اطالیہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک بوڑھی عورت رہتی تھی جس کا نام چیچریلا تھا۔ وہ بہت غریب تھی اور اس کا ایک بیٹا تھا جس کا نام پیروانٹو تھا۔ پیروانٹو شاید ہی کوئی ایسا احمق لڑکا ہو جو اس سے زیادہ نکما پیدا ہوا ہو۔ اس کی ماں دن رات اس کی وجہ سے پریشان رہتی تھی۔ وہ اسے سمجھاتی، ڈانٹتی، روتی، لیکن پیروانٹو اپنی کمینیوں سے باز نہ آتا تھا۔ گھر کا کوئی کام کاج وہ کرنے کو تیار نہیں تھا۔
آخرکار ایک دن چیچریلا نے اسے بہت سمجھا بجھا کر کہا، “بیٹا! اب وقت آ گیا ہے کہ ہم کچھ کھانے کو حاصل کریں۔ جا، جنگل سے لکڑیاں لا۔ میں کچھ پتے پڑوس سے مانگ لاتی ہوں، تھوڑی سی سبزی پکا کر کھا لیں گے۔”
پیروانٹو اپنا سر جھکائے جنگل کی طرف چل دیا۔ وہ ایسے چل رہا تھا جیسے کسی کو قید خانے لے جایا جا رہا ہو۔ وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا، بار بار رکتا، ہر طرف منہ پھیرتا، جیسے راستے میں پڑی چیونٹیوں کی گنتی کر رہا ہو۔ آخرکار جنگل پہنچنے میں اسے گھنٹوں لگ گئے۔
جنگل کے بیچ میں ایک میدان تھا جس میں سے ایک دریا بہتا تھا۔ وہاں تین نوجوان گھاس کا بستر بنا کر سو رہے تھے۔ سورج کی تیز کرنیں ان پر براہ راست پڑ رہی تھیں اور وہ پسینے سے شرابور ہو رہے تھے۔ پیروانٹو نے ان کی یہ حالت دیکھی تو اس کے دل میں رحم آیا۔ اس نے بلوط کی شاخیں کاٹ کر ان کے اوپر ایک خوبصورت سائبان بنا دیا جس کی ٹھنڈی چھاؤں انہیں دھوپ سے بچانے لگی۔
یہ تینوں نوجوان دراصل ایک پری کے بیٹے تھے۔ جب وہ اٹھے اور پیروانٹو کی اس بے لوث خدمت کو دیکھا تو انہوں نے اسے ایک جادو کا تحفہ دے دیا کہ وہ جو کچھ بھی مانگے، فوراً پورا ہو جائے۔
پیروانٹو نے یہ احسان کرنے کے بعد اپنا اصل کام یاد کیا۔ وہ جنگل میں گیا اور اتنی بڑی لکڑیوں کا گٹھا بنایا کہ اسے اٹھانا بھی ناممکن تھا۔ جب اس نے دیکھا کہ وہ اسے اپنی پیٹھ پر نہیں اٹھا سکتا تو اس نے گٹھے پر ٹانگیں پھیلا کر بیٹھ گیا اور بولا، “کاش یہ گٹھا مجھے گھوڑے کی طرح لے جانے لگتا۔
اسی لمحے وہ گٹھا ہلنے لگا اور پھر ایک گھوڑے کی طرح دوڑنے لگا۔ وہ شہر میں بادشاہ کے محل کے سامنے آیا تو اس نے خوب ناچا اور اچھل کر اپنی سواری کو خوش کیا۔ محل کی کھڑکیوں پر کھڑی خواتین یہ عجیب تماشا دیکھ کر حیران رہ گئیں۔ بادشاہ کی بیٹی، جس کا نام واسٹولا تھا، نے بھی یہ دیکھا اور وہ پہلی بار اپنی زندگی میں ہنس پڑی، کیونکہ وہ بہت اداس مزاج تھی اور اسے کبھی ہنستے نہیں دیکھا گیا تھا۔
پیروانٹو نے اپنا سر اٹھایا اور دیکھا کہ شہزادی اسے دیکھ کر ہنس رہی ہے تو اس نے کہا، “کاش واسٹولا میری بیوی بن جائے، میں اس کی ہنسی کا مزہ چکھا دوں گا!” اتنا کہنا تھا کہ گٹھا گھر کی طرف بھاگا اور وہ جاکر اپنی ماں کے پاس پہنچ گیا۔
بعد میں جب واسٹولا کی شادی کی باری آئی تو بادشاہ نے پوری سلطنت کے شہزادوں اور امیروں کو دعوت دی، لیکن شہزادی نے کسی کو قبول نہیں کیا۔ وہ ہر بار کہتی، “میں اسی نوجوان سے شادی کروں گی جو لکڑی کے گٹھے پر سوار ہو کر آیا تھا۔”
آخر کار بادشاہ نے غریبوں کی ایک اور دعوت رکھی تاکہ شہزادی کو اپنا منگیتر مل جائے۔ جب پیروانٹو وہاں پہنچا تو شہزادی نے فوراً پہچان لیا اور کہا، “یہ ہے میرا گٹھے والا سوار!”
بادشاہ نے جب اس احمق اور بدصورت لڑکے کو دیکھا تو اسے بہت غصہ آیا، لیکن پھر وزراء کے مشورے سے اس نے دونوں کو ایک بڑے پیپے میں بند کر کے سمندر میں پھینکوا دیا۔
پیپے میں بیٹھے واسٹولا رو رہی تھی اور پیروانٹو سے پوچھ رہی تھی کہ اس نے یہ جادو کیسے کیا؟ پیروانٹو نے کہا، “اگر تم مجھے انجیر اور کشمش دو تو میں بتا دوں۔”
واسٹولا نے اسے ایک مٹھی بھر انجیر اور کشمش دیں۔ اس نے کھا کر سب کچھ بتا دیا کہ کیسے اس نے تین نوجوانوں کی خدمت کی اور انہوں نے اسے جادو کا تحفہ دیا۔ واسٹولا نے کہا، “تب تو تم اس پیپے کو کشتی میں بدل کر کسی بندرگاہ پر لے جا سکتے ہو۔”
پیروانٹو نے ایسا ہی کیا۔ پیپہ ایک خوبصورت جہاز میں بدل گیا جس میں جہاز ران، سپاہی، اور شاہی کمرہ تھا۔ پھر اس نے اس جہاز کو ایک محل میں بدل دیا جہاں وہ اور شہزادی خوشی سے رہنے لگے۔
اخلاقی سبق
اس کہانی کا اصل سبق یہ ہے کہ انسان کی اصل پہچان اس کی شکل، طاقت یا ظاہری حیثیت نہیں ہوتی… بلکہ اس کے اعمال اور اس کی نیت ہوتی ہے۔
پیروانٹو بظاہر ایک نکما اور کمزور لڑکا تھا، مگر جب اس نے بغیر کسی لالچ کے دوسروں کی مدد کی تو قسمت نے اس کے لیے دروازے کھول دیے۔ یعنی ایک چھوٹا سا نیک عمل بھی انسان کی پوری زندگی بدل سکتا ہے۔
یہ کہانی ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ:
دوسروں کی مدد کبھی ضائع نہیں جاتی، چاہے اس کا بدلہ فوراً نہ ملے۔
سادگی اور نیکی اکثر بڑے بڑے انعامات کا ذریعہ بنتی ہے۔
قسمت ان لوگوں کا ساتھ دیتی ہے جو دل سے اچھا کام کرتے ہیں۔
#منقول
مزید ایسی کہانیوں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کریں:
