Tag Archives: #DailyInspiration Use long-tail keywords: “Daily inspirational quotes about hope

عجب زمانہ آن پڑا تھا۔ کنویں لبالب تھے، ندیاں گنگنا رہی تھیں، سمندر اپنی موجوں کے تاج پہنے اِتراتے پھرتے تھے، مگر پانی کی آنکھوں میں اداسی اتر آئی تھی۔ وہ ڈھونڈتا پھرتا تھا وہ دل، جہاں کبھی شفافیت بستی تھی؛ وہ روح، جہاں کبھی پاکیزگی کی جھیل لہراتی تھی۔انسان نے اپنی پیاس تو بجھا لی تھی، مگر اپنے وجود کے چشمے خشک کر بیٹھا تھا۔ حرص کی دھول نے ضمیر کے دریچوں کو بند کر دیا تھا، اور خودغرضی کی تپتی ہوئی ہواؤں نے احساس کی نمی چرا لی تھی۔پانی حیران تھا کہ جس مخلوق کو زندگی دینے آیا تھا، وہی زندگی کے معنی بھول بیٹھی ہے۔ اس نے انسان کے اندر جھانکا تو وہاں خواہشات کے ریگستان تھے، حسد کے کانٹے تھے، اور محبت کے چشمے سوکھ چکے تھے۔تب پانی نے آہ بھری اور کہا:“مجھے زمین کی پیاس نہیں ستاتی، نہ آسمان کی خشکی ڈراتی ہے۔ میری اصل…

Read more

👱ﺑﯿﻮﯼ : ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﺎﻝ ﮐﭩﻮﺍ ﻟﻮﮞ؟؟؟👨ﺧﺎﻭﻧﺪ : ﮐﭩﻮﺍ ﻟﮯ …😋👱ﺑﯿﻮﯼ : ﺍﺗﻨﯽ ﻣﺸﮑﻞ ﺳﮯ ﻟﻤﺒﮯ کیے تھے … 👨ﺧﺎﻭﻧﺪ : ﺗﻮ ﭘﮭﺮ نہ ﮐﭩﻮﺍ …😝👱ﺑﯿﻮﯼ : ﻣﮕﺮ ﺁﺝ ﮐﻞ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺑﺎﻝ ﻓﯿﺸﻦ ﻣﯿﮟ ﮨﯿﮟ …👨ﺧﺎﻭﻧﺪ : ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﮐﭩﻮﺍ ﻟﮯ …😝👱ﺑﯿﻮﯼ : ﻟﻤﺒﮯ ﺑﺎﻝ ﺁﭘﮑﻮ ﺗﻮ ﭘﺴﻨﺪ ﮨﯿﮟ ﺑﮩﺖ …👨ﺧﺎﻭﻧﺪ : ﺗﻮ ﭘﮭﺮ نہ ﮐﭩﻮﺍ …😝👱ﺑﯿﻮﯼ : ﻣﯿﺮﯼ ﺳﮩﯿﻠﯽ ﮐﮩﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﺮﮮ ﭼﮩﺮﮮ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫﭼﮭﻮﭨﮯ ﺑﺎﻝ ﺍﭼﮭﮯ ﻟﮕﮯ ﮔﯿﮟ …😝👨ﺧﺎﻭﻧﺪ : ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﮐﭩﻮﺍ ﻟﮯ …👱ﺑﯿﻮﯼ : ﻣﮕﺮ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺑﺎﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﭼﻮﭨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻨﺘﯽ …👨ﺧﺎﻭﻧﺪ : ﺗﻮ ﭘﮭﺮ نہﮐﭩﻮﺍ …😝👱ﺑﯿﻮﯼ : ﺳﻮﭺ ﺭﮨﯽ ﮨﻮﮞ ﺗﺠﺮﺑﮧ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﮨﯽ ﻟﻮﮞ …👨ﺧﺎﻭﻧﺪ : ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﮐﭩﻮﺍ ﻟﮯ …😝👱ﺑﯿﻮﯼ : ﻟﯿﮑﻦ ﺍﮔﺮ ﺧﺮﺍﺏ ﮨﻮ گئے ﺗﻮ …؟؟؟👨ﺧﺎﻭﻧﺪ : ﺗﻮ ﭘﮭﺮ نہ ﮐﭩﻮﺍ …😝👱ﺑﯿﻮﯼ : ﺳﻮﭺ ﺭﮨﯽ ﮨﻮﮞ ﮐﭩﻮﺍ ﻟﻮﮞ …👨ﺧﺎﻭﻧﺪ : ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﮐﭩﻮﺍ ﻟﮯ …👱ﺑﯿﻮﯼ : ﺍﮔﺮ ﺍﭼﮭﮯ نہ ﻟﮕﮯ ﺗﻮ ﺁﭖ ﺫﻣﮧ ﺩﺍﺭ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ …👨ﺧﺎﻭﻧﺪ : ﺗﻮ ﭘﮭﺮ…

Read more

ایک دیہاتی نے بڑی مشکل سے پیسے جوڑ کر نیا اسمارٹ فون خریدا۔ چند دنوں میں وہ GPS چلانا بھی سیکھ گیا۔ اب اسے لگتا تھا کہ دنیا کا ہر راستہ اس کی جیب میں آگیا ہے۔عید سے ایک دن پہلے وہ شہر سے اپنے گاؤں واپس جا رہا تھا۔ راستے میں ایک گدھا نظر آیا، جس کی پیٹھ پر بھاری بوجھ لدا ہوا تھا۔ گدھا تھکا ہوا کھڑا تھا اور اس کا مالک کہیں نظر نہیں آ رہا تھا۔دیہاتی نے سینہ پھلا کر کہا: “آج ایک نیکی بھی ہو جائے۔”اس نے گدھے کی گردن کے ساتھ اپنا موبائل باندھا، GPS آن کیا اور ہنستے ہوئے بولا: “چل میرے بھائی! اب تو جدید دور کا گدھا بن گیا ہے۔ راستہ خود ہی ڈھونڈ لے گا۔”گدھا خاموشی سے چل پڑا۔موبائل سے آواز آئی: “200 میٹر بعد دائیں مڑیں۔”گدھا دائیں مڑ گیا۔پھر آواز آئی: “500 میٹر بعد بائیں مڑیں۔”گدھا بائیں مڑ گیا۔دیہاتی…

Read more

ایک جعلی پیر صاحب اپنے مریدوں کے سامنے بڑے فخر سے اپنی کرامتیں بیان کر رہے تھے۔ پیر صاحب بولے: “میں صحرا میں جا رہا تھا… چلتے چلتے دو دن گزر گئے۔ اچانک بھوک لگی تو میں نے ہاتھ بڑھایا اور اُڑتا ہوا پرندہ پکڑ لیا! پھر سورج کی روشنی پر اسے بھونا  اور مزے سے کھا لیا!” مرید: پیر صاحب مزید جوش میں آگئے: “پھر نماز کا وقت ہوا، مگر پانی ختم ہو چکا تھا۔ میں نے زمین سے مٹھی بھر ریت اٹھائی اور اچانک وہاں سے پانی کا چشمہ پھوٹ پڑا! مرید: پیر صاحب نے داڑھی پر ہاتھ پھیرا اور بولے: “میں نے وضو کیا، نماز پڑھی اور آرام کرنے لگا۔ جب دوبارہ پانی لیا تو جہاں جہاں پانی کے قطرے گرے وہاں گلاب کے پھول کھل گئے! مرید: اب تو پیر صاحب پوری فارم میں تھے… بولے: “پھر میں نے چشمے میں پانی ڈالا تو پانی کے…

Read more

ایک سرسبز تالاب کے کنارے ایک مینڈک رہتا تھا۔ وہ عام مینڈکوں جیسا نہ تھا۔ باقی مینڈک کیچڑ میں خوش رہتے، مکھیاں پکڑتے اور شام کو ٹرٹر کی محفل جماتے تھے، مگر اس کے دل میں بڑے بڑے خواب مچلتے رہتے تھے۔اس کی ایک ہی خواہش تھی:“کاش میں بھی پرندوں کی طرح آسمان پر اڑ سکتا!”ہر صبح وہ گردن اٹھا کر نیلے آسمان کو دیکھتا اور حسرت سے سوچتا:“یہ بطخیں بھی کیا قسمت والی ہیں! کبھی جھیل پر، کبھی کھیتوں پر، کبھی بادلوں کے درمیان۔ اور ایک میں ہوں کہ ساری عمر اسی تالاب کے کنارے ٹرٹر کرتا رہوں!”ایک دن اس نے بطخوں کا ایک غول آسمان میں اڑتے دیکھا۔اس کا دل مچل اٹھا۔وہ اچھلتا کودتا ان کے پاس پہنچا اور بولا:“محترم بطخ بہنو! مجھے بھی اڑنا سکھا دیجیے۔”بطخوں نے پہلے تو ایک دوسرے کی طرف دیکھا، پھر ہنس پڑیں۔ایک بطخ بولی:“بھئی، اڑنے کے لیے پر بھی تو چاہیے ہوتے…

Read more

بہت زمانہ پہلے کی بات ہے۔ ایک سلطنت میں ایک ایسا شہزادہ رہتا تھا جس کا مزاج کانٹوں سے بھی زیادہ چبھنے والا تھا۔ غرور اس کے سر پر سوار رہتا اور بدتمیزی اس کی زبان پر ناچتی تھی۔ رعایا تو درکنار، اس کے اپنے خادم بھی اس کے رویّے سے عاجز آ چکے تھے۔ایک روز قسمت نے پلٹا کھایا۔ زور دار بارشوں کے باعث دریا بپھر گیا اور سیلاب کا ریلہ ہر شے کو اپنے ساتھ بہائے لیے جا رہا تھا۔ انہی دنوں شہزادہ بھی دریا کے تیز دھار پانی میں جا گرا۔ کچھ روایتیں کہتی ہیں کہ اس کے نوکروں نے، جو اس کی سخت مزاجی سے تنگ آ چکے تھے، اسے دھکا دے دیا۔موت اس کے سر پر منڈلا رہی تھی۔ بڑی مشکل سے اسے ایک بہتا ہوا درخت کا تنا ہاتھ آ گیا۔ وہ اسی کے سہارے جان بچانے کی کوشش کرنے لگا۔اسی تنے سے تین…

Read more

ایک دن ملک شام کا بادشاہ سیف الدولہ اپنے دربار میں رونق افروز تھا۔ بڑے بڑے عالم و فاضل اس کے سامنے بیٹھے تھے۔ اتنے میں ایک سیدھا سادا شخص تر کی لباس پہنے دربار میں داخل ہوا۔ بادشاہ نے اسے بیٹھنے کے لیے کہا۔ اس شخص نے بے باکی سے کہا: کہاں؟ کس جگہ؟ کیا میں اپنی حیثیت کے مطابق بیٹھوں ؟“ اس سوال پر بادشاہ کو بڑی حیرت ہوئی ۔ پھر کہا: ” ہاں اپنی حیثیت کے مطابق ۔“ یہ سن کر وہ شخص صفوں کو چیرتا ہوا بادشاہ کے تخت پر گیا اور اسے ہٹا کر خود بیٹھنا چاہا۔ بادشاہ کو اس شخص کی اس حرکت پر شدید غصہ آیا اور خادموں سے اپنی زبان میں کہا کہ یہ شخص بہت بے ادب ہے۔ مگر میں اس سے چند سوال کروں گا ، اگر یہ جواب نہ دے سکا تو اسے نہایت سخت سزا دوں گا۔ وہ…

Read more

ایک بار نصرالدین ایک گدھا لیے جا رہا تھا جس کی پیٹھ پر لکڑیوں کا گٹھا بندھا ہوا تھا۔ وہ سرحد پار کر رہا تھا کہ وہاں انسپکٹر نے اسے تلاشی کے لیے روک لیا۔ انسپکٹر نے پوچھا، “یہاں تمہارا کیا کام ہے؟”  نصرالدین نے جواب دیا، “میں ایک ایماندار اسمگلر ہوں۔” انسپکٹر اس کے جواب پر حیران ہوا اور بولا، “اچھا؟؟ ٹھیک ہے، پھر مجھے سب کچھ تلاش کرنے دو، اور اگر مجھے کچھ ملا تو تمہیں سرحد کا ٹیکس دینا ہوگا۔” نصرالدین نے کہا، “ضرور۔ جیسے تمہاری مرضی۔ لیکن میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ تمہیں کچھ نہیں ملے گا۔” انسپکٹر نے بڑی باریکی سے ہر چیز کی تلاشی لی، سب کچھ کھول کر دیکھا لیکن پھر بھی اسے کچھ نہ ملا۔ آخرکار اس نے نصرالدین کو سرحد پار جانے دیا اور کہا، “لگتا ہے آج تم مجھ سے بچ کر نکل گئے ہو۔” اگلے ہفتے نصرالدین پھر…

Read more

ایک مشہور فلسفی دنیا بھر میں اپنی عقل، منطق اور لمبی لمبی تقریروں کے لیے جانا جاتا تھا۔ایک دن سفر کرتے کرتے وہ ملا نصرالدین کے گاؤں پہنچ گیا۔ گاؤں والوں نے کہا:“اگر واقعی عقل کے سمندر ہو تو پہلے ملا نصرالدین سے مل لو!” فلسفی فوراً ملا کے گھر پہنچا۔ دونوں کی ملاقات ہوئی، لمبی گفتگو ہوئی، اور پھر فلسفی نے پوچھا:“ملا صاحب! یہاں کوئی اچھی جگہ ہے جہاں کھانا کھایا جا سکے؟”ملا نے مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے کہا:“ہاں کیوں نہیں! ایک ایسی جگہ ہے جہاں کھانا بھی ملتا ہے اور قسمت بھی آزمائی جاتی ہے!” فلسفی کو بات سمجھ نہ آئی، مگر وہ ملا کو ساتھ لے کر ہوٹل پہنچ گیا۔دونوں بیٹھے ہی تھے کہ ویٹر آگیا۔فلسفی نے بڑے رعب سے پوچھا:“آج کی خاص ڈش کیا ہے؟”ویٹر بولا:“حضور! آج تازہ مچھلی ہے… اتنی تازہ کہ شاید ابھی تک تیرنے کا ارادہ رکھتی ہو!” فلسفی نے کہا:“دو لے…

Read more

تقریباً2500 سال پرانی بات ہے، ملکِ یَمَن پر اَسْعَد تُبّان حِمْیَری نامی بادشاہ کی حکومت تھی، چونکہ یَمَن کی زَبان میں بادشاہ کو تُبَّع کہا جاتا تھا اِس لئے تاریخ میں یہ بادشاہ تُبَّعُ الْاَوَّل (یعنی پہلا بادشاہ) اور تُبَّع حِمْیَری کے نام سے مشہور ہوا۔ ایک مرتبہ تُبَّع اپنے وزیر کے ساتھ سیر پر نکلا، تقریباً ایک لاکھ 13 ہزار پیدل چلنے والے اور ایک لاکھ 30 ہزار گُھڑسوار بھی اس کے ہمراہ تھے۔جس جس شہر میں یہ قافِلہ پہنچتا لوگ ہیبت اور تعجّب کے مارے بہت عزّت و اِحتِرام سے پیش آتے تھے۔اِس سفر کے دوران تُبَّع ہر شہر سے 10عُلَما منتخب کر کے اپنے قافلے میں شامل کررہا تھا، یوں کئی شہروں کی سیر کے بعدتقریباً 4 ہزار عُلَما تُبَّع کے قافِلے میں جمع ہوگئے۔ جب یہ قافلہ شہرِ مکّہ پہنچا تو وہاں کے لوگوں نے اِن کی ذرا بھی آؤ بھگت نہ کی، یہ دیکھ کر…

Read more

جب اللہ کے نبی سلیمان علیہ السلام نے  چمگادڑ سے مشورہ کیا تو اُس وقت اللہ کی چار مخلوقات شکایت اور حاجت لے کر حاضر ہوئیں پہلا: سورج عرض کی: اے نبی اللہ، اللہ سے دعا کیجیے کہ مجھے بھی باقی مخلوق کی طرح ایک ہی جگہ میں سکونت دے دے میں مشرق و مغرب کے درمیان مسلسل حرکت سے تھک چکا ہوں دوسرا: سانپ کہا: اے سلیمان، اللہ سے دعا کیجیے کہ مجھے بھی ہاتھ پاؤں عطا کرے جیسے دیگر جانوروں کو دیے ہیں، میں پیٹ کے بل رینگ رینگ کر تھک چکا ہوں تیسرا: ہوا کہی: اے نبی اللہ، میں مسلسل بے مقصد ادھر اُدھر بھٹکتی رہتی ہوں میرے لیے اللہ سے سکون کی جگہ مانگیں چوتھا: پانی کہا اے سلیمان میں کبھی زمین میں کبھی آسمان کے نیچے ہر جگہ پھر رہا ہوں نہ مجھے ٹھکانہ ہے نہ ٹھہراؤ اللہ سے کہیے کہ مجھے ایسی جگہ عطا…

Read more

جب آدھا ملین رومی فوج مسلمانوں کی فوج کو تباہ کرنے کے قریب تھی اور ہر طرف سے انہیں گھیر لیا گیا تھا،تو اس عظیم اسلامی بہادر نے اپنی تلوار تھام لی اور وہ سب سے مشکل فیصلہ کیا جو کسی بھی انسان کی زندگی میں آ سکتا ہے۔عکرمہ نے موت کو گلے لگانے کا فیصلہ کر لیا اور مسلمانوں کو بادلوں کی گرج کی مانند آواز دے کر پکارا: “اے مسلمانو! کون موت پر بیعت کرتا ہے؟” تو 400 فدائی ان کے پاس آ گئے اور انہوں نے تاریخ میں مشہور ہونے والی “کتيبة الموت الإسلامية” (اسلامی لشکرِ موت) تشکیل دی۔یہ دیکھ کر خالد بن ولید عکرمہ کی طرف بڑھے اور انہیں اپنی جان قربان کرنے سے روکنے کی کوشش کی،مگر عکرمہ نے نور سے چمکتے چہرے کے ساتھ خالد کو دیکھا اور کہا: “اے خالد! مجھ سے دور ہو جاؤ، تمہیں تو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ پہلے…

Read more

بغداد کی ہلاکت 🔥 ایسا سانحہ جو تاریخ نہیں انسانیت کا زخم ہے 🔥 😥بغداد… وہ شہر جو کبھی دنیا کی آنکھوں کا تارا تھا، علم کا دریا، حکمت کا گہوارہ، تہذیب کا تاج، جہاں راتیں چراغوں سے روشن تھیں اور دن کتابوں سے۔ جہاں نہریں، باغات، محل، بازار، مدرسے، مکتب، حکومتی عمارتیں سب کچھ ایک ایسے دور کی یاد دلاتے تھے جب عباسی خلافت کا نام ساری دنیا پر تھر تھرا دیتا تھا۔ لیکن 1258 میں بغداد نہ وہ طاقت رہی تھی، نہ وہ شاہی رعب باقی تھا، نہ وہ بین الاقوامی وزن۔ اب شہر اپنی پرانی عظمت کے کھنڈر پر کھڑا ایک کمزور، سست، سیاسی سازشوں میں گھرا ہوا مرکز تھا۔ خلیفہ مستعصم… نرمی، کمزوری، بے خبری اور دربار کے سازشی وزیروں کے بیچ گھرا ہوا بادشاہ، جسے پتا ہی نہیں تھا کہ افق پر کون سا طوفان امڈ کر آرہا ہے۔ منگول سلطنت اس وقت دنیا کی…

Read more

حسن بن صباح کی داستان 🔥 نزاریہ فرقہ کا اصل بانی بلاد عجم یعنی ایران کا بہت بڑا داعی بانی شیخ الجبل حسن بن صباح۔ اس نے اپنی تحریک کو ایسی ترقی دی، جس کے باعث دوسری اسلامی قوتوں سے مقابلہ کرنے لگا۔ بلکہ اگر یہ کہا جائے تو درست ہوگا کہ اس نے اور اس کے جانشینوں نے ایسی دھاک بیٹھائی کہ اس زمانے کے اسلامی سلاطین ان سے تھراتے تھے۔ نام اور نسبحسن بن صباح کا پورا نام حسن بن علی بن محمد بن جعفر بن حسین بن الصباح الحمیری تھا۔ یہ ایرانی تھا اور اس نے اس زمانے کے رواج کے مطابق اپنے آپ کو ایک عرب الحمیری خاندان سے منسوب کیا تھا۔ لیکن اسے یہ بات پسند نہیں تھی کہ لوگ اس کا نسب بیان کریں۔ وہ اپنے مریدوں سے کہا کرتا تھا مجھے اپنے امام کا مخلص غلام کہلایا جانا زیادہ پسند ہے کہ بہ…

Read more

بہت عرصہ پہلے دل کو چُھو لینے والی یہ تحریر پڑھی تھی پھر لاکھ ڈھونڈنے پر نا ملی۔۔۔ اب جو ملی تو اس “فن پارے” کو آپ کی نذر کر رہا ہوں۔ ہو سکتا ہے آپ پہلے پڑھ چکے ہوں لیکن حقیقت سے بھرپور یہ تحریر بار بار پڑھنے کے لائق ہے۔۔۔ ایک نامعلوم ڈائری سے۔ میری وفات کے بعد۔۔۔ موسم سرما کی ایک انتہائی ٹھٹھرتی شام تھی جب میری وفات ہوئی۔ اس دن صبح سے بارش ہو رہی تھی۔ بیوی صبح ڈاکٹر کے پاس لے کر گئی۔ ڈاکٹر نے دوائیں تبدیل کیں مگر میں خلافِ معمول خاموش رہا۔ دوپہر تک حالت اور بگڑ گئی۔ جو بیٹا پاکستان میں تھا وہ ایک تربیتی کورس کے سلسلے میں بیرون ملک تھا۔ چھوٹی بیٹی اور اس کا میاں دونوں یونیسف کے سروے کے لیے کراچی ڈیوٹی پر تھے۔ لاہور والی بیٹی کو میں نے فون نہ کرنے دیا کہ اس کا میاں…

Read more

‏برصغیر پر انگریزوں کے قبضے کے دوران۔۔۔۔۔۔۔ہر انگریز افسر کا ہر، تین برس بعد واپس برطانیہ بلا لیا جاتا، مبادہ یہ مقامی رسم و رواج کے عادی نہ ہو جائیں یا اس کی ریٹائرمنٹ تک، کسی دوسرے ملک بھجوا دیا جاتا۔ یا، جو اپنی ملازمت مکمل کرنے کے بعد واپس برطانیہ آتا، اسے کوئی عوامی عہدہ نہ دیا جاتا، دلیل دی جاتی تھی:” آپ غلام قوم پر حکومت کر کے أۓ ہو، جس سے تمہارے اطوار اور رویے میں تبدیلی آ گی ہے۔ یہاں اگر اس طرح کی کوئی ذمہ داری تمہیں سونپی جاے، تو آپ ہم آزاد قوم کے ساتھ بھی اسی طرح کا برتاو کرو گے”برطانیہ کی ایک انگریز خاتون کا شوہر سول سروس آفیسر تھا،اس خاتون نے زندگی کے کئی سال ہندوستان کے مختلف علاقوں میں گزارے۔ واپسی پر اس نے اپنی یاداشتوں پر مبنی کتاب لکھی:” میرا شوہر، ضلع کا ڈپٹی کمشنر تھا، تب میرا بیٹا…

Read more

‏ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نیند سے گھبرا کر اٹھے اور اپنی زوجہ حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے اور فرمایااللہ کے سوا کوئی معبود نہیںعربوں کے لیے ہلاکت ہے اس شر سے جو قریب آ چکا ہےآج یاجوج ماجوج کی دیوار میں اتنا سوراخ ہو چکا ہےآپ نے اپنے انگوٹھے اور اس کے برابر والی انگلی کو ملا کر اشارہ کیا۔ حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے عرض کیایا رسول اللہ کیا ہم ہلاک ہوجائیں گے حالانکہ ہم میں نیک لوگ بھی ہوں گےآپ نے فرمایا ہاں جب بے حیائی اور گناہ عام ہو جائیں گے۔ یاجوج ماجوج کون ہیں اور کب نکلیں گے۔۔؟؟اور ان کے نکلنے کی کہانی کیا ہے،ان کا فساد ‏اور انجام کیسا ہو گااور اس دیوار کی کہانی کیا ہے۔۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایالوگ آپ سے ذوالقرنین کے بارے میں پوچھتے ہیں،کہہ دیجیے میں تمہیں…

Read more

مرحب ایک بہادر جنگجو اور شاعر تھا، قد میں لمبا اور شجاعت میں مشہور تھا۔ اسے “سیدُ اليهود” (یہودیوں کا سردار) کہا جاتا تھا اور وہ بے حد مالدار تھا۔ وہ نطاة میں ایک قصر میں رہتا تھا۔ اس کی تلوار پر یہ عبارت نقش تھی: “یہ مرحب کی تلوار ہے، جو اسے چکھے گا، ہلاک ہو جائے گا۔ حافظ ابن حجر نے زینب بنت الحارث (جو مرحب کی بہن یا بعض روایات کے مطابق اس کے بھائی کی بیٹی تھی) کے ترجمہ میں ذکر کیا ہے کہ وہ اسرائیلی النسب تھی۔ اس بنیاد پر مرحب کا نسب بنی اسرائیل سے ہونے کا امکان ہے۔ جبکہ ابن ہشام کا کہنا ہے کہ مرحب کا تعلق حمیر قبیلے سے تھا۔ مرحب نے غزوہ خیبر میں مسلمانوں کے خلاف زبردست قوت اور بہادری کا مظاہرہ کیا اور جنگ میں انتہائی جوش و خروش سے لڑا۔ دیار بکری کے مطابق: “مسلمانوں کے کسی…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے ، کسی بادشاہ کو اپنا وزیر تلاش کرنے کی ضرورت آپڑی ۔ پرانا وزیرا چانک مر گیا۔ اس کے تین نائب وزیر بھی تھے انہیں میں سے ایک کو وزیر اعظم بنانا تھا۔ تینوں عقلمند، وفادار، ہوشیار اور خدمت گزار تھے ۔ ان میں سے ہر ایک نے بڑھ چڑھ کر بادشاہ کی خدمت کی تھی۔ اب بادشاہ کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل تھا کہ ان میں سے  کس کو وزیر اعظم چنے اور کس کو چھوڑ دے۔ بادشاہ ہر وقت فکر مند رہتا حتی کہ سوچ سوچ کر وہ بیمار پڑ گیا۔ اس کے دماغ پر بھی اس پریشانی کا اثر ہوا۔ اسے باتیں بھولنے لگیں ۔ بھوک کم ہو گئی ۔ راتوں کی نیند اُڑ گئی ۔ لوگ جب کوئی بات کہتے تو لگتا جیسے یا تو اسے کچھ سمجھ میں نہیں آرہا یا سنائی نہیں دے رہا۔ غرض وزیر کے چناؤ…

Read more

*کسی گاؤں میں تین بھائی رہتے تھے۔* ان کے گھر میں ایک درخت تھا جس پر پھل آتے تھے۔ وہ ان پھلوں کو بیچ کر دو وقت کی روٹی کماتے تھے۔ ایک دن ایک بزرگ شخص ان کے ہاں مہمان بن کر آیا۔ کھانا کم تھا اس لیے بڑا بھائی مہمان کے ساتھ کھانے بیٹھ گیا، جبکہ دونوں چھوٹے بھائی یہ کہہ کر شریک نہیں ہوئے کہ انہیں بھوک نہیں۔ مہمان کی عزت افزائی بھی ہو گئی اور کھانے کی کمی کا راز بھی چھپ گیا۔ آدھی رات کو مہمان اٹھا، جب تینوں بھائی سو رہے تھے، اور ایک آری سے وہ درخت کاٹ کر اپنی اگلی منزل کی طرف روانہ ہو گیا۔ صبح جب محلے والے جاگے، تو تینوں بھائی اس مہمان کو کوس رہے تھے، جس نے ان کے گھر کا واحد ذریعہ روزگار کاٹ ڈالا تھا۔ چند سال بعد وہی مہمان دوبارہ اس گاؤں میں آیا۔ اس…

Read more

20/44
NZ's Corner