ایک جنگل میں ایک چھوٹا سا خرگوش رہتا تھا۔ وہ بہت پیارا تھا، لیکن اس میں ایک بڑی خامی تھی۔ وہ بہت ضدی تھا۔ اگر وہ ایک بار کسی بات پر اڑ جاتا تو اسے کوئی بھی نہ مان سکتا تھا۔ اس کے ماں باپ نے اسے کتنا سمجھایا کہ ضد کرنا اچھی بات نہیں ہے، لیکن خرگوش کسی کی نہ سنتا تھا۔
ایک دن خرگوش بھوک سے بے حال ہو گیا۔ وہ کھانے کی تلاش میں جنگل سے باہر نکلا اور بہت دور جا نکلا۔ وہاں اسے ایک باغ نظر آیا۔ باغ میں خوبصورت گاجریں اگی ہوئی تھیں۔ خرگوش بہت خوش ہوا اور خوب گاجریں کھائیں۔ اس کے بعد اس نے سوچا کہ کچھ گاجریں اپنے گھر بھی لے جائے۔ اس نے اتنی ساری گاجریں اکٹھی کیں کہ ایک بہت بڑا گچھا بن گیا۔
خرگوش نے وہ گچھا اپنے منہ میں لیا اور گھر کی طرف چل پڑا۔ راستے میں ایک نالہ تھا جس پر لکڑی کا ایک پرانا پل بنا ہوا تھا۔ پل بہت کمزور اور نازک تھا۔ خرگوش جب پل کے پاس پہنچا تو وہاں ایک بوڑھا آدمی بیٹھا تھا۔ اس نے خرگوش کو دیکھ کر کہا، “اے ننھے خرگوش! یہ پل بہت کمزور ہے۔ تم اتنے سارے گاجروں کا گچھا منہ میں لے کر اس پل پر نہ جانا۔ پہلے یہ گاجریں ادھر رکھ دو، پھر تھوڑا تھوڑا کر کے لے جانا۔”
خرگوش نے کہا، “نہیں! میں ایک ہی بار میں سب لے جاؤں گا۔ مجھے کچھ نہیں ہوگا۔”
بوڑھے نے پھر سمجھایا، “بیٹا، ضد اچھی نہیں ہوتی۔ میری بات مان لو۔”
لیکن خرگوش نے ایک نہ سنی۔ وہ اپنے ضدی دماغ پر اڑ گیا۔ اس نے کہا، “میں نے ایک بار ٹھان لیا تو پھر پیچھے نہیں ہٹتا۔”
یہ کہہ کر وہ گاجروں کا بھاری گچھا منہ میں لیے پل پر چڑھ گیا۔ دو ہی قدم رکھے تھے کہ پل کی لکڑیاں چٹخنے لگیں۔ خرگوش کو ذرا بھی پرواہ نہ تھی۔ وہ آگے بڑھتا رہا۔ پل زور سے چٹخا اور ٹوٹ کر نالے میں جا گرا۔ خرگوش بھی پانی میں جا گرا اور اس کے منہ سے گاجروں کا سارا گچھا چھوٹ کر پانی میں بہہ گیا۔
خرگوش نے بڑی مشکل سے اپنی جان بچائی اور کنارے آیا۔ اس کا سارا جسم پانی سے تر تھا اور اس کے پاس ایک بھی گاجر نہ تھی۔ وہ بہت دیر تک پل کے ٹوٹے ہوئے ٹکڑوں کو دیکھتا رہا اور اسے اپنی ضد پر بہت پچھتاوا ہوا۔ اس نے سوچا، “کاش میں اس بوڑھے کی بات مان لیتا۔”
اس دن کے بعد خرگوش نے اپنی ضد کو کم کیا اور دوسروں کی بات سننا شروع کر دیا۔
اخلاقی سبق: ضد کرنا نقصان دہ ہے، عقلمند وہ ہے جو دوسروں کی بات سن لے اور اپنی غلطی پر نظر ثانی کرے۔
