Tag Archives: urdustory

ایک گاؤں میں ایک بوڑھا کسان رہتا تھا۔ اس کے پاس ایک خوبصورت گھوڑا تھا جس سے وہ کھیتوں میں کام لیتا تھا۔ ایک دن اس کا گھوڑا بھاگ گیا۔ گاؤں والے آئے اور کہنے لگے:“کتنی بدقسمتی ہے تمھاری!”بوڑھے کسان نے مسکرا کر کہا:“کیا معلوم یہ بدقسمتی ہے یا خوش قسمتی؟”چند دن بعد، وہی گھوڑا واپس آیا، اور ساتھ میں تین جنگلی گھوڑے بھی لے آیا۔گاؤں والے حیران ہو کر کہنے لگے:“کتنی خوش نصیبی ہے تمھاری!”بوڑھا کسان پھر مسکرایا:“کیا معلوم یہ خوش نصیبی ہے یا بدقسمتی؟”🤔🤔اگلے دن کسان کا بیٹا ان میں سے ایک جنگلی گھوڑے کو سدھانے کی کوشش کر رہا تھا کہ گر کر اس کی ٹانگ ٹوٹ گئی۔گاؤں والے پھر آئے:“کتنی بدقسمتی ہے!”کسان نے پھر وہی جواب دیا:“کیا معلوم؟”🤔🤔کچھ ہفتے بعد بادشاہ نے جنگ چھیڑ دی اور گاؤں کے تمام نوجوانوں کو فوج میں لے جایا گیا۔ مگر کسان کا بیٹا چونکہ زخمی تھا، اس لیے بچ…

Read more

ایک صاحب کو لمبی لمبی گپیں ہانکنے کی ایسی عادت تھی کہ وہ جب بھی کوئی قصہ سناتے تو مبالغہ آرائی کی ایسی انتہا کرتے کہ ذی شعور تو کیا، نادان بھی یقین کرنے سے کتراتے۔ ایک دن ان کے ایک مخلص دوست نے سمجھایا کہ “یار! ہاتھ ذرا ہولا رکھا کرو۔ اتنی بڑی گپ مارتے ہو کہ لوگ مذاق بناتے ہیں۔” وہ صاحب قائل تو ہو گئے اور طے یہ پایا کہ اگلی بار جب وہ کوئی کہانی سنائیں اور دوست کو لگے کہ اب بات حد سے بڑھ رہی ہے، تو وہ ہلکا سا کھانس دے گا تاکہ صاحب سنبھل جائیں۔کچھ دن بعد ایک محفل میں ذکر چھڑا تو موصوف نے اپنا ایک واقعہ سنانا شروع کیا: “بھئی! ایک بار میں جنگل سے گزر رہا تھا کہ اچانک کیا دیکھتا ہوں کہ سامنے ایک دیو ہیکل سانپ ہے! میرا اندازہ ہے کہ وہ کم از کم 140 فٹ…

Read more

ایک بہت بڑا عالم (بہت پڑھا لکھا شخص) دریا پار کرنے کے لیے ایک کشتی میں سوار ہوا۔کشتی چلانے والا ایک سادہ سا دیہاتی “ملاح” تھا۔جب کشتی بیچ دریا میں پہنچی تو عالم نے اپنی علمیت جھاڑنے کے لیے ملاح سے پوچھا:“بڑے میاں!… کیا تم نے کبھی ‘تاریخ’ (پرانے زمانے کے قصے) پڑھی ہے؟” ملاح نے عاجزی سے کہا:“نہیں جناب!… میں تو ان پڑھ ہوں، مجھے لکھنا پڑھنا نہیں آتا۔” عالم نے افسوس سے سر ہلایا اور کہا:“بڑے افسوس کی بات ہے!… تم نے اپنی ‘آدھی زندگی’ برباد کر دی۔ انسان کو تاریخ کا علم تو ہونا چاہیے۔” تھوڑی دیر بعد عالم نے پھر پوچھا:“اچھا یہ بتاؤ… کیا تم نے کبھی ‘جغرافیہ’ (زمین اور نقشوں کا علم) پڑھا ہے؟” ملاح نے شرمندہ ہو کر کہا:“نہیں سرکار!… میں نے تو اسکول کی شکل بھی نہیں دیکھی۔” عالم نے طنزیہ انداز میں کہا:“تمہاری تو ‘تین چوتھائی’ (75 فیصد) زندگی برباد ہو گئی…

Read more

ایک بار تعلیم کے محکمے کا ایک “بڑا افسر” معائنے (چیکنگ) کے لیے ایک گاؤں کے مدرسے میں پہنچا۔افسر نے ایک کلاس (جماعت) میں جا کر بچوں کا امتحان لینا چاہا۔اس نے ایک بچے کو کھڑا کیا اور تاریخ کا ایک سوال پوچھا:“بیٹا! کھڑے ہو جاؤ اور یہ بتاؤ کہ ‘سومنات کا دروازہ’ کس نے توڑا تھا؟” بچہ سوال سنتے ہی گھبرا گیا، اس کا رنگ پیلا پڑ گیا اور وہ روتے ہوئے بولا:“صاحب جی!… اللہ کی قسم، میں نے نہیں توڑا!… میں تو آج مدرسے آیا ہی دیر سے تھا، مجھے نہیں پتہ کس نے توڑا ہے۔” افسر یہ جواب سن کر ہکا بکا رہ گیا۔ اس نے غصے سے “استاد” کی طرف دیکھا اور کہا:“ماسٹر صاحب! یہ بچہ کیا کہہ رہا ہے؟ میں تاریخ کا سوال پوچھ رہا ہوں اور یہ اپنی صفائیاں دے رہا ہے؟” استاد نے اپنی عینک ٹھیک کی، چھڑی میز پر رکھی اور بڑے…

Read more

شیخ ؒ کو بیٹھے بیٹھے خیال آیا کہ یہ عجیب بات ہے کہ اللہ ہر وقت اپنا احسان جتاتا رہتا ہے۔ کبھی کہتا ہے میں کھلاتا ہوں، میں پلاتا ہوں، اور کبھی کہتا ہے میں ہی رزق فراہم کرتا ہوں۔ اگر ہم کھانا نہ کھائیں تو کوئی طاقت ہمیں کھانے پر مجبور نہیں کر سکتی۔ یہ سوچ کر کھانا کھانا چھوڑ دیا۔ جب بیوی بچوں نے زیادہ پریشان کیا تو گھر چھوڑ کر ایک پرانے قبرستان میں وہ جا پہنچے۔ شام ہوئی تو ایک صاحب اپنی منت پوری کرنے کیلئے قبرستان میں مَوجود ایک مزار پر حاضر ہوئے۔ فاتحہ کے بعد انہوں نے شیخ کو بھی تبرّک دیا۔ شیخ کے انکار اور اس شخص کے اصرار نے عجیب صورتِ حال پیدا کر دی۔ وہ شخص یہ سمجھ کر کہ شیخ کوئی دیوانے ہیں، ایک پُڑیا میں کچھ لڈو لپٹیے اور ایک جھاڑی کے نیچے رکھ دئیے کہ جب اس شخص…

Read more

ایک ملک کا حکمران بنانے کا طریقہ نہایت انوکھا تھا۔ وہ ہر سال کے پہلے دن اپنا بادشاہ بدل دیتے تھے۔ سال کے آخری دن جو بھی سب سے پہلے ملک کی حدود میں داخل ہوتا، اسے نیا بادشاہ منتخب کر لیا جاتا اور موجودہ بادشاہ کو “علاقۂ غیر” یعنی ایسی جگہ چھوڑ آتے جہاں صرف سانپ بچھو ہوتے اور کھانے پینے کے لیے کچھ بھی نہ ہوتا۔ اگر وہ سانپ بچھوؤں سے کسی طرح بچ بھی جاتا تو بھوک پیاس سے مر جاتا۔ کتنے ہی بادشاہ ایسے ہی ایک سال کی بادشاہی کے بعد اس “علاقۂ غیر” میں جا کر مر کھپ گئے۔ اس مرتبہ شہر میں داخل ہونے والا نوجوان کسی دور دراز علاقے کا لگ رہا تھا۔ سب لوگوں نے آگے بڑھ کر اسے مبارکباد دی اور بتایا کہ آپ کو اس ملک کا بادشاہ چن لیا گیا ہے۔ اسے بڑے اعزاز کے ساتھ محل میں لے…

Read more

ایک رات سلطان محمود غزنویؒ (متوفی 421ھ / 1030ء) آرام فرما رہے تھے کہ اچانک آنکھ کھل گئی۔ بہت کوشش کی کہ دوبارہ نیند آ جائے، مگر نیند جیسے روٹھ گئی ہو۔ کروٹیں بدلتے رہے، دل بے چین رہا۔آخر خدا ترس بادشاہ کے دل میں خیال آیا:“شاید کوئی مظلوم فریاد لے کر آیا ہو، یا کوئی بھوکا فقیر دروازے پر کھڑا ہو — اسی لیے نیند چھن گئی ہے۔”غلام کو حکم دیا کہ باہر جا کر دیکھو۔غلام لوٹا اور عرض کیا:“جہاں پناہ! کوئی نہیں ہے۔”سلطان نے پھر سونے کی کوشش کی، مگر بے چینی بڑھتی گئی۔ دوبارہ حکم دیا کہ اچھی طرح تلاش کرو۔ غلاموں نے چھان مارا، مگر کوئی نہ ملا۔اب سلطان کو شبہ ہوا کہ شاید تلاش میں کوتاہی ہو رہی ہے۔ خود تلوار لے کر نکلے۔ تلاش کرتے کرتے ایک مسجد کے دروازے پر پہنچے۔ اندر سے آہستہ آہستہ سسکیوں کی آواز آرہی تھی۔قریب جا کر دیکھا…

Read more

چار بھائی تھے۔ سب اپنے اپنے گھروں میں خوشی سے رہتے تھے، مگر ایک دن ان کی بیویوں میں آپس میں لڑائی ہو گئی۔ بات اتنی بڑھی کہ بھائی بھی ایک دوسرے سے ناراض ہو گئے۔ ہر ایک کہنے لگا، “قصور تمہاری بیوی کا ہے!”آخرکار ایک بھائی کو سب نے قصوروار ٹھہرا دیا۔ غصے میں آ کر انہوں نے اس بے چارے بھائی کو بھی مارا، اس کی بیوی کو بھی ڈانٹا، اور یہاں تک کہ اس کا گھر بھی جلا دیا۔ گھر کا سارا سامان اور جانور بھی جل کر راکھ ہو گئے۔وہ مظلوم بھائی بڑی مشکل سے جان بچا کر نکلا۔ اس نے ایک جلے ہوئے جانور کی کھال اتاری اور اسے ساتھ لے کر چل پڑا۔ چلتے چلتے شام ہو گئی۔ اس نے سوچا، “اب رات کہاں گزاروں؟”پھر اس نے ایک درخت دیکھا اور فیصلہ کیا کہ اسی کے نیچے رات گزار لے گا۔ اچانک اس نے…

Read more

ایک آدمی نے حاتم طائی سے پوچھا: “اے حاتم! کیا سخاوت میں کوئی تجھ سے آگے بڑھا ہے؟” حاتم نے جواب دیا: “ہاں!… قبیلہ طے کا ایک یتیم بچہ مجھ سے زیادہ سخی نکلا، جس کا قصہ کچھ یوں ہے کہ دوران سفر میں شب بسری کے لیے ان کے گھر گیا، اس کے پاس دس بکریاں تھیں، اس نے ایک ذبح کی، اس کا گوشت تیار کیا اور کھانے کیلئے مجھے پیش کر دیا۔ اس نے کھانے کے لیے مجھے جو چیزیں دیں ان میں مغز بھی تھا۔ میں نے اسے کھایا تو مجھے پسند آیا، میں نے کہا: “واہ! کیا خوب ذائقہ ہے” یتیم بچہ فوراً باہر نکل گیا اور ایک ایک کر کے تمام بکریاں میری لا علمی میں اس نے ذبح کر ڈالیں اور سب کے مغز مجھے پیش کیے۔ جب میں کوچ کرنے لگا تو کیا دیکھا کہ گھر کے ارد گرد ہر طرف خون…

Read more

جنگل میں ایک شیرنی حکمرانی کرتی تھی۔اس کے پاس طاقت تھی، تیز نظریں تھیں، اور وفادار جانور ہر وقت اس کے ساتھ رہتے تھے۔سب جانتے تھے کہ شیرنی کا حکم لازمی ہے، اور کوئی بھی اس کے فیصلے کے خلاف نہیں جا سکتا۔شیرنی کو اپنی طاقت پر فخر تھا، اور وہ سمجھتی تھی کہ طاقت ہی سب کچھ ہے—جنگل میں امن، فیصلے، اور احترام سب اسی سے قائم رہتا ہے۔مگر جنگل کے کچھ جانور اس سے مختلف سوچ رکھتے تھے۔سب سے ذہین اور چالاک جانور ایک چھوٹی لومڑی تھی۔لومڑی نہ صرف تیز دماغ کی مالک تھی، بلکہ اس کے دل میں سب جانوروں کی بھلائی کی فکر بھی تھی۔اس نے کئی بار کہا:“رانی، طاقت ضروری ہے، مگر سمجھ بوجھ اور سننا بھی اتنا ہی اہم ہے۔ اگر ہم سب ایک دوسرے کے خوف، ضرورت اور احساسات کو سمجھیں، تو جنگل میں حقیقی امن قائم ہوگا۔”شیرنی نے لومڑی کی بات کو…

Read more

ایک شہزادہ اپنی رعایا کی ایک غریب مگر نہایت حسین لڑکی کے حسن پر ایسا فریفتہ ہوا کہ کھانا پینا چھوڑ بیٹھا۔ ہر وقت اسی کے ہجر میں آہیں بھرتا اور بے چین رہتا۔ بادشاہ کو جب اس حال کا علم ہوا تو وہ سخت پریشان ہوا۔ اس نے سوچا کہ اگر عالمِ شہزادگی میں یہ کیفیت ہے تو کل تخت نشین ہو کر نجانے کیا کرے گا۔ چنانچہ اس نے وزیرِ دانا سے مشورہ کیا کہ کسی حکمت سے شہزادے کی اصلاح کی جائے۔وزیر نے چند روز کی مہلت طلب کی۔ حالات کا جائزہ لینے کے بعد اس نے تدبیر سے لڑکی اور اس کے اہلِ خانہ کو محل میں ملازم رکھوا لیا اور لڑکی کو اپنی بیگم کی خاص کنیز مقرر کر دیا۔ پھر ایک حکیم کے مشورے سے اس کے کھانے میں سخت اسہال آور دوا ملا دی۔ نتیجتاً وہ لڑکی شدید کمزوری کا شکار ہو گئی…

Read more

ایک پیر صاحب نے بڑی دھوم دھام سے اپنی شادی کی۔ شادی کے بعد جب سب فارغ ہوئے تو ایک حلوائی (جو دیگچیوں میں پکوان بناتا تھا) پیر صاحب کے پاس آیا۔ پیر صاحب نے بڑے وقار سے فرمایا:“بھائی! بتاؤ، پیسے چاہیے یا دعا؟” حلوائی نے ادب سے کہا:“حضور! آپ ہمارے خاندانی پیر ہیں، پیسے نہیں، بس دعا دے دیں۔” پیر صاحب نے فوراً دعا دے دی۔ حلوائی خوش ہو کر اپنا سامان اٹھایا اور چل دیا۔ تھوڑی دیر بعد ایک میراثی آیا اور بولا:“پیر صاحب! مجھے بھی کچھ عطا کریں۔” پیر صاحب نے پوچھا:“پیسے چاہیے یا دعا؟” میراثی نے ہوشیاری سے کہا:“پچاس کی دعا دے دیں، اور پچاس روپے بھی دے دیں۔” پیر صاحب نے ہاتھ اٹھائے اور دعا شروع کر دی…دعا کرتے گئے… کرتے گئے… کرتے گئے…اتنی لمبی دعا کی کہ گھنٹہ گزر گیا۔ آخرکار دعا ختم ہوئی تو پیر صاحب نے میراثی سے کہا:“بھائی! پتا ہی نہیں…

Read more

ایک شخص شہر کے باہر گھوم رہا تھا۔ اس نے دیکھا داروغہ شہر ایک درخت کے نیچے سو رہا ہے ۔ شراب کی بوتل اس کی بغل میں دبی ہوئی تھی۔ اور منہ سے شراب کی بو آرہی تھی ۔ داروغہ خراٹے لے رہا تھا۔ اس نے بڑے اطمینان سے داروغہ کی نئی اونی قبا اتاری اور وہاں سے رخصت ہو گیا ۔ شراب کے نشے اور نیند میں اسے پتا ہی نہ چلا۔ جب داروغہ کی آنکھ کھلی اور شراب کا نشہ اترا تو اس نے دیکھا کہ اس کی نئی قبا غائب ہے ۔ وہ گھر واپس آئے اور اپنے ملازموں سے کہا کہ میری قباچوری ہو گئی ہے تم چور کو تلاش کر کے فورا میرے سامنے پیش کرو۔ داروغہ کے ملازم تلاش میں نکلے اور آخر انھیں وہ آدمی جس نے قبا چرائی تھی مل گیا ۔ اسے پکڑ کر وہ داروغہ کے پاس لے آئے…

Read more

حضرت سلیمانؑ کے بعد انکے بیٹے رحبعام نے سلطنت کی باگ دوڑ سنبھالی مگر کچھ عرصہ کے بعد یہودیوں کے دس قبیلوں نے بغاوت کر دی مورخین نے اس بغاوت و جرات کی وجہ حضرت سلیمانؑ کی وفات کے بعد شیطان کی طرف سے انکے تخت کے نیچے رکھے جانے والی جادو کی کتابوں کا ان دس قبیلوں کےسرداروں کا لے لینا تھا بھگڈر میں ان سرداروں نے جو اس وقت حضرت سلیمانؑ کے دربار میں درباری کی حیثیت سے تھے موقع سے فائدہ اٹھایا اور وہ کتابیں اٹھا کے یہ الزام۔لگایا کہ نعوذباللّٰہ سلیمان نبیؑ نہیں بلکہ جادوگر تھے اور ان کتابوں کو اپنے پاس رکھ لیا بعد میں جب رحبعام بادشاہ بنا تو ان سرداروں نے ان جادو کی کتابوں سے فائدہ اٹھایا اور ایک الگ سلطنت جسے سلطنت اسرائیل یا سامریہ کا نام دیاگیا بنالی رحبعام کے بعد اسکا بیٹا اور حضرت سلیمانؑ کا پوتا ابیہا یا…

Read more

لکھنو میں ایک استاد بڑی ثقیل قسم کی اردو بولا کرتے تھے اور اپنے شاگردوں کو بھی یہی “نصیحت” کرتے تھے، کہ جب بات کرنی ہو،،،،،، تو تشبیہات، استعارات، محاورات اور ضرب الامثال سے آراستہ پیراستہ اردو زبان استعمال کیا کرو۔ ایک بار “دورانِ تدریس” یہ “استاد صاحب” حقہ پی رہے تھے انھوں نے جو زور سے حقہ گڑگڑایا،،،،، تو اچانک چلم سے ایک چنگاری اڑی،، اور استاد جی کی پگڑی پر جا پڑی۔ ایک شاگرد اجازت لے کر کھڑا ہوا اور بڑے ادب سے گویا ہوا: “حضور والا؛ یہ بندہ “ناچیز” حقیر فقیر، پُر تقصیر، ایک روح فرسا حقیقت،حضور کے “گوش گزار” کرنے کی جسارت کر رہا ہے،،،،،، وہ یہ کہ؛ آپ لگ بھگ نصف گھنٹہ سے حقہ نوشی ادا فرما رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔چند ثانیے قبل میری چشم نارسا نے ایک اندوہناک منظر کا مشاہدہ کیا،،،،،، کہ ایک شرارتی آتشی پتنگا آپکی چلم سے افقی سمت میں بلند ہو کر،چند…

Read more

وہ مخلوق جو ڈائنوسارز سے بھی پہلے یہاں موجود تھی 🦎⏳ہمیشہ سے یہ مانا جاتا رہا ہے کہ ڈائنوسارز اس زمین کے پہلے اور طاقتور ترین حکمران تھے لیکن حال ہی میں ہونے والی ایک کھدائی نے اس نظریے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ہمالیہ کے دامن میں جمی برف کے نیچے سے ایک ایسی مخلوق کے ڈھانچے ملے ہیں جن کی ساخت موجودہ سائنس کی سمجھ سے باہر ہے۔ یہ مخلوق ڈائنوسارز کے دور سے بھی کروڑوں سال پہلے کی ہے جب زمین پر آکسیجن کا تناسب آج کے مقابلے میں بہت زیادہ تھا۔ان عجیب و غریب ڈھانچوں کے سر پر تین آنکھیں اور پشت پر دھاتی ڈھال جیسی ہڈیاں موجود ہیں جو یہ ظاہر کرتی ہیں کہ وہ صرف شکاری نہیں تھے بلکہ ان میں ذہانت کی ایک الگ ہی سطح موجود تھی۔ ماہرین آثار قدیمہ اس وقت حیران رہ گئے جب انہوں نے ان ڈھانچوں کے…

Read more

امیر تیمور اور سلطان بایزید یلدرم کے درمیان ہونے والی خونریز اور ہولناک “جنگِ انقرہ” کی تاریخ، جب عثمانیوں کا طاقتور ترین سلطان امیر تیمور کی قید میں مارا گیا۔803 ہجری میں امیر تیمور نے آرمینیا کی سمت سے عثمانی سلطنت کی سرحد میں داخل ہو کر شہر سیواس کا محاصرہ کر لیا۔ یہ شہر چند سال پہلے سلطان بایزید کے قبضے میں آیا تھا اور اس کی دیواریں نہایت مضبوط تھیں۔ شہر کی حفاظت سلطان بایزید کے بڑے بیٹے، شہزادہ ارطغرل، کی قیادت میں ہو رہی تھی۔ عثمانی سپاہیوں نے بڑی بہادری سے دفاع کیا اور ابتدا میں تیمور کی عظیم فوج کامیاب نہ ہو سکی۔لیکن آخرکار تیمور نے ایک خطرناک تدبیر اختیار کی۔ اس نے ہزاروں مزدوروں سے شہر کی دیواروں کی بنیادیں کھدوائیں اور نیچے سرنگیں بنوائیں۔ جب سرنگیں مکمل ہو گئیں تو لکڑی کے سہاروں کو آگ لگا دی گئی، اور دیکھتے ہی دیکھتے مضبوط دیواریں…

Read more

یہ قصہ ایک ایسے شخص کا ہے جن کا نام تو سخی محمد تھا، لیکن پورے علاقے میں وہ مکھی چوس خان کے نام سے مشہور تھے۔ ان کی کنجوسی کے قصے اتنے عام تھے کہ لوگ کہتے تھے اگر ان کے ہاتھ سے پسینہ بھی چھوٹ جائے تو وہ اسے بھی تالے میں بند کر دیں۔ایک دن سخی محمد سخت بیمار ہو گئے۔ جب انہیں لگا کہ اب وقتِ رخصت قریب ہے، تو انہوں نے اپنے تینوں بیٹوں کو پاس بلایا۔ ان کی حالت دیکھ کر بڑا بیٹا رونے لگا، لیکن سخی محمد نے کمزور آواز میں کہا:اوئے بے وقوف! آنسو بہا کر قیمتی پانی ضائع نہ کر، جا کر پیاز کاٹ تاکہ لوگوں کو لگے کہ تو واقعی غمزدہ ہے اور پیاز کا سالن بھی بن جائے۔پھر انہوں نے وصیت شروع کی:دیکھو بیٹو! مرنا تو برحق ہے، لیکن فضول خرچی حرام ہے۔ میری میت کے لیے نیا کفن…

Read more

ایک بار ایک دیہاتی اپنے شہر والے دوست سے ملنے آیا جو بہت بڑا کنجوس تھا۔ دیہاتی خالی ہاتھ نہیں آیا، بلکہ اپنے ساتھ تحفے کے طور پر ایک موٹی تازی “مرغابی” (پرندہ) لے کر آیا۔کنجوس میزبان بہت خوش ہوا۔ اس نے مرغابی پکائی اور دونوں نے مزے سے کھائی۔ اگلے دن، کچھ اجنبی لوگ کنجوس کے گھر آ دھمکے اور کھانے کا مطالبہ کیا۔کنجوس نے پوچھا: “تم کون ہو؟”انہوں نے کہا:“ہم آپ کے اس دوست کے ‘دوست’ ہیں جو کل آپ کے لیے مرغابی لے کر آیا تھا۔”کنجوس نے کچھ نہیں کہا اور انہیں کل کی بچی ہوئی مرغابی کا “شوربہ” (سالن کا پانی) پلا دیا۔ تیسرے دن، کچھ اور لوگ آ گئے اور بولے:“ہم آپ کے اس دوست کے دوست کے ‘ہمسائے’ ہیں جو مرغابی لایا تھا۔”کنجوس نے انہیں بھی جیسے تیسے کچھ کھلا کر ٹال دیا۔ چوتھے دن، حد ہو گئی۔ 10، 12 لوگ کنجوس کے گھر…

Read more

دشت تو دشت دریا بھی نہ چھوڑے ہم نےبحر ظلمات میں دوڑا دیئے گھوڑے ہم نے 🔘 اسپین کا جنوبی علاقہ  اندلس آج بھی یورپ کی سب سے خوبصورت اور تاریخی خطوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں کی مٹی میں آٹھ صدیوں تک اسلامی تمدن کی خوشبو بسی رہی۔ یہ وہ سرزمین ہے جسے مسلمانوں نے الاندلس  کا نام دیا، اور جہاں 711ء سے 1492ء تک تقریباً 781 سال تک اسلامی حکمرانی قائم رہی۔ یہ دور نہ صرف فتوحات کا ہے بلکہ علم، فن، تعمیرات اور رواداری کا بھی شاندار باب ہے۔ 🔘 یہ سب 711ء میں شروع ہوا جب  طارق بن زیاد  نے موسیٰ بن نصیر کے حکم پر افریقہ سے گزر کر آبنائے جبل الطارق عبور کی۔ ویزی گوتھ بادشاہ راڈرک (رودرگو) کو وادی لکہ میں فیصلہ کن شکست دی۔ طارق نے اپنے سپاہیوں سے کہا تھا: “دشمن سامنے ہے اور پیچھے سمندر!”۔ اس کے بعد چند ہی…

Read more

20/42
NZ's Corner