Tag Archives: ” “entrepreneurship

کہتے ہیں کسی ملک میں  ایک سال سخت قحط پڑا ۔ لوگ  بھوکے مرنے لگے ۔ ملک کے بادشاہ نے اپنے تمام اراکین سلطنت کو جمع کر کے اُن سے مشورہ کیا کہ اب کیا کرنا چاہئے اور رعایا کی جان کس طرح بچائی جائے : تمام امرا ، وزرا ، نے بہت غور و خوض کے بعد یہ رائے دی کہ ان تمام لوگوں کو قتل کر دیا جائے جو ساٹھ سال سے زیادہ عمر کے ہوں کیونکہ ملک کو اُن کی چنداں ضرورت نہیں اور اس طرح اناج کی جو مقدار کثیر اُن کی خوراک پر خرچ ہوتی ہے وہ بچے گی – اور یہ مفت کا خرچ  کم ہو کر جوانوں کے کام آئے گا۔ بادشاہ نے جو بالکل بے وقوف تھا ۔ اس تجویز کو بہت پسند کیا اور اپنے جنگی سپاہیوں کے  نام حکم جاری کر دیا کہ وہ بوڑھوں کے قتل عام پر آمادہ…

Read more

400 خیموں کی آندھی: وہ ایک فیصلہ جس نے 600 سالہ سلطنت کی بنیاد رکھی 13ویں صدی کا اناطولیہ… منگولوں کے خوف سے در بدر بھٹکتا ایک چھوٹا سا خانہ بدوش ‘قائی’ قبیلہ، جس کے پاس کل اثاثہ محض 400 خیمے تھے۔ ایک دن سفر کے دوران قبیلے کے نوجوان سردار نے دور میدان میں دو فوجوں کو لڑتے دیکھا۔ ایک فوج طاقتور تھی، جبکہ دوسری کمزور اور شکست کے قریب۔ وہ چاہتا تو اپنا راستہ بدل کر خاموشی سے گزر جاتا، لیکن اس کی غیرت نے ہارتے ہوئے مظلوم کا ساتھ دینے پر مجبور کیا۔ اس نے اپنے چند سو گھڑ سواروں کے ساتھ کمزور فوج کے حق میں ایسا خوفناک حملہ کیا کہ ہاری ہوئی بازی جیت میں بدل گئی۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ جس کمزور فوج (سلجوقوں) کو اس نے بچایا ہے، وہ انعام میں اسے ایک ایسی سرحد (سوغوت) دیں گے جہاں سے دنیا کی…

Read more

چھوٹے کو کبھی حقیر نہ سمجھوایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک عقاب ایک خرگوش کا پیچھا کر رہا تھا۔ خرگوش نے خوفزدہ ہو کر اپنے پاس موجود واحد جاندار سے مدد مانگی جو ہمیشہ اس کا ساتھ دیتا تھا: یعنی ایک چھوٹا سا گوبر کا بھنورا، جو اس کا گہرا دوست تھا۔خرگوش نے مدد کی بھیک مانگی۔ بھنورا اگرچہ چھوٹا اور بے بس تھا، پھر بھی وہ آگے بڑھا اور عقاب سے کہا: “براہِ کرم، میرے دوست کو چھوڑ دو۔”عقاب ایک لمحے کے لیے بھی نہ رکا۔ اس کی نظر میں اتنے چھوٹے جاندار کی آواز کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔ اس نے بھنورے کو ایک طرف جھٹک دیا اور خرگوش کو اٹھا کر لے گیا۔وہ فخر اور اس یقین کے ساتھ اڑ گیا کہ اتنی چھوٹی چیز کبھی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ لیکن یہ اس کی سب سے بڑی غلطی تھی۔اس دن کے بعد سے، بھنورا…

Read more

ایک دن کسی نے شیخ چلی کو بتایا کہ شہر کے باہر والے جنگل میں ایک خطرناک شیر رہتا ہے، جو لوگوں کو ڈراتا ہے۔یہ سنتے ہی شیخ چلی کے دل میں ہیرو بننے کا خیال جاگا۔ وہ سوچنے لگا:“اگر میں نے اس شیر کو قابو کر لیا تو پورا شہر مجھے سلام کرے گا، اور بادشاہ مجھے سونے سے نواز دیں گے!” بس پھر کیا تھا! شیخ چلی ایک لمبی لاٹھی اٹھائے بہادری کے عالم میں جنگل کی طرف نکل پڑا۔ راستے میں اسے ایک ٹوٹا ہوا آئینہ ملا۔شیخ نے اسے بھی “ضروری ہتھیار” سمجھ کر جیب میں رکھ لیا۔ کچھ دور پہنچا تو اچانک جھاڑیوں کے پیچھے سے شیر کی خوفناک دھاڑ سنائی دی۔شیخ چلی کے تو ہوش اڑ گئے… مگر “بہادری” کا خیال آتے ہی اس نے ہمت باندھی۔ اس نے جلدی سے آئینہ نکالا، جھاڑی کی طرف کر دیا اور خود ایک درخت کے پیچھے چھپ…

Read more

ایک جنگل میں ایک شیر اور ایک بانس کا درخت ساتھ ساتھ رہتے تھے۔ شیر بہت طاقتور اور اپنی طاقت پر بہت مغرور تھا، جبکہ بانس کا درخت لمبا اور لچکدار تھا۔شیر ہر روز بانس کے درخت کے پاس آتا اور اسے طعنہ دیتا: “تم کتنے کمزور ہو، معمولی سی ہوا چلتی ہے اور تم جھک جاتے ہو۔ ذرا مجھے دیکھو، میں کتنا مضبوط ہوں، کوئی آندھی یا طوفان مجھے ہلا نہیں سکتا! بانس کا درخت خاموشی سے اس کی باتیں سنتا اور مسکرا دیتا۔ایک دن جنگل میں ایک بہت بڑا طوفان آیا۔ آسمان گرجنے لگا، بجلی چمکنے لگی اور تیز ہواؤں نے ہر چیز کو اکھاڑنا شروع کر دیا۔ شیر اپنی طاقت پر بھروسہ کیے اکڑا کھڑا رہا، اس نے سوچا کہ کوئی طوفان اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔لیکن طوفان اتنا شدید تھا کہ شیر کی تمام طاقت بے کار ہو گئی۔ تیز ہواؤں نے اسے جڑوں سے…

Read more

ایک گاؤں میں ایک کنواں تھا جس کا پانی برسوں سے سب استعمال کر رہے تھے۔ وقت کے ساتھ کنواں پرانا ہو گیا، پانی کم ہوتا گیا، مگر لوگ عادت کے ہاتھوں وہی پانی پیتے رہے۔ایک دن ایک نوجوان نے کہا:“کنواں صاف کرنا چاہیے، دیواریں مضبوط کرنی چاہئیں، ورنہ ایک دن یہ خشک ہو جائے گا۔” بوڑھوں نے ہنس کر جواب دیا:“ہم نے تو ساری عمر یہی پانی پیا ہے، ہمیں کچھ نہیں ہوا۔”نوجوان خاموش ہو گیا۔ کچھ عرصے بعد کنواں واقعی بیٹھ گیا۔ پانی کی جگہ کیچڑ رہ گیا۔ اب گاؤں والے دور دراز سے پانی لانے پر مجبور ہو گئے۔اسی نوجوان نے کہا:“مسئلہ کنویں کا نہیں تھا، مسئلہ یہ تھا کہ ہم نے وقت پر سچ سننے سے انکار کیا۔” گاؤں والے خاموش تھے، کیونکہ اب سچ دیر سے آیا تھا۔ سبقجو بات وقت پر نہ مانی جائے، وہ بعد میں سزا بن کر سامنے آتی ہے۔عادت کی…

Read more

جنگل کے قریب ایک اونچا پہاڑ تھا۔ جانور کہتے تھے کہ اس کی چوٹی تک کوئی نہیں پہنچ سکتا۔ جو بھی کوشش کرتا، راستے کی سختی سے واپس آ جاتا۔ ایک خاموش سا کچھوا اکثر اس پہاڑ کو دیکھتا رہتا۔ وہ جانتا تھا کہ اس کے قدم سست ہیں، مگر اس کا ارادہ مضبوط تھا۔ ایک دن اس نے سفر شروع کر دیا۔ دوسرے جانور ہنسے:“اتنے آہستہ چلنے والا پہاڑ سر کرے گا؟” راستہ پتھریلا تھا، دھوپ تیز تھی۔ کچھوا کئی بار رکا، مگر پلٹا نہیں۔ وہ ہر قدم کے ساتھ خود سے کہتا:“میں تیز نہیں ہوں، مگر مستقل ہوں۔” دنوں بعد جب وہ چوٹی پر پہنچا تو بادل اس کے نیچے تھے۔ وہ خاموشی سے مسکرایا۔ اسی وقت باقی جانور بھی وہاں پہنچے اور حیران رہ گئے۔ کچھوا بولا:“جو ہار مان لے وہ کبھی نہیں پہنچتا۔” سبق: مستقل مزاجی کمزوری نہیں، اصل طاقت ہے۔

گہرے جنگل میں ایک طاقتور شیر رہتا تھا۔ وہ خود کو سب سے بڑا اور عقلمند سمجھتا تھا۔ اس کا ماننا تھا کہ طاقت ہی سب کچھ ہے، اسی لیے وہ اکثر کمزور جانوروں کو بلاوجہ ڈرا دیتا۔ جنگل کے جانور اس سے ڈرتے تھے، مگر دل سے اس کی عزت کوئی نہیں کرتا تھا۔ اسی جنگل میں ایک بوڑھا ہاتھی بھی رہتا تھا۔ وہ طاقتور ہونے کے باوجود نہایت نرم دل اور سمجھدار تھا۔ جانور مشکل میں ہوتے تو ہاتھی ان کی مدد کرتا، مگر شیر اسے کمزور سمجھ کر نظر انداز کرتا۔ ایک سال جنگل میں شدید خشک سالی آ گئی۔ پانی کے تالاب سوکھنے لگے۔ جانور پریشان ہو گئے۔ شیر نے غصے میں آ کر کہا:“جو طاقتور ہے وہ زندہ رہے گا، کمزور مر جائیں گے!” مگر بوڑھا ہاتھی خاموشی سے سب جانوروں کو اکٹھا کرنے لگا۔ اس نے کہا:“اگر ہم مل کر کوشش کریں تو پہاڑ…

Read more

یہ جنگل عام جنگل نہیں تھا۔یہاں طاقت صرف دانتوں یا پنجوں سے نہیں ناپی جاتی تھی،بلکہ فیصلوں، وقت پر حرکت، اور خاموش حکمت سے ناپی جاتی تھی۔ جنگل کا بادشاہ شیر تھا،طاقتور، خوفناک، مگر اب بوڑھا ہو چکا تھا۔وہ روز ایک ہی راستے سے شکار پر جاتا،ایک ہی وقت پر، ایک ہی انداز میں۔ جنگل کے سب جانور یہ جانتے تھے—اور جنگل یہ بھی جانتا تھا کہجو نہیں بدلتا، وہ مٹ جاتا ہے۔ اسی جنگل میں ایک دبلا پتلا بھیڑیا رہتا تھا۔نہ سب سے طاقتور،نہ سب سے تیز،نہ سب سے بڑا۔ مگر وہ مشاہدہ کرتا تھا۔ وہ دیکھتا تھا کہ کون سا درخت کب سایہ دیتا ہے،کون سا جانور کب لاپرواہ ہوتا ہے،اور کب شور مچانا موت کو دعوت دینا ہوتا ہے۔ ایک دن شدید قحط پڑا۔شکار کم ہو گیا۔طاقتور جانور ایک دوسرے سے لڑنے لگے۔ شیر نے غصے میں اپنی طاقت دکھائی—مگر کمزور جسم نے ساتھ نہ دیا۔ چیتا…

Read more

*ایک شخص نے بچھڑا ذبح کیا اور اسے آگ پر پکا کر اپنے بھائی سے کہا کہ ہمارے دوستوں اور پڑوسیوں کو دعوت دو تاکہ وہ ہمارے ساتھ مل کر اس کو کھائیں* اس کا بھائی باہر گیا اور پکار کر کہا.اے لوگو!! ہماری مدد کرو میرے بھائی کے گھر میں آگ لگی ہوئی ہے.کچھ ہی دیر میں لوگوں کا ایک مجمع نکلا اور باقی لوگ کام میں لگے رہے جیسے انہوں نے کچھ نہ سنا ہو…وہ لوگ جو کہ آگ بجھانے میں مدد کو آئے تھے انہوں نے سیر ہوکر کھایا پیا..تو وہ شخص اپنے بھائی کی طرف تعجب سے دیکھ کر کہنے لگا :یہ جو لوگ آئے تھے میں تو انہیں نہیں پہچانتا اور نہ میں نے پہلے ان کو دیکھا ہے پھر ہمارے دوست احباب کہاں ہیں؟بھائی نے جواب دیا کہ یہ لوگ اپنے گھروں سے نکل کر ہمارے گھر میں لگی آگ بجھانے میں ہماری مدد…

Read more

کسی جنگل کے کنارے ایک فارم ہاؤس تھا، جہاں ایک بوڑھا کتا رہتا تھا۔ وہ سالوں سے اپنے مالک کی بھیڑوں کی حفاظت کر رہا تھا۔ اسی جنگل میں ایک لومڑی بھی رہتی تھی جو بہت چالاک تھی اور ہمیشہ اس تاک میں رہتی تھی کہ کسی طرح ایک موٹی تازی بھیڑ چرا لے۔لومڑی کی چالایک دن لومڑی کتے کے پاس آئی اور بڑی ہمدردی سے بولی، “ارے دوست! تم کتنے بوڑھے ہو گئے ہو، پھر بھی اتنی سخت ڈیوٹی کرتے ہو۔ تمہارا مالک تو تمہیں صرف ایک خشک روٹی دیتا ہے۔ اگر تم آج رات سو جاؤ اور مجھے صرف ایک بھیڑ لے جانے دو، تو میں تمہیں جنگل سے لذیذ گوشت لا کر دوں گی۔”کتا سمجھ گیا کہ لومڑی اسے بہلا رہی ہے۔ اس نے فوراً ایک منصوبہ بنایا اور کہا، “ٹھیک ہے لومڑی بہن! میں آج رات فارم کے پچھلے دروازے پر سو جاؤں گا، تم وہاں…

Read more

کسی جنگل میں ایک مغرور اونٹ رہتا تھا۔اسے اپنے لمبے قد اور چال ڈھال پر بڑا ناز تھا۔اس کا دعویٰ تھا کہ میں سب سے اعلیٰ ہوں۔اس کا جہاں جی چاہتا منہ اُٹھا کر چلا جاتا اور سب جانوروں سے بدتمیزی کرتا رہتا۔کوئی جانور اگر اسے چھیڑتا تو وہ اس کے پیچھے پڑ جاتا۔اس کے گھر کے قریب چوہے کا بل تھا اور اونٹ کو اس چوہے سے سب سے زیادہ نفرت تھی۔وہ اس چوہے کو نہ جانے کیا کیا القابات دیتا رہتا لیکن چوہا ہنس کے ٹال دیتا تھا۔جنگل کے سب جانور ہی اونٹ سے اس کے تکبر کی وجہ سے تنگ تھے اور چاہتے تھے کہ اسے اس کے کیے کی سزا ملے مگر ابھی تک اونٹ کو کھلی چھٹی ملی ہوئی تھی۔وہ بہار کا خوشگوار موسم تھا، ہر طرف پھول کھلے ہوئے تھے اور جنگل میں بھینی بھینی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔اونٹ سو کر اُٹھا تو اسے…

Read more

سلطان محمود غزنوی کے دربار میں سائلوں اور درخواستگزاروں کی بھیڑ لگی ہوئی تھی کہ ایک شخص حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا “حضور! میری شکایت نہایت سنگین نوعیت کی ہے اور کچھ اس قسم کی ہے کہ میں اسے برسرِ دربار سب کے سامنے پیش نہیں کر سکتا۔۔۔!!”سلطان یہ سن کر فوراً اٹھ کھڑے ہوئے اور سائل کو خلوت خانے میں لیجا کر پوچھا کہ “تمہیں کیا شکایت ہے۔۔۔۔؟”اُس نے عرض کیا “حضور! ایک عرصے سے آپ کے بھانجے نے یہ طریقہ اختیار کر رکھا ہے کہ وہ مسلح ہو کر میرے مکان پر آتا ہے، مجھے مار پیٹ کر باہر نکال دیتا ہے اور خود جبراً میرے گھر میں گھس کر میری گھر والی کے ساتھ بدتمیزی کرتا ہے۔ غزنی کی کوئی عدالت ایسی نہیں، جس میں میں نے اس ظلم کی فریاد نہ کی ہو لیکن کسی جگہ مجھے انصاف نہ ملا۔ ہر کوئی آپ کے بھانجے…

Read more

ایک بادشاہ تھاجو ہر روز آئینے کے سامنے کھڑا ہو کراپنی شان دیکھتا تھا۔ایک دن اس نے حکم دیاکہ ملک کا سب سے بڑا آئینہ لایا جائےتاکہ وہ خود کواور بھی عظیم دیکھ سکے۔آئینہ آیا۔بادشاہ نے دیکھاچہرہ وہی تھامگر آنکھوں میں تھکن جھلک رہی تھی۔اس نے غصے میں آئینہ توڑ دیا۔ کچھ دن بعدایک درویش دربار میں آیااور بولا“حضورآئینہ تو نہیں ٹوٹا،صرف وہم ٹوٹا ہے۔”بادشاہ خاموش ہو گیا۔ حاصلِ سبق آئینہچہرہ دکھاتا ہےمگر حقیقتدل میں چھپی ہوتی ہے۔جو سچ سے بھاگےوہ تصویر توڑتا ہےخود کو نہیں بدلتا۔

رومیوں کی صف سے ایک گھڑ سوار جو نہایت ڈیل ڈول کا مالک تھا، نکل کر میدان میں آیا اور چیخ چیخ کر کچھ کہنے لگا۔ مسلمانوں کو اس کی زبان تو سمجھ نہ آئی البتہ اس کے چہرے کے تاثرات سے سمجھ گئے کہ کسی کو مقابلے کے لیے بلا رہا ہے۔ اس کا مقابلہ کرنے کے لیے سابق والی بصرہ روماس نکل کر گئے۔ مقابل نے ان کو خوب لعن طعن کی کہ تم نے اپنا دین تبدیل کرلیا ہے۔ پھر اس نے روماس پر حملہ کردیا۔ دونوں برابر جوڑ کے تھے۔ کافی دیر تک تلواروں کی جھنکار اور بہادروں کی للکار سنائی دیتی رہی۔ آخر رومی سورما نے ایک کاری وار کیا۔ آپ نے وار کو اپنے اوپر محسوس کیا۔ اس ضرب سے آپ کا خون جاری ہوگیا۔ جب آپ کو تکلیف محسوس ہوئی تو آپ نے گھوڑا اپنے لشکر کی طرف موڑ دیا۔ رومی آپ کے…

Read more

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ١۲ بیٹے تھے – ان کی نسل اسقدر ہوئی کے مکہ مکرمہ میں نہ سما سکی اور پورے حجاز میں پھیل گئی – ان کے ایک بیٹے قیدار کی اولاد میں عدنان ہوئے – عدنان کے بیٹے معد اور پوتے کا نام نزار تھا – نزار کے چار بیٹے تھے – ان میں سے ایک کا نام مضر تھا – مضر کی نسل سے قریش بن مالک پیدا ہوئے” یہ فہر بن مالک بھی کہلائے – قریش کی اولاد بہت ہوئی – ان کی اولاد مختلف قبیلوں میں بٹ گئی – ان کی اولاد سے قصیّ نے اقتدار حاصل کیا – قصیّ کے آگے تین بیٹے ہوئے – ان میں سے ایک عبد مناف تھے جن کی اگلی نسل میں ہاشم پیدا ہوئے – ہاشم نے مدینہ کے ایک سردار کی لڑکی سے شادی کی ” ان کے یہاں…

Read more

قدیم زمانے میں ایک بادشاہ تھا جسے قصے کہانیاں سننے کا بہت شوق تھا۔ ایک دن اسے شرارت سوجھی اور اس نے پورے ملک میں منادی کروا دی کہ:“جو شخص دربار میں آ کر ایسا جھوٹ بولے گا جس پر میں خود پکار اٹھوں کہ ‘یہ جھوٹ ہے’، اسے انعام میں ایک بڑا تھیلا سونے کے سکوں کا دیا جائے گا۔”انعام کی لالچ میں بڑے بڑے قصہ گو اور درباری آئے۔ ایک نے کہا: “جہاں پناہ! میں نے ایک ایسا مرغ دیکھا ہے جو ہاتھی کو اٹھا کر اڑ گیا تھا۔” بادشاہ مسکرا کر بولا: “ہو سکتا ہے، قدرت کی قدرت ہے، یہ سچ ہو سکتا ہے۔”دوسرا بولا: “بادشاہ سلامت! میں نے ایک بار سمندر میں آگ لگی دیکھی جس میں مچھلیاں پکوڑے بن کر باہر آ رہی تھیں۔” بادشاہ نے اطمینان سے جواب دیا: “موسم گرم ہوگا، پانی کھول گیا ہوگا، میں اسے جھوٹ نہیں کہتا۔”بادشاہ دراصل بہت عیار…

Read more

۔قارون حضرت موسیٰ ؑ کے چچا ’’ یصہر‘‘ کا بیٹا تھا۔ بہت ہی شکیل اور خوبصورت آدمی تھا۔ اسی لئے لوگ اس کے حسن و جمال سے متاثر ہو کر اس کو ’’منور‘‘ کہا کرتے تھے اس کے ساتھ ساتھ اس میں یہ کمال بھی تھا کہ وہ بنی اسرائیل میں ’’ توراۃ‘‘ کا بہت بڑا عالم اور بہت ہی ملنسار وبا اخلاق انسان تھا۔ اور لوگ اس کا بہت ہی ادب و احترام کرتے تھے۔ لیکن بے شمار دولت ان کے ہاتھ آتے ہی اسی کے حالات میں ایک دم تغیر پیدا ہوگیا اور سامری کی طرح منافق ہو کر حضرت موسیٰ ؑ کا بہت بڑا دشمن ہوگیا۔ اور اعلیٰ درجے کا متکبر اور مغرور ہوگیا۔ جب زکٰوۃ کا حکم نازل ہوا تو اس نے حضرت موسیٰ ؑ کے روبرو یہ عہد کیا کہ وہ اپنے تمام مالوں میں سے ہزارواں حصہ زکوٰۃ نکالے گا۔ مگر جب اس نے…

Read more

زبردستی کا ولی ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بادشاہ تھا ۔ ایک دن بادشاہ کا بہترین گھوڑا اصطبل سے بھاگ گیا ۔بادشاہ نے سپاہیوں کو گھوڑا تلاشنے کا حکم دیا ۔ سپاہی گھوڑے کو تلاش کرتے کرتے جنگل میں پہنچ گئے ۔وہاں ایک شخص نماز پڑھ رہا تھا لیکن سپاہیوں کو معلوم نہ ہوسکا کہ وہ نماز پڑھ رہا ہے انہوں نے اس سے پوچھا کہ تم نے یہاں جنگل میں کوئی گھوڑا دیکھا ہے ؟جواب ندارد ۔انہوں نے کچھ دیر رک پھر سوال کیا ۔دوسری جانب سے مکمل خاموشی ۔سپاہیوں نے جھنجھلا کر تیسری مرتبہ پھر پوچھنے کا ارادہ کیا ہی تھا کہ اس شخص نے  دائیں جانب سلام پھیرا ۔سپاہی یہ سمجھے ہمیں اشارے سے بتارہا ہے کہ اس جانب دیکھ لو ۔ وہ دائیں جانب گئے تو گھوڑا مل گیا ۔سپاہی خوش ہوگئے اور انہوں نے اپنی طرف سے اندازہ لگایا کہ یہ شخص کوئی…

Read more

ایک خاتون حضرت داؤد علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا اے خدا کے نبی! کیا اللہ ظالم ہے؟ حضرت داؤد علیہ السلام نے فرمایا : رب تعالیٰ تو سراسر عدل و انصاف ہے وہ ذرا برابر بھی کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ اس نے کہا اللہ نے مجھ پر ظلم کیا ہے حضرت داؤد علیہ السلام نے پوچھا کون سا ظلم کیا ہے؟ اللہ کے ہر کام میں حکمت ہوتی ہے۔ وہ کہنے لگی مجھے تو حکمت نظر نہیں آتی مجھے تو ظلم لگتا ہے پھر اس عورت نے اپنا قصہ بیان کرنا شروع کیا اے خدا کے نبی! میں ایک بیوہ عورت ہوں، میری تین یتیم بچیاں ہیں، جن کی پرورش میں اپنے ہاتھ سے سوت کاٹ کاٹ کے کرتی ہوں میں دن بھر اور بعض اوقات راتوں کو جاگ کر سوت کاٹتی ہوں۔ گزشتہ روز میں اپنا کاٹا ہوا سوت ایک سرخ کپڑے میں…

Read more

20/114
NZ's Corner