Tag Archives: #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک جنگل میں جہاں ہر جانور صرف اپنے مفاد کے بارے میں سوچتا تھا، ایک شیر لوہے کے بھاری پنجرے میں قید ہو گیا۔ کئی دن تک بھوکا پیاسا رہنے کے بعد جب وہ بالکل مایوس ہو گیا، تو اس نے مدد کے لیے پکارنا شروع کیا۔ اتفاق سے وہاں سے ایک بھیڑ کا گزر ہوا۔شیر نے فوراً اپنی باتوں کے جال میں پھنسانا شروع کیا۔ وہ منت سماجت کرتے ہوئے بولا، “خدا کے لیے مجھے باہر نکالو۔ میں اپنی شاہی عزت کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں تمہیں نقصان نہیں پہنچاؤں گا۔ مجھے بس اپنی آزادی چاہیے۔”بھیڑ اتنی بھی نادان نہیں تھی۔ وہ ہچکچائی کیونکہ وہ شیر کی فطرت سے واقف تھی، لیکن شیر نے اس قدر بے چارگی کا ناٹک کیا کہ بھیڑ کا دل پگھل گیا۔ اس نے پنجرے کی کنڈی کھول دی اور پیچھے ہٹ گئی۔جیسے ہی دروازہ…

Read more

ایک گاؤں میں ایک بہت پرانا مسجد تھا۔ اس مسجد کی سب سے خاص بات وہاں رہنے والا ایک دیو ہیکل مگر نہایت نرم دل ہاتھی تھا۔ وہ ہاتھی ہر صبح مسجد کے دروازے پر کھڑا ہو جاتا اور آنے والے زائرین کو اپنی سونڈ اٹھا کر سلام کرتا۔ بچے اس سے بے حد محبت کرتے، بوڑھے اسے دعائیں دیتے، اور ہر کوئی اسے مسجد کی شان سمجھتا تھا۔ہر شام سورج ڈھلنے کے بعد ہاتھی قریبی تالاب پر نہانے جایا کرتا تھا۔ راستے میں ایک درزی کی چھوٹی سی دکان پڑتی تھی۔ یہ درزی روز ہاتھی کا انتظار کرتا، اور جیسے ہی ہاتھی اپنی سونڈ بڑھاتا، وہ محبت سے اسے ایک کیلا کھلا دیتا۔ہاتھی خوش ہو کر سونڈ بلند کرتا، گویا شکریہ ادا کر رہا ہو، اور پھر آہستہ آہستہ تالاب کی طرف بڑھ جاتا۔وقت گزرتا گیا، اور یہ معمول ایک خوبصورت دوستی میں بدل گیا۔لیکن ایک شام…درزی کے دل…

Read more

جنگل کی تاریخ میں یہ پہلی بار نہیں تھا کہ کسی بادشاہ کو اپنی اولاد کی فکر لاحق ہوئی ہو، مگر شیرنی کی پریشانی کچھ الگ تھی۔اسے اپنے بیٹے سے بے حد محبت تھی، اور شاید یہی وجہ تھی کہ وہ اس کی ہر کمزوری کو وقت سے پہلے بھانپ لیتی تھی۔ شیر کا بچہ بہادر تو بہت تھا، مگر پڑھائی کے نام پر اس کی جان نکلتی تھی۔جیسے ہی استاد الو کتاب کھولتا، اس کی نظریں درختوں پر بیٹھے طوطوں کی طرف چلی جاتیں۔جب ریاضی کا سبق شروع ہوتا تو وہ چیونٹیوں کی قطاریں گننے لگ جاتا۔اور جب تاریخ پڑھائی جاتی تو وہ جماہی لے کر زمین پر لیٹ جاتا۔ شیر کو اس سب سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا تھا۔ وہ اکثر ہنستے ہوئے کہتا: “ارے چھوڑو بھی، آخر کو بادشاہ ہی بننا ہے۔تاج پہننے کیلئے ڈگری نہیں، پنجہ چاہیے ہوتا ہے۔ مگر شیرنی ہر بار خاموش ہو…

Read more

1950 اور 2026 😂🔥1950ء 🐐ایک شخص کی نئی نئی شادی ہوئیسہاگ رات پر اُس نے سوچا:“آج ایسا رعب ڈالوں گا کہ بیوی عمر بھر یاد رکھے گی!” 😎چنانچہ اُس نے پلنگ کے پائے کے ساتھ ایک بکری کا بچہ باندھ دیا۔ 🐐رات کو جیسے ہی بکری کے بچے نے “میں میں” کی آواز نکالی،شوہر غرّا کر بولا:“خاموش ہو جا ورنہ ابھی ذبح کر دوں گا!” 😠کچھ دیر خاموشی رہیپھر بکری کا بچہ دوبارہ بول پڑا۔ 😅شوہر نے آنکھیں نکالتے ہوئے کہا:“آخری وارننگ دے رہا ہوں!” ⚠️تیسری بار آواز آئی تو بندے نے واقعی چھری اٹھائیاور وہیں بکرے کا قصہ ختم! 😳🔪بیوی یہ منظر دیکھ کر کانپ گئی 😨شوہر مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے بولا:“جو میرے سامنے اونچی آواز نکالے گااُس کا یہی حال ہوگا!” 😌نتیجہ؟بیوی نے پوری زندگی شوہر کے سامنے آواز تک نہ نکالی… 😂2026ء 📱🤣وقت بدلا…لوگ بدلے…اور بیویاں تو خاص طور پر اپڈیٹ ہو گئیں! 😅ایک نئے دولہے…

Read more

ایک زمانے کی بات ہے، ایک دریا کے کنارے ایک غریب مگر خوش مزاج کشتی بان رہتا تھا۔ لوگ اسے سادہ سمجھتے تھے، مگر وہ زندگی کے تجربے میں بہت آگے تھا۔ ایک دن ایک مشہور عالم اُس کی کشتی میں سوار ہوا تاکہ دریا پار جا سکے۔ عالم نے ریشمی لباس پہن رکھا تھا، ہاتھ میں کتابیں تھیں اور چہرے پر غرور صاف جھلک رہا تھا۔دریا کا سفر لمبا تھا، تو عالم نے وقت گزارنے کے لیے کشتی بان سے بات چیت شروع کی۔وہ ناک چڑھا کر بولا: “اے کشتی بان! کیا تم نے کبھی علمی کتاب اور گرامر پڑھی ہے؟”کشتی بان نے عاجزی سے جواب دیا: “جناب، میں غریب آدمی ہوں۔ مجھے پڑھنے کا موقع نہیں ملا۔”یہ سن کر عالم طنزیہ ہنسا اور بولا: “افسوس! تم نے تو اپنی آدھی زندگی ضائع کر دی!”کشتی بان خاموش رہا۔ اُس نے صرف ایک گہری سانس لی اور چپ چاپ چپو…

Read more

ایک اللہ والے اپنی شریکِ حیات کے ساتھ کشتی میں سوار دریا کا سفر کر رہے تھے کہ اچانک موسم نے کروٹ بدلی اور ایک خوفناک طوفان نے کشتی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ بلند و بالا لہریں کشتی کو اس شدت سے ہلا رہی تھیں کہ ہر لمحہ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے اب ڈوبی کہ تب ڈوبی۔ موت کو سامنے دیکھ کر بیوی کے چہرے کا رنگ زرد پڑ گیا، ہاتھ کانپنے لگے اور دل خوف سے لرز اٹھا۔ مگر حیرت انگیز طور پر اس کے شوہر کے چہرے پر غیر معمولی سکون اور اطمینان تھا، بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ اس کا اطمینان اور بڑھتا جا رہا تھا۔ آخر بیوی بے بسی اور گھبراہٹ میں بول اٹھی: “اے نادان! کچھ تو ہوش کرو۔ یہ وقت اس طرح خاموش اور مطمئن بیٹھنے کا نہیں۔ اگر یہی حال رہا تو ہم چند لمحوں میں موت کا شکار ہو…

Read more

جنگل میں اگر کسی جانور کی سب سے کم عزت تھی، تو وہ گدھا تھا۔جہاں سے گزرتا، کوئی نہ کوئی اس کی آواز کا مذاق اڑا دیتا، کوئی اس کی چال پر ہنس دیتا۔ رفتہ رفتہ گدھے کے دل میں ایک عجیب سی بھوک پیدا ہو گئی، عزت کی بھوک۔ وہ اکثر جنگل کے طاقتور اور مشہور جانوروں کو دیکھتا اور دل ہی دل میں سوچتا: “آخر ان میں ایسی کیا بات ہے جو سب ان کے آگے پیچھے گھومتے ہیں؟” انہی دنوں جنگل کی سب سے چالاک مخلوق، وزیراعظم لومڑی، پورے جنگل پر اپنے اثر و رسوخ کا جال پھیلائے بیٹھی تھی۔ شیر بادشاہ تھا ضرور، مگر جنگل کے اکثر فیصلے لومڑی کی چالاکی سے ہی چلتے تھے۔ وہ ہر جانور کو اس کی کمزوری کے مطابق استعمال کرنا جانتی تھی۔ گدھے نے ایک دن فیصلہ کیا: “اگر میں لومڑی کے قریب ہو جاؤں، تو لوگ خود بخود میری…

Read more

ایک سائنسی تجربے کے دوران ماہرین نے دو بندروں کو ایک ہی طرح کا سادہ کام دیا. جب پہلے بندر نے اپنا کام مکمل کیا، تو اسے انعام کے طور پر کھیرا دیا گیا. بندر نے بڑی رغبت سے اسے کھانا شروع کیا؛ وہ تازہ تھا، لذیذ تھا اور بندر اپنی اس محنت کے پھل سے پوری طرح مطمئن اور خوش تھا. لیکن پھر کہانی میں ایک موڑ آیا. اس بندر کی نظر برابر والے پنجرے میں بیٹھے دوسرے بندر پر پڑی. اس نے دیکھا کہ دوسرے بندر نے بھی وہی کام کیا تھا، مگر اسے انعام میں کھیرے کے بجائے کیلا ملا. بس یہی وہ لمحہ تھا جہاں پہلے بندر کی دنیا بدل گئی. اچانک اسے اپنا وہ کھیرا، جو چند لمحے پہلے تک بہت لذیذ لگ رہا تھا، بے کار اور حقیر محسوس ہونے لگا. اس نے غصے میں وہ کھیرا سائنسدان کے منہ پر دے مارا اور…

Read more

ایک دن ایک حکمران اپنے محل کے بلند و بالا کمرے میں آرام فرما رہا تھا کہ باہر سے ایک دیہاتی کی صدا سنائی دی:“سیب لیجیے! تازہ سیب!” حاکم نے کھڑکی سے جھانکا تو دیکھا کہ ایک یمنی کسان — چہرے پر دھوپ سے جھلسی جھریاں، سادہ عمامہ اور گرد آلود چغہ پہنے — اپنے نحیف گدھے پر دونوں طرف دو ٹوکریاں لادے بازار کی طرف جا رہا ہے، جن میں سرخ و رسیلے سیب بھرے ہوئے ہیں۔ بادشاہ کے دل میں سیب کھانے کی خواہش جاگی۔ اُس نے وزیر کو بلایا اور حکم دیا:“خزانے سے پانچ سونے کے سکے لے لو اور میرے لیے ایک بہترین سیب لاؤ!” وزیر نے خزانے سے پانچ سکے نکالے اور اپنے معاون سے کہا:“یہ چار سونے کے سکے لے لو، اور بادشاہ سلامت کے لیے ایک سیب خرید لاؤ۔” معاون نے تین سکے رکھے، باقی محل کے منتظم کو دیے اور کہا:“یہ تین…

Read more

‏ایک دن پڑوسیوں کی مرغی شیخ صاحب کے گھر سے گندم کھا گئی تو انہوں نے مرغی کو پکڑا اور ذبح کرکے کھاگئےاگلے دن پڑوسیوں کو مرغی نا ملی تو انہوں نے شیخ صاحب سے پوچھا کہ آپ نے ہماری مرغی کہیں  دیکھی تھی؟شیخ نے غصے سے کہا کہ وہ ہمارے گھر کے دانے کھا گئی اس لئے میں اسے ذبح کرکے 👇‏کھا گیا پڑوسی بھی غصے سے گویا ہوئے کہ شیخ صاحب آپ تو انتہائی نامعقول انسان ہیں کہ چند دانے کیا مرغی نے کھا لئے آپ پوری مرغی ہی کھا گئے. حالانکہ چند دن قبل آپکی بلی ہمارا تین کلو دودھ پی گئی تھی تو ہم نے کچھ کہا آپکوشیخ صاحب جھٹ سے بولے کہ اگر میری بلی آپ کا دودھ پی گئی 👇‏تھی تو آپ بھی میری بلی کھا جاتے میں نے کونسا منع کیا آپکوپڑوسی تلملا کر بولے  شیخ صاحب بلی تو حرام ہوتی ہےشیخ صاحب…

Read more

ایک دن بڑے زور کی آندھی آئی، اور پھر موسلا دھار بارش ہونے لگی۔ جنگلی جانور، جان بچانے کے لیے، اِدھر اُدھر دوڑے ایک لومڑی ایک چھوٹے سے غار میں گھس گئی۔ تھوڑی دیر بعد ایک ببر شیر بھی اسی غار میں گھس آیا۔ موت سامنے نظر آئی تو لومڑی بہت گھبرائی۔ لیکن عین اُس وقت عقل کام آئی۔ اُس نے جھٹ اپنا سر غار کی چھت سے لگایا اور بولی “چھت گرنے والی ہے، حضور! اسے سہارا دیجیے۔ گر گئی تو دونوں مر جائیں گے۔”ببر شیر نے دونوں ہاتھوں سے چھت کو تھام لیا۔ لومڑی بولی “آپ مجھ سے زیادہ طاقتور ہیں۔ اسے اسی طرح تھامے رہیے۔ میں بانس لے کر ابھی آئی۔”“بانس کا کیا کروگی؟” شیر نے پوچھا۔“اے، حضور، بانس سے چھت کو سہارا دیں گے تو وہ نہیں گرے گی” لومڑی نے کہا اور باہر بھاگ گئی۔(افریقہ کی لوک کہانی)رسالہ: تعلیم و تربیت

رات کی خاموشی میں، جب ہوا بھی دبے قدموں چل رہی تھی، ایک سیاہ سایہ زمین پر رینگتا ہوا ایک ننھے خرگوش کے بل تک پہنچا…وہ ایک سانپ تھا۔بل کے اندر، معصوم خرگوش ایک دوسرے سے لپٹے بیٹھے تھے۔ اچانک، دروازے پر ہلکی سی سرسراہٹ ہوئی… اور پھر ایک نرم، مگر عجیب سی آواز گونجی:“ڈرو مت… میں تمہیں نقصان نہیں پہنچانا چاہتا…”خرگوشوں کے دل تیزی سے دھڑکنے لگے۔ انہوں نے پہلے کبھی اپنے گھر میں کسی شکاری کو نہیں دیکھا تھا۔سانپ نے اپنی آواز میں اور بھی مٹھاس گھول دی:“میں اکیلا ہوں… بہت اکیلا… اس دنیا میں میرا کوئی نہیں۔ میں صرف تھوڑی سی محبت چاہتا ہوں… تھوڑی سی اپنائیت…”اس کی آنکھیں چمک رہی تھیں، جیسے اندھیرے میں دو جلتے ہوئے چراغ۔“میرے پاس صدیوں کی حکمت ہے… کہانیاں ہیں… راز ہیں… اگر تم چاہو تو میں تمہیں سب سنا سکتا ہوں…”خرگوش ایک دوسرے کو دیکھنے لگے… خوف اور ہمدردی کے…

Read more

کسی چھوٹے سے گاؤں میں، جہاں وقت بہت آہستہ چلتا تھا اور باتیں بہت تیز، دو جھونپڑیاں ایک دوسرے سے چند قدم کے فاصلے پر تھیں۔ ایک میں چارلی رہتا تھا، دوسرے میں بل۔ گاؤں والے کہتے تھے: “چارلی کے پاس دماغ ہے تو بل کے پاس دل۔ مگر چارلی کا دماغ اس کا دشمن ہے، اور بل کا دل اس کا بادشاہ۔” چارلی جسے اپنے دماغ کے بل بوتے پر پلک جھپکنے سے پہلے اپنے سے کوسوں دور کی مصیبت، مایوسی اور ناکامی نظر آ جاتی تھی، مگر عقل سے کچھ ایسا پَیدل کہ پہلو میں پڑی خوشیاں، امید اور کامیابیاں اسے دکھائی ہی نہیں دیتی تھیں۔ وہ پھولوں سے اس وجہ سے دور رہتا کہ کہیں کانٹے نہ چبھ جائیں، آگ سے اس لیے کنارہ کش تھا کہ کہیں نہ جلا دے، اور معاشرے میں رہنے والے لوگوں سے اس لیے دوری بنا کر رکھتا کہ اسے سب…

Read more

ایک تُرک گھوڑے پر سوار چلا آرہاتھا۔ دیکھا ایک سوتے ہوئے شخص کے حلق میں سانپ گھس گیا۔ سوار نے دور سے دیکھ کر بہتیرا گھوڑا دوڑایا کہ سونے والے کو بچائے مگر موقع نہ مِلا۔ کوئی تدبیر سمجھ میں نہ آئی تو اس نے چند گھونسے سونے والے کو مارے۔ سونے والا گہری نیند سے ایک دم اچھل پڑا۔دیکھا کہ ایک سوار گھونسے پر گھونسا لگارہا ہے۔ وہ تُرک تابڑ توڑ گھونسے مارتا رہا یہاں تک کہ سونے والا تاب نہ لاکر بھاگ کھڑا ہوا۔ آگے آگے وہ اور پیچھے پیچھے ترک ایک درخت کے تلے پہنچے۔ وہاں جھڑے پڑے سیب بہت پڑے تھے۔ تُرک نے کہا کہ اے شخص ان سیبوں میں سے جتنے کھائے جائیں تو کھا اور خبردار ہر گرز کمی نہ کر۔ تُرک نے اس کو اس قدر سیب کھلائے کہ سب کھایا پیا الٹ الٹ کر منہ سے نکلنے لگا۔اس نے تُرک سے چلاّکر…

Read more

ایک لڑکا شہر میں پڑھ لکھ کر واپس دیہات گیا تو گاؤں کے چوہدری صاحب نے سوال کیا:“پتر پڑھنے لکھنے کا کیا فائدہ ہے؟” لڑکا بولا:“چوہدری صاحب، پڑھنے لکھنے سے ‘لوجکس’ کلیر ہو جاتی ہیں۔” چوہدری:“یہ ‘لوجکس’ کیا ہوتی ہیں؟” لڑکا:“‘لوجکس’ منطق کو کہتے ہیں۔” چوہدری:“یہ منطق کیا بلا ہے؟” لڑکا بولا:“میں سمجھاتا ہوں آپ کو…” یہ کہہ کر اس نے پوچھا:“چوہدری صاحب، آپ کے گھر میں کتا ہے؟” چوہدری:“ہاں، کتا تو ہے۔” لڑکا:“اس کا مطلب آپ کا گھر بڑا ہوگا؟(جس کی حفاظت کے لیے کتا رکھا ہوا ہے)” چوہدری:“ہاں، گھر بھی بڑا ہے۔” لڑکا:“پھر آپ کے ہاں نوکر چاکر بھی کافی ہوں گے؟(بڑے گھر کی دیکھ بھال کے لیے)” چوہدری:“ہاں جی، نوکر بھی کافی سارے ہیں۔” لڑکا:“اس کا مطلب آپ کی آمدنی بھی اچھی خاصی ہوگی؟” چوہدری:“بالکل، آمدنی بھی اچھی خاصی ہے۔” لڑکا:“اس کا مطلب آپ کی ماں کی دعائیں آپ کے ساتھ ہیں اور وہ قبول بھی ہوئیں…یعنی…

Read more

برطانوی نوآبادیاتی دور میں ہندوستان میں، ایک دفعہ ایک برطانوی افسر نے ایک ہندوستانی شہری کو تھپڑ مارا۔ اس پر ہندوستانی شہری نے ردعمل میں پوری طاقت سے افسر کو تھپڑ مارا اور اسے زمین پر گرا دیا۔ افسر اس ذلت آمیز صدمے سے حیران رہ گیا اور وہاں سے چلا گیا، یہ سوچتا ہوا کہ ایک ہندوستانی شہری نے کیسے جرات کی کہ وہ برطانوی فوج کے افسر کو تھپڑ مارے، جو کہ ایک ایسی سلطنت کا حصہ ہے جس پر سورج غروب نہیں ہوتا۔ وہ اپنے مرکز کی طرف گیا تاکہ انہیں اس واقعے کی اطلاع دے اور اس شہری کو سزا دینے کے لیے مدد طلب کرے۔ لیکن بڑے افسر نے اسے پرسکون کیا اور اپنے دفتر لے گیا، اور ایک پیسوں سے بھری خزانہ کھول کر کہا: ”خزانے سے دس ہزار روپے لے لو، اور اس ہندوستانی شہری کے پاس جا کر اس سے معافی مانگو،…

Read more

خدا کی کرنی یہ ہوئی کہ چوہے اور مینڈک میں ایک ندی کے کنارے دوستانہ ہوگیا۔ دونوں کے دونوں ہر صبح وقتِ مقررہ پر ایک جگہ جمع ہوجاتے تھے۔ دونوں کا دل باہمی میل جول سے کشادہ ہوتاتھا اور آپس میں ایک دوسرے سے بات چیت اور قصہ بازی ہوتی تھی۔ یہ محبت یہاں تک بڑھی کہ چوہے نے مینڈک سے کہا پیارے دوست میں اس تھوڑے سے مقررہ وقت میں جی بھر کر تجھ سے حکایتیں بیان نہیں کرسکتا۔ نماز تو پانچ وقت کی فرض ہے۔ لیکن عاشقوں کا حال یہ ہے کہ وہ ہمیشہ نماز میں ہیں۔ وہ نشہ پانچ نمازوں سے قائم نہیں رہتا۔ تیرا مکھڑا دیکھے بغیر ایک دم کو بھی چین نہیں۔ یہ عین مروت ہوگی اگر تو مجھے خوش کرےاور وقت بے وقت اپنی مہر بانی سے مجھے یاد کرتا رہے۔ تو نے پورے دن میں صبح سویرے ایک وقت ملنے کا مقرر کیا…

Read more

ایک گھنا، خاموش اور خوبصورت جنگل تھا… جہاں سورج کی روشنی بھی درختوں کے پتوں سے چھن کر زمین پر سنہری دھبے بناتی تھی۔ اس جنگل میں ہر جانور اپنی زندگی میں مصروف تھا، مگر ایک عجیب سی اداسی فضا میں بسی ہوئی تھی۔اس جنگل میں ایک ننھا ہرن رہتا تھا، جس کا نام “چاندو” تھا۔ چاندو باقی ہرنوں سے مختلف تھا۔ وہ نہ تو تیز دوڑ سکتا تھا اور نہ ہی زیادہ اونچا چھلانگ لگا سکتا تھا۔ اسی وجہ سے باقی جانور اکثر اس کا مذاق اڑاتے تھے۔ایک دن جنگل میں شدید طوفان آیا۔ آسمان پر کالے بادل چھا گئے، تیز ہوائیں چلنے لگیں، اور بارش موسلا دھار برسنے لگی۔ درخت جڑوں سے ہلنے لگے، اور جانور خوف سے ادھر ادھر بھاگنے لگے۔اسی ہنگامے میں ایک ننھا خرگوش، جو اپنی ماں سے بچھڑ گیا تھا، ایک گہرے گڑھے میں گر گیا۔ وہ زور زور سے مدد کے لیے پکارنے…

Read more

ایک خوبصورت جنگل کے کنارے ایک فارم ہاؤس تھا، جہاں ایک گھوڑا اور ایک گدھا ساتھ رہتے تھے۔ گھوڑا اپنی رفتار اور خوبصورتی پر بہت مغرور تھا، جبکہ گدھا خاموشی سے اپنا کام کرنے والا محنتی جانور تھا۔ ان دونوں کا ایک ننھا سا دوست بھی تھا: ایک خرگوش، جو اپنی پھرتی اور شرارتوں کے لیے مشہور تھا۔گھوڑے کا غرورایک دن گھوڑا گدھے کا مذاق اڑاتے ہوئے بولا:“تم کتنے سست اور بدصورت ہو! دیکھو مجھے، میں ہوا سے باتیں کرتا ہوں اور لوگ میری سواری کر کے فخر محسوس کرتے ہیں۔ تم تو بس بوجھ ڈھونے کے لیے بنے ہو۔”گدھا خاموش رہا، لیکن خرگوش سے اپنے دوست کی یہ بے عزتی برداشت نہ ہوئی۔ خرگوش اچھل کر سامنے آیا اور بولا:“گھوڑے بھائی! رفتار ہی سب کچھ نہیں ہوتی، کبھی کبھی عقل اور ہمت بھی کام آتی ہے۔ کیا تم ہم دونوں کے ساتھ ایک مقابلے کے لیے تیار ہو؟”انوکھا مقابلہگھوڑا…

Read more

ایک کسان نے ایک مرا ہوا سور ایک سوکھے کنویں میں پھینک دیا۔چند ہی لمحوں بعد 70 سے 80 چوہے اس بدبو کی طرف کھنچے چلے آئے اور ایک ایک کر کے کنویں میں کود گئے۔ان کے لیے یہ ایک “آسان دعوت” تھی…انہوں نے مل کر اس سور کو ختم کر دیا، لیکن اصل کہانی یہاں سے شروع ہوئی۔جب پیٹ بھر گیا تو حقیقت سامنے آئی…کنواں اونچا تھا، باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔دن گزرتے گئے…بھوک واپس آگئی، اور ساتھ ہی خوف بھی۔پھر وہی کنواں ایک زندہ جہنم بن گیا۔کچھ چوہے کمزور پڑے، کچھ نے طاقت کے لیے دوسرے کو مارنا شروع کر دیا…اور پھر نوبت یہاں تک آ گئی کہ وہ ایک دوسرے کو کھانے لگے۔وقت گزرتا گیا…اور آخرکار سب ختم ہو گئے…صرف ایک چوہا بچا، جس کی آنکھیں خون کی طرح سرخ ہو چکی تھیں، اور ذہن میں صرف ایک چیز تھی… “بقا”۔کچھ دن بعد کسان واپس…

Read more

20/450
NZ's Corner