بلاعنوان

بلاعنوان

ایک میراثی خاندان نے بڑی خوشی خوشی ایک بھینس خرید لی۔ سارا ٹبّر خوش تھا۔ کسی نے سوچا اب دودھ پئیں گے، کسی نے کہا دیسی گھی کھائیں گے، اور کوئی لسی کے خواب دیکھنے لگا۔

مگر قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ اسی رات بھینس بیمار ہو کر بیٹھ گئی۔ میراثیوں نے ہر ٹوٹکا آزما لیا، لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا۔ آخر ایک بزرگ نے مشورہ دیا:

“چلو چودھری صاحب کے پاس چلتے ہیں، انہاں نوں ضرور کوئی علاج پتا ہووے گا۔”

چند لوگ چودھری کے پاس گئے۔ چودھری نے کہا:
“مرچ، پیاز اور لہسن کا پیسٹ بنا لو، اس میں لسی ملا کر نال میں ڈال دو اور بھینس کے منہ میں انڈیل دو، ان شاء اللہ بھینس کھڑی ہو جائے گی۔”

اگلے دن میراثی واپس آئے اور بولے:
“چودھری صاحب! مجھ دوا نئی کھاندی، سب باہر سٹ دی اے۔”

چودھری نے کہا:
“نال کے پیچھے سوراخ کر لو، پھر منہ میں رکھ کے زور نال پھونک مارو، دوا اندر چلی جائے گی۔”

وہ دوبارہ چلے گئے۔

دو تین دن گزر گئے مگر کوئی واپس نہ آیا۔ چودھری کو فکر ہوئی، خود ان کے گھر جا پہنچا۔

دروازہ کھٹکھٹایا تو اندر سے آواز آئی:
“کون اے؟”

چودھری بولا:
“میں آں، چودھری خدا داد!”

اندر گیا تو دیکھا کہ بڑا میراثی چارپائی پر لیٹا ہوا ہے اور اسے تین چار ڈرپس لگی ہوئی ہیں۔

چودھری نے حیران ہو کر پوچھا:
“اوئے، تینوں کی ہو گیا؟ بھینس دا کی بنیا؟”

میراثی نے آہ بھر کر کہا:

“چودھری صاحب، کی دسّاں… میں مرچاں تے لون گنڈے نال وچ پا کے مجھ دے منہ وچ رکھیا سی، پر میرے پھونک مارن توں پہلے مجھ نے ای پھونک مار دِتّی!”

“او ویکھو… مجھ تے کھلوتی اے، تے مینوں منجی تے پا دِتّا اے!”

بالکل یہی حال آج پاکستانیوں کا ہے۔ ہم ابھی ذرا سا سکھ کا سانس لینے لگتے ہیں، کوئی منصوبہ بنانے لگتے ہیں یا دو پیسے بچانے کا سوچتے ہیں، تو حکومت مہنگائی کی ایسی پھونک مار دیتی ہے کہ ہم پھر چارپائی پر آ جاتے ہیں اور مہنگائی کھڑی ہو کر ہمیں دیکھ رہی ہوتی ہے!

Leave a Reply

NZ's Corner