Tag Archives: ” “Motivational messages for entrepreneurs” Target audience: Tailor keywords to the specific audience you want to reach (e.g.

جنگل کے قریب ایک اونچا پہاڑ تھا۔ جانور کہتے تھے کہ اس کی چوٹی تک کوئی نہیں پہنچ سکتا۔ جو بھی کوشش کرتا، راستے کی سختی سے واپس آ جاتا۔ ایک خاموش سا کچھوا اکثر اس پہاڑ کو دیکھتا رہتا۔ وہ جانتا تھا کہ اس کے قدم سست ہیں، مگر اس کا ارادہ مضبوط تھا۔ ایک دن اس نے سفر شروع کر دیا۔ دوسرے جانور ہنسے:“اتنے آہستہ چلنے والا پہاڑ سر کرے گا؟” راستہ پتھریلا تھا، دھوپ تیز تھی۔ کچھوا کئی بار رکا، مگر پلٹا نہیں۔ وہ ہر قدم کے ساتھ خود سے کہتا:“میں تیز نہیں ہوں، مگر مستقل ہوں۔” دنوں بعد جب وہ چوٹی پر پہنچا تو بادل اس کے نیچے تھے۔ وہ خاموشی سے مسکرایا۔ اسی وقت باقی جانور بھی وہاں پہنچے اور حیران رہ گئے۔ کچھوا بولا:“جو ہار مان لے وہ کبھی نہیں پہنچتا۔” سبق: مستقل مزاجی کمزوری نہیں، اصل طاقت ہے۔

گہرے جنگل میں ایک طاقتور شیر رہتا تھا۔ وہ خود کو سب سے بڑا اور عقلمند سمجھتا تھا۔ اس کا ماننا تھا کہ طاقت ہی سب کچھ ہے، اسی لیے وہ اکثر کمزور جانوروں کو بلاوجہ ڈرا دیتا۔ جنگل کے جانور اس سے ڈرتے تھے، مگر دل سے اس کی عزت کوئی نہیں کرتا تھا۔ اسی جنگل میں ایک بوڑھا ہاتھی بھی رہتا تھا۔ وہ طاقتور ہونے کے باوجود نہایت نرم دل اور سمجھدار تھا۔ جانور مشکل میں ہوتے تو ہاتھی ان کی مدد کرتا، مگر شیر اسے کمزور سمجھ کر نظر انداز کرتا۔ ایک سال جنگل میں شدید خشک سالی آ گئی۔ پانی کے تالاب سوکھنے لگے۔ جانور پریشان ہو گئے۔ شیر نے غصے میں آ کر کہا:“جو طاقتور ہے وہ زندہ رہے گا، کمزور مر جائیں گے!” مگر بوڑھا ہاتھی خاموشی سے سب جانوروں کو اکٹھا کرنے لگا۔ اس نے کہا:“اگر ہم مل کر کوشش کریں تو پہاڑ…

Read more

کیا آپ جانتے ہیں؟تاریخِ انسانی میں کم از کم دو بار انسان نے ایسا دوڑا کہ تاریخ رقم ہو گئی۔مگر عجیب بات یہ ہے کہایک کو پوری دنیا نے یاد رکھا،اور دوسرے کو صرف اس کے  چند چاہنے والوں نے… وہ بھی مدھم آواز میں۔ 490 قبلِ مسیحیونان کے علاقے میراتھن میں گھمسان کی جنگ برپا تھی۔دو فریق آمنے سامنے تھے:ایک طرف فارسی سلطنت، دوسری طرف یونانی ریاستیں—دونوں اپنی اپنی سپر پاور ہونے کا دعویٰ کیے ہوئے۔ جنگ کا پانسہ یونانیوں کے حق میں پلٹا۔فتح کے فوراً بعد فیڈی پیڈیز (Pheidippides) نامی ایک پیغام رساں کو حکم دیا گیا کہوہ میدانِ میراتھن سے تقریباً چالیس کلومیٹر دور شہر ایتھنز جا کر اعلان کرے: “ہم جنگ جیت گئے ہیں!” وہ گھوڑے پر سوار ہونے کے بجائے پیدل ہی دوڑ پڑا۔ایتھنز پہنچ کر اس نے فتح کا اعلان کیااور شدید تھکن و پیاس کے باعث وہیں گر کر جان دے دی۔ آج،اسی…

Read more

کہتے ہیں عرب کے ایک بادشاہ نےاپنی طاقت کے اظہار کے لیےایک ایسی بھول بھلیاں بنوائیجس میں داخل ہونا آساناور نکلنا ناممکن تھا۔ایک دنبابِل کا بادشاہ وہاں آیا۔عرب بادشاہ نے اسےہنستے ہوئےاسی بھول بھلیاں میں داخل کر دیا۔ بابِل کا بادشاہدن بھرراستوں میں بھٹکتا رہادیواروں سے ٹکراتا رہاآخرکاراللہ سے فریاد کیاور کسی طرح بچ نکلا۔وہ خاموشی سے واپس لوٹا۔ کچھ عرصہ بعدوہ ایک عظیم لشکر کے ساتھعرب کی سرزمین پر آیافتح حاصل کیاور عرب بادشاہ کو قید کر لیا۔پھر اسے صحرا میں لے گیا۔ کہا“یہ ہے میری بھول بھلیاںجس کی کوئی دیوار نہیںکوئی دروازہ نہیںکوئی نشان نہیں۔”عرب بادشاہ کوریگستان میں چھوڑ دیا گیاجہاں نہ سایہ تھانہ راستہ۔وہ وہیںپیاس میں مر گیا۔ حاصلِ سبق ظلمجب فن کا لباس پہن لےتب بھی ظلم ہی رہتا ہے۔اور جو دوسروں کوراستہ بھلاتا ہےوہ ایک دنخودلامحدود صحرا میں کھو جاتا ہے۔

ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﭘﯿﺮ ﺗﮭﮯ – ﺟﻦ ﮐﮯ ﺑﮩﺖ ﭘﯿﺮﻭﮐﺎﺭ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﯾﺪ ﺗﮭﮯ ۔ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺧﻮﺵ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﯿﺮ ﻭ ﻣﺮﺷﺪ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺁﭖ ﺑﮩﺖ ﺧﻮﺵ ﻧﺼﯿﺐ ﺁﺩﻣﯽ ﮨﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻣﻌﺘﻘﺪﯾﻦ ﮐﯽ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﺍﺗﻨﯽ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻧﮭﯿﮟ ﮔﻨﺎ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟﺟﺎ ﺳﮑﺘﺎ ۔۔ﻣﺮﺷﺪ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺻﺮﻑ ﮈﯾﮍﮪ ﺷﺨﺺ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻣﯿﺮﯼ ﻋﻘﯿﺪﺕ ﻭﺍﻻ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﺟﺎﮞ ﻧﺜﺎﺭﯼ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ،ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﻣﺎﻧﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﻗﯽ ﮐﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﮨﯿﮟ ۔۔ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺑﮩﺖ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﯾﮧ ﭘﭽﺎﺱ ﮨﺰﺍﺭ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺻﺮﻑ ﮈﯾﮍﮪ ﮐﯿﺴﮯﮐﮩﮧ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ۔ ﻣﺮﺷﺪ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻧﻔﺲ ﮐﺎ ﭨﯿﺴﭧ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﺐ ﺁﭖ ﮐﻮ ﭘﺘﺎ ﭼﻠﮯ ﮔﺎ ۔ ﺗﻮ ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻣﯿﺪﺍﻥ ﮐﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﭨﯿﻠﮧ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﭨﯿﻠﮧ ﮐﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﺁﭖ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﯾک ﺟﮭﻮﻧﭙﮍﯼ ﺑﻨﻮﺍﺩﯾﮟ ﻓﻮﺭﺍً ﺭﺍﺕ ﮨﯽ ﺭﺍﺕ ﻣﯿﮟ ﺑﻨﻮﺍ ﺩﯾﮟ- ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ…

Read more

ایک بادشاہ تھاجسے ہر فیصلہ کرنے سے پہلےدل میں ایک ہی بےچینی رہتی تھی۔ وہ سوچتا کون سا وقت سب سے اہم ہے؟ کون سا انسان سب سے زیادہ ضروری ہے؟ کون سا کام سب سے افضل ہے؟ اس نے علماء کو بلایافلاسفروں سے پوچھامگر ہر ایک کا جواب مختلف تھا۔آخرکاروہ ایک گوشہ نشین بزرگ کے پاس پہنچا۔راستے میںبادشاہ نے دیکھاکہ ایک شخص زخمی پڑا ہےخون بہہ رہا ہے۔ بادشاہ نے تاج اتارازخم صاف کیےاور اس کے پاس بیٹھ گیا۔رات ڈھل گئی۔ صبح بزرگ نے کہا“اب تمہارے سوالوں کے جواب مل گئے ہیں۔سب سے اہم وقتوہ ہے جو اس لمحے تمہارے پاس ہے۔ سب سے اہم انسانوہ ہے جو اس وقت تمہارے سامنے ہے۔اور سب سے افضل کامیہ ہے کہ اس انسان کے ساتھ بھلائی کی جائے۔”بادشاہ خاموش ہو گیااس کی تلاش ختم ہو چکی تھی۔ حاصلِ سبق زندگیماضی یا مستقبل میں نہیںبلکہ اسی لمحے میں فیصلہ مانگتی ہے۔جو سامنے…

Read more

آپ کیا جمع کر رہے ہیںایک دن بادشاہ اپنے تین وزراء کو دربار میں بلایا اور تینوں کو حکم دیا کہ تینوں ایک ایک تھیلا لے کر باغ میں داخل ہوں اور وہاں سے بادشاہ کے لیے مختلف اچھے اچھے پھل جمع کریں۔ وزراء بادشاہ کے اس عجیب حکم پر حیران رہ گئے، اور تینوں ایک ایک تھیلا پکڑ کر الگ الگ باغ میں داخل ہوگئے۔پہلے وزیر نے کوشش کی کہ بادشاہ کے لیے اسکی پسند کے مزیدار اور تازہ پھل جمع کرے، اور اس نے کافی محنت کے بعد بہترین اور تازہ پھلوں سے تھیلا بھر لیا۔دوسرے وزیر نے خیال کیا کہ بادشاہ ایک ایک پھل کا خود تو جائزہ نہیں لے گا کہ کیسا ہے اور نہ ہی پھلوں میں فرق دیکھے گا۔ اس لئے اس نے بغیر فرق دیکھے جلدی جلدی ہر قسم کے تازہ اور کچے اور گلے سڑے پھلوں سے اپنا تھیلا بھر لیا۔اور تیسرے…

Read more

ایک شخص بازار میں صدا لگا رہا تھا، “گدھا لے لو! ایک اشرفی میں گدھا لے لو! گدھا نہایت کمزور اور لاغر تھا۔اتفاق سے اسی وقت بادشاہ اپنے وزیر کے ساتھ وہاں سے گزرا۔بادشاہ اس گدھے کے پاس رکا اور پوچھا،“کتنے میں بیچ رہے ہو؟” تگڑا گاہک دیکھتے ہی مالک نے فوراً گدھے کے دام بڑھا دیئے۔وہ فوراً بولا،“عالی جاہ! دو تھیلی سونے کی اشرفیاں قیمت ہے۔” بادشاہ حیران رہ گیا۔“اتنا مہنگا گدھا؟ اس میں آخر ایسی کیا خاص بات ہے؟” گدھے والے نے ادب سے کہا،“حضور! جو اس پر بیٹھتا ہے اُسے مکہ اور مدینہ دکھائی دینے لگتے ہیں۔” بادشاہ کو یقین نہ آیا۔“اگر تمہاری بات سچ ہوئی تو ہم پانچ تھیلی سونے کی اشرفیاں دیں گے۔لیکن اگر جھوٹ نکلا تو تمہارا سر اُڑا دیا جائے گا۔” پھر اُس نے وزیر کو حکم دیا،“اس پر بیٹھو اور بتاؤ، کیا نظر آتا ہے؟” وزیر گدھے پر بیٹھنے ہی لگا تھا…

Read more

کہتے ہیں یہ تخت طاؤس ہے۔یہ کوئی عام تخت نہ تھا۔ یہ دنیا کی تاریخ کا سب سے قیمتی اور شاہانہ تخت تھا — “تختِ طاؤس۔ سن 1628… مغل بادشاہ شاہجہان—جس نے تاج محل جیسا عجوبہ تعمیر کرایا—نے ایک اور ناقابلِ تصور خواب دیکھا: ایک ایسا تخت بنایا جائے جو زمین پر جنت کا منظر پیش کرے۔ شاہجہان نے حکم دیا، اور سلطنت کے بہترین سنار، جواہرات تراشنے والے، اور فنکاروں کو یکجا کر لیا گیا۔ سات سال کی شب و روز محنت کے بعد، وہ شاہکار وجود میں آیا، جسے دنیا “تخت طاؤس” کے نام سے جانتی ہے۔یہ تخت خالص 1150 کلوگرام سونے سے ڈھالا گیا۔ اس پر 230 کلوگرام کے قریب ہیرے، یاقوت، زمرد، نیلم، اور موتی جڑے گئے۔تخت کے پیچھے دو مور (طاؤس) کی شکلیں بنی تھیں، جن کے پروں میں سینکڑوں جواہرات چمکتے تھے۔ ان ہی موروں کے باعث اس کا نام “تختِ طاؤس” پڑا۔یہ تخت…

Read more

کہتے ہیں کہ قدیم زمانے میں ایک رئیس کی بیٹی گھوڑا سواری کے دوران گھوڑے سے نیچے گر گئی اور اُس کے کولہے کی ہڈی اپنے بند سے جدا ہو گئی۔ لڑکی کے باپ نے بہت سے حکیموں سے علاج کروانے کی کوشش کی کہ ھڈی کو واپس اپنی جگہ پر بٹھائیں مگر مصیبت یہ تھی کہ لڑکی کسی حکیم کو اپنا جسم چھونے کی اجازت نہیں دیتی تھی ۔ باپ نے بہت اصرار کیا کہ بیٹی حکیم کو شریعت نے بھی محرم قرار دیا ھے لیکن بیٹی کسی طرح راضی نہیں ھو رھی تھی اور دن بہ دن کمزور ھوتی جا رھی تھی ۔ آخر لوگوں نے مشورہ دیا کہ شہر سے باھر ایک بہت حاذق حکیم رھتے ھیں اُن سے مشورہ کر لیں…….. وہ شخص حکیم صاحب کے پاس گئے اور اپنا مسئلہ بیان کیا تو حکیم صاحب نے کہا کہ ایک شرط پر میں آپ کی بیٹی…

Read more

مارکو پولو 1275ء میں قبلائی خان کے دربار تک پہنچتا ہے، یہ توقع لیے ہوئے کہ وہاں نایاب اور عجیب مصالحے ملیں گے۔ مگر جو کچھ وہ قلم بند کرتا ہے، وہ تاریخ کی سب سے وسیع دودھ پر مبنی ثقافت ہے۔وہ سوال جو ہر کوئی پوچھتا ہے: منگول فوجیں بغیر رسد کی لائنوں کے کیسے حرکت کرتی تھیں؟ پولو کا جواب: ہر سپاہی دودھ رکھنے کے لیے چمڑے کے مشکیزے ساتھ رکھتا تھا اور گھوڑوں کے ساتھ سفر کرتا تھا۔ یہ گھوڑے چلتی پھرتی ڈیری فیکٹریاں تھے۔ پولو لکھتا ہے:“جب وہ دور دراز مہم پر جاتے ہیں تو دودھ کے لیے دو چمڑے کی بوتلوں اور گوشت کے لیے ایک چھوٹے مٹی کے برتن کے سوا کوئی سامان نہیں لیتے۔ شدید مجبوری کی حالت میں وہ دس دن تک بغیر آگ جلائے اور بغیر کھانا پکائے سوار رہتے ہیں۔ وہ اپنے گھوڑوں کا خون پیتے ہیں، رگ کھول کر…

Read more

ایک مشرقی سلطنت میں ایک بادشاہ تھا جسے سچ سننے سے شدید الرجی تھی۔اگر کوئی سچ بول دیتا تو بادشاہ کو فوراً بخار آ جاتا، اور بولنے والے کو جیل۔اس لیے دربار میں سب لوگ صرف ایک ہی جملہ بولتے تھے“جہاں پناہ! آپ جیسا عقل مند بادشاہ تاریخ میں کبھی نہیں آیا۔” ایک دن بادشاہ نے حکم دیا“ایک ایسا آئینہ بنوایا جائے جو مجھے حقیقت دکھائے۔” وزیروں کے چہروں پر وہی مسکراہٹ آ گئی جو امتحان میں فیل طالب علم کے آتے ہی آتی ہے۔آخرکار شہر کے ایک درزی کو بلایا گیا۔سادہ آدمی، سیدھی بات، اور زبان ایسی جیسے قینچی —بغیر مروّت۔درزی نے آئینہ تیار کر دیا۔ بادشاہ نے آئینے میں دیکھااور چیخ اٹھا۔“یہ کیا ہے؟ یہ تو میں نہیں ہوں درزی بولا“جہاں پناہ، یہ وہی ہے جو آپ دوسروں کو دکھاتے ہیںبس آج خود دیکھ لیا ہے۔” دربار میں خاموشی چھا گئی۔بادشاہ نے غصے میں حکم دیا:“اس درزی کو…

Read more

قبیلہ عرب کی ایک لڑکی ایک لڑکے پر عاشق ھو گئ مجاز کا بھوت دونوں کہ سر پر چڑھ کر ناچنے لگا مختصر یہ کہ دونوں نے بھاگ کر شادی کرنے کا فیصلہ کر لیا لڑکی نے کہا میرے پاس ایک تیز رفتار اونٹنی ھے ھم رات کو ندی پار کر کہ دوسرے شہر روانہ ھو جائیں گے لڑکے نے بھی ھاں کر کہ رضا مندی کا اظہار کیا رات کے پچھلے پہر وقت مقررہ پر دونوں ندی کنارے اکٹھے ھوۓ لڑکی بولی میں اونٹنی پر سوار ھوتی ھوں تم اسے پیچھے سے ھانکتے ھانکتے ندی پار کرو پھر اوپر بیٹھ جانا ندی پار کر کے لڑکے نے کہا مگر ایسا کیوں میں بھی تمھارے ساتھ ھی بیٹھ جاتا ھوں ھانکنے کی کیا ضرورت ھے خود بخود چل تو رھی ھے لڑکی نے کہا اسکا باپ بھی ھمارا پالتو اونٹ تھا اسکی عادت تھی کہ وہ بیچ ندی میں جا…

Read more

کہتے ہیں کسی شہر میں ایک بڑے میاں اور ان کی بدمزاج، ناشکری بوڑھی بیوی رہتی تھی۔ غربت کے مارے انہیں ایک پرانی پن چکی میں رہنا پڑا،عمارت خستہ حال تھی، بارش ہوتی یا برف پڑتی تو چھت ٹپکنے لگتی۔ ایک دن بوڑھے میاں نے ایک سنہری پرندہ پکڑ کر گھر لایا ۔اتنے میں اس نے سنا کہ وہی سنہری پرندہ انسانی زبان میں گفتگو کر رہا ہے۔ پرندے نے کہا، ’’بڑے میاں! مجھے معلوم ہے کہ آپ برسوں سے مجھے پکڑنے کے چکر میں تھے،آج کامیاب ہوگئے، لیکن میرے چھوٹے بچے ہیں، انہیں چوگا کھلاتا ہوں، مہربانی کرکے مجھے چھوڑ دیجئے، آپ کی جو بھی خواہش ہوگی، وہ میں پوری کر دوں گا، میں آپ کو ایک ایسا تحفہ دوں گا، جو چاہیں گے وہ ہوجائے گا۔‘‘ بڑے میاں کی یہ سن کر بانچھیں کھل گئیں، انہوں نے سنہری پرندے کو آزاد کرتے ہوئے کہا، میں اپنی تکلیف دہ…

Read more

قدیم زمانے میں ایک بادشاہ تھا جسے قصے کہانیاں سننے کا بہت شوق تھا۔ ایک دن اسے شرارت سوجھی اور اس نے پورے ملک میں منادی کروا دی کہ:“جو شخص دربار میں آ کر ایسا جھوٹ بولے گا جس پر میں خود پکار اٹھوں کہ ‘یہ جھوٹ ہے’، اسے انعام میں ایک بڑا تھیلا سونے کے سکوں کا دیا جائے گا۔”انعام کی لالچ میں بڑے بڑے قصہ گو اور درباری آئے۔ ایک نے کہا: “جہاں پناہ! میں نے ایک ایسا مرغ دیکھا ہے جو ہاتھی کو اٹھا کر اڑ گیا تھا۔” بادشاہ مسکرا کر بولا: “ہو سکتا ہے، قدرت کی قدرت ہے، یہ سچ ہو سکتا ہے۔”دوسرا بولا: “بادشاہ سلامت! میں نے ایک بار سمندر میں آگ لگی دیکھی جس میں مچھلیاں پکوڑے بن کر باہر آ رہی تھیں۔” بادشاہ نے اطمینان سے جواب دیا: “موسم گرم ہوگا، پانی کھول گیا ہوگا، میں اسے جھوٹ نہیں کہتا۔”بادشاہ دراصل بہت عیار…

Read more

“ایک بند تھیلی، ایک کٹا ہوا قالین، اور سلطان کی خاموش چال — سچ تین دن میں کیسے بے نقاب ہوا؟”“جب قاضی نے امانت میں خیانت کی، اور سلطان محمود غزنوی نے قالین کاٹ کر انصاف قائم کر دیا!”محمود غزنوی کے زمانے میں غزنی کے ایک قاضی کے پاس اس کے ایک دوست تاجر نے اشرفیوں کی ایک تھیلی بطور امانت رکھوائی اور خود کاروبار کے لئے دوسرے ملک چلا گیا۔ واپسی پر اس نے قاضی سے اپنی تھیلی واپس مانگی جو اس نے واپس کردی۔ تاجر تسلی کرکے تھیلی لے گیا۔ گھر جا کر اس نے تھیلی کھولی تو اشرفیوں کی بجائے اس میں تانبے کے سکے تھے۔اس نے قاضی کے پاس آکر کہا اس میں جواشرفیاں تھیں وہ کہاں گئیں ؟ قاضی نے جواب دیا ” بھئی جس طرح تم بند تھیلی دے گئے تھے میں نے اسی طرح تمہارے حوالے کردی۔ اب مجھے کیا معلوم کہ اس…

Read more

‎ایک فوجی لڑائی کے میدان سے چھٹی لے کر اپنے گھر واپس جا رہا تھا۔ راستے میں وہ ایک گاؤں کے قریب سے گزرا۔ ‎ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے، جب کہ سپاہی شدید بھوکا تھا۔ وہ گاؤں کے سرے پر ایک مکان کے سامنے رک گیا اور کچھ کھانے کے لیے مانگا۔ گھر والوں نے کہا کہ ہمارے پاس کچھ بھی نہیں ہے، لہٰذا وہ آگے بڑھ گیا۔‎وہ دوسرے گھر پر رُکا اور وہی سوال دہرایا۔ یہاں بھی گھر والوں نے جواب دیا کہ ہمارے پاس کھانے کو کچھ بھی نہیں ہے، اگر ذرا ٹھہر کر آؤ تو شاید کوئی انتظام ہو جائے۔ ‎تب سپاہی نے سوال کیا ”تمھارے پاس ہنڈیا تو موجود ہے؟“ ‎گھر والوں نے کہا، ”بے شک! ہمارے پاس ہنڈیا موجود ہے۔“ ‎پھر اس نے معلوم کیا ”تمھارے ہاں پانی بھی ہو گا۔“ ”ہاں، پانی جتنا چاہو لے لو۔“ اسے جواب…

Read more

دوسری صدی ہجری میں معن بن زائدہ شیبانی ایک مشہور امیر گزرا ہے۔وہ بڑا بہادر اور دریا دل آدمی تھا۔سارے عرب میں اس کی سخاوت کی دھوم مچی ہوئی تھی۔ایک دفعہ عباسی خلیفہ ابو جعفر اس سے سخت ناراض ہو گیا اور اس نے حکم دیا کہ معن بن زائدہ کو گرفتار کرکے اس کے سامنے پیش کیا جائے۔ معن بن زائدہ کو خلیفہ کے حکم کی خبر ملی تو وہ کسی جگہ چھپ گیا،لیکن ہر وقت یہی دھڑکا لگا رہتا تھا کہ خلیفہ کے آدمی کسی نہ کسی دن اسے ڈھونڈ ضرور لیں گے۔ آخر ایک دن اس نے بھیس بدلا اور ایک اونٹ پر سوار ہو کر بغداد سے نکل کھڑا ہوا۔ تھوڑی ہی دور گیا تھا کہ ایک سیاہ رنگ کے آدمی نے یکا یک ایک طرف سے نکل کر اس کے اونٹ کی مہار پکڑ لی اور اونٹ کو بیٹھا دیا۔پھر اس نے معن بن زائدہ…

Read more

حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانے میں شیاطین آسمان کی طرف چڑھتے تھے اور فرشتوں کی باتیں چوری چھپے سن لیا کرتے تھے۔ یہ باتیں فرشتوں کے درمیان لوگوں کے حالات کے بارے میں ہوتی تھیں، جیسے کسی شخص کی موت رزق کی تقسیم اور دیگر غیبی امور شیاطین یہ باتیں سن کر نیچے اترتے اور بنی اسرائیل کے کاہنوں (جادوگروں) کو یہ خبریں پہنچاتے تھے۔ اس دور میں یہ بات مشہور ہوگئی کہ شیاطین غیب جانتے ہیں اور بنی اسرائیل کے کاہن ان خبروں کو لوگوں میں پھیلاتے تھے، اور جو کچھ کہا جاتا وہ بعینہ پورا ہوجاتا تھا۔ اس وجہ سے لوگوں کا ان باتوں پر ایمان اللہ کی نازل کرده کتاب زبور پر ایمان سے بھی زیادہ ہوگیا۔ یہاں تک کہ لوگوں نے زبور کو چھوڑ دیا اور شیاطین کی باتوں کو اختیار کرلیا۔ لوگوں نے شیاطین کی باتوں کو جمع کرکے کتابوں کی صورت دے دی…

Read more

بہلول مجذوب ہارون الرشید کے زمانے میں ایک مجذوب صفت بزرگ تھے۔ ہارون الرشید ان کی باتوں سے ظرافت کے مزے لیا کرتے تھے۔ بہلول اور ہارون الرشید کے کافی واقعات کتب میں ملتے ہیں بہلول کبھی کبھی جذب کے عالم میں بڑے پتے کی باتیں بھی کہہ جایا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ بہلول مجذوب ہارون الرشید کے پاس پہنچے۔ ہارون الرشید نے ایک چھڑی اٹھا کردی۔ مزاحاً کہا کہ بہلول یہ چھڑی تمہیں دے رہا ہوں۔ جو شخص تمہیں اپنے سے زیادہ بے وقوف نظر آئے اسے دے دینا۔ بہلول مجذوب نے بڑی سنجیدگی کے ساتھ چھڑی لے کر رکھ لی۔ اور واپس چلے آئے۔ بات آئی گئی ہوگئی۔ شاید ہارون الرشید بھی بھول گئے ہوں گے۔ عرصہ کے بعد ہارون الرشید کو سخت بیماری لاحق ہوگئی۔ بچنے کی کوئی امید نہ تھی۔ اطبا نے جواب دے دیا ۔ بہلول مجذوب عیادت کے لئے پہنچے اور سلام کے بعد…

Read more

20/111
NZ's Corner