Tag Archives: urdustory،urdu blog

سلطنتوں کی تاریخ میں بادشاہ بہت گزرے، فتوحات بھی بہت ہوئیں، خزانے بھی بھرے رہے،لیکن اصل عظمت ہمیشہ عدل، جواب دہی اور مظلوم کی آواز سننے سے پہچانی گئی۔ یہ واقعہ اسی سچائی کی ایک زندہ تصویر ہے۔ سلطان محمود غزنوی کے دور میں ایک دور دراز پہاڑی خطے میں ڈاکوؤں نے اچانک حملہ کیا۔یہ لوگ نہ صرف راستوں کو غیر محفوظ بناتے تھے بلکہ بستیوں میں گھس کر لوٹ مار بھی کرتے۔انہی حملوں میں ایک بوڑھی عورت کا گھر بھی اجڑ گیا۔زندگی بھر کی جمع پونجی، سامان اور ضروری اشیاء سب چھن گئیں۔ اس کے پاس نہ طاقت تھی، نہ کوئی سہارا،مگر اس کے پاس ایک چیز تھی: حق کا یقین اور دل کی جرأت۔ وہ سیدھی سلطان محمود کے دربار میں پہنچ گئی۔دربار وہ جگہ تھی جہاں وزراء، امراء اور سپہ سالار بھی کانپتے تھے۔ مگر یہ بوڑھی عورت نہیں کانپی۔ اس نے صاف کہا:“آپ اللہ کی طرف…

Read more

13ویں صدی کا اختتام… اناطولیہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں، ایک بزرگ درویش ‘شیخ ادیبالی’ کے حجرے میں سویا ہوا ایک نوجوان جنگجو اچانک پسینے میں شرابور نیند سے جاگتا ہے۔ اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک اور حیرت تھی۔ اس نے ابھی ایک ایسا خواب دیکھا تھا جس میں آنے والی چھ صدیوں اور تین براعظموں کی تاریخ چھپی تھی۔ خواب میں اس نے دیکھا تھا کہ درویش کے سینے سے ایک چاند نکلا اور اس نوجوان کے سینے میں سما گیا۔ پھر اسی جگہ سے ایک عظیم الشان درخت اگا، جس کی شاخیں اتنی پھیلیں کہ انہوں نے آسمان کو ڈھک لیا۔ اس درخت کے سائے میں دنیا کے چار بڑے پہاڑ (کوہِ قاف، اطلس، طور اور بلقان) اور چار بڑے دریا (دجلہ، فرات، نیل اور ڈینیوب) بہہ رہے تھے۔ جب اس نے یہ خواب درویش کو سنایا، تو بزرگ نے مسکرا کر کہا: “مبارک…

Read more

ایک بادشاہ تھا، اس کا ایک پیر و مرشد تھا جن کے بے شمار مرید اور عقیدت مند تھے۔ ایک دن بادشاہ نے خوش ہو کر اپنے مرشد سے کہا:آپ بہت خوش نصیب انسان ہیں، آپ کے ماننے والوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ گنی بھی نہیں جا سکتی۔ مرشد مسکرائے اور فرمانے لگے:ان میں سے صرف ڈیڑھ آدمی ایسا ہے جو واقعی میرا سچا ماننے والا ہے، جو مجھ پر جان نچھاور کر سکتا ہے، باقی صرف نام کے مرید ہیں۔ بادشاہ یہ سن کر حیران رہ گیا اور عرض کیا:پچاس ہزار میں سے صرف ڈیڑھ؟ مرشد نے فرمایا:اگر ان کے نفس کا امتحان لیا جائے تو حقیقت سامنے آ جائے گی۔ چنانچہ ایک ٹیلے پر فوراً ایک جھونپڑی بنوائی گئی۔ مرشد نے اس جھونپڑی میں خفیہ طور پر دو بکرے باندھ دیے، کسی کو اس بات کا علم نہ تھا۔ پھر مرشد باہر آئے اور بلند آواز…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بادشاہ سلامت شدید ‘ڈپریشن’ کا شکار ہو گئے۔ وجہ یہ نہیں تھی کہ شاہی خزانہ خالی تھا، بلکہ دکھ اس بات کا تھا کہ رعایا اتنی صابر و شاکر اور ڈھیٹ واقع ہوئی تھی کہ دربار میں کوئی شکایت لے کر آتا ہی نہیں تھا۔ بادشاہ کو اپنا اقتدار بورنگ لگنے لگا کہ بھئی، اگر عوام روئے پیٹے گی نہیں تو ہم تسلیاں دے کر اپنا سیاسی قد کیسے بڑھائیں گے؟ اس نے فوراً اپنے مشیروں کی ہنگامی میٹنگ بلائی اور حکم دیا، “کوئی ایسا جگاڑ لگاؤ کہ عوام کی چیخیں نکلیں اور وہ روتے پیٹتے دربار کا رخ کریں!”وزیروں نے اپنا روایتی ‘بیوروکریٹک’ دماغ لڑایا اور مشورہ دیا، “حضور! شہر کے اکلوتے پل پر، جہاں سے سب کا روزمرہ کا گزر ہوتا ہے، وہاں 100 روپے فی بندہ ‘گزرگاہ ٹیکس’ لگا دیں۔” بادشاہ نے خوشی خوشی منظوری دے دی۔ کئی دن گزر…

Read more

حضرت ذوالنون مصریؒ ایک دن دریا کے کنارے خاموشی سے بیٹھے مراقبے میں مشغول تھے کہ اچانک ان کی نظر ایک بچھو پر پڑی جو پانی کی طرف بڑھ رہا تھا۔ اتنے میں ایک کچھوا نمودار ہوا، بچھو اس کی پیٹھ پر سوار ہوا اور کچھوا اسے دریا کے دوسرے کنارے لے گیا۔ یہ عجیب منظر دیکھ کر حضرت ذوالنون مصریؒ حیران رہ گئے کہ آخر ایک زہریلے جانور کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ کیسا انتظام فرمایا ہے؟ آپ بھی دریا پار کر کے آگے بڑھے تو دیکھا کہ ایک نوجوان درخت کے سائے تلے گہری نیند میں سو رہا ہے، اور ایک کالا سانپ اس کے قریب پہنچ چکا ہے، جیسے ہی وہ اسے ڈسنے والا تھا— اسی لمحے وہی بچھو وہاں پہنچا اور اس نے سانپ کو ڈنک مار دیا۔ سانپ تڑپ کر مر گیا اور بچھو خاموشی سے واپس لوٹ گیا۔ جب نوجوان کی آنکھ کھلی…

Read more

اس سے پہلے کہ آپ کسی فیاض یا سخی انسان کی تعریفوں کے پل باندھیں… یہ کہانی ضرور پڑھ لیں۔چوہوں کی بستی میں ‘اوکے’ نامی ایک نوجوان چوہا رہتا تھا۔ وہ بظاہر بڑا رحم دل اور سخی تھا، اسی لیے سب اسے بہت پسند کرتے تھے۔اوکے کی عادت تھی کہ وہ دوسروں کی مدد کرتا تھا۔ وہ بیواؤں کا خیال رکھتا، یتیموں کی سرپرستی کرتا اور اس نے بستی کے بڑے پادری (کاہن) کے لیے گھر بھی بنوایا۔ اس نے اس بات کو یقینی بنایا کہ بستی کی عبادت گاہ میں کبھی کسی چیز کی کمی نہ ہو۔جلد ہی اوکے کی شہرت پوری بستی میں پھیل گئی۔ چوہوں کے بادشاہ نے جب اس کی سخاوت کے چرچے سنے تو اسے ایک خطاب سے نوازا:’ایجی اماتو‘ یعنی ’مثالی شخصیت‘۔اوکے اب بادشاہ کا خاص دوست بن چکا تھا۔مگر ایک ایسا راز تھا جسے سب نظر انداز کر رہے تھے۔اوکے کی دولت چوری…

Read more

بین اور جیری نامی یہ دو سروں والا سانپ دنیا کی نایاب ترین مخلوقات میں سے ایک ہے، اور یہ دونوں (سر) ایک دوسرے کو بالکل پسند نہیں کرتے۔بقا کی معجزاتی کہانییہ کیلیفورنیا کنگ سنیک (California Kingsnakes) ہیں جو ‘بائیسیفیلی’ (Bicephaly) نامی حالت کے ساتھ پیدا ہوئے، یعنی ایک جسم اور دو سر۔ یہ صورتحال 10,000 میں سے کسی ایک سانپ کے ساتھ پیش آتی ہے۔ لیکن کڑوا سچ یہ ہے کہ ایسے 99.9 فیصد سانپ اپنی پہلی سالگرہ بھی نہیں دیکھ پاتے۔ وہ عام طور پر اس لیے مر جاتے ہیں کیونکہ ان کے دونوں دماغ کھانے کے معاملے میں ہم آہنگ نہیں ہو پاتے، وہ گھٹ کر مر جاتے ہیں، یا ایک سر دوسرے پر حملہ کر دیتا ہے۔بین اور جیری اس وقت ساڑھے چار سال کے ہیں، جو کہ ایک طبی معجزہ ہے۔ایک پیٹ، دو مختلف شخصیاتان کا معدہ اور نظامِ ہاضمہ ایک ہی ہے، لیکن دو…

Read more

توبہ کی طاقت — ایک ایمان افروز واقعہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک مرتبہ شدید قحط پڑ گیا۔ زمین خشک ہو گئی، لوگ پریشان اور بے حال ہو گئے۔ آخرکار سب لوگ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: “اے اللہ کے نبی! دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ ہم پر بارانِ رحمت نازل فرمائے۔” حضرت موسیٰ علیہ السلام ستر ہزار بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر جنگل کی طرف نکلے اور نہایت عاجزی سے دعا فرمائی: “اے میرے رب! معصوم بچوں، نیک بوڑھوں اور بے زبان جانوروں کے صدقے ہم پر رحم فرما اور بارش نازل فرما۔” ہر نبی کی دعا قبول ہوتی ہے، مگر اس بار کچھ عجیب ہوا… دعا کے بعد آسمان اور زیادہ صاف ہو گیا اور سورج کی تپش پہلے سے بڑھ گئی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حیرت ہوئی۔ آپ نے دوبارہ دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے…

Read more

قدیم ہندوستان کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک برہمن رہتا تھا۔ وہ بہت سادہ دل تھا، بہت ایماندار تھا۔ اسے لوگوں پر بہت بھروسہ تھا — اتنا کہ کبھی کبھی وہ جھوٹ کو بھی سچ سمجھ بیٹھتا تھا۔ ایک دن اس نے ایک بڑی تقریب میں حصہ لیا۔ تقریب کے بعد لوگوں نے اسے ایک بکری تحفے میں دی۔ برہمن بہت خوش ہوا۔ اس نے بکری کو اپنے کندھے پر اٹھایا اور گھر کی طرف چل دیا۔ وہ جنگل کے راستے سے جا رہا تھا۔ اتنے میں تین بدمعاشوں نے اسے دیکھا۔ انہوں نے سوچا: “یہ بکری ہمیں کھانی ہے۔ لیکن یہ برہمن مضبوط ہے — چھین کر نہیں لے سکتے۔ کوئی چال چلنی پڑے گی۔” پہلا بدمعاش برہمن کے پاس آیا اور بولا: “بابا! آپ اپنے کندھے پر کتا کیوں اٹھائے پھر رہے ہیں؟ کتے کا گوشت کھانا تو آپ کے لیے مناسب نہیں۔” برہمن کو غصہ آ…

Read more

ملا نصر الدین کے قصے اپنی ظرافت اور دانائی کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہیں۔ پیش ہے ان کا ایک دلچسپ اور سبق آموز لطیفہ:مرغی اور شوربہایک دن ملا نصر الدین کے گھر ان کا ایک دور کا رشتہ دار آیا اور تحفے میں ایک مرغی لے کر آیا۔ ملا نے بڑی خوشی سے اس کا استقبال کیا، مرغی ذبح کی اور دونوں نے مل کر لذیذ سالن کھایا۔اگلے دن ایک اجنبی شخص ملا کے گھر آیا اور کہنے لگا:میں اس شخص کا پڑوسی ہوں جو کل آپ کے لیے مرغی لایا تھا۔”ملا نے مروت دکھائی اور اسے بھی کھانا کھلایا۔تیسرے دن ایک اور شخص آ دھمکا اور بولا:میں اس شخص کے پڑوسی کا پڑوسی ہوں جو آپ کے لیے مرغی لایا تھا۔”ملا اسے بھی انکار نہ کر سکے اور اسے دسترخوان پر بٹھا دیا۔چوتھے دن پھر ایک صاحب آ گئے اور اپنا تعارف کراتے ہوئے بولا:میں اس…

Read more

موسی علیہ السلام کے زمانے میں ایک بہت مالدار شحض کو بڑی سخت بیماری نے پکڑ لیا  بہت علاج کیا حکیموں کے پاس گیا لیکن کوئی آفاقہ نہیں ہوا سب نے کہہ دیا کہ آپکا مرض لا علاج ہے آپکا کوئی علاج نہیں اپنے اوپر دم کرتے رہنا ہمارے پاس اپکا کوئی علاج نہیں وہ بڑا پریشان ہوا چھوٹے چھوٹے بچے تھے سارا دن بیٹھ کر بچوں کو دیکھتا رہتا کہ میرے بعد ان بچوں کا کیا ہوگا انکی کفالت کون کرے گا ایک دن بیوی نے کہا کہ یہاں ایک پیغمبر ہے جنکی ہر بات سچی ہوتی ہے انکے پاس جاو وہ جو بولے گا اس میں پھر کوئی گنجائش نہیں جاو شاید وہ کوئی راستہ نکالے وہ گھر سے نکلا اور موسی علیہ السلام کے پاس گیا کہنے لگا اے اللہ کے نبی میں لاعلاج مرض میں مبتلا ہو نا امید ہو گیا ہو آپ اللہ سے دعا…

Read more

یہ ایک خوبصورت اور سبق آموز کہانی ہے عہد اور اتحاد: عقاب اور شیر کا قصہ🔥 ہر اتحاد ہمیشہ قائم رہنے کے لیے نہیں بنتا۔سیرینگیٹی (Serengeti) کی بلند ترین چوٹی پر، جہاں ہوائیں چٹانوں سے ٹکراتی تھیں اور حدِ نگاہ تک ایک وسیع سلطنت پھیلی ہوئی تھی، ایک نایاب ملاقات ہوئی۔ایک طرف سنہرا عقاب کھڑا تھا— آسمانوں کا حکمران، تیز نگاہ، فخر سے بھرا اور دور اندیش۔دوسری طرف ببر شیر تھا— میدانوں کا بادشاہ، زمین سے جڑا ہوا، طاقتور اور غیر متزلزل۔ 🦅بلندی سے ایک پیشکشعقاب شیر سے چند قدم دور ایک چٹان پر اترا، شام کی روشنی میں اس کے پر چمک رہے تھے۔ اس نے پورے اعتماد سے کہا:“اے شیر! میں ایک ایسی پیشکش لایا ہوں جو اس پوری سرزمین کو بدل سکتی ہے۔ میں افق سے بھی آگے دیکھ سکتا ہوں، جبکہ تمہارے پاس بے مثال طاقت ہے۔ اگر ہم اتحاد کر لیں، تو تم قوت بنو…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک شخص بادشاہ کے دربار میں حاضر ہوا اور دعویٰ کیا کہ وہ گھپ اندھیرے کمرے میں، آنکھوں پر کالی پٹی باندھ کر کالی سوئی میں کالا دھاگہ مسلسل پانچ سو بار بھی پروئے تو اس کا نشانہ نہیں چوکے گا۔ بادشاہ کو یہ بات ناممکن لگی، لیکن اس شخص نے گزارش کی کہ اسے آزما کر دیکھ لیا جائے۔ چنانچہ اس شخص نے آنکھوں پر پٹی باندھ کر سیکڑوں بار کالی سوئی میں کالا دھاگہ پرو کر دکھا دیا۔ بادشاہ اس کی یہ مہارت دیکھ کر بہت خوش ہوا۔اگلے دن بادشاہ نے اسے دربار میں طلب کیا اور حکم دیا کہ اس شخص کو دس ہزار اشرفیاں انعام میں دی جائیں۔ وہ شخص انعام لے کر خوشی خوشی واپس جانے ہی لگا تھا کہ بادشاہ نے اسے روکا اور اپنے سپاہیوں کو حکم دیا کہ اسے زمین پر لٹا کر دس کوڑے مارے…

Read more

راجستھان کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک بوڑھا کسان رہتا تھا۔ اس کا نام تارا تھا۔ وہ بہت غریب تھا، لیکن بہت مہمان نواز تھا۔ اس کے پاس جو کچھ تھا، وہ دوسروں کے ساتھ بانٹ دیتا تھا۔ ایک دن ایک مسافر اس کے گھر آیا۔ وہ بہت تھکا ہوا تھا، اس کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے، اس کے پاؤں زخمی تھے۔ تارا نے اسے اندر بٹھایا، اسے کھانا کھلایا، اس کے زخموں پر مرہم رکھا۔ رات کو مسافر نے تارا سے کہا: “تم بہت غریب ہو، پھر بھی مہمان نوازی کرتے ہو۔ تمہارے پاس کیا ہے جو دوسروں کو دیتے ہو؟” تارا نے کہا: “میرے پاس کھیت ہے، دو وقت کی روٹی ہے، ایک چھوٹا سا گھر ہے، اور بیوی بچے ہیں۔ بس اتنا ہی ہے۔” مسافر نے کہا: “کل صبح تمہیں ایک تحفہ ملے گا۔” صبح جب تارا اٹھا تو مسافر جا چکا تھا۔ اس کی چارپائی…

Read more

یہ ایک بہت ہی سبق آموز کہانی ہے جو انسانی فطرت کے ایک گہرے پہلو کی عکاسی کرتی ہے۔ لوگ مدد کیوں نہیں کرتے؟(چاہے وہ جانتے ہوں کہ آپ کو ضرورت ہے)ایک بوڑھا ملاح اپنی ہمدردی کی وجہ سے مشہور تھا؛ وہ واحد انسان تھا جو جانوروں کو گہرے دریا کے پار لے جاتا تھا۔ وہ برسوں سے یہ کام کر رہا تھا—بغیر کسی دکھاوے کے اور بغیر کسی معاوضے کے—کیونکہ اس کا ماننا تھا کہ جانوروں کو بھی کسی ایسے فرد کی ضرورت ہے جو ان کا خیال رکھے۔ایک موسم، ایک شیر نے اس سے دریا پار کرانے کی درخواست کی تاکہ وہ دوسری طرف موجود اپنے گروہ (کچھار) تک پہنچ سکے۔ ملاح اسے لے کر چل پڑا۔ جب وہ دریا کے بیچ و بیچ پہنچے، تو شیر جھکا اور آہستہ سے بولا:“میں اسی وقت تمہارا کام تمام کر سکتا ہوں اور کسی کو کانوں کان خبر بھی نہیں…

Read more

“سچ وہی دیکھتا ہے… جو وہاں سے گزرا ہو”کبھی آپ نے غور کیا ہے…کہ آپ کی زندگی کے مشکل ترین لمحات میں، سب سے زیادہ رائے دینے والے وہ لوگ ہوتے ہیں…جو کبھی اُس راستے سے گزرے ہی نہیں؟ایک تاریک، تنگ اور خاموش تہہ خانے میں دو چوہے رہتے تھے۔باہر کی دنیا کے لیے وہ صرف “چوہے” تھے…مگر اپنے دائرے میں، وہ ایک دوسرے کی پوری دنیا تھے۔ایک دن، ان کے بل کے قریب شور ہوا۔انسانوں نے زہر رکھ دیا تھا… جال بچھا دیے تھے…خطرہ ہر طرف پھیل چکا تھا۔پہلا چوہا گھبرا گیا۔اس نے کہا:“ہم ختم ہو گئے… کوئی راستہ نہیں… سب کچھ ختم ہونے والا ہے!”دوسرا چوہا خاموش رہا۔اس نے آہستہ سے کہا:“یہ پہلی بار نہیں ہے… میں اس سے پہلے بھی بچ نکلا ہوں۔”اسی لمحے، اوپر سے ایک آواز آئی۔کچھ انسان کھڑے بات کر رہے تھے۔“بس ایک چھوٹا سا مسئلہ ہے… آسانی سے حل ہو جائے گا…”انہوں نے…

Read more

ایک مرتبہ ایک شخص کے گھر چوری ہو گئی۔ چور اُسی محلے کے تھے۔ انہوں نے اسے پکڑ کر زبردستی یہ حلف لے لیا کہ اگر اُس نے کسی کو اُن کا نام بتایا تو اُس کی بیوی کو طلاق ہو جائے گی۔ مجبور انسان نے جان بچانے کے لیے یہ قسم کھا لی۔ چور سارا سامان لے گئے اور وہ بے چارہ سخت پریشانی میں مبتلا ہو گیا۔ اب عجیب کشمکش تھی:اگر چوروں کا نام بتاتا ہے تو مال واپس مل سکتا ہے مگر بیوی ہاتھ سے جا سکتی ہے،اور اگر خاموش رہتا ہے تو بیوی تو محفوظ رہے گی مگر گھر لُٹ جائے گا۔ اسی پریشانی میں وہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی مجلس میں حاضر ہوا۔ امام صاحب نے اس کے چہرے پر غم کے آثار دیکھے اور فرمایا: “آج تم بہت اداس ہو، کیا معاملہ ہے؟” وہ بولا: “حضرت! میں کھل کر کچھ کہہ بھی…

Read more

ایک بادشاہ تھا۔ اس کے پاس ساری دولت تھی، سارا لشکر تھا، ساری زمین تھی۔ لوگ اس کے سامنے جھکتے تھے، اس کے حکم پر چلتے تھے، اس کی تعریف کرتے تھے۔ لیکن وہ خوش نہیں تھا۔ وہ راتوں کو جاگتا، دن کو بے چین رہتا۔ اسے ڈر تھا کہ کہیں اس کی دولت نہ چلی جائے، کہیں اس کا تخت نہ ٹوٹ جائے، کہیں اس کا لشکر نہ بھاگ جائے۔ ایک دن اس نے سنا کہ شہر کے باہر ایک درویش رہتا ہے۔ وہ درویش بہت غریب ہے، لیکن بہت خوش ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ اس کی آنکھوں میں سکون ہے، اس کے چہرے پر نور ہے، اس کے دل میں اطمینان ہے۔ بادشاہ نے سوچا: “یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ میں بادشاہ ہوں، میرے پاس سب کچھ ہے، پھر میں خوش نہیں ہوں۔ یہ درویش کچھ نہیں رکھتا، پھر خوش کیسے ہے؟” اس نے اپنے وزیر سے…

Read more

ایک نوجوان تھا۔ اس کا نام یوسف تھا۔ وہ بہت ذہین تھا، بہت ہوشیار تھا۔ لوگ اس کی عقل کی تعریف کرتے تھے، اس کی چالاکی کی داد دیتے تھے۔ وہ ہر مسئلہ حل کر لیتا، ہر مشکل سے نکل جاتا، ہر جگہ کامیاب ہو جاتا۔ لیکن وہ خوش نہیں تھا۔ وہ رات کو جاگتا، دن کو بے چین رہتا۔ اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی، لیکن اس کے دل میں خلاء تھا۔ اس کی آنکھوں میں چمک تھی، لیکن اس کی روح میں اندھیرا تھا۔ ایک دن وہ شہر سے باہر جنگل میں چلا گیا۔ وہاں ایک بوڑھا درویش رہتا تھا۔ یوسف اس کے پاس بیٹھ گیا اور بولا: “مجھے سکون چاہیے۔ میں نے سب کچھ پا لیا، لیکن مجھے کچھ نہیں ملا۔” درویش نے کہا: “بیٹا! تیرے دماغ میں کون سی آواز ہے جو تجھے سکون نہیں لینے دیتی؟” یوسف نے کہا: “آواز؟ کون سی آواز؟” درویش نے…

Read more

ایک دن جحا (ملا نصر الدین) اپنے گدھے پر سوار ہو کر بازار جا رہا تھا کہ ایک اجنبی نے مذاق اڑانے کے لیے اسے روکا اور پوچھا:اجنبی: “اے جحا! میں نے تمہارے گدھے کو تو پہچان لیا، لیکن تمہیں نہیں پہچانا، تم کون ہو؟”جحا نے مسکراتے ہوئے بڑے اطمینان سے جواب دیا:جحا: “بھائی! اس میں تمہارا کوئی قصور نہیں، گدھے ایک دوسرے کو فوراً پہچان لیتے ہیں، انسانوں کو پہچاننے میں انہیں ذرا وقت لگتا ہے!” #جحا_کے_قصے#اردو_مزاح#عقلمند_جواب

20/30
NZ's Corner