Tag Archives: urdustory

ایک دن بڑے زور کی آندھی آئی، اور پھر موسلا دھار بارش ہونے لگی۔ جنگلی جانور، جان بچانے کے لیے، اِدھر اُدھر دوڑے ایک لومڑی ایک چھوٹے سے غار میں گھس گئی۔ تھوڑی دیر بعد ایک ببر شیر بھی اسی غار میں گھس آیا۔ موت سامنے نظر آئی تو لومڑی بہت گھبرائی۔ لیکن عین اُس وقت عقل کام آئی۔ اُس نے جھٹ اپنا سر غار کی چھت سے لگایا اور بولی “چھت گرنے والی ہے، حضور! اسے سہارا دیجیے۔ گر گئی تو دونوں مر جائیں گے۔”ببر شیر نے دونوں ہاتھوں سے چھت کو تھام لیا۔ لومڑی بولی “آپ مجھ سے زیادہ طاقتور ہیں۔ اسے اسی طرح تھامے رہیے۔ میں بانس لے کر ابھی آئی۔”“بانس کا کیا کروگی؟” شیر نے پوچھا۔“اے، حضور، بانس سے چھت کو سہارا دیں گے تو وہ نہیں گرے گی” لومڑی نے کہا اور باہر بھاگ گئی۔(افریقہ کی لوک کہانی)رسالہ: تعلیم و تربیت

ایک گاؤں میں ایک آدمی رہتا تھا جو انتہائی کاہل اور چالاک طبیعت کا مالک تھا۔ محنت کرنا اس کے مزاج کے خلاف تھا، مگر دوسروں کو نقصان پہنچا کر فائدہ اٹھانا اس کی عادت بن چکی تھی۔ اس کے پاس ایک گدھا تھا، جس کی دیکھ بھال بھی وہ خود نہیں کرتا تھا۔ وہ گدھے کو رات کے وقت چپکے سے لوگوں کے کھیتوں میں چھوڑ دیتا تاکہ وہ وہاں چر کر اپنا پیٹ بھر لے، اور اس طرح اس کی سستی بھی قائم رہے اور خرچ بھی نہ آئے۔ مگر جب لوگوں کو اس کی حرکتوں کا علم ہوا تو انہوں نے سختی سے منع کر دیا کہ اگر تمہارا گدھا دوبارہ ہمارے کھیت میں آیا تو اسے مار دیا جائے گا۔ اب آدمی پریشان ہو گیا کہ بغیر خرچ کے کام کیسے چلے؟ بہت سوچنے کے بعد اس کے ذہن میں ایک مکاری آئی۔ اس نے کہیں…

Read more

ایک زمانے کی بات ہے۔ ایک آدمی کے پاس ایک خوبصورت کتا تھا، جسے وہ بے حد چاہتا تھا۔ وہ کتے کو اپنے پاس بٹھا کر کھلاتا، سہلاتا اور اس سے باتیں کرتا۔ کتا بھی اپنے مالک کا نہایت فرمانبردار تھا۔ جہاں وہ جاتا، کتا دم ہلاتا اس کے پیچھے پیچھے چلتا اور اس کی توجہ حاصل کرنے کے لیے اچھل کود کرتا۔ اسی آدمی کے پاس ایک گدھا بھی تھا۔ وہ دن بھر بوجھ ڈھو کر تھک جاتا اور رات کو اکیلا ایک کونے میں بندھا رہتا۔ مالک کبھی اس کی طرف توجہ نہ دیتا۔ ایک دن گدھے نے کھڑکی میں منہ ڈال کر اندر جھانکا۔ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ مالک اپنے کتے کو نہ صرف مزے دار کھانا کھلا رہا ہے بلکہ اسے گود میں بٹھا کر پیار بھی کر رہا ہے۔ یہ منظر دیکھ کر گدھے کے دل میں حسد کی آگ بھڑک اٹھی۔…

Read more

زمانۂ قدیم میں جب کہ زمین پر انسانوں کی آبادیاں وجود میں آ رہی تھیں اور معاشرے اپنی بنیادی اقدار کی تلاش میں تھے، دو ایسی ہستیاں پیدا ہوئیں جو ایک دوسرے کے مدِمقابل تھیں۔ ایک کا نام سچ تھا اور دوسرے کا جھوٹ ۔ یہ دونوں بھائی تھے، لیکن ان کی راہیں بالکل جدا تھیں۔ سچ ہمیشہ سیدھی راہ پر چلتا تھا، اس کی گفتگو میں شیرینی تھی اور اس کے چہرے پر نور تھا۔ جھوٹ ہمیشہ گول مول باتیں کرتا، اس کی آنکھوں میں چالاکی تھی اور اس کے دل میں ہمیشہ دوسروں کو نقصان پہنچانے کی خواہش ہوتی تھی۔ ایک مرتبہ جھوٹ نے اپنے بھائی سچ کو ایک جال میں پھنسانے کا منصوبہ بنایا۔ اس نے ایک بہت بڑا اور قیمتی خنجر اپنے بھائی سچ کے پاس امانتاً چھوڑ دیا۔ سچ نے اپنے بھائی کے بھروسے کا احترام کرتے ہوئے خنجر کو ایک محفوظ جگہ رکھ دیا۔…

Read more

قدیم زمانے کی بات ہے کہ ہندوستان کے ایک گھنے اور پُرفضائو جنگل میں ایک نہایت طاقتور، درندہ صفت اور ظالم شیر رہتا تھا، جس کا نام “چترنگ” تھا۔ چترنگ اتنا وحشی اور خونخوار تھا کہ وہ دن بھر بے دریغ شکار کرتا اور جنگل کے دوسرے جانوروں کو اپنے رعب سے خوفزدہ رکھتا تھا۔ جنگل کے تمام جانور، ہرن سے لے کر خرگوش تک، شیر کے ظلم سے تنگ آ کر پریشان ہو گئے۔ ان کی بستیوں میں کوئی امن و سکون باقی نہ رہا تھا۔ آخر کار انہوں نے ایک بڑی اور خطرناک مجلس منعقد کی۔ ہاتھی، گینڈا، بھیڑیا، لومڑی، سانبھر اور یہاں تک کہ چھوٹا سا بے بس خرگوش بھی اس اجلاس میں شریک ہوا۔ مجلس میں فیصلہ ہوا کہ جنگل کے تمام جانور مل کر شیر چترنگ کے پاس جائیں گے اور اسے امن کی درخواست پیش کریں گے۔ ان کا منصوبہ یہ تھا کہ ہر…

Read more

صدیوں پہلے جاپان کے ایک گھنے جنگل میں تین بہت گہرے دوست رہتے تھے۔ ایک لومڑ، ایک بندر اور ایک خرگوش۔ یہ تینوں بہت مختلف تھے، لیکن ان کی دوستی بے مثال تھی۔ لومڑ بہت چالاک تھا۔ وہ جنگل کے ہر راستے کو جانتا تھا اور شکار کرنے میں ماہر تھا۔ بندر بہت پھرتیلا تھا۔ وہ درختوں پر چڑھ کر میٹھے میٹھے پھل لاتا تھا۔ اور خرگوش۔ خرگوش بہت کمزور تھا، لیکن اس کا دل سب سے بڑا تھا۔ وہ ہمیشہ اپنے دوستوں کے کام آتا، چاہے اسے کتنی ہی مشکل کیوں نہ ہو۔ ان کی دوستی کا اصول تھا — جب کسی کو کھانے کی ضرورت ہوتی، باقی دو اس کی مدد کرتے۔ جب کسی کو پناہ کی ضرورت ہوتی، باقی دو اس کے لیے جگہ بناتے۔ وہ ہنسی خوشی زندگی بسر کر رہے تھے۔ ایک دن چاند پر رہنے والے بوڑھے نے زمین کی طرف دیکھا۔ اس کی…

Read more

سلطان محمود غزنوی کے دور کی بات ہے۔ ایک شخص کا مزاج بگڑ گیا اور وہ ایک حکیم کے پاس گیا۔ اس نے حکیم سے کہا، “میرے لیے کوئی دوا بنا دو۔” حکیم نے معائنہ کرنے کے بعد کہا، “دوا کے تمام اجزا تو موجود ہیں، لیکن ایک چیز کی کمی ہے۔ شہد کی ضرورت ہے، اور یہ شہد کا موسم نہیں ہے۔ اگر تم شہد لے آؤ تو میں دوا تیار کر دوں۔” وہ شخص ایک چھوٹی سی ڈبیا لے کر نکلا۔ اس نے لوگوں کے دروازے دروازے پھٹکے، لیکن اسے کہیں شہد نہ ملا۔ ہر طرف مایوسی ہی ہاتھ لگی۔ آخر کار اس نے دربارِ غزنوی میں حاضر ہونے کا فیصلہ کیا۔ وہ محل کے دروازے پر پہنچا تو ایاز وہاں کھڑا تھا۔ اس شخص نے اپنی داستان سنائی اور کہا کہ مجھے ایک چھوٹی سی ڈبیا میں شہد چاہیے۔ ایاز نے کہا، “تم ٹھہرو، میں بادشاہ سے…

Read more

جنگل میں 🐯 شیر نے اعلان کیا کہ اب جنگل کا “خزانچی” رکھا جائے گا۔ جو سب سے ہوشیار ہو گا، وہی منتخب ہو گا 😎 🐺 لومڑی نے فوراً اپنا نام دے دیا۔ انٹرویو لینے کی ذمہ داری 🦉 الو کو ملی کیونکہ وہ رات کو جاگتا ہے اور سب کی خبریں رکھتا ہے۔ پہلے دن لومڑی آئی۔ الو نے پوچھا “خزانے کی رکھوالی کیسے کرو گی؟”لومڑی بولی “جی سر، آنکھیں بند کر کے۔ تاکہ لالچ نہ آئے” 😇 الو نے ایک زور دار چونچ ماری 👋 “جھوٹ کیوں بولتی ہو؟ آنکھیں بند کر کے تو تم خود خزانہ کھا جاؤ گی۔” اگلے دن لومڑی پھر آئی۔ الو: “چلو بتاؤ، اگر کوئی چوری کرے تو کیا کرو گی؟”لومڑی: “جی سر، میں شور مچا دوں گی۔”الو نے پھر چونچ ماری 👋 “جھوٹ۔ تم تو خود چوروں کی سردار ہو۔” تیسرے دن لومڑی تنگ آ کر 🐯 شیر کے پاس چلی…

Read more

شہر کے درمیان میں ایک اونچے ستون پر خوش راجکمار کا مجسمہ کھڑا تھا۔ وہ بالکل سونے کا بنا ہوا تھا، اس کی آنکھوں کی جگہ دو نیلم جڑے ہوئے تھے، اور اس کی تلوار کے قبضے پر ایک بہت بڑا سرخ یاقوت جڑا ہوا تھا۔ یہ مجسمہ بہت خوبصورت تھا۔ ہر کوئی اسے دیکھ کر حیران رہ جاتا تھا۔ شہر کے ایک بوڑھے کونسلر نے کہا: “وہ ہوا کے جھونکے کی طرح خوبصورت ہے۔” لیکن دوسرے کونسلر، جو ہمیشہ اپنی اہمیت جتانا چاہتے تھے، نے کہا: “وہ اتنا خوبصورت نہیں جتنا کہ مفید ہے۔” اور اس نے اپنی بات ثابت کرنے کے لیے ایک اور چیز بھی کہی  جو کوئی نہیں سمجھ سکا، لیکن وہ خود اس سے بہت خوش تھا۔ “تمہیں ہمیشہ اپنی اہمیت جتانے کا طریقہ آتا ہے،” بوڑھے کونسلر نے کہا۔ رات کے وقت، جب شہر میں سناٹا چھا جاتا تھا، ایک چھوٹا سا نگل پرندہ…

Read more

ایک زمانے میں ایک نمک فروش تھا۔ وہ روزانہ دریائے سندھ کے کنارے بستے شہر سے نمک خرید کر اپنے گدھے پر لادتا اور دوسرے شہر لے جا کر بیچتا تھا۔ اس گدھے کے ساتھ نمک فروش کی بہت محبت تھی۔ وہ اسے ہر روز صاف کرتا، اچھی خوراک دیتا اور کبھی اس پر سختی نہ کرتا۔ لیکن گدھا بڑا چالاک تھا۔ اس نے دیکھا کہ جب وہ دریا عبور کرتا ہے تو کبھی کبھی اس کا پاؤں پھسل جاتا ہے اور وہ پانی میں گر جاتا ہے۔ جب وہ پانی میں گرتا تو اس کی پشت پر لدا نمک پانی میں گھل جاتا اور بوجھ ہلکا ہو جاتا تھا۔ گدھے نے سوچا کہ یہ تو بہت اچھا طریقہ ہے بوجھ ہلکا کرنے کا۔ چنانچہ اگلے دن جب نمک فروش نے گدھے پر نمک کی بوری لادی اور وہ دریا کے پاس پہنچے تو گدھے نے جان بوجھ کر اپنا…

Read more

*ایک پروفیسر ٹرین میں سفر کر رہا تھا کہ ایک کسان ساتھ آ کر بیٹھ گیا…* پروفیسر کو لگا کہ سفر لمبا ھے، کیوں نہ کچھ ذہنی ورزش کر لی جائے…؟؟ اس نے کسان کی طرف دیکھا، جو بڑے مزے سے مونگ پھلی کھا رہا تھا، اور بولا : پروفیسر (عینک ٹھیک کرتے ہوئے) : “چلو ایک گیم کھیلتے ھیں…! میں تم سے ایک سوال پوچھوں گا، اگر تم جواب نہ دے سکے تو مجھے 100 روپے دینا ھوں گے، پھر تم مجھ سے سوال پوچھو گے، اگر میں نہ بتا سکا تو میں تمہیں 1000 روپے دوں گا۔” 😎💁‍♂️ کسان (سوچتے ہوئے) : “یعنی یا تو 100 کا نقصان یا 1000 کا فائدہ…؟ یہ تو وھی بات ہوئی کہ بکری پالوں، دودھ ملے تو ٹھیک، نہ ملے تو گوشت کا فائدہ…! ٹھیک ھے، چلو کھیلتے ھیں…!” پروفیسر (اکڑ کر) : “زمین اور چاند کے درمیان فاصلہ کتنا ھے…؟” کسان…

Read more

دور دور کے زمانے کی بات ہے کہ ایک بادشاہ تھا جسے جھوٹ سے سخت نفرت تھی۔ اس نے اپنی مملکت میں حکم دے رکھا تھا کہ جو بھی جھوٹ بولے گا، اسے سخت جرمانہ دینا پڑے گا اور اس کی زبان کاٹ لی جائے گی۔ اس حکم سے پورے شہر میں خوف طاری ہو گیا، لیکن اس کے باوجود کچھ لوگ جھوٹ بولنے سے باز نہ آتے تھے۔ ایک دن بادشاہ نے سوچا کہ وہ خود بھیس بدل کر شہر میں نکلیں گے اور لوگوں کے اخلاق کا خود مشاہدہ کریں گے۔ چنانچہ بادشاہ نے سادہ کپڑے پہنے اور اپنے وزیر کے ساتھ شہر کی گلیوں میں نکل پڑا۔ شام کا وقت تھا اور سورج ڈھلنے لگا تھا۔ بادشاہ اور وزیر شہر کے ایک گوشے میں پہنچے تو ان کی نظر ایک چھوٹی سی دکان پر پڑی۔ وہاں ایک تاجر بیٹھا اپنا سامان سجا رہا تھا۔ بادشاہ نے تاجر…

Read more

ایک جنگل میں ایک چھوٹا سا خرگوش رہتا تھا۔ وہ بہت پیارا تھا، لیکن اس میں ایک بڑی خامی تھی۔ وہ بہت ضدی تھا۔ اگر وہ ایک بار کسی بات پر اڑ جاتا تو اسے کوئی بھی نہ مان سکتا تھا۔ اس کے ماں باپ نے اسے کتنا سمجھایا کہ ضد کرنا اچھی بات نہیں ہے، لیکن خرگوش کسی کی نہ سنتا تھا۔ ایک دن خرگوش بھوک سے بے حال ہو گیا۔ وہ کھانے کی تلاش میں جنگل سے باہر نکلا اور بہت دور جا نکلا۔ وہاں اسے ایک باغ نظر آیا۔ باغ میں خوبصورت گاجریں اگی ہوئی تھیں۔ خرگوش بہت خوش ہوا اور خوب گاجریں کھائیں۔ اس کے بعد اس نے سوچا کہ کچھ گاجریں اپنے گھر بھی لے جائے۔ اس نے اتنی ساری گاجریں اکٹھی کیں کہ ایک بہت بڑا گچھا بن گیا۔ خرگوش نے وہ گچھا اپنے منہ میں لیا اور گھر کی طرف چل پڑا۔ راستے…

Read more

ایک بادشاہ ایک گاؤں سے گزر رہا تھا۔ اچانک اُس کے راستے میں ایک بوڑھی عورت آکر کھڑی ہوگی، اور بولی ” اے بادشاہ تو میرے ساتھ انصاف یہاں کریں گا، یا قیامت کے دن پل صراط پر”یہ سن کر بادشاہ کانپ گیا، وہ فوراً بولا اماں “مجھ میں اتنی طاقت نہیں کہ میں پل صراط پر فیصلہ کروں، میں یہیں انصاف کروں گا” بتا تجھے کس نے پریشان کیا؟بوڑھی عورت نے کہا ” کل تیری فوج کے سپاہی یہاں سے گزارے انہوں نے میری گائے ذبح کر کے کھا لی۔ میری روزی کا صرف وہ ہی ذریعہ تھی۔ میرے تین چھوٹے چھوٹے بچے ہیں، اب میں اُن کی پرورش کیسے کروں گئ؟”یہ سن کر بادشاہ کو بڑا دکھ ہوا اور اُس نے اپنے وزیر کو کہہ کر بوڑھی عورت کو ستر گائے دلوا دی۔یہ تھے  “سلطان الپ ارسلان” سلجوقی سلطنت کے عظیم سلطان جو بہادری شجاعت میں بھی بےمثال…

Read more

ایک دن ایک حکمران اپنے محل کے بلند و بالا کمرے میں آرام فرما رہا تھا کہ باہر سے ایک دیہاتی کی صدا سنائی دی:“سیب لیجیے! تازہ سیب!” حاکم نے کھڑکی سے جھانکا تو دیکھا کہ ایک یمنی کسان — چہرے پر دھوپ سے جھلسی جھریاں، سادہ عمامہ اور گرد آلود چغہ پہنے — اپنے نحیف گدھے پر دونوں طرف دو ٹوکریاں لادے بازار کی طرف جا رہا ہے، جن میں سرخ و رسیلے سیب بھرے ہوئے ہیں۔ بادشاہ کے دل میں سیب کھانے کی خواہش جاگی۔ اُس نے وزیر کو بلایا اور حکم دیا:“خزانے سے پانچ سونے کے سکے لے لو اور میرے لیے ایک بہترین سیب لاؤ!” وزیر نے خزانے سے پانچ سکے نکالے اور اپنے معاون سے کہا:“یہ چار سونے کے سکے لے لو، اور بادشاہ سلامت کے لیے ایک سیب خرید لاؤ۔” معاون نے تین سکے رکھے، باقی محل کے منتظم کو دیے اور کہا:“یہ تین…

Read more

یہ کہانی ہمت، ذمہ داری اور بلند کردار کی ایک بہترین مثال ہے۔ چھوٹی کوششیں، اصل کردار کی پہچانایک قدیم جنگل اچانک افراتفری کا شکار ہو گیا۔ ایک ہولناک آگ درختوں میں پھیل گئی، گہرے دھوئیں نے آسمان کو ڈھانپ لیا اور ٹہنیاں ٹوٹ کر گرنے لگیں۔ تمام جانور خوفزدہ ہو کر بھاگنے لگے۔ یہاں تک کہ سب سے طاقتور جانور— شیر، چیتے اور ٹائیگر— بھی صرف ایک ہی فکر میں تھے: کسی طرح یہاں سے نکل کر جان بچائی جائے۔تب ایک چھوٹی سی ہستی نے اس کے بالکل الٹ کیا۔ 🌿ہاتھی کا ایک بچہ قریب کی ندی کی طرف بھاگا، اپنی ننھی سی سونڈ میں پانی بھرا، تیزی سے واپس پلٹا اور جنگل کے جلتے ہوئے کنارے پر پانی چھڑکنے لگا۔ اس نے یہ عمل بار بار دہرایا۔تھکن سے اس کی چھوٹی ٹانگیں کانپ رہی تھیں۔ تپش سے اس کی سونڈ دکھنے لگی تھی، لیکن وہ مسلسل ندی اور…

Read more

سمندر کی لہروں میں گھوڑا اور وہ جنگجو جس کے لیے زمین کم پڑ گئی… تصور کریں… 7ویں صدی عیسوی کا اختتام ہے۔ ایک عرب کمانڈر افریقہ کے آخری کنارے پر کھڑا ہے۔ اس کے گھوڑے کے قدم بحرِ اوقیانوس (Atlantic Ocean) کی تاریک اور بپھری ہوئی لہروں میں دھنسے ہوئے ہیں۔ وہ اپنی تلوار آسمان کی طرف بلند کرتا ہے، حدِ نگاہ تک پھیلے ہوئے پانی کو دیکھتا ہے، اور تاریخ کا وہ لافانی جملہ کہتا ہے: “اے اللہ! اگر یہ کالا سمندر میرا راستہ نہ روکتا، تو میں تیری راہ میں لڑتا ہوا زمین کے آخری کنارے تک چلا جاتا!” یہ کوئی دیومالائی یا افسانوی کردار نہیں تھا، بلکہ یہ تاریخِ اسلام کے سب سے عظیم اور نڈر جرنیلوں میں سے ایک، عقبہ بن نافع (Uqba ibn Nafi) تھے۔ یہ اس فاتح کی سچی داستان ہے جس نے پورے شمالی افریقہ (موجودہ لیبیا، تیونس، الجزائر اور مراکش) کا…

Read more

دنیا کے فاتح کی فوج کا خوف اور دیوہیکل درندوں کی چنگھاڑ: جنگِ جہلم (Battle of Hydaspes) کی سچی داستان تصور کریں… مئی 326 قبل مسیح۔ آدھی دنیا کو روندنے والی یونانی فوج، جس نے کبھی شکست کا ذائقہ نہیں چکھا تھا اور جس کے گھوڑوں کی ٹاپوں سے سلطنتیں کانپتی تھیں، آج دریائے جہلم کے کنارے خوف سے تھر تھر کانپ رہی تھی۔ ان کے سامنے مون سون کی بارشوں سے بپھرا ہوا طوفانی دریا تھا، اور دریا کے اس پار ایک ایسا خوفناک منظر تھا جسے دیکھ کر سکندرِ اعظم کے مایہ ناز جرنیلوں کے بھی پسینے چھوٹ گئے۔ دریا کے اس پار کالے بادلوں کے سائے میں سینکڑوں دیوہیکل ‘جنگی ہاتھی’ کھڑے تھے، جن کی چنگھاڑ سے زمین ہل رہی تھی۔ یونانیوں نے اپنی زندگی میں کبھی ہاتھی نہیں دیکھے تھے، اور انہیں لگ رہا تھا جیسے ان کا مقابلہ انسانوں سے نہیں، بلکہ پہاڑ جیسے درندوں…

Read more

یہ آٹھویں صدی عیسوی کا زمانہ تھاجب عباسی خلافت اپنے عروج پر تھی، علم، تہذیب اور طاقت اپنے شباب پر تھے۔مگر اسی روشن دور میں ایک ایسا شخص بھی ابھرا جس نے اپنی ذہانت کو روشنی نہیں، بلکہ فریب کے لیے استعمال کیا۔ اس کا نام ہاشم تھا،مگر تاریخ اسے مقنع خراسانی کے نام سے جانتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ خراسان کے ایک معمولی گاؤں میں ایک دھوبی کے گھر پیدا ہوا۔لیکن اس کی ذہانت غیر معمولی تھی خاص طور پر کیمیا اور دھاتوں کے علوم میں۔ یہی وہ مقام تھا جہاں سے اس کی کہانی خطرناک رخ اختیار کرتی ہے۔ ابتدا میں اس نے لوگوں کو حیران کرنا شروع کیا۔کبھی کیمیا کے تجربات، کبھی عجیب و غریب کرتب،اور پھر اس نے ایک ایسا دعویٰ کیا جس نے لوگوں کے دل و دماغ کو ہلا دیا: “میں عام انسان نہیں، میں ایک برگزیدہ ہستی ہوں!” رفتہ رفتہ اس…

Read more

1528ء کا ایک شاہی دسترخوان… ہندوستان کا بانی اور مغل شہنشاہ ظہیر الدین بابر اپنے امراء کے ساتھ کھانا کھا رہا تھا۔ اچانک اس کی نظر دسترخوان پر بیٹھے ایک معمولی افغان فوجی پر پڑی۔ اس فوجی کے سامنے جب ایک ثابت اور سخت گوشت کا ٹکڑا رکھا گیا، تو اس نے پریشان ہونے کے بجائے انتہائی بے نیازی سے اپنا خنجر نکالا، گوشت کے ٹکڑے کیے اور سکون سے کھانے لگا۔ بابر، جو چہروں کو پڑھنے کا ماہر تھا، فوراً چونک اٹھا۔ اس نے اپنے وزیر خلیفہ سید نظام الدین کو قریب بلا کر سرگوشی کی: “اس افغان پر کڑی نظر رکھنا، مجھے اس کی پیشانی پر بادشاہت کے آثار اور آنکھوں میں ایک طوفان نظر آ رہا ہے۔” بابر کی یہ پیشین گوئی حرف بہ حرف سچ ثابت ہوئی۔ یہ وہ شخص تھا جس نے بابر کے بیٹے ہمایوں کو نہ صرف شکست دی، بلکہ اسے ہندوستان سے…

Read more

20/460
NZ's Corner