Tag Archives: #DailyInspiration Use long-tail keywords: “Daily inspirational quotes about hope

تقریباً2500 سال پرانی بات ہے، ملکِ یَمَن پر اَسْعَد تُبّان حِمْیَری نامی بادشاہ کی حکومت تھی، چونکہ یَمَن کی زَبان میں بادشاہ کو تُبَّع کہا جاتا تھا اِس لئے تاریخ میں یہ بادشاہ تُبَّعُ الْاَوَّل (یعنی پہلا بادشاہ) اور تُبَّع حِمْیَری کے نام سے مشہور ہوا۔ ایک مرتبہ تُبَّع اپنے وزیر کے ساتھ سیر پر نکلا، تقریباً ایک لاکھ 13 ہزار پیدل چلنے والے اور ایک لاکھ 30 ہزار گُھڑسوار بھی اس کے ہمراہ تھے۔جس جس شہر میں یہ قافِلہ پہنچتا لوگ ہیبت اور تعجّب کے مارے بہت عزّت و اِحتِرام سے پیش آتے تھے۔اِس سفر کے دوران تُبَّع ہر شہر سے 10عُلَما منتخب کر کے اپنے قافلے میں شامل کررہا تھا، یوں کئی شہروں کی سیر کے بعدتقریباً 4 ہزار عُلَما تُبَّع کے قافِلے میں جمع ہوگئے۔ جب یہ قافلہ شہرِ مکّہ پہنچا تو وہاں کے لوگوں نے اِن کی ذرا بھی آؤ بھگت نہ کی، یہ دیکھ کر…

Read more

جب اللہ کے نبی سلیمان علیہ السلام نے  چمگادڑ سے مشورہ کیا تو اُس وقت اللہ کی چار مخلوقات شکایت اور حاجت لے کر حاضر ہوئیں پہلا: سورج عرض کی: اے نبی اللہ، اللہ سے دعا کیجیے کہ مجھے بھی باقی مخلوق کی طرح ایک ہی جگہ میں سکونت دے دے میں مشرق و مغرب کے درمیان مسلسل حرکت سے تھک چکا ہوں دوسرا: سانپ کہا: اے سلیمان، اللہ سے دعا کیجیے کہ مجھے بھی ہاتھ پاؤں عطا کرے جیسے دیگر جانوروں کو دیے ہیں، میں پیٹ کے بل رینگ رینگ کر تھک چکا ہوں تیسرا: ہوا کہی: اے نبی اللہ، میں مسلسل بے مقصد ادھر اُدھر بھٹکتی رہتی ہوں میرے لیے اللہ سے سکون کی جگہ مانگیں چوتھا: پانی کہا اے سلیمان میں کبھی زمین میں کبھی آسمان کے نیچے ہر جگہ پھر رہا ہوں نہ مجھے ٹھکانہ ہے نہ ٹھہراؤ اللہ سے کہیے کہ مجھے ایسی جگہ عطا…

Read more

جب آدھا ملین رومی فوج مسلمانوں کی فوج کو تباہ کرنے کے قریب تھی اور ہر طرف سے انہیں گھیر لیا گیا تھا،تو اس عظیم اسلامی بہادر نے اپنی تلوار تھام لی اور وہ سب سے مشکل فیصلہ کیا جو کسی بھی انسان کی زندگی میں آ سکتا ہے۔عکرمہ نے موت کو گلے لگانے کا فیصلہ کر لیا اور مسلمانوں کو بادلوں کی گرج کی مانند آواز دے کر پکارا: “اے مسلمانو! کون موت پر بیعت کرتا ہے؟” تو 400 فدائی ان کے پاس آ گئے اور انہوں نے تاریخ میں مشہور ہونے والی “کتيبة الموت الإسلامية” (اسلامی لشکرِ موت) تشکیل دی۔یہ دیکھ کر خالد بن ولید عکرمہ کی طرف بڑھے اور انہیں اپنی جان قربان کرنے سے روکنے کی کوشش کی،مگر عکرمہ نے نور سے چمکتے چہرے کے ساتھ خالد کو دیکھا اور کہا: “اے خالد! مجھ سے دور ہو جاؤ، تمہیں تو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ پہلے…

Read more

بغداد کی ہلاکت 🔥 ایسا سانحہ جو تاریخ نہیں انسانیت کا زخم ہے 🔥 😥بغداد… وہ شہر جو کبھی دنیا کی آنکھوں کا تارا تھا، علم کا دریا، حکمت کا گہوارہ، تہذیب کا تاج، جہاں راتیں چراغوں سے روشن تھیں اور دن کتابوں سے۔ جہاں نہریں، باغات، محل، بازار، مدرسے، مکتب، حکومتی عمارتیں سب کچھ ایک ایسے دور کی یاد دلاتے تھے جب عباسی خلافت کا نام ساری دنیا پر تھر تھرا دیتا تھا۔ لیکن 1258 میں بغداد نہ وہ طاقت رہی تھی، نہ وہ شاہی رعب باقی تھا، نہ وہ بین الاقوامی وزن۔ اب شہر اپنی پرانی عظمت کے کھنڈر پر کھڑا ایک کمزور، سست، سیاسی سازشوں میں گھرا ہوا مرکز تھا۔ خلیفہ مستعصم… نرمی، کمزوری، بے خبری اور دربار کے سازشی وزیروں کے بیچ گھرا ہوا بادشاہ، جسے پتا ہی نہیں تھا کہ افق پر کون سا طوفان امڈ کر آرہا ہے۔ منگول سلطنت اس وقت دنیا کی…

Read more

حسن بن صباح کی داستان 🔥 نزاریہ فرقہ کا اصل بانی بلاد عجم یعنی ایران کا بہت بڑا داعی بانی شیخ الجبل حسن بن صباح۔ اس نے اپنی تحریک کو ایسی ترقی دی، جس کے باعث دوسری اسلامی قوتوں سے مقابلہ کرنے لگا۔ بلکہ اگر یہ کہا جائے تو درست ہوگا کہ اس نے اور اس کے جانشینوں نے ایسی دھاک بیٹھائی کہ اس زمانے کے اسلامی سلاطین ان سے تھراتے تھے۔ نام اور نسبحسن بن صباح کا پورا نام حسن بن علی بن محمد بن جعفر بن حسین بن الصباح الحمیری تھا۔ یہ ایرانی تھا اور اس نے اس زمانے کے رواج کے مطابق اپنے آپ کو ایک عرب الحمیری خاندان سے منسوب کیا تھا۔ لیکن اسے یہ بات پسند نہیں تھی کہ لوگ اس کا نسب بیان کریں۔ وہ اپنے مریدوں سے کہا کرتا تھا مجھے اپنے امام کا مخلص غلام کہلایا جانا زیادہ پسند ہے کہ بہ…

Read more

بہت عرصہ پہلے دل کو چُھو لینے والی یہ تحریر پڑھی تھی پھر لاکھ ڈھونڈنے پر نا ملی۔۔۔ اب جو ملی تو اس “فن پارے” کو آپ کی نذر کر رہا ہوں۔ ہو سکتا ہے آپ پہلے پڑھ چکے ہوں لیکن حقیقت سے بھرپور یہ تحریر بار بار پڑھنے کے لائق ہے۔۔۔ ایک نامعلوم ڈائری سے۔ میری وفات کے بعد۔۔۔ موسم سرما کی ایک انتہائی ٹھٹھرتی شام تھی جب میری وفات ہوئی۔ اس دن صبح سے بارش ہو رہی تھی۔ بیوی صبح ڈاکٹر کے پاس لے کر گئی۔ ڈاکٹر نے دوائیں تبدیل کیں مگر میں خلافِ معمول خاموش رہا۔ دوپہر تک حالت اور بگڑ گئی۔ جو بیٹا پاکستان میں تھا وہ ایک تربیتی کورس کے سلسلے میں بیرون ملک تھا۔ چھوٹی بیٹی اور اس کا میاں دونوں یونیسف کے سروے کے لیے کراچی ڈیوٹی پر تھے۔ لاہور والی بیٹی کو میں نے فون نہ کرنے دیا کہ اس کا میاں…

Read more

‏برصغیر پر انگریزوں کے قبضے کے دوران۔۔۔۔۔۔۔ہر انگریز افسر کا ہر، تین برس بعد واپس برطانیہ بلا لیا جاتا، مبادہ یہ مقامی رسم و رواج کے عادی نہ ہو جائیں یا اس کی ریٹائرمنٹ تک، کسی دوسرے ملک بھجوا دیا جاتا۔ یا، جو اپنی ملازمت مکمل کرنے کے بعد واپس برطانیہ آتا، اسے کوئی عوامی عہدہ نہ دیا جاتا، دلیل دی جاتی تھی:” آپ غلام قوم پر حکومت کر کے أۓ ہو، جس سے تمہارے اطوار اور رویے میں تبدیلی آ گی ہے۔ یہاں اگر اس طرح کی کوئی ذمہ داری تمہیں سونپی جاے، تو آپ ہم آزاد قوم کے ساتھ بھی اسی طرح کا برتاو کرو گے”برطانیہ کی ایک انگریز خاتون کا شوہر سول سروس آفیسر تھا،اس خاتون نے زندگی کے کئی سال ہندوستان کے مختلف علاقوں میں گزارے۔ واپسی پر اس نے اپنی یاداشتوں پر مبنی کتاب لکھی:” میرا شوہر، ضلع کا ڈپٹی کمشنر تھا، تب میرا بیٹا…

Read more

‏ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نیند سے گھبرا کر اٹھے اور اپنی زوجہ حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے اور فرمایااللہ کے سوا کوئی معبود نہیںعربوں کے لیے ہلاکت ہے اس شر سے جو قریب آ چکا ہےآج یاجوج ماجوج کی دیوار میں اتنا سوراخ ہو چکا ہےآپ نے اپنے انگوٹھے اور اس کے برابر والی انگلی کو ملا کر اشارہ کیا۔ حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے عرض کیایا رسول اللہ کیا ہم ہلاک ہوجائیں گے حالانکہ ہم میں نیک لوگ بھی ہوں گےآپ نے فرمایا ہاں جب بے حیائی اور گناہ عام ہو جائیں گے۔ یاجوج ماجوج کون ہیں اور کب نکلیں گے۔۔؟؟اور ان کے نکلنے کی کہانی کیا ہے،ان کا فساد ‏اور انجام کیسا ہو گااور اس دیوار کی کہانی کیا ہے۔۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایالوگ آپ سے ذوالقرنین کے بارے میں پوچھتے ہیں،کہہ دیجیے میں تمہیں…

Read more

مرحب ایک بہادر جنگجو اور شاعر تھا، قد میں لمبا اور شجاعت میں مشہور تھا۔ اسے “سیدُ اليهود” (یہودیوں کا سردار) کہا جاتا تھا اور وہ بے حد مالدار تھا۔ وہ نطاة میں ایک قصر میں رہتا تھا۔ اس کی تلوار پر یہ عبارت نقش تھی: “یہ مرحب کی تلوار ہے، جو اسے چکھے گا، ہلاک ہو جائے گا۔ حافظ ابن حجر نے زینب بنت الحارث (جو مرحب کی بہن یا بعض روایات کے مطابق اس کے بھائی کی بیٹی تھی) کے ترجمہ میں ذکر کیا ہے کہ وہ اسرائیلی النسب تھی۔ اس بنیاد پر مرحب کا نسب بنی اسرائیل سے ہونے کا امکان ہے۔ جبکہ ابن ہشام کا کہنا ہے کہ مرحب کا تعلق حمیر قبیلے سے تھا۔ مرحب نے غزوہ خیبر میں مسلمانوں کے خلاف زبردست قوت اور بہادری کا مظاہرہ کیا اور جنگ میں انتہائی جوش و خروش سے لڑا۔ دیار بکری کے مطابق: “مسلمانوں کے کسی…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے ، کسی بادشاہ کو اپنا وزیر تلاش کرنے کی ضرورت آپڑی ۔ پرانا وزیرا چانک مر گیا۔ اس کے تین نائب وزیر بھی تھے انہیں میں سے ایک کو وزیر اعظم بنانا تھا۔ تینوں عقلمند، وفادار، ہوشیار اور خدمت گزار تھے ۔ ان میں سے ہر ایک نے بڑھ چڑھ کر بادشاہ کی خدمت کی تھی۔ اب بادشاہ کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل تھا کہ ان میں سے  کس کو وزیر اعظم چنے اور کس کو چھوڑ دے۔ بادشاہ ہر وقت فکر مند رہتا حتی کہ سوچ سوچ کر وہ بیمار پڑ گیا۔ اس کے دماغ پر بھی اس پریشانی کا اثر ہوا۔ اسے باتیں بھولنے لگیں ۔ بھوک کم ہو گئی ۔ راتوں کی نیند اُڑ گئی ۔ لوگ جب کوئی بات کہتے تو لگتا جیسے یا تو اسے کچھ سمجھ میں نہیں آرہا یا سنائی نہیں دے رہا۔ غرض وزیر کے چناؤ…

Read more

*کسی گاؤں میں تین بھائی رہتے تھے۔* ان کے گھر میں ایک درخت تھا جس پر پھل آتے تھے۔ وہ ان پھلوں کو بیچ کر دو وقت کی روٹی کماتے تھے۔ ایک دن ایک بزرگ شخص ان کے ہاں مہمان بن کر آیا۔ کھانا کم تھا اس لیے بڑا بھائی مہمان کے ساتھ کھانے بیٹھ گیا، جبکہ دونوں چھوٹے بھائی یہ کہہ کر شریک نہیں ہوئے کہ انہیں بھوک نہیں۔ مہمان کی عزت افزائی بھی ہو گئی اور کھانے کی کمی کا راز بھی چھپ گیا۔ آدھی رات کو مہمان اٹھا، جب تینوں بھائی سو رہے تھے، اور ایک آری سے وہ درخت کاٹ کر اپنی اگلی منزل کی طرف روانہ ہو گیا۔ صبح جب محلے والے جاگے، تو تینوں بھائی اس مہمان کو کوس رہے تھے، جس نے ان کے گھر کا واحد ذریعہ روزگار کاٹ ڈالا تھا۔ چند سال بعد وہی مہمان دوبارہ اس گاؤں میں آیا۔ اس…

Read more

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر زندہ اٹھا لئے جانے کے بعد عیسائیوں کا حال بے حد خراب اور نہایت ابتر ہو گیا لوگ بت پرستی کرنے لگے اور دوسروں کو بھی بت پرستی پر مجبور کرنے لگے۔خصوصاً ان کا ایک بادشاہ ”دقیانوس”تو اس قدر ظالم تھا کہ جو شخص بت پرستی سے انکار کرتا تھا یہ اُس کو قتل کر ڈالتا تھا۔ اصحابِ کہف شہر ”اُفسوس”کے شرفاء تھے جو بادشاہ کے معزز درباری بھی تھے مگر یہ لوگ صاحب ایمان اور بت پرستی سے انتہائی بیزار تھے ”دقیانوس”کے ظلم و جبر سے پریشان ہو کر یہ لوگ اپنا ایمان بچانے کے لئے اُس کے دربار سے بھاگ نکلے اور قریب کے پہاڑ میں ایک غار کے اندر پناہ گزیں ہوئے اور سو گئے تو تین سو برس سے زیادہ عرصے تک اسی حال میں سوتے رہ گئے۔دقیانوس نے جب ان لوگوں کو تلاش کرایا اور اُس کو معلوم…

Read more

رات کی تاریکی میں، جب ہوا تھم جاتی ہے اور فضا میں ایک انجانی سنسنی پھیل جاتی ہے، تب کچھ آوازیں انسانی کانوں تک پہنچتی ہیں—ایسی آوازیں جو بظاہر کیڑوں کی لگتی ہیں، مگر جن کے بارے میں قدیم لوگ کہتے تھے کہ یہ جنّات کی سانسیں ہیں۔انہی سرگوشیوں سے جنم لیتی ہے وہ بدنامِ زمانہ کتاب، جسے دنیا سب سے خطرناک کتاب کہہ کر یاد کرتی ہے…“کتاب العزيف۔” یہ کتاب تعویزات، نامعلوم زبانوں، پراسرار علامتوں اور خوفناک تصاویر سے بھری ہوئی ہے—ایسی تصاویر جن کے بارے میں اس کے مصنف نے دعویٰ کیا کہ یہ “جنّات” اور ان مخلوقات کی اصلی صورتیں ہیں جو انسانوں سے بہت پہلے زمین پر گھومتی پھرتی تھیں۔ صنعا کی دھول بھری گلیوں سے تعلق رکھنے والا ایک عرب شاعر،ایک شخص جسے لوگ “العربی المجنون” کہتے تھے،ایک ایسا انسان جو ایسی دنیا دیکھتا تھا جسے دوسرے صرف خواب سمجھتے تھے۔یہ تھا عبداللہ الحظرد۔ کہا…

Read more

ایک بادشاہ نے تین بے گناہ افراد کو سزائے موت سنا دی۔ بادشاہ کے حکم کی تعمیل میں ان تینوں کو پھانسی گھاٹ پر لے جایا گیا جہاں ایک بہت بڑا لکڑی کا تختہ تھا جس کے ساتھ پتھروں سے بنا ایک مینار اور مینار پر ایک بہت بڑا بھاری پتھر مضبوط رسے سے بندھا ہوا ایک چرخے پر جھول رہا تھا، رسے کو ایک طرف سے کھینچ کر جب چھوڑا جاتا تھا تو دوسری طرف بندھا ہوا پتھرا زور سے نیچے گرتا اور نیچے آنے والی کسی بھی چیز کو کچل کر رکھ دیتا تھا…!!!! چنانچہ ان تینوں کو اس موت کے تختے کے ساتھ کھڑا کیا گیا، ان میں سے… ایک عالم دوسرا وکیل اور تیسرا فلسفیسب سے پہلے عالم کو اس تختہ پر عین پتھر گرنے کے مقام پر لٹایا گیا اور اس کی آخری خواہش پوچھی گئی تو عالم کہنے لگا میرا خدا پر پختہ یقین…

Read more

قانُونِ فطرت تو یہی ہے کہگدھیگدھے کو ہی جنم دیتی ہے ہمارے ہی اجداد،جو انگریز کا ایک من وزن صرف ایک روپے میں راولپنڈی سے مری تک لے کر جاتے،ان کے پاؤں میں جوتی تک نہیں ہوتی،پنڈی سے مری ستر کلومیٹر کا سفر ایک من وزن اٹھا کر دو دن میں مکمل ہوتا.یہ لوگ انگریز کی خدمت کرتے،اپنی پیٹھ پر سوار کر کے سیر کراتے اورانگریز خوش ہو کر اپنا بچا ہوا کھانا انہیں دے دیتا.. ہمارے اجداد نے ہی انگریزوں کی نوکریاں کیں.تنخواہ لے کر اپنے ہی لوگوں سے لڑتے رہے.انگریز نے ہندوستان پر سو سال حکومت کی،اس دوران کبھی بھی انگریزوں کی مجموعی تعداد پچیس ہزار سے زیادہ نہیں رہی. انگلینڈ میں ایک مائیگریشن رجسٹر ہے۔جس میں برطانیہ سے ہندوستان جانے والے 15،447 فوجیوں کے نام لکھے ہوئے ہیں.تین لاکھ ہندوستانی تھے جو انگریزی فوج میں بھرتی ہوئے.بنگال رجمنٹ،پنجاب رجمنٹ،بلوچ رجمنٹ انگریزوں نے بنائی۔برصغیر کے بُھوکے ننگے،دو چار…

Read more

ایک نوجوان نے کراچی کی ایک کمپنی سے سیلزمینی کی جاب چھوڑی اور بہتر مستقبل کی تلاش میں کینیڈا چلا گیا۔۔۔۔وہاں اس نے ایک بڑے ڈیپارٹمینل اسٹور میں سیلزمین کی پوسٹ پر ملازمت کیلئے اپلائی کیا۔۔۔۔اس اسٹور کا شمار دنیا کے چند بڑے اسٹورز میں ہوتا تھا جہاں سے آپ سوئی سے جہاز تک سب کچھ خرید سکتے ہیں۔۔۔ اسٹور کے مالک نے انٹروویو کے دوران پوچھا“آپکے ڈاکومنٹس کے مطابق آپ کا تعلق کسی ایشیائی ملک پاکستان سے ہے۔۔۔پہلے بھی کہیں سیلزمینی کی جاب کی “ “جی میں آٹھ سال کراچی پاکستان کی ایک کمپنی میں جاب کر چکا ہوں” مالک کو یہ لڑکا پسند آیا“دیکھو۔۔۔میں آپ کو جاب دے رہاہوں۔۔۔آپ نے اپنی کارگردگی سے میرے فیصلے کو درست ثابت کرنا ہے۔۔۔کل سے آ جاؤ۔۔۔۔گڈلک” اگلے دن وہ پاکستانی لڑکا اپنی جاب پر پہنچا۔۔۔پہلا دن تھا۔۔۔طویل اور تھکا دینے والا دن۔۔۔بہرحال شام کے چھ بج گئے۔۔۔ مالک نے اسے اپنے…

Read more

ایک بادشاہ کو جنگل میں سفر کرتے ایک سانپ نے ڈس لیا۔ شاہی طبیب اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود زہر کو جب بادشاہ کے جسم میں پھیلینے سے نہ روک پایا تو زارو قطار رونے لگا۔ اتنے میں ایک درویش سا شخص وہاں آیا۔ بادشاہ کو زہر کے درد سے تڑپتے ہوئے دیکھا تو بادشاہ کی ٹانگ پر جہاں سانپ نے کاٹا تھا تھوک دیا اور بھاگ گیا۔بادشاہ کے سارے ساتھی بادشاہ کی فکر میں تھے اس لئے دیوانے کی اس حرکت پر کوئی بھی درویش کے پیچھے اُسے گرفتار کرنے نہ گیا۔شاہی طبیب نے تھوک صاف کرنے کے لئے ایک رومال پکڑا اور بادشاہ کی زہر سے نیلی ہوتی ٹانگ پر سے تھوک صاف کرنے لگا مگر پھر حیران ہوتے ہوئے رُک گیا، اُس نے انگلی سے تھوک کو سانپ کے(یہ آپ عینی کی وال سے پڑھ رہے ہیں) ڈسے پر اچھی طرح مل دیا جس سے فوراً…

Read more

For online apply www.ppsc.gop.pk Follow the Jobs in Pakistan channel on WhatsApp: https://whatsapp.com/channel/0029Va8mccc9RZAWObvvfI1z

اُمیدواران کو مبلغ 1000 روپے فی درخواست جمع کروانا ہوگا.عمر کی حد:21 سے 45 سالفیس: 1000کل تعداد: 12500 For online apply https://sti.pesrp.edu.pk/

*🔷 پنجاب انفورسمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PERA) میں دوبارہ شاندار موقع!* اب **انفورسمنٹ آفیسر (EO BPS-14)** کی **110 سے زائد آسامیوں** پر آن لائن درخواستیں قبول کی جا رہی ہیں۔ 🚨 **آخری تاریخ:** 16 نومبر 2025 ✅ **تعلیم:** BS یا 16 سالہ ماسٹر ڈگری✅ **ڈومیسائل:** پنجاب کے تمام اضلاع (مرد و خواتین دونوں اہل)✅ **عمر کی حد:** 22 سے 32 سال 🎗 یہ ایک نہایت معزز اور مضبوط ادارہ ہے — ایسا موقع بار بار نہیں آتا! اگر آپ ایک شاندار سرکاری نوکری کا خواب دیکھ رہے ہیں تو ابھی اپلائی کریں For online apply https://jobs.punjab.gov.pk/

20/35
NZ's Corner