Tag Archives: ” “entrepreneurship

ایک بادشاہ کے دربار میں ایک اجنبی نوکری کی طلب لیے حاضر ہوا۔ بادشاہ نے اس کی قابلیت پوچھی تو اس نے جواب دیا: “میں سیاسی ہوں”۔ (یاد رہے، عربی زبان میں “سیاسی” اس شخص کو کہتے ہیں جو افہام و تفہیم سے مسئلے حل کرنے والا معاملہ فہم ہو۔) چونکہ بادشاہ کے پاس پہلے ہی بہت سے سیاستدان موجود تھے، اس نے اجنبی کو شاہی اصطبل کا انچارج بنا دیا، کیونکہ اس عہدے پر مامور شخص حال ہی میں فوت ہو چکا تھا۔ کچھ دن بعد بادشاہ نے اس سے اپنے سب سے مہنگے اور عزیز گھوڑے کے بارے میں دریافت کیا، تو اس نے کہا: “یہ نسلی نہیں ہے۔” بادشاہ کو حیرت ہوئی، اس نے فوری طور پر اصطبل کے پُرانے سائیس کو جنگل سے بلوایا۔ سائیس نے بتایا کہ گھوڑا تو اصیل ہے، مگر اس کی ماں پیدائش کے فوراً بعد مر گئی تھی، جس کے بعد…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک اجنبی شخص یونہی بھٹکتا ہوا ایک ایسی جگہ آ نکلا جہاں سے کئی راستے مختلف سمتوں میں بکھرتے تھے۔وہ لمحہ بھر کو ٹھٹک گیا، جیسے راستے نہیں بلکہ سوال اس کے سامنے کھڑے ہوں۔وہیں ایک بزرگ لکڑیاں چن رہے تھے۔ اجنبی نے آگے بڑھ کر ایک راستے کی طرف اشارہ کیا اور پوچھا،“بابا جی، یہ راستہ کہاں جاتا ہے؟” بزرگ نے سر اٹھائے بغیر کہا،“دولت پور کی طرف۔” “اور یہ؟”“یہ دین گاہ کو جاتا ہے۔” “یہ والا؟”“شہرت آباد کی سمت۔” “اور یہ چوتھا راستہ؟”“یہ مقصد نامی گاؤں تک پہنچاتا ہے۔” اجنبی ذرا رکا، پھر پانچویں راستے کی طرف اشارہ کرنے ہی والا تھا کہ بزرگ نے لکڑیاں رکھ دیں اور اس کی طرف دیکھ کر پوچھا،“یہ بتاؤ، تم نے جانا کہاں ہے؟” اجنبی چونکا، پھر کندھے اچکاتے ہوئے بولا،“کہیں نہیں… بس یونہی سوال کر رہا تھا۔” بزرگ مسکرائے اور بولے،“پھر تمہیں راستوں سے…

Read more

‏حجاج بن یوسف حافظ قرآن تھاوہ تہجدکی ایک رکعت میں 10 سپاروں کی تلاوت کرتاتھا، باجماعت نماز پڑھاتاتھااور شراب و زناسےدور بھاگتاتھالیکن انتہائی ظالم تھاجب اسکی موت آئی توانتہائی عبرتناک موت آئی،حضرت سعید بن جبیر رحمۃ اللہ علیہ جوکے ایک تابعی بزرگ تھے ایک دن منبر پر بیٹھے ھوۓ یہ الفاظ ادا کیےکہ “حجاج ایک ظالم شخص ھے” حجاج کو پتہ چلا دربار میں بلا کر پوچھا۔ کیا تم نے کہتے ہو؟ تو آپ نے فرمایا ھاں یہ سن کر حجاج کا رنگ غصے سے سرخ ھو گیا اورقتل کے احکامات جاری کر دیے۔جب آپ کو قتل کیلیے دربار سے باہر لے کر جانے لگے تو آپ مسکرا دیے۔ حجاج کو ناگوار گزرا اسنے پوچھا کیوں مسکراتے ھو تو آپ نے جواب دیا تیری بے وقوفی پر اور جو اللہ تجھے ڈھیل دے رھا ھے اس پر مسکراتا ھوں۔ حجاج نے پھر حکم دیا کہ اسے میرے سامنے زبح کر…

Read more

ایک مسافر ایک بزرگ کی خدمت میں حاضر ہوا،بزرگ نے فرمایا..” کھانے کا وقت ھے آؤ کھانا کھالو.. “مسافر ان کے ساتھ کھانا کھانے بیٹھ گیا..جب کھانے سے فارغ ھوئے تومسافر نے دسترخوان کو لپیٹنا شروع کیا تاکہ جاکر دسترخوان جھاڑدے توبزرگ نے فرمایا..” کیا کر رھے ھو..؟ “مسافر نے کہا..” حضرت دسترخوان جھاڑنے جارھا ھوں.. “بزرگ نے پوچھا..” دسترخوان جھاڑنا آتا ھے..؟مسافر نے کہا..” حضرت !! دسترخوان جھاڑنا کون سا فن یا علم ھے جس کے لئے باقاعدہ تعلیم کی ضرورت ھو.. باہر جا کر جھاڑ دوں گا.. “بزرگ نے فرمایا..” اسی لئے تو میں نے تم سے پوچھا تھا کہدسترخوان جھاڑنا آتا ھے یا نہیں..؟معلوم ہوا کہ تمھیں دسترخوان جھاڑنا نہیں آتا..! “مسافر نے کہا..” پھر آپ سکھا دیں.. “فرمایا..” ہاں..! دسترخوان جھاڑنا بھی ایک فن ھے.. “بزرگ نے اس دسترخوان کو دوبارہ کھولا اور اس پرجو بوٹیاں یا بوٹیوں کے ذرات تھے ‘ ان کو ایک طرف…

Read more

دو دوست تھے ۔ ایک کا نام تھا “کچھ بھی نہیں” اور دوسرے کا نام تھا “خودبخود” ۔کچھ بھی نہیں کائنات بننے سے پہلے سے موجود تھا ۔ مگرخودبخود کی پیدائش بگ بینگ کے وقت ہوئی جب وقت نے جگہ کو زور سے ٹکر ماری ۔ ایکزوردار دھماکہ ہوا اور خودبخود پیدا ہوا ۔ خودبخود پیدا ہونے کے بعد کچھ بھی نہیں سے جھگڑنے لگا ۔ اس کا دعویٰ یہ تھا کہ وہ کچھ بھی نہیں سے بڑا ہے ۔ جبکہ کچھ بھی نہیں کا کہناتھا کہ وہ خودبخود سے بڑا ہے ۔ یہ دونوں اپنا مقدمہ لے کر ایک بندر کی عدالت میں پیش ہوئے ۔ بندر نے کچھ دیر سر کھجاتے ہوئے سوچا اور پھر بولا ۔“میں تم دونوں سے کچھ سوالات پوچھوں گا ۔ تم دونوں نے ان کے سچ سچ جوابات دینے ہیں ۔”“کچھ بھی نہیں” اور “خودبخود” نے یک زبان ہو کر جواب دیا ۔“جو…

Read more

غور کے پہاڑوں میں برفانی ہوائیں چل رہی تھیں۔ سردی ہڈیوں میں اتر چکی تھی اور آسمان پر چھائے بادل یوں محسوس ہوتے تھے جیسے کسی بڑے طوفان کی آمد کی خبر دے رہے ہوں۔ اسی سرد سرزمین میں ایک کم سن غلام آنکھیں کھول رہا تھا، جسے اس وقت یہ معلوم نہ تھا کہ آنے والا وقت اس کے نام کو تاریخ کے اوراق میں سنہری حروف سے رقم کرے گا۔ یہی غلام آگے چل کر قطب الدین ایبک کہلایا، وہی شخص جس نے غلامی کی زنجیروں کو اقتدار کے تاج میں بدل دیا۔قطب الدین ایبک ترک نژاد تھا۔ بچپن ہی میں والدین سے جدا ہو گیا۔ بازارِ غلاماں میں اس کی آنکھوں میں خوف، حیرت اور سوالات تھے۔ ہر بولی لگانے والا اسے ایک شے کی طرح دیکھتا، مگر اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی، جیسے کوئی چھپا ہوا چراغ ہو جو صحیح وقت پر…

Read more

آخر ی مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کا ایک ہاتھی تھا ، نام تھا اُس کا ” مولا بخش “ – یہ ہاتھی اپنے مالک کا بے حد وفادار تھا ۔ ہاتھی خاصہ بوڑھا تھا مگر تھا بہت صحت مند ۔ فطرتاََ شریر اور شوخ تھا ۔ ہر وقت مست رہتا تھا ۔ اپنے مہاوت کے سوا کسی کو پاس نہ آنے دیتا تھا ۔ یہ ہاتھی کھیلنے کا بڑا شیدائی تھا ۔ دہلی کے لال قلعے کے قریب کے بچے اُس کے گرد اکٹھے ہو جاتے تھے اور مولا بخش اُن کے ساتھ ساتھ کھیلتا رہتا ۔ پہلے بچے اُسے کہتے کہ ” ایک ٹانگ اٹھاؤ “ وہ اُٹھا لیتا ۔ بچے کہتے ” ایک گھڑی ( یعنی ایک منٹ ) پوری ہونے سے پہلے نہ رکھنا “ وہ ایک گھڑی یعنی ایک منٹ تک ایسے ہی رہتا ۔ پھر بچے کہتے ” گھڑی پوری ہوئی “ تو وہ…

Read more

ایک بادشاہ کی سات بیٹیاں تھی ایک دن بادشاہ بہت خوش ہوتا ہے اور اپنی ساتوں بیٹیوں کو بلا کر پوچھتا ہے کہ میں تم سب سے ایک سوال پوچھوں گا اور اگر جواب اچھا لگا تو تمہارا من چاہا انعام بھی دوں گا ۔ سب ایک قطار میں کھڑی ہو جاو اور ایک ایک کر کے بتاو کہ تم کس کا دیا کھاتی ہو ؟ کس کا دیا پہنتی ہو ؟ سات میں سے چھ بیٹیوں نے کہا ابا حضور آپ کا دیا کھاتے ہیں اور آپ کا دیا پہنتے ہیں آپ ہی کی وجہ سے ہماری یہ شان شوکت ہے یہ سن کر بادشاہ بہت خوش ہوا اور سب کو اس کی من پسند چیز دے دی۔ جب سب سے چھوٹی بیٹی کی باری آئی تو اس نے کہا کہ میں اللہ کا دیا کھاتی ہوں اور اپنی قسمت کا پہنتی ہوں اور یہ میرا نصیب ہے ۔…

Read more

”چیونٹی“ ہر روز صبح سویرے اپنے کام پر جاتی تھی، فوراً ہی اپنا کام شروع کر دیتی تھی۔ ”چیونٹی“ بہت محنت سے کام کرتی تھی، اسکی پروڈکشن بھی بہت زیادہ تھی اور وہ اپنے کام سے خوش بھی تھی۔ جنگل کا بادشاہ ”شیر“، ”چیونٹی“ کے کام سے بہت حیران تھا، کیونکہ وہ بغیر کسی آفیسر کے کام کرتی تھی۔ ”شیر“ نے سوچا، اگر ”چیونٹی“ بغیر کسی آفیسر کے، اتنی زیادہ پیداوار حاصل کررہی ہے تواگر وہ کسی آفیسر، کی ماتحتی میں کام کرے تو اس کی پروڈکشن اس سے کئی گنا زیادہ ہوجائے گی۔ اس لیئے ”شیر“ نے ایک ”لال بیگ“، کو جو کہ آفس کا تجربہ رکھتا تھا اور رپورٹ لکھنے میں بہت مشہور تھا، ”چیونٹی“ پر آفیسر کے عنوان سے تعینات کر دیا۔ ”لال بیگ“ نے ”چیونٹی“ پر کنٹرول رکھنے کی خاطر، کام کی جگہ پر اسکے آنے اور جانے کے وقت کو نوٹ کرنے والا ایک بورڈ…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے جمعہ کا دن تھا خطیب صاحب ذرا لیٹ ہو گئے تو ایک دیوانہ ممبر پر خطبہ دینے پہنچ گیا۔لوگوں نے اسے نیچے اتارنے کی کوشش کی مگر ایک ذمہ دار شخص نے انہیں منع کر دیا۔مجنون ممبر پرچڑھا اور خطبہ دینے لگا:“تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے سب کو دو (ماں اور باپ) سے پیدا کیا اور دو (جنسوں مرد و عورت) میں تقسیم کیا۔ پھر ان میں سے کچھ کو مالدار بنایا تاکہ خدا کا شکر بجا لائیں اور کچھ کو فقیر چھوڑا تاکہ صبر کریں،مگر نہ تو امیر لوگ شکر کرتے نظر آتے ہیں اور نہ ہی فقیر صبر کرتے دکھائی دیتے ہیں،سب پر خدا کی لعنت ہو…نماز جمعہ کے لیے صفیں سیدھی کر لو منافقو…! منقول دیوانہ انجانے میں ایسی بات کر گیا کہ روح تک جھنجھوڑ کر رکھ گیا۔ ہم ہیں وہ مسلمان جو بات تو اللہ پر ایمان…

Read more

بادشاہ سکندر لودھی کے زمانے میں گوالیار کے دو غریب بھائی فوج میں بھرتی ہوئے۔ ایک دن قسمت نے یاوری کی اور کہیں سے انہیں دو قیمتی لعل ہاتھ لگ گئے۔ دونوں بھائیوں نے ایک ایک لعل آپس میں بانٹ لیا۔ لعل ملنے پر چھوٹے بھائی نے خوشی سے کہا:“اب میں نوکری نہیں کروں گا۔ اس لعل کو بیچ کر تجارت شروع کروں گا اور بچوں کے ساتھ رہوں گا۔” یہ سن کر بڑے بھائی نے کہا:“بھیا! میرے حصے کا لعل بھی لیتے جاؤ۔ اپنی بھاوج کو دے دینا۔ میں ابھی نوکری نہیں چھوڑ سکتا۔” چھوٹا بھائی دونوں لعل لے کر گھر کی طرف روانہ ہو گیا، مگر راستے میں اس کی نیت خراب ہو گئی۔ اس نے بھائی والا لعل بھاوج کو دینے کے بجائے اپنے پاس ہی رکھ لیا اور اپنا کام دھندا شروع کر دیا۔ کچھ دنوں بعد بڑا بھائی چھٹی لے کر گھر آیا۔ اس نے…

Read more

اگر مچھلی پانی سے نکل کر تمہیں یہ بتائے کہ مگرمچھ بیمار ہے، تو اس کی بات پر یقین کرو۔یہ مثال صرف سمجھدار لوگ ہی سمجھ سکتے ہیں۔ یہ جملہ بظاہر ایک عام سی مثال لگتا ہے، لیکن اس کے اندر بہت گہری حکمت چھپی ہوئی ہے۔آئیے اس کے مختلف پہلوؤں کو کھول کر سمجھتے ہیں: 1. مچھلی کی بات پر کیوں یقین؟ مچھلی اپنی پوری زندگی پانی میں گزارتی ہے۔ وہ پانی کے ہر بدلتے موسم، ہر خطرے، ہر حرکت اور ہر جاندار کو دوسروں سے زیادہ جانتی ہے۔اگر وہ پانی چھوڑ کر باہر آ جائے، تو اس کا باہر آنا ہی ایک غیر معمولی واقعہ ہوتا ہے۔اور جب وہ باہر آ کر یہ کہے کہ مگرمچھ بیمار ہے، تو یہ معمولی بات نہیں — یہ اس ماحول کی اندرونی حقیقت ہے جس تک دوسروں کی رسائی نہیں۔ پیغام:جو شخص کسی معاملے کے اندر سے ہو، اس کی معلومات…

Read more

نر بھیڑے نے اپنی مادہ کو ساتھ لیا اور Onon دریا کے کنارے آ کر آباد ہو گیا یہی وہ جگہ تھی جہاں منگول پیدا ہوئے یہ لوگ اس بے آب و گیاں علاقے میں موجود تھوڑے بہت وسائل کیلئے آپس میں لڑتے رہتے سرسبز ہریالی پانی اور مویشی کیلئے لڑائیاں جاری رہتیں لیکن پھر ان میں ایک ذہین لیکن خطرناک آدمی تموجن نمودار ہوا جس نے منگول قبائل کے سرداروں کو اکٹھا کر کے کہا “ہم جنگجو لوگ ہیں اگر ہم اپنی توانائیاں ایک دوسرے سے لڑنے جھگڑنے کی بجائے متحد ہو جائیں تو دنیا کے خزانے ہمارے قدموں میں آ سکتے ہیں” کسی نے سوال کیا کہ ہم خیموں میں رہنے والے لوگ کیسے بڑی بڑی سلطنتوں کا سامنا کر سکیں گے تموجن نے جواب دیا “ہماری کامیابی کیلئے ضروری ہے کہ ہم سب منگول قبائل کا کامن دشمن ہو جس کے خلاف ہم سب متحد ہو کر…

Read more

انسانی تاریخ میں کچھ واقعات ایسے ہیں جو صرف ایک قوم یا علاقے کی تباہی کا ذکر نہیں کرتے بلکہ پوری انسانیت کے لیے دائمی سبق چھوڑتے ہیں۔ قومِ لوط کا قصہ اسی نوعیت کا واقعہ ہے۔ یہ باب حضرت لوط علیہ السلام کی دعوت، ان کی قوم کی سرکشی، فرشتوں کی آمد، عذابِ الٰہی کی کیفیت اور اس واقعے سے اخذ ہونے والے اسباق پر مبنی ہے۔ اس واقعے کی تفصیل قرآنِ مجید کی مختلف سورتوں—اعراف، ہود، حجر، شعراء اور نمل—میں بکھری ہوئی ہے، جبکہ مفسرین اور محدثین نے اسے اپنے اپنے انداز میں پیش کیا ہے۔ — نسب اور ابتدائی پس منظر حضرت لوط علیہ السلام، خلیل اللہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بھتیجے تھے۔ بچپن ہی سے آپ نے سیدنا ابراہیمؑ کی صحبت پائی اور ان کی دعوتِ توحید سے فیض حاصل کیا۔ جب حضرت ابراہیمؑ نے بابل کو چھوڑا تو لوطؑ بھی ان کے ساتھ ہجرت…

Read more

خوشخبری! وزارت مذہبی امور (MORA)، اسلام آباد میں ڈیلی ویجز کی بنیاد پر نوکریوں کے سنہری مواقع دستیاب ہیں۔ کل آسامیاں: 36پوسٹس: ڈیٹا پروسیسنگ اسسٹنٹ اور ڈیٹا انٹری آپریٹر ✅ تعلیمی قابلیت: انٹرمیڈیٹ یا بیچلرز✅ عمر کی حد: 18 سے 28 سال آن لائن درخواست دینے کی آخری تاریخ: 20 دسمبر 2025 For online apply www.mora.gov.pk واک اِن انٹرویوز:آن لائن اپلائی کرنے کے بعد اپنی رول نمبر سلپ ڈاؤنلوڈ کریں اور 22 دسمبر 2025 صبح 9 بجے انٹرویوز کے لیے اپنے تمام اصلی کاغذات، تصدیق شدہ فوٹو کاپیز اور 2 پاسپورٹ سائز تصاویر ساتھ لے کر دیے گئے ایڈریس پر پہنچ جائیں۔

یہ کہا جاتا ہے کہ ارسطو اپنے شاگرد سکندرِ اعظم کو ہمیشہ عورتوں کی صحبت سے دور رہنے کی نصیحت کرتا تھا۔ اسی وجہ سے حرم کی عورتیں اس سے بہت خفا رہتی تھیں۔ایک دن انہوں نے مل کر ایک چال چلی۔ انہوں نے ایک نہایت خوبصورت، شوخ اور دلکش کنیز کو ارسطو کی خدمت میں بھیج دیا۔ اس کنیز نے اپنے انداز و اشاروں کے جال میں ارسطو کو پھانس لیا اور ایک دن اچانک شرط رکھ دی کہ ارسطو گھوڑا بنے اور وہ اس کی پیٹھ پر سوار ہو۔ — جب یہ مشہورِ زمانہ واقعہ ہو رہا تھا، ٹھیک اسی وقت حرم کی تمام عورتیں سکندر کے ساتھ کمرے میں داخل ہو گئیں۔ سکندر نے اپنے استاد کو ایک کنیز کے لیے واقعی “گھوڑا” بنے دیکھا تو حیران ہو کر بولا:“اے استاد! یہ کیا استادی ہے؟ ہمیں عورتوں سے دور رہنے کی نصیحت کرتے ہیں اور خود یہ…؟”…

Read more

ایران کے صاف آسمان تلے ایک ایسا بچہ پیدا ہوا جس کی آنکھوں میں علم نہیں، آگ تھی۔ وہ دوسروں کے بچوں کی طرح نرم نہیں تھا۔ وہ چپ بیٹھ کر نہیں سنتا تھا۔ اس کے ذہن میں شروع سے ہی ایک عجب سوال تھا — دنیا پر اصل حکومت کس کی ہے؟ وہ جانتا تھا کہ تلوار کے پاس طاقت ہے، لیکن اسے محسوس ہوتا تھا کہ انسان کے دماغ پر قبضہ کرنا اس سے کہیں زیادہ بڑا ہتھیار ہے۔ یہی وہ نکتہ تھا جو بچپن سے اس کے دل میں جم گیا تھا: ذہن پکڑ لو… پھر جسم خود چلتا ہے۔ نوجوان ہوا تو اس کی شخصیت میں وہ ضد پیدا ہوئی جو بعد میں پوری دنیا کے لیے عذاب بن گئی۔ اس نے مذہب، فلسفے، سیاست، منطق — سب کچھ پڑھا، مگر پڑھنے کا انداز اس کا عام نہیں تھا۔ لوگ کتاب سے نور لیتے ہیں، اس…

Read more

جب اللہ کے نبی سلیمان علیہ السلام نے  چمگادڑ سے مشورہ کیا تو اُس وقت اللہ کی چار مخلوقات شکایت اور حاجت لے کر حاضر ہوئیں پہلا: سورج عرض کی: اے نبی اللہ، اللہ سے دعا کیجیے کہ مجھے بھی باقی مخلوق کی طرح ایک ہی جگہ میں سکونت دے دے میں مشرق و مغرب کے درمیان مسلسل حرکت سے تھک چکا ہوں دوسرا: سانپ کہا: اے سلیمان، اللہ سے دعا کیجیے کہ مجھے بھی ہاتھ پاؤں عطا کرے جیسے دیگر جانوروں کو دیے ہیں، میں پیٹ کے بل رینگ رینگ کر تھک چکا ہوں تیسرا: ہوا کہی: اے نبی اللہ، میں مسلسل بے مقصد ادھر اُدھر بھٹکتی رہتی ہوں میرے لیے اللہ سے سکون کی جگہ مانگیں چوتھا: پانی کہا اے سلیمان میں کبھی زمین میں کبھی آسمان کے نیچے ہر جگہ پھر رہا ہوں نہ مجھے ٹھکانہ ہے نہ ٹھہراؤ اللہ سے کہیے کہ مجھے ایسی جگہ عطا…

Read more

جب آدھا ملین رومی فوج مسلمانوں کی فوج کو تباہ کرنے کے قریب تھی اور ہر طرف سے انہیں گھیر لیا گیا تھا،تو اس عظیم اسلامی بہادر نے اپنی تلوار تھام لی اور وہ سب سے مشکل فیصلہ کیا جو کسی بھی انسان کی زندگی میں آ سکتا ہے۔عکرمہ نے موت کو گلے لگانے کا فیصلہ کر لیا اور مسلمانوں کو بادلوں کی گرج کی مانند آواز دے کر پکارا: “اے مسلمانو! کون موت پر بیعت کرتا ہے؟” تو 400 فدائی ان کے پاس آ گئے اور انہوں نے تاریخ میں مشہور ہونے والی “کتيبة الموت الإسلامية” (اسلامی لشکرِ موت) تشکیل دی۔یہ دیکھ کر خالد بن ولید عکرمہ کی طرف بڑھے اور انہیں اپنی جان قربان کرنے سے روکنے کی کوشش کی،مگر عکرمہ نے نور سے چمکتے چہرے کے ساتھ خالد کو دیکھا اور کہا: “اے خالد! مجھ سے دور ہو جاؤ، تمہیں تو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ پہلے…

Read more

معرکہ عین جالوت 3 ستمبر 1260ء (658ھ) میں مملوک افواج اور منگولوں کے درمیان تاریخ کی مشہور ترین جنگ جس میں مملوک شاہ سیف الدین قطز اور اس کے مشہور جرنیل رکن الدین بیبرس نے منگول افواج کو بدترین شکست دی۔ یہ جنگ فلسطین کے مقام عین جالوت پر لڑی گئی۔ اس فتح کے نتیجے میں مصر، شام اور یورپ منگولوں کی تباہ کاریوں سے بچ گئے۔ جنگ میں ایل خانی حکومت کے منگول بانی ہلاکو خان کا سپہ سالار کتبغا مارا گیا۔ سقوط بغدادساتویں صدی ہجری میں تاتاریوں نے مسلمانوں کی سرزمین پر عظیم جارحیت کا ارتکاب کیا اور نتیجتاً مسلمانوں کا خلیفہ مستعصم باللہ ہلاک ہو گیا اور دار الحکومت بغداد سمیت مسلمانوں کی تین چوتھائی سرزمین تاتاریوں کے قبضہ میں چلی گئی۔ سقوط بغداد کے بعد خلافت عباسیہ کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو گیا جس کے بعد مسلمانوں کو شکست در شکست کا سامنا کرناپڑا۔ منگولوں…

Read more

60/114
NZ's Corner