Tag Archives: ” “mindset

جنگل کے قریب ایک اونچا پہاڑ تھا۔ جانور کہتے تھے کہ اس کی چوٹی تک کوئی نہیں پہنچ سکتا۔ جو بھی کوشش کرتا، راستے کی سختی سے واپس آ جاتا۔ ایک خاموش سا کچھوا اکثر اس پہاڑ کو دیکھتا رہتا۔ وہ جانتا تھا کہ اس کے قدم سست ہیں، مگر اس کا ارادہ مضبوط تھا۔ ایک دن اس نے سفر شروع کر دیا۔ دوسرے جانور ہنسے:“اتنے آہستہ چلنے والا پہاڑ سر کرے گا؟” راستہ پتھریلا تھا، دھوپ تیز تھی۔ کچھوا کئی بار رکا، مگر پلٹا نہیں۔ وہ ہر قدم کے ساتھ خود سے کہتا:“میں تیز نہیں ہوں، مگر مستقل ہوں۔” دنوں بعد جب وہ چوٹی پر پہنچا تو بادل اس کے نیچے تھے۔ وہ خاموشی سے مسکرایا۔ اسی وقت باقی جانور بھی وہاں پہنچے اور حیران رہ گئے۔ کچھوا بولا:“جو ہار مان لے وہ کبھی نہیں پہنچتا۔” سبق: مستقل مزاجی کمزوری نہیں، اصل طاقت ہے۔

گہرے جنگل میں ایک طاقتور شیر رہتا تھا۔ وہ خود کو سب سے بڑا اور عقلمند سمجھتا تھا۔ اس کا ماننا تھا کہ طاقت ہی سب کچھ ہے، اسی لیے وہ اکثر کمزور جانوروں کو بلاوجہ ڈرا دیتا۔ جنگل کے جانور اس سے ڈرتے تھے، مگر دل سے اس کی عزت کوئی نہیں کرتا تھا۔ اسی جنگل میں ایک بوڑھا ہاتھی بھی رہتا تھا۔ وہ طاقتور ہونے کے باوجود نہایت نرم دل اور سمجھدار تھا۔ جانور مشکل میں ہوتے تو ہاتھی ان کی مدد کرتا، مگر شیر اسے کمزور سمجھ کر نظر انداز کرتا۔ ایک سال جنگل میں شدید خشک سالی آ گئی۔ پانی کے تالاب سوکھنے لگے۔ جانور پریشان ہو گئے۔ شیر نے غصے میں آ کر کہا:“جو طاقتور ہے وہ زندہ رہے گا، کمزور مر جائیں گے!” مگر بوڑھا ہاتھی خاموشی سے سب جانوروں کو اکٹھا کرنے لگا۔ اس نے کہا:“اگر ہم مل کر کوشش کریں تو پہاڑ…

Read more

کیا آپ جانتے ہیں؟تاریخِ انسانی میں کم از کم دو بار انسان نے ایسا دوڑا کہ تاریخ رقم ہو گئی۔مگر عجیب بات یہ ہے کہایک کو پوری دنیا نے یاد رکھا،اور دوسرے کو صرف اس کے  چند چاہنے والوں نے… وہ بھی مدھم آواز میں۔ 490 قبلِ مسیحیونان کے علاقے میراتھن میں گھمسان کی جنگ برپا تھی۔دو فریق آمنے سامنے تھے:ایک طرف فارسی سلطنت، دوسری طرف یونانی ریاستیں—دونوں اپنی اپنی سپر پاور ہونے کا دعویٰ کیے ہوئے۔ جنگ کا پانسہ یونانیوں کے حق میں پلٹا۔فتح کے فوراً بعد فیڈی پیڈیز (Pheidippides) نامی ایک پیغام رساں کو حکم دیا گیا کہوہ میدانِ میراتھن سے تقریباً چالیس کلومیٹر دور شہر ایتھنز جا کر اعلان کرے: “ہم جنگ جیت گئے ہیں!” وہ گھوڑے پر سوار ہونے کے بجائے پیدل ہی دوڑ پڑا۔ایتھنز پہنچ کر اس نے فتح کا اعلان کیااور شدید تھکن و پیاس کے باعث وہیں گر کر جان دے دی۔ آج،اسی…

Read more

ایک خاتون حضرت داؤد علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا اے خدا کے نبی! کیا اللہ ظالم ہے؟ حضرت داؤد علیہ السلام نے فرمایا : رب تعالیٰ تو سراسر عدل و انصاف ہے وہ ذرا برابر بھی کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ اس نے کہا اللہ نے مجھ پر ظلم کیا ہے حضرت داؤد علیہ السلام نے پوچھا کون سا ظلم کیا ہے؟ اللہ کے ہر کام میں حکمت ہوتی ہے۔ وہ کہنے لگی مجھے تو حکمت نظر نہیں آتی مجھے تو ظلم لگتا ہے پھر اس عورت نے اپنا قصہ بیان کرنا شروع کیا اے خدا کے نبی! میں ایک بیوہ عورت ہوں، میری تین یتیم بچیاں ہیں، جن کی پرورش میں اپنے ہاتھ سے سوت کاٹ کاٹ کے کرتی ہوں میں دن بھر اور بعض اوقات راتوں کو جاگ کر سوت کاٹتی ہوں۔ گزشتہ روز میں اپنا کاٹا ہوا سوت ایک سرخ کپڑے میں…

Read more

ایک بادشاہ تھاجسے ہر فیصلہ کرنے سے پہلےدل میں ایک ہی بےچینی رہتی تھی۔ وہ سوچتا کون سا وقت سب سے اہم ہے؟ کون سا انسان سب سے زیادہ ضروری ہے؟ کون سا کام سب سے افضل ہے؟ اس نے علماء کو بلایافلاسفروں سے پوچھامگر ہر ایک کا جواب مختلف تھا۔آخرکاروہ ایک گوشہ نشین بزرگ کے پاس پہنچا۔راستے میںبادشاہ نے دیکھاکہ ایک شخص زخمی پڑا ہےخون بہہ رہا ہے۔ بادشاہ نے تاج اتارازخم صاف کیےاور اس کے پاس بیٹھ گیا۔رات ڈھل گئی۔ صبح بزرگ نے کہا“اب تمہارے سوالوں کے جواب مل گئے ہیں۔سب سے اہم وقتوہ ہے جو اس لمحے تمہارے پاس ہے۔ سب سے اہم انسانوہ ہے جو اس وقت تمہارے سامنے ہے۔اور سب سے افضل کامیہ ہے کہ اس انسان کے ساتھ بھلائی کی جائے۔”بادشاہ خاموش ہو گیااس کی تلاش ختم ہو چکی تھی۔ حاصلِ سبق زندگیماضی یا مستقبل میں نہیںبلکہ اسی لمحے میں فیصلہ مانگتی ہے۔جو سامنے…

Read more

آپ کیا جمع کر رہے ہیںایک دن بادشاہ اپنے تین وزراء کو دربار میں بلایا اور تینوں کو حکم دیا کہ تینوں ایک ایک تھیلا لے کر باغ میں داخل ہوں اور وہاں سے بادشاہ کے لیے مختلف اچھے اچھے پھل جمع کریں۔ وزراء بادشاہ کے اس عجیب حکم پر حیران رہ گئے، اور تینوں ایک ایک تھیلا پکڑ کر الگ الگ باغ میں داخل ہوگئے۔پہلے وزیر نے کوشش کی کہ بادشاہ کے لیے اسکی پسند کے مزیدار اور تازہ پھل جمع کرے، اور اس نے کافی محنت کے بعد بہترین اور تازہ پھلوں سے تھیلا بھر لیا۔دوسرے وزیر نے خیال کیا کہ بادشاہ ایک ایک پھل کا خود تو جائزہ نہیں لے گا کہ کیسا ہے اور نہ ہی پھلوں میں فرق دیکھے گا۔ اس لئے اس نے بغیر فرق دیکھے جلدی جلدی ہر قسم کے تازہ اور کچے اور گلے سڑے پھلوں سے اپنا تھیلا بھر لیا۔اور تیسرے…

Read more

خواجے دا گواہ ڈڈو ۔ آپ اکثر یہ کہاوت سنتے ہیں تو چلیں آپ کو اس کہاوت کی تاریخ اور پس منظر بتاتے ہیں۔کسی گاؤں میں ایک شخص رہتا تھا جسے لوگ خواجہ کہہ کر پکارتے تھے۔ خواجہ صاحب اپنی چالاکیوں اور لمبی لمبی چھوڑنے کی عادت کی وجہ سے پورے علاقے میں مشہور تھے۔ ایک بار خواجہ کا اپنے ایک پڑوسی کے ساتھ پیسوں کے لین دین پر جھگڑا ہو گیا۔ معاملہ اتنا بڑھا کہ پنچایت بلانی پڑ گئی۔پنچایت کا منظرگاؤں کے چوپال میں پنچایت لگی، بڑے بوڑھے حقے پی رہے تھے اور سب اس انتظار میں تھے کہ دیکھیں خواجہ اپنے دعوے کو کیسے سچ ثابت کرتا ہے۔ پنچایت کے مکھیا نے خواجہ سے پوچھا:“خواجہ جی! آپ کہہ رہے ہیں کہ آپ نے پڑوسی کو رقم دی تھی، لیکن اس کے پاس کوئی تحریر نہیں ہے۔ کیا آپ کے پاس کوئی گواہ ہے جس نے رقم دیتے ہوئے…

Read more

ایک شخص بازار میں صدا لگا رہا تھا، “گدھا لے لو! ایک اشرفی میں گدھا لے لو! گدھا نہایت کمزور اور لاغر تھا۔اتفاق سے اسی وقت بادشاہ اپنے وزیر کے ساتھ وہاں سے گزرا۔بادشاہ اس گدھے کے پاس رکا اور پوچھا،“کتنے میں بیچ رہے ہو؟” تگڑا گاہک دیکھتے ہی مالک نے فوراً گدھے کے دام بڑھا دیئے۔وہ فوراً بولا،“عالی جاہ! دو تھیلی سونے کی اشرفیاں قیمت ہے۔” بادشاہ حیران رہ گیا۔“اتنا مہنگا گدھا؟ اس میں آخر ایسی کیا خاص بات ہے؟” گدھے والے نے ادب سے کہا،“حضور! جو اس پر بیٹھتا ہے اُسے مکہ اور مدینہ دکھائی دینے لگتے ہیں۔” بادشاہ کو یقین نہ آیا۔“اگر تمہاری بات سچ ہوئی تو ہم پانچ تھیلی سونے کی اشرفیاں دیں گے۔لیکن اگر جھوٹ نکلا تو تمہارا سر اُڑا دیا جائے گا۔” پھر اُس نے وزیر کو حکم دیا،“اس پر بیٹھو اور بتاؤ، کیا نظر آتا ہے؟” وزیر گدھے پر بیٹھنے ہی لگا تھا…

Read more

‏ھالی ووڈ کی بیشمار فلموں میں ایک ایسی مخلوق یا جانور دکھایا جاتا ھے جو زمین پھاڑ کر باھر آ جاتا ھے وہ جانور اس قدر قوی ھیکل اور طاقتور ھوتا ھے کہ پتھریلی سخت زمین اس کی بے پناہ طاقت کے سامنے ریت سے بھی کمزور ثابت ھوتی ھے ۔ زمین سے باھر نکل کروہ تباہی و بربادی پھیلانے لگتا ھے انسانوں کو تنکوں کی مانند اٹھا اٹھا کر پھینکتا ھے برٰ بڑی عمارات اس کے آگے ریت سے بنے گھروندوں سے زیادہ اھمیت نہیں رکھتے ۔ انسان اس پر قابو پانے یا اسے ھلاک کرنے کی تدابیر آزماتے ہیں لیکن ناکام رھتے ھیں۔ ھالی ووڈ کے تقریبا” سبھی فلمساز اور ڈائریکٹر یہودی ہیں۔ یہ اپنی اس قسم کی فلموں مین ایک پیغام دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ اگر اس طرح کی کوئی مخلوق زمین سے باھر آتی ھے جس کا مقابلہ انسانوں کو کرنا پڑ جائے تو…

Read more

ایک استاد تھا۔ وہ اکثر اپنے شاگردوں سے کہا کرتا تھا کہ یہ دین بڑا قیمتی ہے۔ایک روز ایک طالب علم کا جوتا پھٹ گیا۔ وہ موچی کے پاس گیا اور کہا: میرا جوتا مرمت کردو۔ اس کے بدلہ میں ، میں تمہیں دین کا ایک مسئلہ بتاؤں گا۔ موچی نے کہا : اپنا مسئلہ رکھ اپنے پاس۔ مجھے پیسے دے۔ طالبِ علم نے کہا :میرے پاس پیسے تو نہیں ہیں۔ موچی کسی صورت نہ مانا۔ اور بغیر پیسے کے جوتا مرمت نہ کیا۔طالبِ علم اپنے استاد کے پاس گیا اور سارا واقعہ سنا کر کہا: لوگوں کے نزدیک دین کی قیمت کچھ بھی نہیں۔استاد بھی عقل مند تھے۔ طالبِ علم سے کہا: اچھا تم ایسا کرو،میں تمہیں ایک موتی دیتا ہوں تم سبزی منڈی جا کر اس کی قیمت معلوم کرو۔ وہ طالبِ علم موتی لے کر سبزی منڈی پہنچا اور ایک سبزی فروش سے کہا: اس موتی کی…

Read more

ایک بادشاہ کے دربار میں ایک اجنبی نوکری کی طلب لیے حاضر ہوا۔ بادشاہ نے اس کی قابلیت پوچھی تو اس نے جواب دیا: “میں سیاسی ہوں”۔ (یاد رہے، عربی زبان میں “سیاسی” اس شخص کو کہتے ہیں جو افہام و تفہیم سے مسئلے حل کرنے والا معاملہ فہم ہو۔) چونکہ بادشاہ کے پاس پہلے ہی بہت سے سیاستدان موجود تھے، اس نے اجنبی کو شاہی اصطبل کا انچارج بنا دیا، کیونکہ اس عہدے پر مامور شخص حال ہی میں فوت ہو چکا تھا۔ کچھ دن بعد بادشاہ نے اس سے اپنے سب سے مہنگے اور عزیز گھوڑے کے بارے میں دریافت کیا، تو اس نے کہا: “یہ نسلی نہیں ہے۔” بادشاہ کو حیرت ہوئی، اس نے فوری طور پر اصطبل کے پُرانے سائیس کو جنگل سے بلوایا۔ سائیس نے بتایا کہ گھوڑا تو اصیل ہے، مگر اس کی ماں پیدائش کے فوراً بعد مر گئی تھی، جس کے بعد…

Read more

ایک نورانی چہرے والے بزرگ بابا جی ایک گاؤں سے گزرے تو لوگوں نے سمجھا کہ کوئی ولی اللہ ہیں۔ ایک عورت نے انہیں گھیر لیا اور التجا کی،“بابا جی! میری شادی کو 12 سال ہوگئے ہیں، مگر بدقسمتی سے میری کوئی اولاد نہیں ہے۔” پہلے پہل تو بابا جی جان چھڑاتے رہے کہ اولاد تو خدا کی نعمت ہے، اس سے بہتری کی امید رکھو مگر عورت نے جان نہ چھوڑی اور بضد رہی کہ اولاد کے لیے کوئی تعویز دیں۔ بابا جی نے جان چھڑانے کے لیے کہا،“اچھا ٹھیک ہے۔ تو فکر نا کر بیٹی… میں مزار پہ جا کر تیرے نام سے دیا جلاؤں گا۔” وہاں سے نکلے اور پھر یاد ہی نہ رہا کہ عورت سے کوئی وعدہ بھی کیا تھا۔ 11 سال گزر گئے اور پھر ایک دن اتفاقاً بابا جی کا اسی گاؤں سے گزر ہوا تو بزرگ کو اس عورت کا خیال آیا۔…

Read more

سلطان سیف الدین قطزؒ کی شہادت کی یاد میں: تاریخ کا وہ ہیرو جس نے تاتاری طوفان کو روکا تاریخ انسانی کا دھارا اکثر چند عظیم شخصیات کے ہاتھوں موڑ کھاتا ہے۔ ایسی ہی ایک نادر و نایاب ہستی سلطان سیف الدین قطزؒ کی ہے، جنہوں نے محض چند ماہ کی حکمرانی میں وہ عظیم الشان کارنامہ انجام دیا جس نے نہ صرف عالم اسلام کو تباہی و بربادی سے بچایا بلکہ دنیا کی تاریخ کا رخ ہی بدل دیا۔ ان کی شہادت محض ایک حکمران کی موت نہیں، بلکہ ایک ایسے مجاہد کی آخری قربانی ہے جس نے اپنی جان دے کر امت کو زندگی بخشی۔ بندگی سے سلطنت تک: ایک عظیم سفر قطزؒ کا اصل نام مظفر الدین محمود تھا۔ وہ شاہی خون رکھتے تھے مگر تقدیر نے انہیں بچپن میں ہی منگولوں کے ہاتھوں غلام بنا دیا۔ غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہونے کے باوجود، ان کی…

Read more

اگر مچھلی پانی سے نکل کر تمہیں یہ بتائے کہ مگرمچھ بیمار ہے، تو اس کی بات پر یقین کرو۔یہ مثال صرف سمجھدار لوگ ہی سمجھ سکتے ہیں۔ یہ جملہ بظاہر ایک عام سی مثال لگتا ہے، لیکن اس کے اندر بہت گہری حکمت چھپی ہوئی ہے۔آئیے اس کے مختلف پہلوؤں کو کھول کر سمجھتے ہیں: 1. مچھلی کی بات پر کیوں یقین؟ مچھلی اپنی پوری زندگی پانی میں گزارتی ہے۔ وہ پانی کے ہر بدلتے موسم، ہر خطرے، ہر حرکت اور ہر جاندار کو دوسروں سے زیادہ جانتی ہے۔اگر وہ پانی چھوڑ کر باہر آ جائے، تو اس کا باہر آنا ہی ایک غیر معمولی واقعہ ہوتا ہے۔اور جب وہ باہر آ کر یہ کہے کہ مگرمچھ بیمار ہے، تو یہ معمولی بات نہیں — یہ اس ماحول کی اندرونی حقیقت ہے جس تک دوسروں کی رسائی نہیں۔ پیغام:جو شخص کسی معاملے کے اندر سے ہو، اس کی معلومات…

Read more

انسانی تاریخ میں کچھ واقعات ایسے ہیں جو صرف ایک قوم یا علاقے کی تباہی کا ذکر نہیں کرتے بلکہ پوری انسانیت کے لیے دائمی سبق چھوڑتے ہیں۔ قومِ لوط کا قصہ اسی نوعیت کا واقعہ ہے۔ یہ باب حضرت لوط علیہ السلام کی دعوت، ان کی قوم کی سرکشی، فرشتوں کی آمد، عذابِ الٰہی کی کیفیت اور اس واقعے سے اخذ ہونے والے اسباق پر مبنی ہے۔ اس واقعے کی تفصیل قرآنِ مجید کی مختلف سورتوں—اعراف، ہود، حجر، شعراء اور نمل—میں بکھری ہوئی ہے، جبکہ مفسرین اور محدثین نے اسے اپنے اپنے انداز میں پیش کیا ہے۔ — نسب اور ابتدائی پس منظر حضرت لوط علیہ السلام، خلیل اللہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بھتیجے تھے۔ بچپن ہی سے آپ نے سیدنا ابراہیمؑ کی صحبت پائی اور ان کی دعوتِ توحید سے فیض حاصل کیا۔ جب حضرت ابراہیمؑ نے بابل کو چھوڑا تو لوطؑ بھی ان کے ساتھ ہجرت…

Read more

ایران کے صاف آسمان تلے ایک ایسا بچہ پیدا ہوا جس کی آنکھوں میں علم نہیں، آگ تھی۔ وہ دوسروں کے بچوں کی طرح نرم نہیں تھا۔ وہ چپ بیٹھ کر نہیں سنتا تھا۔ اس کے ذہن میں شروع سے ہی ایک عجب سوال تھا — دنیا پر اصل حکومت کس کی ہے؟ وہ جانتا تھا کہ تلوار کے پاس طاقت ہے، لیکن اسے محسوس ہوتا تھا کہ انسان کے دماغ پر قبضہ کرنا اس سے کہیں زیادہ بڑا ہتھیار ہے۔ یہی وہ نکتہ تھا جو بچپن سے اس کے دل میں جم گیا تھا: ذہن پکڑ لو… پھر جسم خود چلتا ہے۔ نوجوان ہوا تو اس کی شخصیت میں وہ ضد پیدا ہوئی جو بعد میں پوری دنیا کے لیے عذاب بن گئی۔ اس نے مذہب، فلسفے، سیاست، منطق — سب کچھ پڑھا، مگر پڑھنے کا انداز اس کا عام نہیں تھا۔ لوگ کتاب سے نور لیتے ہیں، اس…

Read more

جب اللہ کے نبی سلیمان علیہ السلام نے  چمگادڑ سے مشورہ کیا تو اُس وقت اللہ کی چار مخلوقات شکایت اور حاجت لے کر حاضر ہوئیں پہلا: سورج عرض کی: اے نبی اللہ، اللہ سے دعا کیجیے کہ مجھے بھی باقی مخلوق کی طرح ایک ہی جگہ میں سکونت دے دے میں مشرق و مغرب کے درمیان مسلسل حرکت سے تھک چکا ہوں دوسرا: سانپ کہا: اے سلیمان، اللہ سے دعا کیجیے کہ مجھے بھی ہاتھ پاؤں عطا کرے جیسے دیگر جانوروں کو دیے ہیں، میں پیٹ کے بل رینگ رینگ کر تھک چکا ہوں تیسرا: ہوا کہی: اے نبی اللہ، میں مسلسل بے مقصد ادھر اُدھر بھٹکتی رہتی ہوں میرے لیے اللہ سے سکون کی جگہ مانگیں چوتھا: پانی کہا اے سلیمان میں کبھی زمین میں کبھی آسمان کے نیچے ہر جگہ پھر رہا ہوں نہ مجھے ٹھکانہ ہے نہ ٹھہراؤ اللہ سے کہیے کہ مجھے ایسی جگہ عطا…

Read more

جب آدھا ملین رومی فوج مسلمانوں کی فوج کو تباہ کرنے کے قریب تھی اور ہر طرف سے انہیں گھیر لیا گیا تھا،تو اس عظیم اسلامی بہادر نے اپنی تلوار تھام لی اور وہ سب سے مشکل فیصلہ کیا جو کسی بھی انسان کی زندگی میں آ سکتا ہے۔عکرمہ نے موت کو گلے لگانے کا فیصلہ کر لیا اور مسلمانوں کو بادلوں کی گرج کی مانند آواز دے کر پکارا: “اے مسلمانو! کون موت پر بیعت کرتا ہے؟” تو 400 فدائی ان کے پاس آ گئے اور انہوں نے تاریخ میں مشہور ہونے والی “کتيبة الموت الإسلامية” (اسلامی لشکرِ موت) تشکیل دی۔یہ دیکھ کر خالد بن ولید عکرمہ کی طرف بڑھے اور انہیں اپنی جان قربان کرنے سے روکنے کی کوشش کی،مگر عکرمہ نے نور سے چمکتے چہرے کے ساتھ خالد کو دیکھا اور کہا: “اے خالد! مجھ سے دور ہو جاؤ، تمہیں تو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ پہلے…

Read more

معرکہ عین جالوت 3 ستمبر 1260ء (658ھ) میں مملوک افواج اور منگولوں کے درمیان تاریخ کی مشہور ترین جنگ جس میں مملوک شاہ سیف الدین قطز اور اس کے مشہور جرنیل رکن الدین بیبرس نے منگول افواج کو بدترین شکست دی۔ یہ جنگ فلسطین کے مقام عین جالوت پر لڑی گئی۔ اس فتح کے نتیجے میں مصر، شام اور یورپ منگولوں کی تباہ کاریوں سے بچ گئے۔ جنگ میں ایل خانی حکومت کے منگول بانی ہلاکو خان کا سپہ سالار کتبغا مارا گیا۔ سقوط بغدادساتویں صدی ہجری میں تاتاریوں نے مسلمانوں کی سرزمین پر عظیم جارحیت کا ارتکاب کیا اور نتیجتاً مسلمانوں کا خلیفہ مستعصم باللہ ہلاک ہو گیا اور دار الحکومت بغداد سمیت مسلمانوں کی تین چوتھائی سرزمین تاتاریوں کے قبضہ میں چلی گئی۔ سقوط بغداد کے بعد خلافت عباسیہ کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو گیا جس کے بعد مسلمانوں کو شکست در شکست کا سامنا کرناپڑا۔ منگولوں…

Read more

بغداد کی ہلاکت 🔥 ایسا سانحہ جو تاریخ نہیں انسانیت کا زخم ہے 🔥 😥بغداد… وہ شہر جو کبھی دنیا کی آنکھوں کا تارا تھا، علم کا دریا، حکمت کا گہوارہ، تہذیب کا تاج، جہاں راتیں چراغوں سے روشن تھیں اور دن کتابوں سے۔ جہاں نہریں، باغات، محل، بازار، مدرسے، مکتب، حکومتی عمارتیں سب کچھ ایک ایسے دور کی یاد دلاتے تھے جب عباسی خلافت کا نام ساری دنیا پر تھر تھرا دیتا تھا۔ لیکن 1258 میں بغداد نہ وہ طاقت رہی تھی، نہ وہ شاہی رعب باقی تھا، نہ وہ بین الاقوامی وزن۔ اب شہر اپنی پرانی عظمت کے کھنڈر پر کھڑا ایک کمزور، سست، سیاسی سازشوں میں گھرا ہوا مرکز تھا۔ خلیفہ مستعصم… نرمی، کمزوری، بے خبری اور دربار کے سازشی وزیروں کے بیچ گھرا ہوا بادشاہ، جسے پتا ہی نہیں تھا کہ افق پر کون سا طوفان امڈ کر آرہا ہے۔ منگول سلطنت اس وقت دنیا کی…

Read more

20/68
NZ's Corner