Tag Archives: ” “peace of mind

گہرے جنگل میں ایک طاقتور شیر رہتا تھا۔ وہ خود کو سب سے بڑا اور عقلمند سمجھتا تھا۔ اس کا ماننا تھا کہ طاقت ہی سب کچھ ہے، اسی لیے وہ اکثر کمزور جانوروں کو بلاوجہ ڈرا دیتا۔ جنگل کے جانور اس سے ڈرتے تھے، مگر دل سے اس کی عزت کوئی نہیں کرتا تھا۔ اسی جنگل میں ایک بوڑھا ہاتھی بھی رہتا تھا۔ وہ طاقتور ہونے کے باوجود نہایت نرم دل اور سمجھدار تھا۔ جانور مشکل میں ہوتے تو ہاتھی ان کی مدد کرتا، مگر شیر اسے کمزور سمجھ کر نظر انداز کرتا۔ ایک سال جنگل میں شدید خشک سالی آ گئی۔ پانی کے تالاب سوکھنے لگے۔ جانور پریشان ہو گئے۔ شیر نے غصے میں آ کر کہا:“جو طاقتور ہے وہ زندہ رہے گا، کمزور مر جائیں گے!” مگر بوڑھا ہاتھی خاموشی سے سب جانوروں کو اکٹھا کرنے لگا۔ اس نے کہا:“اگر ہم مل کر کوشش کریں تو پہاڑ…

Read more

کہتے ہیں افلاطون ایک دن کھانا کھا رہے تھے کہ ایک مچھر بار بار آ کر انہیں تنگ کرنے لگا۔کبھی کھانے پر بیٹھتا، کبھی اُڑ جاتا۔ افلاطون نے نرمی سے اپنا تھوڑا سا کھانا مچھر کے سامنے رکھا۔مچھر نے اس میں سے کچھ چوسا… مگر زیادہ دیر نہ رکا۔ افلاطون نے شاگردوں کو غور سے دیکھنے کا کہا۔ایک شاگرد کے ہاتھ پر ہلکا سا زخم تھا، اس نے ہتھیلی آگے کی۔مچھر فوراً کھانے کو چھوڑ کر زخم پر آ بیٹھا اور خون چوسنے لگا۔ پھر افلاطون نے قریب ہی ایک بوسیدہ سیب رکھ دیا۔مچھر نے خون بھی چھوڑ دیا اور سیب کے کٹے حصے پر جا بیٹھا۔ اسی لمحے قریب ایک درخت پر مکڑی کا جالا تھا۔مچھر اُڑا… اور جال میں پھنس گیا۔جال ہلا تو مکڑی آئی اور خاموشی سے اپنے شکار کو مضبوطی سے قابو میں کر لیا۔ افلاطون نے فرمایا: “دیکھو! مکڑی کمزور ہے مگر صبر والی ہے۔وہ…

Read more

آپ کیا جمع کر رہے ہیںایک دن بادشاہ اپنے تین وزراء کو دربار میں بلایا اور تینوں کو حکم دیا کہ تینوں ایک ایک تھیلا لے کر باغ میں داخل ہوں اور وہاں سے بادشاہ کے لیے مختلف اچھے اچھے پھل جمع کریں۔ وزراء بادشاہ کے اس عجیب حکم پر حیران رہ گئے، اور تینوں ایک ایک تھیلا پکڑ کر الگ الگ باغ میں داخل ہوگئے۔پہلے وزیر نے کوشش کی کہ بادشاہ کے لیے اسکی پسند کے مزیدار اور تازہ پھل جمع کرے، اور اس نے کافی محنت کے بعد بہترین اور تازہ پھلوں سے تھیلا بھر لیا۔دوسرے وزیر نے خیال کیا کہ بادشاہ ایک ایک پھل کا خود تو جائزہ نہیں لے گا کہ کیسا ہے اور نہ ہی پھلوں میں فرق دیکھے گا۔ اس لئے اس نے بغیر فرق دیکھے جلدی جلدی ہر قسم کے تازہ اور کچے اور گلے سڑے پھلوں سے اپنا تھیلا بھر لیا۔اور تیسرے…

Read more

چنگیز خان جلال الدین خوارزمی کی عزت کرتا تھا اس نے اس میں ایک بہادر اور دلیر دشمن دیکھا اس پر قدم رکھتے ہوئے اس نے اپنی زندگی کا سب سے سنگین اعتراف کیا کہ “وہ ابھرتے ہوئے سورج کی طرح ہے”  منگولوں کے ایک بڑے لشکر کو جلال الدین نے Battle of Parwan میں شکست دی اس جنگ میں منگولوں کا کمانڈر Shigi Qutuqu تھا لیکن سوشل میڈیا پر کافی عرصے سے ایک پوسٹ بہت وائرل ہوتی رہی ہے کہ جلال الدین نے چنگیز خان کو شکست دی لوگوں نے تحقیق کے بغیر بہت شیئر کی لیکن میں نے اس وقت بھی ایک الگ سے پوسٹ میں واضح کیا تھا کہ Battle of Parwan میں جلال الدین کو جو فتح حاصل ہوئی اس میں مدمقابل منگول کمانڈر Shigi Qutuqu تھا  منگولوں کی ابتدائی فتوحات کے دور میں یہ واحد ایک بڑی شکست تھی جس سے آپ جلال الدین الخوارزم…

Read more

ایک چمڑا رنگنے والا اتفاق سے عطاروں کے بازار میں پہنچا تو یکا یک گر کر بے ہوش ہوگیا اور ہاتھ ٹیڑھے ہوگئے۔ عطروں کی خوشبو جو اس کے دماغ میں گھسی تو چکرا کر گر پڑا۔ اسی وقت لوگ جمع ہوگئے۔ کسی نے اس کے دل پر ہاتھ رکھا اور کسی نے عرقِ گلاب لاکر چھڑکا۔ اور یہ نہ سمجھے کہ اسی خوشبو نے یہ آفت ڈھائی ہے ۔کوئی سر اور ہتھیلیوں کو سہلاتا اور سوندھی مٹی بھگو کر سنگھاتا۔ ایک لوبان کی دھونی دیتا تو دوسرا اس کے کپڑے اتار کر ہوا دیتاتھا۔ آخر جب کسی تدبیر سے ہوش میں نہ آیا تو دوڑ کر اس کے بھائی بندوں کو خبر کی کہ تمہاری قوم کا آدمی فلاں بازار میں بے ہوش پڑا ہے۔ کچھ نہیں معلوم کہ یہ مرگی کا دورہ اس پر کیوں کر پڑ گیا یا کیا بات ہوئی کہ وہ سرِ بازار چلتے چلتے…

Read more

کیا آپ یقین کریں گے کہ دو طاقتور قبیلے، جو آپس میں بھائی بھائی تھے، صرف اس بات پر ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو گئے کہ “ریس میں میرا گھوڑا آگے تھا یا تمہارا؟” یہ کہانی ہے عرب کی دوسری سب سے بڑی اور مشہور جنگ “جنگِ داحس و غبراء” کی، جس نے ثابت کیا کہ جب انسان کی عقل پر انا کا پردہ پڑ جائے تو وہ جانوروں کی ریس پر انسانوں کی نسلیں قربان کر دیتا ہے۔یہ قصہ ہے دو بڑے عرب قبیلوں “بنو عبس” اور “بنو ذبیان” کا۔ یہ دونوں قبیلے ایک ہی دادا کی اولاد تھے، ان میں گہری رشتہ داریاں تھیں اور یہ ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوتے تھے۔ لیکن عربوں کو اپنی تلواروں کے بعد سب سے زیادہ محبت اپنے گھوڑوں سے تھی۔ وہ اپنے گھوڑوں کا نسب نامہ بھی اپنے بچوں کی طرح یاد رکھتے تھے۔قبیلہ عبس کا سردار…

Read more

اگر مچھلی پانی سے نکل کر تمہیں یہ بتائے کہ مگرمچھ بیمار ہے، تو اس کی بات پر یقین کرو۔یہ مثال صرف سمجھدار لوگ ہی سمجھ سکتے ہیں۔ یہ جملہ بظاہر ایک عام سی مثال لگتا ہے، لیکن اس کے اندر بہت گہری حکمت چھپی ہوئی ہے۔آئیے اس کے مختلف پہلوؤں کو کھول کر سمجھتے ہیں: 1. مچھلی کی بات پر کیوں یقین؟ مچھلی اپنی پوری زندگی پانی میں گزارتی ہے۔ وہ پانی کے ہر بدلتے موسم، ہر خطرے، ہر حرکت اور ہر جاندار کو دوسروں سے زیادہ جانتی ہے۔اگر وہ پانی چھوڑ کر باہر آ جائے، تو اس کا باہر آنا ہی ایک غیر معمولی واقعہ ہوتا ہے۔اور جب وہ باہر آ کر یہ کہے کہ مگرمچھ بیمار ہے، تو یہ معمولی بات نہیں — یہ اس ماحول کی اندرونی حقیقت ہے جس تک دوسروں کی رسائی نہیں۔ پیغام:جو شخص کسی معاملے کے اندر سے ہو، اس کی معلومات…

Read more

نر بھیڑے نے اپنی مادہ کو ساتھ لیا اور Onon دریا کے کنارے آ کر آباد ہو گیا یہی وہ جگہ تھی جہاں منگول پیدا ہوئے یہ لوگ اس بے آب و گیاں علاقے میں موجود تھوڑے بہت وسائل کیلئے آپس میں لڑتے رہتے سرسبز ہریالی پانی اور مویشی کیلئے لڑائیاں جاری رہتیں لیکن پھر ان میں ایک ذہین لیکن خطرناک آدمی تموجن نمودار ہوا جس نے منگول قبائل کے سرداروں کو اکٹھا کر کے کہا “ہم جنگجو لوگ ہیں اگر ہم اپنی توانائیاں ایک دوسرے سے لڑنے جھگڑنے کی بجائے متحد ہو جائیں تو دنیا کے خزانے ہمارے قدموں میں آ سکتے ہیں” کسی نے سوال کیا کہ ہم خیموں میں رہنے والے لوگ کیسے بڑی بڑی سلطنتوں کا سامنا کر سکیں گے تموجن نے جواب دیا “ہماری کامیابی کیلئے ضروری ہے کہ ہم سب منگول قبائل کا کامن دشمن ہو جس کے خلاف ہم سب متحد ہو کر…

Read more

انسانی تاریخ میں کچھ واقعات ایسے ہیں جو صرف ایک قوم یا علاقے کی تباہی کا ذکر نہیں کرتے بلکہ پوری انسانیت کے لیے دائمی سبق چھوڑتے ہیں۔ قومِ لوط کا قصہ اسی نوعیت کا واقعہ ہے۔ یہ باب حضرت لوط علیہ السلام کی دعوت، ان کی قوم کی سرکشی، فرشتوں کی آمد، عذابِ الٰہی کی کیفیت اور اس واقعے سے اخذ ہونے والے اسباق پر مبنی ہے۔ اس واقعے کی تفصیل قرآنِ مجید کی مختلف سورتوں—اعراف، ہود، حجر، شعراء اور نمل—میں بکھری ہوئی ہے، جبکہ مفسرین اور محدثین نے اسے اپنے اپنے انداز میں پیش کیا ہے۔ — نسب اور ابتدائی پس منظر حضرت لوط علیہ السلام، خلیل اللہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بھتیجے تھے۔ بچپن ہی سے آپ نے سیدنا ابراہیمؑ کی صحبت پائی اور ان کی دعوتِ توحید سے فیض حاصل کیا۔ جب حضرت ابراہیمؑ نے بابل کو چھوڑا تو لوطؑ بھی ان کے ساتھ ہجرت…

Read more

ایران کے صاف آسمان تلے ایک ایسا بچہ پیدا ہوا جس کی آنکھوں میں علم نہیں، آگ تھی۔ وہ دوسروں کے بچوں کی طرح نرم نہیں تھا۔ وہ چپ بیٹھ کر نہیں سنتا تھا۔ اس کے ذہن میں شروع سے ہی ایک عجب سوال تھا — دنیا پر اصل حکومت کس کی ہے؟ وہ جانتا تھا کہ تلوار کے پاس طاقت ہے، لیکن اسے محسوس ہوتا تھا کہ انسان کے دماغ پر قبضہ کرنا اس سے کہیں زیادہ بڑا ہتھیار ہے۔ یہی وہ نکتہ تھا جو بچپن سے اس کے دل میں جم گیا تھا: ذہن پکڑ لو… پھر جسم خود چلتا ہے۔ نوجوان ہوا تو اس کی شخصیت میں وہ ضد پیدا ہوئی جو بعد میں پوری دنیا کے لیے عذاب بن گئی۔ اس نے مذہب، فلسفے، سیاست، منطق — سب کچھ پڑھا، مگر پڑھنے کا انداز اس کا عام نہیں تھا۔ لوگ کتاب سے نور لیتے ہیں، اس…

Read more

عربوں میں یہ عام عادت تھی کہ وہ گھاس اور پانی کی تلاش میں ایک جگہ سے دوسری جگہ ہجرت کرتے رہتے۔انہی لوگوں میں ایک شخص تھا جس کی ایک ماں تھی—بہت بوڑھی—اور وہ اس کا اکلوتا بیٹا تھا۔ وہ بوڑھی عورت کبھی کبھی اپنی یادداشت کھو بیٹھتی تھی۔ بیٹا اسے چھوڑنا نہیں چاہتا تھا، اس کی ماں کی خیمہ بھی اس کے قریب ہوتا۔ لیکن اس کا بار بار باہر نکلنا بیٹے کے لیے مشقت کا باعث بنتا اور قبیلے کے سفر میں رکاوٹ بنتا۔ ایک دن قبیلے نے دوسری جگہ کوچ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس شخص نے اپنی بیوی سے کہا:“کل جب ہم چلیں تو میری ماں کو یہیں چھوڑ دینا۔ اس کے پاس تھوڑا پانی اور کھانا رکھ دینا، تاکہ کوئی آ کر اسے لے جائے۔ہمارے لیے بہتر ہے کہ وہ ہم سے دور مرجائے۔صبح قبیلہ روانہ ہوا اور بیوی نے سمجھ لیا کہ شوہر کیا…

Read more

جب آدھا ملین رومی فوج مسلمانوں کی فوج کو تباہ کرنے کے قریب تھی اور ہر طرف سے انہیں گھیر لیا گیا تھا،تو اس عظیم اسلامی بہادر نے اپنی تلوار تھام لی اور وہ سب سے مشکل فیصلہ کیا جو کسی بھی انسان کی زندگی میں آ سکتا ہے۔عکرمہ نے موت کو گلے لگانے کا فیصلہ کر لیا اور مسلمانوں کو بادلوں کی گرج کی مانند آواز دے کر پکارا: “اے مسلمانو! کون موت پر بیعت کرتا ہے؟” تو 400 فدائی ان کے پاس آ گئے اور انہوں نے تاریخ میں مشہور ہونے والی “کتيبة الموت الإسلامية” (اسلامی لشکرِ موت) تشکیل دی۔یہ دیکھ کر خالد بن ولید عکرمہ کی طرف بڑھے اور انہیں اپنی جان قربان کرنے سے روکنے کی کوشش کی،مگر عکرمہ نے نور سے چمکتے چہرے کے ساتھ خالد کو دیکھا اور کہا: “اے خالد! مجھ سے دور ہو جاؤ، تمہیں تو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ پہلے…

Read more

بغداد کی ہلاکت 🔥 ایسا سانحہ جو تاریخ نہیں انسانیت کا زخم ہے 🔥 😥بغداد… وہ شہر جو کبھی دنیا کی آنکھوں کا تارا تھا، علم کا دریا، حکمت کا گہوارہ، تہذیب کا تاج، جہاں راتیں چراغوں سے روشن تھیں اور دن کتابوں سے۔ جہاں نہریں، باغات، محل، بازار، مدرسے، مکتب، حکومتی عمارتیں سب کچھ ایک ایسے دور کی یاد دلاتے تھے جب عباسی خلافت کا نام ساری دنیا پر تھر تھرا دیتا تھا۔ لیکن 1258 میں بغداد نہ وہ طاقت رہی تھی، نہ وہ شاہی رعب باقی تھا، نہ وہ بین الاقوامی وزن۔ اب شہر اپنی پرانی عظمت کے کھنڈر پر کھڑا ایک کمزور، سست، سیاسی سازشوں میں گھرا ہوا مرکز تھا۔ خلیفہ مستعصم… نرمی، کمزوری، بے خبری اور دربار کے سازشی وزیروں کے بیچ گھرا ہوا بادشاہ، جسے پتا ہی نہیں تھا کہ افق پر کون سا طوفان امڈ کر آرہا ہے۔ منگول سلطنت اس وقت دنیا کی…

Read more

حسن بن صباح کی داستان 🔥 نزاریہ فرقہ کا اصل بانی بلاد عجم یعنی ایران کا بہت بڑا داعی بانی شیخ الجبل حسن بن صباح۔ اس نے اپنی تحریک کو ایسی ترقی دی، جس کے باعث دوسری اسلامی قوتوں سے مقابلہ کرنے لگا۔ بلکہ اگر یہ کہا جائے تو درست ہوگا کہ اس نے اور اس کے جانشینوں نے ایسی دھاک بیٹھائی کہ اس زمانے کے اسلامی سلاطین ان سے تھراتے تھے۔ نام اور نسبحسن بن صباح کا پورا نام حسن بن علی بن محمد بن جعفر بن حسین بن الصباح الحمیری تھا۔ یہ ایرانی تھا اور اس نے اس زمانے کے رواج کے مطابق اپنے آپ کو ایک عرب الحمیری خاندان سے منسوب کیا تھا۔ لیکن اسے یہ بات پسند نہیں تھی کہ لوگ اس کا نسب بیان کریں۔ وہ اپنے مریدوں سے کہا کرتا تھا مجھے اپنے امام کا مخلص غلام کہلایا جانا زیادہ پسند ہے کہ بہ…

Read more

‏برصغیر پر انگریزوں کے قبضے کے دوران۔۔۔۔۔۔۔ہر انگریز افسر کا ہر، تین برس بعد واپس برطانیہ بلا لیا جاتا، مبادہ یہ مقامی رسم و رواج کے عادی نہ ہو جائیں یا اس کی ریٹائرمنٹ تک، کسی دوسرے ملک بھجوا دیا جاتا۔ یا، جو اپنی ملازمت مکمل کرنے کے بعد واپس برطانیہ آتا، اسے کوئی عوامی عہدہ نہ دیا جاتا، دلیل دی جاتی تھی:” آپ غلام قوم پر حکومت کر کے أۓ ہو، جس سے تمہارے اطوار اور رویے میں تبدیلی آ گی ہے۔ یہاں اگر اس طرح کی کوئی ذمہ داری تمہیں سونپی جاے، تو آپ ہم آزاد قوم کے ساتھ بھی اسی طرح کا برتاو کرو گے”برطانیہ کی ایک انگریز خاتون کا شوہر سول سروس آفیسر تھا،اس خاتون نے زندگی کے کئی سال ہندوستان کے مختلف علاقوں میں گزارے۔ واپسی پر اس نے اپنی یاداشتوں پر مبنی کتاب لکھی:” میرا شوہر، ضلع کا ڈپٹی کمشنر تھا، تب میرا بیٹا…

Read more

ایک خاموشی بھری موت 😥🔥121 سال پرانا بھوت جہاز — کینٹکی کی ندی میں سویا ہوا ایک زندہ افسانہایک ایسی کہانی جو وقت سے بھرپور ہے… مگر وقت نے اسے خود بھلا دیا۔کینٹکی کی خاموش ندی کے کنارے، جنگل کی نمی اور پرندوں کی دھیمے سُروں میں، ایک بھوری، زنگ آلود لاش سا جہاز پڑا ہے۔ لوگ اسے گھوسٹ شپ کہتے ہیں… لیکن جب اس کی کہانی کھلتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ صرف ایک جہاز نہیں، بلکہ ایک عہد کی پوری تاریخ اپنے سینے میں لیے بیٹھا ہے۔ یہ ہے U.S.S. Sachem—ایک ایسا جہاز جس نے دو جنگیں دیکھی، لاکھوں لوگوں کی ہنسی سنی، روشنی کے جادوگر تھامس ایڈیسن کو اپنے ڈیک پر چلتے دیکھا… اور یہاں تک کہ میڈونا کے میوزک ویڈیو میں بھی جلوہ دکھایا۔ ابتدا — ٹائٹینک سے بھی پہلے کی شان 1902 میں، ٹائٹینک کی روانگی سے پورے دس سال پہلے، یہ جہاز…

Read more

مرحب ایک بہادر جنگجو اور شاعر تھا، قد میں لمبا اور شجاعت میں مشہور تھا۔ اسے “سیدُ اليهود” (یہودیوں کا سردار) کہا جاتا تھا اور وہ بے حد مالدار تھا۔ وہ نطاة میں ایک قصر میں رہتا تھا۔ اس کی تلوار پر یہ عبارت نقش تھی: “یہ مرحب کی تلوار ہے، جو اسے چکھے گا، ہلاک ہو جائے گا۔ حافظ ابن حجر نے زینب بنت الحارث (جو مرحب کی بہن یا بعض روایات کے مطابق اس کے بھائی کی بیٹی تھی) کے ترجمہ میں ذکر کیا ہے کہ وہ اسرائیلی النسب تھی۔ اس بنیاد پر مرحب کا نسب بنی اسرائیل سے ہونے کا امکان ہے۔ جبکہ ابن ہشام کا کہنا ہے کہ مرحب کا تعلق حمیر قبیلے سے تھا۔ مرحب نے غزوہ خیبر میں مسلمانوں کے خلاف زبردست قوت اور بہادری کا مظاہرہ کیا اور جنگ میں انتہائی جوش و خروش سے لڑا۔ دیار بکری کے مطابق: “مسلمانوں کے کسی…

Read more

بحری قذاقوں (pirates) کی ایک آنکھ پر کپڑا کیوں ہوتا تھا؟ بحری قذاق اپنی ایک آنکھ کو کپڑے کے ٹکڑے کے ساتھ ڈھانپ کر رکھتے تھے (eye patch) اس کی وجہ یہ ہے کہ جب آپ ایک آنکھ کو زیادہ دیر تک اندھیرے میں رکھتے ہیں تو وہ اندھیرے میں دیکھنے کیلئے ایڈجسٹ ہو چکی ہوتی ہے اس لئے جب قزاق جہاز کے نچلے اندھیرے حصے میں جاتے تو پٹی اتار کر روشنی والی آنکھ پر لگا دیتے اس سے وہ ایڈجسٹ شدہ آنکھ سے اندھیرے میں آسانی سے دیکھ سکتے تھے اور جب جہاز کے اوپر والے روشن حصے میں آتے تو پٹی دوبارہ نچلے حصے کیلئے سلیکٹ کی گئی آنکھ پر شفٹ کر دیتے اور دوسری آنکھ جو روشنی میں دیکھنے کی عادی تھی اسے اوپر والے حصے کیلئے استعمال کرتےتھے ۔

فراخ دلی اور سخاوت کا ایک دلچسپ واقعہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے دور میں ایک شخص ملک شام سے سفر کرتا ہوا آیا۔ اور آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا کہ آپ امیر بھی ہیں( یعنی مالدار بھی ہیں) اور امیر بھی یعنی( مسلمانوں کے سربراہ بھی) ہیں۔عرض کرنے لگا حضور میرے اوپر قرضہ چڑھ گیا ہے میری مدد کریں ۔تو آپ اس کو اپنے گھر لے گئے شخص کہتا ہے کہ باہر سے دروازہ بہت خوبصورت تھا لیکن گھر پر ایک چارپائی بھی نہ تھی کھجور کی چھال کی چٹائیاں بچھی ہوئی تھیں اور وہ بھی پھٹی ہوئی فرماتے ہیں سیدناصدیق اکبر(رضی اللہ تعالی عنہ)نے مجھے چٹائی پر بٹھا لیا اور مجھے کہنے لگے یار ایک عجیب بات نہ بتاؤں میں نے کہا بتائیے تو عرض کرنے لگے تین دن سے میں نے ایک اناج کا دانہ بھی نہیں کھایا کھجور…

Read more

آج ائیر پورٹس سیکورٹی فورس (ASF) میں سینکڑوں خالی آسامیوں پر مرد و خواتین کی بھرتی کے لیے اشتہار جاری کردیا گیا ہے* ٹوٹل سیٹس : 664 ( گریڈ  5 سے گریڈ 15 تک ) تعلیمی قابلیت: پرائمری پاس ، میٹرک ،انٹرمیڈیٹ اور گریجویشن ( بلحاظ آسامی) عمر کی حد : 18 سال سے 33 سال تک ( پوسٹ وائز ) ڈومیسائل: آل پاکستان, تمام صوبے بشمول آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان آخری تاریخ:  8 دسمبر یہ پوسٹ سب کے ساتھ شیئر کر دیں- تاکہ سب لوگ اپلائی کر سکیں- For online apply https://joinasf.gov.pk/

20/53
NZ's Corner