بلاعنوان

بلاعنوان

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک قدیم جنگل کے بیچوں بیچ ایک بہت بڑا اور سایہ دار برگد کا درخت کھڑا تھا۔ اس کی شاخیں اس قدر پھیلی ہوئی تھیں کہ دور دور سے آنے والے مسافر اس کے سائے میں آرام کرتے تھے۔ وقت گزرتا گیا اور ایک دن اس درخت کے نیچے ایک عالمِ دین نے بچوں کو تعلیم دینا شروع کر دی۔ ہر روز چھوٹے چھوٹے بچے وہاں آتے، علم حاصل کرتے، قرآن و حکمت کی باتیں سنتے، ان کی ہنسی کی آوازیں فضا میں بکھرتیں اور وہ جگہ رحمت کا ایک مرکز بن گئی۔

بوڑھا درخت جب بچوں کو اپنے سائے میں بیٹھے دیکھتا تو خوشی سے اس کے پتے ہوا کے ساتھ جھومنے لگتے۔ ایک رات اس نے آسمان کی طرف دیکھ کر دعا کی:

“اے میرے رب! مجھے لمبی عمر عطا فرما۔ مجھے زندگی سے محبت نہیں، نہ ہی مجھے مزید برس جینے کی خواہش ہے۔ لیکن میرے سائے میں جو علم کی روشنی پھیل رہی ہے، جو نیکی کے چراغ جل رہے ہیں، میں چاہتا ہوں کہ جب تک ممکن ہو، میں اس خیر کا ایک چھوٹا سا ذریعہ بنا رہوں۔”

اس کے قریب ایک ننھا سا پودا بھی اگ رہا تھا۔ اس نے حیرت سے بوڑھے درخت کی یہ دعا سنی اور سوچنے لگا کہ آخر کوئی اتنی عمر پانے کی دعا کیوں کرتا ہے۔

اللہ نے بوڑھے درخت کی دعا قبول کر لی۔ سال گزرتے گئے، موسم بدلتے رہے، کئی طوفان آئے اور چلے گئے، مگر وہ درخت اپنی معمول کی عمر سے بھی کہیں زیادہ عرصہ زندہ رہا۔

مگر دنیا کی کوئی حالت ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتی۔

وہ عالم دنیا سے رخصت ہو گیا، بچے جوان ہو کر اپنے اپنے راستوں پر چلے گئے اور وہ درسگاہ ویران ہو گئی۔ ایک لمبا عرصہ گزر گیا، یہاں تک کہ ایک ظالم بادشاہ کا دور آ گیا۔

بادشاہ کے کارندے اکثر اس درخت کے نیچے آ کر بیٹھتے۔ وہیں بیٹھ کر وہ غریبوں سے ناجائز ٹیکس وصول کرتے، بے گناہوں کے خلاف فیصلے کرتے اور مظلوموں کی فریادوں کو نظر انداز کرتے۔ جس سایے نے کبھی علم، محبت اور خیر کو پناہ دی تھی، اسی سایے کے نیچے اب ظلم کے منصوبے بننے لگے۔

ایک دن بوڑھے درخت نے اپنے پتے خاموشی سے جھڑتے ہوئے محسوس کیے اور آسمان کی طرف دیکھ کر کہا:

“اے میرے پروردگار! آج میں تجھ سے زندگی نہیں، موت مانگتا ہوں۔”

قریب ہی وہ ننھا پودا، جو اب خود ایک مضبوط درخت بن چکا تھا، یہ سن کر حیران ہوا۔ اس نے کہا:

“بزرگ درخت! میں نے اپنی جوانی میں آپ کی وہ دعا سنی تھی جس میں آپ لمبی زندگی مانگ رہے تھے۔ آج جب آپ کو وہ عمر مل چکی ہے تو آپ موت کیوں چاہتے ہیں؟”

بوڑھے درخت نے گہری سانس لی اور کہا:

“بیٹے! میں نے زندگی اس لیے مانگی تھی کہ میرے سائے میں نیکی پروان چڑھ رہی تھی۔ میں چاہتا تھا کہ میرے وجود سے لوگوں کو بھلائی پہنچے۔ لیکن آج میری شاخوں کے نیچے مظلوموں کے آنسو بہائے جا رہے ہیں، ظلم کے فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ مجھے یہ گوارا نہیں کہ کل میرا رب مجھ سے پوچھے کہ تیرے سائے نے کس کام میں سہارا دیا تھا، اور میرے پاس کوئی جواب نہ ہو۔ ایسی زندگی سے بہتر ہے کہ میرا وجود مٹی میں مل جائے، مگر ظلم کا ساتھی نہ بنے۔”

یہ سن کر نوجوان درخت خاموش ہو گیا۔ اس نے پہلی مرتبہ سمجھا کہ لمبی زندگی کی اصل قیمت برسوں کی تعداد میں نہیں، بلکہ اس خیر میں ہے جو انسان یا کوئی بھی مخلوق اپنے وجود سے دنیا کو پہنچاتی ہے۔

کچھ دنوں بعد ایک شدید طوفان آیا۔ وہ بوڑھا درخت، جس نے صدیوں تک زمین کو سایہ دیا تھا، خاموشی سے زمین پر گر گیا۔ مگر جاتے جاتے وہ اپنے ساتھ ایک بہت بڑا سبق چھوڑ گیا۔

اخلاقی سبق:

زندگی کی خوبصورتی اس کی طوالت میں نہیں بلکہ اس مقصد میں ہے جس کے لیے اسے گزارا جائے۔ وہ وجود خوش نصیب ہے جو بھلائی کا ذریعہ بنے، اور وہ لمحہ بھی بے قیمت ہے جو ظلم اور برائی کے کام آ جائے۔



Leave a Reply

NZ's Corner