Tag Archives: #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday

نہ کسی پہاڑ کی چوٹی پر، نہ کسی سنسان غار میں، نہ کسی کرامت کے ہنگامے میں۔وہ خدا سے ملا تھا ایک ٹوٹے ہوئے لمحے میں۔جب دنیا کے سارے دروازے بند ہو گئے تھے، جب امید کے آخری چراغ کی لو کانپ رہی تھی، جب آنسو دعا بن کر ہونٹوں سے نکلے تھے اور دل نے پہلی بار اپنی بے بسی کا اعتراف کیا تھا۔اس رات اسے یوں محسوس ہوا جیسے کائنات کی ساری خاموشیاں ایک جواب میں ڈھل گئی ہوں۔ دل کے اندر ایک نور اترا، ایک سکون جاگا، ایک یقین نے جنم لیا۔اس نے سجدے میں سر رکھا اور رو پڑا۔مدتوں بعد اسے لگا کہ وہ تنہا نہیں۔پھر دن بدلنے لگے۔مشکلیں آسان ہو گئیں، دعائیں قبول ہونے لگیں، رزق کے در وا ہوئے، چہرے پر رونق لوٹ آئی۔ زندگی نے پھر سے اپنے رنگ بکھیرنے شروع کر دیے۔اور یہی وہ مقام تھا جہاں کہانی نے رخ بدلا۔جس ہستی…

Read more

کہتے ہیں ایک بادشاہ تھا جس کے محل کی دیواریں آسمان سے باتیں کرتی تھیں۔ اس کے خزانے سونے سے بھرے تھے، اس کی فوجیں ہزاروں میں تھیں، اور اس کے دربار میں خوشامد کرنے والوں کی کبھی کمی نہ تھی۔ مگر محل کی دیواروں سے ذرا باہر نکلو… کہیں ایک ماں اپنے بچے کو بھوک سے بہلا رہی تھی، کہیں ایک بوڑھا دوا نہ ہونے کی وجہ سے آہستہ آہستہ مر رہا تھا، کہیں نوجوان امید کھو چکے تھے، اور کہیں انصاف صرف کتابوں میں زندہ تھا۔ ایک دن ایک درویش دربار میں آیا۔ بادشاہ نے فخر سے پوچھا: “بتاؤ، میری سلطنت کتنی مضبوط ہے؟” درویش نے کھڑکی سے باہر دیکھا، پھر بادشاہ کی آنکھوں میں دیکھ کر بولا: “جہاں محل محفوظ ہوں مگر عوام خوف میں جئیں، وہاں سلطنت نہیں، صرف خاموش چیخیں آباد ہوتی ہیں۔” بادشاہ ہنس پڑا۔ کہنے لگا: “میرے پاس خزانہ بھی ہے، فوج بھی،…

Read more

ایک انجینئرنگ کالج کے تمام اساتذہ کو ایک ٹور پر لے جانے کے لیے ہوائی جہاز میں بٹھایا گیا۔ جب سب اپنی نشستوں پر بیٹھ گئے تو پائلٹ نے اعلان کیا:  “تمام معزز اساتذہ کرام! آپ کو یہ جان کر خوشی ہوگی کہ جس جہاز میں آپ بیٹھے ہیں، اسے آپ ہی کے کالج کے ذہین طالبعلموں نے تیار کیا ہے!!!” یہ سنتے ہی جہاز میں ہلچل مچ گئی۔ تمام اساتذہ خوف سے کانپتے ہوئے فوراً اپنی نشستوں سے اٹھے اور جلدی جلدی جہاز سے نیچے اترنے لگے۔ سب کو ڈر تھا کہ کہیں جہاز کا کوئی حادثہ نہ ہو جائے۔ لیکن پرنسپل صاحب اپنی جگہ پر سکون سے بیٹھے رہے۔ یہ منظر دیکھ کر پائلٹ حیران ہوا۔ وہ پرنسپل کے پاس آیا اور پوچھا:  “سر، تمام اساتذہ اپنے ہی شاگردوں کا نام سن کر ڈر کے مارے اتر گئے، مگر آپ کیوں نہیں اترے؟ کیا آپ کو ڈر نہیں…

Read more

سمندر کے کنارے ایک بڑا سا ہوٹل تھا۔ وہاں روز سیاح آتے، کھاتے پیتے اور بہت سا کھانا ضائع کر جاتے۔ اسی ہوٹل کے آس پاس ایک کوا رہتا تھا۔ مفت کے کھانے کھا کھا کر وہ خوب موٹا تازہ ہو چکا تھا۔ جسم بھاری، آواز اونچی اور غرور آسمان سے بھی بلند۔ وہ جہاں بیٹھتا، دوسرے کوؤں کو حقارت سے دیکھتا اور کہتا: “تم لوگ عام کوا ہو… میں پرندوں کا بادشاہ ہوں!” بیچارے دوسرے کوا اس کی باتیں سن کر خاموش رہتے، کیونکہ بحث کرنے سے زیادہ شور وہ کرتا تھا۔ ایک دن دور دراز علاقوں سے ہنسوں کا ایک خوبصورت جوڑا سمندر کے کنارے اترا۔ ان کے پر چاندی کی طرح چمک رہے تھے اور ان کے چہروں پر عجیب سا وقار تھا۔ کوا فوراً اکڑتا ہوا ان کے پاس پہنچا۔ گردن ٹیڑھی کی، سینہ پھلایا اور بولا: “سنا ہے تم لوگ بڑے اڑاکے بنتے ہو؟” بوڑھا…

Read more

کہتے ہیں دور کہیں کسی گاؤں میں کئی لوگوں کی فصلیں چوری ہونے لگی، کسان اپنی فصل میں پہنچتے تو دیکھ کر لگتا کہ کوئی جانور گھاس کھا کر گیاہے لیکن کسی کو بھی جانور کے پیروں کے نشان نہ ملتے تاکہ معلوم ہوسکے کہ کس کی بھینس فصل چر گئی، کئی مہینوں تک یہ سلسلہ چلتا رہا اور ایک کہانی عام ہوگئی کہ کوئی جانور نما جن رات گئے آتا ہے، فصل چرتا ہے اور اڑ جاتا ہے۔ لیکن پھر کسی ایسے شخص نے جسے جن والی کہانی پر یقین نہیں تھا، رات گئے ایک نوجوان کو بھینس کندھے پر اٹھا کر جاتے ہوئے دیکھ لیا، پیچھا کرنے پر معاملہ یوں کھلا کہ نوجوان روز اپنی بھینس کندھے پر اٹھا کر لے جاتا ہے، فصلوں میں چھوڑتا ہے اور پھر کندھے پر اٹھا کر واپس لے آتا ہے، تھوڑی تحقیق سے معلوم ہوا بھینس اٹھانے والا نوجوان جانور کو…

Read more

کسی زمانے میں ایک ملک تھا جس کا بادشاہ بے اولاد ہی مر گیا۔کوئی قریبی رشتہ دار بھی ایسا نہیں تھا کہ جسےتخت و تاج سونپا جا سکتا۔ تو امیروں میں بحث شروع ہو گئی کہ بادشاہ کون بنے گا۔ہوتے ہوتے یہ طے پایا کہ کل صبح جو شخص سب سے پہلے شہر کے دروازے سے داخل ہو گا اسے بادشاہ بنا دیا جائے گا۔اگلی صبح کا سورج طلوع ہوا تو سب کی نگاہیں داخلیدروازے پر ٹکی تھیں۔ اچانک ایک ہیولا سا دروازےمیں سے اندر داخل ہوا۔ہر جانب مبارک سلامت کا شور اٹھا ملک و قوم کو اگلا بادشاہ مل ہی گیا تھا اور دروازے سے داخل ہونے والا ایک گدڑی پوش فقیر حیرت سے سب امرا کے چہرے دیکھ رہا تھا جو اس کا ہاتھ چومنے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جا رہے تھے۔خیر قصہ مختصر۔ بادشاہ سلامت دربار میں جلوہ افروز ہوئے ایک وزیر نے اگے پڑھ…

Read more

ایک مشہور قصہ ہے کہایک طالب علم کو استاد نے امتحان میں فیل کردیا، طالب علم شکایت لے کر پرنسپل کے پاس چلا گیا کہ مجھے غلط فیل کیا گیا ہے پرنسپل نے استاد اور طالب علم دونوں کو بلا لیا اور استاد سے فیل کرنے کی وجہ پوچھی استاد صاحب نے بتایا کہ اس لڑکے کو فیل کرنے کی وجہ یہ تھی کہ وہ ہمیشہ موضوع سے باہر نکل جاتا ہے جس موضوع پر اسے مضمون لکھنے کو دیا جائے اسے چھوڑ کر اپنی پسند کے مضمون پر چلا جاتا ہے ، پرنسپل نے کوئی مثال پوچھی تو استاد صاحب نے بتایا کہایک دفعہ میں نے اسے بہار پر مضمون لکھنے کو کہا تو وہ اس نے کچھ اس طرح لکھا موسم بہار ایک بہت ہی بہترین موسم ہوتا ہے اور اس کے مناظر بہت ہی دلنشین ہوتے ہیں۔ اس موسم میں ہر طرف ہریالی ہی ہریالی ہوتی ہے…

Read more

ایک بلند پہاڑ پر ایک عقاب رہتا تھا۔ وہ اپنی طاقت، رفتار اور اونچی پرواز پر بہت فخر کرتا تھا۔ پورے جنگل میں اس کا رعب تھا۔ وہ اکثر دوسرے جانوروں سے کہتا: “میری نظر آسمان سے زمین تک سب کچھ دیکھ سکتی ہے۔ تم سب میری طرح عظیم نہیں بن سکتے۔” جانور اس کی باتیں سن کر خاموش رہتے، مگر دل ہی دل میں اس کے غرور کو ناپسند کرتے تھے۔ اسی جنگل میں ایک چھوٹا سا جگنو بھی رہتا تھا۔ دن کے وقت کوئی اسے نہیں دیکھتا تھا اور رات کو بھی اس کی روشنی بہت معمولی لگتی تھی۔ عقاب اکثر اس کا مذاق اڑاتا۔ ایک رات اچانک جنگل میں خوفناک طوفان آیا۔ آندھی اتنی شدید تھی کہ درخت جڑوں سمیت اکھڑنے لگے۔ بارش نے راستے مٹا دیے۔ جانور ادھر ادھر بھاگنے لگے۔ اسی ہنگامے میں عقاب کا ایک ننھا بچہ اپنے گھونسلے سے گر کر جنگل کے…

Read more

ایک زمانے کی بات ہے۔ ایک عظیم الشان سلطنت کا بادشاہ، جس کے ایک اشارے پر تلواریں نیام سے باہر آ جاتیں اور ایک تیوری چڑھانے پر دربار میں سناٹا چھا جاتا، ایک رات عجیب خواب دیکھ کر ہڑبڑا کر جاگ اٹھا۔خواب یہ تھا کہ اس کے منہ کے تمام دانت ایک ایک کرکے جھڑ گئے ہیں۔ صبح ہوتے ہی بادشاہ کی پیشانی پر فکر کی شکنیں تھیں۔ اس نے فوراً حکم دیا:“دربار سجایا جائے! خواب کے ماہرین حاضر کیے جائیں!”چنانچہ ملک بھر کے نجومی، حکیم اور خواب شناس دربار میں جمع ہو گئے۔سب سے پہلے ایک بزرگ معبرِ خواب آگے بڑھا۔ اس نے خواب سنا، تھوڑی دیر سوچا اور پھر نہایت سادگی سے عرض کیا:“بادشاہ سلامت! اس خواب کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے تمام عزیز و اقارب آپ سے پہلے دنیا سے رخصت ہو جائیں گے۔”یہ سننا تھا کہ بادشاہ کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا۔“بدزبان!…

Read more

ایک سرسبز و شاداب تالاب تھا، جس کے کناروں پر نرم گھاس لہلہاتی تھی، کنول کے پھول پانی پر مسکراتے تھے اور شام ڈھلے مینڈکوں کی ٹر ٹر ایک عجیب سی محفل سجا دیتی تھی۔اسی تالاب میں ایک نوجوان مینڈک رہتا تھا۔وہ باقی مینڈکوں کی طرح عام زندگی گزارنے پر راضی نہ تھا۔ اس کے دل میں بڑے بڑے خواب مچلتے رہتے تھے۔وہ اکثر پانی میں اپنا عکس دیکھتا اور سوچتا:“میں عام مینڈکوں جیسا نہیں ہوں۔ میری قسمت میں کچھ بڑا لکھا ہے!”ایک شام جب تمام مینڈک کنول کے پتوں پر بیٹھے گپ شپ کر رہے تھے، وہ اچانک ایک پتھر پر چڑھ گیا اور بلند آواز میں اعلان کیا:“سنو! ایک دن میں تم سب کا بادشاہ بنوں گا!”چند لمحوں کے لیے خاموشی چھا گئی۔پھر پورا تالاب قہقہوں سے گونج اٹھا۔ایک بوڑھا مینڈک ہنستے ہوئے بولا:“بھئی، تم بادشاہ کیسے بنو گے؟”دوسرا بولا:“کیا تمہارے پاس تاج ہے؟”تیسرا طنزاً بولا:“یا تم نے…

Read more

ایک بادشاہ کسی مہلک بیماری میں مبتلا ہوگیا، کافی دن علاج کرنے کے باوجود جب اسے آرام نہ آیا تو طبیبوں نے صلاح مشورہ کر کے کہا کہ اس بیماری کا علاج صرف انسان کے پِتّے سے کیا جاسکتا ہے اور وہ بھی ایسے انسان کے پِتّے سے جس میں فلاں فلاں خاص نشانیاں ہوں۔ یہ کہہ کر حکیموں نے وہ نشانیاں بتائیں اور بادشاہ نے حکم دے دیا کہ شاہی پیادے سارے ملک میں پھر کر تلاش کریں اور جس شخص میں یہ نشانیاں ہوں اسے لے آئیں۔ پیادوں نے فوراً تلاش شروع کر دی۔ خدا کا کرنا کیا ہوا کہ وہ ساری نشانیاں ایک غریب کسان کے بیٹے میں مل گئیں۔ پیادوں نے کسان کو ساری بات بتائی کہ بادشاہ کے علاج کے لیے تیرے بیٹے کے پِتّے کی ضرورت ہے۔ اسے ہمارے ساتھ بھیج دے اور اس کے بدلے جتنا چاہے روپیہ لے لے۔ کسان بہت غریب…

Read more

کہتے ہیں ایک سرسبز تالاب کے کنارے، جہاں کنول کے پھول صبح کی دھوپ میں مسکراتے تھے اور ہوا سرکنڈوں سے سرگوشیاں کرتی پھرتی تھی، ایک مینڈک اپنے خاندان کے ساتھ خوش و خرم زندگی گزارتا تھا۔اس کے کئی ننھے ننھے بچے تھے، جو پانی میں تیرتے، اچھلتے اور شام کو اپنے باپ کے گرد جمع ہو کر قصے سنتے تھے۔زندگی پُرسکون تھی۔پھر ایک دن تالاب کے کنارے ایک سانپ آ گیا۔عجیب دوستیسانپ خاموش مزاج تھا۔وہ نہ پھن پھیلاتا تھا، نہ کسی پر حملہ کرتا تھا۔ایک دن اس نے مینڈک سے کہا:“دوست بنو گے؟”مینڈک حیران ہوا۔“سانپ اور مینڈک؟”“کیوں نہیں؟”“لوگ کہتے ہیں تم ہمیں کھا جاتے ہو۔”سانپ نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا:“لوگ بہت کچھ کہتے ہیں۔”مینڈک کو بات اچھی لگی۔چند ہی دنوں میں دونوں میں دوستی ہو گئی۔وہ اکٹھے بیٹھتے، باتیں کرتے، اور شام کے وقت تالاب کے کنارے لمبی گفتگو کرتے۔دوسروں کی تنبیہتالاب کے دوسرے مینڈک پریشان…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک گاؤں میں ایک شخص رہتا تھا۔ اس کا روزگار ایک ہنر سے وابستہ تھا اور برسوں تک وہ اسی ہنر کے سہارے اپنا اور اپنے گھر والوں کا پیٹ پالتا رہا۔ مگر وقت بدلا، حالات بدلے اور گاؤں میں کام کم ہوتا گیا۔ آخر ایک دن اس نے سوچا کہ کیوں نہ پڑوس کے گاؤں کا رخ کیا جائے، شاید وہاں قسمت کوئی نیا دروازہ کھول دے۔صبح سویرے اس نے اپنا سامان باندھا، اپنے گدھے پر سوار ہوا اور سفر پر نکل پڑا۔ یہ گدھا اس کا پرانا ساتھی تھا۔ برسوں سے اس کے ساتھ تھا، اس لیے وہ اسے محض ایک جانور نہیں بلکہ اپنا وفادار دوست سمجھتا تھا۔چلتے چلتے وہ ایک دریا کے کنارے پہنچا جہاں لوگوں کو پار لے جانے کے لیے ایک بیڑی کھڑی تھی۔ وہ گدھے سمیت اس میں سوار ہونے لگا تو ملاح نے ایک نظر گدھے…

Read more

کہتے ہیں ایک سرسبز گاؤں کے کنارے ایک پرانا شہتوت کا درخت تھا، اور اس درخت کی سب سے اونچی شاخ پر ایک مرغ رہتا تھا۔یہ کوئی عام مرغ نہ تھا۔صبح سویرے اذانِ سحر کی طرح بانگ دیتا، دوپہر کو فلسفہ بگھارتا اور شام کو خود کو جنگل کا سب سے بڑا گلوکار سمجھتا تھا۔درخت کے نیچے ایک لومڑی بھی رہتی تھی۔چالاک، مکار، خوش زبان اور تعریفوں کے جال بننے میں ایسی ماہر کہ اگر چاہتی تو کانٹے دار جھاڑی کو بھی یقین دلا دیتی کہ وہ گلاب کا پھول ہے۔تعریفوں کا کاروبارہر صبح لومڑی درخت کے نیچے آتی اور نہایت ادب سے آواز دیتی:“مرغے بھائی!”مرغ اوپر سے گردن نکالتا۔“جی فرمایئے؟”لومڑی مسکراتی۔“آپ کی آواز تو ایسی ہے کہ بلبلیں بھی شرما جائیں۔”مرغ خوش ہو جاتا۔“واقعی؟”“بالکل! ذرا ایک نغمہ تو سنا دیجئے۔”مرغ بانگ دیتا۔اور جیسے ہی وہ اپنی موسیقی کے نشے میں مست ہوتا، لومڑی چھلانگ لگاتی۔مگر مرغ پھڑپھڑا کر دوسری…

Read more

ایک زمانے میں ایک دریا تھا۔نہ بہت چوڑا، نہ بہت تنگ۔مگر اتنا ضرور تھا کہ جو تیرنا نہ جانتا ہو، اس کے لیے وہ فلسفے کی آخری منزل ثابت ہو سکتا تھا۔اسی دریا کے کنارے ایک مینڈک رہتا تھا۔وہ نرم دل، خوش مزاج اور دوسروں کی مدد کرنے میں یقین رکھنے والا جانور تھا۔اس کا مسئلہ صرف ایک تھا:وہ ہر کسی کی بات پر جلدی یقین کر لیتا تھا۔ایک صبح وہ کنول کے پتے پر بیٹھا دھوپ سینک رہا تھا کہ ایک بچھو ہانپتا کانپتا اس کے پاس آیا۔بچھو کی فریاد“دوست مینڈک!”مینڈک نے چونک کر دیکھا۔“جی فرمائیے۔”بچھو نے دریا کی طرف اشارہ کیا۔“مجھے دوسری طرف جانا ہے۔”“تو جاؤ۔”“میں تیر نہیں سکتا۔”“تو پھر؟”“مجھے اپنی پیٹھ پر بٹھا کر پار کرا دو۔”مینڈک نے فوراً دو قدم پیچھے ہٹائے۔“معاف کرنا، مگر تم بچھو ہو۔”“تو؟”“تم مجھے ڈنگ مار دو گے۔”بچھو نے ایسا چہرہ بنایا جیسے اس کی شدید توہین ہو گئی ہو۔“ارے دوست! تھوڑا…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک سرسبز میدان کے کنارے ایک کسان رہتا تھا۔ ہر سال موسمِ سرما آتے ہی وہ اپنی زمین میں گاجریں بوتا۔ اس کی زمین ایسی زرخیز تھی کہ چند ہی ہفتوں میں ہرے پتوں کے نیچے نارنجی گاجریں زمین میں بھرنے لگتیں۔ مگر کسان کی فصل کا ایک اور بھی مداح تھا۔قریب کے جنگل میں خرگوشوں کی ایک بڑی آبادی رہتی تھی۔ جونہی گاجریں تیار ہوتیں، رات کے اندھیرے میں خرگوشوں کے جھنڈ آتے، خوب گاجریں کھاتے اور خوشی خوشی واپس لوٹ جاتے۔ کسان کئی بار انہیں دیکھتا، مگر نہ جال بچھاتا، نہ ڈنڈا اٹھاتا۔ وہ بس مسکرا کر کہتا: “اللہ کی زمین ہے، میرا بھی رزق ہے اور ان کا بھی۔” یوں کئی برس گزر گئے۔ہر سال کسان گاجریں اگاتا اور ہر سال خرگوش ان سے لطف اندوز ہوتے۔ ایک دن جنگل کے نوجوان خرگوشوں میں سے ایک نے کسان کو ایک نیا…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک تاجر دور دراز شہروں میں قیمتی ریشم، خشک میوہ جات اور خوشبودار مصالحے فروخت کیا کرتا تھا۔ ایک دن وہ اپنے گھوڑے پر سامان لادے ایک گھنے جنگل سے گزر رہا تھا۔ دوپہر کی دھوپ کافی تیز تھی اور سفر کی تھکن نے اسے نڈھال کر دیا تھا۔راستے میں ایک صاف و شفاف ندی بہتی نظر آئی۔تاجر نے سوچا کہ کیوں نہ چند لمحے آرام کر لیا جائے۔اس نے اپنا سامان ایک درخت کے نیچے رکھا اور پانی پینے کے لیے ندی کی طرف بڑھ گیا۔چند منٹ بعد جب وہ واپس لوٹا تو اس کے ہوش اڑ گئے۔اس کے قیمتی تھیلے، ریشم کی گٹھڑیاں اور مصالحوں کے ڈبے سب غائب تھے۔صرف ایک چھوٹا سا تھیلا زمین پر پڑا تھا۔تاجر پریشانی سے ادھر ادھر دیکھنے لگا۔اسی دوران اسے اوپر سے قہقہوں کی آواز سنائی دی۔اس نے سر اٹھا کر دیکھا تو درختوں پر بندروں…

Read more

ایک شادی شدہ جوڑا اپنی بہترین اور سکھی ازدواجی زندگی کے لیے مشھور تھا. ان دونوں میاں بیوی کے درمیان انکی 25 سالہ ازدواجی زندگی میں کسی جھوٹی سی بات پر بھی تکرار نہیں ہوئی تھی. لوگ ان کی اس محبت سے بھر پور ازدواجی زندگی کا راز جاننے کے لیے بے چین تھے…. ایک مرتبہ اس خوشگوار ازدواجی زندگی کا راز دریافت کرنے پر شوہر نے بتایا:ہماری شادی کے فورًا بعد ہم ہنی مون منانے ایک پُرفضا پہاڑی علاقہ میں گئے. وہاں ہم لوگوں نے گھڑ سواری کا پروگرام بنایا۔ میرا گھوڑا بالکل ٹھیک تھا لیکن میری بیوی کا گھوڑا تھوڑا نخرے والا تھا۔ اس نے دوڑتے دوڑتے اچانک میری بیوی کو گرا دیا۔میری بیوی اٹھی اور گھوڑے کی پیٹھ پر بڑے پیار سے ہاتھ پھیر کر کہا، “یہ پہلی بار ہے۔”اور دوبارہ اس پر سوار ہو گئی۔ تھوڑی دور چلنے کے بعد گھوڑے نے پھر اسے گرا دیا۔بیوی…

Read more

ایک شخص سخت پریشان حالت میں ایک حاجت مند کے پاس آیا اور بولا:“بھائی! مجھے تھوڑا سا شہد چاہیے، میری چھوٹی بیٹی شدید بیمار ہے، اس کا علاج شہد سے ممکن ہے۔” اس شخص نے افسوس سے جواب دیا:“میرے پاس اس وقت شہد موجود نہیں، لیکن آپ ایک کام کریں۔ شہر سے باہر شام کے ایک بڑے تجارتی قافلے کا گزر ہونے والا ہے۔ اس قافلے کا امیر بہت نیک اور سخی انسان ہے، مجھے یقین ہے وہ آپ کی مدد ضرور کرے گا۔” حاجت مند نے شکریہ ادا کیا اور امید لے کر قافلے کی طرف چل پڑا۔ کچھ وقت بعد قافلہ آتا ہوا دکھائی دیا۔ وہ فوراً آگے بڑھا اور قافلے کے امیر کے بارے میں پوچھا۔ لوگوں نے ایک نہایت باوقار اور روشن چہرے والے شخص کی طرف اشارہ کیا۔ وہ ان کے پاس گیا اور اپنی حاجت بیان کی:“میری بیٹی بیمار ہے، علاج کے لیے مجھے…

Read more

کسی جنگل میں ایک درخت پر کوے کا گھونسلا تھا۔کوے بہت ہنسی خوشی رہتے تھے اسی درخت کے نیچے ایک درخت کے تنے میں خرگوش بھی رہتا تھا۔جب بھی بارش اور سردی ہوتی تو خرگوش اس درخت میں چھپ جاتا اور شکاری جانوروں سے بھی محفوظ رہتا۔کوے اور خرگوش آپس میں بہت اچھے دوست تھے دونوں مشکل وقت میں ایک دوسرے کی مدد کرتے تھے۔ایک دن خرگوش جنگل میں کھانے کی تلاش میں نکلا تو ایک سانپ اس کے درخت کے تنے میں آ کر رہنے لگا خرگوش جب واپس اپنے گھر لوٹا اس نے دیکھا کہ درخت کے تنے میں سانپ ہے تو وہ بہت پریشان ہوا کہ اب کیسے اس سانپ سے چھٹکارا حاصل کرے سانپ کو بہت بھوک لگی تھی سانپ نے دیکھا درخت پر کوؤں کا گھونسلا ہے۔وہ اس درخت پر چڑھا اور گھونسلے سے کوؤں کے انڈے کھا گیا اور درخت سے نیچے آ کر…

Read more

20/612
NZ's Corner