پرانے زمانے میں چور دیہاتوں میں ایک واردات کا طریقہ استعمال کرتے تھے جسے “سنڑھ لگانا” کہتے تھے۔ یہ ایک خاموش اور نہایت چالاکی سے کی جانے والی واردات تھی۔
غمی خوشی کے موقع پر گھر کی ماسی، جو روزمرہ کے کاموں میں مکمل رسائی رکھتی تھی، جہیز کے زیورات، ٹرنک، پیٹی، صندوق اور کمروں کی ترتیب اپنے ذہن میں محفوظ کر لیتی۔ اکثر وہ گھر والوں کو مشورے بھی دیتی، مثلاً کہ فلاں صندوق کو فلاں جگہ رکھیں۔ وہ نہ صرف سامان اٹھانے یا منتقل کرنے میں مدد کرتی بلکہ اندر کی ہر چھوٹی جگہ اور ترتیب کا بھی نقشہ ذہن نشین کر لیتی۔
کمرے کے اندر وہ چاروں اطراف قدموں سے ناپ لیتی اور دیواروں کے طاقچوں کو یاد کر لیتی، جہاں دیا، لالٹین یا چھوٹا سامان رکھا ہوتا۔ موقع ملتے ہی اسی دیوار کی بیرونی جانب کوئلے سے ایک نشان بنا دیتی — عام لوگوں کے لیے معمولی، مگر چوروں کے لیے پورا پورا نقشہ۔
سخت گرمیوں میں جب لوگ صحن یا چھت پر سوتے، یا جاڑے کی یخ بستہ راتوں میں لحافوں میں دبکے ہوتے، تو چور اسی نشان زدہ دیوار سے اینٹیں نکالتے، آواز دبانے کے لیے گیلی بوری وغیرہ استعمال کرتے اور ایک ایسا سوراخ بنا لیتے کہ سامان چپکے چپکے باہر نکل جاتا۔ صبح سب کچھ ویسا ہی ہوتا، سوائے دیوار کے شگاف کے، جسے سنڑھ کہتے، اور اس کے پار کھلے ہوئے صندوق، بکھرا ہوا سامان، اور خالی پیٹی نظر آتی۔
اصل واردات یہی تھی، اور آج بھی اسی طرح جاری ہے۔ اب لوگ دیوار میں شگاف نہیں لگاتے، بس وہ جگہ ڈھونڈ لیتے ہیں جہاں آپ کی ذات میں کوئی کمزوری یا دراڑ ہو۔ یہ کوئی بھولی بسری خواہش ہو، کوئی ادھورا خواب، یا دل کا بوجھ جو آپ کسی کو محرم راز سمجھ کر بتاتے ہیں۔
پھر ایک دن، معمولی سا طنزیہ جملہ، زہریلی مسکراہٹ، بدلتا رویہ، یا خاموش وار، آپ کے اندر ایسی سنڑھ لگا دیتا ہے جس سے آپ کا سکون، نیند اور بھروسہ سب چوری ہو جاتا ہے۔ باہر سب کچھ ٹھیک دکھائی دینے کی کوشش کرتے ہیں، مگر اندر ایک شگاف رہ جاتا ہے، جس کے سامنے آپ حیران کھڑے ہو کر پوچھتے ہیں:
“یہ کب ہوا؟ کیسے ہوا؟ کیونکر ہوا؟”
اگر آپ کو یہ تحریر پسند آئے تو مجھے فالو ضرور کریں۔
