بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

ایک مرتبہ کا ذکر ہے، بادشاہ اورنگ زیب  کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور عرض کیا:
“بادشاہ سلامت! مجھے خبر ملی ہے کہ آپ کے دربار میں اہلِ فن کی بہت قدر کی جاتی ہے؟”

بادشاہ سلامت نے فرمایا:
“ہاں! بالکل، اہلِ فن کی قدر کرنی چاہیے اور ہمارے ہاں یہ قدر کی جاتی ہے۔”

اس شخص نے کہا:
“عالی جناب! میں ایک بہروپیا ہوں، مجھے اللہ پاک نے یہ صلاحیت دی ہے کہ میں کوئی بھی روپ دھار لیتا ہوں اور سامنے والا مجھے پہچان نہیں پاتا۔”

بادشاہ اورنگ زیب رَحمۃُ اللہ علیہ نے کہا:
“ٹھیک ہے، تم اپنا فن مجھے دکھاؤ! جس دن تم ایسا روپ دھار لو کہ میں تمہیں نہ پہچان سکوں، اس دن تمہیں انعام دوں گا۔”

چند دن گزرے، بادشاہ سلامت بیمار ہو گئے۔ پورے ملک میں خبر پھیل گئی۔ ایک دن دربان نے عرض کیا:
“عالی جاہ! آپ کے بیمار ہونے کی خبر ایران تک پہنچی ہے، شاہِ ایران نے علاج کے لیے طبیب بھیجا ہے، حکم ہو تو اسے حاضر کروں۔”

بادشاہ نے اجازت دی۔ تھوڑی دیر بعد طبیب صاحب دربار میں آئے، بڑا سا جُبہ پہنا، سر پر بھاری دستار باندھی اور پیچھے غلاموں کی قطار، جنہوں نے دوائیاں اُٹھا رکھی تھیں۔

جب طبیب نے ہاتھ جوڑے اور سلام عرض کیا تو بادشاہ سلامت نے مسکرا کر فرمایا:
“میں نے تمہیں پہچان لیا، تم طبیب نہیں، وہی بہروپیا ہو۔”
بیچارے بہروپیا کو شرمندگی ہوئی اور دوبارہ کوشش کرنے کا کہا۔

چند دن بعد عید الفطر کا دن آیا۔ عید کی نماز کے بعد دربار لگا، بادشاہ سلامت تخت پر تشریف فرما، اردگرد سے تحفے پیش کیے جانے لگے۔ اسی دوران ایک قاصد آیا اور کہا:
“عالی جاہ! ہمارے بادشاہ نے آپ کے لیے ایک انمول ہیرا بھیجا ہے۔”
بادشاہ سلامت نے پھر کہا:
“میں نے تمہیں پہچان لیا، تم وہی بہروپیا ہو۔”
بیچارے نے دل میں عزم کیا کہ اب ایسا روپ دھاروں گا کہ بادشاہ ہرگز پہچان نہ پائیں۔

کافی دن گزر گئے۔ ایک دن بادشاہ سلامت لشکر کے ساتھ جنگ کے لیے روانہ ہوئے۔ راستے میں جہاں جہاں کسی ولی کامل کا مزار آیا، بادشاہ سلامت لشکر کو روکتے، مزار پر ادب سے حاضری دیتے اور فاتحہ پڑھ کر آگے بڑھتے۔

چلتے چلتے ایک پہاڑی علاقے میں پہنچے، جہاں ہزاروں لوگ اکٹھے تھے۔ معلوم ہوا کہ ایک نیک بندہ اس پہاڑ کی غار میں رہتا ہے، جو ہر وقت اللہ کی یاد میں مشغول ہیں۔ بادشاہ سلامت بھی زیارت کے شوق میں رکے، رات وہیں گزری اور صبح تازہ غسل، نئے کپڑے پہن کر نیک بندہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔

بابا جی آنکھیں بند کیے بیٹھے تھے۔ بادشاہ سلامت قریب جا کر بیٹھ گئے، کافی دیر بیٹھے، لیکن بابا جی نے آنکھ نہ کھولی۔ بادشاہ متاثر ہوئے۔ وقت کا بادشاہ آیا، انہیں کوئی پرواہ نہ تھی، بس اللہ کی طرف منہمک بیٹھے تھے۔

واپسی کا ارادہ ہوا تو بادشاہ سلامت نے ادباً قدم چومنے کی نیت سے آگے بڑھایا، لیکن بابا جی نے ہاتھ پکڑ کر کہا:
“بس! بادشاہ سلامت، میں جیت گیا، اس بار آپ مجھے پہچان نہ پائے!”
بادشاہ حیران رہ گئے کہ وہ جسے نیک بزرگ سمجھ رہے تھے، وہی بہروپیا تھا۔

بادشاہ سلامت نے اشرفیوں کی تھیلی نکالی اور کہا:
“اب واقعی تم جیت گئے، یہ تمہارا انعام!”
لیکن بہروپیا نے ادب سے کہا:
“بادشاہ سلامت! اب مجھے ان سکوں کی ضرورت نہیں، میں کوئی نیک آدمی نہیں، بس چند دن نیک لوگوں کی مشابہت کی۔ اس برکت سے اللہ نے آپ کے قدم میرے سامنے کھڑا کر دیا۔ اگر واقعی نیک لوگوں کے راستے پر چلوں تو اللہ کی کرم نوازیاں ہوں گی۔”

یہ کہہ کر وہ بہروپیا اللہ کی عبادت کے لیے جنگل کی طرف روانہ ہو گیا۔

اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگے تو مجھے فالو ضرور کریں۔

Leave a Reply

NZ's Corner