بلاعنوان

بلاعنوان

ایک عرب قبیلے کے سردار کو جب معلوم ہوا کہ اس کے جانوروں میں سے ایک مرغا غائب ہو گیا ہے تو وہ عجیب بے چینی میں مبتلا ہو گیا۔ لوگ حیران تھے کہ ایک معمولی سے مرغے کے لیے آخر اتنی پریشانی کیوں؟ مگر سردار کی آنکھوں میں صرف ایک پرندے کا غم نہیں تھا… وہ اس خاموش خطرے کو دیکھ رہا تھا جو ابھی دوسروں کی نظروں سے اوجھل تھا۔

اس نے اپنے ملازموں کو حکم دیا کہ پورا علاقہ چھان مارو۔ خود ٹیلوں پر چڑھ چڑھ کر دور تک دیکھتا رہا۔ رات گئے تک تلاش جاری رہی مگر مرغا نہ ملا۔ آخر ایک آدمی نے بے دلی سے کہا:

“سردار! شاید کوئی بھیڑیا اسے اٹھا لے گیا ہوگا…”

سردار نے فوراً سوال کیا:

“اگر بھیڑیا لے گیا ہے… تو اس کے پر کہاں ہیں؟”

یہ صرف ایک سوال نہیں تھا… ایک اشارہ تھا۔ مگر لوگ اس اشارے کو سمجھ نہ سکے۔

اگلے دن سردار نے ایک اونٹ ذبح کروایا۔ پورا قبیلہ دعوت پر جمع ہوا۔ لوگ سمجھے شاید کوئی خوشی کی بات ہے، مگر کھانے سے پہلے سردار پھر بولا:

“کھانے سے پہلے ایک درخواست ہے… میرے مرغے کو تلاش کرنے میں میرا ساتھ دو…”

لوگ ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے۔ کسی نے دل میں کہا: “اتنا بڑا سردار… اور فکر ایک مرغے کی؟”

سب نے کھانا کھایا، بات ہنسی میں اڑا دی، اور چلے گئے۔

چند دن بعد قبیلے کے ایک شخص کی بکری غائب ہو گئی۔ اس بار بھی سردار نے اونٹ ذبح کیا، سب کو بلایا، مگر گفتگو پھر اسی مرغے کے گرد گھومتی رہی۔

لوگ اب اسے سنجیدگی سے لینے کے بجائے مذاق سمجھنے لگے۔

کچھ نے کہا: “بڑھاپے نے ذہن پر اثر کر دیا ہے…”

یہاں تک کہ اس کے اپنے بیٹے بھی مہمانوں سے معذرت کرنے لگے کہ:

“آپ دل پر نہ لیں… والد صاحب بس اسی ایک بات میں اٹک گئے ہیں…”

پھر کچھ عرصے بعد ایک اونٹ بھی غائب ہو گیا۔

اب قبیلے میں چوریوں کی سرگوشیاں بڑھنے لگیں، مگر پھر بھی کسی نے اصل خطرے کو نہ سمجھا۔

سردار نے اس بار بھی لوگوں کو جمع کیا، مگر اب لوگوں کے صبر کا پیمانہ بھر چکا تھا۔

انہوں نے سخت لہجے میں کہا:

“اگر آپ نے یہی سلسلہ جاری رکھا تو آپ کو سرداری سے ہٹا دیا جائے گا!”

یہ سن کر سردار خاموش ہو گیا… مگر اس کی خاموشی میں شکست نہیں تھی، ایک خوف تھا… وہ جانتا تھا کہ جب قومیں چھوٹے اشارے نظر انداز کرنے لگیں تو بڑی تباہیاں دروازہ کھٹکھٹانے لگتی ہیں۔

پھر ایک مہینہ گزرا…

اور ایک صبح پورے قبیلے پر قیامت ٹوٹ پڑی۔

قبیلے کی ایک نوجوان لڑکی لاپتہ ہو گئی۔

اب ہر طرف شور تھا، خوف تھا، غیرت جاگ چکی تھی۔ وہی لوگ جو کل تک مرغے پر ہنس رہے تھے، آج دیوانوں کی طرح صحرا میں بھاگ رہے تھے۔

کھوجی بلائے گئے۔ کنوؤں میں جھانکا گیا۔ پہاڑوں، غاروں اور وادیوں میں تلاش شروع ہو گئی۔

آخرکار خبر ملی کہ پہاڑ کے ایک غار میں کچھ مشکوک لوگ چھپے ہوئے ہیں۔

جب وہاں چھاپہ مارا گیا تو حقیقت کھل گئی۔

وہ ڈاکو تھے۔ اسی غار میں اغوا شدہ لڑکی بھی موجود تھی۔

اور وہیں… گمشدہ اونٹ، بکری، اور سردار کے مرغے کے بچے ہوئے پر بھی پڑے تھے۔

پورا قبیلہ ساکت رہ گیا۔

اب سب کو سمجھ آ گیا تھا کہ سردار ایک مرغے کے لیے پریشان نہیں تھا… وہ اس بڑھتے ہوئے خطرے کو دیکھ رہا تھا جسے سب نے معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیا تھا۔

اس نے پہلی چوری میں آنے والی تباہی کی چاپ سن لی تھی… مگر لوگ ہنس دیے۔

کیونکہ اکثر انسان بڑے حادثوں سے نہیں مرتا… وہ چھوٹی غلطیوں کو معمولی سمجھتے سمجھتے تباہ ہو جاتا ہے۔

تباہی ایک دم نہیں آتی۔ وہ پہلے دروازے پر دستک دیتی ہے، پھر دیوار میں دراڑ بنتی ہے، اور آخرکار پوری عمارت گرا دیتی ہے۔

مگر لوگ ہمیشہ آخری حادثے پر روتے ہیں… پہلی غلطی پر نہیں۔

اخلاقی سبق:

زندگی میں ہر بڑی تباہی ایک چھوٹی غفلت سے جنم لیتی ہے۔ جو قومیں، معاشرے یا انسان ابتدا کی غلطیوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں، وہ بعد میں بڑے نقصان پر صرف افسوس ہی کر سکتے ہیں۔

عقل مند وہ نہیں جو صرف بڑے خطرے کو دیکھ لے… بلکہ وہ ہے جو پہلی دراڑ پڑتے ہی دیوار سنبھال لے۔

Leave a Reply

NZ's Corner