوڑھے ماں باپ تھے۔مچھیرا بہت غریب تھا۔وہ دن بھر سمندر میں مچھلی پکڑنے جاتا۔کبھی اسے شکار ملتا، کبھی نہیں اور جب شکار ملتا تو سب اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے اور جب شکار نہ ملتا تو صبر کر کے سو جاتے۔گھر کے سب لوگ صبر و شکر والے تھے۔اللہ تعالیٰ کو ان کی یہ بات پسند آئی۔ایک دن وہ مچھیرا معمول کے مطابق سمندر میں مچھلیاں پکڑنے گیا کہ اچانک سمندر میں ایک طوفان سا آ گیا۔مچھیرا طوفان دیکھ کر ڈر گیا۔طوفان ختم ہوا تو اچانک سمندر سے ایک جل پری نکل آئی۔مچھیرا اسے دیکھ کر گھبرا گیا۔جل پری نے کہا:”ڈرو مت! مجھے اللہ تعالیٰ نے تمہاری مدد کے لئے بھیجا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو تمہاری اور تمہارے گھر والوں کی صبر و شکر کرنے والی عادت بہت پسند آئی ہے، اسی لئے مجھے تمہاری…
اندر کا خوف
میں اور حمزہ ضلع ایبٹ آباد کے ”روپڑ“ نامی علاقے کے ایک مدرسے کے طالب علم تھے۔ہمارے لئے یہ علاقہ بالکل نیا تھا۔میرپور سے صرف میں اور حمزہ ہی یہاں اجنبی تھے۔باقی تمام طلبہ مقامی تھے۔قاری صاحب نے مدرسے کے ایک گوشے میں ہمیں ایک کمرے کی جگہ دے دی تھی۔یہ پہاڑی علاقہ تھا۔پہاڑوں پر اونچے نیچے اور گھنے گھنے درخت تھے۔قریب ہی ایک گھنا جنگل بھی تھا۔ہم نے سن رکھا تھا کہ یہاں راتوں کو اکثر ریچھ اور ببر شیر جنگل سے نکل کر آبادی کا رُخ کرتے ہیں۔اس لئے میں اور حمزہ زیادہ باہر نہیں نکلتے تھے،رات کو تو بالکل بھی نہیں۔ایک دن رات گیارہ بجے کا وقت تھا۔میں اور حمزہ کمرے میں بیٹھے اخبار کا مطالعہ کر رہے تھے۔”دو آدم خوروں کی علاقائی قبرستان میں ایک قبر کھودنے کی کوشش۔“حمزہ نے سرخی پڑھ کر اخبار میں سے نظریں ہٹا کر حیرانی کے ساتھ میری طرف دیکھا۔اس سے…
ملا نصیر الدین کے کار نامے
مُلّا کی جب شادی ہورہی تھی اُنہیں بڑے اہتمام سے دُولہا بنا کر جب گھوڑے پر بٹھایا تو وہ فرار ہو گئے ،سب براتی پریشان ہو گئے کوئی دو گھنٹے بعد مُلّا واپس تشریف لائے براتیوں نے پوچھا کہ وہ فرار کیوں ہوگئے تھے ؟اس پر مُلّا نے معصومیت سے کہا یہ دو لہا کیلئے آخری موقعہ ہوتا ہے مگر میں اس خیال سے آگیا کہ آپ کو کھانا نہیں ملے گا اور آپ بھوکے رہو گے سبھی براتی مُسکرانے لگے۔ ایک بار مُلّا اپنے سسرال گئے ۔اُن کی ساس محترمہ خود کو بہت چالاک سمجھتی تھیں ،اُس نے مُلّا سے کہا بیٹا آپ کدو شرف کھاؤگے یا بھنڈی مبارک پکالوں یا پالک پاک پکالوں ؟اِس پر مُلّا نے مسکین سی صورت بنا کر کہا میں گناہگار بند ہ ہوں اور میرا وضو بھی نہیں جو اِن مقدس سبزیوں کے نام بھی لوں ۔ آپ کو ئی بد معاش‘نافرمان اور…
راجہ کی رانی –
بہت ہی دور ایک جنگل میں ایک بہت بے وقوف اور سُستی کا مارا راجہ رہتا تھا۔دنیا میں شاید ہی کوئی جانتا تھا کہ اُس کی سلطنت کہاں واقع ہے۔وہ سارا دن اپنے تخت پر لیٹا رہتا اور اُس کے ملازم مور کے پروں سے بنے پنکھوں سے اُسے ہوا کرتے رہتے۔ایک دن اُس نے فیصلہ کیا کہ اُسے بھی شادی کر لینی چاہئے۔ اُس نے اپنے وزیروں اور مشیروں کو دنیا کے ہر کونے میں بھیجا۔اُس کے وزیر اور مشیر بھی اُسی کی طرح کے عقل مند تھے۔اُس نے وزیروں کو کہہ کر بھیجا تھا کہ اُس کی بیوی ایسی ہو جو زمین پر بھی چل سکے اور ہوا میں بھی اُڑ سکے۔جس کی شکل انسانوں جیسی ہو لیکن وہ انسان نہ لگتی ہو۔اُس کے چار بازو اور چار ٹانگیں ہوں بے چارے وزیر اور مشیر سخت پریشانی کے عالم میں دنیا بھر میں مارے مارے پھر رہے تھے۔…
Huevo blanco dorado –
Érase una vez un jefe de aldea sumamente codicioso. La codicia había nublado su juicio y su carácter y moral se habían deteriorado enormemente. Si veía algo valioso en posesión de algún habitante de la aldea, lo arrebataba por cualquier medio. Los aldeanos estaban hartos de su comportamiento. Se quejaron repetidamente ante el juez de la aldea y el imán principal de la mezquita, a quienes el jefe escuchaba con gran atención, pero se negaba rotundamente a aceptar sus quejas y actuar en consecuencia. Si se enteraba de que alguien poseía una vaca, un búfalo, una cabra o incluso una gallina de buena raza, se sentía impotente y la perdía. Los aldeanos buscaban algún defecto incluso en los mejores animales y lo divulgaban por toda la aldea para protegerlos del codicioso Chaudhry. Pero a pesar de todo esto, los aldeanos, movidos por la envidia mutua, informaban al Chaudhry, quien, mediante…
La historia del león, el rey de la selva, y un jabalí.
La vida humana es un viaje hermoso y continuo, pero en cada recodo nos encontramos con diferentes actitudes. Algunas personas nos animan, mientras que otras intentan desviarnos del camino con su negatividad e incompetencia. Ante esta situación, surge la pregunta: ¿es necesario responder a cada desafío? Según la psicología, la ira y el ego suelen empujar a la persona a peleas inútiles. Las personas sabias y exitosas no son las que se lanzan a cualquier terreno, sino las que comprenden dónde está su lugar y dónde el silencio es la mejor arma.Para entender esto, la historia del rey de la selva, el león, y el jabalí es un ejemplo perfecto.Un día, un poderoso león caminaba tranquilamente cuando un jabalí, cubierto de barro de pies a cabeza, se interpuso en su camino. No solo le arrojó barro, del que él mismo estaba cubierto, sino que también lo desafió arrogantemente a una…
El malentendido del conejo
En el denso y frondoso bosque de Siberia, vivía un hermoso conejo con su familia. Vivían en una casa hecha de tierra blanda. Aunque el conejo era muy inteligente, también era un poco cobarde. Una tarde, el conejo y sus crías intentaban dormir después de comer pastel de zanahoria, pero las crías querían jugar entre ellas. De repente, se oyó una fuerte explosión que hizo que el conejo erizara las orejas. Sintió que la tierra temblaba, salió corriendo de la casa aterrorizado y echó a correr sin mirar a su alrededor. Mientras corría, se alejó mucho de su casa. En ese momento, se encontró con un ciervo. El ciervo le preguntó por qué corría. “Oí un fuerte estruendo, como si la tierra hubiera explotado”, dijo el conejo presa del pánico, y el ciervo también echó a correr. Ambos corrían aterrorizados cuando, en el camino, se encontraron con un mono, que…
Intitulado
Un granjero arrojó un lobo viejo, indefenso y aparentemente enfermo en medio de un rebaño de ovejas. El lobo estaba tan débil que ni siquiera podía mantenerse en pie. A pesar de esto, todo el rebaño entró en pánico por el miedo. El carnero más pesado del rebaño, que siempre permanecía en el centro para estar a salvo, se encontró de repente justo delante del lobo. Antes de que pudiera reaccionar, las mismas ovejas que estaban detrás de él, que solían estar cerca de él todos los días, lo empujaron para abrirse paso. La pata del carnero se rompió, pero no por la mordedura del lobo, sino al ser aplastado bajo las patas de sus propias compañeras, y se convirtió en la presa fácil para un lobo viejo y hambriento.Esta historia revela un hecho psicológico muy importante: cuando surge una crisis, los grupos y sociedades humanas comienzan a operar bajo…