بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

دور دور کے زمانے کی بات ہے کہ ایک بادشاہ تھا جسے جھوٹ سے سخت نفرت تھی۔ اس نے اپنی مملکت میں حکم دے رکھا تھا کہ جو بھی جھوٹ بولے گا، اسے سخت جرمانہ دینا پڑے گا اور اس کی زبان کاٹ لی جائے گی۔ اس حکم سے پورے شہر میں خوف طاری ہو گیا، لیکن اس کے باوجود کچھ لوگ جھوٹ بولنے سے باز نہ آتے تھے۔

ایک دن بادشاہ نے سوچا کہ وہ خود بھیس بدل کر شہر میں نکلیں گے اور لوگوں کے اخلاق کا خود مشاہدہ کریں گے۔ چنانچہ بادشاہ نے سادہ کپڑے پہنے اور اپنے وزیر کے ساتھ شہر کی گلیوں میں نکل پڑا۔

شام کا وقت تھا اور سورج ڈھلنے لگا تھا۔ بادشاہ اور وزیر شہر کے ایک گوشے میں پہنچے تو ان کی نظر ایک چھوٹی سی دکان پر پڑی۔ وہاں ایک تاجر بیٹھا اپنا سامان سجا رہا تھا۔ بادشاہ نے تاجر سے پوچھا، “بھائی، کیا ہم تیری دکان پر رات گزار سکتے ہیں؟ ہم مسافر ہیں اور ہمیں ٹھہرنے کی جگہ نہیں ملی۔”

تاجر نے بڑی خوش دلی سے کہا، “ضرور، ضرور! میرے گھر میں جگہ تو کم ہے، لیکن آپ دونوں میرے ساتھ چلیں۔ جو کچھ میرے پاس ہے، وہ آپ کے لیے بھی ہے۔”

بادشاہ اور وزیر تاجر کے گھر گئے۔ تاجر نے اپنی بیوی سے کہا کہ مہمانوں کے لیے کھانا تیار کرے۔ رات کے کھانے کے دوران بادشاہ نے تاجر سے کچھ سوالات پوچھنے شروع کر دیے۔ بادشاہ نے پوچھا، “تمہاری عمر کیا ہے؟”

تاجر نے جواب دیا، “میری عمر بیس سال ہے۔”

بادشاہ حیران ہوا کیونکہ تاجر کے بال سفید ہو چکے تھے اور اس کی داڑھی میں بھی سفیدی آ گئی تھی۔ بادشاہ نے پوچھا، “تمہارے پاس کتنی دولت ہے؟”

تاجر نے کہا، “ستر ہزار دینار۔”

بادشاہ کو یہ جواب اور بھی عجیب لگا کیونکہ تاجر کی دکان چھوٹی تھی اور گھر میں کوئی خاص سامان نہ تھا۔ بادشاہ نے پوچھا، “تمہارے کتنے بچے ہیں؟”

تاجر نے کہا، “صرف ایک بیٹا ہے۔”

بادشاہ نے دل میں سوچا کہ یہ تاجر بہت بڑا جھوٹا ہے۔ اگلے دن بادشاہ نے اپنے وزیر سے کہا کہ وہ تاجر کے بارے میں چھان بین کرے اور اس کے اصل کاغذات منگوا لے۔ جب کاغذات آ گئے تو بادشاہ نے دیکھا کہ تاجر کی اصل عمر پچاس سال تھی، اس کے پاس دس ہزار دینار تھے، اور اس کے چار بیٹے تھے۔ بادشاہ کو بہت غصہ آیا اور اس نے تاجر کو دربار میں طلب کر لیا۔

تاجر جب دربار میں پیش ہوا تو بادشاہ نے سختی سے کہا، “اے تاجر! تو نے مجھ سے جھوٹ بولا ہے؟ تیری اصل عمر پچاس سال ہے، تیرے پاس دس ہزار دینار ہیں، اور تیرے چار بیٹے ہیں۔ تو نے بیس سال، ستر ہزار اور ایک بیٹا کیوں کہا؟”

تاجر بے خوف ہو کر بولا، “اے بادشاہ سلامت! میں نے جھوٹ نہیں بولا۔ میری جو عمر نیکی اور عبادت میں گزری ہے، وہ صرف بیس سال ہے۔ باقی تیس سال میں نے غفلت میں گزارے، وہ میرے حساب میں نہیں۔ میرے پاس جو ستر ہزار دینار ہیں، وہ وہ دولت ہے جو میں نے اللہ کی راہ میں دی ہے اور صدقہ کیا ہے۔ باقی دس ہزار میں نے خود پر خرچ کیے، وہ میرے اصل سرمائے میں شامل نہیں۔ اور میرے جو چار بیٹے ہیں، ان میں سے صرف ایک میری اطاعت کرتا ہے اور مجھے بوڑھاپے میں سہارا دیتا ہے۔ باقی تین نے مجھ سے منہ موڑ لیا ہے۔ تو اے بادشاہ، اصل عمر وہ ہے جو نیکی میں گزرے، اصل دولت وہ ہے جو اللہ کی راہ میں خرچ ہو، اور اصل اولاد وہ ہے جو نیک اور فرمانبردار ہو۔”

بادشاہ تاجر کی بات سن کر دنگ رہ گیا۔ اس نے کہا، “بے شک تو نے سچ کہا۔ جھوٹ وہ ہے جو دل میں ہو، نہ کہ زبان پر۔ میں تجھے انعام دیتا ہوں اور تیرا جرمانہ معاف کرتا ہوں۔”

اخلاقی سبق: اصل عمر وہ ہے جو نیکی میں گزرے، اصل دولت وہ ہے جو راہِ خدا میں خرچ ہو، اور اصل اولاد وہ ہے جو نیک ہو۔

Leave a Reply

NZ's Corner