Tag Archives: #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday

ایک دفعہ ایک آدمی گڑگڑا کر دعا مانگ رہا تھا، اتنے میں ایک عابد کا وہاں سے گزر ھوا، عابد نے کہا کہ تم پریشان مت ہو، میں تمہارے لیے اللہ کی بارگاہ میں دعا کروں گا۔ مجھے یقین ہے کہ وہ میری سنے گا۔ بس تم بتاؤ کہ تم کیا چاہتے ہو۔ وہ آدمی کہنے لگا کہ میری چند دعائیں الله کے پاس پہنچا دیں۔پھر اس نے آرزوئیں گنوانا شروع کر دیں۔ کہ مجھے یہ چاہیے، وہ چاہیے، فلاں چاہیے وغیرہ عابد بولا بس بس میں سمجھ گیا ہوں۔ وہ بولا کہ کیا سمجھ گئے ہو۔؟ میری بات تو ابھی مکمل ھی نہیں ھوئی۔ عابد نے کہا کہ میں الله تعالٰی سے کہہ دوں گا کہ تیرا فلاں بندہ کہہ رھا تھا کہ اے مالک! مجھے اپنے علاوہ سب کچھ دے دو۔ بات اتنی ہے کہ ہم اس مالک، اس پالنے والے رازق سے اس کے قرب کے سوا…

Read more

ایک بھنگی شخص کسی پیر کا مرید بن گیا۔ وہ پہلے روزے نہیں رکھتا تھا اور روزہ رکھنے کا تصور بھی اسے مشکل لگتا تھا۔ پیر نے ایک دن اس سے کہا،“تم روزہ رکھو، میں وعدہ کرتا ہوں کہ تمھاری ایک دعا ضرور قبول ہوگی۔” بھنگی نے پیر کی بات پر بھروسہ کیا اور اگلے دن روزہ رکھنا شروع کر دیا۔ دن بھر وہ بھوک اور پیاس سے تڑپتا رہا، ہر لمحہ مشکل محسوس ہو رہی تھی۔ آخر شام کو، روزہ افطار کیا اور سیدھا پیر کے پاس پہنچ گیا۔ پیر نے مسکرا کر پوچھا،“تو، مانگو، کیا مانگتے ہو؟” بھنگی نے ہاتھ باندھے اور بڑی عاجزی سے بولا،“پیر صاحب، خدا دا واسطہ، سویرے عید کروا دیو!” 😅😅😅#منقول

خشک سالی کے دنوں میں جب پورا جنگل بھوک سے تڑپ رہا تھا، جنگلی چوہے کو گاؤں کے کنارے ایک عجیب و غریب جھونپڑی ملی۔ اس جھونپڑی کے پیچھے پتوں میں چھپا ہوا ایک چھوٹا سا دروازہ تھا۔ ہر رات، جب چاند نکلتا، وہ دروازہ خود بخود کھل جاتا اور اس میں سے شکرقندی (yam)، تاڑ کے تیل (palm oil) اور بھنے ہوئے مکئی کی سوندھی خوشبوئیں آتی تھیں۔جنگلی چوہا بڑے غور سے دیکھتا رہا۔ ایک شام، جب آس پاس کوئی نہ تھا، وہ دروازے سے اندر داخل ہو گیا۔ اندر ایک ایسا گودام تھا جو صبح ہوتے ہی خود بخود دوبارہ بھر جاتا تھا۔ اس نے پیٹ بھر کر کھایا، اپنے گالوں میں خوراک بھری اور سورج نکلنے سے پہلے وہاں سے نکل گیا۔ وہ راتوں رات وہاں اکیلا اور خاموشی سے جاتا رہا۔لیکن لالچ نے اس کی احتیاط ختم کر دی۔ایک رات، جنگلی چوہے نے چھپکلی اور گلہری…

Read more

یہ ایک عبرت ناک اور دل دہلا دینے والی حقیقی روایت ہے جو امام ابنِ کثیر نے اپنی مشہور کتاب البدایہ والنہایہ میں لکھی ہے وحشی بن حرب : حضرت وحشی رضی اللہ تعالٰی عنہ کیسے بنے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ ایک جماعت کے پاس سے گزرے تو فرمایا“تم میں ایک ایسا شخص ہے جس کا ایک دانت جہنم میں احد پہاڑ سے بڑا ہوگا” یہ سن کر سب کے دل کانپ گئےوقت گزرتا گیا اس جماعت کے سب لوگ ایمان و سلامتی پر دنیا سے رخصت ہو گئےصرف دو باقی رہے — حضرت ابوہریرہؓ اور بنو حنیفہ کا ایک شخص الرّجّال بن عنفوہ یہ رجّال ان لوگوں میں سے تھا جو نبی ﷺ کے پاس آئے، اسلام سیکھا، قرآن یاد کیا، عبادت گزار اور زاہد بنا رہاحتیٰ کہ لوگ اس کی عبادت اور خشوع کی مثالیں دیتے مگر نبی…

Read more

ایک لڑکے کا اپنی کلاس فیلو لڑکی کے ساتھ چکر چل رہا تھا جس کا اس لڑکے کے گھر والوں کو بھی پتہ چل گیا۔ گھر والوں نے اسے سمجھایا کہ اس کام سے باز آجاؤ کل کلاں اگر لڑکی کے گھر والوں کو پتہ چل گیا تو تمھارے ساتھ ساتھ ہمارے لیے بھی مشکلات پیدا ہوں گی۔گھر والے لڑکے کو بار بار سمجھاتے رہے مگر چونکہ لڑکی بھی لڑکے کیساتھ ملی ہوئی تھی اس لیے وہ ایک کان سے سنتا اور دوسرے کان سے نکال دیتا عشق کا بھوت سوار تھا قصہ مختصر لڑکی کےگھر والوں کو بھی پتہ چل گیا اور ایک دن انھوں نے لڑکے کو پکڑکر خوب درگت بنائی ٹانگیں بازو توڑ دئیے اور اس کے گھر والوں کو پیغام بھیجا کہ اپنے لاڈلے کو اٹھا لے جاؤ۔ گھر والوں نے اسے وہاں سے اٹھایا اور ہسپتال لے گئے اور علاج شروع کرایا۔ کئی دن ٹکوریں…

Read more

پرانے وقتوں کی بات ہے، ایک شخص ریلوے میں ملازمت کے لیے انٹرویو دے رہا تھا۔افسر نے سوال کیا: “فرض کرو، دو ٹرینیں ایک ہی پٹری پر آمنے سامنے سے آ رہی ہوں، تو تم کیا کرو گے؟”امیدوار نے جواب دیا: “جناب! میں فوراً کانٹا بدل دوں گا۔”افسر بولا: “اگر کانٹا خراب ہو، تب کیا کرو گے؟”امیدوار: “میں پٹری پر کھڑا ہو کر لال کپڑا ہلاؤں گا۔”افسر: “اور اگر ڈرائیور نہ دیکھ رہا ہو، تو؟”امیدوار: “میں مسافروں پر چیخوں گا کہ زنجیر کھینچ کر گاڑی روک دیں۔”افسر نے مسکراتے ہوئے کہا: “اگر مسافر بہرے ہوں، تب کیا ہو گا؟”امیدوار (اطمینان سے): “پھر میں اپنی پھوپھو کو بلا لاؤں گا۔”افسر حیران ہو کر بولا: “پھوپھو؟ وہ کیوں؟ کیا تمہاری پھوپھی میں اتنی طاقت ہے کہ وہ ٹرین روک لیں گی؟”امیدوار نے جواب دیا: “نہیں جناب! انہیں ٹرینوں کی ٹکر دیکھنے کا بہت شوق ہے۔” 😅😅😅 #photographychallengechallengeraphychallengechallenge #viralchallenge #photographychallengeraphychallenge #photographychallenge #PhotoEditingChallenge #motivation…

Read more

قدیم زمانے میں، پہاڑوں اور نمکین ہواؤں کے درمیان ایک خاموش بستی تھی جسے لوگ خاموش در کہتے تھے۔ اس بستی میں ایک جوان کمہار رہتا تھا، نام تھا نَویر۔ وہ مٹی کو برتن بناتے وقت گھنٹوں خاموش رہتا، جیسے مٹی اس سے کوئی راز کہہ رہی ہو۔ لوگ کہتے تھے کہ نَویر کی خاموشی عام نہیں، وہ سن سکتا ہے ہوا کی باتیں، آگ کی سرگوشیاں، اور مٹی کے دل کی دھڑکن۔ ایک سال قحط آیا۔ کنویں خشک ہونے لگے۔ بزرگوں نے کہا کہ پہاڑ کے پیچھے ایک پرانا چشمہ ہے، مگر اس تک جانے والا راستہ “بولتی رات” سے گزرتا ہے، وہ رات جس میں ہر سایہ سوال کرتا ہے، اور ہر سوال کا جواب دل سے دینا پڑتا ہے۔ جو جھوٹ بولے، راستہ گم ہو جائے۔ نَویر نے برتنوں کا پہیہ روکا اور تنہا روانہ ہوا۔ رات اتری تو سائے قریب آئے۔ پہلا سایہ بولا:“تم پانی کیوں…

Read more

قدیم فارس کے ایک شہر میں ایک آئینہ ساز رہتا تھا۔ اس کا نام کسی کو یاد نہیں رہا، مگر اس کے آئینے مشہور تھے۔ وہ آئینہ ایسا بناتا تھا کہ دیکھنے والا صرف چہرہ نہیں، اپنی نیت بھی دیکھ لیتا تھا۔ اسی لیے امیر لوگ اس کی دکان سے گزرتے تو نظریں چرا لیتے، اور حکمران اس کے شہر آنے پر دکان بند کرواتے۔ ایک دن شہر کا گورنر آیا۔ اس نے حکم دیا:“میرے لیے ایسا آئینہ بناؤ جس میں میں خود کو عظیم دیکھوں۔” آئینہ ساز نے کہا:“آئینہ عظمت نہیں بناتا، دکھاتا ہے۔” گورنر نے سونا پھینکا اور کہا:“یہ دکھائے گا وہی جو میں چاہوں۔” آئینہ بنا۔ گورنر نے دیکھا تو مسکرا دیا وہ خود کو فاتح، عادل اور محبوب حکمران دیکھ رہا تھا۔ خوش ہو کر اس نے آئینہ محل میں رکھ لیا۔ مگر عجیب بات یہ تھی کہ جو بھی درباری اس آئینے میں خود کو…

Read more

کسی گاؤں میں ایک غریب کسان رہتا تھا۔ کسان سارا دن اپنے کھیت میں محنت کرتا۔ کسان کے پڑوس میں ایک سنار کا گھر تھا۔ یہ سنار امیر ہونے کے ساتھ ساتھ بے حد لالچی بھی تھا۔ ایک مرتبہ کسان نے اپنے کھیت میں کدوئوں کی فصل اگائی ۔ فصل بہت اچھی ہوئی اور کھیت بڑے بڑے کدوؤں سے بھر گیا۔ ایک کددو تو اتنا بڑا ہو گیا کہ اس جیسا کدو پہلے کسی نے نہیں دیکھا تھا۔ کسان بہت خوش ہوا اور اس نے سوچا کہ کیوں نہ یہ غیر معمولی کدو بادشاہ سلامت کو پیش کر دوں۔ وہ اسے ایک گاڑی میں رکھ کر بادشاہ کے دربار میں لے گیا اور بادشاہ سے عرض کیا۔‘حضور! میرے خیال میں یہ دنیا کا سب سے بڑا کدو ہے۔ اسے آپ کی نذر کرنا چاہتا ہوں۔’بادشاہ اس نایاب کدو کو دیکھ کر بہت خوش ہوا اور وزیر کو حکم دیا کہ…

Read more

😂 جب دودھ والا پانی ملاتے پکڑا گیا 😂 ایک دن محلے کے ریٹائرڈ حوالدار شیدا صاحب نے ٹھان لی کہ آج نتھو کو رنگے ہاتھوں پکڑنا ہے۔ انہوں نے فجر کے وقت نتھو کا پیچھا کیا اور دیکھا کہ وہ نہر کے کنارے موٹر سائیکل کھڑی کر کے بڑے اطمینان سے دودھ کے ڈرموں میں ڈونگے بھر بھر کر نہر کا پانی ڈال رہا ہے۔ حوالدار شیدا نے خاموشی سے موبائل نکال کر ویڈیو بنائی اور پھر اچانک پیچھے سے گرج کر بولے کہ اوئے نتھو، یہ نہر میں مچھلیاں پکڑ رہے ہو یا دودھ کی مقدار بڑھا رہے ہو؟نتھو ہکا بکا رہ گیا، مگر وہ بھی گھاٹی کھلاڑی تھا۔ فوراً بولا کہ حوالدار جی، توبہ کریں، میں تو دودھ کی بالٹیوں کو غسل کروا رہا تھا تاکہ برکت پڑے۔ حوالدار صاحب نے اسے گریبان سے پکڑا اور گھسیٹتے ہوئے محلے کے چوک میں لے آئے۔ سب لوگ جمع…

Read more

ایک شخص کی بیوی کو ایک دن اس کے پالتو گدھے نے اچانک لات مار کر اگلے جہاں پہنچا دیا۔کچھ ماہ بعد اس نے دوسری شادی کی اور نئی دلہن لے آیا۔چند دن گزرے ہونگے کہ نئی دلہن بھی گدھے کی زد میں آ گئی۔ گدھے نے موقع غنیمت دیکھتے ہوئے دولَتّی رسید کی اور اس بیچاری کا کام بھی تمام ہوا۔ لوگ اس ڈبل رنڈوے کے ہاں تعزیت کے لئے آنے لگے۔ حاضرین میں سے ایک شخص نے نوٹ کیا کہ جب عورتیں دوران تعزیت اس شخص سے کوئی سوال کرتی ہیں تو وہ شخص سر کے اشارے کے ساتھ “ہاں” کہتا ہے۔ اور جب مرد سوال کرتے ہیں تو وہ سر کو جنبش دیتے ہوئے “نہیں” کہتا ہے۔ اس خاص حرکت پر نظر رکھنے والے شخص نے رنڈوے صاحب سے اس کی وجہ پوچھی تو اس نے کہا، عورتیں سوال کرتے ہوئے پوچھتی ہیں: “پھر شادی کرو گے؟”…

Read more

ایک ملک کا حکمران بنانے کا طریقہ نہایت انوکھا تھا۔ وہ ہر سال کے پہلے دن اپنا بادشاہ بدل دیتے تھے۔ سال کے آخری دن جو بھی سب سے پہلے ملک کی حدود میں داخل ہوتا، اسے نیا بادشاہ منتخب کر لیا جاتا اور موجودہ بادشاہ کو “علاقۂ غیر” یعنی ایسی جگہ چھوڑ آتے جہاں صرف سانپ بچھو ہوتے اور کھانے پینے کے لیے کچھ بھی نہ ہوتا۔ اگر وہ سانپ بچھوؤں سے کسی طرح بچ بھی جاتا تو بھوک پیاس سے مر جاتا۔ کتنے ہی بادشاہ ایسے ہی ایک سال کی بادشاہی کے بعد اس “علاقۂ غیر” میں جا کر مر کھپ گئے۔ اس مرتبہ شہر میں داخل ہونے والا نوجوان کسی دور دراز علاقے کا لگ رہا تھا۔ سب لوگوں نے آگے بڑھ کر اسے مبارکباد دی اور بتایا کہ آپ کو اس ملک کا بادشاہ چن لیا گیا ہے۔ اسے بڑے اعزاز کے ساتھ محل میں لے…

Read more

جنگل میں ایک شیرنی حکمرانی کرتی تھی۔اس کے پاس طاقت تھی، تیز نظریں تھیں، اور وفادار جانور ہر وقت اس کے ساتھ رہتے تھے۔سب جانتے تھے کہ شیرنی کا حکم لازمی ہے، اور کوئی بھی اس کے فیصلے کے خلاف نہیں جا سکتا۔شیرنی کو اپنی طاقت پر فخر تھا، اور وہ سمجھتی تھی کہ طاقت ہی سب کچھ ہے—جنگل میں امن، فیصلے، اور احترام سب اسی سے قائم رہتا ہے۔مگر جنگل کے کچھ جانور اس سے مختلف سوچ رکھتے تھے۔سب سے ذہین اور چالاک جانور ایک چھوٹی لومڑی تھی۔لومڑی نہ صرف تیز دماغ کی مالک تھی، بلکہ اس کے دل میں سب جانوروں کی بھلائی کی فکر بھی تھی۔اس نے کئی بار کہا:“رانی، طاقت ضروری ہے، مگر سمجھ بوجھ اور سننا بھی اتنا ہی اہم ہے۔ اگر ہم سب ایک دوسرے کے خوف، ضرورت اور احساسات کو سمجھیں، تو جنگل میں حقیقی امن قائم ہوگا۔”شیرنی نے لومڑی کی بات کو…

Read more

ایک شہزادہ اپنی رعایا کی ایک غریب مگر نہایت حسین لڑکی کے حسن پر ایسا فریفتہ ہوا کہ کھانا پینا چھوڑ بیٹھا۔ ہر وقت اسی کے ہجر میں آہیں بھرتا اور بے چین رہتا۔ بادشاہ کو جب اس حال کا علم ہوا تو وہ سخت پریشان ہوا۔ اس نے سوچا کہ اگر عالمِ شہزادگی میں یہ کیفیت ہے تو کل تخت نشین ہو کر نجانے کیا کرے گا۔ چنانچہ اس نے وزیرِ دانا سے مشورہ کیا کہ کسی حکمت سے شہزادے کی اصلاح کی جائے۔وزیر نے چند روز کی مہلت طلب کی۔ حالات کا جائزہ لینے کے بعد اس نے تدبیر سے لڑکی اور اس کے اہلِ خانہ کو محل میں ملازم رکھوا لیا اور لڑکی کو اپنی بیگم کی خاص کنیز مقرر کر دیا۔ پھر ایک حکیم کے مشورے سے اس کے کھانے میں سخت اسہال آور دوا ملا دی۔ نتیجتاً وہ لڑکی شدید کمزوری کا شکار ہو گئی…

Read more

ایک پیر صاحب نے بڑی دھوم دھام سے اپنی شادی کی۔ شادی کے بعد جب سب فارغ ہوئے تو ایک حلوائی (جو دیگچیوں میں پکوان بناتا تھا) پیر صاحب کے پاس آیا۔ پیر صاحب نے بڑے وقار سے فرمایا:“بھائی! بتاؤ، پیسے چاہیے یا دعا؟” حلوائی نے ادب سے کہا:“حضور! آپ ہمارے خاندانی پیر ہیں، پیسے نہیں، بس دعا دے دیں۔” پیر صاحب نے فوراً دعا دے دی۔ حلوائی خوش ہو کر اپنا سامان اٹھایا اور چل دیا۔ تھوڑی دیر بعد ایک میراثی آیا اور بولا:“پیر صاحب! مجھے بھی کچھ عطا کریں۔” پیر صاحب نے پوچھا:“پیسے چاہیے یا دعا؟” میراثی نے ہوشیاری سے کہا:“پچاس کی دعا دے دیں، اور پچاس روپے بھی دے دیں۔” پیر صاحب نے ہاتھ اٹھائے اور دعا شروع کر دی…دعا کرتے گئے… کرتے گئے… کرتے گئے…اتنی لمبی دعا کی کہ گھنٹہ گزر گیا۔ آخرکار دعا ختم ہوئی تو پیر صاحب نے میراثی سے کہا:“بھائی! پتا ہی نہیں…

Read more

حضرت سلیمانؑ کے بعد انکے بیٹے رحبعام نے سلطنت کی باگ دوڑ سنبھالی مگر کچھ عرصہ کے بعد یہودیوں کے دس قبیلوں نے بغاوت کر دی مورخین نے اس بغاوت و جرات کی وجہ حضرت سلیمانؑ کی وفات کے بعد شیطان کی طرف سے انکے تخت کے نیچے رکھے جانے والی جادو کی کتابوں کا ان دس قبیلوں کےسرداروں کا لے لینا تھا بھگڈر میں ان سرداروں نے جو اس وقت حضرت سلیمانؑ کے دربار میں درباری کی حیثیت سے تھے موقع سے فائدہ اٹھایا اور وہ کتابیں اٹھا کے یہ الزام۔لگایا کہ نعوذباللّٰہ سلیمان نبیؑ نہیں بلکہ جادوگر تھے اور ان کتابوں کو اپنے پاس رکھ لیا بعد میں جب رحبعام بادشاہ بنا تو ان سرداروں نے ان جادو کی کتابوں سے فائدہ اٹھایا اور ایک الگ سلطنت جسے سلطنت اسرائیل یا سامریہ کا نام دیاگیا بنالی رحبعام کے بعد اسکا بیٹا اور حضرت سلیمانؑ کا پوتا ابیہا یا…

Read more

وہ مخلوق جو ڈائنوسارز سے بھی پہلے یہاں موجود تھی 🦎⏳ہمیشہ سے یہ مانا جاتا رہا ہے کہ ڈائنوسارز اس زمین کے پہلے اور طاقتور ترین حکمران تھے لیکن حال ہی میں ہونے والی ایک کھدائی نے اس نظریے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ہمالیہ کے دامن میں جمی برف کے نیچے سے ایک ایسی مخلوق کے ڈھانچے ملے ہیں جن کی ساخت موجودہ سائنس کی سمجھ سے باہر ہے۔ یہ مخلوق ڈائنوسارز کے دور سے بھی کروڑوں سال پہلے کی ہے جب زمین پر آکسیجن کا تناسب آج کے مقابلے میں بہت زیادہ تھا۔ان عجیب و غریب ڈھانچوں کے سر پر تین آنکھیں اور پشت پر دھاتی ڈھال جیسی ہڈیاں موجود ہیں جو یہ ظاہر کرتی ہیں کہ وہ صرف شکاری نہیں تھے بلکہ ان میں ذہانت کی ایک الگ ہی سطح موجود تھی۔ ماہرین آثار قدیمہ اس وقت حیران رہ گئے جب انہوں نے ان ڈھانچوں کے…

Read more

امیر تیمور اور سلطان بایزید یلدرم کے درمیان ہونے والی خونریز اور ہولناک “جنگِ انقرہ” کی تاریخ، جب عثمانیوں کا طاقتور ترین سلطان امیر تیمور کی قید میں مارا گیا۔803 ہجری میں امیر تیمور نے آرمینیا کی سمت سے عثمانی سلطنت کی سرحد میں داخل ہو کر شہر سیواس کا محاصرہ کر لیا۔ یہ شہر چند سال پہلے سلطان بایزید کے قبضے میں آیا تھا اور اس کی دیواریں نہایت مضبوط تھیں۔ شہر کی حفاظت سلطان بایزید کے بڑے بیٹے، شہزادہ ارطغرل، کی قیادت میں ہو رہی تھی۔ عثمانی سپاہیوں نے بڑی بہادری سے دفاع کیا اور ابتدا میں تیمور کی عظیم فوج کامیاب نہ ہو سکی۔لیکن آخرکار تیمور نے ایک خطرناک تدبیر اختیار کی۔ اس نے ہزاروں مزدوروں سے شہر کی دیواروں کی بنیادیں کھدوائیں اور نیچے سرنگیں بنوائیں۔ جب سرنگیں مکمل ہو گئیں تو لکڑی کے سہاروں کو آگ لگا دی گئی، اور دیکھتے ہی دیکھتے مضبوط دیواریں…

Read more

یہ قصہ ایک ایسے شخص کا ہے جن کا نام تو سخی محمد تھا، لیکن پورے علاقے میں وہ مکھی چوس خان کے نام سے مشہور تھے۔ ان کی کنجوسی کے قصے اتنے عام تھے کہ لوگ کہتے تھے اگر ان کے ہاتھ سے پسینہ بھی چھوٹ جائے تو وہ اسے بھی تالے میں بند کر دیں۔ایک دن سخی محمد سخت بیمار ہو گئے۔ جب انہیں لگا کہ اب وقتِ رخصت قریب ہے، تو انہوں نے اپنے تینوں بیٹوں کو پاس بلایا۔ ان کی حالت دیکھ کر بڑا بیٹا رونے لگا، لیکن سخی محمد نے کمزور آواز میں کہا:اوئے بے وقوف! آنسو بہا کر قیمتی پانی ضائع نہ کر، جا کر پیاز کاٹ تاکہ لوگوں کو لگے کہ تو واقعی غمزدہ ہے اور پیاز کا سالن بھی بن جائے۔پھر انہوں نے وصیت شروع کی:دیکھو بیٹو! مرنا تو برحق ہے، لیکن فضول خرچی حرام ہے۔ میری میت کے لیے نیا کفن…

Read more

جب ہلاکو خان نے بغداد کو فتح کیا تو دجلہ و فرات کا پانی سیاہی سے نہیں بلکہ انسانوں کے خون سے سرخ ہو چکا تھا۔ کتب خانے جل چکے تھے، مدرسے ویران ہو گئے تھے، اور شہر کی گلیوں میں موت رقص کر رہی تھی۔ عباسی خلافت کا چراغ گل ہو چکا تھا اور بغداد، جو علم و دانش کا مرکز تھا، ملبے کا ڈھیر بن چکا تھا۔ہلاکو خان نے شہر کے باہر اپنا عظیم الشان ڈیرہ لگایا۔ خیموں کی قطاریں، مسلح سپاہ، اور خوف کی ایسی فضا کہ پرندہ بھی پر مارنے سے پہلے سوچے۔ اسی ڈیرے سے اس نے بغداد میں پیغام بھجوایا:“شہر کا سب سے بڑا عالم میرے پاس حاضر ہو۔”یہ پیغام بجلی بن کر شہر میں پھیل گیا۔ لوگ سہم گئے۔ علما، فقہا، محدثین—سب جانتے تھے کہ ہلاکو خان علم کا نہیں، طاقت کا پجاری ہے۔ اس کے دربار میں جانا موت کو دعوت دینے…

Read more

420/455
NZ's Corner