نمرود

نمرود

نمرود، جو خود کو خدا کہتا تھا، ایک حقیر سے مچھر کے آگے بے بس ہو چکا تھا۔ اس کا سارا غرور، اس کی ساری طاقت، اس کی فوجیں، اس کے محلات — سب بے معنی ہو گئے تھے۔ اب وہ اپنے ہی محل کے ایک کمرے میں قید ہو کر رہ گیا تھا، جہاں نہ کوئی لشکر کام آتا تھا اور نہ ہی اس کی خدائی کے دعوے۔
کہا جاتا ہے کہ جب مچھر اس کے دماغ میں داخل ہوا تو اسے ایسا درد اٹھا کہ وہ دیوانوں کی طرح چیخنے لگا۔ پہلے تو اس نے سپاہیوں کو حکم دیا کہ اسے طبیبوں کے پاس لے جایا جائے۔ شہر کے بڑے بڑے حکیم بلائے گئے۔ جڑی بوٹیاں آزمائی گئیں، تعویذ لٹکائے گئے، ٹھنڈے پانی کی پٹیاں رکھی گئیں، مگر درد کم ہونے کے بجائے بڑھتا ہی گیا۔
جب درد شدت اختیار کرتا تو وہ اپنے سر کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر زمین پر مارتا۔ پھر حکم دیا کہ اس کے سر پر ہتھوڑے مارے جائیں تاکہ شاید اس ضرب سے سکون ملے۔ اس کے درباری باری باری اس کے سر پر چوٹ لگاتے، اور عجیب بات یہ تھی کہ اسے واقعی کچھ لمحوں کے لیے آرام محسوس ہوتا۔ یوں وہ شخص جو کبھی دوسروں کو سزائیں دیتا تھا، اب خود سزا کا طلب گار بن گیا تھا۔
اس کی حالت دیکھ کر لوگ کانپ اٹھتے۔ آدھا جسم مفلوج سا ہو چکا تھا۔ چہرہ سوج کر بگڑ گیا تھا۔ آنکھوں کی چمک ماند پڑ چکی تھی۔ جو شخص کل تک تخت پر اکڑ کر بیٹھتا تھا، آج زمین پر تڑپ رہا تھا۔
کبھی وہ چیخ کر کہتا:
“میرے لشکر کو بلاؤ! کہاں ہیں وہ ہزاروں سپاہی؟ کہاں ہیں وہ جو میرے اشارے پر جان دینے کو تیار تھے؟”
مگر محل کے دروازے بند تھے، اور اندر صرف اس کی کراہیں گونجتی تھیں۔
ایک دن وہی فرشتہ، جو پہلے انسان کی صورت میں نصیحت کرنے آیا تھا، دوبارہ ظاہر ہوا۔ اس نے نمرود کی طرف دیکھا — وہ جو کبھی خدائی کا دعویٰ کرتا تھا، اب ایک مچھر کے عذاب میں بے بس پڑا تھا۔
فرشتے نے نرمی سے کہا:
“اے نمرود! اب بھی وقت ہے۔ اب بھی توبہ کا دروازہ کھلا ہے۔ مان لو کہ تم بندے ہو اور رب صرف ایک ہے۔ اس کی بارگاہ میں جھک جاؤ، شاید تمہیں معاف کر دیا جائے۔”
نمرود نے تکلیف سے کراہتے ہوئے آنکھیں کھولیں۔ لمحہ بھر کو ایسا لگا جیسے اس کا غرور ٹوٹ چکا ہو۔ مگر اگلے ہی لمحے اس کے چہرے پر ضد کی پرچھائی ابھر آئی۔ اس نے کمزور آواز میں کہا:
“میں… میں بادشاہ ہوں… میں کیسے جھک سکتا ہوں؟”
فرشتے نے افسوس سے سر ہلایا۔
“جس نے تمہیں بنایا، اس کے آگے جھکنے میں عزت ہے۔ مگر تم نے ذلت کو چن لیا ہے۔”
درد کی ایک اور لہر اٹھی۔ نمرود چیخ مار کر زمین پر گر پڑا۔ اس کے درباری خوف سے پیچھے ہٹ گئے۔ کوئی قریب آنے کی ہمت نہ کرتا تھا، مگر حکم کے ڈر سے اس کے سر پر چوٹ لگاتے رہتے۔
چالیس دن تک وہ اسی عذاب میں مبتلا رہا۔ ہر دن اس کی طاقت گھٹتی گئی۔ اس کی آواز مدھم پڑتی گئی۔ محل کی رونق ویرانی میں بدل گئی۔ جس بادشاہ کے دربار میں کبھی ساز بجتے تھے، وہاں اب آہ و بکا کی صدائیں تھیں۔
لوگ سرگوشیوں میں کہتے:
“یہ وہی ہے جس نے کہا تھا کہ میں خدا ہوں؟”
آخرکار ایک رات درد کی شدت اپنی انتہا کو پہنچی۔ نمرود کا جسم کانپ رہا تھا۔ آنکھیں الٹ چکی تھیں۔ اس نے آخری بار ہاتھ اٹھایا، جیسے کسی کو پکڑنا چاہتا ہو، مگر فضا میں ہی رہ گیا۔ ایک لمبی چیخ کے ساتھ اس کی سانس ٹوٹ گئی۔
اسی لمحے مچھر، جو اس کے دماغ میں تھا، خاموش ہو گیا۔ گویا اپنا کام پورا کر چکا ہو۔
یوں ایک عظیم سلطنت کا مالک، ایک جابر بادشاہ، ایک مدعیٔ خدائی — ایک معمولی مچھر کے ہاتھوں ذلیل و خوار ہو کر ختم ہو گیا۔
اس کی فوجیں باقی رہ گئیں، مگر سردار نہ رہا۔ اس کے محل کھڑے رہے، مگر ان میں رہنے والا مٹ گیا۔ اس کی طاقت کے قصے ہوا ہو گئے، مگر عبرت کی داستان باقی رہ گئی۔
لوگوں نے دیکھا کہ طاقت کا غرور کس طرح ریزہ ریزہ ہوتا ہے۔ وہ جو حضرت ابراہیمؑ کو آگ میں جلانا چاہتا تھا، خود ایک ننھی سی مخلوق کے آگے بے بس ہو گیا۔ آگ اس کا کچھ نہ بگاڑ سکی تھی، مگر مچھر نے اس کا انجام لکھ دیا۔
یہ واقعہ رہتی دنیا تک ایک پیغام بن گیا کہ انسان چاہے کتنی ہی ترقی کر لے، کتنی ہی فوجیں جمع کر لے، کتنے ہی دعوے کر لے — وہ اللہ کی قدرت کے سامنے کچھ بھی نہیں۔ کبھی کبھی وہ اپنی سب سے کمزور مخلوق کو بھیج کر سب سے بڑے جابر کو گرا دیتا ہے، تاکہ دنیا جان لے کہ اصل بادشاہت کس کی ہے۔
نمرود کی کہانی یہ سکھاتی ہے کہ تکبر انسان کو اندھا کر دیتا ہے۔ جب انسان خود کو سب سے بڑا سمجھنے لگتا ہے تو وہ اپنی حقیقت بھول جاتا ہے۔ مگر قدرت کا ایک معمولی سا اشارہ اس کے غرور کو خاک میں ملا دیتا ہے۔
اور یوں ایک مچھر انسان کا قاتل بنا — مگر اصل قاتل اس کا اپنا غرور تھا۔
#UniversalStudios #pakistanifashion #naturelovers #dudhuchak #narowalnews #storytelling #skgnew #shortsreels #ghsdudhuchak #shortdrama #lahore #Multan #Sialkot #zafarwal #Narowal #Gujranwala #islamabad #Rawalpindi #tesla #ghsdudhuchak #urdushayari #urduquotes #urdunovels #urdupoetry #urduadab #urdu #IslamicHistory #HazratAbraham #Nimrod #MiraclesOfAllah #IslamicStories #LessonsFromQuran #AllahIsGreat #IslamicTeachings

Leave a Reply

NZ's Corner