Tag Archives: #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday

ایک بار ایک دیہاتی اپنے شہر والے دوست سے ملنے آیا جو بہت بڑا کنجوس تھا۔ دیہاتی خالی ہاتھ نہیں آیا، بلکہ اپنے ساتھ تحفے کے طور پر ایک موٹی تازی “مرغابی” (پرندہ) لے کر آیا۔کنجوس میزبان بہت خوش ہوا۔ اس نے مرغابی پکائی اور دونوں نے مزے سے کھائی۔ اگلے دن، کچھ اجنبی لوگ کنجوس کے گھر آ دھمکے اور کھانے کا مطالبہ کیا۔کنجوس نے پوچھا: “تم کون ہو؟”انہوں نے کہا:“ہم آپ کے اس دوست کے ‘دوست’ ہیں جو کل آپ کے لیے مرغابی لے کر آیا تھا۔”کنجوس نے کچھ نہیں کہا اور انہیں کل کی بچی ہوئی مرغابی کا “شوربہ” (سالن کا پانی) پلا دیا۔ تیسرے دن، کچھ اور لوگ آ گئے اور بولے:“ہم آپ کے اس دوست کے دوست کے ‘ہمسائے’ ہیں جو مرغابی لایا تھا۔”کنجوس نے انہیں بھی جیسے تیسے کچھ کھلا کر ٹال دیا۔ چوتھے دن، حد ہو گئی۔ 10، 12 لوگ کنجوس کے گھر…

Read more

یہ اس دور کا ذکر ہے جب بنی اسرائیل نے اپنی آنکھوں سے سمندر کو پھٹتے دیکھا تھا۔ فرعون غرق ہو چکا تھا۔ لاجک کہتی ہے کہ ان کا ایمان اتنا پکا ہونا چاہیے تھا کہ کوئی ہلا نہ سکے۔ لیکن ہوا کیا؟ حضرت موسیٰ علیہ السلام صرف چالیس راتوں کے لیے کوہِ طور پر گئے۔ پیچھے ایک شخص تھا، سامری۔ اس شخص نے قوم کی سائیکالوجی کو سمجھا۔ اس نے دیکھا کہ یہ لوگ دکھاوے اور آواز سے متاثر ہونے والے ہیں۔ اس نے زیورات پگھلا کر سونے کا ایک بچھڑا بنایا جس میں سے ہوا گزرتی تھی تو آواز آتی تھی۔ سامری نے ایک بیانیہ یا نیریٹو سیٹ کیا کہ یہ تمہارا خدا ہے۔ اور حیرت کی بات دیکھیں! وہ قوم جس نے ابھی خدا کا معجزہ دیکھا تھا، وہ ایک اسٹیچو کے آگے سجدے میں گر گئی۔ یہ تاریخ کا سب سے بڑا ماس برین واشنگ کا…

Read more

حشاشین (Assassins) جس کو باطنیان بھی کہتے ہیں۔ایک دہشت پسند اور خفیہ جماعت تھی جس کی بنیاد حسن بن صباح نے رکھی۔ اور انکا مرکز” الموت” میں قلعہ الموت تھا۔ اس جماعت کا خاتمہ ہلاکو خان کے ہاتھوں ہوا۔ جس نے قلعہ الموت کو فتح کرکے حسن بن صباح کے آخری جانشین رکن الدین کو گرفتار کرلیا اور ہزاروں فدائیوں کو بڑی بے رحمی سے قتل کر دیا۔قلعہ الموت (Alamut Castle) بحیرہ قزوین کے نزدیک صوبہ جیلان، ایران میں ایک پہاڑی قلعہ تھا۔ یہ موجودہ تہران، ایران سے تقریبا 100 کلومیٹر (60 میل) کے فاصلے پر ہے۔ حسن بن صباح کی قیادت میں یہ دہشت پسند اور خفیہ جماعت حشاشین (Assassins) کا مرکز رہا۔ اس قلعہ اور جماعت کا خاتمہ ہلاکو خان کے ہاتھوں ہوا۔حشاشین کی ابتدا کے شواہد 1080ء میں ملتے ہیں۔ حشاشین کے ماخذ کے بارے میں معلومات حاصل کرنا ایک دشوار کا م ہے کیونکہ زیادہ تر…

Read more

ایک سلطنت میں ایک طاقتور بادشاہ حکومت کرتا تھا۔اس کے پاس سب کچھ تھا—دولت، فوج، اختیار۔لیکن اس کی سب سے قیمتی چیز اس کی بیٹی، شہزادی تھی۔شہزادی نہایت ذہین اور نرم دل تھی۔وہ محل کی اونچی دیواروں سے باہر کی دنیا دیکھنا چاہتی تھی،لوگوں کے دکھ سمجھنا چاہتی تھی۔ایک دن اس نے باپ سے کہا:“ابا جان، میں رعایا کے درمیان جانا چاہتی ہوں،دیکھنا چاہتی ہوں کہ لوگ کیسے جیتے ہیں۔”بادشاہ نے سختی سے منع کر دیا:“بادشاہوں کی بیٹیاں سوال نہیں کرتیں،وہ صرف حکم مانتی ہیں۔”شہزادی خاموش ہو گئی،مگر اس کی آنکھوں میں سوال زندہ رہے۔کچھ دن بعد سلطنت میں قحط آیا۔لوگ بھوکے مرنے لگے۔بادشاہ کو خبر ملی،مگر اس نے سوچا:“یہ مسئلہ خزانے سے حل ہو جائے گا۔”شہزادی نے کہا:“ابا جان، خزانہ کافی نہیں،لوگوں کو صرف روٹی نہیں،عدل اور توجہ بھی چاہیے۔”بادشاہ نے پہلی بار بیٹی کی بات سنی نہیں—اور نقصان بڑھتا گیا۔آخرکار بادشاہ خود بھیس بدل کر شہر گیا۔جو کچھ…

Read more

ایک طاقتور بادشاہ دنیا کو فتح کرنے کے ارادے سے نکلا۔ اس کے لشکر کی گرد سے زمین کانپتی تھی، نیزوں کی چمک سورج کو چیلنج دیتی تھی، اور اس کے نام سے بادشاہوں کے دل دہل جاتے تھے۔ مگر تقدیر نے اسے ایک ایسی بستی سے گزارا جو دنیا کے ہنگاموں سے بالکل بے خبر تھی۔یہ افریقہ کی ایک چھوٹی سی بستی تھی۔ نہ فصیل، نہ فوج، نہ قلعہ۔ لوگ سادہ تھے، دل صاف، اور زندگی حیرت انگیز حد تک پُرسکون۔ یہاں کے باشندے جنگ کے مفہوم سے ناواقف تھے۔ وہ فاتح اور مفتوح کے فرق کو نہیں جانتے تھے، کیونکہ انہوں نے کبھی کسی کو مغلوب ہوتے نہیں دیکھا تھا۔جب بادشاہ اس بستی میں داخل ہوا تو لوگوں نے اسے دشمن نہیں بلکہ مہمان سمجھا۔ اسے احترام کے ساتھ اپنے سردار کی جھونپڑی میں لے گئے۔ وہی جھونپڑی ان کی مجلس بھی تھی، عدالت بھی، اور فیصلے کا…

Read more

پھجے میاں نے اس شام ایک پرانی ڈراؤنی فلم دیکھی تھی جس میں ایک جن درختوں پر الٹا لٹک کر لوگوں کو ڈراتا تھا۔ بس پھر کیا تھا، رات کے دو بجے پھجے میاں کے اندر کا “خفتہ جن” بیدار ہو گیا۔ وہ نیند میں ہی بستر سے ایسے اٹھے جیسے کوئی بجلی لگی ہو، ان کی آنکھیں آدھی کھلی تھیں اور وہ عجیب و غریب غراہٹ والی آوازیں نکال رہے تھے۔انہوں نے اپنی سفید چادر کو سر سے پاؤں تک ایسے لپیٹا کہ وہ سچ مچ کا ایک لمبا تڑنگا سایہ لگنے لگے۔ پھجے میاں نے دبے پاؤں چلنا شروع کیا اور کچن سے ایک کالا کڑاہا اٹھا کر اسے اپنے چہرے کے آگے کر لیا۔ اب وہ کمرے میں سوئے ہوئے اپنے کزن شفیق کے سرہانے جا کھڑے ہوئے اور ایک ایسی آواز نکالی جیسے کوئی پرانا دروازہ چڑچڑا رہا ہو۔ شفیق کی جیسے ہی آنکھ کھلی، اس…

Read more

کتا لاٹھی کو دیکھتا ہے،بھیڑیا اُس ہاتھ کو دیکھتا ہے جو لاٹھی تھامے ہوئے ہے،اور لومڑی آنکھوں میں دیکھتی ہے۔یہ حکمت جانوروں کے بارے میں نہیں،بلکہ انسانوں کے شعور کی مختلف سطحوں کو بے نقاب کرتی ہے۔کتا صرف آلے کو دیکھتا ہے؛ظاہر ہونے والے عمل میں اُلجھ جاتا ہے،لاٹھی پر حملہ کرتا ہےاور یہ بھول جاتا ہے کہ اسے کس نے حرکت دی۔یہ اُن لوگوں کی مثال ہےجو صرف ردِّعمل میں جیتے ہیں،نتائج پر غصہ کرتے ہیںمگر اسباب سے غافل رہتے ہیں۔بھیڑیا نظر میں کچھ گہرا ہے؛وہ فاعل کو دیکھتا ہے،سمجھتا ہے کہ نقصان کہاں سے آیا،لیکن پھر بھی براہِ راست ٹکراؤ کا قیدی ہے،طاقت کے مقابل طاقت۔اور رہی لومڑی،تو وہ آنکھوں میں دیکھتی ہے؛حرکت سے پہلے نیت کو،عمل سے پہلے فیصلے کو،اور لاٹھی بننے سے پہلے خیال کو پڑھ لیتی ہے۔یہیں سے اصل ذہانت شروع ہوتی ہے:کہ تم اُس چیز کو پڑھ سکوجو ابھی ہوئی ہی نہیں۔قدیم حکمت خاموشی…

Read more

چنگیز خان نے اپنی وفات سے پہلے اپنی وسیع و عریض سلطنت کو اپنے چار بیٹوں: جوجی خان، اوقطائی خان، چغتائی خان اور تولی خان کے درمیان تقسیم کر دیا تھا۔   جوجی خان (بڑا بیٹا): اسے بحیرہ قزوین کے شمالی علاقے، بلغار اور قفقاز (Caucasus) کا حصہ ملا۔ تاہم، جوجی خان اپنے والد کی زندگی ہی میں وفات پا گیا، چنانچہ اس کی وراثت اس کے بیٹے باتو خان کو ملی۔ باتو خان نے ایک بڑی مہم کی قیادت کی اور مشرقی سمت سے یورپ پر حملہ آور ہوا۔   تولی خان: اسے منگولیا کی سرزمین ملی، جو بعد میں اس کے بیٹے ہلاکو خان کے حصے میں آئی۔ ہلاکو خان نے ایک عظیم لشکر کے ساتھ فارس (ایران) کو فتح کیا اور پھر بغداد کی طرف بڑھا، جہاں اس نے عباسی خلیفہ کو شہید کیا اور پھر شام و مصر کی طرف پیش قدمی کا ارادہ کیا۔ برکہ…

Read more

اصل مسئلہ کیا ہے ؟کیا آپ جانتے ہیں کہ جیفری ایپسٹین کا وہ جزیرہ کیا راز چھپائے ہوئے تھا جس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا؟ مکمل تفصیل اس تحریر میں پڑھیں۔جیفری ایپسٹین: ایک عالمی شیطان کا عبرت ناک انجام اور ادھورے سچ آج کل انٹرنیٹ پر ایپسٹین فائلز کے چرچے ہیں، اور ہر طرف بڑے بڑے ناموں کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ لیکن یہ پورا معاملہ ہے کیا؟ وہ کون تھا جس نے دنیا کے طاقتور ترین لوگوں کو اپنے قدموں میں جھکا رکھا تھا اور اس کا “جزیرہ” کیا راز چھپائے ہوئے تھا؟ آئیے حقائق کی گہرائی میں اترتے ہیں۔ جیفری ایپسٹین کون تھا؟ جیفری ایپسٹین ایک امریکی ارب پتی فنانسر تھا، جس کے بارے میں لوگ جانتے تو کم تھے لیکن اس کا اثر و رسوخ وائٹ ہاؤس سے لے کر برطانوی شاہی محل تک پھیلا ہوا تھا۔ وہ ایک ایسی شخصیت تھی جس…

Read more

ایک دن ایک بطخ اپنے ننھے منے بچوں کے ساتھ جھیل کی طرف جا رہی تھی۔ بچے بہت خوش تھے اور اپنی ماں کے پیچھے پیچھے کواک کواک کرتے ہوئے مزے سے چل رہے تھے کہ اچانک ماں بطخ کی نظر دور کھڑی ایک لومڑی پر پڑی۔ وہ سہم گئی اور فوراً چلائی، “بچوں! جلدی سے جھیل کی طرف بھاگو، وہاں لومڑی ہے!” جب بچے جھیل کی طرف بھاگے تو ماں بطخ نے انہیں بچانے کے لیے ایک انوکھی چالاکی سوچی؛ اس نے زمین پر اپنے پر گھسیٹنے شروع کر دیے جیسے وہ زخمی ہو اور اڑ نہ سکتی ہو۔ لومڑی یہ دیکھ کر نہال ہو گئی کہ آج تو آسان شکار ہاتھ لگا ہے اور وہ تیزی سے بطخ کی طرف لپکی۔ ماں بطخ نے لومڑی کو اپنے پیچھے لگائے رکھا اور اسے جھیل سے بہت دور لے گئی تاکہ اس کے بچے محفوظ ہو جائیں۔ جیسے ہی اس…

Read more

جب ملا نصیرالدین اپنے گھر کے دروازے پر پہنچے تو حسبِ عادت مڑے کہ گدھے کو اندر لے آئیں، مگر پیچھے جو منظر دیکھا اُس نے ان کے قدموں تلے زمین ہلا دی۔ رسی کے دوسرے سرے پر گدھا نہیں بلکہ ایک آدمی کھڑا تھا، جس کی گردن میں رسی پڑی ہوئی تھی اور وہ معصومیت سے ملا کو دیکھ رہا تھا۔ملا نے آنکھیں ملیں، پھر غور سے دیکھا۔“یا اللہ خیر! یہ کیا ماجرا ہے؟ میرا گدھا کہاں گیا؟”وہ آدمی فوراً ہاتھ جوڑ کر بولا،“ملا صاحب! گھبرائیے مت، میں ہی آپ کا گدھا ہوں۔”ملا نے حیرت سے پوچھا،“یہ کیسی بات کر رہے ہو؟ انسان گدھا کیسے بن سکتا ہے؟”وہ شخص رونے کی صورت بنا کر کہنے لگا،“ملا صاحب، یہ سب میرے برے اعمال کا نتیجہ ہے۔ میں اپنی ماں کی نافرمانی کرتا تھا، اس کی بددعاؤں سے مجھے سزا ملی اور میں گدھا بنا دیا گیا۔ آج کئی سال بعد…

Read more

رات گہری ہو چکی تھی۔دریائے ماریسا کا پانی سیاہی مائل اندھیرے میں خاموشی سے بہہ رہا تھا، جیسے آنے والے طوفان سے بے خبر ہو۔ سرد ہوا خیموں کے پردوں سے ٹکراتی تو شعلوں کی روشنی لرز جاتی۔ سربیائی لشکر کے خیمے دور تک پھیلے تھے—ایک ایسا سمندر جو اپنی کثرت پر نازاں تھا۔بادشاہ وکاشین اپنے خیمے میں نقشے پر جھکا کھڑا تھا۔“عثمانی؟” وہ طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ بولا،“چند ہزار سپاہی… کل صبح سورج نکلنے سے پہلے سب قصہ تمام ہو جائے گا۔”اس کے برابر کھڑا یووان اوگلیشا لمحہ بھر کو خاموش رہا۔ باہر سپاہیوں کی ہنسی اور شراب کے جاموں کی آوازیں آ رہی تھیں۔“بھائی، دشمن کو کبھی کمزور نہ سمجھو…”وکاشین نے ہاتھ جھٹک دیا۔“ہم پچاس ہزار ہیں۔ وہ کیا کر لیں گے؟”دوسری طرف…کچھ ہی فاصلے پر، اندھیرے میں لپٹی عثمانی فوج خاموش کھڑی تھی۔کوئی شور نہیں، کوئی ہنسی نہیں۔صرف گھوڑوں کی مدھم سانسیں اور فولاد کی سرسراہٹ۔کمانڈر لالا…

Read more

یہ واقعہ ایک ایسے صاحب کا ہے جنہیں نیند میں چلنے اور بولنے کی بیماری تھی، لیکن ان کی اس بیماری نے پورے محلے کو ایک رات “توبہ” کرنے پر مجبور کر دیا۔ ان کا نام کریم بخش تھا، مگر محلے والے انہیں “کریموں مراقبہ” کہتے تھے کیونکہ وہ اکثر چلتے چلتے کہیں بھی کھڑے کھڑے سو جاتے تھے۔ایک دفعہ گرمیوں کی رات تھی، کریم صاحب اپنی چھت پر سو رہے تھے۔ اچانک ان کا “خوابوں والا انجن” اسٹارٹ ہوا اور وہ نیند ہی میں اٹھ کر چل دیے۔ اتفاق سے اس رات محلے کے چوہدری صاحب کے گھر چوری کی واردات ہوئی تھی اور پورے محلے کے مرد لاٹھیاں لے کر گلیوں میں پہرہ دے رہے تھے۔کریم صاحب سفید لٹھا پہن کر، آنکھیں بند کیے، ہاتھ لہراتے ہوئے گلی میں آئے تو پہرہ دینے والے نوجوانوں کی جان نکل گئی۔ ایک تو آدھی رات کا وقت، اوپر سے کریم…

Read more

ایک دفعہ پیٹو خان کے پڑوسی کے ہاں دعوت تھی مگر پیٹو خان کو وہاں مدعو نہیں کیا گیا تھا۔ وہ اس بات پر بہت اداس ہوئے اور کھانا کھانے کا کوئی نہ کوئی راستہ ڈھونڈنے لگے۔ انہوں نے ایک پرانی شیروانی پہنی، سر پر بڑی سی پگڑی باندھی اور ہاتھ میں ایک تسبیح پکڑ کر حکیم صاحب کا روپ دھار لیا۔ وہ سیدھے پڑوسی کے گھر پہنچ گئے جہاں مہمان جمع تھے۔لوگوں نے جب ایک اجنبی بزرگ کو دیکھا تو سمجھے کہ کوئی بڑے پہنچے ہوئے حکیم صاحب ہیں۔ پیٹو خان نے ایک صوفے پر ڈیرہ جمایا اور زور سے اعلان کیا کہ میں شہر کا مشہور حکیم ہوں اور میں صرف ان لوگوں کا علاج کرتا ہوں جو کھانا کھانے سے پہلے مجھ سے مشورہ کرتے ہیں۔میزبان نے ڈرتے ڈرتے پوچھا کہ حکیم صاحب آج کھانے میں کیا ہونا چاہیے جو صحت کے لیے مفید ہو۔ پیٹو خان…

Read more

قدیم یونان کے ایک چھوٹے سے جزیرے پر، ایک بوڑھا فلسفی رہتا تھا جس کا نام تھیوفراسٹوس تھا۔ وہ اپنی پوری زندگی تحقیق اور مراقبے میں گزاری تھی۔ جزیرے کے لوگ اکثر اسے پاگل سمجھتے، کیونکہ وہ بازار یا جشن میں شریک نہیں ہوتا، اور کبھی کبھار دنوں تک دریا کے کنارے بیٹھا رہتا۔ ایک دن، جزیرے پر ایک طوفان آیا۔ دریا کا پانی بلند ہوا، ہوا نے گھروں کی چھتیں اُڑائیں، اور لوگ خوف سے چیخنے لگے۔ سب لوگ پناہ کے لیے پہاڑوں کی طرف بھاگے، مگر تھیوفراسٹوس دریا کے کنارے بیٹھا رہا۔ لوگ حیران ہوئے کہ وہ کیوں نہیں بھاگ رہا۔ ایک نوجوان اس کے پاس آیا اور پوچھا:“بوڑھے، تمہیں نہیں ڈر لگ رہا؟ پانی سب کچھ لے جائے گا!” تھیوفراسٹوس نے آہستہ سے کہا:“پانی اور طوفان باہر کی حقیقت ہیں۔ اصل امتحان انسان کے اندر ہے۔ تم ڈر کی لہروں سے لڑو گے یا ان میں غرق…

Read more

ایک چور محل میں چوری کرتے ہوئے پکڑا گیا۔ بادشاہ نے اسے سزائے موت سنانے کا فیصلہ کیا۔ چور بہت چالاک تھا، اس نے کہا کہ بادشاہ سلامت مجھے مارنے سے پہلے ایک بار میری بات سن لیں، میں ایک ایسا ہنر جانتا ہوں جس سے مٹی کو سونا بنایا جا سکتا ہے، اگر میں مر گیا تو یہ ہنر ختم ہو جائے گا۔بادشاہ لالچ میں آ گیا اور اسے ایک موقع دیا۔ چور نے ایک مٹی کی ڈلی اٹھائی اور کہا کہ اسے سونا بنانے کے لیے شرط یہ ہے کہ اسے وہ آدمی ہاتھ لگائے جس نے زندگی میں کبھی جھوٹ نہ بولا ہو اور کبھی چوری نہ کی ہو۔پہلے وزیر کی باری آئی، وہ پیچھے ہٹ گیا کہ بچپن میں ایک بار جھوٹ بولا تھا۔ پھر بادشاہ کی باری آئی، وہ بھی ہچکچایا۔چور مسکرایا اور بولا کہ عجیب بات ہے، ہم سب گناہ گار ہیں، میں نے…

Read more

قدیم بغداد کی گلیوں میں، جہاں چراغوں کی روشنی اور سایوں کی سرگوشیاں ساتھ چلتی تھیں، ایک کاتب رہتا تھا جس کا نام یونس تھا۔ اس کا کام بادشاہ کے دربار میں فیصلوں اور احکامات کو صاف خط میں نقل کرنا تھا۔ یونس کی تحریر بے عیب تھی، مگر اس کا دل ہمیشہ بے چین رہتا، کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اس کے لکھے ہوئے الفاظ کسی کی زندگی بدل سکتے ہیں—کسی کو بچا بھی سکتے ہیں اور کسی کو مٹا بھی۔ ایک رات، جب شہر پر خاموشی اتری، یونس کو ایک بند لفافہ ملا۔ اس پر نہ مہر تھی، نہ نام۔ اندر ایک حکم تھا—ایسا حکم جو ایک بے گناہ خاندان کی جلاوطنی کا باعث بنتا۔ یونس کے ہاتھ کانپنے لگے۔ وہ جانتا تھا کہ حکم لکھنا اس کی ذمہ داری ہے، مگر اس کی سچائی اس کے ضمیر پر بوجھ بن گئی۔ اسی رات اسے خواب آیا۔ اس…

Read more

یہ قصہ ہے چاچا نتھو کا جن کے خراٹے مشہور تھے کہ اگر وہ سو جائیں تو آس پاس کے پرندے درختوں سے گر جاتے تھے۔ ان کے خراٹوں کی گونج ایسی تھی جیسے کوئی پرانا ٹریکٹر پہاڑ پر چڑھنے کی کوشش کر رہا ہو۔ ایک بار گاؤں میں افواہ پھیل گئی کہ ایک آدم خور بلا علاقے میں گھوم رہی ہے۔ لوگ ڈر کے مارے شام ہوتے ہی گھروں میں دبک جاتے۔ اسی دوران گاؤں کے چوکیدار نے ہمت کی اور رات کو پہرہ دینے نکلا۔ اتفاق سے چاچا نتھو اس رات اپنی بیٹھک کا دروازہ کھلا چھوڑ کر وہیں سو گئے تھے۔جیسے ہی چاچا نتھو گہری نیند میں گئے، ان کے نتھنوں سے وہ مخصوص آواز برآمد ہوئی یعنی گھڑڑڑڑ پُھسسس۔ باہر گلی سے گزرنے والے چوکیدار کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ اس نے سمجھا کہ وہ آدم خور بلا یہیں کہیں دیوار کے پیچھے چھپی…

Read more

ایرانی بادشاہ قاچار جس نے اپنے ملازموں کی موت سزا ایک دن لیٹ کی اور انہی ملازموں نے اسے خیمہ میں گھس کر موت کے گھاٹ اتار دیا آغا محمد خان قاجار، قاجار سلطنت کے بانی، ۱۸ویں صدی کے آخر میں فارس پر سختی اور مکمل کنٹرول کے ساتھ حکمرانی کرتے تھے۔ان کا بادشاہ کے مقام تک آنا بذات خود جنگوں، مخالفین کی purge، اور ذاتی صدموں سے بھری ہوئی تھی، جن میں بچپن میں ایک مخالف گروہ کی جانب سے ان کا خصیہ تلف کر دینا بھی شامل ہے۔ ان کی حکومت میں بھی سختی جاری رہی، جہاں معمولی خلاف ورزی پر بھی سخت سزا دی جاتی تھی۔یہی انداز ان دو نوکروں کی کہانی میں بھی دیکھا جا سکتا ہے؛جب ملازم کسی بات پٹ شور مچا رہے تھے تو بادشاہ نے فوراً ان کے قتل کا حکم دے دیا۔ چونکہ وہ دن مذہبی لحاظ سے مقدس تھا، اس لیے…

Read more

ایک بادشاہ تھاجو صرف سائے دیکھ کر فیصلے کرتا تھا۔اس کے محل میںہر رات پردہ لگتا،چراغ جلتے،اور کٹھ پتلیوں کے سائےدیوار پر ناچتے۔ وزیر کہتا:“حضور! حقیقت باہر ہے،لوگوں میں، کھیتوں میں،پسینے اور بھوک میں۔” بادشاہ جواب دیتا:“سایہ کبھی جھوٹ نہیں بولتا،اصل چیزیں تواپنی شکل بدل لیتی ہیں۔” ایک دنایک اندھا سازندہ دربار میں آیا۔اس نے کہا:“مجھے بھی کھیل دکھانے دو۔” بادشاہ ہنسا:“تم دیکھ ہی نہیں سکتے،سائے کیسے نچاؤ گے؟” اندھے نے چراغ بجھا دیا۔پورا ہال اندھیرے میں ڈوب گیا۔پھر اس نے ساز چھیڑا۔آوازیں بلند ہوئیںکبھی رونے جیسی،کبھی ہنسنے جیسی،کبھی ٹوٹتی سانسوں جیسی۔ لوگ کانپنے لگے۔بادشاہ بولا:“یہ کیا جادو ہے؟میں کچھ دیکھ نہیں پا رہا!” اندھا بولا:“آپ نے عمر بھرصرف سائے دیکھے ہیں،آج پہلی بارحقیقت سن رہے ہیں۔” اس نے چراغ دوبارہ جلایا۔دیوار پرکوئی سایہ نہیں تھا۔صرف لوگ تھے—خاموش، شرمندہ،زندہ۔ اندھا سازندہ بولا:“جو صرف آنکھ سے دیکھےوہ دھوکا کھا سکتا ہے؛جو سننا سیکھ لےوہ اندھیرے میں بھیراستہ پا لیتا ہے۔” کہتے…

Read more

440/455
NZ's Corner