بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

ایک دفعہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون سے کہا اے فرعون ! تو اسلام قبول کر لے اس کے عوض تیری آخرت تو بہتر ہو ہی جائے گی مگر دنیا میں بھی تجھے چار نعمتوں سے نوازا جائے گا۔ تو علی الاعلان اس بات کا اقرار کر لے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی خدا نہیں وہ بلندی پر افلاک اور ستاروں کا پستی میں جن وانس شیاطین اور جانوروں کا پیدا کرنے والا ہے۔ پہاڑوں، دریاؤں، جنگلوں اور بیابانوں کا بھی خالق و مالک ہے۔ اس کی سلطنت غیر محدود ہے اور وہ بے نظیر و بے مثال ہے۔ وہ ہر شخص و ہر مکان کا نگہبان ہے۔ عالم میں ہر جاندار کو رزق دینے والا ہے۔ آسمانوں اور زمینوں کا محافظ ہے نباتات میں پھول پیدا کرنے والا اور بندوں کے دلوں کی باتوں کو جاننے والا سرکشوں پر حاکم اور ان کی سرکوبی کرنے والا ہے۔“

فرعون نے کہا وہ چار چیزیں کونسی ہیں، آپ علیہ اسلام مجھے بتلائیں، شاید ان عمدہ نعمتوں کے سبب میرے کفر کا شکنجہ ڈھیلا ہو جائے ، اور میرے اسلام لانے سے سینکڑوں کے کفر کا قفل ٹوٹ جائے اور وہ مشرف بہ اسلام ہو جائیں۔ اے موسیٰ علیہ اسلام ! جلد ان نعمتوں کے متعلق بیان کر ممکن ہے کہ میری ہدایت کا دروازہ کھل جائے ۔“

حضرت موسی علیہ اسلام نے حکم الہی سے فرمایا اگر تو اسلام قبول کرلے تو پہلی نعمت
تجھے یہ ملے گی کہ تو ہمیشہ تندورست رہے گا اور کبھی بھی بیمار نہیں ہوگا۔ اپنے خانہ تن میں تعلق خداوندی کا ایسا خزانہ دیکھے گا جس کو حاصل کرنے کے لئے تو اپنی تمام خواہشات نفسانیہ کو مرضیات الہیہ کے تابع کرنے کے لئے مجاہدات میں جان تک دینے کو تیار ہو جائے گا۔ اس سے جو دولت تمہیں ملے گی وہ رشک ہفت اقلیم ہوگی۔ خواہشات کے ابر کو پھاڑنے کے بعد مہتاب حقیقی کا… نور تاباں مست کر دیتا ہے۔

اے فرعون ! جس طرح ایک کیڑے کو ہرا پتہ اپنے اندر مشغول کر کے انگور سے محروم کرتا ہے اسی طرح یہ دنیائے حقیر تجھے اپنے اندر مشغول کر کے مولائے حقیقی سے محروم کئے ہوئے ہے اور تو کیڑے کی طرح لذائذ جسمانیہ میں مصروف ہے۔

تیسری نعمت تجھے یہ عطا ہو گی کہ ابھی تو ایک ملک کا بادشاہ ہے۔ اسلام لانے کے بعد تجھے دو ملک عطا ہو نگے ۔ یہ ملک تجھے اللہ تعالیٰ سے بغاوت کرنے کی حالت میں ملا ہے۔ اطاعت کی حالت میں کیا کچھ عطا ہوگا۔ جس کے فضل نے تجھے تیرے ظلم کی حالت میں اس قدر دیا ہے تو اسکی عنایت، وفا کی حالت میں کس درجہ تک ہو گی ۔

گے۔“

اور چوتھی نعمت یہ ملے گی کہ تو ہمیشہ جوان رہے گا اور تیرے بال بھی کالے رہیں گے

یہ باتیں سن کر فرعون کا دل بہت متاثر ہوا۔ اس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا اچھا میں اپنی اہلیہ سے مشور کرلوں ۔ اس کے بعد وہ گھر گیا اور حضرت آسیہ سے اس معاملے میں گفتگو کی۔

( فرعون نے اپنی بیوی آسیہ سے جب یہ ماجرا بیان کیا تو انہوں نے کہا ارے اس وعدہ پر جان قربان کر دے۔)
دے اس کی بشارت سے خوش ہو جا۔ کب تک سرکشی کرتا رہے گا اور گردن تکبر سے اونچی رکھے گا۔ توقف مت کر جلد محبوب حقیقی سے مل جا۔ وہ خالق و مالک تجھے تیرے گناہوں پر شرمندہ نہیں کر رہا تو تو اسکا شکر ادا کر ، خدا تجھے اپنے فضل سے اپنے تک رسائی کا راستہ دے رہا ہے تو دوڑ کر جا۔ دیکھ تو سہی اسے فرعون ! اس قدر تیرے کفر عظیم کے باوجود اس کا اکرام تجھے کیونکر قبول کر رہا ہے، کیا یہ انعام اور عطائے شاہی قابل قدر نہیں؟ ایسا عجیب بازار کس کے ہاتھ لگتا ہے، کہ ایک گل کے عوض گلزار ملتا ہو اور ایک دانے کے عوض سو درخت ملتے ہوں اس سوز و گداز کے ساتھ حضرت آسیہ نے رغبت دلائی کہ جلد از جلد وہ رجوع الی اللہ کرے ۔“

فرعون نے وہی الفاظ پھر سے دہرائے اچھا ہم اپنے وزیر ہامان سے بھی مشورہ کر لیں ۔ حضرت آسیہ نے کہا ” اس سے بیان نہ کرو وہ اس کا اہل نہیں۔ بھلا اندھی بڑھیا باز شاہی کی قدر کیا جانے ۔“

نااہل کے وزیر بھی نااہل ہوتے ہیں۔ ہر شخص اپنے ہم جنس سے ہی مشورہ لینا پسند کرتا ہے۔ الغرض فرعون نے ہامان سے ساری باتیں کہہ دیں اور اس سے مشورہ مانگا کہ اب مجھے کیا کرنا چاہئے ۔ ہامان یہ باتیں سن کر لال پیلا ہو گیا غم و غصے میں آکر اس نے اپنا گر بیاں چاک کر ڈالا شور مچانا اور رونا دھونا شروع کر دیا، اپنی دستار کو زمین پر پیچ دیا اور کہا ہائے ! حضور کی شان میں موسیٰ نے ایسی گستاخی کی ( نعوذ بااللہ) آپ کی شان تو یہ ہے کہ تمام     کائنات آپ کی مسخر ہے مشرق سے مغرب تک سب آپ کے پاس خراج لاتے ہیں، اور سلاطین آپ کے آستانہ کی خاک بخوشی چومتے ہیں۔ انہوں نے آپ کی سخت تو ہین کی ہے۔ آپ تو خود پوری دنیا کے لئے مسجود اور معبود بنتے ہیں۔ آپ ان کی بات مان کر ایک ادنی غلام بننا چاہتے ہیں۔ اگر حضور آپ کو اسلام کی دعوت قبول ہی کرنا ہے تو مجھے پہلے ہی مار ڈالیے، تا کہ کم از کم میں آپ کی یہ تو ہین اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ سکوں ۔ آپ میری گردن فورا مار دیں میں اس منظر کو دیکھنے کی تاب نہیں رکھتا کہ آسمان زمین بن جائے اور خدا بندہ بن جائے ۔ ہمارے غلام ہمارے آقا بن جائیں ۔“

مولانا روم یہاں اس ہامان بے ایمان کو مخاطب ہو کر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے
ہیں۔

اے ہامان مردود ! کتنی ایسی حکومتیں جو مشرق تا مغرب پھیلی ہوئیں تھیں۔ مگر خدا کے قہر سے آج انکا نام و نشان نہیں ہے جو زہر قاتل مشورہ ہامان نے دیا اس کے بارے میں

یہ تکبر جو ہامان میں تھا زہر قاتل تھا، اور اسی زہر آلود شراب سے ہامان بدمست ہو کر احمق ہو گیا تھا، اور اس ملعون کے مشورے سے فرعون نے قبول حق سے انکار کر کے خود کو دائمی رسوائی اور عذاب کے حوالے کر دیا۔ )

جب فرعون ہامان کے بہکاوے میں آگیا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دست مبارک پر دعوت حق کو قبول کرنے سے انکار کر دیا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا:

ہم نے تو بہت سخاوت اور عنایت کی تھی مگر صد افسوس یہ گوہر نایاب تیرے مقدر میں نہ تھے۔

“سبق

جاہل، احمق اور بدکردار سے اچھے مشورے کی توقع ہر گز نہ رکھو!

اگر عورت بھی صاحب کردار ہے تو اس سے مشورہ کر لو، وہ تمہیں اچھا مشورہ دے گی۔

بیوقوف کی صحبت سے تنہائی بہتر ہے لیکن تنہائی سے بہتر ہے کہ اچھے لوگوں کی تلاش جاری رکھوا یقینا تم اُن تک پہنچ جاؤ گے۔

Leave a Reply

NZ's Corner