بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

جاپان کے ایک گاؤں میں ایک غریب لکڑہارا رہتا تھا۔ اس کا نام ایچیرو تھا۔ وہ ہر روز جنگل جاتا، درخت کاٹتا، لکڑی بیچتا، اور اپنی بیوی اور دو بچوں کا پیٹ پالتا۔

ایک دن جنگل میں اس نے دیکھا کہ ایک سارس شکنجے میں پھنسی ہوئی ہے۔ وہ بے حال تڑپ رہی تھی۔

ایچیرو نے اس پر رحم کھایا۔ اس نے شکنجہ کھول دیا۔ سارس اڑ گئی۔

اس رات جب ایچیرو گھر واپس آیا تو اس کے گھر میں ایک عورت بیٹھی تھی۔ وہ بہت خوبصورت تھی۔

عورت نے کہا: “میں وہی سارس ہوں جسے تم نے آج بچایا۔ شکریہ۔ میں تمہیں تین خواہشیں پوری کروں گی۔”

ایچیرو نے بیوی سے مشورہ کیا۔ بیوی بولی: “نیا گھر چاہیے۔ یہ پرانا گھر گرنے کو ہے۔”

ایچیرو نے کہا: “پہلی خواہش  نیا گھر۔”

اتنا کہنا تھا کہ پرانا گھر غائب ہو گیا۔ اس کی جگہ ایک نیا خوبصورت گھر تھا۔

اگلے دن بیوی بولی: “ہم بہت غریب ہیں، ہمیشہ پرانے کپڑے پہنتے ہیں۔ خوبصورت کپڑے چاہیے۔”

ایچیرو نے کہا: “دوسری خواہش — خوبصورت کپڑے۔”

خوبصورت کپڑے آ گئے۔ بیوی بہت خوش ہوئی۔

تیسرے دن بیوی بولی: “ایچیرو، اب صرف ایک خواہش بچی ہے۔ بڑی خواہش مانگو۔ ہم امیر بننا چاہتے ہیں۔”

ایچیرو نے سوچا، پھر کہہ دیا: “تیسری خواہش  ہم اس گاؤں کے سب سے امیر لوگ بن جائیں۔”

گھر اور بڑا ہو گیا، صحن میں سونا چاندی بھر گیا، نوکر آ گئے۔

لیکن ایچیرو بدل گیا۔

اسے غرور آ گیا۔ وہ گاؤں والوں کو نیچی نظر سے دیکھنے لگا۔ اس کے پرانے دوستوں سے اس نے ملنا چھوڑ دیا۔ اس کی بیوی بھی بدل گئی  وہ ہر روز نئی چیزیں خریدتی، لوگوں کی برائیاں کرتی۔

ایک دن ایچیرو دریا کے کنارے گیا۔ وہاں وہی سارس اس کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔

سارس نے کہا: “ایچیرو، تم بدل گئے ہو۔”

ایچیرو بولا: “میں امیر ہو گیا ہوں۔ بس۔”

سارس نے کہا: “امیر ہو کر تم نے کیا پایا؟ نیا گھر؟ خوبصورت کپڑے؟ سونا چاندی؟ یہ سب تمہیں کیا دے گیا؟”

ایچیرو چپ رہا۔

سارس بولی: “تم نے گھر پایا، لیکن سکون کھویا۔ کپڑے پائے، لیکن مسکراہٹ کھویا۔ دولت پائی، لیکن دوست کھویا۔ تین خواہشیں پوری ہوئیں، لیکن تم نے کیا پایا؟”

ایچیرو کے آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اسے یاد آیا — پہلے وہ غریب تھا، لیکن خوش تھا۔ اس کی بیوی ہنستی تھی، بچے کھیلتے تھے، دوست آتے جاتے تھے۔ اب سب کچھ تھا، لیکن کوئی خوش نہیں تھا۔

سارس بولی: “تمہارے پاس ابھی ایک خواہش باقی ہے۔”

ایچیرو حیران ہوا۔ “تینوں تو ختم ہو گئیں۔”

سارس بولی: “نہیں۔ جب تم نے میری مدد کی تو میرا دل کھلا تھا۔ پہلی خواہش سے وہ بند ہوا، دوسری سے اور بند، تیسری سے بالکل بند۔ لیکن آج جب تم نے اپنی غلطی پہچانی تو میرا دل پھر کھل گیا۔ یہ چوتھی خواہش ہے۔”

ایچیرو نے کہا: “چوتھی خواہش؟”

سارس بولی: “بتاؤ، تم سچ میں کیا چاہتے ہو؟”

ایچیرو نے آنکھیں بند کیں۔ پھر کہا: “میں وہی پرانی زندگی چاہتا ہوں۔ غریب ہوں، لیکن خوش ہوں۔”

سارس مسکرائی اور غائب ہو گئی۔

ایچیرو گھر آیا تو بڑا گھر غائب تھا۔ وہی پرانی جھونپڑی تھی۔ بیوی پرانے کپڑوں میں لکڑی کاٹ رہی تھی۔ بچے صحن میں کھیل رہے تھے۔

بیوی بولی: “اتنی دیر کہاں تھے؟ جلدی کرو، بچے بھوکے ہیں۔”

ایچیرو کی آنکھوں میں آنسو تھے، لیکن وہ ہنس رہا تھا۔ “ہاں، میں آیا۔”

اس دن کے بعد ایچیرو کے گھر میں پھر سے ہنسی آ گئی۔ کبھی کبھار سارس ان کے صحن میں آ بیٹھتی۔ ایچیرو کہتا: “میں نے تین خواہشیں مانگ کر سب کھو دیا۔ لیکن چوتھی خواہش نے سب واپس دے دیا۔”

سارس بغیر کچھ کہے اڑ جاتی۔

اخلاقی سبق:

یہ کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ حقیقی خوشی دولت میں نہیں ہے۔

· ایچیرو نے نیا گھر پایا، خوبصورت کپڑے پائے، دولت پائی  لیکن سکون کھو دیا۔
· اس نے دوست کھوئے، مسکراہٹ کھوئی، اپنی اصلیت کھو دی۔
· جب اس نے وہی پرانی زندگی واپس مانگی تو اسے سب کچھ مل گیا  کیونکہ اسے یقین آ گیا کہ جو ہے، وہی کافی ہے۔

یہ کہانی ہمیں شکرگزاری اور قناعت کا سبق دیتی ہے۔

حوالہ:

یہ کہانی جاپانی زین بدھ مت کی کہانیوں میں سے ہے۔ جاپان میں زین روایت میں “تین خواہشیں” جیسی کہانیاں سادگی اور قناعت کی اہمیت سکھانے کے لیے سنائی جاتی ہیں۔

یہ کہانی سارس کا احسان (Tsuru no Ongaeshi) کی روایت سے بھی ملتی ہے  جاپان کی مشہور لوک کہانی جس میں ایک سارس اپنے احسان کا بدلہ دیتی ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner