Tag Archives: ” “Motivational messages for entrepreneurs” Target audience: Tailor keywords to the specific audience you want to reach

جنگل کے قریب ایک اونچا پہاڑ تھا۔ جانور کہتے تھے کہ اس کی چوٹی تک کوئی نہیں پہنچ سکتا۔ جو بھی کوشش کرتا، راستے کی سختی سے واپس آ جاتا۔ ایک خاموش سا کچھوا اکثر اس پہاڑ کو دیکھتا رہتا۔ وہ جانتا تھا کہ اس کے قدم سست ہیں، مگر اس کا ارادہ مضبوط تھا۔ ایک دن اس نے سفر شروع کر دیا۔ دوسرے جانور ہنسے:“اتنے آہستہ چلنے والا پہاڑ سر کرے گا؟” راستہ پتھریلا تھا، دھوپ تیز تھی۔ کچھوا کئی بار رکا، مگر پلٹا نہیں۔ وہ ہر قدم کے ساتھ خود سے کہتا:“میں تیز نہیں ہوں، مگر مستقل ہوں۔” دنوں بعد جب وہ چوٹی پر پہنچا تو بادل اس کے نیچے تھے۔ وہ خاموشی سے مسکرایا۔ اسی وقت باقی جانور بھی وہاں پہنچے اور حیران رہ گئے۔ کچھوا بولا:“جو ہار مان لے وہ کبھی نہیں پہنچتا۔” سبق: مستقل مزاجی کمزوری نہیں، اصل طاقت ہے۔

گہرے جنگل میں ایک طاقتور شیر رہتا تھا۔ وہ خود کو سب سے بڑا اور عقلمند سمجھتا تھا۔ اس کا ماننا تھا کہ طاقت ہی سب کچھ ہے، اسی لیے وہ اکثر کمزور جانوروں کو بلاوجہ ڈرا دیتا۔ جنگل کے جانور اس سے ڈرتے تھے، مگر دل سے اس کی عزت کوئی نہیں کرتا تھا۔ اسی جنگل میں ایک بوڑھا ہاتھی بھی رہتا تھا۔ وہ طاقتور ہونے کے باوجود نہایت نرم دل اور سمجھدار تھا۔ جانور مشکل میں ہوتے تو ہاتھی ان کی مدد کرتا، مگر شیر اسے کمزور سمجھ کر نظر انداز کرتا۔ ایک سال جنگل میں شدید خشک سالی آ گئی۔ پانی کے تالاب سوکھنے لگے۔ جانور پریشان ہو گئے۔ شیر نے غصے میں آ کر کہا:“جو طاقتور ہے وہ زندہ رہے گا، کمزور مر جائیں گے!” مگر بوڑھا ہاتھی خاموشی سے سب جانوروں کو اکٹھا کرنے لگا۔ اس نے کہا:“اگر ہم مل کر کوشش کریں تو پہاڑ…

Read more

کیا آپ جانتے ہیں؟تاریخِ انسانی میں کم از کم دو بار انسان نے ایسا دوڑا کہ تاریخ رقم ہو گئی۔مگر عجیب بات یہ ہے کہایک کو پوری دنیا نے یاد رکھا،اور دوسرے کو صرف اس کے  چند چاہنے والوں نے… وہ بھی مدھم آواز میں۔ 490 قبلِ مسیحیونان کے علاقے میراتھن میں گھمسان کی جنگ برپا تھی۔دو فریق آمنے سامنے تھے:ایک طرف فارسی سلطنت، دوسری طرف یونانی ریاستیں—دونوں اپنی اپنی سپر پاور ہونے کا دعویٰ کیے ہوئے۔ جنگ کا پانسہ یونانیوں کے حق میں پلٹا۔فتح کے فوراً بعد فیڈی پیڈیز (Pheidippides) نامی ایک پیغام رساں کو حکم دیا گیا کہوہ میدانِ میراتھن سے تقریباً چالیس کلومیٹر دور شہر ایتھنز جا کر اعلان کرے: “ہم جنگ جیت گئے ہیں!” وہ گھوڑے پر سوار ہونے کے بجائے پیدل ہی دوڑ پڑا۔ایتھنز پہنچ کر اس نے فتح کا اعلان کیااور شدید تھکن و پیاس کے باعث وہیں گر کر جان دے دی۔ آج،اسی…

Read more

سلطان محمود غزنوی کے دربار میں سائلوں اور درخواستگزاروں کی بھیڑ لگی ہوئی تھی کہ ایک شخص حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا “حضور! میری شکایت نہایت سنگین نوعیت کی ہے اور کچھ اس قسم کی ہے کہ میں اسے برسرِ دربار سب کے سامنے پیش نہیں کر سکتا۔۔۔!!”سلطان یہ سن کر فوراً اٹھ کھڑے ہوئے اور سائل کو خلوت خانے میں لیجا کر پوچھا کہ “تمہیں کیا شکایت ہے۔۔۔۔؟”اُس نے عرض کیا “حضور! ایک عرصے سے آپ کے بھانجے نے یہ طریقہ اختیار کر رکھا ہے کہ وہ مسلح ہو کر میرے مکان پر آتا ہے، مجھے مار پیٹ کر باہر نکال دیتا ہے اور خود جبراً میرے گھر میں گھس کر میری گھر والی کے ساتھ بدتمیزی کرتا ہے۔ غزنی کی کوئی عدالت ایسی نہیں، جس میں میں نے اس ظلم کی فریاد نہ کی ہو لیکن کسی جگہ مجھے انصاف نہ ملا۔ ہر کوئی آپ کے بھانجے…

Read more

کہتے ہیں عرب کے ایک بادشاہ نےاپنی طاقت کے اظہار کے لیےایک ایسی بھول بھلیاں بنوائیجس میں داخل ہونا آساناور نکلنا ناممکن تھا۔ایک دنبابِل کا بادشاہ وہاں آیا۔عرب بادشاہ نے اسےہنستے ہوئےاسی بھول بھلیاں میں داخل کر دیا۔ بابِل کا بادشاہدن بھرراستوں میں بھٹکتا رہادیواروں سے ٹکراتا رہاآخرکاراللہ سے فریاد کیاور کسی طرح بچ نکلا۔وہ خاموشی سے واپس لوٹا۔ کچھ عرصہ بعدوہ ایک عظیم لشکر کے ساتھعرب کی سرزمین پر آیافتح حاصل کیاور عرب بادشاہ کو قید کر لیا۔پھر اسے صحرا میں لے گیا۔ کہا“یہ ہے میری بھول بھلیاںجس کی کوئی دیوار نہیںکوئی دروازہ نہیںکوئی نشان نہیں۔”عرب بادشاہ کوریگستان میں چھوڑ دیا گیاجہاں نہ سایہ تھانہ راستہ۔وہ وہیںپیاس میں مر گیا۔ حاصلِ سبق ظلمجب فن کا لباس پہن لےتب بھی ظلم ہی رہتا ہے۔اور جو دوسروں کوراستہ بھلاتا ہےوہ ایک دنخودلامحدود صحرا میں کھو جاتا ہے۔

ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﭘﯿﺮ ﺗﮭﮯ – ﺟﻦ ﮐﮯ ﺑﮩﺖ ﭘﯿﺮﻭﮐﺎﺭ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﯾﺪ ﺗﮭﮯ ۔ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺧﻮﺵ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﯿﺮ ﻭ ﻣﺮﺷﺪ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺁﭖ ﺑﮩﺖ ﺧﻮﺵ ﻧﺼﯿﺐ ﺁﺩﻣﯽ ﮨﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻣﻌﺘﻘﺪﯾﻦ ﮐﯽ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﺍﺗﻨﯽ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻧﮭﯿﮟ ﮔﻨﺎ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟﺟﺎ ﺳﮑﺘﺎ ۔۔ﻣﺮﺷﺪ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺻﺮﻑ ﮈﯾﮍﮪ ﺷﺨﺺ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻣﯿﺮﯼ ﻋﻘﯿﺪﺕ ﻭﺍﻻ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﺟﺎﮞ ﻧﺜﺎﺭﯼ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ،ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﻣﺎﻧﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﻗﯽ ﮐﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﮨﯿﮟ ۔۔ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺑﮩﺖ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﯾﮧ ﭘﭽﺎﺱ ﮨﺰﺍﺭ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺻﺮﻑ ﮈﯾﮍﮪ ﮐﯿﺴﮯﮐﮩﮧ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ۔ ﻣﺮﺷﺪ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻧﻔﺲ ﮐﺎ ﭨﯿﺴﭧ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﺐ ﺁﭖ ﮐﻮ ﭘﺘﺎ ﭼﻠﮯ ﮔﺎ ۔ ﺗﻮ ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻣﯿﺪﺍﻥ ﮐﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﭨﯿﻠﮧ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﭨﯿﻠﮧ ﮐﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﺁﭖ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﯾک ﺟﮭﻮﻧﭙﮍﯼ ﺑﻨﻮﺍﺩﯾﮟ ﻓﻮﺭﺍً ﺭﺍﺕ ﮨﯽ ﺭﺍﺕ ﻣﯿﮟ ﺑﻨﻮﺍ ﺩﯾﮟ- ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ…

Read more

ایک بادشاہ تھاجسے ہر فیصلہ کرنے سے پہلےدل میں ایک ہی بےچینی رہتی تھی۔ وہ سوچتا کون سا وقت سب سے اہم ہے؟ کون سا انسان سب سے زیادہ ضروری ہے؟ کون سا کام سب سے افضل ہے؟ اس نے علماء کو بلایافلاسفروں سے پوچھامگر ہر ایک کا جواب مختلف تھا۔آخرکاروہ ایک گوشہ نشین بزرگ کے پاس پہنچا۔راستے میںبادشاہ نے دیکھاکہ ایک شخص زخمی پڑا ہےخون بہہ رہا ہے۔ بادشاہ نے تاج اتارازخم صاف کیےاور اس کے پاس بیٹھ گیا۔رات ڈھل گئی۔ صبح بزرگ نے کہا“اب تمہارے سوالوں کے جواب مل گئے ہیں۔سب سے اہم وقتوہ ہے جو اس لمحے تمہارے پاس ہے۔ سب سے اہم انسانوہ ہے جو اس وقت تمہارے سامنے ہے۔اور سب سے افضل کامیہ ہے کہ اس انسان کے ساتھ بھلائی کی جائے۔”بادشاہ خاموش ہو گیااس کی تلاش ختم ہو چکی تھی۔ حاصلِ سبق زندگیماضی یا مستقبل میں نہیںبلکہ اسی لمحے میں فیصلہ مانگتی ہے۔جو سامنے…

Read more

آپ کیا جمع کر رہے ہیںایک دن بادشاہ اپنے تین وزراء کو دربار میں بلایا اور تینوں کو حکم دیا کہ تینوں ایک ایک تھیلا لے کر باغ میں داخل ہوں اور وہاں سے بادشاہ کے لیے مختلف اچھے اچھے پھل جمع کریں۔ وزراء بادشاہ کے اس عجیب حکم پر حیران رہ گئے، اور تینوں ایک ایک تھیلا پکڑ کر الگ الگ باغ میں داخل ہوگئے۔پہلے وزیر نے کوشش کی کہ بادشاہ کے لیے اسکی پسند کے مزیدار اور تازہ پھل جمع کرے، اور اس نے کافی محنت کے بعد بہترین اور تازہ پھلوں سے تھیلا بھر لیا۔دوسرے وزیر نے خیال کیا کہ بادشاہ ایک ایک پھل کا خود تو جائزہ نہیں لے گا کہ کیسا ہے اور نہ ہی پھلوں میں فرق دیکھے گا۔ اس لئے اس نے بغیر فرق دیکھے جلدی جلدی ہر قسم کے تازہ اور کچے اور گلے سڑے پھلوں سے اپنا تھیلا بھر لیا۔اور تیسرے…

Read more

آپ نے بہادری کے بڑے قصے سنے ہونگے 🔥❤️آئیں یہ بھی پڑھیں کائنات میں کوئی شخصحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ بہادر نہیں۔ابیّ بن خلف دنیا کے بدترین انسانوں سے ایک ہے جوجہنم کے شدید ترین عذاب میں مبتلا ہو گا۔یہ قریش کے نمایاں افراد میں سے ایک تھا جنگ بدر میں قیدی بنا لیکن اسے رہاکردیا گیا ۔اس احسان کا بدلہ اس نے یہ دیاکہ قسم اُٹھائی کہ میں اپنے قیمتی گھوڑے” العُود “کو روزانہ اتنے سیر مکئی کا دانہ کھلایا کروں گا اور پھر اس پر سوار ہوکر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )کو قتل کردوں گا۔اسکی یہ بڑجب حضور کے گوشِ انور تک پہنچی تو آپ نے فرمایا”وہ نہیں بلکہ میں اسے موت کے گھاٹ اتاروں گا،انشاءاللہ“ ۔ اُحد کے دن وہ اپنے اسی گھوڑے پر سوار ہوکر شریک ہوا، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام سے فرمایا ”خیال رکھنا ،مباداکہ ابّی بن…

Read more

ایک شخص بازار میں صدا لگا رہا تھا، “گدھا لے لو! ایک اشرفی میں گدھا لے لو! گدھا نہایت کمزور اور لاغر تھا۔اتفاق سے اسی وقت بادشاہ اپنے وزیر کے ساتھ وہاں سے گزرا۔بادشاہ اس گدھے کے پاس رکا اور پوچھا،“کتنے میں بیچ رہے ہو؟” تگڑا گاہک دیکھتے ہی مالک نے فوراً گدھے کے دام بڑھا دیئے۔وہ فوراً بولا،“عالی جاہ! دو تھیلی سونے کی اشرفیاں قیمت ہے۔” بادشاہ حیران رہ گیا۔“اتنا مہنگا گدھا؟ اس میں آخر ایسی کیا خاص بات ہے؟” گدھے والے نے ادب سے کہا،“حضور! جو اس پر بیٹھتا ہے اُسے مکہ اور مدینہ دکھائی دینے لگتے ہیں۔” بادشاہ کو یقین نہ آیا۔“اگر تمہاری بات سچ ہوئی تو ہم پانچ تھیلی سونے کی اشرفیاں دیں گے۔لیکن اگر جھوٹ نکلا تو تمہارا سر اُڑا دیا جائے گا۔” پھر اُس نے وزیر کو حکم دیا،“اس پر بیٹھو اور بتاؤ، کیا نظر آتا ہے؟” وزیر گدھے پر بیٹھنے ہی لگا تھا…

Read more

🤷🏻‍♀️بیوی کے آگے اونچی آواز میں نہیں بولنا۔۔۔۔🤣🤦🏻‍♀️گاؤں کی سادہ لوح عوام۔۔۔۔چھٹیوں گزارنے گاؤں گئے تو ایک دن انتہائی دلچسپ واقعہ پیش آیا جو کسی کے لیے پریشانی کا باعث تھا اور کسی کے لیے مسکرانے کی وجہ۔۔۔۔۔۔۔ایک دن اچانک گاؤں میں کہیں سے پاگل کتا آگیا۔ اس نے ایک گدھے کو کان سے کاٹ لیا۔ اب سب لوگ کہنے لگے گدھے کو مار دو یہ بھی پاگل ہو جائے گا۔ اس نے کسی کو کاٹ لیا تو؟؟؟؟دوپہر کو مالک نے جانوروں کو چارہ ڈالا اور کھیتوں میں سپرے کرنے چلا گیا۔ محلے کی کچھ آنٹیوں نے آدمی کو گدھے کو چارہ ڈالتے ہوئے دیکھ لیا تھا وہ فوراً اس کی بیوی کے پاس ازراہ ہمدردی بتانے پہنچیں کہ تمھارا شوہر گدھے کو چارہ ڈال رہا ہے۔گدھے کو پاگل کتے نے کاٹا ہوا ہے اگر گدھے نے تمھارے شوہر کو کاٹ لیا تو وہ بھی پاگل ہو جائے گا۔ پھر…

Read more

کہتے ہیں یہ تخت طاؤس ہے۔یہ کوئی عام تخت نہ تھا۔ یہ دنیا کی تاریخ کا سب سے قیمتی اور شاہانہ تخت تھا — “تختِ طاؤس۔ سن 1628… مغل بادشاہ شاہجہان—جس نے تاج محل جیسا عجوبہ تعمیر کرایا—نے ایک اور ناقابلِ تصور خواب دیکھا: ایک ایسا تخت بنایا جائے جو زمین پر جنت کا منظر پیش کرے۔ شاہجہان نے حکم دیا، اور سلطنت کے بہترین سنار، جواہرات تراشنے والے، اور فنکاروں کو یکجا کر لیا گیا۔ سات سال کی شب و روز محنت کے بعد، وہ شاہکار وجود میں آیا، جسے دنیا “تخت طاؤس” کے نام سے جانتی ہے۔یہ تخت خالص 1150 کلوگرام سونے سے ڈھالا گیا۔ اس پر 230 کلوگرام کے قریب ہیرے، یاقوت، زمرد، نیلم، اور موتی جڑے گئے۔تخت کے پیچھے دو مور (طاؤس) کی شکلیں بنی تھیں، جن کے پروں میں سینکڑوں جواہرات چمکتے تھے۔ ان ہی موروں کے باعث اس کا نام “تختِ طاؤس” پڑا۔یہ تخت…

Read more

9 صفر 38 ہجری (17 جولائی 658ء) کی ایک سحر، نہروان کے میدان میں ہوا کچھ یوں: ہوا میں تلخی اور خاموشی کے ساتھ ایک عجیب دھند چھائی ہوئی تھی۔ ایک طرف حضرت علی بن ابی طالبؓ کا لشکرِ حق ڈٹا تھا، تو دوسری طرف وہی لوگ جو کل تک اسی لشکر کا حصہ تھے—خوارج—اپنے ہی بھائیوں کے سامنے صف آرا تھے۔ یہ جنگ نہیں، ایک المناک انجام تھا جو اپنے ہی ہاتھوں لکھا جا رہا تھا۔ سب کچھ جنگِ صفین کے بعد شروع ہوا۔ جب معاملہ ثالثی کے لیے گیا تو حضرت علیؓ کے لشکر میں سے ایک گروہ آگ بگولا ہو گیا۔ ان کا نعرہ تھا: “حکم صرف اللہ کا ہے!”۔ ان کے نزدیک دو انسانوں کو فیصلہ کا اختیار دینا کفر تھا۔ وہ چار ہزار کی تعداد میں حروراء نامی جگہ پر جمع ہو گئے اور اعلان کر دیا کہ اب علیؓ کی خلافت بھی ناجائز ہے۔…

Read more

وہ زمانہ جب پہاڑ، ریگزار اور عظمت کی گونج تھی… ایک دور تھا، ہزاروں سال پہلے، جب زمین پر ایسے لوگ بستے تھے جن کی کہانیاں آج بھی ہواؤں میں سرگوشیوں کی مانند گردش کرتی ہیں۔ ان میں دو قومیں ایسی تھیں جن کی شان و شوکت، طاقت اور ثقافت نے اپنے وقت کے لاکھوں دلوں کو حیرت میں ڈال دیا — قومِ عاد اور قومِ ثمود۔ قومِ عاد: عظمت کی وہ مثال جب دنیا ابھی نئی نئی تشکیل پا رہی تھی، ایک عظیم قوم نے اپنے قدم مضبوطی سے زمین پر جما لیے تھے۔ یہ تھے قومِ عاد — ایک ایسا قبیلہ جو اپنی قوت، ہمت، اور پیداواری صلاحیتوں کے سبب دور دور تک مشہور تھا۔ ان کے بارے میں لوگ کیا کہتے تھے؟لوگ کہتے تھے کہ عاد کے لوگ پہاڑوں جیسے مضبوط، اونچے قد، چوڑے کندھوں اور شاندار جسموں کے مالک تھے۔ ان کے گھوڑے تیز، اونٹ طاقتور…

Read more

مارکو پولو 1275ء میں قبلائی خان کے دربار تک پہنچتا ہے، یہ توقع لیے ہوئے کہ وہاں نایاب اور عجیب مصالحے ملیں گے۔ مگر جو کچھ وہ قلم بند کرتا ہے، وہ تاریخ کی سب سے وسیع دودھ پر مبنی ثقافت ہے۔وہ سوال جو ہر کوئی پوچھتا ہے: منگول فوجیں بغیر رسد کی لائنوں کے کیسے حرکت کرتی تھیں؟ پولو کا جواب: ہر سپاہی دودھ رکھنے کے لیے چمڑے کے مشکیزے ساتھ رکھتا تھا اور گھوڑوں کے ساتھ سفر کرتا تھا۔ یہ گھوڑے چلتی پھرتی ڈیری فیکٹریاں تھے۔ پولو لکھتا ہے:“جب وہ دور دراز مہم پر جاتے ہیں تو دودھ کے لیے دو چمڑے کی بوتلوں اور گوشت کے لیے ایک چھوٹے مٹی کے برتن کے سوا کوئی سامان نہیں لیتے۔ شدید مجبوری کی حالت میں وہ دس دن تک بغیر آگ جلائے اور بغیر کھانا پکائے سوار رہتے ہیں۔ وہ اپنے گھوڑوں کا خون پیتے ہیں، رگ کھول کر…

Read more

شیر نے چوہے سے پوچھا ،’’ہے کیا کوئی دنیا میں مجھ سے طاقتور ؟‘‘ چوہے نے جواب دیا،’’ ہے۔‘‘شیر غرایا،’’ کون ہے؟‘‘چوہے نے کہا،’’ کوئی اور نہیں سوائے آدم کے بیٹے کے بیٹے۔ ‘‘تب شیر نے کہا،’’اسے مجھے دکھاؤ۔‘‘دونوں چل دیئے، یہاں تک کہ وہ ایک چھوٹے سے گاؤں کے نزدیک پہنچ گئے۔ وہاں ایک کسان اپنا کھیت جوت رہا تھا۔ چوہے نے کہا،’’کیا تم اس ہل چلاتے ہوئے آدمی کو دیکھ رہے ہو؟ وہ تم سے زیادہ طاقتور ہے؟‘‘شیر نے حیرت اور حقارت آمیز لہجے میں پوچھا ’’یہ؟‘‘چوہے نے کہا،’’ جی ہاں۔‘‘شیر آدمی کے پاس گیا، آدمی کے پیر کپکپانے لگے۔ شیر نے اس سے کہا ،’’کیاتم ہی آدمی کے بیٹے ہو ؟‘‘آدمی نے جواب دیا، ’’ہاں‘‘شیر نے پوچھا،’’کیا تم مجھ سے کشتی لڑو گے، یہ دیکھنے کیلئے کہ ہم میں کون زیادہ طاقتور ہے؟‘‘آدمی نے جواب دیا،’’مگر میری طاقت میرے پاس نہیں ہے، میں اسے گھر چھوڑ آیا…

Read more

قبیلہ عرب کی ایک لڑکی ایک لڑکے پر عاشق ھو گئ مجاز کا بھوت دونوں کہ سر پر چڑھ کر ناچنے لگا مختصر یہ کہ دونوں نے بھاگ کر شادی کرنے کا فیصلہ کر لیا لڑکی نے کہا میرے پاس ایک تیز رفتار اونٹنی ھے ھم رات کو ندی پار کر کہ دوسرے شہر روانہ ھو جائیں گے لڑکے نے بھی ھاں کر کہ رضا مندی کا اظہار کیا رات کے پچھلے پہر وقت مقررہ پر دونوں ندی کنارے اکٹھے ھوۓ لڑکی بولی میں اونٹنی پر سوار ھوتی ھوں تم اسے پیچھے سے ھانکتے ھانکتے ندی پار کرو پھر اوپر بیٹھ جانا ندی پار کر کے لڑکے نے کہا مگر ایسا کیوں میں بھی تمھارے ساتھ ھی بیٹھ جاتا ھوں ھانکنے کی کیا ضرورت ھے خود بخود چل تو رھی ھے لڑکی نے کہا اسکا باپ بھی ھمارا پالتو اونٹ تھا اسکی عادت تھی کہ وہ بیچ ندی میں جا…

Read more

کہتے ہیں کسی شہر میں ایک بڑے میاں اور ان کی بدمزاج، ناشکری بوڑھی بیوی رہتی تھی۔ غربت کے مارے انہیں ایک پرانی پن چکی میں رہنا پڑا،عمارت خستہ حال تھی، بارش ہوتی یا برف پڑتی تو چھت ٹپکنے لگتی۔ ایک دن بوڑھے میاں نے ایک سنہری پرندہ پکڑ کر گھر لایا ۔اتنے میں اس نے سنا کہ وہی سنہری پرندہ انسانی زبان میں گفتگو کر رہا ہے۔ پرندے نے کہا، ’’بڑے میاں! مجھے معلوم ہے کہ آپ برسوں سے مجھے پکڑنے کے چکر میں تھے،آج کامیاب ہوگئے، لیکن میرے چھوٹے بچے ہیں، انہیں چوگا کھلاتا ہوں، مہربانی کرکے مجھے چھوڑ دیجئے، آپ کی جو بھی خواہش ہوگی، وہ میں پوری کر دوں گا، میں آپ کو ایک ایسا تحفہ دوں گا، جو چاہیں گے وہ ہوجائے گا۔‘‘ بڑے میاں کی یہ سن کر بانچھیں کھل گئیں، انہوں نے سنہری پرندے کو آزاد کرتے ہوئے کہا، میں اپنی تکلیف دہ…

Read more

قدیم زمانے میں ایک بادشاہ تھا جسے قصے کہانیاں سننے کا بہت شوق تھا۔ ایک دن اسے شرارت سوجھی اور اس نے پورے ملک میں منادی کروا دی کہ:“جو شخص دربار میں آ کر ایسا جھوٹ بولے گا جس پر میں خود پکار اٹھوں کہ ‘یہ جھوٹ ہے’، اسے انعام میں ایک بڑا تھیلا سونے کے سکوں کا دیا جائے گا۔”انعام کی لالچ میں بڑے بڑے قصہ گو اور درباری آئے۔ ایک نے کہا: “جہاں پناہ! میں نے ایک ایسا مرغ دیکھا ہے جو ہاتھی کو اٹھا کر اڑ گیا تھا۔” بادشاہ مسکرا کر بولا: “ہو سکتا ہے، قدرت کی قدرت ہے، یہ سچ ہو سکتا ہے۔”دوسرا بولا: “بادشاہ سلامت! میں نے ایک بار سمندر میں آگ لگی دیکھی جس میں مچھلیاں پکوڑے بن کر باہر آ رہی تھیں۔” بادشاہ نے اطمینان سے جواب دیا: “موسم گرم ہوگا، پانی کھول گیا ہوگا، میں اسے جھوٹ نہیں کہتا۔”بادشاہ دراصل بہت عیار…

Read more

‏ھالی ووڈ کی بیشمار فلموں میں ایک ایسی مخلوق یا جانور دکھایا جاتا ھے جو زمین پھاڑ کر باھر آ جاتا ھے وہ جانور اس قدر قوی ھیکل اور طاقتور ھوتا ھے کہ پتھریلی سخت زمین اس کی بے پناہ طاقت کے سامنے ریت سے بھی کمزور ثابت ھوتی ھے ۔ زمین سے باھر نکل کروہ تباہی و بربادی پھیلانے لگتا ھے انسانوں کو تنکوں کی مانند اٹھا اٹھا کر پھینکتا ھے برٰ بڑی عمارات اس کے آگے ریت سے بنے گھروندوں سے زیادہ اھمیت نہیں رکھتے ۔ انسان اس پر قابو پانے یا اسے ھلاک کرنے کی تدابیر آزماتے ہیں لیکن ناکام رھتے ھیں۔ ھالی ووڈ کے تقریبا” سبھی فلمساز اور ڈائریکٹر یہودی ہیں۔ یہ اپنی اس قسم کی فلموں مین ایک پیغام دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ اگر اس طرح کی کوئی مخلوق زمین سے باھر آتی ھے جس کا مقابلہ انسانوں کو کرنا پڑ جائے تو…

Read more

20/169
NZ's Corner