Tag Archives: #MessageOfTheDay #میسیج_آف_دی_ڈے #DailyMotivation #UrduQuotes #InspirationalQuotes #NZEECollection

کہتے ہیں کہ ایک زمانہ تھا جب زمین پر عدل کا سورج پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا، اور اس عدل کے سائے میں حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکمرانی قائم تھی وہ بادشاہ جن کے سامنے نہ صرف انسان بلکہ پرندے، جانور اور جنات بھی سرِ تسلیم خم کرتے تھے۔ اسی دور میں ایک سادہ سا چرواہا تھا، جو آپ علیہ السلام کی بھیڑوں کی نگہبانی کیا کرتا تھا۔وہ نہ کوئی عالم تھا، نہ کوئی سردار، مگر اپنے فرض میں سچا اور دل سے مخلص تھا۔ ایک دن، جب وہ میدان میں اپنی بھیڑوں کے ساتھ مصروف تھا، اچانک ایک بھیڑیا نمودار ہوا۔مگر یہ کوئی عام بھیڑیا نہ تھا وہ بولا: “اے چرواہے! مجھے ان بھیڑوں میں سے ایک بھیڑ دے دو۔ چرواہا چونک گیا، اس نے حیرت سے کہا: “یہ بھیڑیں میرے اختیار میں نہیں، یہ تو حضرت سلیمان علیہ السلام کی ہیں، میں تو صرف…

Read more

14ویں صدی کا اوائل… تصور کریں ایک 100 سال سے زائد عمر کا انتہائی ضعیف لیکن دیوہیکل جنگجو، جس کی سفید داڑھی ہوا میں اڑ رہی ہے، لیکن اس کے ہاتھوں میں اب بھی ایک ایسا بھاری بھرکم کلہاڑا (Axe) ہے جسے اٹھانا عام جوانوں کے بس کی بات نہیں۔ اس شخص نے ارطغرل غازی کے ساتھ خانہ بدوشی کے خیمے گاڑے، عثمان غازی کو انگلی پکڑ کر جنگ کرنا سکھایا اور سلطنت کی بنیاد رکھی، اور پھر اورہان غازی کے ساتھ مل کر بازنطینی قلعوں کو فتح کیا۔ یہ تاریخ کے ان چند گنے چنے جنگجوؤں میں سے ایک، ترگت الپ (Turgut Alp) کی سچی کہانی ہے، جنہوں نے ایک قبیلے کو سلطنت بنتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور سلطنتِ عثمانیہ کے تین عظیم حکمرانوں (ارطغرل، عثمان، اور اورہان) کی تلوار بن کر خدمت کی۔ یہ کہانی بتاتی ہے کہ وفاداری اور بہادری کی عمر کتنی طویل ہو…

Read more

بہت پرانی بات ہے، حلب کے مشہور بازارِ زرگراں میں یوسف نام کا ایک سنار رہتا تھا۔ یوسف اپنے کام کا ماہر تھا، اس کے بنائے ہوئے زیورات پورے شام میں مشہور تھے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ بے حد لالچی اور کنجوس بھی تھا۔ اس کا ماننا تھا کہ دنیا میں سب سے اہم چیز ‘وقت’ نہیں بلکہ ‘سونا’ ہے، اور وہ اپنا ہر لمحہ صرف سونا جمع کرنے میں صرف کرتا تھا۔اس کے پڑوس میں ایک بوڑھا، درویش صفت آدمی رہتا تھا، جسے لوگ خاموشی سے ‘الحکیم’ (دانا) کہتے تھے۔ الحکیم اکثر یوسف کو دیکھ کر مسکراتا اور کہتا: “یوسف! سونا تو مٹی ہے، وقت کا دھاگا سنبھالو، یہ ایک بار ٹوٹ جائے تو دوبارہ نہیں جڑتا۔” لیکن یوسف اس کی باتوں کو ہنس کر ٹال دیتا۔ ایک دن، جب سورج حلب کے قدیم قلعے کے پیچھے ڈھل رہا تھا، یوسف کی دکان پر ایک پرسرار اجنبی…

Read more

کسی دور دراز گاؤں میں “رحمت” نامی ایک غریب کسان رہتا تھا۔ رحمت کے پاس زمین کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا تھا، جو بہت بنجر اور پتھریلا تھا۔ گاؤں کے باقی کسان اسے مشورہ دیتے کہ وہ یہ زمین چھوڑ کر شہر چلا جائے، لیکن رحمت کہتا، “مٹی سونا اگلتی ہے، بس اسے پسینے کی ضرورت ہوتی ہے۔”ایک تپتی دوپہر، جب رحمت اپنے کھیت میں سخت پتھر ہٹانے کی کوشش کر رہا تھا، اس کا بیلچہ کسی دھاتی چیز سے ٹکرایا۔ اس نے تجسس میں گڑھا کھودا تو وہاں سے ایک پرانا، مٹی سے اٹا ہوا “تانبے کا گھڑا” نکلا۔رحمت نے سوچا کہ شاید اس میں ہیرے جواہرات ہوں گے، لیکن جب اس نے ڈھکن کھولا تو وہ خالی تھا۔ رحمت نے مسکرا کر کہا، “چلو، کچھ نہیں تو پانی پینے کے کام آئے گا۔” اس نے اپنا تولیہ گھڑے کے اوپر رکھا اور درخت کے سائے میں آرام کرنے…

Read more

ایک گاؤں میں ایک کنواں تھا جس کا پانی برسوں سے سب استعمال کر رہے تھے۔ وقت کے ساتھ کنواں پرانا ہو گیا، پانی کم ہوتا گیا، مگر لوگ عادت کے ہاتھوں وہی پانی پیتے رہے۔ایک دن ایک نوجوان نے کہا:“کنواں صاف کرنا چاہیے، دیواریں مضبوط کرنی چاہئیں، ورنہ ایک دن یہ خشک ہو جائے گا۔” بوڑھوں نے ہنس کر جواب دیا:“ہم نے تو ساری عمر یہی پانی پیا ہے، ہمیں کچھ نہیں ہوا۔”نوجوان خاموش ہو گیا۔ کچھ عرصے بعد کنواں واقعی بیٹھ گیا۔ پانی کی جگہ کیچڑ رہ گیا۔ اب گاؤں والے دور دراز سے پانی لانے پر مجبور ہو گئے۔اسی نوجوان نے کہا:“مسئلہ کنویں کا نہیں تھا، مسئلہ یہ تھا کہ ہم نے وقت پر سچ سننے سے انکار کیا۔” گاؤں والے خاموش تھے، کیونکہ اب سچ دیر سے آیا تھا۔ سبقجو بات وقت پر نہ مانی جائے، وہ بعد میں سزا بن کر سامنے آتی ہے۔عادت کی…

Read more

وزیر کی جان پہ بنی ہوئی تھی، فقیر بات ہی نہیں سُن رہا تھا ، اۤخر طویل مِنت سماجت کے بعد فقیر نے سر اٹھایا ، ہاں بول کیا کہنا ہے وزیر نے ہاتھ جوڑے اور بتانا شروع کیاایک مہینہ پہلے ہمارے بادشاہ سلامت نے اچانک دربار میں ایک سوال اچھالا کہ کامیاب کردار کے لئے تربیت زیادہ کارآمد ہے یا ماحول ؟ میرے ایک ہم منصب وزیر نے جھٹ کہا کہ عالی جاہ ! تربیت  جبکہ میں نے عجلت میں کہا جناب ! ماحول ، ماحول تربیت پر فوقیت رکھتا ہے بادشاہ سلامت نے ہماری طرف رعونت سے دیکھا اور فرمایا تم دونوں کو اپنا اپنا جواب عملی طور پر ثابت کرنا ہوگا جو ثابت نہ کر سکا اس کا سر قلم کر دیا جائے گا اور اس کے لئے ہمیں ایک ماہ کی مہلت دے دی ، ہم دونوں اپنے جواب کی عملی تعبیر تلاشنے میں لگ گئے…

Read more

ایک اونچے درخت پر ایک نوجوان باز رہتا تھا۔تیز، طاقتور، اور خود پر نازاں۔ درخت کی جڑوں میں ایک بوڑھا سانپ رہتا تھا۔زہر کمزور، جسم تھکا ہوا، مگر آنکھیں زندہ۔ باز روز نیچے دیکھ کر ہنستا:“تم زمین سے بندھے ہو، میں آسمان کا مالک ہوں۔” سانپ کچھ نہ کہتا۔ ایک دن شکاری جنگل میں آئے۔انہوں نے جال بچھائے—آسمان میں بھی، زمین پر بھی۔ باز اپنی رفتار کے غرور میں جال نہ دیکھ سکا۔پھڑپھڑاتا رہا… چیختا رہا۔ سانپ جال کے نیچے سے خاموشی سے نکل گیا۔ سبق:طاقت وقت کے ساتھ ختم ہو جاتی ہے،مگر سمجھ وقت کے ساتھ بڑھتی ہے۔

ایک سوداگر بازار میں گھوم رہا تھا کہ اس کی نظر ایک عمدہ نسل کے اونٹ پر پڑی۔اونٹ واقعی لاجواب تھا۔ سوداگر اور اونٹ بیچنے والے کے درمیان کافی دیر تک گفت و شنید ہوتی رہی، آخرکار سودا طے پا گیا اور سوداگر اونٹ خرید کر گھر لے آیا۔ گھر پہنچ کر اس نے نوکر کو آواز دی کہ اونٹ کی زین اتار دو۔نوکر نے زین اٹھائی تو اس کے نیچے ایک مخملی تھیلا پڑا ہوا تھا۔ جب تھیلا کھولا گیا تو اندر قیمتی ہیرے اور جواہرات چمک رہے تھے، سورج کی روشنی میں وہ اور بھی زیادہ جگمگا رہے تھے۔ نوکر خوشی سے چلایا:“آقا! آپ نے اونٹ خریدا ہے، لیکن دیکھیں مفت میں کیا آ گیا!” سوداگر نے ہیرے دیکھے تو لمحہ بھر کو حیران ضرور ہوا، مگر فوراً بولا:“میں نے اونٹ خریدا ہے، ہیرے نہیں۔ یہ امانت ہے، ہمیں فوراً واپس کرنی چاہیے۔” نوکر دل ہی دل میں…

Read more

ایک گاؤں کے کنارے ایک پرانا کنواں تھا جس سے پورا گاؤں پانی لیتا تھا۔ کنویں کے پاس ایک مینڈک رہتا تھا جو ہر آنے جانے والے کو دیکھتا رہتا۔ ایک دن مینڈک نے دیکھا کہ کنویں کی دیوار میں دراڑ پڑ گئی ہے اور پانی آہستہ آہستہ رس رہا ہے۔ اسے خطرہ محسوس ہوا۔ وہ سب سے پہلے ہرن کے پاس گیا اور بولا،“کنویں میں دراڑ پڑ گئی ہے، اگر مرمت نہ ہوئی تو پانی ختم ہو جائے گا۔” ہرن نے لاپرواہی سے کہا،“میں تو جنگل کے چشموں سے پانی پی لیتا ہوں، یہ میرا مسئلہ نہیں۔” مایوس مینڈک پھر گائے کے پاس گیا۔گائے نے کہا،“میرے مالک کے پاس الگ کنواں ہے، مجھے کیا فکر؟” آخر وہ مرغابی کے پاس گیا جو روز کنویں میں تیرتی تھی۔مرغابی ہنس کر بولی،“پانی تو ابھی بہت ہے، فکر کی کیا بات ہے؟” کچھ دن بعد شدید بارش ہوئی۔ دراڑ اور پھیل گئی،…

Read more

جنگل کے قریب ایک اونچا پہاڑ تھا۔ جانور کہتے تھے کہ اس کی چوٹی تک کوئی نہیں پہنچ سکتا۔ جو بھی کوشش کرتا، راستے کی سختی سے واپس آ جاتا۔ ایک خاموش سا کچھوا اکثر اس پہاڑ کو دیکھتا رہتا۔ وہ جانتا تھا کہ اس کے قدم سست ہیں، مگر اس کا ارادہ مضبوط تھا۔ ایک دن اس نے سفر شروع کر دیا۔ دوسرے جانور ہنسے:“اتنے آہستہ چلنے والا پہاڑ سر کرے گا؟” راستہ پتھریلا تھا، دھوپ تیز تھی۔ کچھوا کئی بار رکا، مگر پلٹا نہیں۔ وہ ہر قدم کے ساتھ خود سے کہتا:“میں تیز نہیں ہوں، مگر مستقل ہوں۔” دنوں بعد جب وہ چوٹی پر پہنچا تو بادل اس کے نیچے تھے۔ وہ خاموشی سے مسکرایا۔ اسی وقت باقی جانور بھی وہاں پہنچے اور حیران رہ گئے۔ کچھوا بولا:“جو ہار مان لے وہ کبھی نہیں پہنچتا۔” سبق: مستقل مزاجی کمزوری نہیں، اصل طاقت ہے۔

گہرے جنگل میں ایک طاقتور شیر رہتا تھا۔ وہ خود کو سب سے بڑا اور عقلمند سمجھتا تھا۔ اس کا ماننا تھا کہ طاقت ہی سب کچھ ہے، اسی لیے وہ اکثر کمزور جانوروں کو بلاوجہ ڈرا دیتا۔ جنگل کے جانور اس سے ڈرتے تھے، مگر دل سے اس کی عزت کوئی نہیں کرتا تھا۔ اسی جنگل میں ایک بوڑھا ہاتھی بھی رہتا تھا۔ وہ طاقتور ہونے کے باوجود نہایت نرم دل اور سمجھدار تھا۔ جانور مشکل میں ہوتے تو ہاتھی ان کی مدد کرتا، مگر شیر اسے کمزور سمجھ کر نظر انداز کرتا۔ ایک سال جنگل میں شدید خشک سالی آ گئی۔ پانی کے تالاب سوکھنے لگے۔ جانور پریشان ہو گئے۔ شیر نے غصے میں آ کر کہا:“جو طاقتور ہے وہ زندہ رہے گا، کمزور مر جائیں گے!” مگر بوڑھا ہاتھی خاموشی سے سب جانوروں کو اکٹھا کرنے لگا۔ اس نے کہا:“اگر ہم مل کر کوشش کریں تو پہاڑ…

Read more

یہ جنگل عام جنگل نہیں تھا۔یہاں طاقت صرف دانتوں یا پنجوں سے نہیں ناپی جاتی تھی،بلکہ فیصلوں، وقت پر حرکت، اور خاموش حکمت سے ناپی جاتی تھی۔ جنگل کا بادشاہ شیر تھا،طاقتور، خوفناک، مگر اب بوڑھا ہو چکا تھا۔وہ روز ایک ہی راستے سے شکار پر جاتا،ایک ہی وقت پر، ایک ہی انداز میں۔ جنگل کے سب جانور یہ جانتے تھے—اور جنگل یہ بھی جانتا تھا کہجو نہیں بدلتا، وہ مٹ جاتا ہے۔ اسی جنگل میں ایک دبلا پتلا بھیڑیا رہتا تھا۔نہ سب سے طاقتور،نہ سب سے تیز،نہ سب سے بڑا۔ مگر وہ مشاہدہ کرتا تھا۔ وہ دیکھتا تھا کہ کون سا درخت کب سایہ دیتا ہے،کون سا جانور کب لاپرواہ ہوتا ہے،اور کب شور مچانا موت کو دعوت دینا ہوتا ہے۔ ایک دن شدید قحط پڑا۔شکار کم ہو گیا۔طاقتور جانور ایک دوسرے سے لڑنے لگے۔ شیر نے غصے میں اپنی طاقت دکھائی—مگر کمزور جسم نے ساتھ نہ دیا۔ چیتا…

Read more

کیا آپ جانتے ہیں؟تاریخِ انسانی میں کم از کم دو بار انسان نے ایسا دوڑا کہ تاریخ رقم ہو گئی۔مگر عجیب بات یہ ہے کہایک کو پوری دنیا نے یاد رکھا،اور دوسرے کو صرف اس کے  چند چاہنے والوں نے… وہ بھی مدھم آواز میں۔ 490 قبلِ مسیحیونان کے علاقے میراتھن میں گھمسان کی جنگ برپا تھی۔دو فریق آمنے سامنے تھے:ایک طرف فارسی سلطنت، دوسری طرف یونانی ریاستیں—دونوں اپنی اپنی سپر پاور ہونے کا دعویٰ کیے ہوئے۔ جنگ کا پانسہ یونانیوں کے حق میں پلٹا۔فتح کے فوراً بعد فیڈی پیڈیز (Pheidippides) نامی ایک پیغام رساں کو حکم دیا گیا کہوہ میدانِ میراتھن سے تقریباً چالیس کلومیٹر دور شہر ایتھنز جا کر اعلان کرے: “ہم جنگ جیت گئے ہیں!” وہ گھوڑے پر سوار ہونے کے بجائے پیدل ہی دوڑ پڑا۔ایتھنز پہنچ کر اس نے فتح کا اعلان کیااور شدید تھکن و پیاس کے باعث وہیں گر کر جان دے دی۔ آج،اسی…

Read more

*ایک شخص نے بچھڑا ذبح کیا اور اسے آگ پر پکا کر اپنے بھائی سے کہا کہ ہمارے دوستوں اور پڑوسیوں کو دعوت دو تاکہ وہ ہمارے ساتھ مل کر اس کو کھائیں* اس کا بھائی باہر گیا اور پکار کر کہا.اے لوگو!! ہماری مدد کرو میرے بھائی کے گھر میں آگ لگی ہوئی ہے.کچھ ہی دیر میں لوگوں کا ایک مجمع نکلا اور باقی لوگ کام میں لگے رہے جیسے انہوں نے کچھ نہ سنا ہو…وہ لوگ جو کہ آگ بجھانے میں مدد کو آئے تھے انہوں نے سیر ہوکر کھایا پیا..تو وہ شخص اپنے بھائی کی طرف تعجب سے دیکھ کر کہنے لگا :یہ جو لوگ آئے تھے میں تو انہیں نہیں پہچانتا اور نہ میں نے پہلے ان کو دیکھا ہے پھر ہمارے دوست احباب کہاں ہیں؟بھائی نے جواب دیا کہ یہ لوگ اپنے گھروں سے نکل کر ہمارے گھر میں لگی آگ بجھانے میں ہماری مدد…

Read more

کسی جنگل کے کنارے ایک فارم ہاؤس تھا، جہاں ایک بوڑھا کتا رہتا تھا۔ وہ سالوں سے اپنے مالک کی بھیڑوں کی حفاظت کر رہا تھا۔ اسی جنگل میں ایک لومڑی بھی رہتی تھی جو بہت چالاک تھی اور ہمیشہ اس تاک میں رہتی تھی کہ کسی طرح ایک موٹی تازی بھیڑ چرا لے۔لومڑی کی چالایک دن لومڑی کتے کے پاس آئی اور بڑی ہمدردی سے بولی، “ارے دوست! تم کتنے بوڑھے ہو گئے ہو، پھر بھی اتنی سخت ڈیوٹی کرتے ہو۔ تمہارا مالک تو تمہیں صرف ایک خشک روٹی دیتا ہے۔ اگر تم آج رات سو جاؤ اور مجھے صرف ایک بھیڑ لے جانے دو، تو میں تمہیں جنگل سے لذیذ گوشت لا کر دوں گی۔”کتا سمجھ گیا کہ لومڑی اسے بہلا رہی ہے۔ اس نے فوراً ایک منصوبہ بنایا اور کہا، “ٹھیک ہے لومڑی بہن! میں آج رات فارم کے پچھلے دروازے پر سو جاؤں گا، تم وہاں…

Read more

ایک طاقتور، لیکن ایک بے وقوف انسان کی کہانی ہے۔اس کا نام تو کچھ اور تھا، لیکن وہ جوا راٹا کے عجیب و غریب نام سے مشہور تھا۔جوا راٹا بے حد طاقتور، لیکن احمق شخص تھا۔وہ ایک وقت میں پچاس افراد کا کھانا کھا لیتا تھا۔اس کا باپ بہت پریشان تھا، کیونکہ وہ کھانے کے علاوہ کوئی کام نہیں کرتا تھا۔ایک روز کسی نے جوا راٹا کو بتایا کہ شمالی پہاڑوں کے پیچھے ایک وادی ہے۔اس کا نام اگنستان ہے۔وہاں بہت بڑا خزانہ چھپا ہوا ہے۔اگر تم وہ خزانہ حاصل کر لو تو تمہاری ساری زندگی عیش میں گزرے گی۔جوا راٹا یہ سن کر بے حد خوش ہوا اور اسی دن وہ وادی کی طرف چل دیا۔چلتے چلتے شام ہو گئی۔رات اس نے ایک گاؤں میں گزاری۔صبح ہونے کے بعد وہ اپنا سفر کرنے ہی والا تھا کہ گاؤں کے چودھری نے اسے بلایا اور کہا:”نوجوان! تم مجھے بہت طاقتور…

Read more

کسی جنگل میں ایک مغرور اونٹ رہتا تھا۔اسے اپنے لمبے قد اور چال ڈھال پر بڑا ناز تھا۔اس کا دعویٰ تھا کہ میں سب سے اعلیٰ ہوں۔اس کا جہاں جی چاہتا منہ اُٹھا کر چلا جاتا اور سب جانوروں سے بدتمیزی کرتا رہتا۔کوئی جانور اگر اسے چھیڑتا تو وہ اس کے پیچھے پڑ جاتا۔اس کے گھر کے قریب چوہے کا بل تھا اور اونٹ کو اس چوہے سے سب سے زیادہ نفرت تھی۔وہ اس چوہے کو نہ جانے کیا کیا القابات دیتا رہتا لیکن چوہا ہنس کے ٹال دیتا تھا۔جنگل کے سب جانور ہی اونٹ سے اس کے تکبر کی وجہ سے تنگ تھے اور چاہتے تھے کہ اسے اس کے کیے کی سزا ملے مگر ابھی تک اونٹ کو کھلی چھٹی ملی ہوئی تھی۔وہ بہار کا خوشگوار موسم تھا، ہر طرف پھول کھلے ہوئے تھے اور جنگل میں بھینی بھینی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔اونٹ سو کر اُٹھا تو اسے…

Read more

سلطان محمود غزنوی کے دربار میں سائلوں اور درخواستگزاروں کی بھیڑ لگی ہوئی تھی کہ ایک شخص حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا “حضور! میری شکایت نہایت سنگین نوعیت کی ہے اور کچھ اس قسم کی ہے کہ میں اسے برسرِ دربار سب کے سامنے پیش نہیں کر سکتا۔۔۔!!”سلطان یہ سن کر فوراً اٹھ کھڑے ہوئے اور سائل کو خلوت خانے میں لیجا کر پوچھا کہ “تمہیں کیا شکایت ہے۔۔۔۔؟”اُس نے عرض کیا “حضور! ایک عرصے سے آپ کے بھانجے نے یہ طریقہ اختیار کر رکھا ہے کہ وہ مسلح ہو کر میرے مکان پر آتا ہے، مجھے مار پیٹ کر باہر نکال دیتا ہے اور خود جبراً میرے گھر میں گھس کر میری گھر والی کے ساتھ بدتمیزی کرتا ہے۔ غزنی کی کوئی عدالت ایسی نہیں، جس میں میں نے اس ظلم کی فریاد نہ کی ہو لیکن کسی جگہ مجھے انصاف نہ ملا۔ ہر کوئی آپ کے بھانجے…

Read more

ایک بادشاہ تھاجو ہر روز آئینے کے سامنے کھڑا ہو کراپنی شان دیکھتا تھا۔ایک دن اس نے حکم دیاکہ ملک کا سب سے بڑا آئینہ لایا جائےتاکہ وہ خود کواور بھی عظیم دیکھ سکے۔آئینہ آیا۔بادشاہ نے دیکھاچہرہ وہی تھامگر آنکھوں میں تھکن جھلک رہی تھی۔اس نے غصے میں آئینہ توڑ دیا۔ کچھ دن بعدایک درویش دربار میں آیااور بولا“حضورآئینہ تو نہیں ٹوٹا،صرف وہم ٹوٹا ہے۔”بادشاہ خاموش ہو گیا۔ حاصلِ سبق آئینہچہرہ دکھاتا ہےمگر حقیقتدل میں چھپی ہوتی ہے۔جو سچ سے بھاگےوہ تصویر توڑتا ہےخود کو نہیں بدلتا۔

رومیوں کی صف سے ایک گھڑ سوار جو نہایت ڈیل ڈول کا مالک تھا، نکل کر میدان میں آیا اور چیخ چیخ کر کچھ کہنے لگا۔ مسلمانوں کو اس کی زبان تو سمجھ نہ آئی البتہ اس کے چہرے کے تاثرات سے سمجھ گئے کہ کسی کو مقابلے کے لیے بلا رہا ہے۔ اس کا مقابلہ کرنے کے لیے سابق والی بصرہ روماس نکل کر گئے۔ مقابل نے ان کو خوب لعن طعن کی کہ تم نے اپنا دین تبدیل کرلیا ہے۔ پھر اس نے روماس پر حملہ کردیا۔ دونوں برابر جوڑ کے تھے۔ کافی دیر تک تلواروں کی جھنکار اور بہادروں کی للکار سنائی دیتی رہی۔ آخر رومی سورما نے ایک کاری وار کیا۔ آپ نے وار کو اپنے اوپر محسوس کیا۔ اس ضرب سے آپ کا خون جاری ہوگیا۔ جب آپ کو تکلیف محسوس ہوئی تو آپ نے گھوڑا اپنے لشکر کی طرف موڑ دیا۔ رومی آپ کے…

Read more

20/189
NZ's Corner