Tag Archives: ” “entrepreneurship

ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﭘﯿﺮ ﺗﮭﮯ – ﺟﻦ ﮐﮯ ﺑﮩﺖ ﭘﯿﺮﻭﮐﺎﺭ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﯾﺪ ﺗﮭﮯ ۔ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺧﻮﺵ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﯿﺮ ﻭ ﻣﺮﺷﺪ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺁﭖ ﺑﮩﺖ ﺧﻮﺵ ﻧﺼﯿﺐ ﺁﺩﻣﯽ ﮨﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻣﻌﺘﻘﺪﯾﻦ ﮐﯽ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﺍﺗﻨﯽ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻧﮭﯿﮟ ﮔﻨﺎ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟﺟﺎ ﺳﮑﺘﺎ ۔۔ﻣﺮﺷﺪ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺻﺮﻑ ﮈﯾﮍﮪ ﺷﺨﺺ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻣﯿﺮﯼ ﻋﻘﯿﺪﺕ ﻭﺍﻻ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﺟﺎﮞ ﻧﺜﺎﺭﯼ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ،ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﻣﺎﻧﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﻗﯽ ﮐﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﮨﯿﮟ ۔۔ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺑﮩﺖ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﯾﮧ ﭘﭽﺎﺱ ﮨﺰﺍﺭ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺻﺮﻑ ﮈﯾﮍﮪ ﮐﯿﺴﮯﮐﮩﮧ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ۔ ﻣﺮﺷﺪ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻧﻔﺲ ﮐﺎ ﭨﯿﺴﭧ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﺐ ﺁﭖ ﮐﻮ ﭘﺘﺎ ﭼﻠﮯ ﮔﺎ ۔ ﺗﻮ ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻣﯿﺪﺍﻥ ﮐﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﭨﯿﻠﮧ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﭨﯿﻠﮧ ﮐﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﺁﭖ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﯾک ﺟﮭﻮﻧﭙﮍﯼ ﺑﻨﻮﺍﺩﯾﮟ ﻓﻮﺭﺍً ﺭﺍﺕ ﮨﯽ ﺭﺍﺕ ﻣﯿﮟ ﺑﻨﻮﺍ ﺩﯾﮟ- ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ…

Read more

کہتے ہیں افلاطون ایک دن کھانا کھا رہے تھے کہ ایک مچھر بار بار آ کر انہیں تنگ کرنے لگا۔کبھی کھانے پر بیٹھتا، کبھی اُڑ جاتا۔ افلاطون نے نرمی سے اپنا تھوڑا سا کھانا مچھر کے سامنے رکھا۔مچھر نے اس میں سے کچھ چوسا… مگر زیادہ دیر نہ رکا۔ افلاطون نے شاگردوں کو غور سے دیکھنے کا کہا۔ایک شاگرد کے ہاتھ پر ہلکا سا زخم تھا، اس نے ہتھیلی آگے کی۔مچھر فوراً کھانے کو چھوڑ کر زخم پر آ بیٹھا اور خون چوسنے لگا۔ پھر افلاطون نے قریب ہی ایک بوسیدہ سیب رکھ دیا۔مچھر نے خون بھی چھوڑ دیا اور سیب کے کٹے حصے پر جا بیٹھا۔ اسی لمحے قریب ایک درخت پر مکڑی کا جالا تھا۔مچھر اُڑا… اور جال میں پھنس گیا۔جال ہلا تو مکڑی آئی اور خاموشی سے اپنے شکار کو مضبوطی سے قابو میں کر لیا۔ افلاطون نے فرمایا: “دیکھو! مکڑی کمزور ہے مگر صبر والی ہے۔وہ…

Read more

آپ کیا جمع کر رہے ہیںایک دن بادشاہ اپنے تین وزراء کو دربار میں بلایا اور تینوں کو حکم دیا کہ تینوں ایک ایک تھیلا لے کر باغ میں داخل ہوں اور وہاں سے بادشاہ کے لیے مختلف اچھے اچھے پھل جمع کریں۔ وزراء بادشاہ کے اس عجیب حکم پر حیران رہ گئے، اور تینوں ایک ایک تھیلا پکڑ کر الگ الگ باغ میں داخل ہوگئے۔پہلے وزیر نے کوشش کی کہ بادشاہ کے لیے اسکی پسند کے مزیدار اور تازہ پھل جمع کرے، اور اس نے کافی محنت کے بعد بہترین اور تازہ پھلوں سے تھیلا بھر لیا۔دوسرے وزیر نے خیال کیا کہ بادشاہ ایک ایک پھل کا خود تو جائزہ نہیں لے گا کہ کیسا ہے اور نہ ہی پھلوں میں فرق دیکھے گا۔ اس لئے اس نے بغیر فرق دیکھے جلدی جلدی ہر قسم کے تازہ اور کچے اور گلے سڑے پھلوں سے اپنا تھیلا بھر لیا۔اور تیسرے…

Read more

خواجے دا گواہ ڈڈو ۔ آپ اکثر یہ کہاوت سنتے ہیں تو چلیں آپ کو اس کہاوت کی تاریخ اور پس منظر بتاتے ہیں۔کسی گاؤں میں ایک شخص رہتا تھا جسے لوگ خواجہ کہہ کر پکارتے تھے۔ خواجہ صاحب اپنی چالاکیوں اور لمبی لمبی چھوڑنے کی عادت کی وجہ سے پورے علاقے میں مشہور تھے۔ ایک بار خواجہ کا اپنے ایک پڑوسی کے ساتھ پیسوں کے لین دین پر جھگڑا ہو گیا۔ معاملہ اتنا بڑھا کہ پنچایت بلانی پڑ گئی۔پنچایت کا منظرگاؤں کے چوپال میں پنچایت لگی، بڑے بوڑھے حقے پی رہے تھے اور سب اس انتظار میں تھے کہ دیکھیں خواجہ اپنے دعوے کو کیسے سچ ثابت کرتا ہے۔ پنچایت کے مکھیا نے خواجہ سے پوچھا:“خواجہ جی! آپ کہہ رہے ہیں کہ آپ نے پڑوسی کو رقم دی تھی، لیکن اس کے پاس کوئی تحریر نہیں ہے۔ کیا آپ کے پاس کوئی گواہ ہے جس نے رقم دیتے ہوئے…

Read more

ایک ریٹائرڈ پولیس کمشنر، جو پہلے اپنے سرکاری بنگلے میں رہا کرتے تھے، اب کالونی کے اپنے ذاتی مکان میں آ کر رہنے لگے۔ اُنہیں اپنی حیثیت پر بہت فخر تھا۔ روز شام کو وہ کالونی کے پارک میں چہل قدمی کے لیے آتے، لیکن وہاں آنے والے کسی سے بات نہ کرتے، نہ ہی کسی کی طرف دیکھتے۔ اُنہیں لگتا تھا: “یہ لوگ میرے لیول کے نہیں ہیں!” ایک دن وہ بینچ پر بیٹھے تھے، تب ایک بوڑھا شخص آ کر ان کے ساتھ بیٹھا اور ہلکی پھلکی باتیں کرنے لگا۔ لیکن کمشنر صاحب نے اس کی باتوں پر کوئی توجہ نہ دی۔ وہ صرف اپنے بارے میں ہی بولتے رہے – کہ وہ کتنے بڑے عہدے پر تھے، ان کی کتنی عزت تھی، اور وہ کتنے اہم شخص ہیں…وہ کہنے لگے، “میں یہاں اس لیے رہتا ہوں کیونکہ یہ میرا ذاتی گھر ہے!” کچھ دن یہی ہوتا رہا۔…

Read more

ایک شخص بازار میں صدا لگا رہا تھا، “گدھا لے لو! ایک اشرفی میں گدھا لے لو! گدھا نہایت کمزور اور لاغر تھا۔اتفاق سے اسی وقت بادشاہ اپنے وزیر کے ساتھ وہاں سے گزرا۔بادشاہ اس گدھے کے پاس رکا اور پوچھا،“کتنے میں بیچ رہے ہو؟” تگڑا گاہک دیکھتے ہی مالک نے فوراً گدھے کے دام بڑھا دیئے۔وہ فوراً بولا،“عالی جاہ! دو تھیلی سونے کی اشرفیاں قیمت ہے۔” بادشاہ حیران رہ گیا۔“اتنا مہنگا گدھا؟ اس میں آخر ایسی کیا خاص بات ہے؟” گدھے والے نے ادب سے کہا،“حضور! جو اس پر بیٹھتا ہے اُسے مکہ اور مدینہ دکھائی دینے لگتے ہیں۔” بادشاہ کو یقین نہ آیا۔“اگر تمہاری بات سچ ہوئی تو ہم پانچ تھیلی سونے کی اشرفیاں دیں گے۔لیکن اگر جھوٹ نکلا تو تمہارا سر اُڑا دیا جائے گا۔” پھر اُس نے وزیر کو حکم دیا،“اس پر بیٹھو اور بتاؤ، کیا نظر آتا ہے؟” وزیر گدھے پر بیٹھنے ہی لگا تھا…

Read more

حضرت ابراہیم بن ادھمؒ جو وقت کے بادشاہ تھے مگر سب چھوڑ کر اللہ کی راہ میں نکل پڑے تھے کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا: حضرت! میں گناہوں سے بچنا چاہتا ہوں مگر نفس قابو میں نہیں آتا، مجھے کوئی ایسی نصیحت کریں کہ میں گناہ چھوڑ دوں۔آپؒ نے مسکرا کر فرمایا: بھائی! اگر تم نے گناہ کرنا ہی ہے تو یہ پانچ شرطیں پوری کر لو، پھر جو چاہو کرو:جب گناہ کرو تو اللہ کا دیا ہوا رزق مت کھاؤ۔جب گناہ کرنا ہو تو اللہ کی بنائی ہوئی زمین سے باہر نکل جاؤ۔گناہ ایسی جگہ کرو جہاں اللہ تمہیں دیکھ نہ رہا ہو۔جب موت کا فرشتہ حضرت عزرائیلؑ آئے تو اسے کہنا کہ مجھے تھوڑی مہلت دے دو۔جب کل قیامت کو فرشتے تمہیں جہنم کی طرف لے جانے لگیں تو ان کے ساتھ جانے سے انکار کر دینا۔وہ شخص تڑپ اٹھا اور کہنے لگا: حضرت! یہ…

Read more

عام خیال کے مطابق 1517 میں خلافتِ عثمانیہ کا آغاز ہوا تھا۔ اس بات کے 500 سال مکمل ہونے کےموقعے پر یہ خصوصی تحریر لکھی گئی تھی) ظہیر الدین بابر کو اچھی طرح احساس تھا کہ اس کی فوج دشمن کے مقابلے پر آٹھ گنا کم ہے، اس لیے اس نے ایک ایسی چال چلی جو ابراہیم لودھی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھی۔ اس نے پانی پت کے میدان میں عثمانی ترکوں کا جنگی حربہ استعمال کرتے ہوئے چمڑے کے رسوں سے سات سو بیل گاڑیاں ایک ساتھ باندھ دیں۔ ان کے پیچھے اس کے توپچی اور بندوق بردار آڑ لیے ہوئے تھے۔ اس زمانے میں توپوں کا نشانہ کچھ زیادہ اچھا نہیں ہوا کرتا تھا لیکن جب انھوں نے اندھا دھند گولہ باری شروع کی تو کان پھاڑ دینے والے دھماکوں اور بدبودار دھویں نے افغان فوج کو حواس باختہ کر دیا اور اس ناگہانی آفت…

Read more

قدیم زمانے میں سیب کا ایک بڑا درخت تھا۔ اس درخت کے قریب ہی ایک چھوٹا لڑکا رہتا تھا۔ اس لڑکے کو روزانہ اس درخت کے پاس آنا اور کھیلنا اچھا لگتا تھا۔ وہ اس درخت کے اوپر چڑھ جاتا اور اس کے پھل توڑ توڑ کر کھاتا اور پھر اس کے سائے میں سوجاتا۔ وہ لڑکا اس درخت کو بہت چاہتا تھا اور اسی طرح اس درخت کو بھی اس لڑکے کے ساتھ کھیلنا اچھا لگتا تھا۔ وقت گزرتا رہا اور لڑکا بڑا ہو گیا۔ اب وہ پہلے کی طرح روزانہ اس درخت کے پاس کھیلنے نہیں آتا تھا۔ ایک روز وہ نو جوان درخت کے پاس آیا۔وہ مایوس لگ رہا تھا۔ درخت نے اس سے کہا: “آؤ میرے ساتھ کھیلو۔” نو جوان نے اس سے کہا” اب میں بچہ نہیں رہا اب میں درختوں کے ارد گرد نہیں کھیلتا۔مجھے کچھ کھلونے چاہئے اور انہیں خریدنے کے لئے پیسوں…

Read more

838ء کا وہ بھولا ہوا موسمِ گرما…ہوا میں تلخی تھی۔ زبطرة کے ملبے کی خاک ابھی تک اڑ رہی تھی، اور خلافت عباسیہ کے سینے پر بازنطینی شہنشاہ تھیوفیلوس کا وہ طعنہ تازہ تھا جس نے بغداد کے تخت کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ خلیفہ المعتصم باللہ کے چہرے پر وہ غصہ تھا جو صرف عزت کے ٹوٹنے سے پیدا ہوتا ہے۔ جب خبر پہنچی کہ بازنطینیوں نے سرحدی قلعہ زبطرة کو زمین بوس کر دیا، مسلمان قیدیوں کو ذبح کیا، اور عورتوں کی بے حرمتی کی، تو المعتصم نے اپنی تلوار نیام سے نکال لی۔ “عموریہ! میں عموریہ کو فتح کروں گا!” یہ نعرہ محض اعلانِ جنگ نہیں تھا، بلکہ ایک قوم کی بے عزتی کا حساب چکانے کا عہد تھا۔ المعتصم، ہارون الرشید کا بیٹا، اپنے بھائی المأمون کی طرح عالم تو نہ تھا، لیکن اس کی رگوں میں جنگجوئوں کا خون دوڑ رہا تھا۔ اس نے…

Read more

بہت پہلے ایک بزرگ حضرتِ شَمْعُون رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ تھے ، جنہوں نے ہزار مہینے یا ہزار سال اس طرح عِبادت کی کہ رات کو عبادت کرتے، دن میں روزہ بھی رکھتے اور اللہ پاک کے دین کو عام کرنے کے لیے ،غیر مسلموں سے جہاد (بھی)کرتے(یعنی لڑتے)، طاقتور اتنے تھے کہ لوہے(iron) کو اپنے ہاتھوں سے توڑ ڈالتے تھے۔ غیر مسلموں نے آپ کو شہید (یعنی قتل)کرنے کی بہت کوشش کی مگروہ قتل نہ کر سکے تو انہوں نے بہت سے مال (wealth)کا لالچ دے کر آپ کی بیوی کو کہا کہ جب یہ سو جائیں تو اُن کو باندھ کرہمیں بتا دینا۔جب آپ سو گئے تو بیوی نے رسیوں سے آپ کو باندھ دیا، آپ کی آنکھ کھلی، آپ نے اپنے جسم کو ہلایا تو ساری رسیّاں ٹوٹ گئیں۔ پھر اپنی بیوی سےپوچھا: مجھے کِس نے باندھ دیا تھا؟ کہنے لگی کہ میں تو آپ کی طاقت دیکھ…

Read more

قدیم زمانے میں ایک رئیس کی بیٹی گھوڑا سواری کے دوران گھوڑے سے نیچے گر گئی اور اُس کے کولہے کی ہڈی اپنے بند سے جدا ہو گئی۔ لڑکی کے باپ نے بہت سے حکیموں سے علاج کروانے کی کوشش کی کہ ھڈی کو واپس اپنی جگہ پر بٹھائیں مگر مصیبت یہ تھی کہ لڑکی کسی حکیم کو اپنا جسم چھونے کی اجازت نہیں دیتی تھی ۔ باپ نے بہت اصرار کیا کہ بیٹی حکیم کو شریعت نے بھی محرم قرار دیا ھے لیکن بیٹی کسی طرح راضی نہیں ھو رھی تھی اور دن بہ دن کمزور ھوتی جا رھی تھی ۔ آخر لوگوں نے مشورہ دیا کہ شہر سے باھر ایک بہت حاذق حکیم رھتے ھیں اُن سے مشورہ کر لیں…….. وہ شخص حکیم صاحب کے پاس گئے اور اپنا مسئلہ بیان کیا تو حکیم صاحب نے کہا کہ ایک شرط پر میں آپ کی بیٹی کا کولہا ھاتھ…

Read more

🤷🏻‍♀️بیوی کے آگے اونچی آواز میں نہیں بولنا۔۔۔۔🤣🤦🏻‍♀️گاؤں کی سادہ لوح عوام۔۔۔۔چھٹیوں گزارنے گاؤں گئے تو ایک دن انتہائی دلچسپ واقعہ پیش آیا جو کسی کے لیے پریشانی کا باعث تھا اور کسی کے لیے مسکرانے کی وجہ۔۔۔۔۔۔۔ایک دن اچانک گاؤں میں کہیں سے پاگل کتا آگیا۔ اس نے ایک گدھے کو کان سے کاٹ لیا۔ اب سب لوگ کہنے لگے گدھے کو مار دو یہ بھی پاگل ہو جائے گا۔ اس نے کسی کو کاٹ لیا تو؟؟؟؟دوپہر کو مالک نے جانوروں کو چارہ ڈالا اور کھیتوں میں سپرے کرنے چلا گیا۔ محلے کی کچھ آنٹیوں نے آدمی کو گدھے کو چارہ ڈالتے ہوئے دیکھ لیا تھا وہ فوراً اس کی بیوی کے پاس ازراہ ہمدردی بتانے پہنچیں کہ تمھارا شوہر گدھے کو چارہ ڈال رہا ہے۔گدھے کو پاگل کتے نے کاٹا ہوا ہے اگر گدھے نے تمھارے شوہر کو کاٹ لیا تو وہ بھی پاگل ہو جائے گا۔ پھر…

Read more

ایک بادشاہ محل کی چھت پر ٹہلنے چلا گیا۔ ٹہلتے ٹہلتے اسکی نظر محل کے نزدیک گھر کی چھت پر پڑی جس پر ایک بہت خوبصورت عورت کپڑے سوکھا رہی تھی۔ بادشاہ نے اپنی ایک باندی کو بلا کر پوچھا: کس کی بیوی ہے یہ؟باندی نے کہا: بادشاہ سلامت یہ آپ کےغلام فیروز کی بیوی ہے۔بادشاہ نیچے اترا ، بادشاہ پر اس عورت کے حسن وجمال کا سحر سا چھا گیا تھا۔اس نے فیروز کو بلایا۔ فیروز حاضر ہوا تو بادشاہ نے کہا : فیروز ہمارا ایک کام ہے۔ ہمارا یہ خط فلاں ملک کے بادشاہ کو دے آو اور  اسکا جواب بھی ان سے لے آنا۔ فیروز: اس خط کو لے کر گھر واپس آ گیا خط کو اپنے تکیے کے نیچے رکھ دیا، سفر کا سامان تیار کیا، رات گھر میں گزاری اور صبح منزل مقصود پر روانہ ہو گیا اس بات سے لاعلم کہ بادشاہ نے اس…

Read more

وہ زمانہ جب پہاڑ، ریگزار اور عظمت کی گونج تھی… ایک دور تھا، ہزاروں سال پہلے، جب زمین پر ایسے لوگ بستے تھے جن کی کہانیاں آج بھی ہواؤں میں سرگوشیوں کی مانند گردش کرتی ہیں۔ ان میں دو قومیں ایسی تھیں جن کی شان و شوکت، طاقت اور ثقافت نے اپنے وقت کے لاکھوں دلوں کو حیرت میں ڈال دیا — قومِ عاد اور قومِ ثمود۔ قومِ عاد: عظمت کی وہ مثال جب دنیا ابھی نئی نئی تشکیل پا رہی تھی، ایک عظیم قوم نے اپنے قدم مضبوطی سے زمین پر جما لیے تھے۔ یہ تھے قومِ عاد — ایک ایسا قبیلہ جو اپنی قوت، ہمت، اور پیداواری صلاحیتوں کے سبب دور دور تک مشہور تھا۔ ان کے بارے میں لوگ کیا کہتے تھے؟لوگ کہتے تھے کہ عاد کے لوگ پہاڑوں جیسے مضبوط، اونچے قد، چوڑے کندھوں اور شاندار جسموں کے مالک تھے۔ ان کے گھوڑے تیز، اونٹ طاقتور…

Read more

شیر نے چوہے سے پوچھا ،’’ہے کیا کوئی دنیا میں مجھ سے طاقتور ؟‘‘ چوہے نے جواب دیا،’’ ہے۔‘‘شیر غرایا،’’ کون ہے؟‘‘چوہے نے کہا،’’ کوئی اور نہیں سوائے آدم کے بیٹے کے بیٹے۔ ‘‘تب شیر نے کہا،’’اسے مجھے دکھاؤ۔‘‘دونوں چل دیئے، یہاں تک کہ وہ ایک چھوٹے سے گاؤں کے نزدیک پہنچ گئے۔ وہاں ایک کسان اپنا کھیت جوت رہا تھا۔ چوہے نے کہا،’’کیا تم اس ہل چلاتے ہوئے آدمی کو دیکھ رہے ہو؟ وہ تم سے زیادہ طاقتور ہے؟‘‘شیر نے حیرت اور حقارت آمیز لہجے میں پوچھا ’’یہ؟‘‘چوہے نے کہا،’’ جی ہاں۔‘‘شیر آدمی کے پاس گیا، آدمی کے پیر کپکپانے لگے۔ شیر نے اس سے کہا ،’’کیاتم ہی آدمی کے بیٹے ہو ؟‘‘آدمی نے جواب دیا، ’’ہاں‘‘شیر نے پوچھا،’’کیا تم مجھ سے کشتی لڑو گے، یہ دیکھنے کیلئے کہ ہم میں کون زیادہ طاقتور ہے؟‘‘آدمی نے جواب دیا،’’مگر میری طاقت میرے پاس نہیں ہے، میں اسے گھر چھوڑ آیا…

Read more

‏ایک چھوٹا لڑکا بھاگتا ھوا “شیوانا” (قبل از اسلام ایران کا ایک مفکّر) کے پاس آیا اور کہنے لگا.. “میری ماں نے فیصلہ کیا ھے کہ معبد کے کاھن کے کہنے پر عظیم بُت کے قدموں پر میری چھوٹی معصوم سی بہن کو قربان کر دے.. آپ مہربانی کرکے اُس کی جان بچا دیں..” شیوانا لڑکے کے ساتھ فوراً معبد میں پہنچا اور کیا دیکھتا ھے کہ عورت نے بچی کے ھاتھ پاؤں رسیوں سے جکڑ لیے ھیں اور چھری ھاتھ میں پکڑے آنکھ بند کئے کچھ پڑھ رھی ھے.. بہت سے لوگ اُس عورت کے گرد جمع تھے . اور بُت خانے کا کاھن بڑے فخر سے بُت کے قریب ایک بڑے پتّھر پر بیٹھا یہ سب دیکھ رھا تھا.. شیوانا جب عورت کے قریب پہنچا تو دیکھا کہ اُسے اپنی بیٹی سے بے پناہ محبّت ھے اور وہ بار بار اُس کو گلے لگا کر والہانہ چوم رھی…

Read more

‎ایک فوجی لڑائی کے میدان سے چھٹی لے کر اپنے گھر واپس جا رہا تھا۔ راستے میں وہ ایک گاؤں کے قریب سے گزرا۔ ‎ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے، جب کہ سپاہی شدید بھوکا تھا۔ وہ گاؤں کے سرے پر ایک مکان کے سامنے رک گیا اور کچھ کھانے کے لیے مانگا۔ گھر والوں نے کہا کہ ہمارے پاس کچھ بھی نہیں ہے، لہٰذا وہ آگے بڑھ گیا۔‎وہ دوسرے گھر پر رُکا اور وہی سوال دہرایا۔ یہاں بھی گھر والوں نے جواب دیا کہ ہمارے پاس کھانے کو کچھ بھی نہیں ہے، اگر ذرا ٹھہر کر آؤ تو شاید کوئی انتظام ہو جائے۔ ‎تب سپاہی نے سوال کیا ”تمھارے پاس ہنڈیا تو موجود ہے؟“ ‎گھر والوں نے کہا، ”بے شک! ہمارے پاس ہنڈیا موجود ہے۔“ ‎پھر اس نے معلوم کیا ”تمھارے ہاں پانی بھی ہو گا۔“ ”ہاں، پانی جتنا چاہو لے لو۔“ اسے جواب…

Read more

ایک دوست اپنے دوسرے دوست سے کامیاب شادی کا راز پوچھ رہا تھا۔ دوست نے کہا: “بھائی، سیدھا سا فارمولا ہے کہ ہم نے اپنے اپنے فیصلے کے اختیارات بانٹ رکھے ہیں۔” “اچھا؟” پہلے دوست نے پوچھا، “وہ کیسے؟” “بات یہ ہے کہ بڑے اور اہم فیصلے میں کرتا ہوں، اور چھوٹے موٹے فیصلے میری بیوی کرتی ہے۔” “واہ! کچھ وضاحت تو کر دو،” پہلا دوست ملتجی ہوا۔ “دیکھو یار، چھوٹے موٹے فیصلے مثلاً گاڑی کون سی خریدنی ہے، بچے کون سے سکول میں داخل کروانے ہیں، گھر کا رنگ روغن، فرنیچر کب اور کیسا ہونا چاہیے، میری تنخواہ کہاں کہاں خرچ ہونی چاہیے، مجھے برتن پہلے دھونے چاہییں یا کپڑے وغیرہ وغیرہ یہ سارے چھوٹے فیصلے میری بیوی کرتی ہے، اور میں بالکل اعتراض نہیں کرتا۔” “اوکے، اور بڑے فیصلے کون سے ہیں جو تم کرتے ہو؟” پہلے دوست نے پھر استفسار کیا۔ “بڑے فیصلے مثلاً… امریکہ کو عراق…

Read more

سن 656ء کی وہ صبح مدینہ کے لیے عام صبح نہ تھی۔ گلیاں خاموش تھیں، دل غم سے بوجھل تھے اور آنکھوں میں خوف اور بے یقینی صاف نظر آتی تھی۔ خلیفۂ سوم حضرت عثمان بن عفانؓ کی شہادت نے پوری امت کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ یہ صرف ایک عظیم صحابی کی شہادت نہ تھی بلکہ اسلامی ریاست کے امن و اتحاد پر کاری ضرب تھی۔ ایسے نازک وقت میں اہلِ مدینہ کی نگاہیں حضرت علی بن ابی طالبؓ پر جا ٹھہریں، جنہیں بالآخر خلافت کی ذمہ داری قبول کرنا پڑی۔خلافت کی ذمہ داری اور بگڑے حالاتحضرت علیؓ نے خلافت قبول کرتے وقت صاف الفاظ میں فرمایا کہ وہ کتاب اللہ اور سنتِ رسول ﷺ کے مطابق حکومت کریں گے۔ مگر ان کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ حضرت عثمانؓ کے قاتلوں کا تھا، جو مختلف گروہوں میں بکھر چکے تھے اور خود کو طاقتور سمجھنے لگے تھے۔…

Read more

40/114
NZ's Corner