Tag Archives: #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday

ایک گاؤں میں ایک بار سردیوں کی کالی رات میں ایک چور چوری کی نیت سے چوہدری صاحب کے ڈیرے میں داخل ہوا۔ بدقسمتی سے ابھی وہ تالا توڑنے ہی والا تھا کہ چوہدری کے کتے بھونکنے لگے اور ملازم جاگ گئے۔چور کی جان پر بن آئی، وہ بھاگ کر قریبی قبرستان میں گھس گیا۔ وہاں ایک پرانی ٹوٹی ہوئی قبر کے پاس سفید چادر پڑی تھی۔ اس نے سوچا کہ اگر پکڑا گیا تو کٹ لگے گی، اس لیے اس نے فوراً وہ چادر اوڑھی اور ایک کتبے کے پاس آلتی پالتی مار کر بیٹھ گیا اور آنکھیں بند کر لیں۔اتنے میں ملازم ٹارچیں لیے وہاں پہنچ گئے۔ جب انہوں نے اندھیرے میں سفید چادر پوش ہستی کو دیکھا تو ان کی سٹی پٹی گم ہوگئی۔ ایک ملازم تھر تھر کانپتے ہوئے بولا کہ بھائیو یہ تو کوئی پہنچے ہوئے بزرگ لگ رہے ہیں جو اس وقت عبادت میں…

Read more

ایک مرتبہ ایک شکاری کو جنگل میں عقاب کا ایک بچہ ملا جو اپنے گھونسلے سے گر گیا تھا۔ شکاری نے اسے لا کر اپنی مرغیوں کے ساتھ باڑے میں چھوڑ دیا۔ وہ بچہ مرغیوں کے درمیان پلا بڑھا، وہی کچھ کھاتا جو مرغیاں کھاتی تھیں اور زمین کھود کر دانے تلاش کرتا۔ وہ مرغیوں کی طرح ہی تھوڑا سا اڑتا اور واپس زمین پر آ گرتا۔ اسے پورا یقین تھا کہ وہ ایک مرغی ہے اور اس کی بساط بس اتنی ہی ہے۔ایک دن ایک ماہرِ پرندہ شناس وہاں سے گزرا اور اس نے عقاب کو مرغیوں میں چرتے دیکھا۔ اس نے کسان سے کہا کہ یہ پرندوں کا بادشاہ ہے، یہ زمین پر رہنے کے لیے نہیں بنا۔ کسان نے ہنس کر کہا کہ اب یہ مرغی بن چکا ہے، یہ کبھی نہیں اڑے گا۔ ماہر نے اسے ہاتھ پر اٹھا کر بلندی کی طرف اچھالا اور کہا…

Read more

ایک جنگل میں ایک بہت بڑا ریچھ قاضی (جج) مقرر کیا گیا۔ اس ریچھ کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ قانون کی کتاب کا بہت ماہر ہے، لیکن اس کی ایک آنکھ پر “پٹی” بندھی تھی جسے وہ اپنی مرضی سے کھولتا اور بند کرتا تھا۔ایک دن ایک غریب بکری روتی ہوئی عدالت میں آئی۔ اس کا الزام یہ تھا کہ ایک بھیڑیے نے اس کے بچوں کا راشن چھین لیا ہے اور اسے زخمی کر دیا ہے۔ریچھ نے بھیڑیے کو طلب کیا۔ بھیڑیا بہت آرام سے عدالت میں آیا، اس کے ساتھ دو لومڑیاں بطور وکیل تھیں۔ لومڑیوں نے عدالت میں ایسی ایسی بحث کی کہ قانون کی کتابیں کانپ اٹھیں۔ انہوں نے کہا:“حضور! بھیڑیے نے جو کیا وہ تو ‘ضرورتِ وقت’ (Doctrine of Necessity) کے تحت تھا۔ اور ویسے بھی، بکری کے پاس کیا ثبوت ہے کہ وہ راشن اس کا تھا؟ کیا اس نے راشن کارڈ…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک جنگل میں بندروں کی حکومت آگئی۔ ان بندروں کا سردار بہت خوش اخلاق اور اچھا تقریر باز تھا۔ اس نے جانوروں سے وعدہ کیا کہ وہ جنگل کو “پیرس” بنا دے گا اور ہر طرف پھلوں کے باغ ہوں گے۔لیکن بندر سردار کا ایک مسئلہ تھا؛ وہ محنت کرنے کے بجائے شارٹ کٹ پر یقین رکھتا تھا۔ اس نے پھل اگانے کے بجائے دوسرے طاقتور جنگل کے گدھوں سے دوستی کر لی۔گدھوں نے بندر کو پیشکش کی: “تمہیں محنت کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ ہم تمہیں بنے بنائے پھل دیں گے، بس تم بدلے میں اس جنگل کی لکڑی اور زمین ہمارے نام لکھ دو اور ہم سے ‘قرضہ’ لے لو۔”بندر نے یہ سوچے بغیر کہ واپسی کیسے ہوگی، بہت سارا قرضہ لے لیا۔ اس نے کچھ پیسہ تو جنگل کی سجاوٹ (دکھاوے کے منصوبوں) پر خرچ کیا اور باقی سارا پیسہ اپنی…

Read more

ایک جنگل میں ایک شیر بادشاہ تھا۔اس نے شکار اور پانی کی نگرانی ایک لومڑی کے سپرد کی،کیونکہ وہ چالاک اور زبان کی تیز تھی۔ شروع میں لومڑی ایماندار تھی،سب جانور وقت پر پانی پیتے،اور کوئی بھوکا نہیں سوتا تھا۔ مگر آہستہ آہستہلومڑی نے پانی کے چشمے پر اپنا قبضہ جما لیا۔جو جانور تحفہ دیتا،اسے زیادہ پانی ملتا۔ لومڑی شیر کو رپورٹ دیتی:“حضور! سب جانور برابر فائدہ اٹھا رہے ہیں۔” شیر یقین کر لیتا۔ ایک دن سخت گرمی پڑی۔چشمہ خشک ہونے لگا۔کمزور جانور پیاس سے نڈھال ہو گئے۔ ایک ہرن ہمت کر کے شیر کے پاس گیا اور سچ بتا دیا۔شیر نے خود جا کر چشمہ دیکھاتو حقیقت سامنے آ گئی۔ شیر نے لومڑی کو معزول کر دیااور اعلان کیا:“امانت داری کے بغیر عقل خطرناک ہوتی ہے۔” جنگل میں پھر انصاف قائم ہوااور پانی سب کو برابر ملا۔ اخلاقی سبق (Moral): جو امانت میں خیانت کرے،وہ صرف دوسروں کو نہیںآخرکار…

Read more

سلطان محمود غزنوی کے پاس ایک شخص آیا اور ایک چکور پیش کیا، جس کا ایک پاٶں نہیں تھا۔جب سلطان نے اس کی قیمت پوچھی، مالک نے اسے بہت مہنگا بتا دیا۔ حیران ہو کر سلطان نے پوچھا:“یہ چکور ایک پاٶں سے محروم ہے، پھر اتنی مہنگی کیوں؟”مالک نے بتایا:“جب ہم شکار پر جاتے ہیں، یہ چکور ساتھ لے جاتا ہوں۔ جال کے پاس پہنچ کر اسے باندھتا ہوں تو یہ عجیب سی آوازیں نکالتا ہے، اور بہت سارے چکور اس کی آواز پر آ جاتے ہیں، جنہیں میں پکڑ لیتا ہوں۔”سلطان محمود نے فوراً چکور کی قیمت ادا کی اور اسے سر تن سے جدا کر دیا۔مالک حیران ہو کر پوچھا:“اتنی قیمت دینے کے باوجود اسے کیوں مارا؟”سلطان محمود نے فرمایا:“جو دوسروں کی دلالی کے لیے اپنے اپنوں اور اپنے وطن کو بھیجتا ہے، اس کا انجام یہی ہونا چاہیے۔”👑 انصاف کی طاقت اور وطن کی حرمت کا سبق

حضرت شیخ سعدی بیان کرتے ہیں، میرے جاننے والوں میں ایک منشی روزگار نہ ملنے سے بہت پریشان تھا۔ ایک دن وہ میرے پاس آیا اور اپنا حال بیان کرنے کے بعد کہا کہ بادشاہ کے دربار میں آپ کی رسائی ہے۔ کسی عہدیدار سے کہہ سن کر کوئی کام دلوادیں۔ اس کی بات سن کر میں نے کہا: بھائی ، بادشاہوں کی ملازمت خطرے سے خالی نہیں ہوتی۔ نان ہاتھ آنے کی امید کے ساتھ جان جانے کا امکان بھی ہوتا۔میں نے یہ نصیحت اس کی بھلائی کے خیال سے کی تھی لیکن اس نے خیال کیا کہ میں اسے ٹالنے کی کوشش کررہا ہوں۔ کہنے لگا،یہ بات ٹھیک ہوگئی لیکن جو لوگ ایمانداری اور محنت سے اپنا کام کریں انھیں ڈرنے کی کیا ضرورت ہے !آپ نے سنا ہوگا کہ میلے کپڑے ہی کو دھوبی پٹرے پر مارتا ہے۔ میں نے اسے پھر سمجھایا کہ تو ٹھیک کہتا…

Read more

جنگل کا ایک زمانہ تھا جب بوڑھا شیر اس کا بے تاج بادشاہ تھا۔ طاقت اب پہلے جیسی نہ رہی تھی، مگر رعب باقی تھا۔ شیر نے شکار چھوڑ دیا تھا اور اب دربار لگا کر فیصلے کیا کرتا۔ جنگل کے جانور روز آتے، سلام کرتے اور تعریفوں کے پل باندھتے۔ خاص طور پر لومڑیاں ہر وقت شیر کے گرد رہتیں۔“حضور جیسا انصاف کسی نے نہیں دیکھا!”“آپ کی دانائی کی مثال نہیں!” شیر یہ سب سن کر خوش ہوتا اور انہیں قریب رکھتا۔ ایک دن ہرن لنگڑاتا ہوا آیا۔ اس نے فریاد کی کہ لومڑیوں نے اس کے بچوں کا شکار کر لیا ہے۔ شیر نے لومڑیوں کی طرف دیکھا۔ لومڑیوں نے فوراً کہا:“یہ جھوٹ بول رہا ہے۔ یہ تو حضور کی عظمت سے جلتا ہے۔” شیر نے تحقیق کی زحمت نہ کی۔ ہرن کو دربار سے نکال دیا گیا۔ وقت گزرتا گیا۔ لومڑیوں نے پورے جنگل میں لوٹ مار…

Read more

دامس، اسے ابولہول کی کنیت سے پکارا جاتا تھا۔ لمبا قد، انتہائی سیاہ رنگ، ایسی سیاہی کہ دنیا نے شاید ہی کوئی اتنا سیاہ انسان دیکھا ہوگا۔ جب سواری کے جانور پر بیٹھتا تو ٹانگیں گھسٹی ہوئی جاتی تھیں۔ ملوکِ کندہ میں سے بنی ظریف کے اس کی غلام کی ہیبت و شجاعت زبان زد عام تھی۔ لوگوں کی مجلسوں میں اس کی بہادری اور چالاکی کے قصے سنائے جاتے تھے۔ واقدی کہتے ہیں جن دنوں مسلمان حلب کے قلعے کو فتح کرنے کی کوشش میں مصروف تھے ان دنوں ابولہول بھی اپنے پانچ سو ساتھیوں کے ساتھ مسلمانوں سے آ ملا اور اس نے بڑی بہادری سے جنگی کارروائیوں میں نمایاں حصہ لیا۔۔۔۔۔۔۔“لوگو! امیر محترم کا حکم ہے کہ اپنے اپنے خیمے سمیٹو اور چلو!” لوگوں نے جب یہ اعلان سنا تو سب اپنے اپنے خیمے اکھیڑ کر چل پڑے۔ پورا اسلامی لشکر قلعے کا محاصرہ ختم کرکے چل…

Read more

ایک گاؤں کے قریب گھنا جنگل تھا۔ اس جنگل میں ایک پرانا کنواں تھا جس کے پاس ایک اندھا سانپ رہتا تھا۔ سانپ زہریلا تو تھا مگر نابینا ہونے کی وجہ سے کسی کو نقصان نہیں پہنچاتا تھا۔ وہ کنویں کے کنارے دھوپ میں پڑا رہتا اور اللہ کا شکر ادا کرتا۔ ایک دن ایک لکڑہارا جنگل میں لکڑیاں کاٹتے کاٹتے کنویں کے پاس آ پہنچا۔ جب اس نے اندھے سانپ کو دیکھا تو ڈر کے مارے پیچھے ہٹ گیا۔ مگر سانپ نے نہ کوئی حرکت کی، نہ پھنکارا۔لکڑہارے نے ہمت کر کے پوچھا:“کیا تم مجھے نقصان پہنچاؤ گے؟” سانپ نے نرم آواز میں جواب دیا:“میں اندھا ہوں اور کسی کو تکلیف نہیں دیتا۔ تم بے فکر ہو جاؤ۔” لکڑہارے کو ترس آ گیا۔ وہ روزانہ کام کے بعد سانپ کے لیے دودھ رکھ جایا کرتا۔ کچھ عرصے بعد سانپ نے کہا:“تم نے مجھ پر احسان کیا ہے۔ بدلے میں…

Read more

ایک اونچے درخت پر ایک نوجوان باز رہتا تھا۔تیز، طاقتور، اور خود پر نازاں۔ درخت کی جڑوں میں ایک بوڑھا سانپ رہتا تھا۔زہر کمزور، جسم تھکا ہوا، مگر آنکھیں زندہ۔ باز روز نیچے دیکھ کر ہنستا:“تم زمین سے بندھے ہو، میں آسمان کا مالک ہوں۔” سانپ کچھ نہ کہتا۔ ایک دن شکاری جنگل میں آئے۔انہوں نے جال بچھائے—آسمان میں بھی، زمین پر بھی۔ باز اپنی رفتار کے غرور میں جال نہ دیکھ سکا۔پھڑپھڑاتا رہا… چیختا رہا۔ سانپ جال کے نیچے سے خاموشی سے نکل گیا۔ سبق:طاقت وقت کے ساتھ ختم ہو جاتی ہے،مگر سمجھ وقت کے ساتھ بڑھتی ہے۔

451/451
NZ's Corner