ایک نجومی لوگوں کے ہاتھ دیکھ کر ان کی موت کا وقت بتایا کرتا تھا اور عجیب بات یہ تھی کہ جس وقت کا وہ اعلان کرتا، عین اسی وقت وہ شخص مر جاتا۔ اس کی شہرت پورے ملک میں پھیل چکی تھی۔ امیر ہو یا غریب، سب اس کے پاس آتے اور کانپتے دل کے ساتھ اپنا ہاتھ اس کے سامنے رکھ دیتے۔ جب یہ خبر سلطان تک پہنچی تو سلطان کے دل میں بھی ایک ہلکا سا خوف جاگا، حالانکہ وہ ایک بہادر اور عقل مند حکمران تھا۔ سلطان نے فوراً سپاہیوں کو حکم دیا کہ اس نجومی کو محل میں حاضر کیا جائے۔
نجومی جب محل میں آیا تو اس کے چہرے پر نہ خوف تھا نہ گھبراہٹ، جیسے وہ پہلے ہی سب جانتا ہو۔ سلطان نے اسے غور سے دیکھا اور کہا،
“کیا تو ہاتھ دیکھ کر موت کا وقت بتا سکتا ہے؟”
نجومی نے سر جھکا کر جواب دیا،
“اگر اللہ نے چاہا تو میں وہی بتاتا ہوں جو مجھے نظر آتا ہے۔”
سلطان نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا۔ نجومی قریب آیا، کچھ لمحے خاموشی سے ہاتھ کو دیکھتا رہا، پھر اس کا چہرہ سنجیدہ ہو گیا۔ اس نے دھیمی آواز میں کہا،
“حضور، کل شام سورج ڈوبنے سے پہلے آپ کی موت ہو جائے گی۔”
یہ سننا تھا کہ دربار میں سناٹا چھا گیا۔ وزیر، امیر، سپاہی سب کے چہروں کا رنگ اڑ گیا۔ مگر سلطان نے اپنے چہرے پر سختی طاری رکھی۔ اس نے نجومی کو جانے کا اشارہ کیا۔ نجومی خاموشی سے پلٹا اور محل سے چلا گیا۔
رات بھر سلطان کو نیند نہ آ سکی۔ کبھی تلوار کو دیکھتا، کبھی تخت کو، کبھی محل کی بلند دیواروں کو۔ اسے پہلی بار احساس ہوا کہ اقتدار، طاقت اور دولت سب بے بس ہیں۔ صبح ہوئی تو سلطان بے حد بے چین تھا۔ وہ بار بار اپنے ہاتھ کو دیکھتا، جیسے موت کی کوئی لکیر ابھرتی ہوئی محسوس کر رہا ہو۔ اچانک اسے یوں لگا جیسے انگوٹھے سے جان نکل رہی ہو، بدن میں ایک سرد لہر دوڑ گئی۔
سلطان نے فوراً نجومی کو دوبارہ بلوانے کا حکم دیا۔
کچھ ہی دیر میں نجومی دربار میں حاضر تھا۔ سلطان نے سخت لہجے میں کہا،
“کل شام کا وقت ابھی آیا نہیں، مگر مجھے اپنے جسم میں عجیب سی کیفیت محسوس ہو رہی ہے۔ سچ بتا، کیا میری موت ابھی قریب ہے؟”
نجومی نے سلطان کی آنکھوں میں دیکھا اور کہا،
“حضور، موت کا وقت بدلتا نہیں، بس انسان کا دل کمزور پڑ جاتا ہے۔”
سلطان لمحہ بھر خاموش رہا، پھر اچانک اس نے ایک غیر متوقع سوال کر دیا،
“اچھا، تو یہ بتا… تیری موت کب ہے؟”
نجومی یہ سوال سن کر چونک گیا۔ اس کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ اس نے نظریں جھکا لیں اور خاموش رہا۔
سلطان نے دوبارہ پوچھا،
“کیا تو اپنا ہاتھ نہیں دیکھ سکتا؟ یا اب تیرا علم ختم ہو گیا ہے؟”
نجومی کے ہاتھ ہلکے سے کانپنے لگے۔ اس نے آہستہ سے کہا،
“حضور… میری موت آپ کی موت سے ایک دن پہلے ہے۔”
یہ سنتے ہی سلطان کے چہرے پر ایک معنی خیز مسکراہٹ آ گئی۔ اس نے دربار کی طرف دیکھا اور بلند آواز میں حکم دیا،
“سپاہیو! اس نجومی کو فوراً قید خانے میں ڈال دو اور آج ہی اسے سزائے موت دے دی جائے۔”
نجومی چیخ اٹھا،
“حضور! یہ کیا کر رہے ہیں؟ آپ نے خود سنا ہے، میری موت آپ سے پہلے ہے!”
سلطان نے ٹھنڈے لہجے میں جواب دیا،
“اسی لیے تو تجھے آج مرنا ہوگا، تاکہ کل میری موت کا وقت غلط ثابت ہو جائے۔”
نجومی کو گھسیٹ کر لے جایا گیا۔ اسی دن اسے قتل کر دیا گیا۔ شام ڈھل گئی، رات آ گئی، اور اگلا دن بھی گزر گیا۔ سلطان زندہ تھا، صحت مند تھا، اور تخت پر بیٹھا ہوا تھا۔
دربار میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ سب نے سمجھا کہ سلطان نے تقدیر کو شکست دے دی ہے۔ مگر سلطان کے دل میں عجیب سی بے چینی تھی۔ اس نے وزیروں کو رخصت کیا اور تنہائی میں بیٹھ کر سوچنے لگا۔
اچانک سلطان نے اپنے سینے میں شدید درد محسوس کیا۔ وہ تخت سے اٹھنے ہی والا تھا کہ اس کے قدم لڑکھڑا گئے۔ اس کے ہونٹوں سے بس اتنا ہی نکلا،
“اللہ…”
اور وہ زمین پر گر پڑا۔
جب حکیموں نے آ کر دیکھا تو سلطان دم توڑ چکا تھا۔
اس دن سب کو یہ حقیقت سمجھ آ گئی کہ نہ نجومی موت کا مالک ہوتا ہے، نہ سلطان۔ موت نہ ہاتھ کی لکیروں میں قید ہے، نہ انسان کے اختیار میں۔ جو وقت لکھا جا چکا ہو، وہ نہ آگے ہوتا ہے نہ پیچھے۔ انسان صرف ایک فریب میں جیتا ہے کہ شاید وہ تقدیر کو بدل سکتا ہے، مگر درحقیقت تقدیر ہی اسے چلا رہی ہوتی ہے۔
اور یوں یہ کہانی ایک سبق بن گئی:
موت کا وقت صرف اللہ جانتا ہے، باقی سب دعوے صرف دھوکہ ہیں۔
#UniversalStudios #pakistanifashion #naturelovers #dudhuchak #narowalnews #storytelling #skgnew #shortsreels #ghsdudhuchak #shortdrama #lahore #Multan #Sialkot #zafarwal #Narowal #Gujranwala #islamabad #Rawalpindi #tesla #ghsdudhuchak #urdushayari #urduquotes #urdunovels #urdupoetry #urduadab #urdu
