ایک دیہاتی نے بڑی مشکل سے پیسے جوڑ کر نیا اسمارٹ فون خریدا۔ چند دنوں میں وہ GPS چلانا بھی سیکھ گیا۔ اب اسے لگتا تھا کہ دنیا کا ہر راستہ اس کی جیب میں آگیا ہے۔
عید سے ایک دن پہلے وہ شہر سے اپنے گاؤں واپس جا رہا تھا۔ راستے میں ایک گدھا نظر آیا، جس کی پیٹھ پر بھاری بوجھ لدا ہوا تھا۔ گدھا تھکا ہوا کھڑا تھا اور اس کا مالک کہیں نظر نہیں آ رہا تھا۔
دیہاتی نے سینہ پھلا کر کہا: “آج ایک نیکی بھی ہو جائے۔”
اس نے گدھے کی گردن کے ساتھ اپنا موبائل باندھا، GPS آن کیا اور ہنستے ہوئے بولا: “چل میرے بھائی! اب تو جدید دور کا گدھا بن گیا ہے۔ راستہ خود ہی ڈھونڈ لے گا۔”
گدھا خاموشی سے چل پڑا۔
موبائل سے آواز آئی: “200 میٹر بعد دائیں مڑیں۔”
گدھا دائیں مڑ گیا۔
پھر آواز آئی: “500 میٹر بعد بائیں مڑیں۔”
گدھا بائیں مڑ گیا۔
دیہاتی خوش تھا۔ سوچ رہا تھا: “واہ! کیا زمانہ آگیا ہے۔ اب تو گدھے بھی ٹیکنالوجی سے چلتے ہیں۔”
مگر تین گھنٹے بعد اس کی خوشی حیرت میں بدل گئی۔
اس نے اردگرد دیکھا تو اس کے ہوش اُڑ گئے۔
وہ اسی شہر کے چوک میں کھڑا تھا جہاں سے سفر شروع کیا تھا!
دیہاتی غصے سے چیخا: “اوئے! یہ کیا مذاق ہے؟ اتنی دیر سے گھوم رہے ہیں، پہنچے کہاں؟”
گدھا رکا۔
پہلے موبائل کی طرف دیکھا۔
پھر دیہاتی کی طرف دیکھا۔
اسی لمحے GPS کی میٹھی آواز گونجی:
“مبارک ہو! آپ اپنی منزل پر پہنچ چکے ہیں۔”
دیہاتی کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔
“کون سی منزل؟ یہ تو وہی جگہ ہے جہاں سے چلے تھے!”
گدھے نے ایک لمبی ہنہناہٹ ماری۔
ایسا لگا جیسے وہ کہہ رہا ہو:
“مالک! تُو نے مجھے گدھا سمجھا، میں نے تجھے شاگرد سمجھ لیا۔”
“تُو ساری زندگی لوگوں کو راستے بتاتا پھرتا ہے، مگر اپنا راستہ ایک موبائل سے پوچھتا ہے۔”
“تُو نے مجھے بوجھ سمجھ کر ساتھ لیا تھا، میں نے تجھے سبق سمجھ کر واپس یہاں لا کھڑا کیا۔”
یہ سن کر دیہاتی خاموش ہوگیا۔
اسے یاد آیا کہ وہ ہر وقت دوسروں کو مشورے دیتا تھا: کسی کو کاروبار سکھاتا، کسی کو رشتوں کا سبق دیتا، کسی کو کامیابی کا فارمولا بتاتا۔
مگر جب اپنی زندگی کی بات آتی تو وہ خود الجھنوں میں بھٹک جاتا تھا۔
اس دن ایک گدھے نے اسے وہ سبق سکھا دیا جو کوئی کتاب نہ سکھا سکی۔
گھر پہنچ کر اس نے پہلی بار دوسروں کی زندگیوں سے زیادہ اپنی زندگی کا راستہ تلاش کرنا شروع کیا۔
سبق
دوسروں کی زندگی کا GPS بننے سے پہلے اپنا راستہ پہچانو۔
بعض اوقات جسے ہم کم عقل یا بوجھ سمجھتے ہیں، وہی ہمیں سب سے بڑی عقل کی بات سکھا جاتا ہے۔
راستہ جاننا بڑی بات نہیں، اصل بات یہ ہے کہ منزل صحیح ہو۔
