Tag Archives: urdustory

پرانے زمانے میں چور دیہاتوں میں ایک واردات کا طریقہ استعمال کرتے تھے جسے “سنڑھ لگانا” کہتے تھے۔ یہ ایک خاموش اور نہایت چالاکی سے کی جانے والی واردات تھی۔غمی خوشی کے موقع پر گھر کی ماسی، جو روزمرہ کے کاموں میں مکمل رسائی رکھتی تھی، جہیز کے زیورات، ٹرنک، پیٹی، صندوق اور کمروں کی ترتیب اپنے ذہن میں محفوظ کر لیتی۔ اکثر وہ گھر والوں کو مشورے بھی دیتی، مثلاً کہ فلاں صندوق کو فلاں جگہ رکھیں۔ وہ نہ صرف سامان اٹھانے یا منتقل کرنے میں مدد کرتی بلکہ اندر کی ہر چھوٹی جگہ اور ترتیب کا بھی نقشہ ذہن نشین کر لیتی۔کمرے کے اندر وہ چاروں اطراف قدموں سے ناپ لیتی اور دیواروں کے طاقچوں کو یاد کر لیتی، جہاں دیا، لالٹین یا چھوٹا سامان رکھا ہوتا۔ موقع ملتے ہی اسی دیوار کی بیرونی جانب کوئلے سے ایک نشان بنا دیتی — عام لوگوں کے لیے معمولی، مگر…

Read more

ایک نجومی لوگوں کے ہاتھ دیکھ کر ان کی موت کا وقت بتایا کرتا تھا اور عجیب بات یہ تھی کہ جس وقت کا وہ اعلان کرتا، عین اسی وقت وہ شخص مر جاتا۔ اس کی شہرت پورے ملک میں پھیل چکی تھی۔ امیر ہو یا غریب، سب اس کے پاس آتے اور کانپتے دل کے ساتھ اپنا ہاتھ اس کے سامنے رکھ دیتے۔ جب یہ خبر سلطان تک پہنچی تو سلطان کے دل میں بھی ایک ہلکا سا خوف جاگا، حالانکہ وہ ایک بہادر اور عقل مند حکمران تھا۔ سلطان نے فوراً سپاہیوں کو حکم دیا کہ اس نجومی کو محل میں حاضر کیا جائے۔نجومی جب محل میں آیا تو اس کے چہرے پر نہ خوف تھا نہ گھبراہٹ، جیسے وہ پہلے ہی سب جانتا ہو۔ سلطان نے اسے غور سے دیکھا اور کہا،“کیا تو ہاتھ دیکھ کر موت کا وقت بتا سکتا ہے؟”نجومی نے سر جھکا کر جواب…

Read more

نمرود، جو خود کو خدا کہتا تھا، ایک حقیر سے مچھر کے آگے بے بس ہو چکا تھا۔ اس کا سارا غرور، اس کی ساری طاقت، اس کی فوجیں، اس کے محلات — سب بے معنی ہو گئے تھے۔ اب وہ اپنے ہی محل کے ایک کمرے میں قید ہو کر رہ گیا تھا، جہاں نہ کوئی لشکر کام آتا تھا اور نہ ہی اس کی خدائی کے دعوے۔کہا جاتا ہے کہ جب مچھر اس کے دماغ میں داخل ہوا تو اسے ایسا درد اٹھا کہ وہ دیوانوں کی طرح چیخنے لگا۔ پہلے تو اس نے سپاہیوں کو حکم دیا کہ اسے طبیبوں کے پاس لے جایا جائے۔ شہر کے بڑے بڑے حکیم بلائے گئے۔ جڑی بوٹیاں آزمائی گئیں، تعویذ لٹکائے گئے، ٹھنڈے پانی کی پٹیاں رکھی گئیں، مگر درد کم ہونے کے بجائے بڑھتا ہی گیا۔جب درد شدت اختیار کرتا تو وہ اپنے سر کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ…

Read more

قدیم جاپان میں، کیوتو کے قریب ایک پہاڑی پر ایک لکڑی کا پل تھا جسے لوگ “پلِ فیصلہ” کہتے تھے۔ روایت تھی کہ جو اس پل سے گزرتا ہے، وہ واپس وہی انسان نہیں رہتا۔ اسیعلاقے میں ہارو نام کا ایک نوجوان سامورائی رہتا تھاتلوار تیز، اصول سخت، اور دل میں ایک ہی خواہش: بے داغ عزت۔ ایک رات اس کے استاد نے اسے بلایا اور ایک خفیہ حکم دیا:“شہر کے ایک بوڑھے کاتب کو خاموش کرنا ہے۔ وہ سچ لکھتا ہے، اور سچ اس وقت ریاست کے لیے خطرہ ہے۔” ہارو نے سر جھکا لیا۔ حکم، حکم ہوتا ہے۔ مگر دل میں پہلی بار بوجھ اترا۔ وہ رات کے اندھیرے میں پل کی طرف بڑھا۔ پل کے بیچ پہنچ کر اسے ایک کمزور آواز سنائی دی۔ بوڑھا کاتب پل کے کنارے بیٹھا کاغذات سمیٹ رہا تھا۔ اس نے ہارو کو دیکھ کر کہا:“تم دیر سے آئے ہو۔ میں جانتا…

Read more

جگنو ٹیلرز : بے گناہ اور ناحق ق۔ت۔ل خود پکار اٹھتا ہے ۔۔۔۔ 1998 میں ایک مزدور کےاندھے ق۔ت۔ل کی تفتیش کی روداد جب واقعات کی کڑیاں ایسے ملتی گئیں کہ تفتیشی افسران بھی حیران رہ گئے ۔۔۔۔۔ گوجرانوالہ میں ایک روز پولیس کو اطلاع ملی کی ایک لا۔ش کسی ٹوبہ یا تالاب میں تیر رہی ہے ، پولیس موقع پر پہنچی ، لا۔ش کے گل سڑ جانے اور پھول جانے کی وجہ سے شناخت ممکن نہ تھی ، ایک ہجوم جمع تھا مگر کسی نے شناخت نہ کی ، لہذا رسمی کارروائی کے بعد پولیس نے لا۔ش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھجوا دیا ، متوفی کی جیب سے بھی کچھ نہ ملا تھا ، پوسٹ۔ مارٹم رپورٹ میں وجہ موت سر پر لگنے والی چوٹ بتائی گئی اور یہ کہ ٹوبہ میں پھینکے جانے سے قبل اس شخص کی موت ہو چکی تھی جسے ق۔ت۔ل کیا گیا ہے…

Read more

کہا جاتا ہے کہ جب کوئی رومی سپاہی اپنے گھوڑے کو پانی پلاتے اور وہ نہ پیتا، تو وہ اسے ڈانٹ کر کہتا:“تجھے کیا ہوا، پیتا کیوں نہیں؟ کیا تجھے پانی میں ابن فتحون نظر آگیا ہے؟!”ابو الولید ابن فتحون اپنے زمانے میں عرب و عجم کے سب سے بڑے بہادر اور اندلس کے مشہور ترین شہسواروں میں سے تھے۔ رومی فوجیں ان کے نام سے کانپتی تھیں، اور ان کی ہیبت کا یہ عالم تھا کہ کہا جاتا ہے کہ خود گھوڑے بھی ان سے ڈرتے تھے۔ سلطان کی ناراضگی اور حاسدوں کی سازشابو الولید، سرقسطہ (اندلس کا ایک بڑا سرحدی شہر) کے امیر المستعین بن ہود کے دور میں تھے۔ امیر ان کی بہت عزت کرتا تھا اور ہر انعام میں انہیں 500 دینار عطا کرتا تھا۔ ان کے ساتھیوں نے ان کی اس منزلت پر حسد کیا اور سلطان کے کان بھر دیے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ…

Read more

یہ اس دور کا ذکر ہے جب بنی اسرائیل نے اپنی آنکھوں سے سمندر کو پھٹتے دیکھا تھا۔ فرعون غرق ہو چکا تھا۔ لاجک کہتی ہے کہ ان کا ایمان اتنا پکا ہونا چاہیے تھا کہ کوئی ہلا نہ سکے۔ لیکن ہوا کیا؟ حضرت موسیٰ علیہ السلام صرف چالیس راتوں کے لیے کوہِ طور پر گئے۔ پیچھے ایک شخص تھا، سامری۔ اس شخص نے قوم کی سائیکالوجی کو سمجھا۔ اس نے دیکھا کہ یہ لوگ دکھاوے اور آواز سے متاثر ہونے والے ہیں۔ اس نے زیورات پگھلا کر سونے کا ایک بچھڑا بنایا جس میں سے ہوا گزرتی تھی تو آواز آتی تھی۔ سامری نے ایک بیانیہ یا نیریٹو سیٹ کیا کہ یہ تمہارا خدا ہے۔ اور حیرت کی بات دیکھیں! وہ قوم جس نے ابھی خدا کا معجزہ دیکھا تھا، وہ ایک اسٹیچو کے آگے سجدے میں گر گئی۔ یہ تاریخ کا سب سے بڑا ماس برین واشنگ کا…

Read more

حشاشین (Assassins) جس کو باطنیان بھی کہتے ہیں۔ایک دہشت پسند اور خفیہ جماعت تھی جس کی بنیاد حسن بن صباح نے رکھی۔ اور انکا مرکز” الموت” میں قلعہ الموت تھا۔ اس جماعت کا خاتمہ ہلاکو خان کے ہاتھوں ہوا۔ جس نے قلعہ الموت کو فتح کرکے حسن بن صباح کے آخری جانشین رکن الدین کو گرفتار کرلیا اور ہزاروں فدائیوں کو بڑی بے رحمی سے قتل کر دیا۔قلعہ الموت (Alamut Castle) بحیرہ قزوین کے نزدیک صوبہ جیلان، ایران میں ایک پہاڑی قلعہ تھا۔ یہ موجودہ تہران، ایران سے تقریبا 100 کلومیٹر (60 میل) کے فاصلے پر ہے۔ حسن بن صباح کی قیادت میں یہ دہشت پسند اور خفیہ جماعت حشاشین (Assassins) کا مرکز رہا۔ اس قلعہ اور جماعت کا خاتمہ ہلاکو خان کے ہاتھوں ہوا۔حشاشین کی ابتدا کے شواہد 1080ء میں ملتے ہیں۔ حشاشین کے ماخذ کے بارے میں معلومات حاصل کرنا ایک دشوار کا م ہے کیونکہ زیادہ تر…

Read more

ایک بڑے دریا کے پُرسکون کنارے پر ایک سرسبز و شاداب جنگل تھا۔ وہاں دریا کی لہروں پر جھکے ہوئے ایک درخت پر ایک ذہین بندر بستا تھا۔ وہ دن بھر میٹھے پھل کھاتا اور سکون کی زندگی بسر کرتا۔ اسی دریا میں ایک مگرمچھ بھی رہتا تھا۔ بندر اکثر اپنے درخت کے رسیلے پھل دریا میں پھینک دیتا، جنہیں کھا کر مگرمچھ بہت خوش ہوتا۔ یوں، وقت کے ساتھ ساتھ دونوں میں گہری دوستی ہوتی گئیایک روز مگرمچھ کی بیوی نے ان میٹھے پھلوں کا ذکر سنا تو اس کے ذہن میں ایک شیطانی خیال آیا۔ اس نے اپنے شوہر سے کہا:> “جو بندر روزانہ ایسے شیریں پھل کھاتا ہے، سوچو اس کا اپنا دل کتنا میٹھا ہوگا! مجھے اس کا دل کھانا ہے، چاہے کچھ بھی ہو جائے۔”> مگرمچھ پہلے تو ہچکچایا، لیکن بیوی کے اصرار کے آگے ہار مان گیا اور اپنے دوست کو دھوکہ دینے کا…

Read more

ایک سلطنت میں ایک طاقتور بادشاہ حکومت کرتا تھا۔اس کے پاس سب کچھ تھا—دولت، فوج، اختیار۔لیکن اس کی سب سے قیمتی چیز اس کی بیٹی، شہزادی تھی۔شہزادی نہایت ذہین اور نرم دل تھی۔وہ محل کی اونچی دیواروں سے باہر کی دنیا دیکھنا چاہتی تھی،لوگوں کے دکھ سمجھنا چاہتی تھی۔ایک دن اس نے باپ سے کہا:“ابا جان، میں رعایا کے درمیان جانا چاہتی ہوں،دیکھنا چاہتی ہوں کہ لوگ کیسے جیتے ہیں۔”بادشاہ نے سختی سے منع کر دیا:“بادشاہوں کی بیٹیاں سوال نہیں کرتیں،وہ صرف حکم مانتی ہیں۔”شہزادی خاموش ہو گئی،مگر اس کی آنکھوں میں سوال زندہ رہے۔کچھ دن بعد سلطنت میں قحط آیا۔لوگ بھوکے مرنے لگے۔بادشاہ کو خبر ملی،مگر اس نے سوچا:“یہ مسئلہ خزانے سے حل ہو جائے گا۔”شہزادی نے کہا:“ابا جان، خزانہ کافی نہیں،لوگوں کو صرف روٹی نہیں،عدل اور توجہ بھی چاہیے۔”بادشاہ نے پہلی بار بیٹی کی بات سنی نہیں—اور نقصان بڑھتا گیا۔آخرکار بادشاہ خود بھیس بدل کر شہر گیا۔جو کچھ…

Read more

ایک طاقتور بادشاہ دنیا کو فتح کرنے کے ارادے سے نکلا۔ اس کے لشکر کی گرد سے زمین کانپتی تھی، نیزوں کی چمک سورج کو چیلنج دیتی تھی، اور اس کے نام سے بادشاہوں کے دل دہل جاتے تھے۔ مگر تقدیر نے اسے ایک ایسی بستی سے گزارا جو دنیا کے ہنگاموں سے بالکل بے خبر تھی۔یہ افریقہ کی ایک چھوٹی سی بستی تھی۔ نہ فصیل، نہ فوج، نہ قلعہ۔ لوگ سادہ تھے، دل صاف، اور زندگی حیرت انگیز حد تک پُرسکون۔ یہاں کے باشندے جنگ کے مفہوم سے ناواقف تھے۔ وہ فاتح اور مفتوح کے فرق کو نہیں جانتے تھے، کیونکہ انہوں نے کبھی کسی کو مغلوب ہوتے نہیں دیکھا تھا۔جب بادشاہ اس بستی میں داخل ہوا تو لوگوں نے اسے دشمن نہیں بلکہ مہمان سمجھا۔ اسے احترام کے ساتھ اپنے سردار کی جھونپڑی میں لے گئے۔ وہی جھونپڑی ان کی مجلس بھی تھی، عدالت بھی، اور فیصلے کا…

Read more

پھجے میاں نے اس شام ایک پرانی ڈراؤنی فلم دیکھی تھی جس میں ایک جن درختوں پر الٹا لٹک کر لوگوں کو ڈراتا تھا۔ بس پھر کیا تھا، رات کے دو بجے پھجے میاں کے اندر کا “خفتہ جن” بیدار ہو گیا۔ وہ نیند میں ہی بستر سے ایسے اٹھے جیسے کوئی بجلی لگی ہو، ان کی آنکھیں آدھی کھلی تھیں اور وہ عجیب و غریب غراہٹ والی آوازیں نکال رہے تھے۔انہوں نے اپنی سفید چادر کو سر سے پاؤں تک ایسے لپیٹا کہ وہ سچ مچ کا ایک لمبا تڑنگا سایہ لگنے لگے۔ پھجے میاں نے دبے پاؤں چلنا شروع کیا اور کچن سے ایک کالا کڑاہا اٹھا کر اسے اپنے چہرے کے آگے کر لیا۔ اب وہ کمرے میں سوئے ہوئے اپنے کزن شفیق کے سرہانے جا کھڑے ہوئے اور ایک ایسی آواز نکالی جیسے کوئی پرانا دروازہ چڑچڑا رہا ہو۔ شفیق کی جیسے ہی آنکھ کھلی، اس…

Read more

کتا لاٹھی کو دیکھتا ہے،بھیڑیا اُس ہاتھ کو دیکھتا ہے جو لاٹھی تھامے ہوئے ہے،اور لومڑی آنکھوں میں دیکھتی ہے۔یہ حکمت جانوروں کے بارے میں نہیں،بلکہ انسانوں کے شعور کی مختلف سطحوں کو بے نقاب کرتی ہے۔کتا صرف آلے کو دیکھتا ہے؛ظاہر ہونے والے عمل میں اُلجھ جاتا ہے،لاٹھی پر حملہ کرتا ہےاور یہ بھول جاتا ہے کہ اسے کس نے حرکت دی۔یہ اُن لوگوں کی مثال ہےجو صرف ردِّعمل میں جیتے ہیں،نتائج پر غصہ کرتے ہیںمگر اسباب سے غافل رہتے ہیں۔بھیڑیا نظر میں کچھ گہرا ہے؛وہ فاعل کو دیکھتا ہے،سمجھتا ہے کہ نقصان کہاں سے آیا،لیکن پھر بھی براہِ راست ٹکراؤ کا قیدی ہے،طاقت کے مقابل طاقت۔اور رہی لومڑی،تو وہ آنکھوں میں دیکھتی ہے؛حرکت سے پہلے نیت کو،عمل سے پہلے فیصلے کو،اور لاٹھی بننے سے پہلے خیال کو پڑھ لیتی ہے۔یہیں سے اصل ذہانت شروع ہوتی ہے:کہ تم اُس چیز کو پڑھ سکوجو ابھی ہوئی ہی نہیں۔قدیم حکمت خاموشی…

Read more

چنگیز خان نے اپنی وفات سے پہلے اپنی وسیع و عریض سلطنت کو اپنے چار بیٹوں: جوجی خان، اوقطائی خان، چغتائی خان اور تولی خان کے درمیان تقسیم کر دیا تھا۔   جوجی خان (بڑا بیٹا): اسے بحیرہ قزوین کے شمالی علاقے، بلغار اور قفقاز (Caucasus) کا حصہ ملا۔ تاہم، جوجی خان اپنے والد کی زندگی ہی میں وفات پا گیا، چنانچہ اس کی وراثت اس کے بیٹے باتو خان کو ملی۔ باتو خان نے ایک بڑی مہم کی قیادت کی اور مشرقی سمت سے یورپ پر حملہ آور ہوا۔   تولی خان: اسے منگولیا کی سرزمین ملی، جو بعد میں اس کے بیٹے ہلاکو خان کے حصے میں آئی۔ ہلاکو خان نے ایک عظیم لشکر کے ساتھ فارس (ایران) کو فتح کیا اور پھر بغداد کی طرف بڑھا، جہاں اس نے عباسی خلیفہ کو شہید کیا اور پھر شام و مصر کی طرف پیش قدمی کا ارادہ کیا۔ برکہ…

Read more

اصل مسئلہ کیا ہے ؟کیا آپ جانتے ہیں کہ جیفری ایپسٹین کا وہ جزیرہ کیا راز چھپائے ہوئے تھا جس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا؟ مکمل تفصیل اس تحریر میں پڑھیں۔جیفری ایپسٹین: ایک عالمی شیطان کا عبرت ناک انجام اور ادھورے سچ آج کل انٹرنیٹ پر ایپسٹین فائلز کے چرچے ہیں، اور ہر طرف بڑے بڑے ناموں کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ لیکن یہ پورا معاملہ ہے کیا؟ وہ کون تھا جس نے دنیا کے طاقتور ترین لوگوں کو اپنے قدموں میں جھکا رکھا تھا اور اس کا “جزیرہ” کیا راز چھپائے ہوئے تھا؟ آئیے حقائق کی گہرائی میں اترتے ہیں۔ جیفری ایپسٹین کون تھا؟ جیفری ایپسٹین ایک امریکی ارب پتی فنانسر تھا، جس کے بارے میں لوگ جانتے تو کم تھے لیکن اس کا اثر و رسوخ وائٹ ہاؤس سے لے کر برطانوی شاہی محل تک پھیلا ہوا تھا۔ وہ ایک ایسی شخصیت تھی جس…

Read more

ایک دن ایک بطخ اپنے ننھے منے بچوں کے ساتھ جھیل کی طرف جا رہی تھی۔ بچے بہت خوش تھے اور اپنی ماں کے پیچھے پیچھے کواک کواک کرتے ہوئے مزے سے چل رہے تھے کہ اچانک ماں بطخ کی نظر دور کھڑی ایک لومڑی پر پڑی۔ وہ سہم گئی اور فوراً چلائی، “بچوں! جلدی سے جھیل کی طرف بھاگو، وہاں لومڑی ہے!” جب بچے جھیل کی طرف بھاگے تو ماں بطخ نے انہیں بچانے کے لیے ایک انوکھی چالاکی سوچی؛ اس نے زمین پر اپنے پر گھسیٹنے شروع کر دیے جیسے وہ زخمی ہو اور اڑ نہ سکتی ہو۔ لومڑی یہ دیکھ کر نہال ہو گئی کہ آج تو آسان شکار ہاتھ لگا ہے اور وہ تیزی سے بطخ کی طرف لپکی۔ ماں بطخ نے لومڑی کو اپنے پیچھے لگائے رکھا اور اسے جھیل سے بہت دور لے گئی تاکہ اس کے بچے محفوظ ہو جائیں۔ جیسے ہی اس…

Read more

جب ملا نصیرالدین اپنے گھر کے دروازے پر پہنچے تو حسبِ عادت مڑے کہ گدھے کو اندر لے آئیں، مگر پیچھے جو منظر دیکھا اُس نے ان کے قدموں تلے زمین ہلا دی۔ رسی کے دوسرے سرے پر گدھا نہیں بلکہ ایک آدمی کھڑا تھا، جس کی گردن میں رسی پڑی ہوئی تھی اور وہ معصومیت سے ملا کو دیکھ رہا تھا۔ملا نے آنکھیں ملیں، پھر غور سے دیکھا۔“یا اللہ خیر! یہ کیا ماجرا ہے؟ میرا گدھا کہاں گیا؟”وہ آدمی فوراً ہاتھ جوڑ کر بولا،“ملا صاحب! گھبرائیے مت، میں ہی آپ کا گدھا ہوں۔”ملا نے حیرت سے پوچھا،“یہ کیسی بات کر رہے ہو؟ انسان گدھا کیسے بن سکتا ہے؟”وہ شخص رونے کی صورت بنا کر کہنے لگا،“ملا صاحب، یہ سب میرے برے اعمال کا نتیجہ ہے۔ میں اپنی ماں کی نافرمانی کرتا تھا، اس کی بددعاؤں سے مجھے سزا ملی اور میں گدھا بنا دیا گیا۔ آج کئی سال بعد…

Read more

اندلس کی فضاؤں میں اُس شام ایک عجیب سی اداسی گھلی ہوئی تھی۔سرخ آسمان، جیسے کسی آنے والے طوفان کی خبر دے رہا ہو۔ قرطبہ کی گلیوں میں لوگ خاموش تھے، مسجدوں میں دعائیں تھیں، اور دلوں میں ایک ہی سوال:کیا اسلام کی یہ سرزمین محفوظ رہ پائے گی؟شمال میں کاسٹائل کا بادشاہ الفانسو ہشتم اپنی فوجیں جمع کر چکا تھا۔ صلیبوں سے سجے جھنڈے، فولادی زرہیں، اور تکبر سے بھری آنکھیں—وہ سمجھ رہا تھا کہ یہ اندلس پر آخری وار ہوگا۔مگر وہ یہ بھول چکا تھا کہ جب زمین پر مومن سجدے میں گر جائیں، تو آسمان فیصلہ بدل دیتا ہے۔مراکش میں، ایک خیمے کے اندر، چراغ کی مدھم روشنی میں ایک شخص خاموش بیٹھا تھا۔یہ خلیفہ ابو یوسف یعقوب المنصور تھے—موحدین کے امیر، مگر دل سے ایک عاجز بندۂ خدا۔وہ نقشے نہیں دیکھ رہے تھے وہ امت کا حال دیکھ رہے تھے۔انہوں نے سر اٹھایا، آسمان کی طرف…

Read more

یہ واقعہ ایک ایسے صاحب کا ہے جنہیں نیند میں چلنے اور بولنے کی بیماری تھی، لیکن ان کی اس بیماری نے پورے محلے کو ایک رات “توبہ” کرنے پر مجبور کر دیا۔ ان کا نام کریم بخش تھا، مگر محلے والے انہیں “کریموں مراقبہ” کہتے تھے کیونکہ وہ اکثر چلتے چلتے کہیں بھی کھڑے کھڑے سو جاتے تھے۔ایک دفعہ گرمیوں کی رات تھی، کریم صاحب اپنی چھت پر سو رہے تھے۔ اچانک ان کا “خوابوں والا انجن” اسٹارٹ ہوا اور وہ نیند ہی میں اٹھ کر چل دیے۔ اتفاق سے اس رات محلے کے چوہدری صاحب کے گھر چوری کی واردات ہوئی تھی اور پورے محلے کے مرد لاٹھیاں لے کر گلیوں میں پہرہ دے رہے تھے۔کریم صاحب سفید لٹھا پہن کر، آنکھیں بند کیے، ہاتھ لہراتے ہوئے گلی میں آئے تو پہرہ دینے والے نوجوانوں کی جان نکل گئی۔ ایک تو آدھی رات کا وقت، اوپر سے کریم…

Read more

وہ سب سے بلند ترین پہاڑ پر چڑھ گیا.. اس نے گھوم کر چاروں طرف دیکھا اس کے ایک طرف مشرق تھا جہاں سے سورج نکلتا تھا.. افق سے جہاں سے سورج نکلتا تھا وہاں تک اس کی بادشاھت تھی.. اس دوسری جانب مغرب تھا جہاں سورج غروب ھوتا تھا. زمین کے اس کنارے تک جہاں تک سورج ڈوبتا دکھائی دیتا تھا وہاں تک اس کی حکومت تھی.. اس کے تیسری طرف سمندر دکھائی دیتا تھا.. سمندر کا پانی جہاں تک نظر آتا تھا وہاں تک اس کی حکومت تھی. اس کے چوتھی جانب پہاڑوں کا طویل سلسلہ تھا. یہ سلسلہ کوہ جہاں تک دکھائی پڑتا تھا وہاں تک اس کی حکومت تھی. ایک طرف دنیا کا سب سے بڑا صحرا تھا. اس صحرا کے ریت کے ذرے ذرے پر اس کی بادشاھت تھی.. دنیا بھر کے جنگلوں صحراؤں سمندروں پہاڑوں خشکی کے میدانوں وادیوں اور دریاؤں پر اس کی…

Read more

460/460
NZ's Corner