Tag Archives: #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday

ایک گاؤں میں ایک نہایت غریب کسان اپنی بیٹی کے ساتھ رہتا تھا۔ ان کے پاس نہ زمین تھی نہ دولت، مگر لڑکی بہت عقلمند اور سمجھدار تھی۔ گاؤں کے لوگ اکثر اس کی ذہانت کی تعریف کرتے تھے۔ایک دن کسان کو راستے میں سونے کا ایک ٹکڑا ملا۔ وہ اسے لے کر خوشی خوشی گھر آیا اور اپنی بیٹی کو دکھایا۔ لڑکی نے فوراً کہا:“ابا! اگر آپ یہ سونا بادشاہ کے پاس لے جائیں گے تو وہ ضرور پوچھے گا کہ کیا آپ کو اس کے ساتھ کوئی اور چیز بھی ملی تھی۔ اگر آپ نے انکار کیا تو وہ شاید آپ کو جھوٹا سمجھ لے۔ بہتر ہے کہ آپ سونا بادشاہ کو دے دیں اور سچ سچ بات بتا دیں۔” کسان نے بیٹی کی بات مان لی اور سونا لے کر دربار پہنچ گیا۔ بادشاہ نے سونے کا ٹکڑا دیکھا اور پوچھا:“کیا تمہیں اس کے ساتھ کوئی اور…

Read more

تاریخِ اسلام میں بعض اوقات ایسے واقعات پیش آئے جنہوں نے پوری امت کو ہلا کر رکھ دیا۔ انہی میں سے ایک واقعہ تیمور لنگ کا ظہور تھا، جو ابھرتی ہوئی سلطنت عثمانیہ کے لیے ایک بڑی مصیبت ثابت ہوا۔اس زمانے میں عثمانی سلطنت کا ستارہ تیزی سے بلند ہو رہا تھا اور اس کی قیادت عظیم مجاہد سلطان بایزید اول کے ہاتھ میں تھی، جنہیں ان کی برق رفتار جنگی مہمات کی وجہ سے “یلدرم” (بجلی) کہا جاتا تھا۔ انہوں نے یورپ کی متحدہ عیسائی افواج کو جنگ نیکوپولس ۱۳۹۶ء میں شکست دے کر اسلامی قوت کا لوہا منوا لیا تھا۔لیکن اسی دوران مشرق میں ایک نیا فاتح ابھرا، جسے تاریخ تیمور لنگ کے نام سے جانتی ہے۔ تیمور لنگ نے ایک بہت بڑی فوجی طاقت کے ذریعے ایک وسیع سلطنت قائم کی۔ اس کی حکومت ماوراءالنہر، خراسان، ایران، شام، ہندوستان کے بعض حصوں اور روس و اناطولیہ کے…

Read more

ایک مرتبہ پاکستان کے ایک میاں صاحب انڈیا میں اپنے ایک نواب دوست کی دعوت پر انڈیا گئے۔ ایک دِن کھانے کے دوران میاں صاحب کو دہی کی کمی محسوس ہوئی، انہوں نے نواب صاحب سے فرمائش کی، کہ دہی مِل جائے تو کھانے کا مزہ دوبالا ہو جائے- نواب صاحب نے اپنے مُلازم کو آواز دی،اور بولے فلاں دُکان سے دہی لے کر آؤ فوراُُ،، مُلازِم گیا تو نواب صاحب نے بتانا شروع کیا،کہ ملازِم اِس وقت گھر سے نِکل چُکا،اِس وقت گلی کا موڑ مڑ رہا، اس وقت دُکان سے دہی لے رہا،، اب واپِس آ رہا،چند لمحوں بعد انہوں نے مُلازِم کو آواز دی اور پوچھا، دہی لے آئے ؟ملازم نے جواب دِیا،جی حضور،،، میاں صاحب اِس واقعے سے بہت مُتاثِر ہوئے – پھِر کُچھ عرصہ بعد نواب صاحب اپنے پاکستانی میاں دوست کی دعوت پر پاکِستان آئے،میاں صاحب کو وُہ کھانے والا واقعہ بہت خوب لگا…

Read more

*حضرت عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کی سخاوت اور ایک غلام کا عظیم کردار* حضرت عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ جنگل کی طرف تشریف لے جا رہے تھے۔ راستے میں ایک باغ کے پاس سے گزر ہوا۔ اس باغ میں ایک حبشی غلام کام کر رہا تھا۔ اسی دوران اس کے کھانے کے لیے روٹیاں آئیں۔ اتنے میں ایک کتا بھی باغ میں آ گیا اور اس غلام کے قریب آ کر کھڑا ہو گیا۔ غلام نے کام کرتے کرتے اپنی ایک روٹی اس کتے کے سامنے ڈال دی۔ کتے نے فوراً اسے کھا لیا، لیکن وہ پھر بھی وہیں کھڑا رہا۔ غلام نے دوسری روٹی بھی اس کے سامنے ڈال دی، کتے نے وہ بھی کھا لی۔ اس کے بعد غلام نے تیسری روٹی بھی اسی کتے کو دے دی۔ اس دن اس کے پاس کل تین ہی روٹیاں تھیں اور اس نے…

Read more

میلانیا  بتانے لگی  کچھ سال پہلے  ہماری ایک وزیرنےایک ٹی وی ٹاک شو میں  پیغمبر اسلام پر یہ اعتراض لگادیا  تھا کہ انہوں نے ایک چھ سال کی بچی عائشہ  سے نکاح کرلیا تھا اور جب وہ بچی  نو سال کی ہوئی تو رخصتی ہوئی ۔پھر وہ سوالیہ نظروں سے مجھے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی ،”محمود! کیا یہ سچ ہے؟ یہ تو سننے میں ہی  بڑا عجیب لگتا ہے۔” میں نے جواب دیا ۔ میلانیا  کچھ دن پہلے میں اپنی بارہ سالہ  بیٹی کو سمجھا رہا تھا کہ شکسپئیر انگریزی ادب میں ایک اتھارٹی ہے اسے پڑھا کرو ۔میری ترغیب پر  اس نے  شکسپئیر کا شہرہ آفاق ڈرامہ  ”رومیو جیولٹ ”پڑھ لیا تو کہنے لگی کہ پاپا آپ اس رائٹر  پر تو کیس ہونا چاہئے ۔ میں نے حیران ہو کر  پوچھا وہ کیسے ؟ کہنے لگی اس کہانی میں رومیو ایک تیرہ سالہ بچی” جیولیٹ”  کو ورغلا رہا ہے…

Read more

کہتے ہیں کہ ایک زمانے میں ایک بڑا طاقتور بادشاہ تھا۔ اس کی سلطنت وسیع تھی، خزانے بھرے ہوئے تھے اور دربار ہمیشہ امیروں اور امیروں کے مشیروں سے آباد رہتا تھا۔ لیکن اس کے باوجود اس کے دل میں عجیب سی بے چینی رہتی تھی۔ ایک دن بادشاہ شکار کے لیے نکلا۔ شکار کے دوران وہ اپنے لشکر سے کچھ دور نکل گیا۔ گھنے درختوں کے بیچ اسے ایک سادہ سا جھونپڑا نظر آیا۔ جھونپڑی کے باہر ایک درویش زمین پر بیٹھا تھا۔ اس کے کپڑے سادہ تھے، چہرہ پرسکون اور آنکھوں میں عجیب سی روشنی تھی۔ بادشاہ نے گھوڑے سے اتر کر درویش کو دیکھا۔ درویش نے نہ جھک کر سلام کیا اور نہ ہی کسی خوف کا اظہار کیا۔ وہ خاموشی سے بیٹھا رہا۔ بادشاہ کو یہ بات ناگوار گزری۔ اس نے کہا: “کیا تم جانتے نہیں کہ میں اس ملک کا بادشاہ ہوں؟” درویش نے سکون…

Read more

دو مراثیوں کو پھانسی کی سزا سنائی گئی۔آخری خواہش پوچھی گئی تو پہلے مراثی نے کہا کہ وہ سارنگی سیکھنا چاہتا ہے۔پوچھا گیا: کتنے سال لگیں گے؟وہ بولا: کسی استاد سے سیکھوں تو 20–25 سال۔پوچھا گیا: عمر کتنی ہے؟کہا: 40 سال۔کہا گیا: اچھا، پھر 65 سال کی عمر میں پھانسی ہوگی۔مراثی نے ہاتھ جوڑ کر کہا: “جو رب کو منظور”۔اب دوسرے مراثی کی باری آئی۔اس سے کہا گیا: تم بھی سارنگی سیکھنا چاہتے ہو؟وہ بولا: ہاں سرکار… مگر میں نے اسی سے سیکھنی ہے۔ 🤪😄

قبطی کا قتل اور موسیٰ علیہ السلام کی ہجرت. حضرت موسیٰ علیہ السلام بچپن ہی سے فرعون کے محل میں پلے بڑھے، مگر جب جوان ہو گئے تو فرعون اور اس کی قوم قبطیوں کے مظالم دیکھ کر بیزار ہو گئے اور فرعونیوں کے خلاف آواز بلند کرنے لگے۔ اس پر فرعون اور اس کی قوم جو قبطی کہلاتے تھے آپ کے دشمن بن گئے اور آپ فرعون کا محل بلکہ اس کا شہر چھوڑ کر اطراف میں چھپ کر رہنے لگے۔ ایک دن جب شہر والے دوپہر میں قیلولہ کر رہے تھے تو آپ چپکے سے شہر میں داخل ہو گئے۔ اس شہر کا نام “منف” تھا جو مصر کی حدود میں واقع ہے اور “منف” دراصل “مافہ” تھا جو عربی میں “منف” ہو گیا، اور بعض کا قول ہے کہ یہ شہر فسطاط تھا، اور بعض مفسرین نے کہا: یہ شہر حامین تھا جو مصر سے دو کوس…

Read more

‏چوہدری کو نئی نئی گاڑی چلانے کا شوق چڑھا۔ ایک دن وہ موٹروے پر 160 کی سپیڈ سے گاڑی بھگا رہے تھے کہ اچانک پیچھے سے پولیس کی گاڑی نے سائرن بجایا اور انہیں روک لیا۔ پولیس والا (غصے میں): “چوہدری صاحب! آپ کو اندازہ ہے کہ آپ کی سپیڈ کتنی تھی؟ آپ قانون توڑ رہے تھے!” چوہدری صاحب نے بڑی معصومیت سے گھڑی کی طرف دیکھا اور بولے: “افسر صاحب! اصل میں میری گاڑی کی بریکیں فیل ہو گئی ہیں، اس لیے میں تیز چلا رہا تھا تاکہ حادثہ ہونے سے پہلے پہلے گھر پہنچ جاؤں!” پولیس والا چکرا گیا: “یہ کیا منطق ہے؟ خیر، لائسنس دکھائیں اپنا۔” چوہدری صاحب نے ٹھنڈی آہ بھری: “لائسنس تو نہیں ہے جناب، وہ تو میں نے پچھلے مہینے ایک چوری کی گاڑی چلاتے ہوئے پولیس کو دے دیا تھا، انہوں نے ابھی تک واپس نہیں کیا۔” پولیس والے کی آنکھیں باہر آ…

Read more

لہجوں کی پہچان 💥 ایک درویش جنگل میں ایک درخت کے سائے تلے بیٹھا تھا۔ایک شکاری آیا اور غصے میں بولا،“کیا یہاں سے کوئی ہرن گزرا ہے؟” درویش نے کہا:“جو آنکھ دیکھتی ہے وہ نہیں بولتی، اور جو زبان بولتی ہے وہ نہیں دیکھتی۔” شکاری اس گہرے مطلب کو نہ سمجھ سکا اور چلا گیا۔ تھوڑی دیر بعد ایک بادشاہ آیا اور نرمی سے وہی سوال دہرایا۔درویش نے کہا:“عالی جاہ، آپ کا ہرن اس طرف گیا ہے۔” بادشاہ کے جانے کے بعد شاگرد نے پوچھا:“استاد، آپ نے شکاری کو نہیں بتایا، بادشاہ کو کیوں بتایا؟” درویش مسکرا کر بولا:“لہجے بتاتے ہیں کہ کس کو راستہ دکھانا ہے اور کس کو نہیں۔” 💡 آج کے دور میں خاموشی اور شرافت کا ناجائز فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔اس لیے، لہجے کا انتخاب سامنے والے کے رویے کو دیکھ کر کرنا ہی عقل مندی ہے۔ منقول اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگے تو…

Read more

ایک مولوی صاحب تھے۔ بڑے نیک اور عبادت گزار انسان۔ ان کے گھر میں دو طوطے بھی تھے، اور کمال کی بات یہ تھی کہ دونوں طوطے بھی بڑے نیک مزاج تھے۔ ایک طوطا تو زیادہ تر وقت سجدے کی حالت میں رہتا تھا، جیسے عبادت کر رہا ہو۔اور دوسرا طوطا ہر وقت بیٹھا تسبیح پڑھتا رہتا تھا:“سبحان اللہ… سبحان اللہ…” محلے والے بھی اکثر حیران ہوتے تھے کہ مولوی صاحب کے طوطے بھی کتنے نیک ہیں۔ ایک دن مولوی صاحب کا ہمسایہ ان کے پاس آیا اور بولا: “مولوی صاحب! میرے پاس ایک طوطی ہے، مگر وہ مجھے بہت تنگ کرتی ہے۔ شور مچاتی رہتی ہے، سکون نہیں لینے دیتی۔ کوئی حل بتائیں۔” مولوی صاحب نے مسکرا کر کہا: “ایسا کریں، آپ اپنی طوطی میرے پاس چھوڑ جائیں۔ میرے پاس دو نیک طوطے ہیں۔ ان کے ساتھ رہے گی تو شاید سدھر جائے، اور اگر قسمت ہوئی تو بچے…

Read more

یہ ایک انتہائی جذباتی اور سبق آموز کہانی ہے، میٹھا بول اور مہربان ہاتھوہ تین دن تک اسٹور کے دروازے کے گرد گھومتی رہی—ایک چھوٹی سی سفید رنگ کی آوارہ کتیا جس کا ایک کان سرخی مائل تھا۔ اس کے جسم میں مائیکرو چپ (شناختی چپ) تو لگی تھی، مگر پھر بھی وہ کسی بے گھر جانور کی طرح زندگی گزار رہی تھی۔اسٹور میں داخل ہونے والے اکثر لوگ اسے اپنے پاؤں سے ایک طرف دھکیل دیتے۔ وہ کبھی احتجاج نہ کرتی، کیونکہ ہر کسی کو اپنے کام کی جلدی تھی۔ لیکن وہ ہر شخص کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھتی—سر جھکائے ہوئے، خاموشی سے التجا کرتی ہوئی۔زیادہ تر لوگ اسے صرف ایک ہی نام سے پکارتے:“دفع ہو جاؤ!”لیکن آج وہ اپنے لیے نہیں مانگ رہی تھی۔ اسٹور کے پیچھے صحن میں اس کا دوست—ایک آوارہ بلا—بیمار تھا۔ اسے سانس لینے میں تکلیف ہو رہی تھی، آنکھوں سے پانی…

Read more

وہ رات جب ڈاکوؤں نے موڑ پر گاڑی روکی، ڈرائیور نے کہا “میاں جی کو اتار دو، میں نے ان کا کرایہ معاف کر دیا تھا” — پھر جو ڈاکوؤں کے سردار نے کہا، وہ کسی قرآن کی آیت سے کم نہ تھا۔ یہ 1985 کا زمانہ ہے۔ پاکستان کی شاہراہوں پہ راتیں لمبی ہوتی تھیں۔ ٹرانسپورٹ کے بس اسٹینڈز پہ چائے کے ڈھابے اور تیل کے لیمپ جلتے تھے۔ لوگ ابھی اتنے جلدی نہیں پہنچتے تھے جتنی جلدی منزلیں تھیں۔ میاں محمد بخش لاہور سے پشاور جا رہے تھے۔ان کی عمر ساٹھ برس تھی۔ سفید داڑھی اور ماتھے پہ نماز کا نشان۔ بدن پہ کرتا تھا اور کندھے پہ پرانا شال، جس میں کئی پیوند لگے تھے۔ ان کے پاس کوئی سامان نہیں تھا۔ نہ بریف کیس، نہ بنڈل۔ بس ایک چھوٹی سی تھیلی جس میں پانی کی لوٹی تھی اور کھجوروں کا ایک پیکٹ۔ وہ نیا کھوکھر سے…

Read more

ایک بادشاہ نے اپنے بہنوئی کی سفارش پر ایک شخص کو محکمہ موسمیات کا وزیر لگا دیا۔ ایک روز بادشاہ شکار پر جانے لگا تو روانگی سے قبل اپنے وزیرِ موسمیات سے موسم کا حال پوچھا۔ وزیر نے کہا :– موسم بہت اچھا ہے اور اگلے کئی روز تک اسی طرح رہے گا۔ بارش وغیرہ کا قطعاً کوئی امکان نہیں۔ بادشاہ مطمئن ہوکر اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ شکار پر روانہ ہو گیا۔ راستے میں بادشاہ کو ایک کمہار ملا۔اس نے کہا حضور ~ آپ کا اقبال بلند ہو‘ آپ اس موسم میں کہاں جا رہے ہیں؟بادشاہ نے کہا:– شکار پر۔کمہار کہنے لگا‘:– حضور! موسم کچھ ہی دیر بعد خراب ہوجانے اور بارش کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔ بادشاہ نے کہا‘ :– ابے او برتن بنا کر گدھے پر لادنے والے ‘ تو کیا جانے موسم کا حال ؟ میرے وزیر نے بتایا ہے کہ موسم نہایت خوشگوار ہے اور…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بوڑھا جوڑا رہتا تھا۔ دونوں ہی پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر تھے۔ میاں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ ایک سرجن کے طور پر گزارا تھا، جبکہ اس کی بیوی فیملی فزیشن (معالج) کے طور پر کام کرتی رہی تھی۔بوڑھے سرجن کو کبھی کبھار پینے پلانے کا شوق تھا۔ ویسے بھی… جو لوگ سرجنوں کو جانتے ہیں وہ آپ کو بتائیں گے کہ ان میں سے بہت سے لوگوں کے لیے یہ عادت تقریباً ان کے پیشے کا حصہ بن جاتی ہے۔تاہم، اس کی بیوی کی ایک ایسی عادت تھی جس نے اسے دیوانہ بنا رکھا تھا—جب بھی وہ تھوڑی زیادہ پی لیتا، وہ فوراً پولیس کو فون کر دیتی۔ جیسے ہی وہ اپنے لیے چند گلاس انڈیلتا، وہ فون اٹھاتی اور اس کی رپورٹ کر دیتی۔ ذرا تصور کریں: یہ وہی شخص تھا جس نے اسی پولیس ڈیپارٹمنٹ کے اہلکاروں اور ان…

Read more

ایک نیک دل بادشاہ نے ایک یتیم غریب اور بے آسرا لڑکے کو اپنے محل میں پناہ دے رکھی تھی بادشاہ کی عادت تھی کہ جب بھی اُس کے سامنے کوئی کھانے پینے کی لذیذ چیز پیش کی جاتی وہ پہلے اُس لڑکے کو کھانے کے لیے دیتا پھر خود کھاتا یہ سلسلہ کافی عرصے تک یونہی چلتا رہا ایک دِن بادشاہ کے سامنے کچھ پھل لائے گئے تو بادشاہ نے حسب معمول اور حسب عادت ایک پھل کاٹ کر پہلے اُس لڑکے کو دیا جسے وہ بڑے آرام سے کھانے لگا بادشاہ نے پوچھا بیٹا پھل کا ذائقہ کیسا ہے؟لڑکے نے کہا حضور! بہت مزیدار ہے جب لڑکا پھل کھا چکا تو بادشاہ نے ایک پھل اپنے لیے کاٹ کر کھانے کا ارادہ کیا جیسے ہی اُس نے وہ پھل اپنے منہ میں رکھا فوراً باہر تھوک دیا “توبہ توبہ اتنا کڑوا” بادشاہ کے منہ سے بے ساختہ نکلا…

Read more

سستی نے اس کی جان لے لی: ایک ایسا آدمی جو امیر بن سکتا تھا، مگر محنت نہیں کرنا چاہتا تھابہت پرانی بات ہے، ایک آدمی اتنا سست تھا کہ صبح سے شام تک کچھ نہیں کرتا تھا۔ اس کی بیوی اسے سارا دن فارغ دیکھ کر تنگ آ چکی تھی اور اسے کوستی رہتی:“تم کب تک ایسے رہو گے؟ میں دن رات کام کرتی ہوں اور تم اپنی جگہ سے ہلتے تک نہیں۔ تم ہمیں تباہ کر دو گے!”لیکن وہ آدمی سکون سے جواب دیتا:“گھبراؤ مت، ایک دن ہم امیر ہو جائیں گے اور تمہیں کام کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔”بیوی نے پوچھا: “اگر تم صوفے سے اٹھتے بھی نہیں، تو ہم امیر کیسے ہوں گے؟”اس نے کہا: “میں نے سنا ہے کہ پہاڑ کے اس پار ایک دانا بزرگ رہتے ہیں، جن کے پاس ہر سوال کا جواب ہوتا ہے۔ میں ان کے پاس جا کر پوچھوں…

Read more

صدیوں پرانا قصہ ہے کہ بدقسمتی سے کسی گاٶں کے نیم حکیم ایک شادی شدہ عورت کی زلفِ گرہ گیر کے اسیر ہو گئے، جس کے حسن کے چرچے تھے۔ اس کی چشمِ قاتل کے تیکھے ورمے نے حضرت کے لوہے ورگے دل میں سوراخ کر دیا اور آپ اس پر لٹو ہو گئے۔ شادی بیاہ اور میلو ں ٹھیلوں میں ڈھول بجانا عورت کے خاندان کا پیشہ تھا۔ وہ کبھی دوا دارو کے لیے نیم حکیم صاحب کے پاس جاتی تو وہ بڑی دلچسپی اور تفصیل سے اس کی نبض چیک کرتے اور ملفوف الفاظ میں اپنا حالِ دل بھی ضرور سناتے۔ اس کا بچہ بھی جب کبھی حضرت کے سامنے آتا تو وہ اسے چپکے سے کہتے،”تمہاری ماں کا کیا حال ہے؟ اسے میرا سلام کہنا“ خوش شکل خاتون نے بڑا عرصہ سلام برداشت کیے مگر جب اس کی خیریت کے متعلق نیم حکیم ضرورت سے زیادہ فکرمند…

Read more

ایک دن بچے سکول گئے… اور اگلے ہی دن سکول بند!کہا گیا: “فیول کم استعمال کریں۔”عجیب بات ہے نا…جب بات بچوں کی تعلیم کی آتی ہے تو سب سے پہلے سکول ہی بند کر دیے جاتے ہیں۔کیا کبھی کسی نے سنا؟کہ شاپنگ مال بند کر دو فیول بچانے کے لیے؟یا شادی ہال بند کر دو؟نہیں۔ہمیشہ آسان حل یہی ہوتا ہے:بچوں کی تعلیم روک دو۔ایک دن سکول کھلتے ہیں،بچے خوشی سے بستے اٹھاتے ہیں،ماں باپ امید باندھتے ہیں…اور اگلے ہی دن اعلان آ جاتا ہے: “سکول بند!”سوال یہ نہیں کہ فیول کیوں بچانا ہے۔سوال یہ ہے کہ ہر بحران میں قربانی صرف تعلیم ہی کیوں دیتی ہے؟یاد رکھیں…جس قوم کے سکول بار بار بند ہوتے ہیں،وہاں جیلیں اور مسائل کھلتے رہتے ہیں۔فیصلے کرنے والوں کو سوچنا ہوگا:اگر آج ہم نے بچوں کی تعلیم کو ہی سب سے آسان قربانی بنا دیا،تو کل ہمیں اس کی قیمت پوری قوم کو ادا کرنی…

Read more

سنہ 1595 میں سلطنت عثمانیہ اپنے عروج پر تھی ۔سلطان مراد سوم کے انتقال پر ان کے بیٹے محمت ثالث کو ملا۔لیکن اس دن کو تاریخ میں سیاہ دن کے نام سے یاد رکھا جاتا ہے۔اس دن استنبول کے شاہی محل سے 19 شہزادوں کے جنازوں نکلے۔ یہ جنازے نئے سلطان محمت سوم کے بھائیوں کے تھے جنھیں سلطنت میں اس وقت رائج بھائیوں کے قتل کی شاہی روایت کے تحت نئے سلطان کے تخت پر بیٹھتے ہی باری باری گلا گھونٹ کر ہلاک کر دیا گیا تھا-یہ قانون سلطان محمت ثانی کی جانب سے بنایا گیا تھا جس میں لکھ تھا کہ اگر سلطنت میں بغاوت کا اندیشہ ہو تو فرمانروا کو اختیار ہے کہ وہ سلطنت کی بھلائی کے لیے اپنے بھائیوں کا خون بہا سکتا ہے۔بعد میں آنے والے کئی معصوم شہزادے اس قانون کا نشانہ بنے۔ ان میں سلطان مراد سوم کے انتقال کے بعد اسکے…

Read more

420/581
NZ's Corner