شفیق صاحب نے کنڈیکٹر کو کرایہ دینے کے لیے جیب میں ہاتھ ڈال ہی رہے تھے کہ برابر بیٹھے اجنبی نے اچانک ان کی کلائی مضبوطی سے تھام لی۔
“نہیں محترم! کرایہ میں دے دیتا ہوں۔”
شفیق صاحب نے حیرت سے دیکھا، انکار کیا، اصرار کیا، مگر اجنبی کی شرافت حد سے بڑھی ہوئی تھی۔ مسکراتے ہوئے اس نے کرایہ ادا کر دیا۔ بابو صاحب نے دل ہی دل میں سوچا،
“ابھی بھی دنیا میں اچھے لوگ باقی ہیں۔”
اگلے اسٹاپ پر وہ نیک دل اجنبی اتر گیا۔ بس آگے بڑھی تو شفیق صاحب نے دوبارہ جیب میں ہاتھ ڈالا… اور وہیں سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔
جیب ہلکی تھی… حد سے زیادہ ہلکی۔
نیکی کے ساتھ ساتھ اجنبی جیب بھی صاف کر گیا تھا۔
اگلے دن بازار میں قسمت نے دوبارہ آمنا سامنا کرا دیا۔ بابو صاحب نے چور کو پہچان لیا۔ پکڑا تو وہ روتا ہوا ان کے گلے لگ گیا۔
“محترم! مجھے معاف کر دیں، چوری کے بعد میری بیٹی مر گئی ہے۔”
شفیق صاحب کا دل موم ہو گیا۔
انہوں نے نرمی سے کہا،
“جاؤ، اللہ تمہیں ہدایت دے۔”
چور گیا، مگر گلے ملتے وقت پھر وہی کر گیا جو اس کی عادت تھی۔
جیب ایک بار پھر صاف کر دی گئی تھی۔
چند دن بعد شفیق صاحب موٹر سائیکل پر جا رہے تھے کہ راستے میں وہی چہرہ آڑے آیا۔
فوراً ہی وہ بائیک سے اترے اور اسے دبوچ لیا۔
چور ندامت سے رویا، معافی مانگی، سارے پیسے واپس کر دیئے اور اپنی مجبوری کا سارا قصہ سنایا۔
شفیق صاحب نے سوچا،
“بندہ برا نہیں ہے… بس حالات کے ہاتھوں مجبور ہے۔”
وہ انہیں ساتھ والی دوکان پر لے گیا اور کولڈ ڈرنک پلائی، خوش گپیاں لگائیں اور پھر انہیں وہیں چھوڑ کر چلا گیا۔
شفیق صاحب خوشی خوشی واپس مڑے، لیکن جب موٹر سائیکل کی جگہ پہنچے تو منظر بدلا ہوا تھا۔
اس بار ڈھائی لاکھ کی موٹر سائیکل غائب تھی۔
سبق:
یہی حال ہماری عوام اور ہمارے حکمرانوں کا ہے۔
عوام بار بار اعتبار کرتی ہے،
اور حکمران ہر بار نئے انداز سے آتے ہیں اور ملکی خزانے لوٹ کر بیرونِ ملک چلے جاتے ہیں۔
عوام کے حصے میں آتے ہیں کھوکھلے نعرے… بھاری ٹیکس… بجلی کے طوفانی بل… اور چالان پر چالان…
انسان کی عادت بدل سکتی ہے مگر فطرت نہیں بدلتی۔
اور ان حکمرانوں کی فطرت میں ہی لوٹنا اور ہڑپ کر جانا ہے۔ جو کبھی باز نہیں آسکتے۔
