Tag Archives: messageoftheday’post

شفیق صاحب نے کنڈیکٹر کو کرایہ دینے کے لیے جیب میں ہاتھ ڈال ہی رہے تھے کہ برابر بیٹھے اجنبی نے اچانک ان کی کلائی مضبوطی سے تھام لی۔ “نہیں محترم! کرایہ میں دے دیتا ہوں۔” شفیق صاحب نے حیرت سے دیکھا، انکار کیا، اصرار کیا، مگر اجنبی کی شرافت حد سے بڑھی ہوئی تھی۔ مسکراتے ہوئے اس نے کرایہ ادا کر دیا۔ بابو صاحب نے دل ہی دل میں سوچا،“ابھی بھی دنیا میں اچھے لوگ باقی ہیں۔” اگلے اسٹاپ پر وہ نیک دل اجنبی اتر گیا۔ بس آگے بڑھی تو شفیق صاحب نے دوبارہ جیب میں ہاتھ ڈالا… اور وہیں سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔جیب ہلکی تھی… حد سے زیادہ ہلکی۔نیکی کے ساتھ ساتھ اجنبی جیب بھی صاف کر گیا تھا۔ اگلے دن بازار میں قسمت نے دوبارہ آمنا سامنا کرا دیا۔ بابو صاحب نے چور کو پہچان لیا۔ پکڑا تو وہ روتا ہوا ان کے گلے لگ گیا۔…

Read more

مغل شہزادوں کی نیند، گورے کے دفاتر اور ہمارے بند بازار: زوال کی نفسیاتتاریخ کے اوراق پلٹیں تو ایک عبرت ناک منظر ابھرتا ہے جو آج بھی ہمارے حال کا آئینہ ہے۔ مغل دور کے آخری ایام میں، جب زوال کی پرچھائیاں دہلی کی فصیلوں کو چھو رہی تھیں، شہزادے رات بھر کی محفلوں کی تھکن اتارنے کے لیے پو پھٹے “خمار” کی وادیوں میں پناہ لیتے تھے۔ عین اسی وقت، سات سمندر پار لندن کی دھند میں ایک برطانوی افسر سورج کی پہلی کرن کے ساتھ اپنے دفتر کا چراغ روشن کر چکا ہوتا تھا۔یہ محض دو انسانوں کا فرق نہیں تھا بلکہ یہ دو متصادم رویوں کا ٹکراؤ تھا۔ ایک طرف وہ ذہن تھا جو کائنات کے فطری توازن یعنی “روشنی” کے ساتھ قدم ملا کر چلنا جانتا تھا، اور دوسری طرف وہ طبقہ جو رات کی تاریکی میں کھو کر دن سے آنکھیں چرا رہا تھا۔ یہی…

Read more

قانُونِ فطرت تو یہی ہے کہگدھیگدھے کو ہی جنم دیتی ہے ہمارے ہی اجداد،جو انگریز کا ایک من وزن صرف ایک روپے میں راولپنڈی سے مری تک لے کر جاتے،ان کے پاؤں میں جوتی تک نہیں ہوتی،پنڈی سے مری ستر کلومیٹر کا سفر ایک من وزن اٹھا کر دو دن میں مکمل ہوتا.یہ لوگ انگریز کی خدمت کرتے،اپنی پیٹھ پر سوار کر کے سیر کراتے اورانگریز خوش ہو کر اپنا بچا ہوا کھانا انہیں دے دیتا.. ہمارے اجداد نے ہی انگریزوں کی نوکریاں کیں.تنخواہ لے کر اپنے ہی لوگوں سے لڑتے رہے.انگریز نے ہندوستان پر سو سال حکومت کی،اس دوران کبھی بھی انگریزوں کی مجموعی تعداد پچیس ہزار سے زیادہ نہیں رہی. انگلینڈ میں ایک مائیگریشن رجسٹر ہے۔جس میں برطانیہ سے ہندوستان جانے والے 15،447 فوجیوں کے نام لکھے ہوئے ہیں.تین لاکھ ہندوستانی تھے جو انگریزی فوج میں بھرتی ہوئے.بنگال رجمنٹ،پنجاب رجمنٹ،بلوچ رجمنٹ انگریزوں نے بنائی۔برصغیر کے بُھوکے ننگے،دو چار…

Read more

شوہر کی ستائی ہوئی ایک عورت پر جن عاشق ہوگیا اور اسے اپنے ساتھ پرستان لے گیا۔جہاں ایک دیوار پر بے شمار گھڑیاں لگی ہوئی تھیں۔ عورت نے پوچھا یہ گھڑیاں کس لیے ہیں؟جن بولا زمین پر بسنے والے ہر انسان کے نام کی ایک گھڑی یہاں پر موجود ہے۔جب کوئی جھوٹ بولتا ہے تو یہ گھڑیاں ایک نمبر آگے چلی جاتی ہیں۔ عورت نے پوچھا ان میں سے کچھ گھڑیاں رکی ہوئی کیوں ہیں؟جن نے کہا یہ پرہیز گار اور متقی لوگوں کی گھڑیاں چونکہ وہ جھوٹ نہیں بولتے اسی لیے رکی ہوئی ہیں۔عورت نے پوچھا شادی شدہ مردوں کی گھڑیاں کہاں ہیں؟ جن نے کہا ان کو ہم نے گھروں اور دفتروں میں چھت پر لٹکایا ہوا ھے۔ ہم ان سے پنکھوں کا کام لیتے ہیں۔😉😊😂 عورت نے پوچھا اور شادی شدہ عورتوں کی گھڑیاں کہاں ہیں؟ جن بولا ہم نے انہیں پاور ہاؤس میں رکھا ہوا ہے۔…

Read more

ڈنمارک کے ایک چھوٹے سے پرانے قصبے میں فائر فائٹر ایرک کو رات کے 3 بجے ایک کال موصول ہوتی ہے دوسری جانب ایک عورت کی چیخ سنائی دی” میری مدد کرو میں اٹھ نہیں سکتی “گھبرائیں مت میڈم ‘ ایرک بولا ‘ ہم ابھی پہنچ رہے ہیں آپ کہاں ہیں ؟مجھے نہیں معلوم ، عورت نے لرزتی ہوئی آواز میں بتایاآپ کا ایڈریس کیا ہے ؟ ایرک نے پوچھا“مجھے نہیں معلوم میں چکرا رہی ہوں “ایرک :کیا آپ مجھے اپنا نام بتا سکتی ہیںنہیں میں کچھ یاد نہیں کر پا رہی ، میں کیوں یاد نہیں کر پا رہی لگتا ہے میرے سر پر کچھ مارا گیا ہے “اس کے فورا بعد ایرک فون کمپنی کو کال کرتا ہے اور آنے والی کال کی شناخت اور لوکیشن دریافت کرنے کا کہتا ہے“ہم معذرت خواہ ہیں ہم یہ لوکیشن شناخت نہیں کر پا رہے”۔ دوسری طرف سے فون آپریٹر جواب…

Read more

کسی گاؤں میں ایک کسان رہتا تھا۔وہ سارا دن اپنے کھیت میں کام کرتا اور مشکل سے اتنا کما پاتا کہ دو وقت کا کھانا کھا سکے۔وہ خود بھی بہت سیدھا سادا تھا،مگر اس کو جو بیوی ملی وہ حد درجہ بے وقوف تھی۔ ان کی شادی کو کچھ زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا۔ایک دن صبح سویرے جب کسان کھیتوں پر جانے کو تیار ہوا تو اپنی بیوی سے کہنے لگا:”آج کھیت میں سارا دن ہل چلانا پڑے گا جس سے بہت تھکاوٹ ہو جائے گی اور بھوک بھی بہت لگے گی،اس لئے تم میری واپسی تک اچھا اور لذیذ کھانا بنا کر رکھنا اور ساتھ ایک گلاس سرکہ بھی جو میں پچھلے سال خرید کر لایا تھا۔ “یہ کہہ کر وہ اپنے کام پر چلا گیا۔ جب کسان کی واپسی کا وقت قریب آیا تو بیوی نے کھانا تیار کرنا شروع کیا۔ اپنے شوہر کو خوش کرنے کے لئے…

Read more

زبان کی حفاظت دولت کی حفاظت  سے زیادہ مشکل ہے۔ السلام وعلیکم صبح بخیر “Protecting a tongue is more difficult than protecting wealth.” Good morning. Have a good day

The wood of the tree will be soft. It will have many branches. Just be soft and soft-spoken so that you have more fans (Hazrat Ali) جس درخت کی لکڑی نرم ہوگیاس کی شاخیں زیادہ ہونگیبس نرم طبیعت اور نرم گفتار بن جاؤتاکہ تمہارے چاہنے والے زیادہ ہوں. (حضرت علی)

8/8
NZ's Corner