Tag Archives: #bestoftheday #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge

جنگل کی خاموشی اپنے عروج پر تھی۔ہوا درختوں کے پتوں سے سرگوشیاں کر رہی تھی، کہیں دور کسی پرندے کی آواز شام کے دامن میں گم ہو رہی تھی، اور ایک قدیم برگد کے نیچے ملا نصرالدین آنکھیں موندے مراقبے میں بیٹھے تھے۔ان کے چہرے پر ایسی طمانیت تھی جیسے کسی بےقرار دریا نے آخرکار سمندر کا راستہ پا لیا ہو۔اسی اثنا میں ایک سایہ درختوں کے درمیان سے ابھرا۔وہ شیطان تھا۔اس کی آنکھوں میں تجسس بھی تھا اور شرارت بھی۔ وہ آہستہ آہستہ ملا کے قریب آیا اور طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ بولا:“ملا نصرالدین! تم یہاں تنہائی میں بیٹھے کیا کر رہے ہو؟”ملا نے آنکھیں کھولے بغیر جواب دیا:“مراقبہ۔”شیطان ہنس پڑا۔“اچھا! تو پھر بتاؤ، خدا سے کیا مانگتے ہو؟ دولت؟ عزت؟ جنت؟”ملا نے سکون سے کہا:“میں کچھ نہیں مانگتا۔”شیطان کی بھنویں حیرت سے بلند ہو گئیں۔“کچھ نہیں مانگتے؟”“نہیں۔”“کیوں؟”ملا نے آہستگی سے کہا:“اس لیے کہ وہ مجھ سے بہتر جانتا…

Read more

ایک نکھٹو کو بیوی نے کام کاج کے لیے کہا۔ سست الوجود کے پاس اور تو کوئی کام نہیں تھا۔ بس ایک مرغی تھی، اٹھائی اور بازار کو چل دیا کہ بیچ کے کاروبار کا آغاز کرے۔ راستے میں مرغی ہاتھ سے نکل بھاگی اور ایک گھر میں گھس گئی۔ وہ مرغی کے پیچھے گھر کے اندر گھس گیا… مرغی کو پکڑ کر سیدھا ہوا ہی تھا کہ خوش رو خاتون خانہ پر نظر پڑی۔ابھی نظر چار ہوئی تھی کہ باہر سے آہٹ سنائی دی۔ خاتون گھبرائی اور بولی کہ اس کا خاوند آ گیا ہے اور بہت شکی مزاج ہے اور ظالم بھی،خاتون نے جلدی سے اسے ایک الماری میں گھسا دیا…لیکن وہاں ایک صاحب پہلے سے ”تشریف فرما“ تھے۔اب اندر دبکے نکھٹو کو اچانک کاروبار سوجھا… آئیڈیا تو کسی جگہ بھی آ سکتا ہے۔ سو اس نے دوسرے صاحب کو کہا کہ،”مرغی خریدو گے ؟“ اس نے بھنا…

Read more

👱ﺑﯿﻮﯼ : ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﺎﻝ ﮐﭩﻮﺍ ﻟﻮﮞ؟؟؟👨ﺧﺎﻭﻧﺪ : ﮐﭩﻮﺍ ﻟﮯ …😋👱ﺑﯿﻮﯼ : ﺍﺗﻨﯽ ﻣﺸﮑﻞ ﺳﮯ ﻟﻤﺒﮯ کیے تھے … 👨ﺧﺎﻭﻧﺪ : ﺗﻮ ﭘﮭﺮ نہ ﮐﭩﻮﺍ …😝👱ﺑﯿﻮﯼ : ﻣﮕﺮ ﺁﺝ ﮐﻞ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺑﺎﻝ ﻓﯿﺸﻦ ﻣﯿﮟ ﮨﯿﮟ …👨ﺧﺎﻭﻧﺪ : ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﮐﭩﻮﺍ ﻟﮯ …😝👱ﺑﯿﻮﯼ : ﻟﻤﺒﮯ ﺑﺎﻝ ﺁﭘﮑﻮ ﺗﻮ ﭘﺴﻨﺪ ﮨﯿﮟ ﺑﮩﺖ …👨ﺧﺎﻭﻧﺪ : ﺗﻮ ﭘﮭﺮ نہ ﮐﭩﻮﺍ …😝👱ﺑﯿﻮﯼ : ﻣﯿﺮﯼ ﺳﮩﯿﻠﯽ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﺮﮮ ﭼﮩﺮﮮ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫﭼﮭﻮﭨﮯ ﺑﺎﻝ ﺍﭼﮭﮯ ﻟﮕﮯ ﮔﯿﮟ …😝👨ﺧﺎﻭﻧﺪ : ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﮐﭩﻮﺍ ﻟﮯ …👱ﺑﯿﻮﯼ : ﻣﮕﺮ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺑﺎﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﭼﻮﭨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻨﺘﯽ …👨ﺧﺎﻭﻧﺪ : ﺗﻮ ﭘﮭﺮ نہﮐﭩﻮﺍ …😝👱ﺑﯿﻮﯼ : ﺳﻮﭺ ﺭﮨﯽ ﮨﻮﮞ ﺗﺠﺮﺑﮧ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﮨﯽ ﻟﻮﮞ …👨ﺧﺎﻭﻧﺪ : ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﮐﭩﻮﺍ ﻟﮯ …😝👱ﺑﯿﻮﯼ : ﻟﯿﮑﻦ ﺍﮔﺮ ﺧﺮﺍﺏ ﮨﻮ گئے ﺗﻮ …؟؟؟👨ﺧﺎﻭﻧﺪ : ﺗﻮ ﭘﮭﺮ نہ ﮐﭩﻮﺍ …😝👱ﺑﯿﻮﯼ : ﺳﻮﭺ ﺭﮨﯽ ﮨﻮﮞ ﮐﭩﻮﺍ ﻟﻮﮞ …👨ﺧﺎﻭﻧﺪ : ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﮐﭩﻮﺍ ﻟﮯ …👱ﺑﯿﻮﯼ : ﺍﮔﺮ ﺍﭼﮭﮯ نہ ﻟﮕﮯ ﺗﻮ ﺁﭖ ﺫﻣﮧ ﺩﺍﺭ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ …👨ﺧﺎﻭﻧﺪ : ﺗﻮ ﭘﮭﺮ…

Read more

ایک مشہور مگر مہنگے ڈاکٹر کے کلینک کے باہر بڑا سا بورڈ لگا تھا۔ پہلی بار آنے کی فیس: 2000 روپے دوسری بار آنے کی فیس: 500 روپے ایک دن ایک ایسا کنجوس آدمی وہاں پہنچا جس کے بارے میں محلے والے کہتے تھے کہ اگر مچھر بھی اس کا خون پی لے تو وہ مچھر سے کرایہ مانگ لے! وہ کافی دنوں سے بیمار تھا، مگر ڈاکٹر کی فیس سن کر اس کی بیماری سے زیادہ اس کا دل کانپ گیا۔ کافی دیر سوچنے کے بعد اس کے دماغ میں ایک “عظیم منصوبہ” آیا۔ وہ سینہ تان کر ڈاکٹر کے کمرے میں داخل ہوا اور بڑی اپنائیت سے بولا:“السلام علیکم ڈاکٹر صاحب! 😊کیسے ہیں آپ؟ میں ایک بار پھر آپ کے پاس آگیا ہوں۔ ذرا چیک کریں، اب میری طبیعت کیسی ہے؟”اس کا خیال تھا کہ ڈاکٹر اسے پرانا مریض سمجھ کر صرف 500 روپے لے گا۔ مگر ڈاکٹر…

Read more

ایک میراثی خاندان نے بڑی خوشی خوشی ایک بھینس خرید لی۔ سارا ٹبّر خوش تھا۔ کسی نے سوچا اب دودھ پئیں گے، کسی نے کہا دیسی گھی کھائیں گے، اور کوئی لسی کے خواب دیکھنے لگا۔مگر قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ اسی رات بھینس بیمار ہو کر بیٹھ گئی۔ میراثیوں نے ہر ٹوٹکا آزما لیا، لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا۔ آخر ایک بزرگ نے مشورہ دیا: “چلو چودھری صاحب کے پاس چلتے ہیں، انہاں نوں ضرور کوئی علاج پتا ہووے گا۔” چند لوگ چودھری کے پاس گئے۔ چودھری نے کہا: “مرچ، پیاز اور لہسن کا پیسٹ بنا لو، اس میں لسی ملا کر نال میں ڈال دو اور بھینس کے منہ میں انڈیل دو، ان شاء اللہ بھینس کھڑی ہو جائے گی۔” اگلے دن میراثی واپس آئے اور بولے: “چودھری صاحب! مجھ دوا نئی کھاندی، سب باہر سٹ دی اے۔” چودھری نے کہا: “نال کے پیچھے سوراخ کر…

Read more

کہتے ہیں کہ ایک قدیم سلطنت کا بادشاہ اپنے زمانے کے دوسرے حکمرانوں سے کچھ مختلف تھا۔ اسے محل کی بلند دیواروں کے پیچھے بیٹھ کر حکومت کرنا پسند نہ تھا۔ وہ جانتا تھا کہ دربار میں سچ اکثر ریشمی پردوں میں لپٹ جاتا ہے، مگر بازار میں ننگے پاؤں چلتا ہے۔اسی لیے وہ کبھی کبھی بھیس بدل کر شہر کی گلیوں میں نکل جاتا اور لوگوں کے دل کی آواز سننے کی کوشش کرتا۔ایک صبح اس نے سادہ لباس پہنا، تاج اتار کر عام سی پگڑی باندھی اور تنہا بازار کی طرف چل پڑا۔بازار اپنی پوری آب و تاب پر تھا۔کہیں تندور کی خوشبو تھی، کہیں قہوہ خانوں کی رونق، کہیں لوہار کی ہتھوڑی بج رہی تھی اور کہیں سبزی فروش اپنے ٹھیلوں پر رنگ برنگی سبزیاں سجائے بیٹھے تھے۔بادشاہ ایک سبزی فروش کے پاس جا رکا۔سبزی فروش کے ٹھیلے پر تازہ ٹماٹر یاقوتوں کی طرح چمک رہے تھے،…

Read more

کہتے ہیں کہ ایک گھنے جنگل کے کنارے ایک چالاک لومڑی رہتی تھی۔ وہ تیز دماغ تو تھی، مگر دل ہی دل میں ایک حسرت پالے بیٹھی تھی۔جب بھی جنگل کا شیر اپنی دھاڑ سے فضا کو لرزا دیتا، سب جانور دم دبا کر بھاگ کھڑے ہوتے۔ ہر طرف اس کی ہیبت، اس کا رعب اور اس کی بادشاہی کا چرچا ہوتا۔لومڑی یہ سب دیکھتی اور آہ بھرتی۔“کاش! لوگ مجھ سے بھی اسی طرح ڈرتے۔”ایک دن قسمت نے عجیب کھیل کھیلا۔شکاریوں کے چھوڑے ہوئے سامان میں اسے ایک مردہ شیر کی کھال مل گئی۔لومڑی کی آنکھیں خوشی سے چمک اٹھیں۔اس نے فوراً کھال اوڑھی، اپنے آپ کو آئینے کی طرح صاف جھیل میں دیکھا اور فخر سے بولی:“اب دیکھتی ہوں کون مجھے معمولی لومڑی سمجھتا ہے!”اگلے ہی دن وہ جنگل میں نکلی۔دور سے جانوروں نے اسے دیکھا تو ان کے اوسان خطا ہو گئے۔ہرن بھاگ نکلے، خرگوش بلوں میں جا…

Read more

😢 وہ روز اپنی دکان کے باہر ایک خالی کرسی رکھتا تھا… مرنے کے بعد لوگوں کو وجہ معلوم ہوئی! کچھ عادتیں لوگوں کو عجیب لگتی ہیں… مگر ان کے پیچھے ایک ایسی کہانی ہوتی ہے جو دل ہلا دیتی ہے۔ ❤️ 📖 کہانی ایک چھوٹے شہر کے بازار میں حسن چچا کی پرانی سی چائے کی دکان تھی۔ وہ تقریباً تیس سال سے وہی دکان چلا رہے تھے۔ ان کی ایک عجیب عادت تھی۔ ہر صبح دکان کھولتے وقت ایک کرسی باہر نکالتے اور اسے خالی چھوڑ دیتے۔ کسی کو اس پر بیٹھنے نہیں دیتے تھے۔ اگر کوئی گاہک اس کرسی پر بیٹھنے لگتا تو وہ بڑے ادب سے کہتے: “بھائی، یہ کرسی کسی اور کے لیے ہے۔” لوگ حیران ہوتے۔ کچھ مذاق اڑاتے۔ کچھ کہتے: “شاید بوڑھے ہو گئے ہیں۔” مگر حسن چچا صرف مسکرا دیتے۔ سال گزرتے گئے۔ کرسی ویسے ہی خالی رہتی۔ پھر ایک دن خبر…

Read more

ایک شخص کی ملاقات ایک رومی فلسفی سے ہوئی۔ فلسفی نے اسے اپنے ساتھ کھانے کی دعوت دی۔ جب وہ شوربہ پینے لگا تو اسے پیالے میں سانپ جیسی کوئی چیز دکھائی دی۔ وہ مہمان نوازی اور شرمندگی کے باعث کچھ کہہ نہ سکا اور خاموشی سے پورا شوربہ پی گیا۔گھر پہنچنے کے بعد وہ مسلسل اسی خیال میں مبتلا رہا کہ شاید اس نے واقعی سانپ ملا شوربہ پی لیا ہے۔ اسی وہم نے اس کے دل و دماغ پر ایسا اثر ڈالا کہ رات ہوتے ہوتے اس کے پیٹ میں شدید درد شروع ہو گیا اور وہ ساری رات بے چین رہا۔اگلی صبح وہ علاج کی غرض سے فلسفی کے پاس پہنچا۔ فلسفی نے مسکرا کر بتایا کہ شوربے میں کوئی سانپ نہیں تھا۔ دراصل چھت پر بنی ایک تصویر کا عکس پیالے میں پڑ رہا تھا، جسے اس نے سانپ سمجھ لیا تھا۔ جب دوبارہ شوربہ لا…

Read more

ایک دیہاتی نے بڑی مشکل سے پیسے جوڑ کر نیا اسمارٹ فون خریدا۔ چند دنوں میں وہ GPS چلانا بھی سیکھ گیا۔ اب اسے لگتا تھا کہ دنیا کا ہر راستہ اس کی جیب میں آگیا ہے۔عید سے ایک دن پہلے وہ شہر سے اپنے گاؤں واپس جا رہا تھا۔ راستے میں ایک گدھا نظر آیا، جس کی پیٹھ پر بھاری بوجھ لدا ہوا تھا۔ گدھا تھکا ہوا کھڑا تھا اور اس کا مالک کہیں نظر نہیں آ رہا تھا۔دیہاتی نے سینہ پھلا کر کہا: “آج ایک نیکی بھی ہو جائے۔”اس نے گدھے کی گردن کے ساتھ اپنا موبائل باندھا، GPS آن کیا اور ہنستے ہوئے بولا: “چل میرے بھائی! اب تو جدید دور کا گدھا بن گیا ہے۔ راستہ خود ہی ڈھونڈ لے گا۔”گدھا خاموشی سے چل پڑا۔موبائل سے آواز آئی: “200 میٹر بعد دائیں مڑیں۔”گدھا دائیں مڑ گیا۔پھر آواز آئی: “500 میٹر بعد بائیں مڑیں۔”گدھا بائیں مڑ گیا۔دیہاتی…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک جزیرے پر تمام جذبات اور احساسات اکٹھے رہتے تھے۔ وہاں خوشی، غم، امید، خوف، عقلمندی اور محبت سب ایک ساتھ رہتے تھے۔ ایک دن سمندر میں ایک شدید طوفان آیا جو اس جزیرے کو ڈبو دینے کے قریب تھا۔ سب جذبات بہت گھبرا گئے۔ اسی وقت محبت (Love) نے سب کے لیے ایک بڑی کشتی تیار کی تاکہ سب محفوظ جگہ پہنچ سکیں۔ تمام جذبات جلدی سے کشتی میں سوار ہونے لگے۔ صرف ایک جذبہ پیچھے رہ گیا… انا (Ego)۔ محبت واپس گئی اور اسے کہا:“آؤ، جلدی کرو، کشتی ڈوبنے والی ہے!” لیکن انا نے سر اٹھا کر جواب دیا:“میں کسی کی مدد کی محتاج نہیں ہوں۔ میں خود بچ سکتا ہوں۔” محبت نے بہت کوشش کی، اسے سمجھایا، ہاتھ پکڑا، منتیں کیں… مگر انا اپنی ضد پر قائم رہا۔ کشتی میں موجود دوسرے جذبات چیخنے لگے:“محبت! جلدی آؤ، وقت کم ہے!” لیکن…

Read more

بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ ایک عظیم سلطنت کا ایک ایسا بادشاہ تھا جس کے نام سے کبھی دشمنوں کے دل کانپ اٹھتے تھے۔ وہ اپنی جوانی میں بے مثال بہادر، دانا اور دور اندیش حکمران رہا تھا۔ اس کی تلوار نے بے شمار جنگیں جیتی تھیں اور اس کی عقل نے ان گنت سازشوں کو ناکام بنایا تھا۔ دشمن جانتے تھے کہ جب تک یہ بوڑھا شیر زندہ ہے، اس کی سلطنت کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنا بھی آسان نہیں۔ مگر وقت کے سامنے کون ٹھہر سکا ہے؟آخر ایک دن وہ بہادر بادشاہ بوڑھا ہو گیا اور سلطنت کی باگ ڈور اپنے نوجوان بیٹے کے ہاتھ میں دے دی۔ اگرچہ تخت اب بیٹے کے پاس تھا، مگر باپ اپنی عمر بھر کے تجربے کی روشنی میں ہر معاملے پر اسے مشورہ دیتا، اسے غلط فیصلوں سے روکتا اور ہر قدم پر اس کی رہنمائی کرتا تھا۔لیکن نوجوان…

Read more

ایک شہر میں ایک فقیر روز ایک ہی ATM کے باہر بیٹھتا تھا۔لوگ آتے، کچھ سکے دیتے، کچھ نوٹ، اور کچھ صرف ترس بھری نظر ڈال کر گزر جاتے۔ایک دن ایک امیر تاجر وہاں سے گزرا۔ اس نے فقیر کو دیکھا اور جیب سے 1000 روپے نکال کر دے دیے۔فقیر مسکرایا اور بولا: “اللہ آپ کو اس سے دس گنا زیادہ دے۔”تاجر ہنس پڑا۔ “بابا! تم خود مانگ رہے ہو اور مجھے دولت کی دعا دے رہے ہو؟”فقیر نے صرف مسکرا کر سر ہلا دیا۔چند دن بعد تاجر دوبارہ وہاں سے گزرا۔اس بار اس نے دیکھا کہ فقیر ATM کے پاس کھڑا ہے اور مشین میں کارڈ ڈال رہا ہے۔تاجر کی آنکھیں پھٹ گئیں۔“او بابا! یہ ATM تمہارا ہے کیا؟”فقیر نے سکون سے کہا: “نہیں، بس اپنا اکاؤنٹ چیک کر رہا ہوں۔”تاجر نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا: “فقیر کا بھی اکاؤنٹ ہوتا ہے؟”فقیر بولا: “ہاں، اور کبھی کبھی دل والوں…

Read more

عید میں صرف چند دن باقی تھے۔ ایک سردار جی نے سوچا کہ اس بار ایسی شاندار پوشاک سلوانی ہے کہ پورا گاؤں دیکھتا رہ جائے۔ وہ شہر گئے، مہنگا ترین کپڑا خریدا اور سیدھے شہر کے مشہور درزی کے پاس پہنچ گئے۔ درزی نے بڑے اعتماد سے ناپ لیا اور کہا: “سردار جی! فکر نہ کریں، چاند رات کو ایسا سوٹ دوں گا کہ لوگ دیکھتے رہ جائیں گے۔” یہ سن کر سردار جی خوشی خوشی گھر لوٹ گئے اور روز عید کا انتظار کرنے لگے۔ آخرکار چاند رات آ گئی۔ سردار جی نئے جوتے پہن کر، مونچھوں کو تاؤ دے کر درزی کی دکان پر پہنچے۔ لیکن جیسے ہی سوٹ نکال کر دیکھا، ان کے ہوش اڑ گئے۔ شلوار کا ایک پانچہ اتنا لمبا تھا کہ زمین پر گھسٹ رہا تھا، جبکہ دوسرا اتنا چھوٹا تھا کہ ٹخنے بھی نہ ڈھانپ رہا تھا۔ سردار جی کا چہرہ لال…

Read more

ایک دن شیخ چلی بازار سے گزر رہا تھا کہ اس نے ایک بہت بڑا تربوز دیکھا۔ اتنا بڑا تربوز اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ شیخ چلی نے دکاندار سے پوچھا: “بھائی، یہ تربوز اتنا بڑا کیسے ہو گیا؟” دکاندار نے مذاق میں کہا: “یہ جادوئی تربوز ہے۔ جو اسے کھاتا ہے، اس کی ایک خواہش پوری ہو جاتی ہے!” شیخ چلی نے فوراً تربوز خرید لیا اور گھر لے آیا۔ گھر پہنچ کر اس نے تربوز کے سامنے بیٹھ کر کہا: “میری خواہش ہے کہ میں دنیا کا سب سے امیر آدمی بن جاؤں!” پھر اس نے تربوز کاٹنے کے لیے چھری اٹھائی، لیکن چھری پھسل گئی اور تربوز زمین پر گر کر دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ تربوز کے اندر سے صرف سرخ گودا نکلا، کوئی جادو نہیں! شیخ چلی حیران ہو کر بولا: “ارے! میری دولت کہاں گئی؟” اسی وقت اس کا دوست آ…

Read more

ایک گاؤں میں ایک دھو بی رہتا تھا، جس کا ایک ہی گدھا تھا اور وہ بیچارہ بیمار ہو گیا۔ دھو بی پریشان ہو کر گاؤں کے سب سے پڑھے لکھے پنڈت جی کے پاس گیا اور بولا، “مہاراج! میرا گدھا بہت بیمار ہے، کچھ کھا پی نہیں رہا، کوئی علاج بتائیں۔”پنڈت جی نے اپنی پرانی کتابیں کھولیں، کچھ حساب لگایا اور ایک کاغذ پر دوا کا نسخہ لکھ کر دیا۔ پنڈت جی نے سمجھاتے ہوئے کہا، “دیکھو بھائی! یہ دوا پاؤڈر (سفوف) کی شکل میں ہے۔ تم نے ایک لمبی بانس کی نالی لینی ہے۔ اس نالی کا ایک سرا گدھے کے منہ میں رکھنا ہے اور دوسرے سرے سے زور سے پھونک مارنی ہے تاکہ دوا سیدھی اس کے پیٹ میں چلی جائے۔”دھو بی خوش ہو کر گھر آیا، دوا خریدی، ایک بانس کی نالی لی اور گدھے کے پاس پہنچا۔ اس نے دوا نالی کے اندر ڈالی،…

Read more

ایک میراثی خاندان نے بڑی خوشی خوشی ایک بھینس خرید لی۔ سارا ٹبّر خوش تھا۔ کسی نے سوچا اب دودھ پئیں گے، کسی نے کہا دیسی گھی کھائیں گے، اور کوئی لسی کے خواب دیکھنے لگا۔ مگر قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ اسی رات بھینس بیمار ہو کر بیٹھ گئی۔ میراثیوں نے ہر ٹوٹکا آزما لیا، لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا۔ آخر ایک بزرگ نے مشورہ دیا: “چلو چودھری صاحب کے پاس چلتے ہیں، انہاں نوں ضرور کوئی علاج پتا ہووے گا۔” چند لوگ چودھری کے پاس گئے۔ چودھری نے کہا:“مرچ، پیاز اور لہسن کا پیسٹ بنا لو، اس میں لسی ملا کر نال میں ڈال دو اور بھینس کے منہ میں انڈیل دو، ان شاء اللہ بھینس کھڑی ہو جائے گی۔” اگلے دن میراثی واپس آئے اور بولے:“چودھری صاحب! مجھ دوا نئی کھاندی، سب باہر سٹ دی اے۔” چودھری نے کہا:“نال کے پیچھے سوراخ کر لو، پھر…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک قدیم جنگل کے بیچوں بیچ ایک بہت بڑا اور سایہ دار برگد کا درخت کھڑا تھا۔ اس کی شاخیں اس قدر پھیلی ہوئی تھیں کہ دور دور سے آنے والے مسافر اس کے سائے میں آرام کرتے تھے۔ وقت گزرتا گیا اور ایک دن اس درخت کے نیچے ایک عالمِ دین نے بچوں کو تعلیم دینا شروع کر دی۔ ہر روز چھوٹے چھوٹے بچے وہاں آتے، علم حاصل کرتے، قرآن و حکمت کی باتیں سنتے، ان کی ہنسی کی آوازیں فضا میں بکھرتیں اور وہ جگہ رحمت کا ایک مرکز بن گئی۔ بوڑھا درخت جب بچوں کو اپنے سائے میں بیٹھے دیکھتا تو خوشی سے اس کے پتے ہوا کے ساتھ جھومنے لگتے۔ ایک رات اس نے آسمان کی طرف دیکھ کر دعا کی: “اے میرے رب! مجھے لمبی عمر عطا فرما۔ مجھے زندگی سے محبت نہیں، نہ ہی مجھے مزید برس جینے…

Read more

‏ایک گاؤں میں سیلاب آگیا، ایک حکومتی افسر گاؤں پہنچا اور لوگوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ پانی کا بہاؤ بہت بڑھ گیا ہے، پانی خطرے کے نشان سے 2 فٹ اونچا ہوگیا ہے۔ لوگوں نے خوفزدہ ہوکر کہا کہ اب کیا ہوگا؟ افسر نے کہا گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ ہم نے انتظام کرلیا ہے۔ خطرے کے نشان کو دو فٹ سے بڑھا کر چار فٹ کردیا ہے۔ یہ کہانی ان معاشی پالیسیاں بنانے والے ماہرین کے نام ہے جو مہنگائی کے اسباب ختم کرنے کے بجائے تنخواہ میں اضافے کی بات کرتے ہیں جب کہ دنیا کے معاشی ماہرین کے مطابق تنخواہ میں اضافہ مہنگائی کا سبب بنتا ہے۔ پولینڈ میں ایک بچے نے اپنی کلاس ٹیچر کو بتایا کہ ہماری بلی نے چار بچے دیے ہیں، وہ سب کے سب کمیونسٹ ہیں۔ ٹیچر نے خوب شاباش دی۔ ہفتہ بھر بعد جب اسکول انسپکٹر معائنے کے لیے آئے…

Read more

ایک مشہور قصہ ہے کہایک طالب علم کو استاد نے امتحان میں فیل کردیا، طالب علم شکایت لے کر پرنسپل کے پاس چلا گیا کہ مجھے غلط فیل کیا گیا ہے پرنسپل نے استاد اور طالب علم دونوں کو بلا لیا اور استاد سے فیل کرنے کی وجہ پوچھی استاد صاحب نے بتایا کہ اس لڑکے کو فیل کرنے کی وجہ یہ تھی کہ وہ ہمیشہ موضوع سے باہر نکل جاتا ہے جس موضوع پر اسے مضمون لکھنے کو دیا جائے اسے چھوڑ کر اپنی پسند کے مضمون پر چلا جاتا ہے ، پرنسپل نے کوئی مثال پوچھی تو استاد صاحب نے بتایا کہایک دفعہ میں نے اسے بہار پر مضمون لکھنے کو کہا تو وہ اس نے کچھ اس طرح لکھا موسم بہار ایک بہت ہی بہترین موسم ہوتا ہے اور اس کے مناظر بہت ہی دلنشین ہوتے ہیں۔ اس موسم میں ہر طرف ہریالی ہی ہریالی ہوتی ہے…

Read more

20/99
NZ's Corner