Tag Archives: urdustory urdupoetry urdu blog

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک جنگل میں جہاں ہر جانور صرف اپنے مفاد کے بارے میں سوچتا تھا، ایک شیر لوہے کے بھاری پنجرے میں قید ہو گیا۔ کئی دن تک بھوکا پیاسا رہنے کے بعد جب وہ بالکل مایوس ہو گیا، تو اس نے مدد کے لیے پکارنا شروع کیا۔ اتفاق سے وہاں سے ایک بھیڑ کا گزر ہوا۔شیر نے فوراً اپنی باتوں کے جال میں پھنسانا شروع کیا۔ وہ منت سماجت کرتے ہوئے بولا، “خدا کے لیے مجھے باہر نکالو۔ میں اپنی شاہی عزت کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں تمہیں نقصان نہیں پہنچاؤں گا۔ مجھے بس اپنی آزادی چاہیے۔”بھیڑ اتنی بھی نادان نہیں تھی۔ وہ ہچکچائی کیونکہ وہ شیر کی فطرت سے واقف تھی، لیکن شیر نے اس قدر بے چارگی کا ناٹک کیا کہ بھیڑ کا دل پگھل گیا۔ اس نے پنجرے کی کنڈی کھول دی اور پیچھے ہٹ گئی۔جیسے ہی دروازہ…

Read more

ایک گاؤں میں ایک بہت پرانا مسجد تھا۔ اس مسجد کی سب سے خاص بات وہاں رہنے والا ایک دیو ہیکل مگر نہایت نرم دل ہاتھی تھا۔ وہ ہاتھی ہر صبح مسجد کے دروازے پر کھڑا ہو جاتا اور آنے والے زائرین کو اپنی سونڈ اٹھا کر سلام کرتا۔ بچے اس سے بے حد محبت کرتے، بوڑھے اسے دعائیں دیتے، اور ہر کوئی اسے مسجد کی شان سمجھتا تھا۔ہر شام سورج ڈھلنے کے بعد ہاتھی قریبی تالاب پر نہانے جایا کرتا تھا۔ راستے میں ایک درزی کی چھوٹی سی دکان پڑتی تھی۔ یہ درزی روز ہاتھی کا انتظار کرتا، اور جیسے ہی ہاتھی اپنی سونڈ بڑھاتا، وہ محبت سے اسے ایک کیلا کھلا دیتا۔ہاتھی خوش ہو کر سونڈ بلند کرتا، گویا شکریہ ادا کر رہا ہو، اور پھر آہستہ آہستہ تالاب کی طرف بڑھ جاتا۔وقت گزرتا گیا، اور یہ معمول ایک خوبصورت دوستی میں بدل گیا۔لیکن ایک شام…درزی کے دل…

Read more

جنگل کی تاریخ میں یہ پہلی بار نہیں تھا کہ کسی بادشاہ کو اپنی اولاد کی فکر لاحق ہوئی ہو، مگر شیرنی کی پریشانی کچھ الگ تھی۔اسے اپنے بیٹے سے بے حد محبت تھی، اور شاید یہی وجہ تھی کہ وہ اس کی ہر کمزوری کو وقت سے پہلے بھانپ لیتی تھی۔ شیر کا بچہ بہادر تو بہت تھا، مگر پڑھائی کے نام پر اس کی جان نکلتی تھی۔جیسے ہی استاد الو کتاب کھولتا، اس کی نظریں درختوں پر بیٹھے طوطوں کی طرف چلی جاتیں۔جب ریاضی کا سبق شروع ہوتا تو وہ چیونٹیوں کی قطاریں گننے لگ جاتا۔اور جب تاریخ پڑھائی جاتی تو وہ جماہی لے کر زمین پر لیٹ جاتا۔ شیر کو اس سب سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا تھا۔ وہ اکثر ہنستے ہوئے کہتا: “ارے چھوڑو بھی، آخر کو بادشاہ ہی بننا ہے۔تاج پہننے کیلئے ڈگری نہیں، پنجہ چاہیے ہوتا ہے۔ مگر شیرنی ہر بار خاموش ہو…

Read more

1950 اور 2026 😂🔥1950ء 🐐ایک شخص کی نئی نئی شادی ہوئیسہاگ رات پر اُس نے سوچا:“آج ایسا رعب ڈالوں گا کہ بیوی عمر بھر یاد رکھے گی!” 😎چنانچہ اُس نے پلنگ کے پائے کے ساتھ ایک بکری کا بچہ باندھ دیا۔ 🐐رات کو جیسے ہی بکری کے بچے نے “میں میں” کی آواز نکالی،شوہر غرّا کر بولا:“خاموش ہو جا ورنہ ابھی ذبح کر دوں گا!” 😠کچھ دیر خاموشی رہیپھر بکری کا بچہ دوبارہ بول پڑا۔ 😅شوہر نے آنکھیں نکالتے ہوئے کہا:“آخری وارننگ دے رہا ہوں!” ⚠️تیسری بار آواز آئی تو بندے نے واقعی چھری اٹھائیاور وہیں بکرے کا قصہ ختم! 😳🔪بیوی یہ منظر دیکھ کر کانپ گئی 😨شوہر مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے بولا:“جو میرے سامنے اونچی آواز نکالے گااُس کا یہی حال ہوگا!” 😌نتیجہ؟بیوی نے پوری زندگی شوہر کے سامنے آواز تک نہ نکالی… 😂2026ء 📱🤣وقت بدلا…لوگ بدلے…اور بیویاں تو خاص طور پر اپڈیٹ ہو گئیں! 😅ایک نئے دولہے…

Read more

ایک زمانے کی بات ہے، ایک دریا کے کنارے ایک غریب مگر خوش مزاج کشتی بان رہتا تھا۔ لوگ اسے سادہ سمجھتے تھے، مگر وہ زندگی کے تجربے میں بہت آگے تھا۔ ایک دن ایک مشہور عالم اُس کی کشتی میں سوار ہوا تاکہ دریا پار جا سکے۔ عالم نے ریشمی لباس پہن رکھا تھا، ہاتھ میں کتابیں تھیں اور چہرے پر غرور صاف جھلک رہا تھا۔دریا کا سفر لمبا تھا، تو عالم نے وقت گزارنے کے لیے کشتی بان سے بات چیت شروع کی۔وہ ناک چڑھا کر بولا: “اے کشتی بان! کیا تم نے کبھی علمی کتاب اور گرامر پڑھی ہے؟”کشتی بان نے عاجزی سے جواب دیا: “جناب، میں غریب آدمی ہوں۔ مجھے پڑھنے کا موقع نہیں ملا۔”یہ سن کر عالم طنزیہ ہنسا اور بولا: “افسوس! تم نے تو اپنی آدھی زندگی ضائع کر دی!”کشتی بان خاموش رہا۔ اُس نے صرف ایک گہری سانس لی اور چپ چاپ چپو…

Read more

ایک اللہ والے اپنی شریکِ حیات کے ساتھ کشتی میں سوار دریا کا سفر کر رہے تھے کہ اچانک موسم نے کروٹ بدلی اور ایک خوفناک طوفان نے کشتی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ بلند و بالا لہریں کشتی کو اس شدت سے ہلا رہی تھیں کہ ہر لمحہ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے اب ڈوبی کہ تب ڈوبی۔ موت کو سامنے دیکھ کر بیوی کے چہرے کا رنگ زرد پڑ گیا، ہاتھ کانپنے لگے اور دل خوف سے لرز اٹھا۔ مگر حیرت انگیز طور پر اس کے شوہر کے چہرے پر غیر معمولی سکون اور اطمینان تھا، بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ اس کا اطمینان اور بڑھتا جا رہا تھا۔ آخر بیوی بے بسی اور گھبراہٹ میں بول اٹھی: “اے نادان! کچھ تو ہوش کرو۔ یہ وقت اس طرح خاموش اور مطمئن بیٹھنے کا نہیں۔ اگر یہی حال رہا تو ہم چند لمحوں میں موت کا شکار ہو…

Read more

ایک دن ایک حکمران اپنے محل کے بلند و بالا کمرے میں آرام فرما رہا تھا کہ باہر سے ایک دیہاتی کی صدا سنائی دی:“سیب لیجیے! تازہ سیب!” حاکم نے کھڑکی سے جھانکا تو دیکھا کہ ایک یمنی کسان — چہرے پر دھوپ سے جھلسی جھریاں، سادہ عمامہ اور گرد آلود چغہ پہنے — اپنے نحیف گدھے پر دونوں طرف دو ٹوکریاں لادے بازار کی طرف جا رہا ہے، جن میں سرخ و رسیلے سیب بھرے ہوئے ہیں۔ بادشاہ کے دل میں سیب کھانے کی خواہش جاگی۔ اُس نے وزیر کو بلایا اور حکم دیا:“خزانے سے پانچ سونے کے سکے لے لو اور میرے لیے ایک بہترین سیب لاؤ!” وزیر نے خزانے سے پانچ سکے نکالے اور اپنے معاون سے کہا:“یہ چار سونے کے سکے لے لو، اور بادشاہ سلامت کے لیے ایک سیب خرید لاؤ۔” معاون نے تین سکے رکھے، باقی محل کے منتظم کو دیے اور کہا:“یہ تین…

Read more

‏ایک دن پڑوسیوں کی مرغی شیخ صاحب کے گھر سے گندم کھا گئی تو انہوں نے مرغی کو پکڑا اور ذبح کرکے کھاگئےاگلے دن پڑوسیوں کو مرغی نا ملی تو انہوں نے شیخ صاحب سے پوچھا کہ آپ نے ہماری مرغی کہیں  دیکھی تھی؟شیخ نے غصے سے کہا کہ وہ ہمارے گھر کے دانے کھا گئی اس لئے میں اسے ذبح کرکے 👇‏کھا گیا پڑوسی بھی غصے سے گویا ہوئے کہ شیخ صاحب آپ تو انتہائی نامعقول انسان ہیں کہ چند دانے کیا مرغی نے کھا لئے آپ پوری مرغی ہی کھا گئے. حالانکہ چند دن قبل آپکی بلی ہمارا تین کلو دودھ پی گئی تھی تو ہم نے کچھ کہا آپکوشیخ صاحب جھٹ سے بولے کہ اگر میری بلی آپ کا دودھ پی گئی 👇‏تھی تو آپ بھی میری بلی کھا جاتے میں نے کونسا منع کیا آپکوپڑوسی تلملا کر بولے  شیخ صاحب بلی تو حرام ہوتی ہےشیخ صاحب…

Read more

ایک دن بڑے زور کی آندھی آئی، اور پھر موسلا دھار بارش ہونے لگی۔ جنگلی جانور، جان بچانے کے لیے، اِدھر اُدھر دوڑے ایک لومڑی ایک چھوٹے سے غار میں گھس گئی۔ تھوڑی دیر بعد ایک ببر شیر بھی اسی غار میں گھس آیا۔ موت سامنے نظر آئی تو لومڑی بہت گھبرائی۔ لیکن عین اُس وقت عقل کام آئی۔ اُس نے جھٹ اپنا سر غار کی چھت سے لگایا اور بولی “چھت گرنے والی ہے، حضور! اسے سہارا دیجیے۔ گر گئی تو دونوں مر جائیں گے۔”ببر شیر نے دونوں ہاتھوں سے چھت کو تھام لیا۔ لومڑی بولی “آپ مجھ سے زیادہ طاقتور ہیں۔ اسے اسی طرح تھامے رہیے۔ میں بانس لے کر ابھی آئی۔”“بانس کا کیا کروگی؟” شیر نے پوچھا۔“اے، حضور، بانس سے چھت کو سہارا دیں گے تو وہ نہیں گرے گی” لومڑی نے کہا اور باہر بھاگ گئی۔(افریقہ کی لوک کہانی)رسالہ: تعلیم و تربیت

کسی چھوٹے سے گاؤں میں، جہاں وقت بہت آہستہ چلتا تھا اور باتیں بہت تیز، دو جھونپڑیاں ایک دوسرے سے چند قدم کے فاصلے پر تھیں۔ ایک میں چارلی رہتا تھا، دوسرے میں بل۔ گاؤں والے کہتے تھے: “چارلی کے پاس دماغ ہے تو بل کے پاس دل۔ مگر چارلی کا دماغ اس کا دشمن ہے، اور بل کا دل اس کا بادشاہ۔” چارلی جسے اپنے دماغ کے بل بوتے پر پلک جھپکنے سے پہلے اپنے سے کوسوں دور کی مصیبت، مایوسی اور ناکامی نظر آ جاتی تھی، مگر عقل سے کچھ ایسا پَیدل کہ پہلو میں پڑی خوشیاں، امید اور کامیابیاں اسے دکھائی ہی نہیں دیتی تھیں۔ وہ پھولوں سے اس وجہ سے دور رہتا کہ کہیں کانٹے نہ چبھ جائیں، آگ سے اس لیے کنارہ کش تھا کہ کہیں نہ جلا دے، اور معاشرے میں رہنے والے لوگوں سے اس لیے دوری بنا کر رکھتا کہ اسے سب…

Read more

خدا کی کرنی یہ ہوئی کہ چوہے اور مینڈک میں ایک ندی کے کنارے دوستانہ ہوگیا۔ دونوں کے دونوں ہر صبح وقتِ مقررہ پر ایک جگہ جمع ہوجاتے تھے۔ دونوں کا دل باہمی میل جول سے کشادہ ہوتاتھا اور آپس میں ایک دوسرے سے بات چیت اور قصہ بازی ہوتی تھی۔ یہ محبت یہاں تک بڑھی کہ چوہے نے مینڈک سے کہا پیارے دوست میں اس تھوڑے سے مقررہ وقت میں جی بھر کر تجھ سے حکایتیں بیان نہیں کرسکتا۔ نماز تو پانچ وقت کی فرض ہے۔ لیکن عاشقوں کا حال یہ ہے کہ وہ ہمیشہ نماز میں ہیں۔ وہ نشہ پانچ نمازوں سے قائم نہیں رہتا۔ تیرا مکھڑا دیکھے بغیر ایک دم کو بھی چین نہیں۔ یہ عین مروت ہوگی اگر تو مجھے خوش کرےاور وقت بے وقت اپنی مہر بانی سے مجھے یاد کرتا رہے۔ تو نے پورے دن میں صبح سویرے ایک وقت ملنے کا مقرر کیا…

Read more

ایک خوبصورت جنگل کے کنارے ایک فارم ہاؤس تھا، جہاں ایک گھوڑا اور ایک گدھا ساتھ رہتے تھے۔ گھوڑا اپنی رفتار اور خوبصورتی پر بہت مغرور تھا، جبکہ گدھا خاموشی سے اپنا کام کرنے والا محنتی جانور تھا۔ ان دونوں کا ایک ننھا سا دوست بھی تھا: ایک خرگوش، جو اپنی پھرتی اور شرارتوں کے لیے مشہور تھا۔گھوڑے کا غرورایک دن گھوڑا گدھے کا مذاق اڑاتے ہوئے بولا:“تم کتنے سست اور بدصورت ہو! دیکھو مجھے، میں ہوا سے باتیں کرتا ہوں اور لوگ میری سواری کر کے فخر محسوس کرتے ہیں۔ تم تو بس بوجھ ڈھونے کے لیے بنے ہو۔”گدھا خاموش رہا، لیکن خرگوش سے اپنے دوست کی یہ بے عزتی برداشت نہ ہوئی۔ خرگوش اچھل کر سامنے آیا اور بولا:“گھوڑے بھائی! رفتار ہی سب کچھ نہیں ہوتی، کبھی کبھی عقل اور ہمت بھی کام آتی ہے۔ کیا تم ہم دونوں کے ساتھ ایک مقابلے کے لیے تیار ہو؟”انوکھا مقابلہگھوڑا…

Read more

ایک کسان نے ایک مرا ہوا سور ایک سوکھے کنویں میں پھینک دیا۔چند ہی لمحوں بعد 70 سے 80 چوہے اس بدبو کی طرف کھنچے چلے آئے اور ایک ایک کر کے کنویں میں کود گئے۔ان کے لیے یہ ایک “آسان دعوت” تھی…انہوں نے مل کر اس سور کو ختم کر دیا، لیکن اصل کہانی یہاں سے شروع ہوئی۔جب پیٹ بھر گیا تو حقیقت سامنے آئی…کنواں اونچا تھا، باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔دن گزرتے گئے…بھوک واپس آگئی، اور ساتھ ہی خوف بھی۔پھر وہی کنواں ایک زندہ جہنم بن گیا۔کچھ چوہے کمزور پڑے، کچھ نے طاقت کے لیے دوسرے کو مارنا شروع کر دیا…اور پھر نوبت یہاں تک آ گئی کہ وہ ایک دوسرے کو کھانے لگے۔وقت گزرتا گیا…اور آخرکار سب ختم ہو گئے…صرف ایک چوہا بچا، جس کی آنکھیں خون کی طرح سرخ ہو چکی تھیں، اور ذہن میں صرف ایک چیز تھی… “بقا”۔کچھ دن بعد کسان واپس…

Read more

بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ جرمنی کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک غریب کسان رہتا تھا جس کا نام ہنس تھا۔ ہنس کے پاس صرف ایک بیل تھا اور ایک مرغی۔ بیل سے وہ اپنے کھیت میں ہل چلاتا تھا اور مرغی سے اسے انڈے ملتے تھے جنہیں وہ بازار میں بیچ کر روٹی خریدتا تھا۔ لیکن ایک سال قحط پڑا۔ کھیتوں میں گھاس نہیں اگی، دریا سوکھ گئے اور ہوا اتنی گرم چلنے لگی کہ درختوں کے پتے جھلس گئے۔ ہنس کی مرغی مر گئی اور بیل کمزوری سے چلنے کے قابل نہیں رہا۔ ہنس بہت پریشان تھا۔ اس نے اپنی بیوی سے کہا، “میاں بیوی! اب ہمارے پاس کچھ نہیں بچا۔ کھانے کو ایک روکڑی بھی نہیں ہے۔ مجھے کہیں جا کر کام تلاش کرنا ہوگا۔” اس کی بیوی نے کہا، “جاؤ میاں، لیکن خالی ہاتھ مت آنا۔ چاہے ایک روٹی ہی لے آنا، لیکن خالی…

Read more

ایک سنسان اور ویران راستے پر ایک آدمی اپنے گدھے کے ساتھ سفر کر رہا تھا۔ ہر طرف خاموشی تھی، جیسے پوری وادی سانس روکے کھڑی ہو۔ اچانک گدھے کا پاؤں پھسلا اور وہ ایک گہرے گڑھے میں جا گرا۔ گڑھا اتنا گہرا تھا کہ نکلنا ممکن دکھائی نہیں دیتا تھا۔ خوش قسمتی سے گدھا زخمی نہیں ہوا، مگر خوف اور بے بسی کے باعث زور زور سے رینگنے لگا۔ اس کی درد بھری آوازیں سن کر مالک فوراً دوڑا اور اسے نکالنے کی کوشش شروع کر دی۔ وہ کبھی رسی پھینکتا، کبھی ہاتھ بڑھاتا، کبھی پتھر رکھ کر سہارا بنانے کی کوشش کرتا، مگر ہر کوشش ناکام رہی۔ وقت گزرتا گیا، سورج ڈھلنے لگا، اور امید کمزور پڑنے لگی۔ آخرکار، تھکن اور مایوسی کے عالم میں اس آدمی نے ایک سخت فیصلہ کیا۔ اس نے سوچا:“یہ گدھا اب اس گڑھے میں بھوک اور خوف سے مر جائے گا، بہتر…

Read more

اطالیہ کے ایک خوبصورت شہر میں ایک بادشاہ رہتا تھا جو اپنی شان و شوکت اور انصاف پسندی کے لیے مشہور تھا۔ اس کے پاس بہت سے خزانے تھے، لیکن اسے اپنے وزراء پر بھروسہ نہیں تھا۔ وہ جاننا چاہتا تھا کہ اس کے درمیان سب سے زیادہ ایماندار کون ہے۔ ایک دن شاہی محل میں ایک عجیب و غریب واقعہ پیش آیا۔ بادشاہ نے بازار سے ایک بہت بڑا ہیرا خریدا تھا۔ وہ بہت قیمتی تھا اور اس کی چمک دنیا میں کہیں نہیں تھی۔ شام کو جب بادشاہ نے ہیرے کو اپنے صندوق میں رکھا اور اگلی صبح جب اس نے دیکھا تو وہ صندوق خالی تھا۔ بادشاہ نے اپنے وزراء کو جمع کیا اور کہا، “میرا ہیرا کسی نے چرا لیا ہے۔ میں جاننا چاہتا ہوں کہ تم میں سے کون مجھے اس کا پتہ بتا سکتا ہے؟” وزراء نے بہت کوشش کی، لیکن کسی کو کچھ…

Read more

پرانے زمانے کی بات ہے، جب سفر صرف فاصلے طے کرنے کا نام نہیں تھا بلکہ انسانوں کے باطن کو بھی آشکار کر دیتا تھا۔ چند دوست ایک طویل اور تھکا دینے والے سفر پر نکلے ہوئے تھے۔ دن بھر کی گرد، دھوپ کی تپش اور مسلسل چلتے رہنے کی تھکن ان کے چہروں سے صاف جھلک رہی تھی، مگر دلوں میں منزل تک پہنچنے کی امید ابھی زندہ تھی۔ شام کے سائے گہرے ہونے لگے تو وہ ایک چھوٹی سی بستی کے قریب پہنچے، جہاں مٹی کے گھروں کے درمیان ایک گھر ایسا تھا جس کے دروازے پر ٹھہرنے والے کو عجیب سا سکون محسوس ہوتا تھا۔ اسی گھر کا مالک ایک نیک دل، سادہ مزاج اور بے مثال مہمان نواز شخص تھا۔ اس نے مسافروں کو دیکھا تو بغیر کسی سوال کے مسکرا کر بولا، “آئیے، مسافر کبھی اجنبی نہیں ہوتے”، اور انہیں اپنے گھر لے آیا۔ اس…

Read more

ایک بادشاہ اپنے غلام کے ساتھ کشتی میں سوار تھا۔ غلام نے نہ کبھی دریا دیکھا تھا، نہ ہی کشتی کا سفر کیا تھا۔ جیسے ہی کشتی پانی میں ہچکولے لینے لگی، غلام کے چہرے کا رنگ اُڑ گیا۔ اُس کے ہاتھ پاؤں کانپنے لگے، اور وہ خوف سے چیخنے اور رونے لگا۔کشتی میں بیٹھے لوگ پریشان ہو گئے، اور بادشاہ کو اس کی آواز ناگوار گزرنے لگی۔ ہر کوشش ناکام ہو گئی، غلام کسی صورت خاموش ہونے کو تیار نہ تھا۔اسی دوران کشتی میں موجود ایک دانا شخص آگے بڑھا اور ادب سے بولا: “حضور! اگر اجازت ہو تو میں اسے خاموش کر سکتا ہوں۔”بادشاہ نے فوراً اجازت دے دی۔دانا نے اشارہ کیا… اور سپاہیوں نے غلام کو اچانک دریا میں دھکا دے دیا!غلام پانی میں گرا… ایک، دو، تین غوطے کھائے… زندگی آنکھوں کے سامنے گھومنے لگی… وہ ہاتھ پاؤں مارتا رہا…پھر سپاہیوں نے اس کے بال پکڑ…

Read more

مصر کے ایک پرانے شہر قاہرہ میں ایک غریب مگر ذہین نوجوان رہتا تھا جس کا نام جمیل تھا۔ جمیل کے پاس دنیا کی کوئی دولت نہیں تھی، نہ گھر تھا، نہ زمین تھی، نہ اونٹ تھے۔ اس کے پاس صرف ایک چیز تھی، اس کی ماں جو بہت بوڑھی ہو چکی تھی اور جس کی آنکھیں دھندلی ہو گئی تھیں۔ وہ اپنی ماں کے لیے روزانہ شہر کی گلیوں میں بھیک مانگتا تھا اور جو کچھ ملتا، اس سے وہ دونوں اپنا پیٹ پالتے تھے۔ ایک دن جمیل نے سنا کہ شہر کے ایک بہت بڑے عالم دین نے لوگوں کے لیے اپنا دروازہ کھول رکھا ہے۔ وہ ہر آنے والے کو ایک اچھا مشورہ دیتے ہیں۔ جمیل نے سوچا کہ کیوں نہ وہ بھی اس عالم کے پاس جائے اور کوئی ایسا مشورہ لے آئے جو اس کی زندگی بدل دے۔ وہ عالم کے گھر پہنچا تو وہاں…

Read more

ایک دور دراز گاؤں تھا جہاں ہر طرف سبز کھیت، پھلدار درخت اور خوشگوار ہوائیں چلتی تھیں۔ سورج اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا، لیکن اس کی تپش میں بھی ایک عجیب سی نرمی تھی۔ پرندے چہچہا رہے تھے، کھیتوں میں کسان محنت کر رہے تھے اور فضا میں زندگی کی ایک خاص رونق تھی۔ اسی گاؤں کے ایک کنارے پر ایک بڑا سا درخت تھا، جس کے نیچے ایک ٹڈا رہتا تھا۔ یہ ٹڈا اپنی زندگی سے بے حد خوش تھا۔ اس کے پاس نہ کوئی فکر تھی، نہ کوئی ذمہ داری۔ وہ صبح اٹھتا، درخت پر چڑھتا، دھوپ میں بیٹھ کر گانا گاتا، اور پھر سارا دن چھلانگیں لگاتا اور مزے کرتا۔ ٹڈے کو سب سے زیادہ پسند یہ تھا کہ وہ دوسروں کو کام کرتے دیکھ کر بھی ہنسے اور خود کو “آزاد روح” سمجھے۔ وہ اکثر کہتا: “زندگی کا اصل مقصد مزہ…

Read more

20/77
NZ's Corner