بلاعنوان۔۔۔!

بلاعنوان۔۔۔!

ان کو ضد ہے کہ یہ موسم نہ بدلنے پائے
صبح بے شک ہو مگر رات نہ ڈھلنے پائے

شاطر وقت کو دھڑکا سا لگا رہتا ہے
خلقت شہر کوئی چال نہ چلنے پائے

Leave a Reply

NZ's Corner