Tag Archives: bloganuary dailyprompt

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک جنگل میں جہاں ہر جانور صرف اپنے مفاد کے بارے میں سوچتا تھا، ایک شیر لوہے کے بھاری پنجرے میں قید ہو گیا۔ کئی دن تک بھوکا پیاسا رہنے کے بعد جب وہ بالکل مایوس ہو گیا، تو اس نے مدد کے لیے پکارنا شروع کیا۔ اتفاق سے وہاں سے ایک بھیڑ کا گزر ہوا۔شیر نے فوراً اپنی باتوں کے جال میں پھنسانا شروع کیا۔ وہ منت سماجت کرتے ہوئے بولا، “خدا کے لیے مجھے باہر نکالو۔ میں اپنی شاہی عزت کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں تمہیں نقصان نہیں پہنچاؤں گا۔ مجھے بس اپنی آزادی چاہیے۔”بھیڑ اتنی بھی نادان نہیں تھی۔ وہ ہچکچائی کیونکہ وہ شیر کی فطرت سے واقف تھی، لیکن شیر نے اس قدر بے چارگی کا ناٹک کیا کہ بھیڑ کا دل پگھل گیا۔ اس نے پنجرے کی کنڈی کھول دی اور پیچھے ہٹ گئی۔جیسے ہی دروازہ…

Read more

ایک گاؤں میں ایک بہت پرانا مسجد تھا۔ اس مسجد کی سب سے خاص بات وہاں رہنے والا ایک دیو ہیکل مگر نہایت نرم دل ہاتھی تھا۔ وہ ہاتھی ہر صبح مسجد کے دروازے پر کھڑا ہو جاتا اور آنے والے زائرین کو اپنی سونڈ اٹھا کر سلام کرتا۔ بچے اس سے بے حد محبت کرتے، بوڑھے اسے دعائیں دیتے، اور ہر کوئی اسے مسجد کی شان سمجھتا تھا۔ہر شام سورج ڈھلنے کے بعد ہاتھی قریبی تالاب پر نہانے جایا کرتا تھا۔ راستے میں ایک درزی کی چھوٹی سی دکان پڑتی تھی۔ یہ درزی روز ہاتھی کا انتظار کرتا، اور جیسے ہی ہاتھی اپنی سونڈ بڑھاتا، وہ محبت سے اسے ایک کیلا کھلا دیتا۔ہاتھی خوش ہو کر سونڈ بلند کرتا، گویا شکریہ ادا کر رہا ہو، اور پھر آہستہ آہستہ تالاب کی طرف بڑھ جاتا۔وقت گزرتا گیا، اور یہ معمول ایک خوبصورت دوستی میں بدل گیا۔لیکن ایک شام…درزی کے دل…

Read more

1950 اور 2026 😂🔥1950ء 🐐ایک شخص کی نئی نئی شادی ہوئیسہاگ رات پر اُس نے سوچا:“آج ایسا رعب ڈالوں گا کہ بیوی عمر بھر یاد رکھے گی!” 😎چنانچہ اُس نے پلنگ کے پائے کے ساتھ ایک بکری کا بچہ باندھ دیا۔ 🐐رات کو جیسے ہی بکری کے بچے نے “میں میں” کی آواز نکالی،شوہر غرّا کر بولا:“خاموش ہو جا ورنہ ابھی ذبح کر دوں گا!” 😠کچھ دیر خاموشی رہیپھر بکری کا بچہ دوبارہ بول پڑا۔ 😅شوہر نے آنکھیں نکالتے ہوئے کہا:“آخری وارننگ دے رہا ہوں!” ⚠️تیسری بار آواز آئی تو بندے نے واقعی چھری اٹھائیاور وہیں بکرے کا قصہ ختم! 😳🔪بیوی یہ منظر دیکھ کر کانپ گئی 😨شوہر مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے بولا:“جو میرے سامنے اونچی آواز نکالے گااُس کا یہی حال ہوگا!” 😌نتیجہ؟بیوی نے پوری زندگی شوہر کے سامنے آواز تک نہ نکالی… 😂2026ء 📱🤣وقت بدلا…لوگ بدلے…اور بیویاں تو خاص طور پر اپڈیٹ ہو گئیں! 😅ایک نئے دولہے…

Read more

ایک زمانے کی بات ہے، ایک دریا کے کنارے ایک غریب مگر خوش مزاج کشتی بان رہتا تھا۔ لوگ اسے سادہ سمجھتے تھے، مگر وہ زندگی کے تجربے میں بہت آگے تھا۔ ایک دن ایک مشہور عالم اُس کی کشتی میں سوار ہوا تاکہ دریا پار جا سکے۔ عالم نے ریشمی لباس پہن رکھا تھا، ہاتھ میں کتابیں تھیں اور چہرے پر غرور صاف جھلک رہا تھا۔دریا کا سفر لمبا تھا، تو عالم نے وقت گزارنے کے لیے کشتی بان سے بات چیت شروع کی۔وہ ناک چڑھا کر بولا: “اے کشتی بان! کیا تم نے کبھی علمی کتاب اور گرامر پڑھی ہے؟”کشتی بان نے عاجزی سے جواب دیا: “جناب، میں غریب آدمی ہوں۔ مجھے پڑھنے کا موقع نہیں ملا۔”یہ سن کر عالم طنزیہ ہنسا اور بولا: “افسوس! تم نے تو اپنی آدھی زندگی ضائع کر دی!”کشتی بان خاموش رہا۔ اُس نے صرف ایک گہری سانس لی اور چپ چاپ چپو…

Read more

ایک سائنسی تجربے کے دوران ماہرین نے دو بندروں کو ایک ہی طرح کا سادہ کام دیا. جب پہلے بندر نے اپنا کام مکمل کیا، تو اسے انعام کے طور پر کھیرا دیا گیا. بندر نے بڑی رغبت سے اسے کھانا شروع کیا؛ وہ تازہ تھا، لذیذ تھا اور بندر اپنی اس محنت کے پھل سے پوری طرح مطمئن اور خوش تھا. لیکن پھر کہانی میں ایک موڑ آیا. اس بندر کی نظر برابر والے پنجرے میں بیٹھے دوسرے بندر پر پڑی. اس نے دیکھا کہ دوسرے بندر نے بھی وہی کام کیا تھا، مگر اسے انعام میں کھیرے کے بجائے کیلا ملا. بس یہی وہ لمحہ تھا جہاں پہلے بندر کی دنیا بدل گئی. اچانک اسے اپنا وہ کھیرا، جو چند لمحے پہلے تک بہت لذیذ لگ رہا تھا، بے کار اور حقیر محسوس ہونے لگا. اس نے غصے میں وہ کھیرا سائنسدان کے منہ پر دے مارا اور…

Read more

ایک تُرک گھوڑے پر سوار چلا آرہاتھا۔ دیکھا ایک سوتے ہوئے شخص کے حلق میں سانپ گھس گیا۔ سوار نے دور سے دیکھ کر بہتیرا گھوڑا دوڑایا کہ سونے والے کو بچائے مگر موقع نہ مِلا۔ کوئی تدبیر سمجھ میں نہ آئی تو اس نے چند گھونسے سونے والے کو مارے۔ سونے والا گہری نیند سے ایک دم اچھل پڑا۔دیکھا کہ ایک سوار گھونسے پر گھونسا لگارہا ہے۔ وہ تُرک تابڑ توڑ گھونسے مارتا رہا یہاں تک کہ سونے والا تاب نہ لاکر بھاگ کھڑا ہوا۔ آگے آگے وہ اور پیچھے پیچھے ترک ایک درخت کے تلے پہنچے۔ وہاں جھڑے پڑے سیب بہت پڑے تھے۔ تُرک نے کہا کہ اے شخص ان سیبوں میں سے جتنے کھائے جائیں تو کھا اور خبردار ہر گرز کمی نہ کر۔ تُرک نے اس کو اس قدر سیب کھلائے کہ سب کھایا پیا الٹ الٹ کر منہ سے نکلنے لگا۔اس نے تُرک سے چلاّکر…

Read more

ایک لڑکا شہر میں پڑھ لکھ کر واپس دیہات گیا تو گاؤں کے چوہدری صاحب نے سوال کیا:“پتر پڑھنے لکھنے کا کیا فائدہ ہے؟” لڑکا بولا:“چوہدری صاحب، پڑھنے لکھنے سے ‘لوجکس’ کلیر ہو جاتی ہیں۔” چوہدری:“یہ ‘لوجکس’ کیا ہوتی ہیں؟” لڑکا:“‘لوجکس’ منطق کو کہتے ہیں۔” چوہدری:“یہ منطق کیا بلا ہے؟” لڑکا بولا:“میں سمجھاتا ہوں آپ کو…” یہ کہہ کر اس نے پوچھا:“چوہدری صاحب، آپ کے گھر میں کتا ہے؟” چوہدری:“ہاں، کتا تو ہے۔” لڑکا:“اس کا مطلب آپ کا گھر بڑا ہوگا؟(جس کی حفاظت کے لیے کتا رکھا ہوا ہے)” چوہدری:“ہاں، گھر بھی بڑا ہے۔” لڑکا:“پھر آپ کے ہاں نوکر چاکر بھی کافی ہوں گے؟(بڑے گھر کی دیکھ بھال کے لیے)” چوہدری:“ہاں جی، نوکر بھی کافی سارے ہیں۔” لڑکا:“اس کا مطلب آپ کی آمدنی بھی اچھی خاصی ہوگی؟” چوہدری:“بالکل، آمدنی بھی اچھی خاصی ہے۔” لڑکا:“اس کا مطلب آپ کی ماں کی دعائیں آپ کے ساتھ ہیں اور وہ قبول بھی ہوئیں…یعنی…

Read more

برطانوی نوآبادیاتی دور میں ہندوستان میں، ایک دفعہ ایک برطانوی افسر نے ایک ہندوستانی شہری کو تھپڑ مارا۔ اس پر ہندوستانی شہری نے ردعمل میں پوری طاقت سے افسر کو تھپڑ مارا اور اسے زمین پر گرا دیا۔ افسر اس ذلت آمیز صدمے سے حیران رہ گیا اور وہاں سے چلا گیا، یہ سوچتا ہوا کہ ایک ہندوستانی شہری نے کیسے جرات کی کہ وہ برطانوی فوج کے افسر کو تھپڑ مارے، جو کہ ایک ایسی سلطنت کا حصہ ہے جس پر سورج غروب نہیں ہوتا۔ وہ اپنے مرکز کی طرف گیا تاکہ انہیں اس واقعے کی اطلاع دے اور اس شہری کو سزا دینے کے لیے مدد طلب کرے۔ لیکن بڑے افسر نے اسے پرسکون کیا اور اپنے دفتر لے گیا، اور ایک پیسوں سے بھری خزانہ کھول کر کہا: ”خزانے سے دس ہزار روپے لے لو، اور اس ہندوستانی شہری کے پاس جا کر اس سے معافی مانگو،…

Read more

بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ جرمنی کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک غریب کسان رہتا تھا جس کا نام ہنس تھا۔ ہنس کے پاس صرف ایک بیل تھا اور ایک مرغی۔ بیل سے وہ اپنے کھیت میں ہل چلاتا تھا اور مرغی سے اسے انڈے ملتے تھے جنہیں وہ بازار میں بیچ کر روٹی خریدتا تھا۔ لیکن ایک سال قحط پڑا۔ کھیتوں میں گھاس نہیں اگی، دریا سوکھ گئے اور ہوا اتنی گرم چلنے لگی کہ درختوں کے پتے جھلس گئے۔ ہنس کی مرغی مر گئی اور بیل کمزوری سے چلنے کے قابل نہیں رہا۔ ہنس بہت پریشان تھا۔ اس نے اپنی بیوی سے کہا، “میاں بیوی! اب ہمارے پاس کچھ نہیں بچا۔ کھانے کو ایک روکڑی بھی نہیں ہے۔ مجھے کہیں جا کر کام تلاش کرنا ہوگا۔” اس کی بیوی نے کہا، “جاؤ میاں، لیکن خالی ہاتھ مت آنا۔ چاہے ایک روٹی ہی لے آنا، لیکن خالی…

Read more

ایک سنسان اور ویران راستے پر ایک آدمی اپنے گدھے کے ساتھ سفر کر رہا تھا۔ ہر طرف خاموشی تھی، جیسے پوری وادی سانس روکے کھڑی ہو۔ اچانک گدھے کا پاؤں پھسلا اور وہ ایک گہرے گڑھے میں جا گرا۔ گڑھا اتنا گہرا تھا کہ نکلنا ممکن دکھائی نہیں دیتا تھا۔ خوش قسمتی سے گدھا زخمی نہیں ہوا، مگر خوف اور بے بسی کے باعث زور زور سے رینگنے لگا۔ اس کی درد بھری آوازیں سن کر مالک فوراً دوڑا اور اسے نکالنے کی کوشش شروع کر دی۔ وہ کبھی رسی پھینکتا، کبھی ہاتھ بڑھاتا، کبھی پتھر رکھ کر سہارا بنانے کی کوشش کرتا، مگر ہر کوشش ناکام رہی۔ وقت گزرتا گیا، سورج ڈھلنے لگا، اور امید کمزور پڑنے لگی۔ آخرکار، تھکن اور مایوسی کے عالم میں اس آدمی نے ایک سخت فیصلہ کیا۔ اس نے سوچا:“یہ گدھا اب اس گڑھے میں بھوک اور خوف سے مر جائے گا، بہتر…

Read more

بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ ایک عظیم الشان شہنشاہ تھا جس نے حکم دیا کہ ایک ایسا محل تعمیر کیا جائے جس کی مثال پوری دنیا میں نہ ملے۔ اس محل میں بے شمار عجائبات تھے، مگر سب سے حیرت انگیز ایک خاص کمرہ تھا۔ اس کمرے کی دیواریں، چھت، دروازے اور یہاں تک کہ فرش بھی مکمل طور پر شفاف آئینوں سے بنایا گیا تھا۔ یہ آئینے اس قدر صاف اور بے داغ تھے کہ اندر آنے والا شخص فوراً دھوکہ کھا جاتا۔ قدم رکھتے ہی یوں لگتا جیسے وہ کسی اور ہی دنیا میں آ گیا ہو۔ اس کمرے کی ایک اور عجیب بات یہ تھی کہ یہاں معمولی سی سرگوشی بھی گونج بن کر واپس پلٹتی تھی، اور ہر آواز دیواروں سے ٹکرا کر کئی گنا بڑھ کر لوٹ آتی تھی۔ ایک رات ایک آوارہ کتا بھٹکتا ہوا محل میں داخل ہوا اور بھاگتا ہوا اسی…

Read more

ایک گاؤں میں ایک آدمی رہتا تھا جو انتہائی کاہل اور چالاک طبیعت کا مالک تھا۔ محنت کرنا اس کے مزاج کے خلاف تھا، مگر دوسروں کو نقصان پہنچا کر فائدہ اٹھانا اس کی عادت بن چکی تھی۔ اس کے پاس ایک گدھا تھا، جس کی دیکھ بھال بھی وہ خود نہیں کرتا تھا۔ وہ گدھے کو رات کے وقت چپکے سے لوگوں کے کھیتوں میں چھوڑ دیتا تاکہ وہ وہاں چر کر اپنا پیٹ بھر لے، اور اس طرح اس کی سستی بھی قائم رہے اور خرچ بھی نہ آئے۔ مگر جب لوگوں کو اس کی حرکتوں کا علم ہوا تو انہوں نے سختی سے منع کر دیا کہ اگر تمہارا گدھا دوبارہ ہمارے کھیت میں آیا تو اسے مار دیا جائے گا۔ اب آدمی پریشان ہو گیا کہ بغیر خرچ کے کام کیسے چلے؟ بہت سوچنے کے بعد اس کے ذہن میں ایک مکاری آئی۔ اس نے کہیں…

Read more

پرانے زمانے کی بات ہے، جب سفر صرف فاصلے طے کرنے کا نام نہیں تھا بلکہ انسانوں کے باطن کو بھی آشکار کر دیتا تھا۔ چند دوست ایک طویل اور تھکا دینے والے سفر پر نکلے ہوئے تھے۔ دن بھر کی گرد، دھوپ کی تپش اور مسلسل چلتے رہنے کی تھکن ان کے چہروں سے صاف جھلک رہی تھی، مگر دلوں میں منزل تک پہنچنے کی امید ابھی زندہ تھی۔ شام کے سائے گہرے ہونے لگے تو وہ ایک چھوٹی سی بستی کے قریب پہنچے، جہاں مٹی کے گھروں کے درمیان ایک گھر ایسا تھا جس کے دروازے پر ٹھہرنے والے کو عجیب سا سکون محسوس ہوتا تھا۔ اسی گھر کا مالک ایک نیک دل، سادہ مزاج اور بے مثال مہمان نواز شخص تھا۔ اس نے مسافروں کو دیکھا تو بغیر کسی سوال کے مسکرا کر بولا، “آئیے، مسافر کبھی اجنبی نہیں ہوتے”، اور انہیں اپنے گھر لے آیا۔ اس…

Read more

ایک دور دراز گاؤں تھا جہاں ہر طرف سبز کھیت، پھلدار درخت اور خوشگوار ہوائیں چلتی تھیں۔ سورج اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا، لیکن اس کی تپش میں بھی ایک عجیب سی نرمی تھی۔ پرندے چہچہا رہے تھے، کھیتوں میں کسان محنت کر رہے تھے اور فضا میں زندگی کی ایک خاص رونق تھی۔ اسی گاؤں کے ایک کنارے پر ایک بڑا سا درخت تھا، جس کے نیچے ایک ٹڈا رہتا تھا۔ یہ ٹڈا اپنی زندگی سے بے حد خوش تھا۔ اس کے پاس نہ کوئی فکر تھی، نہ کوئی ذمہ داری۔ وہ صبح اٹھتا، درخت پر چڑھتا، دھوپ میں بیٹھ کر گانا گاتا، اور پھر سارا دن چھلانگیں لگاتا اور مزے کرتا۔ ٹڈے کو سب سے زیادہ پسند یہ تھا کہ وہ دوسروں کو کام کرتے دیکھ کر بھی ہنسے اور خود کو “آزاد روح” سمجھے۔ وہ اکثر کہتا: “زندگی کا اصل مقصد مزہ…

Read more

ایک دفعہ شیطان سڑک کنارے اداس بیٹھا تھا، پاس سے ایک گدھا گزرا۔ گدھے نے پوچھا، “استاد! خیر تو ہے؟ آج اتنے پریشان کیوں ہو؟” شیطان نے ٹھنڈی آہ بھری اور سامنے والے گھر کی طرف اشارہ کر کے بولا، “یار، اس گھر میں میاں بیوی رہتے ہیں۔ پچھلے دس سال سے میں ان میں جھگڑا کرانے کی کوشش کر رہا ہوں، پر ناکام رہا۔ بیوی اتنی سیانی ہے کہ میرا ہر وار خالی جاتا ہے۔” گدھا ہنسا اور بولا، “بس اتنی سی بات؟ یہ کام تو میں بھی کر سکتا ہوں۔”شیطان نے چیلنج قبول کر لیا۔ گدھا گیا اور اس گھر کے باہر زور زور سے “ہیں ہاوں… ہیں ہاوں” کرنا شروع کر دیا۔شوہر باہر نکلا، گدھے کو دیکھا اور بیوی سے بولا: “بیگم! دیکھو تمہارا رشتہ دار ملنے آیا ہے۔” بیوی کچن سے نکلی، ایک نظر گدھے کو دیکھا اور مسکرا کر شوہر سے بولی: “جی بالکل! سسرالی…

Read more

ایران کے ایک بادشاہ نے اپنے بیٹے کی تعلیم و تربیت کے لیے ایک نہایت نیک اور درویش صفت استاد کا انتخاب کیا۔ بادشاہ نے اسے بلا کر کہا “میں چاہتا ہوں کہ میرا بیٹا دین، اخلاق اور حکمت سیکھے، کیونکہ کل کو یہی شہزادہ میری سلطنت کا وارث ہوگا۔” استاد نے اس ذمہ داری کو پوری دیانت اور اخلاص کے ساتھ قبول کیا۔ اس نے شہزادے کو قرآنِ مجید کی تعلیم دی، احادیثِ مبارکہ پڑھائیں، اور اسے عدل، انصاف اور حکمت کے اصولوں سے روشناس کروایا۔ وقت گزرتا گیا اور شہزادہ علم و ادب میں پختہ ہوتا چلا گیا۔ جب اس کی تعلیم مکمل ہوئی تو دستار بندی کی تقریب ہوئی اور وہ رسمی طور پر تعلیم سے فارغ ہوگیا۔ چند دن بعد استاد نے شہزادے سے کہا “بیٹے! کل میرے پاس ضرور آنا، مجھے تم سے ایک اہم بات کرنی ہے۔ شہزادہ وقت مقررہ پر آیا۔ استاد نے…

Read more

رات صرف گہری نہیں تھی بھاری تھی۔ آسمان پر بادل اس طرح گرج رہے تھے جیسے کسی نے صدیوں کا دکھ ایک ہی رات میں زمین پر اتارنے کا فیصلہ کر لیا ہو۔ بارش کی ہر بوند چھت پر نہیں، جیسے دل پر گر رہی تھی، مسلسل، بے رحم، اور بے آواز چیخوں کے ساتھ۔ ایک کچی سی جھونپڑی کے اندر، ایک مدھم سا چراغ جل رہا تھا۔اور اس چراغ کی لو بھی جیسے تھک چکی تھی۔ وہاں ایک بیوہ عورت بیٹھی تھی، حلیمہ۔ اس کے چہرے پر وقت کے نشان تھے، آنکھوں میں وہ خالی پن، جو صرف مسلسل صبر سے پیدا ہوتا ہے، اور دل میں ایک ایسی خاموش جنگ، جس کا کوئی گواہ نہیں ہوتا۔ اس کے شوہر، اکرم، کو گزرے تین سال ہو چکے تھے، مگر اس کے جانے کے بعد جو خلا پیدا ہوا تھا، وہ وقت بھی پُر نہ کر سکا۔ کونے میں اس…

Read more

ایک گاؤں کا سکھ، چین اور آرام سے بھرا ماحول، جہاں ایک چوہدری صاحب رہتے تھے۔ چوہدری صاحب خود کو بہت سیانا سمجھتے تھے، لیکن درحقیقت وہ کافی بھولے تھے۔ ان کے گھر کے پاس ایک حجام کی دکان تھی، جس کا مالک جیدا نامی ایک مکار شخص تھا۔چوہدری: (جیدے کی دکان پر حجامت کراتے ہوئے، فخر سے) “جیدے! میرے جیسا کوئی سیانا آدمی اس گاؤں میں ہے؟”جیدا: (مکار مسکراہٹ کے ساتھ) “بالکل نہیں چوہدری صاحب! آپ تو عقل کے سمندر ہیں۔ لیکن… آپ کو معلوم ہے، شہر کے لوگ ایک ایسی ترکیب جانتے ہیں جس سے عقل اور بھی بڑھ جاتی ہے۔”چوہدری: (شوق سے) “کیا؟ وہ کون سی ترکیب ہے؟”جیدا: “شہر کے لوگ کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص ہفتے میں ایک بار اپنے بال ‘الٹے’ کٹوائے، تو اس کی عقل دگنی ہو جاتی ہے۔ میں تو یہ کام صرف خاص لوگوں کے لیے کرتا ہوں۔”چوہدری: (خوشی سے) “جیدے!…

Read more

دو دوست ایک بینک میں ملازم تھے۔ انہیں عیدِ قربان کے لیے بکرا خریدنا تھا۔ وہ بینک سے سیدھے پینٹ کوٹ پہنے اور ٹائی لگائے مویشیوں کی منڈی پہنچ گئے۔ گاڑی پارک کرنے کے بعد انہوں نے منڈی کا جائزہ لیا کہ آخر شروعات کہاں سے کی جائے۔ سڑک کے دونوں اطراف تقریباً ایک کلومیٹر سے زیادہ رقبے پر جانور ہی جانور نظر آ رہے تھے۔ جہاں گاڑی کھڑی کی تھی، وہیں سے بھاؤ تاؤ شروع کر دیا۔ جو بکرا آنکھوں کو ذرا بھاتا، اس کی قیمت پچاس ہزار کی حد باآسانی عبور کر رہی ہوتی تھی۔ چونکہ دن کی چائے پر دونوں نے اپنا بجٹ پچاس ہزار روپے مقرر کیا تھا، اس لیے انہوں نے ایسے بکروں پر نظر ڈالنی شروع کی جو قدرے کم خوبصورت اور جسامت میں دبلے پتلے ہوں۔ مگر انتہائی کوشش اور تلاش کے باوجود کوئی بھی بکرا ستر ہزار سے کم کا نہ ملا۔…

Read more

کسی ملک میں ایک امیر سوداگر رہتا تھا۔ اس کی تین خوبصورت اور نیک بیٹیاں تھیں جو اس کی آنکھوں کا تارا تھیں۔ ایک دفعہ سوداگر کو کسی دوسرے ملک میں مال خریدنے کے لیے جانا پڑا۔ اس نے اپنی لڑکیوں کو بلایا اور پیار سے پوچھا، “میرے بچّو! بتاؤ، میں تمہارے لیے کیا تحفہ لا سکتا ہوں؟” بڑی لڑکی نے اپنی مرضی کے ایک نئے کوٹ کے لیے فرمائش کی۔ منجھلی لڑکی نے بھی کوٹ ہی کو پسند کیا۔ لیکن جب اس کی چھوٹی اور سب سے لاڈلی بیٹی کی باری آئی تو اس نے کاغذ کا ایک ٹکڑا اٹھایا، اس پر ایک پھول بنا دیا اور کہنے لگی، “ابا جان! میرے لیے بالکل اس طرح کا ایک پھول لانا۔” سوداگر نے اپنی بیٹیوں سے وعدہ کیا اور اپنے سفر پر روانہ ہو گیا۔ وہ بہت عرصے تک مختلف ممالک میں گھومتا رہا اور بڑی بیٹیوں کے لیے کوٹ…

Read more

20/62
NZ's Corner