بلاعنوان۔۔۔!

بلاعنوان۔۔۔!

ایک مولوی صاحب خوف خدا پر تقریر فرما رہے تھے۔ خوف خدا پر لمبی تقریر سننے کے بعد مجمع میں سے کسی سامع نے سوال پوچھا:
مولانا صاحب جانوروں میں سب سے کم چربی کون سے جانور کی ہے؟
مولوی صاحب دم بخود رہ گئے۔
جواب ان کے پاس تھا نہیں۔ تو تکا لگا کر کسی جانور کا نام لیا جو کہ غلط تھا۔
اس پر سامع سے مولانا صاحب نے پوچھا کہ چلو تم ہی بتاؤ اگر تمہارے پاس اس کے بارے میں علم ہے تو؟
اس شخص نے کہا کہ جانوروں میں سب سے کم چربی ہرن میں پائی جاتی ہے۔
وجہ اس کی یہ ہے کہ اسے ہر وقت چیر پھاڑ کرنے والے جانوروں کا خوف رہتا ہے۔ حتیٰ کہ جب وہ پانی پیتا ہے تو کئی مرتبہ ارد گرد نظر دوڑاتا ہے،
کہ کہیں کسی کا شکار نہ بن جاؤں۔
اسی خوف کی وجہ سے اس میں چربی نہیں بن پاتی۔
اگر دوسری طرف دیکھا جائے تو آپ نے خوف خدا پر تو بڑی زبردست تقریر کی۔
لیکن آپ کی گردن چربی کی وجہ سے مڑتی نہیں ہے۔
مجھے آپ کی سنائی ہوئی اس تقریر سے اتفاق نہیں ہے۔

باقی آپ لوگ خود سمجھ دار ہیں۔ دور جدید کے بعض مولوی صاحبان صرف حلووں پر ہی پلتے ہیں اور ان کا ایمان چند ٹکوں میں بِک جاتا ہے۔

ایک دور تھا جب خلافِ شرع فتویٰ لینے کے لیے علماء و مشائخ کو شدید زد و کوب کیا جاتا تھا۔ انہیں کوڑے مارے جاتے، جان سے مار دیا جاتا لیکن وہ کبھی بھی خلافِ شرع فتویٰ دینے پر رضامند نہیں ہوتے تھے۔

اور آج کچھ نام نہاد مولوی ایسے ہیں، جنہیں پانچ ہزار کا نوٹ سنگھاؤ اور وہ دھوتی اٹھا کر بھاگ نکلتے ہیں۔
خدا غارت کرے، ان ملاؤں کو، جو یزید کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہیں۔

سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:

“قریب ہے کہ لوگوں پر ایک ایسا دور آئے جب اسلام کا صرف نام اور قرآن کا صرف رسم الخط باقی رہ جائے گا، اس دور کے لوگوں کی مساجد شاندار ہوں گی مگر وہ ہدایت سے یکسر خالی ہوں گی، اس دور کے علما آسمان کی چھت کے نیچے کی بدترین مخلوق ہوں گے، انہی کے اندر سے فتنہ ظاہر ہو گا اور انہی میں واپس لوٹ جائے گا۔”

Leave a Reply

NZ's Corner