Tag Archives: ” “Holiday encouragement”

وزیر کی جان پہ بنی ہوئی تھی، فقیر بات ہی نہیں سُن رہا تھا ، اۤخر طویل مِنت سماجت کے بعد فقیر نے سر اٹھایا ، ہاں بول کیا کہنا ہے وزیر نے ہاتھ جوڑے اور بتانا شروع کیاایک مہینہ پہلے ہمارے بادشاہ سلامت نے اچانک دربار میں ایک سوال اچھالا کہ کامیاب کردار کے لئے تربیت زیادہ کارآمد ہے یا ماحول ؟ میرے ایک ہم منصب وزیر نے جھٹ کہا کہ عالی جاہ ! تربیت  جبکہ میں نے عجلت میں کہا جناب ! ماحول ، ماحول تربیت پر فوقیت رکھتا ہے بادشاہ سلامت نے ہماری طرف رعونت سے دیکھا اور فرمایا تم دونوں کو اپنا اپنا جواب عملی طور پر ثابت کرنا ہوگا جو ثابت نہ کر سکا اس کا سر قلم کر دیا جائے گا اور اس کے لئے ہمیں ایک ماہ کی مہلت دے دی ، ہم دونوں اپنے جواب کی عملی تعبیر تلاشنے میں لگ گئے…

Read more

ایک سوداگر بازار میں گھوم رہا تھا کہ اس کی نظر ایک عمدہ نسل کے اونٹ پر پڑی۔اونٹ واقعی لاجواب تھا۔ سوداگر اور اونٹ بیچنے والے کے درمیان کافی دیر تک گفت و شنید ہوتی رہی، آخرکار سودا طے پا گیا اور سوداگر اونٹ خرید کر گھر لے آیا۔ گھر پہنچ کر اس نے نوکر کو آواز دی کہ اونٹ کی زین اتار دو۔نوکر نے زین اٹھائی تو اس کے نیچے ایک مخملی تھیلا پڑا ہوا تھا۔ جب تھیلا کھولا گیا تو اندر قیمتی ہیرے اور جواہرات چمک رہے تھے، سورج کی روشنی میں وہ اور بھی زیادہ جگمگا رہے تھے۔ نوکر خوشی سے چلایا:“آقا! آپ نے اونٹ خریدا ہے، لیکن دیکھیں مفت میں کیا آ گیا!” سوداگر نے ہیرے دیکھے تو لمحہ بھر کو حیران ضرور ہوا، مگر فوراً بولا:“میں نے اونٹ خریدا ہے، ہیرے نہیں۔ یہ امانت ہے، ہمیں فوراً واپس کرنی چاہیے۔” نوکر دل ہی دل میں…

Read more

جنگل کے قریب ایک اونچا پہاڑ تھا۔ جانور کہتے تھے کہ اس کی چوٹی تک کوئی نہیں پہنچ سکتا۔ جو بھی کوشش کرتا، راستے کی سختی سے واپس آ جاتا۔ ایک خاموش سا کچھوا اکثر اس پہاڑ کو دیکھتا رہتا۔ وہ جانتا تھا کہ اس کے قدم سست ہیں، مگر اس کا ارادہ مضبوط تھا۔ ایک دن اس نے سفر شروع کر دیا۔ دوسرے جانور ہنسے:“اتنے آہستہ چلنے والا پہاڑ سر کرے گا؟” راستہ پتھریلا تھا، دھوپ تیز تھی۔ کچھوا کئی بار رکا، مگر پلٹا نہیں۔ وہ ہر قدم کے ساتھ خود سے کہتا:“میں تیز نہیں ہوں، مگر مستقل ہوں۔” دنوں بعد جب وہ چوٹی پر پہنچا تو بادل اس کے نیچے تھے۔ وہ خاموشی سے مسکرایا۔ اسی وقت باقی جانور بھی وہاں پہنچے اور حیران رہ گئے۔ کچھوا بولا:“جو ہار مان لے وہ کبھی نہیں پہنچتا۔” سبق: مستقل مزاجی کمزوری نہیں، اصل طاقت ہے۔

گہرے جنگل میں ایک طاقتور شیر رہتا تھا۔ وہ خود کو سب سے بڑا اور عقلمند سمجھتا تھا۔ اس کا ماننا تھا کہ طاقت ہی سب کچھ ہے، اسی لیے وہ اکثر کمزور جانوروں کو بلاوجہ ڈرا دیتا۔ جنگل کے جانور اس سے ڈرتے تھے، مگر دل سے اس کی عزت کوئی نہیں کرتا تھا۔ اسی جنگل میں ایک بوڑھا ہاتھی بھی رہتا تھا۔ وہ طاقتور ہونے کے باوجود نہایت نرم دل اور سمجھدار تھا۔ جانور مشکل میں ہوتے تو ہاتھی ان کی مدد کرتا، مگر شیر اسے کمزور سمجھ کر نظر انداز کرتا۔ ایک سال جنگل میں شدید خشک سالی آ گئی۔ پانی کے تالاب سوکھنے لگے۔ جانور پریشان ہو گئے۔ شیر نے غصے میں آ کر کہا:“جو طاقتور ہے وہ زندہ رہے گا، کمزور مر جائیں گے!” مگر بوڑھا ہاتھی خاموشی سے سب جانوروں کو اکٹھا کرنے لگا۔ اس نے کہا:“اگر ہم مل کر کوشش کریں تو پہاڑ…

Read more

یہ جنگل عام جنگل نہیں تھا۔یہاں طاقت صرف دانتوں یا پنجوں سے نہیں ناپی جاتی تھی،بلکہ فیصلوں، وقت پر حرکت، اور خاموش حکمت سے ناپی جاتی تھی۔ جنگل کا بادشاہ شیر تھا،طاقتور، خوفناک، مگر اب بوڑھا ہو چکا تھا۔وہ روز ایک ہی راستے سے شکار پر جاتا،ایک ہی وقت پر، ایک ہی انداز میں۔ جنگل کے سب جانور یہ جانتے تھے—اور جنگل یہ بھی جانتا تھا کہجو نہیں بدلتا، وہ مٹ جاتا ہے۔ اسی جنگل میں ایک دبلا پتلا بھیڑیا رہتا تھا۔نہ سب سے طاقتور،نہ سب سے تیز،نہ سب سے بڑا۔ مگر وہ مشاہدہ کرتا تھا۔ وہ دیکھتا تھا کہ کون سا درخت کب سایہ دیتا ہے،کون سا جانور کب لاپرواہ ہوتا ہے،اور کب شور مچانا موت کو دعوت دینا ہوتا ہے۔ ایک دن شدید قحط پڑا۔شکار کم ہو گیا۔طاقتور جانور ایک دوسرے سے لڑنے لگے۔ شیر نے غصے میں اپنی طاقت دکھائی—مگر کمزور جسم نے ساتھ نہ دیا۔ چیتا…

Read more

کیا آپ جانتے ہیں؟تاریخِ انسانی میں کم از کم دو بار انسان نے ایسا دوڑا کہ تاریخ رقم ہو گئی۔مگر عجیب بات یہ ہے کہایک کو پوری دنیا نے یاد رکھا،اور دوسرے کو صرف اس کے  چند چاہنے والوں نے… وہ بھی مدھم آواز میں۔ 490 قبلِ مسیحیونان کے علاقے میراتھن میں گھمسان کی جنگ برپا تھی۔دو فریق آمنے سامنے تھے:ایک طرف فارسی سلطنت، دوسری طرف یونانی ریاستیں—دونوں اپنی اپنی سپر پاور ہونے کا دعویٰ کیے ہوئے۔ جنگ کا پانسہ یونانیوں کے حق میں پلٹا۔فتح کے فوراً بعد فیڈی پیڈیز (Pheidippides) نامی ایک پیغام رساں کو حکم دیا گیا کہوہ میدانِ میراتھن سے تقریباً چالیس کلومیٹر دور شہر ایتھنز جا کر اعلان کرے: “ہم جنگ جیت گئے ہیں!” وہ گھوڑے پر سوار ہونے کے بجائے پیدل ہی دوڑ پڑا۔ایتھنز پہنچ کر اس نے فتح کا اعلان کیااور شدید تھکن و پیاس کے باعث وہیں گر کر جان دے دی۔ آج،اسی…

Read more

*ایک شخص نے بچھڑا ذبح کیا اور اسے آگ پر پکا کر اپنے بھائی سے کہا کہ ہمارے دوستوں اور پڑوسیوں کو دعوت دو تاکہ وہ ہمارے ساتھ مل کر اس کو کھائیں* اس کا بھائی باہر گیا اور پکار کر کہا.اے لوگو!! ہماری مدد کرو میرے بھائی کے گھر میں آگ لگی ہوئی ہے.کچھ ہی دیر میں لوگوں کا ایک مجمع نکلا اور باقی لوگ کام میں لگے رہے جیسے انہوں نے کچھ نہ سنا ہو…وہ لوگ جو کہ آگ بجھانے میں مدد کو آئے تھے انہوں نے سیر ہوکر کھایا پیا..تو وہ شخص اپنے بھائی کی طرف تعجب سے دیکھ کر کہنے لگا :یہ جو لوگ آئے تھے میں تو انہیں نہیں پہچانتا اور نہ میں نے پہلے ان کو دیکھا ہے پھر ہمارے دوست احباب کہاں ہیں؟بھائی نے جواب دیا کہ یہ لوگ اپنے گھروں سے نکل کر ہمارے گھر میں لگی آگ بجھانے میں ہماری مدد…

Read more

کسی جنگل کے کنارے ایک فارم ہاؤس تھا، جہاں ایک بوڑھا کتا رہتا تھا۔ وہ سالوں سے اپنے مالک کی بھیڑوں کی حفاظت کر رہا تھا۔ اسی جنگل میں ایک لومڑی بھی رہتی تھی جو بہت چالاک تھی اور ہمیشہ اس تاک میں رہتی تھی کہ کسی طرح ایک موٹی تازی بھیڑ چرا لے۔لومڑی کی چالایک دن لومڑی کتے کے پاس آئی اور بڑی ہمدردی سے بولی، “ارے دوست! تم کتنے بوڑھے ہو گئے ہو، پھر بھی اتنی سخت ڈیوٹی کرتے ہو۔ تمہارا مالک تو تمہیں صرف ایک خشک روٹی دیتا ہے۔ اگر تم آج رات سو جاؤ اور مجھے صرف ایک بھیڑ لے جانے دو، تو میں تمہیں جنگل سے لذیذ گوشت لا کر دوں گی۔”کتا سمجھ گیا کہ لومڑی اسے بہلا رہی ہے۔ اس نے فوراً ایک منصوبہ بنایا اور کہا، “ٹھیک ہے لومڑی بہن! میں آج رات فارم کے پچھلے دروازے پر سو جاؤں گا، تم وہاں…

Read more

ایک طاقتور، لیکن ایک بے وقوف انسان کی کہانی ہے۔اس کا نام تو کچھ اور تھا، لیکن وہ جوا راٹا کے عجیب و غریب نام سے مشہور تھا۔جوا راٹا بے حد طاقتور، لیکن احمق شخص تھا۔وہ ایک وقت میں پچاس افراد کا کھانا کھا لیتا تھا۔اس کا باپ بہت پریشان تھا، کیونکہ وہ کھانے کے علاوہ کوئی کام نہیں کرتا تھا۔ایک روز کسی نے جوا راٹا کو بتایا کہ شمالی پہاڑوں کے پیچھے ایک وادی ہے۔اس کا نام اگنستان ہے۔وہاں بہت بڑا خزانہ چھپا ہوا ہے۔اگر تم وہ خزانہ حاصل کر لو تو تمہاری ساری زندگی عیش میں گزرے گی۔جوا راٹا یہ سن کر بے حد خوش ہوا اور اسی دن وہ وادی کی طرف چل دیا۔چلتے چلتے شام ہو گئی۔رات اس نے ایک گاؤں میں گزاری۔صبح ہونے کے بعد وہ اپنا سفر کرنے ہی والا تھا کہ گاؤں کے چودھری نے اسے بلایا اور کہا:”نوجوان! تم مجھے بہت طاقتور…

Read more

کسی جنگل میں ایک مغرور اونٹ رہتا تھا۔اسے اپنے لمبے قد اور چال ڈھال پر بڑا ناز تھا۔اس کا دعویٰ تھا کہ میں سب سے اعلیٰ ہوں۔اس کا جہاں جی چاہتا منہ اُٹھا کر چلا جاتا اور سب جانوروں سے بدتمیزی کرتا رہتا۔کوئی جانور اگر اسے چھیڑتا تو وہ اس کے پیچھے پڑ جاتا۔اس کے گھر کے قریب چوہے کا بل تھا اور اونٹ کو اس چوہے سے سب سے زیادہ نفرت تھی۔وہ اس چوہے کو نہ جانے کیا کیا القابات دیتا رہتا لیکن چوہا ہنس کے ٹال دیتا تھا۔جنگل کے سب جانور ہی اونٹ سے اس کے تکبر کی وجہ سے تنگ تھے اور چاہتے تھے کہ اسے اس کے کیے کی سزا ملے مگر ابھی تک اونٹ کو کھلی چھٹی ملی ہوئی تھی۔وہ بہار کا خوشگوار موسم تھا، ہر طرف پھول کھلے ہوئے تھے اور جنگل میں بھینی بھینی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔اونٹ سو کر اُٹھا تو اسے…

Read more

ایک بادشاہ تھاجو ہر روز آئینے کے سامنے کھڑا ہو کراپنی شان دیکھتا تھا۔ایک دن اس نے حکم دیاکہ ملک کا سب سے بڑا آئینہ لایا جائےتاکہ وہ خود کواور بھی عظیم دیکھ سکے۔آئینہ آیا۔بادشاہ نے دیکھاچہرہ وہی تھامگر آنکھوں میں تھکن جھلک رہی تھی۔اس نے غصے میں آئینہ توڑ دیا۔ کچھ دن بعدایک درویش دربار میں آیااور بولا“حضورآئینہ تو نہیں ٹوٹا،صرف وہم ٹوٹا ہے۔”بادشاہ خاموش ہو گیا۔ حاصلِ سبق آئینہچہرہ دکھاتا ہےمگر حقیقتدل میں چھپی ہوتی ہے۔جو سچ سے بھاگےوہ تصویر توڑتا ہےخود کو نہیں بدلتا۔

رومیوں کی صف سے ایک گھڑ سوار جو نہایت ڈیل ڈول کا مالک تھا، نکل کر میدان میں آیا اور چیخ چیخ کر کچھ کہنے لگا۔ مسلمانوں کو اس کی زبان تو سمجھ نہ آئی البتہ اس کے چہرے کے تاثرات سے سمجھ گئے کہ کسی کو مقابلے کے لیے بلا رہا ہے۔ اس کا مقابلہ کرنے کے لیے سابق والی بصرہ روماس نکل کر گئے۔ مقابل نے ان کو خوب لعن طعن کی کہ تم نے اپنا دین تبدیل کرلیا ہے۔ پھر اس نے روماس پر حملہ کردیا۔ دونوں برابر جوڑ کے تھے۔ کافی دیر تک تلواروں کی جھنکار اور بہادروں کی للکار سنائی دیتی رہی۔ آخر رومی سورما نے ایک کاری وار کیا۔ آپ نے وار کو اپنے اوپر محسوس کیا۔ اس ضرب سے آپ کا خون جاری ہوگیا۔ جب آپ کو تکلیف محسوس ہوئی تو آپ نے گھوڑا اپنے لشکر کی طرف موڑ دیا۔ رومی آپ کے…

Read more

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ١۲ بیٹے تھے – ان کی نسل اسقدر ہوئی کے مکہ مکرمہ میں نہ سما سکی اور پورے حجاز میں پھیل گئی – ان کے ایک بیٹے قیدار کی اولاد میں عدنان ہوئے – عدنان کے بیٹے معد اور پوتے کا نام نزار تھا – نزار کے چار بیٹے تھے – ان میں سے ایک کا نام مضر تھا – مضر کی نسل سے قریش بن مالک پیدا ہوئے” یہ فہر بن مالک بھی کہلائے – قریش کی اولاد بہت ہوئی – ان کی اولاد مختلف قبیلوں میں بٹ گئی – ان کی اولاد سے قصیّ نے اقتدار حاصل کیا – قصیّ کے آگے تین بیٹے ہوئے – ان میں سے ایک عبد مناف تھے جن کی اگلی نسل میں ہاشم پیدا ہوئے – ہاشم نے مدینہ کے ایک سردار کی لڑکی سے شادی کی ” ان کے یہاں…

Read more

قدیم زمانے میں ایک بادشاہ تھا جسے قصے کہانیاں سننے کا بہت شوق تھا۔ ایک دن اسے شرارت سوجھی اور اس نے پورے ملک میں منادی کروا دی کہ:“جو شخص دربار میں آ کر ایسا جھوٹ بولے گا جس پر میں خود پکار اٹھوں کہ ‘یہ جھوٹ ہے’، اسے انعام میں ایک بڑا تھیلا سونے کے سکوں کا دیا جائے گا۔”انعام کی لالچ میں بڑے بڑے قصہ گو اور درباری آئے۔ ایک نے کہا: “جہاں پناہ! میں نے ایک ایسا مرغ دیکھا ہے جو ہاتھی کو اٹھا کر اڑ گیا تھا۔” بادشاہ مسکرا کر بولا: “ہو سکتا ہے، قدرت کی قدرت ہے، یہ سچ ہو سکتا ہے۔”دوسرا بولا: “بادشاہ سلامت! میں نے ایک بار سمندر میں آگ لگی دیکھی جس میں مچھلیاں پکوڑے بن کر باہر آ رہی تھیں۔” بادشاہ نے اطمینان سے جواب دیا: “موسم گرم ہوگا، پانی کھول گیا ہوگا، میں اسے جھوٹ نہیں کہتا۔”بادشاہ دراصل بہت عیار…

Read more

۔قارون حضرت موسیٰ ؑ کے چچا ’’ یصہر‘‘ کا بیٹا تھا۔ بہت ہی شکیل اور خوبصورت آدمی تھا۔ اسی لئے لوگ اس کے حسن و جمال سے متاثر ہو کر اس کو ’’منور‘‘ کہا کرتے تھے اس کے ساتھ ساتھ اس میں یہ کمال بھی تھا کہ وہ بنی اسرائیل میں ’’ توراۃ‘‘ کا بہت بڑا عالم اور بہت ہی ملنسار وبا اخلاق انسان تھا۔ اور لوگ اس کا بہت ہی ادب و احترام کرتے تھے۔ لیکن بے شمار دولت ان کے ہاتھ آتے ہی اسی کے حالات میں ایک دم تغیر پیدا ہوگیا اور سامری کی طرح منافق ہو کر حضرت موسیٰ ؑ کا بہت بڑا دشمن ہوگیا۔ اور اعلیٰ درجے کا متکبر اور مغرور ہوگیا۔ جب زکٰوۃ کا حکم نازل ہوا تو اس نے حضرت موسیٰ ؑ کے روبرو یہ عہد کیا کہ وہ اپنے تمام مالوں میں سے ہزارواں حصہ زکوٰۃ نکالے گا۔ مگر جب اس نے…

Read more

کہتے ہیں عرب کے ایک بادشاہ نےاپنی طاقت کے اظہار کے لیےایک ایسی بھول بھلیاں بنوائیجس میں داخل ہونا آساناور نکلنا ناممکن تھا۔ایک دنبابِل کا بادشاہ وہاں آیا۔عرب بادشاہ نے اسےہنستے ہوئےاسی بھول بھلیاں میں داخل کر دیا۔ بابِل کا بادشاہدن بھرراستوں میں بھٹکتا رہادیواروں سے ٹکراتا رہاآخرکاراللہ سے فریاد کیاور کسی طرح بچ نکلا۔وہ خاموشی سے واپس لوٹا۔ کچھ عرصہ بعدوہ ایک عظیم لشکر کے ساتھعرب کی سرزمین پر آیافتح حاصل کیاور عرب بادشاہ کو قید کر لیا۔پھر اسے صحرا میں لے گیا۔ کہا“یہ ہے میری بھول بھلیاںجس کی کوئی دیوار نہیںکوئی دروازہ نہیںکوئی نشان نہیں۔”عرب بادشاہ کوریگستان میں چھوڑ دیا گیاجہاں نہ سایہ تھانہ راستہ۔وہ وہیںپیاس میں مر گیا۔ حاصلِ سبق ظلمجب فن کا لباس پہن لےتب بھی ظلم ہی رہتا ہے۔اور جو دوسروں کوراستہ بھلاتا ہےوہ ایک دنخودلامحدود صحرا میں کھو جاتا ہے۔

زبردستی کا ولی ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بادشاہ تھا ۔ ایک دن بادشاہ کا بہترین گھوڑا اصطبل سے بھاگ گیا ۔بادشاہ نے سپاہیوں کو گھوڑا تلاشنے کا حکم دیا ۔ سپاہی گھوڑے کو تلاش کرتے کرتے جنگل میں پہنچ گئے ۔وہاں ایک شخص نماز پڑھ رہا تھا لیکن سپاہیوں کو معلوم نہ ہوسکا کہ وہ نماز پڑھ رہا ہے انہوں نے اس سے پوچھا کہ تم نے یہاں جنگل میں کوئی گھوڑا دیکھا ہے ؟جواب ندارد ۔انہوں نے کچھ دیر رک پھر سوال کیا ۔دوسری جانب سے مکمل خاموشی ۔سپاہیوں نے جھنجھلا کر تیسری مرتبہ پھر پوچھنے کا ارادہ کیا ہی تھا کہ اس شخص نے  دائیں جانب سلام پھیرا ۔سپاہی یہ سمجھے ہمیں اشارے سے بتارہا ہے کہ اس جانب دیکھ لو ۔ وہ دائیں جانب گئے تو گھوڑا مل گیا ۔سپاہی خوش ہوگئے اور انہوں نے اپنی طرف سے اندازہ لگایا کہ یہ شخص کوئی…

Read more

ایک خاتون حضرت داؤد علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا اے خدا کے نبی! کیا اللہ ظالم ہے؟ حضرت داؤد علیہ السلام نے فرمایا : رب تعالیٰ تو سراسر عدل و انصاف ہے وہ ذرا برابر بھی کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ اس نے کہا اللہ نے مجھ پر ظلم کیا ہے حضرت داؤد علیہ السلام نے پوچھا کون سا ظلم کیا ہے؟ اللہ کے ہر کام میں حکمت ہوتی ہے۔ وہ کہنے لگی مجھے تو حکمت نظر نہیں آتی مجھے تو ظلم لگتا ہے پھر اس عورت نے اپنا قصہ بیان کرنا شروع کیا اے خدا کے نبی! میں ایک بیوہ عورت ہوں، میری تین یتیم بچیاں ہیں، جن کی پرورش میں اپنے ہاتھ سے سوت کاٹ کاٹ کے کرتی ہوں میں دن بھر اور بعض اوقات راتوں کو جاگ کر سوت کاٹتی ہوں۔ گزشتہ روز میں اپنا کاٹا ہوا سوت ایک سرخ کپڑے میں…

Read more

ایک بادشاہ تھاجسے ہر فیصلہ کرنے سے پہلےدل میں ایک ہی بےچینی رہتی تھی۔ وہ سوچتا کون سا وقت سب سے اہم ہے؟ کون سا انسان سب سے زیادہ ضروری ہے؟ کون سا کام سب سے افضل ہے؟ اس نے علماء کو بلایافلاسفروں سے پوچھامگر ہر ایک کا جواب مختلف تھا۔آخرکاروہ ایک گوشہ نشین بزرگ کے پاس پہنچا۔راستے میںبادشاہ نے دیکھاکہ ایک شخص زخمی پڑا ہےخون بہہ رہا ہے۔ بادشاہ نے تاج اتارازخم صاف کیےاور اس کے پاس بیٹھ گیا۔رات ڈھل گئی۔ صبح بزرگ نے کہا“اب تمہارے سوالوں کے جواب مل گئے ہیں۔سب سے اہم وقتوہ ہے جو اس لمحے تمہارے پاس ہے۔ سب سے اہم انسانوہ ہے جو اس وقت تمہارے سامنے ہے۔اور سب سے افضل کامیہ ہے کہ اس انسان کے ساتھ بھلائی کی جائے۔”بادشاہ خاموش ہو گیااس کی تلاش ختم ہو چکی تھی۔ حاصلِ سبق زندگیماضی یا مستقبل میں نہیںبلکہ اسی لمحے میں فیصلہ مانگتی ہے۔جو سامنے…

Read more

آپ کیا جمع کر رہے ہیںایک دن بادشاہ اپنے تین وزراء کو دربار میں بلایا اور تینوں کو حکم دیا کہ تینوں ایک ایک تھیلا لے کر باغ میں داخل ہوں اور وہاں سے بادشاہ کے لیے مختلف اچھے اچھے پھل جمع کریں۔ وزراء بادشاہ کے اس عجیب حکم پر حیران رہ گئے، اور تینوں ایک ایک تھیلا پکڑ کر الگ الگ باغ میں داخل ہوگئے۔پہلے وزیر نے کوشش کی کہ بادشاہ کے لیے اسکی پسند کے مزیدار اور تازہ پھل جمع کرے، اور اس نے کافی محنت کے بعد بہترین اور تازہ پھلوں سے تھیلا بھر لیا۔دوسرے وزیر نے خیال کیا کہ بادشاہ ایک ایک پھل کا خود تو جائزہ نہیں لے گا کہ کیسا ہے اور نہ ہی پھلوں میں فرق دیکھے گا۔ اس لئے اس نے بغیر فرق دیکھے جلدی جلدی ہر قسم کے تازہ اور کچے اور گلے سڑے پھلوں سے اپنا تھیلا بھر لیا۔اور تیسرے…

Read more

20/94
NZ's Corner