Tag Archives: #urdustory #urduquotes #MoralStory

لکھنو میں ایک استاد بڑی ثقیل قسم کی اردو بولا کرتے تھے اور اپنے شاگردوں کو بھی یہی “نصیحت” کرتے تھے، کہ جب بات کرنی ہو،،،،،، تو تشبیہات، استعارات، محاورات اور ضرب الامثال سے آراستہ پیراستہ اردو زبان استعمال کیا کرو۔ ایک بار “دورانِ تدریس” یہ “استاد صاحب” حقہ پی رہے تھے انھوں نے جو زور سے حقہ گڑگڑایا،،،،، تو اچانک چلم سے ایک چنگاری اڑی،، اور استاد جی کی پگڑی پر جا پڑی۔ ایک شاگرد اجازت لے کر کھڑا ہوا اور بڑے ادب سے گویا ہوا: “حضور والا؛ یہ بندہ “ناچیز” حقیر فقیر، پُر تقصیر، ایک روح فرسا حقیقت،حضور کے “گوش گزار” کرنے کی جسارت کر رہا ہے،،،،،، وہ یہ کہ؛ آپ لگ بھگ نصف گھنٹہ سے حقہ نوشی ادا فرما رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔چند ثانیے قبل میری چشم نارسا نے ایک اندوہناک منظر کا مشاہدہ کیا،،،،،، کہ ایک شرارتی آتشی پتنگا آپکی چلم سے افقی سمت میں بلند ہو کر،چند…

Read more

‏چار ملنگ شہر سے باہر ایک کٹیا میں رہتے تھے۔۔ایک پولیس کا حوالدار بھی ان کے پاس بھنگ پینے آجاتا۔۔ایک دن تنگ آ کر حوالدار کو “دھتورا ” پلا دیا۔حوالدار مر گیا۔ملنگوں نے اسے چار پائی پر ڈالا اوپر چادر چڑھائی اور چار پائی کے ایک ایک پائے کو کندھا دے دیا۔ دیہاتیوں میں لوگ تعلق کی بنا پر جنازے میں شامل ہوتے ہیں اور شہروں میں لوگ کلمہ شہادت سن کر۔جب ملنگ شہر میں داخل ہوئے تو کلمہ شہادت کا نعرہ لگانے لگے۔شہری مسلمان جنازے کو کندھا دینے لگے۔ جب ملنگوں نے دیکھا کہ کافی لوگ جنازے کے ساتھ چل رہے ہیں تو وہ کھسک گئے۔جنازہ قبرستان پہنچا تو نہ کوئی والی وارث اور نہ ہی قبر کھدی ہوئی۔ پولیس کو اطلاع کی گئی۔پولیس والوں نے جب میت کے چہرے سے چادر ہٹائی تو اپنا ہی حوالدار نکلا۔۔۔کلمہ شہادت کہنے والوں کو دس دس ہزار دے کر جان چھڑانا…

Read more

اندلس کی فضاؤں میں اُس شام ایک عجیب سی اداسی گھلی ہوئی تھی۔سرخ آسمان، جیسے کسی آنے والے طوفان کی خبر دے رہا ہو۔ قرطبہ کی گلیوں میں لوگ خاموش تھے، مسجدوں میں دعائیں تھیں، اور دلوں میں ایک ہی سوال:کیا اسلام کی یہ سرزمین محفوظ رہ پائے گی؟شمال میں کاسٹائل کا بادشاہ الفانسو ہشتم اپنی فوجیں جمع کر چکا تھا۔ صلیبوں سے سجے جھنڈے، فولادی زرہیں، اور تکبر سے بھری آنکھیں—وہ سمجھ رہا تھا کہ یہ اندلس پر آخری وار ہوگا۔مگر وہ یہ بھول چکا تھا کہ جب زمین پر مومن سجدے میں گر جائیں، تو آسمان فیصلہ بدل دیتا ہے۔مراکش میں، ایک خیمے کے اندر، چراغ کی مدھم روشنی میں ایک شخص خاموش بیٹھا تھا۔یہ خلیفہ ابو یوسف یعقوب المنصور تھے—موحدین کے امیر، مگر دل سے ایک عاجز بندۂ خدا۔وہ نقشے نہیں دیکھ رہے تھے وہ امت کا حال دیکھ رہے تھے۔انہوں نے سر اٹھایا، آسمان کی طرف…

Read more

ایک پرانے زمانے کا ذکر ہے کہ ایک بلند و بالا اور دشوار گزار پہاڑ پر ایک نہایت خوفناک اور ظالم دیو رہا کرتا تھا۔ اس کا معمول تھا کہ وہ روزانہ آس پاس کی بستیوں پر دھاوا بولتا، وہاں سے انسانوں کو پکڑ کر لاتا اور اپنی خوراک بنا لیتا۔ گرد و نواح کے لوگ دیو کے ان لرزہ خیز مظالم سے عاجز آ چکے تھے اور ہر قیمت پر اس عذاب سے چھٹکارا چاہتے تھے۔ مگر دیو کی ہیبت ان کے دلوں پر اس قدر مسلط تھی کہ وہ کبھی آزادی کے اس خواب کو عملی جامہ پہنانے کی جرات نہ کر سکے۔ جب پانی سر سے گزر گیا اور دیو کا ظلم و ستم حد سے بڑھا، تو رفتہ رفتہ لوگوں کے دلوں میں دبی چنگاری شعلہ بننے لگی اور نفرت پروان چڑھنے لگی۔ آخرکار، یہی نفرت علمِ بغاوت بلند کرنے کا پیش خیمہ بنی۔ بستیوں کے…

Read more

ایک بادشاہ کی عدالت میں ایک ملزم کو پیش کیا گیا۔مقدمہ سننے کے بعد بادشاہ نے اشارہ کیا کہ اسے قتل کر دیا جائے۔حکم ملتے ہی سپاہی اسے قتل گاہ کی طرف لے چلے۔اب چونکہ اسے سب سے بڑی سزا سنائی جا چکی تھی، اس لیے اس کے دل سے خوف نکل چکا تھا۔وہ چلتے چلتے بادشاہ کو بُرا بھلا کہنے لگا، کیونکہ اس کے نزدیک اب اس سے بڑھ کر کوئی سزا باقی نہ تھی۔بادشاہ نے دیکھا کہ قیدی کچھ کہہ رہا ہے تو اس نے وزیر سے پوچھا:“یہ کیا کہہ رہا ہے؟”بادشاہ کا یہ وزیر نہایت نیک دل تھا۔اس نے سوچا، اگر سچ سچ بتا دیا گیا تو بادشاہ غصے میں آ کر قتل سے پہلے بھی قیدی کو اذیت دے سکتا ہے۔چنانچہ اس نے عرض کیا:“حضور! یہ کہہ رہا ہے کہ اللہ اُن لوگوں کو پسند کرتا ہے جو غصہ ضبط کرتے ہیں اور لوگوں کے ساتھ…

Read more

کسی گاؤں میں ایک کسان رہتا تھا۔وہ سارا دن اپنے کھیت میں کام کرتا اور مشکل سے اتنا کما پاتا کہ دو وقت کا کھانا کھا سکے۔وہ خود بھی بہت سیدھا سادا تھا،مگر اس کو جو بیوی ملی وہ حد درجہ بے وقوف تھی۔ ان کی شادی کو کچھ زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا۔ایک دن صبح سویرے جب کسان کھیتوں پر جانے کو تیار ہوا تو اپنی بیوی سے کہنے لگا:”آج کھیت میں سارا دن ہل چلانا پڑے گا جس سے بہت تھکاوٹ ہو جائے گی اور بھوک بھی بہت لگے گی،اس لئے تم میری واپسی تک اچھا اور لذیذ کھانا بنا کر رکھنا اور ساتھ ایک گلاس سرکہ بھی جو میں پچھلے سال خرید کر لایا تھا۔ “یہ کہہ کر وہ اپنے کام پر چلا گیا۔ جب کسان کی واپسی کا وقت قریب آیا تو بیوی نے کھانا تیار کرنا شروع کیا۔ اپنے شوہر کو خوش کرنے کے لئے…

Read more

دیہاتی اپنے خچر (گدھے جیسا جانور) سے بہت پریشان تھا۔ وہ خچر اتنا سست تھا کہ ایک قدم چلتا اور دس منٹ رک جاتا۔دیہاتی اسے کھینچ کھینچ کر تھک گیا، آخر کار وہ اسے لے کر گاؤں کے ایک مشہور “حکیم” کے پاس گیا۔ دیہاتی نے کہا:“حکیم صاحب! میرا یہ جانور بہت کام چور اور سست ہو گیا ہے۔ یہ بالکل نہیں چلتا۔ کوئی ایسی دوا دیں کہ اس میں بجلی جیسی پھرتی آ جائے۔” حکیم بہت تجربہ کار تھا۔ اس نے اپنی پڑیا میں سے تھوڑی سی “لال مرچ” نکالی، خچر کی دم اٹھائی اور وہ مرچ وہاں لگا دی جہاں نہیں لگانی چاہیے تھی۔ 🌶️🔥 مرچ لگتے ہی خچر نے ایک فلک شگاف چیخ ماری اور ہوا سے باتیں کرتا ہوا، گولی کی رفتار سے سیدھا بھاگ کھڑا ہوا۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ دیہاتی یہ دیکھ کر حیران رہ گیا۔ وہ سر پکڑ…

Read more

ایک سلطنت پر ایک ظالم اور مغرور بادشاہ حکومت کرتا تھا جس کی رعایا پروری صرف لگان وصول کرنے تک محدود تھی۔ اسی شہر میں ایک غریب کسان رہتا تھا جو قرض کے بوجھ تلے اتنا دبا ہوا تھا کہ ہر گزرتے سانس پر اس کا سود بڑھ رہا تھا۔ مایوس ہو کر وہ بادشاہ کے پاس فریاد لے کر گیا، مگر بے رحم بادشاہ نے اسے مدد دینے کے بجائے یہ کہہ کر دھتکار دیا کہ “غربت ایک ذہنی حالت ہے، جاؤ جا کر محنت کرو۔” وہ شخص بھوکا پیاسا جنگل کی طرف نکل گیا تاکہ قدرت کے لنگر (پھل وغیرہ) سے پیٹ بھر سکے۔ وہاں اس نے دیکھا کہ ایک کبوتر کا گھونسلہ آندھی سے گرنے والا ہے، اس نے ہمدردی میں اسے سہارا دے کر مضبوط ٹہنی پر ٹکا دیا۔وہیں قریب ایک ہرن شکاری جال میں تڑپ رہا تھا، غریب آدمی نے اس پر بھی ترس کھایا…

Read more

ایک گاؤں میں ایک بار سردیوں کی کالی رات میں ایک چور چوری کی نیت سے چوہدری صاحب کے ڈیرے میں داخل ہوا۔ بدقسمتی سے ابھی وہ تالا توڑنے ہی والا تھا کہ چوہدری کے کتے بھونکنے لگے اور ملازم جاگ گئے۔چور کی جان پر بن آئی، وہ بھاگ کر قریبی قبرستان میں گھس گیا۔ وہاں ایک پرانی ٹوٹی ہوئی قبر کے پاس سفید چادر پڑی تھی۔ اس نے سوچا کہ اگر پکڑا گیا تو کٹ لگے گی، اس لیے اس نے فوراً وہ چادر اوڑھی اور ایک کتبے کے پاس آلتی پالتی مار کر بیٹھ گیا اور آنکھیں بند کر لیں۔اتنے میں ملازم ٹارچیں لیے وہاں پہنچ گئے۔ جب انہوں نے اندھیرے میں سفید چادر پوش ہستی کو دیکھا تو ان کی سٹی پٹی گم ہوگئی۔ ایک ملازم تھر تھر کانپتے ہوئے بولا کہ بھائیو یہ تو کوئی پہنچے ہوئے بزرگ لگ رہے ہیں جو اس وقت عبادت میں…

Read more

مصر کے ایک شہر میں ایک نوجوان کا چرچا تھا۔ نہ وہ عالمِ دین کے طور پر مشہور تھا، نہ خطیب تھا، نہ امیر۔ مگر اس کے نام کا سکہ زبانِ عام پر اس وجہ سے تھا کہ وہ ایک ہی رات میں اکیلا مسجد تعمیر کر دیتا تھا۔لوگ حیران تھے۔دن بھر مسجد کا میدان خالی ہوتا، اینٹیں الگ پڑی ہوتیں، لکڑی، مٹی، چونا اپنی جگہ۔ مگر فجر کے وقت جب لوگ آتے تو مسجد کھڑی ہوتی—دیواریں، محراب، حتیٰ کہ وضو کا انتظام بھی۔سب سے عجیب بات یہ تھی کہ وہ نوجوان کام کے دوران کسی کو قریب آنے نہیں دیتا تھا۔ اگر کوئی قدموں کی آہٹ بھی سن لیتا تو کام چھوڑ دیتا، جیسے سایہ بن کر غائب ہو جاتا۔لوگ کہتے: “یہ انسان نہیں، کوئی جن ہے!” کوئی کہتا: “یہ جادو جانتا ہے!” کوئی کہتا: “یہ کوئی اللہ کا ولی ہے!”مگر نوجوان خاموش رہتا۔نہ تعریف قبول کرتا،نہ اپنا نام…

Read more

ایک کوا ایک ہنس کو جھیل میں سکون سے تیرتے دیکھ کر بہت متاثر ہوا۔ اس نے سوچا کہ اگر وہ بھی ہنس کی طرح پانی میں رہے گا تو اس کے پر بھی سفید اور چمکدار ہو جائیں گے۔ کوے نے ہنس کی طرح پانی میں غوطے لگانا اور مچھلیاں پکڑنا شروع کر دیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ کوا نہ تو اپنی سیاہی بدل سکا اور نہ ہی اسے کائیں کائیں والی خوراک ملی۔ سردی اور پانی کی وجہ سے وہ بیمار ہو کر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔سبق: اللہ نے ہر جاندار کو الگ خصوصیات دی ہیں، اپنی اصلیت بدلنے کی کوشش جان لیوا ہو سکتی ہے۔

ایک بار کا ذکر ہے…تھر کے سنسان ریگستان میں، ایک چھوٹے سے گاؤں کے قریب ایک بوڑھا شخص بشیر اپنے اونٹ لالو کے ساتھ زندگی گزار رہا تھا۔لالو اس کے لیے محض ایک جانور نہیں تھا، بلکہ دوست، ساتھی اور جینے کا واحد سہارا تھا۔ بچپن سے اُس نے لالو کو پالا تھا۔ برسوں کا ساتھ تھا—چاہے گرمی کی جھلسا دینے والی دھوپ ہو یا سرد راتوں کی خاموشی، دونوں ایک دوسرے کے ہمسفر تھے۔بشیر کے پاس دولت نہیں تھی، مگر قناعت تھی۔ وہ لالو پر سوار ہو کر گاؤں گاؤں سبزیاں اور دودھ بیچتا، اور اسی معمولی کمائی میں زندگی گزار لیتا۔گاؤں کے بچے لالو سے بےحد محبت کرتے تھے۔ وہ اپنی ناک سے بچوں کو ہلکا سا دھکا دیتا تو ہنسی پورے گاؤں میں گونج اٹھتی۔ایک دن بشیر شدید بیمار پڑ گیا۔ بخار نے اسے چارپائی سے لگا دیا۔لالو اُس کے اردگرد چکر لگاتا رہا، کبھی سونگھتا، کبھی…

Read more

ایک جنگل میں بہت بڑا سیلاب آیا جس سے تمام چھوٹے جانوروں کے گھر بہہ گئے۔ شیر بادشاہ نے اعلان کیا کہ تمام متاثرہ جانوروں کو “امداد” دی جائے گی۔ اس کام کے لیے ایک عقاب کو افسر مقرر کیا گیا کیونکہ وہ بہت بلندی سے سب کچھ دیکھ سکتا تھا۔ایک بوڑھا کچھوا، جس کا گھر مکمل تباہ ہو چکا تھا، امداد کی درخواست لے کر عقاب کے دفتر پہنچا۔ عقاب نے ایک لمبی فہرست دکھائی اور کہا:“پہلے لومڑی سے تصدیق کرواؤ کہ تم واقعی کچھوے ہو، پھر الو سے لکھوا کر لاؤ کہ تمہارا گھر واقعی پانی میں بہا ہے، اور آخر میں بندر سے اس فائل پر مہر لگواؤ۔”بیچارہ کچھوا اپنی دھیمی رفتار سے ایک دفتر سے دوسرے دفتر گھومتا رہا۔ ہر بار جب وہ فائل لے کر پہنچتا، کوئی نہ کوئی نیا اعتراض لگا دیا جاتا۔• لومڑی نے کہا: “تمہاری تصویر میں تمہاری پیٹھ کا خول صاف…

Read more

لارنس آف عربیہ: سلطنتِ عثمانیہ کے خلاف برطانوی سازشوں، جاسوسی، دھوکہ دہی، عرب بغاوت اور مسلمانوں کی تاریخ کی سب سے بڑی غداری کی مکمل داستان مشاہیر عالم میں بعض اوقات نیک نام کے ساتھ بدنام بھی شامل ہوتے ہیں۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے: “ہم طالبِ شہرت ہیں، ہمیں ننگ سے کیا کام، بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا؟” انہی بدنام کرداروں میں تھامس ایڈورڈ لارنس، جسے “لارنس آف عربیہ” کہا جاتا ہے، ایک نمایاں مثال ہے۔ وہ ایک انگریز جاسوس تھا جس نے بہروپ بدل کر عربوں اور ترکوں (عثمانی مسلمانوں) کے درمیان نفرت کے بیج بوئے اور بالآخر سلطنتِ عثمانیہ کو پارہ پارہ کر کے چھوڑ دیا۔ یہ داستان نہ صرف تاریخی حقائق پر مبنی ہے بلکہ برطانوی سامراج کی “divide and rule” پالیسی، جھوٹے وعدوں اور مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے کی سازشوں کی مکمل تصویر پیش کرتی ہے۔ یہ مضمون لارنس کی زندگی،…

Read more

کہا جاتا ہے کہ کسی بادشاہ کا گزر اپنی سلطنت کے  ایک ایسے علاقے  سے ہوا جہاں کے لوگ سیدھا  نہر سے  ہی پانی لیکر پیتے تھے۔  بادشاہ نے حکم دیا کہ عوام الناس کی سہولت کیلیئے یہاں ایک گھڑا  بھر کر رکھ دیا جائے تو زیادہ بہتر رہے گا اور ہر چھوٹا بڑا  سہولت کے ساتھ پانی  پی سکے گا۔ بادشاہ یہ کہتے ہوئے اپنی باقی کے سفر پر آگے کی طرف بڑھ گیا۔ شاہی حکم پر ایک گھڑا خرید کر نہر کے کنارے رکھا  جانے لگا تو ایک اہلکار نے مشورہ دیا یہ گھڑا عوامی دولت سے خرید کر شاہی حکم پر یہاں نصب کیا جا رہا ہے۔ ضروری ہے کہ اس کی حفاظت کا بندوبست کیا جائے اور  ایک سنتری کو چوکیداری کیلیئے مقرر کیا جائے۔ سنتری کی تعیناتی کا حکم ملنے پر یہ قباحت بھی سامنے آئی کہ گھڑا بھر نے کیلیئے کسی ماشکی کا ہونا…

Read more

کچھوا اور خرگوش کی نئی دوستیخرگوش اور کچھوے کی پرانی دشمنی اب دوستی میں بدل چکی تھی۔ ایک دن انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ مل کر ایک بہت دور والے شہر جائیں گے۔ راستے میں ایک بہت بڑی اور تیز لہروں والی ندی آگئی۔ خرگوش وہاں رک گیا کیونکہ اسے تیرنا نہیں آتا تھا اور کچھوا تیز لہروں میں اکیلا پار نہیں جا سکتا تھا۔دونوں نے ایک ترکیب سوچی۔ خشکی پر خرگوش نے کچھوے کو اپنی پیٹھ پر بٹھایا اور تیزی سے دوڑتا رہا۔ جب ندی آئی تو خرگوش کچھوے کی پیٹھ پر سوار ہو گیا اور کچھوے نے اسے باآسانی ندی پار کرا دی۔ اس طرح دونوں نے مل کر اپنا سفر بہت جلد اور کامیابی سے مکمل کر لیا۔سبق: انفرادی قابلیت اپنی جگہ اہم ہے لیکن ٹیم ورک اور مل جل کر کام کرنے سے ناممکن کام بھی ممکن ہو جاتے ہیں۔

ایک مرتبہ جنگل میں بادشاہت کے خاتمے کا اعلان ہوا اور طے پایا کہ اب “جمہوریت” آئے گی، یعنی جانور خود اپنا لیڈر چنیں گے۔ پورے جنگل میں خوشی کی لہر دوڑ گئی کہ اب ان کی تقدیر بدلے گی۔امیدواروں میں ایک طرف ایک محنتی بیل تھا جو سارا دن ہل چلاتا تھا اور دوسری طرف ایک چرب زبان کتا تھا جو لومڑیوں اور بھیڑیوں کا منظورِ نظر تھا۔الیکشن سے چند دن پہلے، کتے نے لومڑی کے مشورے پر ایک عجیب چال چلی۔ اس نے جنگل کے غریب ترین علاقوں (چوہوں، خرگوشوں اور بکریوں کے علاقوں) میں جا کر “مفت ہڈیاں” اور “ایک ایک دن کی گھاس” بانٹنا شروع کر دی جو اس نے بڑے بڑے شکاریوں سے ادھار لی تھی۔بندروں نے (جو میڈیا کا کردار ادا کر رہے تھے) شور مچا دیا: “دیکھو! کتا کتنا سخی ہے، وہ تو اپنے پاس سے سب کو کھانا کھلا رہا ہے۔ بیل…

Read more

ایک عورت نے شیطان سے کہا: کیا تم اس شخص کو دیکھ رہے ہو جو درزی کا کام کرتا ہے؟کیا تم اسے اپنی بیوی کو طلاق دینے کیلئے آمادہ کر سکتے ہو ؟ ۔۔۔۔شیطان نے کہا ہاں ، یہ کون سا مشکل کام ھے۔ میں اسے آمادہ کر لوں گا۔… تو شیطان درزی کے پاس گیا اور اسے مختلف سمتوں سے ورغلایا ۔۔۔۔ لیکن درزی اپنی بیوی سے بیحد پیار کرتا تھا، لہذا وہ شیطان کی باتوں میں نہیں آیا اور اس نے اپنی بیوی کو طلاق دینے کے بارے میں سوچا تک نہیں۔شیطان واپس آیا اور اس نے عورت کے سامنے  ہار مان لی ۔عورت نے کہا: اب دیکھو کیا ہوتا ہے!وہ عورت درزی کے پاس گئی اور اس سے کہا کہ میرا بیٹا اپنی محبوبہ کو خوبصورت سوٹ گفٹ کرنا چاہتا ھے جس کیلئے مجھے کپڑے کا ایک خوبصورت ٹکڑا چاہیئے۔ درزی نے اسے ایک کپڑے کا ٹکڑا…

Read more

دولتِ عباسیہ کا تاجدار مامون الرشید، جس نے شیرِ عدل اور حاتم کی سخاوت کو فراموش کر دیا تھا، سلطنتِ بغداد پر حکمرانی کر رہا تھا۔ اس کا بیٹا، شہزادہ عباس، طائفۃ النمل کے قریب شکار میں مصروف تھا۔غروبِ آفتاب کی روشنی میں دریا کے کنارے، ایک حسین عورت پانی کا گھڑا بھر رہی تھی۔ عباس نے اسے دیکھا اور پوچھا:“تم کون ہو؟ اور کس خاندان سے تعلق رکھتی ہو؟ کیا یہاں بھی حسن جنم لے سکتا ہے؟”عورت نے غصے سے جواب دیا اور آگے بڑھ گئی۔ عباس نے حکم دیا کہ اس کا حسب و نسب معلوم کیا جائے اور نکاح کا پیغام بھیجا جائے۔لیکن معلوم ہوا کہ یہ عورت خاندانِ برامکہ کی بیوہ مغیرہ بنت ازدار تھی، دو بچوں کی ماں اور اپنے خاندان کی بربادی کا غم لئے ہوئی۔ نکاح کا پیغام سن کر وہ بے قابو ہو گئی اور فرمایا:“ہارون ہماری جانیں تباہ کر چکا، اب…

Read more

یہ کہانی ایک ایسے شہر کی ہے جس کا نام گرد پا تھا اور یہ ایک عجیب و غریب راز اپنے اندر چھپائے ہوئے تھا۔ اس شہر کے باشندے نسلوں سے اس بات کے عادی تھے کہ ان کی زمین کبھی ساکن نہیں رہتی تھی۔ ہر صبح جب وہ بیدار ہوتے تو ان کے گھروں کے باہر کا منظر بالکل بدل چکا ہوتا تھا۔ کبھی سامنے برفانی چوٹیاں ہوتیں تو کبھی تپتا ہوا ریگستان نظر آتا۔آریان اس شہر کا ایک ایسا نوجوان تھا جس کے دل میں سوالات کا طوفان رہتا تھا۔ وہ جاننا چاہتا تھا کہ یہ شہر روزانہ اپنی جگہ کیسے بدل لیتا ہے۔ ایک رات جب پورا شہر گہری نیند سو رہا تھا، آریان خاموشی سے شہر کی آخری فصیل کی طرف نکل گیا۔ وہاں پہنچ کر اس نے ایک ایسی چیز دیکھی جس نے اس کے ہوش اڑا دیے۔اس نے دیکھا کہ شہر کی بنیادیں مٹی…

Read more

20/22
NZ's Corner