درویش طوطا

درویش طوطا

شہر میں ایک آدمی رہتا تھا جس کے پاس ایک طوطا تھا جو پنجرے میں رہتا تھا۔ ایک بار شہر میں ایک درویش آئے جو تعلیم دیا کرتا تھا۔ وہ آدمی روزانہ درویش کی محفل میں جاتا تھا۔

ایک دن اس کے طوطے نے اس سے پوچھا، “آپ روزانہ کہاں جاتے ہیں؟؟”

اس نے جواب دیا، “میں درویش کی محفل میں اچھی باتیں سیکھنے جاتا ہوں۔”

طوطے نے کہا، “کیا آپ میرا ایک کام کر دیں گے؟ مہربانی کر کے اس درویش سے پوچھیں — مجھے آزادی کب ملے گی؟”

اگلے دن وہ آدمی درویش کی محفل میں گیا۔ تعلیم ختم ہونے کے بعد وہ درویش کے پاس گیا اور کہا، “مہاراج، میرے گھر میں ایک طوطا ہے اور وہ جاننا چاہتا ہے کہ اسے آزادی کب ملے گی؟”

یہ سنتے ہی درویش بے ہوش ہو کر گر پڑے۔ جب آدمی نے یہ دیکھا تو وہ ڈر گیا اور چپ چاپ وہاں سے چلا گیا۔

جب وہ گھر پہنچا تو اس کے طوطے نے اس سے پوچھا، “کیا آپ نے درویش سے میرا سوال پوچھا؟”

آدمی نے جواب دیا، “میں نے پوچھا تھا لیکن لگتا ہے تمہاری قسمت خراب ہے۔۔ جیسے ہی میں نے ان سے تمہارا سوال پوچھا، وہ بے ہوش ہو کر گر پڑے۔”

طوطے نے جواب دیا، “کوئی بات نہیں۔ میں سمجھ گیا۔”

اگلے دن جب آدمی جانے لگا۔ اس نے دیکھا کہ طوطا پنجرے کے اندر بے ہوش پڑا ہے۔ آدمی پنجرے کی طرف گیا اور یہ دیکھنے کے لیے اسے کھولا کہ طوطا مر تو نہیں گیا۔ لیکن جیسے ہی آدمی نے پنجرہ کھولا اور طوطے کو باہر نکالا، وہ جاگ گیا اور اڑ گیا۔

آدمی درویش کی محفل میں گیا۔ جب درویش نے اسے دیکھا تو بلایا اور پوچھا، “تمہارا طوطا اب کہاں ہے؟؟”

آدمی نے افسوس سے جواب دیا، “صبح جب میں جانے لگا تھا۔ میرے طوطے نے بے ہوش ہونے کا ڈرامہ کیا اور پنجرے میں گر گیا اور جب میں نے اسے دیکھنے کے لیے پنجرہ کھولا تو وہ اڑ گیا۔”

درویش مسکرائے اور جواب دیا، “تم دنیاوی فریب کے پنجرے میں پھنسے ہوئے ہو۔ اتنے عرصے سے میرے تعلیم سننے کے بعد بھی تم نے کچھ نہیں سیکھا، اور اس طوطے کو دیکھو جو میرے محفل میں آئے بغیر بھی میرا اشارہ سمجھ گیا اور اپنی آزادی حاصل کر لی۔”

Leave a Reply

NZ's Corner