بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

کیا آپ یقین کریں گے کہ دو طاقتور قبیلے، جو آپس میں بھائی بھائی تھے، صرف اس بات پر ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو گئے کہ “ریس میں میرا گھوڑا آگے تھا یا تمہارا؟” یہ کہانی ہے عرب کی دوسری سب سے بڑی اور مشہور جنگ “جنگِ داحس و غبراء” کی، جس نے ثابت کیا کہ جب انسان کی عقل پر انا کا پردہ پڑ جائے تو وہ جانوروں کی ریس پر انسانوں کی نسلیں قربان کر دیتا ہے۔
یہ قصہ ہے دو بڑے عرب قبیلوں “بنو عبس” اور “بنو ذبیان” کا۔ یہ دونوں قبیلے ایک ہی دادا کی اولاد تھے، ان میں گہری رشتہ داریاں تھیں اور یہ ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوتے تھے۔ لیکن عربوں کو اپنی تلواروں کے بعد سب سے زیادہ محبت اپنے گھوڑوں سے تھی۔ وہ اپنے گھوڑوں کا نسب نامہ بھی اپنے بچوں کی طرح یاد رکھتے تھے۔
قبیلہ عبس کا سردار “قیس بن زہیر” تھا، جس کے پاس ایک گھوڑا تھا جس کا نام “داحس” تھا۔ یہ گھوڑا اپنی بجلی جیسی رفتار کی وجہ سے پورے عرب میں مشہور تھا اور کہا جاتا تھا کہ ہوا بھی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ دوسری طرف قبیلہ ذبیان کا سردار “حذیفہ بن بدر” تھا، جس کے پاس ایک انتہائی تیز رفتار گھوڑی تھی جس کا نام “غبراء” تھا۔
دونوں سرداروں میں بحث چھڑ گئی کہ کس کا جانور زیادہ تیز ہے۔ بات بحث سے نکل کر شرط تک پہنچ گئی۔ طے پایا کہ 100 اونٹوں کی شرط ہوگی اور دونوں گھوڑوں کے درمیان ایک طویل ریس لگوائی جائے گی۔ جو جیتا، 100 اونٹ اس کے۔ بظاہر یہ ایک کھیل تھا، لیکن عربوں کے لیے یہ ان کی “ناک” کا مسئلہ بن چکا تھا۔
ریس کا دن آیا۔ صحرا میں میلہ لگ گیا۔ دونوں قبیلے جمع تھے۔ گھوڑے دوڑائے گئے۔ شروع میں تو مقابلہ برابر رہا، لیکن جیسے ہی فاصلہ بڑھا، قیس کا گھوڑا “داحس” اپنی روایتی رفتار پکڑ گیا اور غبراء کو بہت پیچھے چھوڑ دیا۔ بنو عبس کے لوگ خوشی سے جھوم اٹھے، انہیں اپنی جیت یقینی نظر آ رہی تھی۔
لیکن یہاں بنو ذبیان کی نیت خراب ہو گئی۔ انہیں اپنی شکست اور 100 اونٹوں کا جانا برداشت نہیں ہو رہا تھا۔ حذیفہ کے حکم پر (یا اس کے قبیلے کے کچھ شرارتی لوگوں نے) ریس کے راستے میں چھپ کر گھات لگا لی۔ جیسے ہی “داحس” (جو جیت رہا تھا) وہاں سے گزرا، چھپے ہوئے لوگوں نے اچانک نکل کر اسے ڈرا دیا اور اس کا راستہ روکا۔ گھوڑا بدک گیا اور اپنا توازن کھو بیٹھا۔ اس افراتفری کا فائدہ اٹھا کر پیچھے آتی ہوئی “غبراء” (بنو ذبیان کی گھوڑی) آگے نکل گئی اور ریس جیت گئی۔
جب قیس اور بنو عبس کے لوگوں کو اس “دھوکے” کا پتہ چلا تو میدانِ جنگ میں ہنگامہ ہو گیا۔ قیس نے کہا کہ میرا گھوڑا جیت رہا تھا، تم نے بے ایمانی کی ہے۔ حذیفہ نے ماننے سے انکار کر دیا اور کہا کہ جو گھوڑا پہلے پہنچا وہی جیتا ہے۔ بات تو تکرار سے شروع ہوئی لیکن پھر ہاتھ تلواروں تک پہنچ گئے۔
شروع میں بڑوں نے معاملہ ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی، لیکن نفرت کا بیج بویا جا چکا تھا۔ قیس بن زہیر (گھوڑے کا مالک) غصے میں پاگل ہو گیا اور اس نے انتقام میں قبیلہ ذبیان کے ایک اہم سردار کو قتل کر دیا۔ بس پھر کیا تھا، وہی ہوا جو عرب کا دستور تھا۔ “خون کے بدلے خون”۔
دونوں قبیلے، جو کل تک بھائی تھے، ایک دوسرے کے گلے کاٹنے لگے۔ یہ جنگ کوئی ایک دو دن یا ایک مہینہ نہیں چلی، بلکہ یہ بھی تقریباً 40 سال تک جاری رہی۔ اس جنگ نے عرب کے سب سے بہادر لوگوں کو کھا لیا۔ اسی دور میں مشہور زمانہ بہادر اور شاعر “عنترہ بن شداد” بھی ابھرا (جس کی بہادری کے قصے آج بھی سنائے جاتے ہیں)، اس نے بھی اپنی آزادی اور محبت پانے کے لیے اسی جنگ میں تلوار چلائی۔
سالوں گزرتے گئے، گھوڑے مر گئے، وہ سردار مر گئے جنہوں نے شرط لگائی تھی، لیکن ان کی اولادیں ایک دوسرے کو مارتی رہیں۔ صرف ایک “جیت” کے دھوکے نے ہزاروں گھر اجاڑ دیے۔ مائیں اپنے بیٹوں کو جنگ پر بھیجتیں اور لاشیں وصول کرتیں۔
آخرکار جب دونوں قبیلے تباہی کے دہانے پر پہنچ گئے، تو کچھ سمجھدار لوگوں نے مداخلت کی۔ وہ لاشوں کے ڈھیر دیکھ کر رو پڑے اور کہا کہ “کیا ہم قیامت تک ان گھوڑوں کا ماتم کرتے رہیں گے؟” بڑی مشکل سے خون بہا (دیت) ادا کر کے صلح کروائی گئی، لیکن تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔
یہ جنگ “داحس و غبراء” تاریخ کا ایک ایسا آئینہ ہے جس میں ہم اپنی شکل دیکھ سکتے ہیں۔ آج بھی ہم جائیداد کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے، کرکٹ کے ایک میچ، یا سیاسی بحث پر اپنے بھائیوں سے لڑ پڑتے ہیں، رشتہ داریاں توڑ دیتے ہیں۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ ریس تو ختم ہو جائے گی، کھیل تو ختم ہو جائے گا، لیکن جو تعلق ٹوٹ گیا وہ شاید کبھی نہیں جڑے گا۔
سوچ کا لمحہ:
جیتنا اہم ہے، لیکن کیا اتنا اہم ہے کہ اس کے لیے اصول، اخلاق اور رشتے سب قربان کر دیے جائیں؟ دھوکے سے ملی ہوئی جیت، شکست سے زیادہ بدتر ہوتی ہے۔
اگر آپ کو تاریخ کے یہ گمشدہ اور دلچسپ اوراق پسند آ رہے ہیں تو اس پوسٹ کو شیئر کریں. شکریہ

Leave a Reply

NZ's Corner