بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

شیر چاہے کتنا ہی لمبا عرصہ  حکمرانی کرے، سب سے بڑا شیر بھی آخر کار ایک خاموش اور بے بس انجام کو پہنچتا ہے۔
یہی اس دنیا کی حقیقت ہے۔
اپنے عروج پر شہر جنگل کی بادشاہی کرتا ہے — تعاقب کرتا، فتح پاتا،اپنے شکار کو نگل جاتا، اور صرف ہڈیوں کے ٹکڑے پیچھے چھوڑتا ہے۔
طاقت اس کی پہچان ہوتی ہے۔
اقتدار اسے گھیرے رکھتا ہے۔
خوف اس کے پیچھے چلتا ہے۔
مگر وقت بڑا تیزی سے گزرتا ہے۔
عمر اسے کمزور کر دیتی ہے جو کبھی ناقابلِ تسخیر لگتا تھا۔
وہی شیر جو ایک زمانے میں بآسانی شکار کرتا تھا، اب نہ تعاقب کر سکتا ہے، نہ لڑ سکتا ہے، نہ اپنا دفاع کر سکتا ہے۔
وہ ادھر ادھر بھٹکتا پھرتا ہے، خالی پن میں دھاڑتا رہتا ہے، یہاں تک کہ قسمت اسے آ دھرتی ہے۔
جنہیں اس نے ایک زمانے میں نظر انداز کر دیا تھا، آج وہی اسے گھیر لیتے ہیں۔ اس کی طاقت ماند پڑ جاتی ہے، اس کی حکمرانی بھلا دی جاتی ہے۔

زندگی بہت مختصر ہے۔ طاقت جاتی رہتی ہے۔ خوبصورتی قائم نہیں رہتی۔
یہ فطرت کا قانون ہے۔
ہر عروج کو زوال لازمی ہے۔

ہم یہ انسانوں میں بھی دیکھتے ہیں۔
جو شخص بھی کافی لمبی عمر پاتا ہے، ایک دن وہ بھی fragility اور dependency کا سامنا کرتا ہے۔

اس لیے آئیے آج سے ہم بھی عاجزی اختیار کریں۔
کمزوروں کے ساتھ مہربانی کریں،
بیماروں کی خدمت کریں،
اور بے بس لوگوں کا ساتھ دیں۔
اور سب سے بڑھ کر، یہ بات کبھی نہ بھولیں — ہم یہاں صرف تھوڑے وقت کے لیے ہیں
اور ایک دن ہم بھی خاموشی سے اس دنیا کے اسٹیج سے رخصت ہو جائیں گے۔

Leave a Reply

NZ's Corner