بیوقوف گدھا
ایک دھوکے باز گدھے کو جنگل کے قریب ایک مری ہوئی شیر کی کھال ملی۔ گدھے کے دماغ میں ایک شرارت سوجھی؛ اس نے وہ کھال اپنے اوپر اوڑھ لی اور ندی کے پانی میں اپنا عکس دیکھا۔ وہ بالکل ایک خوفناک شیر کی طرح لگ رہا تھا۔گدھا جنگل کی طرف نکلا۔ اسے دیکھ کر تمام جانور، گائے، بھینسیں اور یہاں تک کہ لومڑیاں بھی اپنی جان بچانے کے لیے ادھر ادھر بھاگنے لگیں۔ گدھا یہ دیکھ کر دل ہی دل میں بہت خوش ہوا اور خود کو جنگل کا بادشاہ سمجھنے لگا۔ اب وہ جہاں بھی جاتا، سب جانور ڈر کے مارے اسے راستہ دے دیتے۔ گدھے کی تو جیسے لاٹری نکل آئی تھی، اسے بنا محنت کے ہر جگہ عزت مل رہی تھی۔ایک دن، وہ اسی طرح شیر کی کھال پہن کر ایک کھیت کے پاس سے گزر رہا تھا۔ وہاں دور کچھ اور گدھے کھڑے تھے، جنہوں…
#MessageOfTheDay #میسیج_آف_دی_ڈے #DailyMotivation #UrduQuotes #InspirationalQuotes #NZEECollection #urdustory #urduquotes #MoralStory #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday bloganuary dailyprompt bloganuary dailyprompt bloganuary dailyprompt blogs
Búfalo y burro
Había un granjero que tenía una búfala y un burro en su casa. La búfala acompañaba al granjero al bosque a pastar todas las tardes y regresaba al anochecer. El burro se quedaba en casa, pero él y la búfala tenían una profunda amistad. Cuando la búfala regresaba, le contaba al burro sobre la hierba verde del bosque, la brisa fresca y las orillas del río lejano. Le decía que el suelo era tan suave como una alfombra y que la vegetación era tan densa que deslumbraba sus ojos. Después de escuchar las historias de la búfala, un extraño anhelo surgió en el corazón del burro. A menudo pensaba que él también podría ver con sus propios ojos aquella escena paradisíaca. Un día, el granjero salió de casa. Aprovechando la oportunidad, la búfala le dijo al burro:“Ven hoy, te mostraré el lugar del que siempre te hablo”. El burro se…
bloganuary dailyprompt blogs earlybird groundhogday nightowl Spanish blogs spanish stories weekendwarrior
Intitulado۔۔۔😊!
Había una pequeña hormiga en un hormiguero. No era la más fuerte, ni la más rápida, ni la más sabia. Pero tenía una cualidad que la hacía única: jamás podía ignorar el dolor ajeno y seguir adelante. Si una hormiga se cansaba y no podía recoger un grano, ella la ayudaba. Si alguien tropezaba, lo sostenía. Cuando la lluvia destruía los túneles, era la primera en correr y empezar a reconstruirlos. Con el tiempo, las demás hormigas se acostumbraron a ella. Siempre estaba ahí. ¿Se caía un grano? Ella lo recogía. ¿Quedaba trabajo sin terminar? Ella lo terminaba. ¿Alguien se cansaba? Ella ofrecía su hombro. Pero nadie jamás le preguntó: «¿Y tú… tú también estás cansada?». Cada día, no solo cargaba con su propio peso, sino también con el de los demás, cargas para las que no tenían ni el tiempo ni la fuerza. ¿Acaso descansaba alguna vez? No.Se repetía…
bloganuary dailyprompt blogs earlybird groundhogday nightowl Spanish blogs spanish stories weekendwarrior
بلاعنوان
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک عظیم الشان سلطنت کا نہایت طاقتور بادشاہ اپنے جاہ و جلال، خزانے اور شان و شوکت پر ناز کیا کرتا تھا۔ اس کے محل کی دیواریں سونے سے مزین تھیں، دربار ہیرے جواہرات سے جگمگاتے تھے، اور اس کے ایک اشارے پر ہزاروں خادم حاضر ہو جاتے تھے۔ مگر اس بے پناہ دولت اور طاقت کے باوجود اس کے دل میں ایک انجانی بے چینی بسی رہتی تھی۔ ایک صبح وہ اپنے شاہی لشکر کے ساتھ محل سے باہر نکلا۔ راستے میں ایک بوسیدہ کپڑوں میں ملبوس فقیر درخت کے سائے تلے خاموش بیٹھا تھا۔ اس کی آنکھوں میں عجیب سکون تھا، ایسا سکون جو بڑے بڑے تاجداروں کے نصیب میں نہیں ہوتا۔ بادشاہ اس کے قریب رکا اور غرور بھرے لہجے میں بولا: “اے فقیر! مانگ، کیا چاہتا ہے؟” فقیر نے آہستہ سے سر اٹھایا، مسکرایا، اور بولا: “کیا واقعی تم میری…
#MessageOfTheDay #میسیج_آف_دی_ڈے #DailyMotivation #UrduQuotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollection #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday bloganuary dailyprompt blogs
بلاعنوان
ایک بار نصرالدین ایک گدھا لیے جا رہا تھا جس کی پیٹھ پر لکڑیوں کا گٹھا بندھا ہوا تھا۔ وہ سرحد پار کر رہا تھا کہ وہاں انسپکٹر نے اسے تلاشی کے لیے روک لیا۔ انسپکٹر نے پوچھا، “یہاں تمہارا کیا کام ہے؟” نصرالدین نے جواب دیا، “میں ایک ایماندار اسمگلر ہوں۔” انسپکٹر اس کے جواب پر حیران ہوا اور بولا، “اچھا؟؟ ٹھیک ہے، پھر مجھے سب کچھ تلاش کرنے دو، اور اگر مجھے کچھ ملا تو تمہیں سرحد کا ٹیکس دینا ہوگا۔” نصرالدین نے کہا، “ضرور۔ جیسے تمہاری مرضی۔ لیکن میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ تمہیں کچھ نہیں ملے گا۔” انسپکٹر نے بڑی باریکی سے ہر چیز کی تلاشی لی، سب کچھ کھول کر دیکھا لیکن پھر بھی اسے کچھ نہ ملا۔ آخرکار اس نے نصرالدین کو سرحد پار جانے دیا اور کہا، “لگتا ہے آج تم مجھ سے بچ کر نکل گئے ہو۔” اگلے ہفتے نصرالدین پھر…
#DailyInspiration Use long-tail keywords: "Daily inspirational quotes about hope #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday bloganuary dailyprompt blogs
درویش طوطا
شہر میں ایک آدمی رہتا تھا جس کے پاس ایک طوطا تھا جو پنجرے میں رہتا تھا۔ ایک بار شہر میں ایک درویش آئے جو تعلیم دیا کرتا تھا۔ وہ آدمی روزانہ درویش کی محفل میں جاتا تھا۔ ایک دن اس کے طوطے نے اس سے پوچھا، “آپ روزانہ کہاں جاتے ہیں؟؟” اس نے جواب دیا، “میں درویش کی محفل میں اچھی باتیں سیکھنے جاتا ہوں۔” طوطے نے کہا، “کیا آپ میرا ایک کام کر دیں گے؟ مہربانی کر کے اس درویش سے پوچھیں — مجھے آزادی کب ملے گی؟” اگلے دن وہ آدمی درویش کی محفل میں گیا۔ تعلیم ختم ہونے کے بعد وہ درویش کے پاس گیا اور کہا، “مہاراج، میرے گھر میں ایک طوطا ہے اور وہ جاننا چاہتا ہے کہ اسے آزادی کب ملے گی؟” یہ سنتے ہی درویش بے ہوش ہو کر گر پڑے۔ جب آدمی نے یہ دیکھا تو وہ ڈر گیا اور چپ…
#MessageOfTheDay #میسیج_آف_دی_ڈے #DailyMotivation #UrduQuotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollection #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday bloganuary dailyprompt blogs
بلاعنوان
ایک عرب قبیلے کے سردار کو جب معلوم ہوا کہ اس کے جانوروں میں سے ایک مرغا غائب ہو گیا ہے تو وہ عجیب بے چینی میں مبتلا ہو گیا۔ لوگ حیران تھے کہ ایک معمولی سے مرغے کے لیے آخر اتنی پریشانی کیوں؟ مگر سردار کی آنکھوں میں صرف ایک پرندے کا غم نہیں تھا… وہ اس خاموش خطرے کو دیکھ رہا تھا جو ابھی دوسروں کی نظروں سے اوجھل تھا۔ اس نے اپنے ملازموں کو حکم دیا کہ پورا علاقہ چھان مارو۔ خود ٹیلوں پر چڑھ چڑھ کر دور تک دیکھتا رہا۔ رات گئے تک تلاش جاری رہی مگر مرغا نہ ملا۔ آخر ایک آدمی نے بے دلی سے کہا: “سردار! شاید کوئی بھیڑیا اسے اٹھا لے گیا ہوگا…” سردار نے فوراً سوال کیا: “اگر بھیڑیا لے گیا ہے… تو اس کے پر کہاں ہیں؟” یہ صرف ایک سوال نہیں تھا… ایک اشارہ تھا۔ مگر لوگ اس اشارے…
#MessageOfTheDay #میسیج_آف_دی_ڈے #DailyMotivation #UrduQuotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollection #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday bloganuary dailyprompt blogs
موت اور تقدیر
ایک دفعہ ایک بادشاہ نے خواب دیکھا۔ اپنے خواب میں اس نے ایک کالے سائے کو دیکھا جو اپنا ہاتھ بادشاہ کے کندھے پر رکھ رہا تھا۔ بادشاہ اس سائے کو دیکھ کر بہت خوفزدہ ہو گیا۔ اچانک سایہ بولا، “تمہیں پریشان ہونے یا ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ عام طور پر ہم بغیر بتائے آتے ہیں، لیکن چونکہ تم ایک عظیم بادشاہ تھے، اس لیے میں یہاں صرف تمہیں اطلاع دینے آیا ہوں۔” بادشاہ نے سوال کیا، “لیکن تم کون ہو؟؟” سایہ ہنسا اور جواب دیا، “میں تمہاری موت ہوں اور تیار ہو جاؤ۔ کل جب سورج غروب ہو رہا ہوگا، میں تمہیں لینے آؤں گا۔” اس ڈراؤنے خواب سے بادشاہ کی آنکھ کھل گئی۔ جاگنے کے بعد بھی اور یہ جاننے کے باوجود کہ یہ صرف ایک خواب تھا، بادشاہ کانپ رہا تھا۔ اس نے فوراً اپنے تمام عقلمندوں کی مجلس بلائی اور انہیں اپنے خواب کے بارے میں…
#MessageOfTheDay #میسیج_آف_دی_ڈے #DailyMotivation #UrduQuotes #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday messageoftheday messages #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday bloganuary dailyprompt blogs
چار سست دوست
ایک شہر میں چار دوست رہتے تھے جو حد سے زیادہ سست تھے ۔وہ کوئی کام دھندا نہیں کرتے تھے اور دن بھر بس آرام کرنے کے نئے طریقے ڈھونڈتے رہتے تھے ۔ ایک دن وہ چاروں ایک درخت کے نیچے لیٹے ہوئے تھے،اور ان کے پاس بات کرنے کی بھی ہمت نہیں تھی ۔ اچانک ایک پکا ہوا آم درخت سے گرااور ان میں سے ایک دوست کے سینے پر آ کر رک گیا ۔ پہلا دوست سستی سے بولا :“یار… کوئی یہ آم اٹھا کر میرے منہ میں ڈال دو ۔” دوسرا دوست، جو اس سے بھی زیادہ سست تھا ، غصے سے بولا :“تم بھی کتنے خود غرض ہو! دیکھ نہیں رہے ایک کتا پچھلے دس منٹ سے میرا منہ چاٹ رہا ہے اور میں نے اسے ہٹانے کے لیے ہاتھ تک ن ہیں ہلایا ،اور تمہیں آم کھانے کی پڑی ہے؟!” تیسرا دوست ان دونوں کی…
#MessageOfTheDay #میسیج_آف_دی_ڈے #DailyMotivation #UrduQuotes #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday messageoftheday messages #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday bloganuary dailyprompt blogs
Dèjà vu
In British colonial India, a British officer once slapped an Indian citizen. The Indian citizen responded by slapping the officer with all his might and knocking him to the ground. The officer was shocked by this humiliating blow and left, wondering how an Indian citizen dared to slap an officer of the British army, which is part of an empire on which the sun never sets. He went to his headquarters to report the incident and ask for help in punishing the citizen. But the senior officer calmed him down and took him to his office, opened a treasury full of money and said: “Take ten thousand rupees from the treasury, and go to this Indian citizen and apologize to him, and give him this money as compensation.” The officer went mad and protested: “I have the right to slap and humiliate him, he slapped me when he had no…
#MessageOfTheDay #میسیج_آف_دی_ڈے #DailyMotivation #UrduQuotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollection #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday bloganuary dailyprompt blogs
بلاعنوان
ایک بار شیر اور لومڑی میں کسی بات پہ ٹھن گئ لومڑی نے کہا کہ کچھ بھی ہو وہ شیر سے بدلا ضرور لے گی،، لومڑی نے جنگل میں ایک بیوٹی پارلر کھولا اور جنگل کے بادشاہ شیر سے عاجزی سے استدعا کی کہ حضور عالی مقام آپ اپنے مبارک پایہ قدم ہمارے بیوٹی پارلر میں رکھیں اور اسکی افتتاح کیجیے ،،شیر ہنسا اور کہا کہ اے نادان لومڑی میں تو شیر ہوں مجھے بناؤ سنگھار سے کیا لینا دینا ہے ،، یہ کام تم کسی اور سے کراو ،،لومڑی نے کہا اے خوبصورتی کے پیکر میرے رحمدل عالیجاہ میں آپکی ریپوٹیشن بہتر بنانا چاہتی ہوں آپکو علم ہی نہیں ہے بادشاہ عالی مرتبت کہ آپکے مخالفوں نے آپکے بارے میں کئ جھوٹے دعویں مشہور کیے ہیں ،، نت نئی افواہوں کا بازار گرم ہے ،، آپ کو جنگل میں قدامت پسند اور تنگ نظر بادشاہ کہا جارہا ہے ،،…
#MessageOfTheDay #میسیج_آف_دی_ڈے #DailyMotivation #UrduQuotes #InspirationalQuotes #NZEECollection #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday bloganuary dailyprompt blogs
Untitled
If you read the history of the pharaohs, you can imagine how much power they had in their time.They were not ordinary kings, but were considered the “gods” of their time. They were regularly worshipped.Their slaves were treated like humans, not even like animals.Their food was also prepared under a special system. Royal cooks and priests prepared it in a specific way. Then the food was tasted, monitored, and delivered to the pharaoh after strict protocol.Most of the time, they did not eat food with their own hands, because they were considered gods. Therefore, from feeding them to cleaning their hands and mouth, all the work was done by slaves (I don’t know what the situation was about the washroom 😜)Not only thatIf there was a fear of flies or insects coming towards them during the meal, according to some traditions, the slaves were made to stand nearby with honey…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday bloganuary dailyprompt blogs bloganuary،dailyprompt
دو شور مچانے والے پڑوسی
ایک شہر میں موتو بھائی نام کا ایک امیر تاجر رہتا تھا۔ برسوں کی محنت کے بعد اُس نے دولت کمائی اور آخرکار ایک شاندار، کشادہ اور خوبصورت گھر خرید لیا۔نئے گھر میں آنے کے بعد وہ بہت خوش تھا۔ اُس نے سوچا: “اب سکون سے زندگی گزاروں گا… نہ شور، نہ پریشانی!”ایک دوپہر کھانا کھانے کے بعد وہ آرام کرنے کے لیے اپنے نرم بستر پر لیٹا۔ ابھی اُس کی آنکھ ذرا سی لگی ہی تھی کہ اچانک ایک خوفناک آواز نے اُسے چونکا دیا۔“گڑرررر… گڑرررر…!!!”موتو بھائی گھبرا کر اٹھ بیٹھا۔ اُسے لگا جیسے سڑک پر کوئی بھاری انجن چل رہا ہو۔وہ فوراً کھڑکی کی طرف دوڑا، مگر باہر کوئی انجن نہ تھا۔کچھ لمحوں بعد اُس کے چہرے کا رنگ اُڑ گیا…آواز پڑوس کے گھر سے آ رہی تھی!وہاں ایک گویّا اپنی ریاض کر رہا تھا۔ مگر اُس کی آواز اتنی بے سُری، اتنی اونچی اور اتنی خوفناک تھی…
#MessageOfTheDay #میسیج_آف_دی_ڈے #DailyMotivation #UrduQuotes #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday messageoftheday messages #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday bloganuary dailyprompt blogs
کنجوس اور مچھلی۔۔
ایک شہر میں ایک بہت بڑا کنجوس رہتا تھا۔ وہ اتنا بخیل تھا کہ اپنی ذات پر بھی ایک روپیہ خرچ کرتے ہوئے اس کی جان نکلتی تھی۔ اس کی ایک ہی خواہش تھی کہ کبھی بغیر پیسے خرچ کیے کوئی اچھی چیز کھانے کو مل جائے۔ایک دن اس کے ایک امیر دوست نے اسے اپنے گھر کھانے پر بلایا۔ کنجوس خوشی خوشی وہاں پہنچا۔ دوست نے رات کے کھانے میں بہت ہی لذیذ اور مہنگی تلی ہوئی مچھلی (Fried Fish) بنوائی ہوئی تھی۔ مچھلی اتنی خوشبودار تھی کہ کنجوس کے منہ میں پانی آگیا۔ کنجوس نے بغیر وقت ضائع کیے مچھلی کھانا شروع کی اور اتنی تیزی سے کھائی کہ مچھلی کا ایک بڑا اور تیز کانٹا اس کے گلے میں پھنس گیا۔ کنجوس کا دم گھٹنے لگا، اس کا چہرہ لال ہو گیا اور وہ کھانسنے لگا۔امیر دوست پریشان ہو گیا اور نوکر سے بولا: “جلدی بھاگو اور…
#bestoftheday #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge bloganuary dailyprompt blogs urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge
بڑی مچھلی کس کی؟ 🤭🐠
ایک مشہور فلسفی دنیا بھر میں اپنی عقل، منطق اور لمبی لمبی تقریروں کے لیے جانا جاتا تھا۔ایک دن سفر کرتے کرتے وہ ملا نصرالدین کے گاؤں پہنچ گیا۔ گاؤں والوں نے کہا:“اگر واقعی عقل کے سمندر ہو تو پہلے ملا نصرالدین سے مل لو!” فلسفی فوراً ملا کے گھر پہنچا۔ دونوں کی ملاقات ہوئی، لمبی گفتگو ہوئی، اور پھر فلسفی نے پوچھا:“ملا صاحب! یہاں کوئی اچھی جگہ ہے جہاں کھانا کھایا جا سکے؟”ملا نے مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے کہا:“ہاں کیوں نہیں! ایک ایسی جگہ ہے جہاں کھانا بھی ملتا ہے اور قسمت بھی آزمائی جاتی ہے!” فلسفی کو بات سمجھ نہ آئی، مگر وہ ملا کو ساتھ لے کر ہوٹل پہنچ گیا۔دونوں بیٹھے ہی تھے کہ ویٹر آگیا۔فلسفی نے بڑے رعب سے پوچھا:“آج کی خاص ڈش کیا ہے؟”ویٹر بولا:“حضور! آج تازہ مچھلی ہے… اتنی تازہ کہ شاید ابھی تک تیرنے کا ارادہ رکھتی ہو!” فلسفی نے کہا:“دو لے…
#DailyInspiration Use long-tail keywords: "Daily inspirational quotes about hope #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday bloganuary dailyprompt blogs
نائی اور خدا :وہ دلیل جس نے سب بدل دیا
ایک شخص ہمیشہ کی طرح بال اور داڑھی بنوانے کے لیے نائی کی دکان پر گیا۔ نائی کام میں مصروف ہوا تو دونوں کے درمیان دلچسپ گفتگو شروع ہو گئی۔ باتوں باتوں میں دنیا کے مختلف موضوعات زیرِ بحث آئے—زندگی، حالات، لوگ… اور پھر اچانک گفتگو خدا کے وجود تک جا پہنچی۔ نائی نے قینچی چلاتے ہوئے کہا:“دیکھو بھائی، میں خدا کے وجود پر یقین نہیں رکھتا۔” گاہک نے حیرت سے پوچھا:“ایسا کیوں کہتے ہو؟” نائی نے گہری سانس لی اور بولا:“بات بہت سادہ ہے۔ بس باہر سڑک پر نکل جاؤ—تمہیں خود سمجھ آ جائے گی کہ خدا نہیں ہے۔ اگر خدا ہوتا تو کیا اتنے بیمار لوگ ہوتے؟ کیا معصوم بچے یوں بے سہارا پھرتے؟ اگر خدا ہوتا تو دنیا میں اتنا دکھ، اتنی تکلیف کیوں ہوتی؟ میں ایسے خدا کو نہیں مان سکتا جو یہ سب ہونے دے۔” گاہک خاموش ہو گیا۔ اس نے کچھ لمحے سوچا، مگر…
#MessageOfTheDay #میسیج_آف_دی_ڈے #DailyMotivation #UrduQuotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollection #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday bloganuary dailyprompt blogs
بلاعنوان
یتیم لڑکے کی ایسی بات کہ بادشاہ خاموش رہ گیا ایک نیک دل اور رحم دل بادشاہ تھا۔ اُس کے دل میں غریبوں، یتیموں اور بے آسرا لوگوں کے لیے بے پناہ محبت تھی۔ایک دن اُس نے ایک یتیم اور نہایت غریب لڑکے کو دیکھا، جس کی آنکھوں میں محرومی تو تھی، مگر دل میں عجیب سی شرافت اور عاجزی تھی۔ بادشاہ اُس بچے کی معصومیت سے اتنا متاثر ہوا کہ اُسے اپنے محل میں جگہ دے دی۔وقت گزرتا گیا…لڑکا محل میں رہنے لگا، مگر اُس کی عاجزی اور ادب میں کبھی فرق نہ آیا۔ وہ ہر وقت بادشاہ کے احسانات کو یاد رکھتا اور دل ہی دل میں اُس کے لیے دعائیں کرتا رہتا۔بادشاہ کی ایک عادت تھی…جب بھی اُس کے سامنے کوئی خاص کھانا، قیمتی پھل یا لذیذ نعمت پیش کی جاتی، وہ سب سے پہلے اُس لڑکے کو دیتا، پھر خود کھاتا۔محل کے لوگ اکثر حیران ہوتے…
#MessageOfTheDay #میسیج_آف_دی_ڈے #DailyMotivation #UrduQuotes #InspirationalQuotes #NZEECollection #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday bloganuary dailyprompt blogs
سب کچھ تمہارے ہاتھ میں ہے۔
ایک قدیم شہر کی خاموش گلیوں میں ایک دانا استاد رہتا تھا، جس کے گرد شاگردوں کا ہجوم رہتا۔ ہر کوئی اس کی حکمت، بصیرت اور دانائی کا معترف تھا۔ مگر انہی شاگردوں میں سے ایک نہایت ذہین مگر قدرے مغرور نوجوان کے دل میں ایک سوال نے جنم لیا: “کیا واقعی ایسا کوئی سوال نہیں جس کا جواب ہمارے استاد نہ دے سکیں؟” ایک دن وہ نوجوان شہر سے باہر ایک سرسبز و شاداب میدان میں گیا، جہاں رنگ برنگے پھول ہوا کے ساتھ جھوم رہے تھے۔ اسی دوران اس کی نظر ایک نہایت خوبصورت تتلی پر پڑی، جس کے پر قوسِ قزح کی طرح چمک رہے تھے۔ اس نے خاموشی سے اسے پکڑ لیا اور اپنے ہاتھوں کی اوٹ میں چھپا لیا۔ تتلی اس کی ہتھیلیوں میں پھڑپھڑانے لگی، اس کے ننھے پروں کی لرزش اس کے دل کی دھڑکن کے ساتھ ہم آہنگ ہو گئی۔ نوجوان کے…
#MessageOfTheDay #میسیج_آف_دی_ڈے #DailyMotivation #UrduQuotes #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday messageoftheday messages #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday bloganuary dailyprompt blogs
بلاعنوان
اگر آپ کی بھی گھر میں کوئی عزت نہیں تو یہ واقع پڑھ کر دل کو تسلی دیں ایک نہایت جلیلُ القدر بزرگ تھے۔ ان کی خانقاہ پر ہر وقت عقیدت مندوں کا ہجوم رہتا۔ کوئی تعویذ لینے آتا، کوئی استخارہ کروانے، کوئی رزق میں کشادگی کی دعا کے لیے حاضر ہوتا، تو کوئی محض ان کے دستِ مبارک چومنے کو سعادت سمجھتا۔ ان کے مریدین کا حال یہ تھا کہ اگر حضرت ذرا سا کھانس دیتے تو لوگ اس میں بھی کوئی روحانی اشارہ تلاش کر لیتے۔ محفلوں میں ان کی کرامات کے قصے بیان کئے جاتے۔ کسی کے نزدیک حضرت نے ایک اندھے کو بینائی عطا کر دی تھی، کسی کے نزدیک ان کے دم کیے پانی سے بھینس نے دودھ دینا شروع کر دیا تھا، اور بعض خوش عقیدہ افراد تو یہاں تک کہتے تھے کہ حضرت کی دعا سے ایک شخص کا ناکام عشق بھی کامیاب…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday bloganuary dailyprompt bloganuary dailyprompt blogs
بلاعنوان
فرعونوں کی تاریخ پڑھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ اپنے وقت میں ان کے پاس کتنی طاقت تھی۔وہ کوئی عام بادشاہ نہیں تھے، بلکہ اپنے دور کے “خدا” سمجھے جاتے تھے۔ ان کی باقاعدہ پرستش ہوتی تھی۔ان کے غلاموں کے ساتھ انسانوں جیسا سلوک تو دور کی بات، جانوروں جیسا بھی نہیں ہوتا تھا۔ان کا کھانا بھی ایک خاص نظام کے تحت تیار ہوتا تھا۔ شاہی باورچی اور پجاری اسے مخصوص طریقے سے بناتے تھے۔ پھر کھانے کو چکھا جاتا، اس کی نگرانی ہوتی، اور سخت پروٹوکول کے بعد فرعون تک پہنچایا جاتا۔زیادہ تر وہ اپنے ہاتھ سے کھانا نہیں کھاتے تھے، کیونکہ انہیں خدا سمجھا جاتا تھا ۔ اس لیے کھانا کھلانے سے لے کر ان کے ہاتھ اور منہ صاف کرنے تک سب کام غلام کرتے تھے (واش روم کے بارے میں پتہ نہیں کیا صورتحال تھی 😜)صرف یہی نہیںکھانے کے دوران اگر کوئی مکھیاں یا کیڑے مکوڑے…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday bloganuary dailyprompt bloganuary dailyprompt blogs