ان کو ضد ہے کہ یہ موسم نہ بدلنے پائے
صبح بے شک ہو مگر رات نہ ڈھلنے پائے
شاطر وقت کو دھڑکا سا لگا رہتا ہے
خلقت شہر کوئی چال نہ چلنے پائے

ان کو ضد ہے کہ یہ موسم نہ بدلنے پائے
صبح بے شک ہو مگر رات نہ ڈھلنے پائے
شاطر وقت کو دھڑکا سا لگا رہتا ہے
خلقت شہر کوئی چال نہ چلنے پائے
