Tag Archives: message

حضرت نوح علیہ السلام کا اسمِ گرامی یشکریا عبدالغفار ہے اور آپ حضرت ادریس علیہ السلام کے پڑپوتے تھے، آپ کا لقب”نوح” اس لئے ہوا کہ آپ کثرت سے گریہ وزاری کیا کرتے تھے۔چالیس یا پچاس سال کی عمر میں آپ نبوت سے سرفراز فرمائے گئے اور 950سال آپ اپنی قوم کو دعوت فرماتے رہے اور طوفان کے بعد ساٹھ برس دنیا میں رہے تو آپ کی عمر ایک ہزار پچاس سال کی ہوئی۔مذہبی اختلاف کی ابتداء کب ہوئی؟ مذھبی اختلاف کی ابتداء سے متعلق مفسرین نے کئیں اقوال ذکر کئے ہیں، ان میں سے ایک قول یہ ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کے زمانے تک لوگ ایک دین پرر ہے، پھر ان میں اختلاف واقع ہوا تو حضرت نوح علیہ السلام ان کی طرف مبعوث فرمائے گئے، دوسرا قول یہ ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کے کشتی سے اُترنے کے وقت سب لوگ ایک دین پر تھے۔…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ، کسی قبیلے کا سردار اپنے گھوڑے پر سوار تنہا صحرا میں جارہا تھا، سفر کے دوران اس نے دیکھا کہ ایک شخص ریت میں دھنسا پڑا ہوا ہے، سردار نے گھوڑا روکا، نیچے اترا، اس شخص کے جسم پر سے ریت ہٹائی، تو دیکھا کہ وہ جو کوئی بھی تھا بے ہوش چکا تھا ، سردار نے اسے ہلایا جلایا تو، وہ نیم وا آنکھوں کے ساتھ پانی پانی پکارتے ہوئے کہنے لگا، پیاس سے میرا حلق اور میری زبان کسی سوکھے ہوئے چمڑے کی طرح اکڑ چکی ہے، اگر پانی نہ پیا تو مر جاؤں گا، سردار نے سوچا کہ وضع قطع سے اجنبی دکھائی دینے والا شخص ، جو اردگرد کے کسی بھی قبیلے سے تعلق نہیں رکھتا ، پتا نہیں کب سے یہاں بے یارو مددگار پڑا ہوا ہے، اس نے جلدی سے گھوڑے کی زین کے ساتھ لٹکی ہوئی چھاگل…

Read more

ابلیس کی نسل کی ابتدا جس جن سے ہوئی اس کا نام “طارانوس” کہا جاتا ہے۔ طارانوس ابلیس سے ایک لاکھ چوالیس ہزار سال قبل دنیا پہ موجود تھا۔ طارانوس کی نسل تیزی سے بڑھی کیونکہ ان پہ موت طاری نہیں ہوتی تھی اور نہ بیماری لگتی تھی البتہ یہ چونکہ آتشی مخلوق تھی تو سرکشی بدرجہ اتم موجود تھی۔ اس جنوں کی نسل کو پہلی موت فرشتوں کے ہاتھوں پیدائش کے 36000 سال بعد آئی جس کی وجہ سرکشی تھی یہاں پہلی بار موت کی ابتدا ہوئی اس سے پہلے موت نہیں ہوتی تھی۔ بعد میں “چلپانیس” نامی ایک نیک جن کو جنات کی ہدایت کا ذمہ سونپا گیا اور وہ ہی شاہ جنات قرار پائے اس کے بعد “ہاموس” کو یہ ذمہ داری دی گئی۔ ہاموس کے دور میں ہی “چلیپا” اور “تبلیث” کی پیدائش ہوئی۔ یہ دونوں اپنے وقت کے بے حد بہادر جنات تھے اور ان…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک شخص دنیا، زندگی اور غربت سے تنگ آ کر خودکشی کرنے کے ارادے سے جنگل کی طرف نکل پڑا۔ راستے میں اچانک اس کی ملاقات ایک جِن سے ہو گئی۔ جِن نے اس شخص سے کہا:“اگر تم خودکشی کا ارادہ ترک کر دو تو میں تمہیں امیر بنا دوں گا۔” پھر جِن نے اسے ایک ترکیب بتائی اور کہا:“تم واپس جاؤ اور حکیم بن جاؤ۔ جب کسی مریض کے پیروں کی طرف مجھے کھڑا دیکھو تو اُسے دوا مت دینا اور اس کے لواحقین کو بتا دینا کہ یہ مریض نہیں بچے گا۔ اور جس مریض کے سرہانے مجھے کھڑا دیکھو، اُسے دوا دے دینا اور کہہ دینا کہ اسے کچھ نہیں ہوگا۔” اس شخص نے جِن کی ہدایت پر عمل شروع کر دیا۔ جسے وہ دوا دیتا، وہ بچ جاتا، اور جسے دوا نہ دیتا، وہ مر جاتا۔ رفتہ رفتہ وہ شخص…

Read more

ایک شخص ہارس رائیڈنگ کا لباس پہن کر‘ گھوڑے پر بیٹھ کر پہاڑی علاقے کی ایک سڑک پرجا رہا تھا‘ راستے میں سڑک پر ایک درخت گرا ہو اتھا۔اس درخت نے راستہ روک رکھا تھا۔ ‘گھوڑے پر سوار 3 شخص گرے ہوئے درخت کے قریب پہنچا تو اس نے دیکھا‘ فوج کے تین چار جوان درخت کو ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ درخت کو زور سے سڑک کے کنارے کی طرف دھکیل رہے ہیں لیکن درخت بھاری ہے اور اسے دھکیلنے والے لوگ کم ہیں۔اس نے دیکھا‘ جوانوں کا سینئر ذرا سا فاصلے پر کھڑا ہے اور یہ وہاں چھڑی لہرا لہرا کر انہیں مزید زور لگانے کی ہدایات دے رہا ہے۔ اس شخص نے اندازا لگایا کہ اگر یہ سینئر بھی ان جوانوں کے ساتھ لگ جائے‘ یہ بھی درخت کو ہٹانے کیلئے زور لگانا شروع کر دے تو درخت چند لمحوں میں سڑک سے کھسک جائے…

Read more

عربوں میں یہ عام عادت تھی کہ وہ گھاس اور پانی کی تلاش میں ایک جگہ سے دوسری جگہ ہجرت کرتے رہتے۔انہی لوگوں میں ایک شخص تھا جس کی ایک ماں تھی—بہت بوڑھی—اور وہ اس کا اکلوتا بیٹا تھا۔ وہ بوڑھی عورت کبھی کبھی اپنی یادداشت کھو بیٹھتی تھی۔ بیٹا اسے چھوڑنا نہیں چاہتا تھا، اس کی ماں کی خیمہ بھی اس کے قریب ہوتا۔ لیکن اس کا بار بار باہر نکلنا بیٹے کے لیے مشقت کا باعث بنتا اور قبیلے کے سفر میں رکاوٹ بنتا۔ ایک دن قبیلے نے دوسری جگہ کوچ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس شخص نے اپنی بیوی سے کہا:“کل جب ہم چلیں تو میری ماں کو یہیں چھوڑ دینا۔ اس کے پاس تھوڑا پانی اور کھانا رکھ دینا، تاکہ کوئی آ کر اسے لے جائے۔ہمارے لیے بہتر ہے کہ وہ ہم سے دور مرجائے۔صبح قبیلہ روانہ ہوا اور بیوی نے سمجھ لیا کہ شوہر کیا…

Read more

قانُونِ فطرت تو یہی ہے کہگدھیگدھے کو ہی جنم دیتی ہے ہمارے ہی اجداد،جو انگریز کا ایک من وزن صرف ایک روپے میں راولپنڈی سے مری تک لے کر جاتے،ان کے پاؤں میں جوتی تک نہیں ہوتی،پنڈی سے مری ستر کلومیٹر کا سفر ایک من وزن اٹھا کر دو دن میں مکمل ہوتا.یہ لوگ انگریز کی خدمت کرتے،اپنی پیٹھ پر سوار کر کے سیر کراتے اورانگریز خوش ہو کر اپنا بچا ہوا کھانا انہیں دے دیتا.. ہمارے اجداد نے ہی انگریزوں کی نوکریاں کیں.تنخواہ لے کر اپنے ہی لوگوں سے لڑتے رہے.انگریز نے ہندوستان پر سو سال حکومت کی،اس دوران کبھی بھی انگریزوں کی مجموعی تعداد پچیس ہزار سے زیادہ نہیں رہی. انگلینڈ میں ایک مائیگریشن رجسٹر ہے۔جس میں برطانیہ سے ہندوستان جانے والے 15،447 فوجیوں کے نام لکھے ہوئے ہیں.تین لاکھ ہندوستانی تھے جو انگریزی فوج میں بھرتی ہوئے.بنگال رجمنٹ،پنجاب رجمنٹ،بلوچ رجمنٹ انگریزوں نے بنائی۔برصغیر کے بُھوکے ننگے،دو چار…

Read more

یہودی اور چرواہا:ایک یہودی کا گزر مسلمانوں کی ایک بستی سے ہوا ۔ اس کے دل میں ایک ترکیب آئی کہ کیوں نہ میں انہیں ان کے دین کے تعلق سے ان کے دلوں میں شکوک و شبہات پیدا کروں؟ اور انہیں ان کے علماء سے بد ظن کردوں۔ بستی میں داخل ہونے سے پہلے ہی ایک چرواہے سے ملاقات ہوئی ۔ یہودی نے سوچا کہ کیوں نہ اسی جاہل سے اس کی ابتداء کی جائے اور اس چرواہے کے دل و دماغ میں اسلام کے خلاف شکوک و شبہات پیدا کیا جائے۔ یہودی نے اس چرواہے سے ملاقات کی اور کہا کہ میں ایک مسلمان مسافر ہوں۔ باتوں ہی باتوں میں یہودی کہنے لگا کہ ہم مسلمان قرآن مجید کو یاد کرنے کے لئے کتنی مشقت اٹھاتے ہیں جب کہ یہ قرآن تیس اجزاء پر مشتمل ہے۔ لیکن قرآن میں بیشمار آیات متشابہ ہیں جو ایک جیسی ہی ہیں۔…

Read more

ہارپی ایگل (Harpy Eagle) دنیا کے سب سے بڑے اور طاقتور عقابوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کا تعلق جنوبی اور وسطی امریکا کے گھنے بارانی جنگلات سے ہے۔ یہ شکاری پرندہ اپنی جسامت، طاقت اور خوبصورتی کی وجہ سے بہت مشہور ہے۔ خصوصیات قد و قامت: اس کی لمبائی تقریباً 86 تا 107 سینٹی میٹر اور پروں کا پھیلاؤ 2 میٹر سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔ وزن: مادہ نر سے بڑی اور وزنی ہوتی ہے، وزن 6 سے 10 کلوگرام تک پہنچ سکتا ہے۔ ظاہری شکل: اس کے سر پر خوبصورت پر ہوتے ہیں جو کھڑے ہو کر تاج جیسی شکل بنا لیتے ہیں۔ آنکھیں بڑی اور گہری سیاہ ہوتی ہیں۔ پنجے: اس کے پنجے شیر کے پنجوں جتنے مضبوط سمجھے جاتے ہیں، جن سے یہ بندر اور سست جانور (sloth) تک پکڑ لیتا ہے۔ خوراک ہارپی ایگل درختوں پر رہنے والے جانوروں کا شکار کرتا ہے جیسے: بندر…

Read more

کہتے ہیں کہجب سکندرِ اعظم نوجوان تھا اورارسطو سے تعلیم حاصل کر رہا تھا، تو ارسطو اکثر اپنے شاگردوں سے کہا کرتا:“مجھ سے سوال کیا کرو، سوال سوچنا علم کی پہلی سیڑھی ہے۔”مگر حیرت کی بات یہ تھی کہ جب شاگرد سوال کرتے، تو ارسطو کبھی مکمل جواب نہیں دیتا، یا بات کو کسی اور طرف موڑ دیتا۔یہ رویہ سکندر کو کھٹکتا رہا، حتیٰ کہ ایک رات اس نے ضبط کھو دیا۔وہ غصے میں ارسطو کے خیمے میں آیا، جو مطالعے میں مصروف تھا، اور بلند آواز میں کہا:“یہ کیسا طریقہ ہے؟ آپ سوال کرنے کا کہتے ہیں، لیکن جواب دینے سے کتراتے ہیں!”ارسطو نے نہایت بردباری سے جواب دیا:“میرا مقصد تمہیں معلومات دینا نہیں، سوچنے پر مجبور کرنا ہے۔ اگر میں تمہیں ہر سوال کا حتمی جواب دے دوں، تو تم میری بات کو آخری سچ سمجھ کر اپنی تلاش روک دو گے۔میرے جواب تمہارے تجسس کا دروازہ کھولنے…

Read more

شوہر کی ستائی ہوئی ایک عورت پر جن عاشق ہوگیا اور اسے اپنے ساتھ پرستان لے گیا۔جہاں ایک دیوار پر بے شمار گھڑیاں لگی ہوئی تھیں۔ عورت نے پوچھا یہ گھڑیاں کس لیے ہیں؟جن بولا زمین پر بسنے والے ہر انسان کے نام کی ایک گھڑی یہاں پر موجود ہے۔جب کوئی جھوٹ بولتا ہے تو یہ گھڑیاں ایک نمبر آگے چلی جاتی ہیں۔ عورت نے پوچھا ان میں سے کچھ گھڑیاں رکی ہوئی کیوں ہیں؟جن نے کہا یہ پرہیز گار اور متقی لوگوں کی گھڑیاں چونکہ وہ جھوٹ نہیں بولتے اسی لیے رکی ہوئی ہیں۔عورت نے پوچھا شادی شدہ مردوں کی گھڑیاں کہاں ہیں؟ جن نے کہا ان کو ہم نے گھروں اور دفتروں میں چھت پر لٹکایا ہوا ھے۔ ہم ان سے پنکھوں کا کام لیتے ہیں۔😉😊😂 عورت نے پوچھا اور شادی شدہ عورتوں کی گھڑیاں کہاں ہیں؟ جن بولا ہم نے انہیں پاور ہاؤس میں رکھا ہوا ہے۔…

Read more

ایک نوجوان نے کراچی کی ایک کمپنی سے سیلزمینی کی جاب چھوڑی اور بہتر مستقبل کی تلاش میں کینیڈا چلا گیا۔۔۔۔وہاں اس نے ایک بڑے ڈیپارٹمینل اسٹور میں سیلزمین کی پوسٹ پر ملازمت کیلئے اپلائی کیا۔۔۔۔اس اسٹور کا شمار دنیا کے چند بڑے اسٹورز میں ہوتا تھا جہاں سے آپ سوئی سے جہاز تک سب کچھ خرید سکتے ہیں۔۔۔ اسٹور کے مالک نے انٹروویو کے دوران پوچھا“آپکے ڈاکومنٹس کے مطابق آپ کا تعلق کسی ایشیائی ملک پاکستان سے ہے۔۔۔پہلے بھی کہیں سیلزمینی کی جاب کی “ “جی میں آٹھ سال کراچی پاکستان کی ایک کمپنی میں جاب کر چکا ہوں” مالک کو یہ لڑکا پسند آیا“دیکھو۔۔۔میں آپ کو جاب دے رہاہوں۔۔۔آپ نے اپنی کارگردگی سے میرے فیصلے کو درست ثابت کرنا ہے۔۔۔کل سے آ جاؤ۔۔۔۔گڈلک” اگلے دن وہ پاکستانی لڑکا اپنی جاب پر پہنچا۔۔۔پہلا دن تھا۔۔۔طویل اور تھکا دینے والا دن۔۔۔بہرحال شام کے چھ بج گئے۔۔۔ مالک نے اسے اپنے…

Read more

ڈنمارک کے ایک چھوٹے سے پرانے قصبے میں فائر فائٹر ایرک کو رات کے 3 بجے ایک کال موصول ہوتی ہے دوسری جانب ایک عورت کی چیخ سنائی دی” میری مدد کرو میں اٹھ نہیں سکتی “گھبرائیں مت میڈم ‘ ایرک بولا ‘ ہم ابھی پہنچ رہے ہیں آپ کہاں ہیں ؟مجھے نہیں معلوم ، عورت نے لرزتی ہوئی آواز میں بتایاآپ کا ایڈریس کیا ہے ؟ ایرک نے پوچھا“مجھے نہیں معلوم میں چکرا رہی ہوں “ایرک :کیا آپ مجھے اپنا نام بتا سکتی ہیںنہیں میں کچھ یاد نہیں کر پا رہی ، میں کیوں یاد نہیں کر پا رہی لگتا ہے میرے سر پر کچھ مارا گیا ہے “اس کے فورا بعد ایرک فون کمپنی کو کال کرتا ہے اور آنے والی کال کی شناخت اور لوکیشن دریافت کرنے کا کہتا ہے“ہم معذرت خواہ ہیں ہم یہ لوکیشن شناخت نہیں کر پا رہے”۔ دوسری طرف سے فون آپریٹر جواب…

Read more

کسی گاؤں میں ایک کسان رہتا تھا۔وہ سارا دن اپنے کھیت میں کام کرتا اور مشکل سے اتنا کما پاتا کہ دو وقت کا کھانا کھا سکے۔وہ خود بھی بہت سیدھا سادا تھا،مگر اس کو جو بیوی ملی وہ حد درجہ بے وقوف تھی۔ ان کی شادی کو کچھ زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا۔ایک دن صبح سویرے جب کسان کھیتوں پر جانے کو تیار ہوا تو اپنی بیوی سے کہنے لگا:”آج کھیت میں سارا دن ہل چلانا پڑے گا جس سے بہت تھکاوٹ ہو جائے گی اور بھوک بھی بہت لگے گی،اس لئے تم میری واپسی تک اچھا اور لذیذ کھانا بنا کر رکھنا اور ساتھ ایک گلاس سرکہ بھی جو میں پچھلے سال خرید کر لایا تھا۔ “یہ کہہ کر وہ اپنے کام پر چلا گیا۔ جب کسان کی واپسی کا وقت قریب آیا تو بیوی نے کھانا تیار کرنا شروع کیا۔ اپنے شوہر کو خوش کرنے کے لئے…

Read more

ایک عقاب اور ایک الو میں دوستی ہو گئی ۔عقاب بولا ”بھائی الو اب تمہارے بچوں کو کبھی نہیں کھاؤں گا۔ مگر یہ تو بتاؤ کہ ان کی پہچان کیا ہے۔؟ کہیں ایسا نہ ہو کہ کسی دوسرے پرندے کے بچوں کے دھوکے میں تمہارے بچوں کو ہی کھا جاؤں ۔“الو نے جواب دیا۔“بھلا یہ بھی کوئی مشکل بات ہے ۔میرے بچے سب پرندوں کے بچوں سے زیادہ خوبصورت ہیں ۔ان کے چمکیلے پر دیکھ کر تم ایک ہی نظر میں پہچان جاؤ گے اور۔۔۔“عقاب نے الو کی بات کاٹ کر کہا”بس بس میں سمجھ گیا ۔اب ،اب میں کبھی دھوکا نہیں کھا سکتا۔ مگر بھائی ہر بات کو پہلے ہی پوچھ لینا اچھا ہے ۔پھر پچھتانے سے کچھ نہیں ہو سکتا۔ اچھا پھر ملیں گے ۔اللہ حافظ۔“یہ کہہ کر عقاب اڑ گیا۔دوسرے دن عقاب شکار کی تلاش میں ادھر ادھر اڑ رہا تھا کہ اسے ایک اونچے درخت کی…

Read more

زبان کی حفاظت دولت کی حفاظت  سے زیادہ مشکل ہے۔ السلام وعلیکم صبح بخیر “Protecting a tongue is more difficult than protecting wealth.” Good morning. Have a good day

Try to be a cause of smile and not of heartaches, because in these difficult and enchanting times, bringing a smile to someone’s face is also a charity. Smile and make others smile, Good morning. کوشش کریں مسکراہٹ کا سبب بنیں نا کہ دل آزاری کا کیونکہ اس کٹھن اور پرفتن دور میں کسی کے چہرے پر مسکراہٹ لانا بھی صدقہ ہے مسکرائیے اور دوسروں کی مسکراہٹ کی وجہ بنیں، جمعةالمبارك هے درودِپاک کو وردِ زبان بنالیں۔*اللَّهُمَّ صَلِّ عَلٰی سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّعَلٰٓی اٰلِہٖ وَسَلِّمُ ﷺ°* السلام وعلیکم صبح بخیر For more blogs, visit our website https://nzeecollection.com/category/nzs-entertainment/

Peace be upon you, may God’s mercy and blessings be upon you. good morning No one is forever on the decline, and no one is forever on the rise. The best are those who are grateful for the pleasure of their Lord in the ups and downs of life. May Allah turn our difficulties into ease, diseases into health, hatred into love, and sorrow into joy. Amen 🤲 السلام عليكم ورحمتہ اللہ وبرکاتہصبح بخير کوئی ہمیشہ کیلئے زوال پذیر نہیں ہوتا اور نہ کسی کو ہمیشہ کیلئے عروج حاصل ہے۔ بہترین وہ لوگ ہیں جو زندگی کے عروج و زوال میں اپنے رب کی رضا پر شکر گزار ہوتےہیں۔ اللہ تعالیٰ ہماری مشکلات کو آسانیوں میں بیماریوں کو تندرستی میں نفرتوں کو محبتوں میں اور غم کو خوشی میں بدل دے۔ آمین یا رب العالمین🤲 For more blogs, visit our website https://nzeecollection.com/category/nzs-entertainment/

Iblis laughed when he convinced Adam and Eve to eat the forbidden fruit, but Adam and Eve, after accepting their request for forgiveness and being appointed caliphs on earth, did not laugh. Nimrod threw Abraham into the fire and laughed. The fire became Gulzar by God’s command. Abraham got up, thanked God, and did not laugh. Joseph was thrown into a well by his brothers, sold as a slave. They got rid of him and laughed. Later on, Joseph became the ruler of Egypt, thanked God, and did not laugh. Pharaoh killed the boys of Bani Ya’qub, made them slaves. He laughed at the water barrier in front of the fleeing caravans. Moses descended across the river, saw Pharaoh drown, thanked God, and did not laugh. The last prophet left Makkah with nothing but their clothes. The Mecca declared this their victory and laughed. Eight years later, the prophet entered…

Read more

20/119
NZ's Corner