Tag Archives: #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday

ایک شخص کی بیوی کو ایک دن اس کے پالتو گدھے نے اچانک لات مار کر اگلے جہاں پہنچا دیا۔کچھ ماہ بعد اس نے دوسری شادی کی اور نئی دلہن لے آیا۔چند دن گزرے ہونگے کہ نئی دلہن بھی گدھے کی زد میں آ گئی۔ گدھے نے موقع غنیمت دیکھتے ہوئے دولَتّی رسید کی اور اس بیچاری کا کام بھی تمام ہوا۔ لوگ اس ڈبل رنڈوے کے ہاں تعزیت کے لئے آنے لگے۔ حاضرین میں سے ایک شخص نے نوٹ کیا کہ جب عورتیں دوران تعزیت اس شخص سے کوئی سوال کرتی ہیں تو وہ شخص سر کے اشارے کے ساتھ “ہاں” کہتا ہے۔ اور جب مرد سوال کرتے ہیں تو وہ سر کو جنبش دیتے ہوئے “نہیں” کہتا ہے۔ اس خاص حرکت پر نظر رکھنے والے شخص نے رنڈوے صاحب سے اس کی وجہ پوچھی تو اس نے کہا، عورتیں سوال کرتے ہوئے پوچھتی ہیں: “پھر شادی کرو گے؟”…

Read more

ایک ملک کا حکمران بنانے کا طریقہ نہایت انوکھا تھا۔ وہ ہر سال کے پہلے دن اپنا بادشاہ بدل دیتے تھے۔ سال کے آخری دن جو بھی سب سے پہلے ملک کی حدود میں داخل ہوتا، اسے نیا بادشاہ منتخب کر لیا جاتا اور موجودہ بادشاہ کو “علاقۂ غیر” یعنی ایسی جگہ چھوڑ آتے جہاں صرف سانپ بچھو ہوتے اور کھانے پینے کے لیے کچھ بھی نہ ہوتا۔ اگر وہ سانپ بچھوؤں سے کسی طرح بچ بھی جاتا تو بھوک پیاس سے مر جاتا۔ کتنے ہی بادشاہ ایسے ہی ایک سال کی بادشاہی کے بعد اس “علاقۂ غیر” میں جا کر مر کھپ گئے۔ اس مرتبہ شہر میں داخل ہونے والا نوجوان کسی دور دراز علاقے کا لگ رہا تھا۔ سب لوگوں نے آگے بڑھ کر اسے مبارکباد دی اور بتایا کہ آپ کو اس ملک کا بادشاہ چن لیا گیا ہے۔ اسے بڑے اعزاز کے ساتھ محل میں لے…

Read more

جنگل میں ایک شیرنی حکمرانی کرتی تھی۔اس کے پاس طاقت تھی، تیز نظریں تھیں، اور وفادار جانور ہر وقت اس کے ساتھ رہتے تھے۔سب جانتے تھے کہ شیرنی کا حکم لازمی ہے، اور کوئی بھی اس کے فیصلے کے خلاف نہیں جا سکتا۔شیرنی کو اپنی طاقت پر فخر تھا، اور وہ سمجھتی تھی کہ طاقت ہی سب کچھ ہے—جنگل میں امن، فیصلے، اور احترام سب اسی سے قائم رہتا ہے۔مگر جنگل کے کچھ جانور اس سے مختلف سوچ رکھتے تھے۔سب سے ذہین اور چالاک جانور ایک چھوٹی لومڑی تھی۔لومڑی نہ صرف تیز دماغ کی مالک تھی، بلکہ اس کے دل میں سب جانوروں کی بھلائی کی فکر بھی تھی۔اس نے کئی بار کہا:“رانی، طاقت ضروری ہے، مگر سمجھ بوجھ اور سننا بھی اتنا ہی اہم ہے۔ اگر ہم سب ایک دوسرے کے خوف، ضرورت اور احساسات کو سمجھیں، تو جنگل میں حقیقی امن قائم ہوگا۔”شیرنی نے لومڑی کی بات کو…

Read more

ایک شہزادہ اپنی رعایا کی ایک غریب مگر نہایت حسین لڑکی کے حسن پر ایسا فریفتہ ہوا کہ کھانا پینا چھوڑ بیٹھا۔ ہر وقت اسی کے ہجر میں آہیں بھرتا اور بے چین رہتا۔ بادشاہ کو جب اس حال کا علم ہوا تو وہ سخت پریشان ہوا۔ اس نے سوچا کہ اگر عالمِ شہزادگی میں یہ کیفیت ہے تو کل تخت نشین ہو کر نجانے کیا کرے گا۔ چنانچہ اس نے وزیرِ دانا سے مشورہ کیا کہ کسی حکمت سے شہزادے کی اصلاح کی جائے۔وزیر نے چند روز کی مہلت طلب کی۔ حالات کا جائزہ لینے کے بعد اس نے تدبیر سے لڑکی اور اس کے اہلِ خانہ کو محل میں ملازم رکھوا لیا اور لڑکی کو اپنی بیگم کی خاص کنیز مقرر کر دیا۔ پھر ایک حکیم کے مشورے سے اس کے کھانے میں سخت اسہال آور دوا ملا دی۔ نتیجتاً وہ لڑکی شدید کمزوری کا شکار ہو گئی…

Read more

ایک پیر صاحب نے بڑی دھوم دھام سے اپنی شادی کی۔ شادی کے بعد جب سب فارغ ہوئے تو ایک حلوائی (جو دیگچیوں میں پکوان بناتا تھا) پیر صاحب کے پاس آیا۔ پیر صاحب نے بڑے وقار سے فرمایا:“بھائی! بتاؤ، پیسے چاہیے یا دعا؟” حلوائی نے ادب سے کہا:“حضور! آپ ہمارے خاندانی پیر ہیں، پیسے نہیں، بس دعا دے دیں۔” پیر صاحب نے فوراً دعا دے دی۔ حلوائی خوش ہو کر اپنا سامان اٹھایا اور چل دیا۔ تھوڑی دیر بعد ایک میراثی آیا اور بولا:“پیر صاحب! مجھے بھی کچھ عطا کریں۔” پیر صاحب نے پوچھا:“پیسے چاہیے یا دعا؟” میراثی نے ہوشیاری سے کہا:“پچاس کی دعا دے دیں، اور پچاس روپے بھی دے دیں۔” پیر صاحب نے ہاتھ اٹھائے اور دعا شروع کر دی…دعا کرتے گئے… کرتے گئے… کرتے گئے…اتنی لمبی دعا کی کہ گھنٹہ گزر گیا۔ آخرکار دعا ختم ہوئی تو پیر صاحب نے میراثی سے کہا:“بھائی! پتا ہی نہیں…

Read more

حضرت سلیمانؑ کے بعد انکے بیٹے رحبعام نے سلطنت کی باگ دوڑ سنبھالی مگر کچھ عرصہ کے بعد یہودیوں کے دس قبیلوں نے بغاوت کر دی مورخین نے اس بغاوت و جرات کی وجہ حضرت سلیمانؑ کی وفات کے بعد شیطان کی طرف سے انکے تخت کے نیچے رکھے جانے والی جادو کی کتابوں کا ان دس قبیلوں کےسرداروں کا لے لینا تھا بھگڈر میں ان سرداروں نے جو اس وقت حضرت سلیمانؑ کے دربار میں درباری کی حیثیت سے تھے موقع سے فائدہ اٹھایا اور وہ کتابیں اٹھا کے یہ الزام۔لگایا کہ نعوذباللّٰہ سلیمان نبیؑ نہیں بلکہ جادوگر تھے اور ان کتابوں کو اپنے پاس رکھ لیا بعد میں جب رحبعام بادشاہ بنا تو ان سرداروں نے ان جادو کی کتابوں سے فائدہ اٹھایا اور ایک الگ سلطنت جسے سلطنت اسرائیل یا سامریہ کا نام دیاگیا بنالی رحبعام کے بعد اسکا بیٹا اور حضرت سلیمانؑ کا پوتا ابیہا یا…

Read more

وہ مخلوق جو ڈائنوسارز سے بھی پہلے یہاں موجود تھی 🦎⏳ہمیشہ سے یہ مانا جاتا رہا ہے کہ ڈائنوسارز اس زمین کے پہلے اور طاقتور ترین حکمران تھے لیکن حال ہی میں ہونے والی ایک کھدائی نے اس نظریے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ہمالیہ کے دامن میں جمی برف کے نیچے سے ایک ایسی مخلوق کے ڈھانچے ملے ہیں جن کی ساخت موجودہ سائنس کی سمجھ سے باہر ہے۔ یہ مخلوق ڈائنوسارز کے دور سے بھی کروڑوں سال پہلے کی ہے جب زمین پر آکسیجن کا تناسب آج کے مقابلے میں بہت زیادہ تھا۔ان عجیب و غریب ڈھانچوں کے سر پر تین آنکھیں اور پشت پر دھاتی ڈھال جیسی ہڈیاں موجود ہیں جو یہ ظاہر کرتی ہیں کہ وہ صرف شکاری نہیں تھے بلکہ ان میں ذہانت کی ایک الگ ہی سطح موجود تھی۔ ماہرین آثار قدیمہ اس وقت حیران رہ گئے جب انہوں نے ان ڈھانچوں کے…

Read more

امیر تیمور اور سلطان بایزید یلدرم کے درمیان ہونے والی خونریز اور ہولناک “جنگِ انقرہ” کی تاریخ، جب عثمانیوں کا طاقتور ترین سلطان امیر تیمور کی قید میں مارا گیا۔803 ہجری میں امیر تیمور نے آرمینیا کی سمت سے عثمانی سلطنت کی سرحد میں داخل ہو کر شہر سیواس کا محاصرہ کر لیا۔ یہ شہر چند سال پہلے سلطان بایزید کے قبضے میں آیا تھا اور اس کی دیواریں نہایت مضبوط تھیں۔ شہر کی حفاظت سلطان بایزید کے بڑے بیٹے، شہزادہ ارطغرل، کی قیادت میں ہو رہی تھی۔ عثمانی سپاہیوں نے بڑی بہادری سے دفاع کیا اور ابتدا میں تیمور کی عظیم فوج کامیاب نہ ہو سکی۔لیکن آخرکار تیمور نے ایک خطرناک تدبیر اختیار کی۔ اس نے ہزاروں مزدوروں سے شہر کی دیواروں کی بنیادیں کھدوائیں اور نیچے سرنگیں بنوائیں۔ جب سرنگیں مکمل ہو گئیں تو لکڑی کے سہاروں کو آگ لگا دی گئی، اور دیکھتے ہی دیکھتے مضبوط دیواریں…

Read more

یہ قصہ ایک ایسے شخص کا ہے جن کا نام تو سخی محمد تھا، لیکن پورے علاقے میں وہ مکھی چوس خان کے نام سے مشہور تھے۔ ان کی کنجوسی کے قصے اتنے عام تھے کہ لوگ کہتے تھے اگر ان کے ہاتھ سے پسینہ بھی چھوٹ جائے تو وہ اسے بھی تالے میں بند کر دیں۔ایک دن سخی محمد سخت بیمار ہو گئے۔ جب انہیں لگا کہ اب وقتِ رخصت قریب ہے، تو انہوں نے اپنے تینوں بیٹوں کو پاس بلایا۔ ان کی حالت دیکھ کر بڑا بیٹا رونے لگا، لیکن سخی محمد نے کمزور آواز میں کہا:اوئے بے وقوف! آنسو بہا کر قیمتی پانی ضائع نہ کر، جا کر پیاز کاٹ تاکہ لوگوں کو لگے کہ تو واقعی غمزدہ ہے اور پیاز کا سالن بھی بن جائے۔پھر انہوں نے وصیت شروع کی:دیکھو بیٹو! مرنا تو برحق ہے، لیکن فضول خرچی حرام ہے۔ میری میت کے لیے نیا کفن…

Read more

جب ہلاکو خان نے بغداد کو فتح کیا تو دجلہ و فرات کا پانی سیاہی سے نہیں بلکہ انسانوں کے خون سے سرخ ہو چکا تھا۔ کتب خانے جل چکے تھے، مدرسے ویران ہو گئے تھے، اور شہر کی گلیوں میں موت رقص کر رہی تھی۔ عباسی خلافت کا چراغ گل ہو چکا تھا اور بغداد، جو علم و دانش کا مرکز تھا، ملبے کا ڈھیر بن چکا تھا۔ہلاکو خان نے شہر کے باہر اپنا عظیم الشان ڈیرہ لگایا۔ خیموں کی قطاریں، مسلح سپاہ، اور خوف کی ایسی فضا کہ پرندہ بھی پر مارنے سے پہلے سوچے۔ اسی ڈیرے سے اس نے بغداد میں پیغام بھجوایا:“شہر کا سب سے بڑا عالم میرے پاس حاضر ہو۔”یہ پیغام بجلی بن کر شہر میں پھیل گیا۔ لوگ سہم گئے۔ علما، فقہا، محدثین—سب جانتے تھے کہ ہلاکو خان علم کا نہیں، طاقت کا پجاری ہے۔ اس کے دربار میں جانا موت کو دعوت دینے…

Read more

ایک بار ایک دیہاتی اپنے شہر والے دوست سے ملنے آیا جو بہت بڑا کنجوس تھا۔ دیہاتی خالی ہاتھ نہیں آیا، بلکہ اپنے ساتھ تحفے کے طور پر ایک موٹی تازی “مرغابی” (پرندہ) لے کر آیا۔کنجوس میزبان بہت خوش ہوا۔ اس نے مرغابی پکائی اور دونوں نے مزے سے کھائی۔ اگلے دن، کچھ اجنبی لوگ کنجوس کے گھر آ دھمکے اور کھانے کا مطالبہ کیا۔کنجوس نے پوچھا: “تم کون ہو؟”انہوں نے کہا:“ہم آپ کے اس دوست کے ‘دوست’ ہیں جو کل آپ کے لیے مرغابی لے کر آیا تھا۔”کنجوس نے کچھ نہیں کہا اور انہیں کل کی بچی ہوئی مرغابی کا “شوربہ” (سالن کا پانی) پلا دیا۔ تیسرے دن، کچھ اور لوگ آ گئے اور بولے:“ہم آپ کے اس دوست کے دوست کے ‘ہمسائے’ ہیں جو مرغابی لایا تھا۔”کنجوس نے انہیں بھی جیسے تیسے کچھ کھلا کر ٹال دیا۔ چوتھے دن، حد ہو گئی۔ 10، 12 لوگ کنجوس کے گھر…

Read more

یہ اس دور کا ذکر ہے جب بنی اسرائیل نے اپنی آنکھوں سے سمندر کو پھٹتے دیکھا تھا۔ فرعون غرق ہو چکا تھا۔ لاجک کہتی ہے کہ ان کا ایمان اتنا پکا ہونا چاہیے تھا کہ کوئی ہلا نہ سکے۔ لیکن ہوا کیا؟ حضرت موسیٰ علیہ السلام صرف چالیس راتوں کے لیے کوہِ طور پر گئے۔ پیچھے ایک شخص تھا، سامری۔ اس شخص نے قوم کی سائیکالوجی کو سمجھا۔ اس نے دیکھا کہ یہ لوگ دکھاوے اور آواز سے متاثر ہونے والے ہیں۔ اس نے زیورات پگھلا کر سونے کا ایک بچھڑا بنایا جس میں سے ہوا گزرتی تھی تو آواز آتی تھی۔ سامری نے ایک بیانیہ یا نیریٹو سیٹ کیا کہ یہ تمہارا خدا ہے۔ اور حیرت کی بات دیکھیں! وہ قوم جس نے ابھی خدا کا معجزہ دیکھا تھا، وہ ایک اسٹیچو کے آگے سجدے میں گر گئی۔ یہ تاریخ کا سب سے بڑا ماس برین واشنگ کا…

Read more

حشاشین (Assassins) جس کو باطنیان بھی کہتے ہیں۔ایک دہشت پسند اور خفیہ جماعت تھی جس کی بنیاد حسن بن صباح نے رکھی۔ اور انکا مرکز” الموت” میں قلعہ الموت تھا۔ اس جماعت کا خاتمہ ہلاکو خان کے ہاتھوں ہوا۔ جس نے قلعہ الموت کو فتح کرکے حسن بن صباح کے آخری جانشین رکن الدین کو گرفتار کرلیا اور ہزاروں فدائیوں کو بڑی بے رحمی سے قتل کر دیا۔قلعہ الموت (Alamut Castle) بحیرہ قزوین کے نزدیک صوبہ جیلان، ایران میں ایک پہاڑی قلعہ تھا۔ یہ موجودہ تہران، ایران سے تقریبا 100 کلومیٹر (60 میل) کے فاصلے پر ہے۔ حسن بن صباح کی قیادت میں یہ دہشت پسند اور خفیہ جماعت حشاشین (Assassins) کا مرکز رہا۔ اس قلعہ اور جماعت کا خاتمہ ہلاکو خان کے ہاتھوں ہوا۔حشاشین کی ابتدا کے شواہد 1080ء میں ملتے ہیں۔ حشاشین کے ماخذ کے بارے میں معلومات حاصل کرنا ایک دشوار کا م ہے کیونکہ زیادہ تر…

Read more

ایک سلطنت میں ایک طاقتور بادشاہ حکومت کرتا تھا۔اس کے پاس سب کچھ تھا—دولت، فوج، اختیار۔لیکن اس کی سب سے قیمتی چیز اس کی بیٹی، شہزادی تھی۔شہزادی نہایت ذہین اور نرم دل تھی۔وہ محل کی اونچی دیواروں سے باہر کی دنیا دیکھنا چاہتی تھی،لوگوں کے دکھ سمجھنا چاہتی تھی۔ایک دن اس نے باپ سے کہا:“ابا جان، میں رعایا کے درمیان جانا چاہتی ہوں،دیکھنا چاہتی ہوں کہ لوگ کیسے جیتے ہیں۔”بادشاہ نے سختی سے منع کر دیا:“بادشاہوں کی بیٹیاں سوال نہیں کرتیں،وہ صرف حکم مانتی ہیں۔”شہزادی خاموش ہو گئی،مگر اس کی آنکھوں میں سوال زندہ رہے۔کچھ دن بعد سلطنت میں قحط آیا۔لوگ بھوکے مرنے لگے۔بادشاہ کو خبر ملی،مگر اس نے سوچا:“یہ مسئلہ خزانے سے حل ہو جائے گا۔”شہزادی نے کہا:“ابا جان، خزانہ کافی نہیں،لوگوں کو صرف روٹی نہیں،عدل اور توجہ بھی چاہیے۔”بادشاہ نے پہلی بار بیٹی کی بات سنی نہیں—اور نقصان بڑھتا گیا۔آخرکار بادشاہ خود بھیس بدل کر شہر گیا۔جو کچھ…

Read more

ایک طاقتور بادشاہ دنیا کو فتح کرنے کے ارادے سے نکلا۔ اس کے لشکر کی گرد سے زمین کانپتی تھی، نیزوں کی چمک سورج کو چیلنج دیتی تھی، اور اس کے نام سے بادشاہوں کے دل دہل جاتے تھے۔ مگر تقدیر نے اسے ایک ایسی بستی سے گزارا جو دنیا کے ہنگاموں سے بالکل بے خبر تھی۔یہ افریقہ کی ایک چھوٹی سی بستی تھی۔ نہ فصیل، نہ فوج، نہ قلعہ۔ لوگ سادہ تھے، دل صاف، اور زندگی حیرت انگیز حد تک پُرسکون۔ یہاں کے باشندے جنگ کے مفہوم سے ناواقف تھے۔ وہ فاتح اور مفتوح کے فرق کو نہیں جانتے تھے، کیونکہ انہوں نے کبھی کسی کو مغلوب ہوتے نہیں دیکھا تھا۔جب بادشاہ اس بستی میں داخل ہوا تو لوگوں نے اسے دشمن نہیں بلکہ مہمان سمجھا۔ اسے احترام کے ساتھ اپنے سردار کی جھونپڑی میں لے گئے۔ وہی جھونپڑی ان کی مجلس بھی تھی، عدالت بھی، اور فیصلے کا…

Read more

پھجے میاں نے اس شام ایک پرانی ڈراؤنی فلم دیکھی تھی جس میں ایک جن درختوں پر الٹا لٹک کر لوگوں کو ڈراتا تھا۔ بس پھر کیا تھا، رات کے دو بجے پھجے میاں کے اندر کا “خفتہ جن” بیدار ہو گیا۔ وہ نیند میں ہی بستر سے ایسے اٹھے جیسے کوئی بجلی لگی ہو، ان کی آنکھیں آدھی کھلی تھیں اور وہ عجیب و غریب غراہٹ والی آوازیں نکال رہے تھے۔انہوں نے اپنی سفید چادر کو سر سے پاؤں تک ایسے لپیٹا کہ وہ سچ مچ کا ایک لمبا تڑنگا سایہ لگنے لگے۔ پھجے میاں نے دبے پاؤں چلنا شروع کیا اور کچن سے ایک کالا کڑاہا اٹھا کر اسے اپنے چہرے کے آگے کر لیا۔ اب وہ کمرے میں سوئے ہوئے اپنے کزن شفیق کے سرہانے جا کھڑے ہوئے اور ایک ایسی آواز نکالی جیسے کوئی پرانا دروازہ چڑچڑا رہا ہو۔ شفیق کی جیسے ہی آنکھ کھلی، اس…

Read more

کتا لاٹھی کو دیکھتا ہے،بھیڑیا اُس ہاتھ کو دیکھتا ہے جو لاٹھی تھامے ہوئے ہے،اور لومڑی آنکھوں میں دیکھتی ہے۔یہ حکمت جانوروں کے بارے میں نہیں،بلکہ انسانوں کے شعور کی مختلف سطحوں کو بے نقاب کرتی ہے۔کتا صرف آلے کو دیکھتا ہے؛ظاہر ہونے والے عمل میں اُلجھ جاتا ہے،لاٹھی پر حملہ کرتا ہےاور یہ بھول جاتا ہے کہ اسے کس نے حرکت دی۔یہ اُن لوگوں کی مثال ہےجو صرف ردِّعمل میں جیتے ہیں،نتائج پر غصہ کرتے ہیںمگر اسباب سے غافل رہتے ہیں۔بھیڑیا نظر میں کچھ گہرا ہے؛وہ فاعل کو دیکھتا ہے،سمجھتا ہے کہ نقصان کہاں سے آیا،لیکن پھر بھی براہِ راست ٹکراؤ کا قیدی ہے،طاقت کے مقابل طاقت۔اور رہی لومڑی،تو وہ آنکھوں میں دیکھتی ہے؛حرکت سے پہلے نیت کو،عمل سے پہلے فیصلے کو،اور لاٹھی بننے سے پہلے خیال کو پڑھ لیتی ہے۔یہیں سے اصل ذہانت شروع ہوتی ہے:کہ تم اُس چیز کو پڑھ سکوجو ابھی ہوئی ہی نہیں۔قدیم حکمت خاموشی…

Read more

چنگیز خان نے اپنی وفات سے پہلے اپنی وسیع و عریض سلطنت کو اپنے چار بیٹوں: جوجی خان، اوقطائی خان، چغتائی خان اور تولی خان کے درمیان تقسیم کر دیا تھا۔   جوجی خان (بڑا بیٹا): اسے بحیرہ قزوین کے شمالی علاقے، بلغار اور قفقاز (Caucasus) کا حصہ ملا۔ تاہم، جوجی خان اپنے والد کی زندگی ہی میں وفات پا گیا، چنانچہ اس کی وراثت اس کے بیٹے باتو خان کو ملی۔ باتو خان نے ایک بڑی مہم کی قیادت کی اور مشرقی سمت سے یورپ پر حملہ آور ہوا۔   تولی خان: اسے منگولیا کی سرزمین ملی، جو بعد میں اس کے بیٹے ہلاکو خان کے حصے میں آئی۔ ہلاکو خان نے ایک عظیم لشکر کے ساتھ فارس (ایران) کو فتح کیا اور پھر بغداد کی طرف بڑھا، جہاں اس نے عباسی خلیفہ کو شہید کیا اور پھر شام و مصر کی طرف پیش قدمی کا ارادہ کیا۔ برکہ…

Read more

اصل مسئلہ کیا ہے ؟کیا آپ جانتے ہیں کہ جیفری ایپسٹین کا وہ جزیرہ کیا راز چھپائے ہوئے تھا جس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا؟ مکمل تفصیل اس تحریر میں پڑھیں۔جیفری ایپسٹین: ایک عالمی شیطان کا عبرت ناک انجام اور ادھورے سچ آج کل انٹرنیٹ پر ایپسٹین فائلز کے چرچے ہیں، اور ہر طرف بڑے بڑے ناموں کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ لیکن یہ پورا معاملہ ہے کیا؟ وہ کون تھا جس نے دنیا کے طاقتور ترین لوگوں کو اپنے قدموں میں جھکا رکھا تھا اور اس کا “جزیرہ” کیا راز چھپائے ہوئے تھا؟ آئیے حقائق کی گہرائی میں اترتے ہیں۔ جیفری ایپسٹین کون تھا؟ جیفری ایپسٹین ایک امریکی ارب پتی فنانسر تھا، جس کے بارے میں لوگ جانتے تو کم تھے لیکن اس کا اثر و رسوخ وائٹ ہاؤس سے لے کر برطانوی شاہی محل تک پھیلا ہوا تھا۔ وہ ایک ایسی شخصیت تھی جس…

Read more

ایک دن ایک بطخ اپنے ننھے منے بچوں کے ساتھ جھیل کی طرف جا رہی تھی۔ بچے بہت خوش تھے اور اپنی ماں کے پیچھے پیچھے کواک کواک کرتے ہوئے مزے سے چل رہے تھے کہ اچانک ماں بطخ کی نظر دور کھڑی ایک لومڑی پر پڑی۔ وہ سہم گئی اور فوراً چلائی، “بچوں! جلدی سے جھیل کی طرف بھاگو، وہاں لومڑی ہے!” جب بچے جھیل کی طرف بھاگے تو ماں بطخ نے انہیں بچانے کے لیے ایک انوکھی چالاکی سوچی؛ اس نے زمین پر اپنے پر گھسیٹنے شروع کر دیے جیسے وہ زخمی ہو اور اڑ نہ سکتی ہو۔ لومڑی یہ دیکھ کر نہال ہو گئی کہ آج تو آسان شکار ہاتھ لگا ہے اور وہ تیزی سے بطخ کی طرف لپکی۔ ماں بطخ نے لومڑی کو اپنے پیچھے لگائے رکھا اور اسے جھیل سے بہت دور لے گئی تاکہ اس کے بچے محفوظ ہو جائیں۔ جیسے ہی اس…

Read more

20/45
NZ's Corner